سر ورق / ناول / جنون  ۔۔۔مہتاب خان  ۔۔۔۔ قسط نمبر 2

جنون  ۔۔۔مہتاب خان  ۔۔۔۔ قسط نمبر 2

جنون 
مہتاب خان 
قسط نمبر 2
آدھے گھنٹے بعد ساحر ربیکا کے گھر اس کے ڈرائنگ روم میں صوفے پر اس کے سامنے بیٹھا کہہ رہا تھا
"مجھے افسوس ہے کہ میں نے تم سے اس لہجے میں بات کی لیکن تمہیں اندازہ نہیں کے یہ فلم میرے لیے کیا اور اس دن کا میں نے کتنا انتظار کیا ہے- یہ پبلسٹی اس موقع پر تمھارے اور میری فلم کے لیے کتنی خطرناک ہے تمہیں اندازہ نہیں ہے-میں آج تمہیں سب کچھ بتاؤں گا-"ربیکا نے کوئی جواب نہیں دیا-بس خالی خالی نظروں سے اسے دیکھتی رہی-وہ ابھی تک اس سے ناراض تھی-
"تم اس دن پوچھ رہی تھیں کہ عادل میرا بچپن کا دوست ہے تو اب ہم دونوں میں اتنی دوری کیوں ہے؟”
"جی-"
آج میں تمہارے سامنے اپنی زندگی کی کہانی سنانا چاہتا ہوں-"پھر ساحر نے اپنے ماضی کے ورق پلٹنے شروع کے-
                                                                                                              *************************************
پہلی بار ان کا ساتھ اسکول کی چوتھی جماعت میں ہوا تھا-پس منظر کے اعتبار سے دونوں مختلف تھے-ساحر مرا د نے ایک دولت مند گھرانے میں آنکھ کھولی تھی،اکلوتی اولاد ہونے کے ناتے اس کی پرورش بڑے ناز ونعم سے ہوئی تھی-اس کے بر عکس عادل مہدی کا تعلق ایک متوسط طبقے سے تھا-وہ اپنے پانچ بہن بھائیوں میں سب سے بڑا تھا-اس کا باپ ایک سرکاری ادارے میں کلرک تھا اور ماں اسی اسکول میں ٹیچر تھیں جہاں عادل پڑھتا تھا-ٹیچر ہونے کے باعث ہی عادل کا داخلہ اس اسکول میں ممکن ہوا تھا ورنہ یہاں صرف اعلی اور امیر  طبقے کے لوگ ہی اپنے بچوں کو پڑھا سکتے تھے- بہرحال ان تضادات کے علاوہ ان میں کئی قدریں مشترک تھیں-ان کے درمیان بلا کی ذہنی ہم آہنگی تھی-وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے ان کی سوچوں میں پختگی آتی گئی یہ احساس اور بھی مظبوط ہوتا گیا.وہ دونوں ایک ہی انداز سے سوچتے تھے-ان دونوں کی دلچسپیاں مشترک تھیں،دونوں فلمیں دیکھنے کے شوقین تھے-اس کے ساتھ ساتھ دونوں بہت ذہین اور پڑھائی میں بھی بہت اچھے تھے–ان دونوں کا زیادہ تر وقت ایک ساتھ گزرتا تھا-
اسکول سے چھٹی کے بعد بھی شام کو ان کا ایک دوسرے سے ملنا معمول بن گیا تھا-کبھی ساحر عادل کے گھر چلا آتا تو کبھی عادل اسکے ہاں آ جاتا-یوں وہ اکثر ساتھ ہی رہتے-تھے-دونوں پہلی بار فلم دیکھنے گئے تو آٹھویں جماعت کے طالب علم تھے-یہ فلم انہوں نے گھر والوں سے چھپ کر دیکھی تھی-
پھر وہ ہر ہفتے فلم دیکھنے جانے لگے-اکثر وہ ہالی ووڈ کی فلمیں دیکھا کرتے تھے-یہ بات عادل کے لیے سوہان روح ہوتی تھی کہ  فلم کے ٹکٹ اور کھانے پینے کا تمام خرچ ساحر اٹھاتا تھا- عادل کے پاس پیسے ہوتے ہی نہیں تھے-یہ بات اسے بہت کھٹکتی تھی لیکن فلم دیکھنے کے شوق کے آگے وہ بے بس ہو جاتا تھا- ان کی چھپی ہوئی صلاحیتیں بیدار ہو نے لگی تھیں-فلم کی تکنیکی باریکیوں کے بارے میں عادل ساحر سے کہیں آگے تھا-جلد ہی یہ نوبت آ گئی کہ وہ فلم دیکھتے ہوئے اس کی تکنیکی خامیوں کی نشاندھی کرنے لگا-
"یار لگتا ہے تم فلم ڈائریکٹر بنو گے-"ایک دن ساحر نے کہا –
موقع ملا تو ضرور بنوں گا،پھر دنیا کو بتاؤں گا کہ فلم کیسے بنائی جاتی ہے-"
میٹرک کے بعد ان دونوں کا ساتھ کالج میں بھی رہا-ایک اہم بات یہ ہوئی کہ ساحر نے شعر و شاعری شروع کر دی ساتھ ہی وہ کہانیاں اور افسانے بھی لکھنے لگا-فلم سے دلچسپی کا بہرحال وہی حال رہا-عادل کو شاعری سے کوئی دلچسپی نہیں تھی-دوسری طرف شاعری کی وجہ سے ساحر کا حلقہ احباب وسیح ہو گیا تھا-ان دونوں کی دوستی ویسی ہی تھی مگر اب ساتھ گزرنے والا وقت کم ہو گیا تھا-
وہ انٹر کے امتحانات سے فارغ ہوئے تھےجب ایک دن عادل کے ابا کا ہارٹ اٹیک کے نتیجے میں انتقال ہو گیا،عادل اتنے بڑے صدمے سے سنبھل نہیں پا رہا تھا-ساحر بھی اس فیملی کے لیے بہت فکر مند تھا-انہی دنوں یونیورسٹی میں ایڈمیشن شروع ہو گئے وہ دونوں انٹر میڈیٹ امتیازی نمبروں سے پاس کر چکے تھے-جب ساحر نے یونیورسٹی میں ایڈمیشن کی بات کی تو وہ بولا-
"سوری ساحر میں تو شاید اب تعلیم جاری نہ رکھ سکوں-"
"کیوں؟”
ابا کے مرنے کے بعد اس گھر کی ذمہ داریاں مجھ پر ہیں- امی کی تنخواہ سے گھر نہیں چل سکے گا-مجھے کچھ نہ کچھ کرنا ہو گا-
"تم کیا کرو گے؟”
"ملازمت کروں گا-"
گریجویشن کر لو گے تو اچھی  ملازمت مل جائے گی-"
نہیں مجھے فوری طور پر کوشش کرنی ہوگی-"
اگربرانامانو توایک بات کہوں؟”
"کہو-"عادل نے کہا –
"جب تک تمھا راگریجویشن کمپلیٹ نہیں ہو جاتا میں ………-"
"ہرگز نہیں میں اپنے بل بوتے پر زندگی گزا رنا چاہتا ہوں-"
"اچھا ایک اور راستہ بھی ہے-میں تمہیں ملازمت دلوا سکتا ہوں،وہاں پارٹ ٹائم کام کرو اور اپنی تعلیم بھی جاری رکھو-"
"تم اپنے ڈیڈی کے آفس کی بات کر رہے ہو نا ؟”
"ہاں اس میں کیا حرج ہے-جیسے کہیں اور جاب کرو گے ویسے ہی وہاں کرنا-"
"حرج تو کوئی نہیں لیکن میں فلم انڈسٹری میں قسمت آزمانا چاہتا ہوں-تمہیں پتا ہے وہ میرا پہلا عشق ہے-"
"یہ ہالی وڈ یا بالی وڈ نہیں ہے بھائی یہ پاکستانی فلم انڈسٹری ہے-اس کی زبوں ہالی کے بارے میں تم کچھ نہیں جانتے -"
"میں وہاں زیادہ ٹھوکریں نہیں کھاؤں گا-دشواری ہوئی تو تمھارے پاس ہی لوٹ کر آؤں گا- تمھارے علاوہ میرا اور کوئی دوست نہیں ہے-یہ میرا تم سے وعدہ ہے-"اس نے ٹھوس لہجے میں کہا –
"تمھاری مرضی……”ساحر نے دل گرفتگی سے کہا -"مجھے افسوس ہے کہ تم مجھے اپنا نہیں سمجھتے-  عادل نے چونک کر اس کی طرف دیکھا ساحر کے چہرے پر اداسی تھی اور آنکھوں میں نمی-اس نے ساحر کو لپٹا لیا-
"کسی باتیں کرتے ہو یار،تم میرے  واحد دوست ہو-"
"بس دیکھ لی تمھاری دوستی آگے بھی دیکھ لیں گے-"وہ اداسی سے بولا-
یوں وہ جدا ہو گئے-ان کے درمیان سینکڑوں میلوں کے فاصلے حائل ہو گئے-عادل قسمت آزمانے لاہور چلا گیا-یہ مکمل جدائی تھی،لیکن ساحر کو یقین تھا کہ وہ دوبارہ ملیں گے کب ؟کہاں اور کن حالات میں یہ پتا نہیں تھا-
                                                                                                              *****************************************
گورا رنگ،سیاہ چمکیلی بڑی بڑی آنکھیں،خوبصورت بال اونچے قد اور کسرتی جسم والا ساحر مرا د جلد ہی یونیورسٹی میں مقبول ہو گیا تھا-خاص طور پر طالبات میں اس کے بڑے چرچے تھے-گفتگو وہ بڑی خوبصورت کرتا تھا-خوش اخلاق تھا،خوش لباس تھا اور سب سے بڑی بات وہ اپنی چمکتی دمکتی قیمتی کار میں یونیورسٹی  آتا تھا-شاعر تھا افسانہ نگار تھا اسی لیے جلد مقبول ہو گیا تھا-لڑکیوں میں وہ مغرور مشھور تھا اور کسی سے بات نہیں کرتا تھا-کتنی ہی لڑکیوں نے اس کی طرف بڑھنے کی کوشش کی تھی مگر خوش اخلاقی اور دلکش گفتگو سے زیادہ بات آگے نہیں بڑھی تھی-
ساحر سب کچھ جانتا تھا…….وہ جانتا تھا کہ کتنی لڑکیاں اس کے قرب کی خواہش مند ہیں -وہ حسن پرست تو تھا مگر عیاش نہ تھا-عیاش ہوتا تو نہ جانے کیا نتیجہ نکلتا-بہرحال لڑکیاں اسے اچھی لگتی تھیں مگر ابھی وہ شادی یا محبت کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا-اس کے سینے میں تو کوئی اور شعلہ روشن تھااور اس کے ذہن میں آئیڈیے پرورش پا رہے تھے-اسے یقین تھا کے ایک دن وہ بہترین فلم بنائے گا-اسی لیے اس نے یونیورسٹی  میں ماس کمیونیکیشن اور میڈیا سے متعلق ڈیپارٹمنٹ کا انتخاب کیا تھا-
اسے پاکستانی فلم انڈسٹری سے شکایت تھی-جہاں زیادہ تر فارمولہ فلمیں بنائی جاتی تھیں-لچر اور بے مقصد ان کا معیار مسلسل گر رہا تھا-کوئی پڑھا لکھا ذہن اس میدان میں اترنے کو تیار ہی نہیں تھا-ساحر جانتا تھاکہ ایک جاندار کہانی ،اسکرین پلے اور حقیقت سے قریب ترین کردار نگاری ایک کامیاب فلم کی ضمانت ہوتے ہیں-وہ سوچا کرتا وہ ایسی فلم بنائے گا-کافی عرصے تک یہ خیال اسکے ذہن پر چھایا رہا،اس نے کسی کے سامنے اس خیال کا تذکرہ نہیں کیا تھا-پھر اس کے پاس کوئی ایسا موضوع یا خیال بھی نہیں تھاجو وہ کسی کے سامنے پیش کرتا-
یونیورسٹی  کے فائنل ایگزامز سے فارغ ہونے کے بعد اس کا زیادہ وقت لکھنے لکھانے میں صرف ہونے لگا ڈیڈی اب اسے اکثر کاروبار سنبھالنے کو کہتے تھےمگر اس کا رحجان ادھر نہیں تھا-وہ تو فن کی دنیا میں ڈوبا ہوا ایک حساس انسان تھا-
وہ فلم کے لیے ایک منفرد کہانی لکھنا چاہتا تھا-کہانیاں تو اس نے اب تک بے حساب لکھی تھیں مگر فلم کے لیے لکھنا اور بات تھی جس کا اسے اب تک کوئی تجربہ نہیں تھا-ہالی وڈ کی فلموں سے اس نے بہت کچھ سیکھا تھا-ذہین تھا،وہ تصور میں اپنی فلم کو کھلی آنکھوں سے دیکھتا رہتا جو کہانی اس نے لکھنا تھی وہ پوری اس نے اپنے ذہن کی اسکرین پر دیکھ لی تھی-اب صرف اسے کاغز پر منتقل کرنا تھا-وہ پوری فلم اس نے لکھ ڈالی ،ایک ایک منظر ایک ایک شاٹ اس نے لکھ لیا………آخر کار اسکرپٹ مکمل ہو گیا،لیکن وہ مطمئن نہیں تھا-……….وہ بڑا پرفیکشنسٹ تھا…………چوتھی بار لکھنے کے بعد وہ کہیں مطمئن ہوا تھا-اب مرحلہ تھا اسکرپٹ کو کسی فلمساز کو دکھانے کا………جہانگیر حسن اس وقت فلم نگری کا کامیاب ترین پرڈیوسر تھا،اس سے ملنے ساحر نے لاہور جانے کا فیصلہ کر لیا تھا-
اس دوران اس کا عادل سے بھی کوئی رابطہ نہیں ہوا تھا-اس نے شاید اپنا موبائل نمبر بھی چینج کر دیا تھا-وہ اس کی والدہ سے ملنے اس کے گھر گیا،تو وہاں اجنبی لوگوں کو دیکھ کر حیران ہو گیا تھا-وہاں جا کر پتا چلا تھا کے اس کی والدہ کرائے کا یہ مکان چھوڑ کر اپنے بچوں کے ساتھ لاہور شفٹ ہو گئی ہیں-لاہور کا ایڈریس کسی کے پاس نہیں تھا یوں عادل سے دوبارہ ملنے کی ہر امید وہیں دم توڑ گئی تھی-وہ تھک ہار کر واپس آ گیا تھااس نے سوچا تھا لاہور جا کر وہ عادل کو تلاش کرنے کی کوشش کرے گا-
لاہور پہنچ کر اس نے سوچا کہ پہلے جھانگیر حسن سے فون پر بات کر لی جائے تاکہ ملاقات میں آسانی ہو-یہی سوچ کر اس نے جہانگیر کے اسٹوڈیو کا نمبر ملایا جو اسے کافی مشکل سے ملا تھا-دوسری طرف سے "ہیلو”کہا گیا-
"مجھے جہانگیر صاحب سے بات کرنی ہے-"
"آپ کون؟”بہت روکھی آواز سے پوچھا گیا-
"میں ساحر مرا د بات کر رہا ہوں کراچی سے آیا ہوں اور ان سے ملنا چاہتا ہوں-"
وہ فلم کے سیٹ پر گئے ہیں-"اس بار نرم لہجے میں کہا گیا-
"وہ کب تک واپس آئیں گے؟”اس نے بے حد وقار سے پوچھا-
"کچھ نہیں کہا جا سکتا،آپ رات بارہ کے بعد فون کریں-"
ساحر نے رات بارہ بجے فون کیا تو پتا چلا کہ وہ ابھی مزید ایک گھنٹے اور مصروف رہیں گے-اسے بھی ضد ہو گئی تھی،بلآخر دو بجے وہ اس سے بات کرنے میں کابیاب ہو ہی گیا-
"جہانگیر صاحب ہیں؟”
"بول رہا ہوں بابا -"دوسری طرف اکتائے ہوئے لہجے میں کہا گیا-ساحر کو یقین نہیں آیا-"آپ جہانگیر صاحب بات کر رہے ہیں؟”
"ارے ہاں…….کیا بات کرنی ہے تم کو بولو-"ساحر دم بخود تھا-
یہ وہی جہانگیر تھا جس کا فلم انڈسٹری میں اتنا بڑا نام تھا-وہ لہجے سے تو چٹا ان پڑھ لگ رہا تھا-
"میرا نام ساحر ہے میں رائٹر ہوں،کراچی سے آیا ہوں،میں نے ایک فلم لکھی ہے،یہ اسکرپٹ میں آپ کو پیش کرنا چاہتا ہوں-"
"تمہارا نام تو میں نے نہیں سنا………اس سے پہلے کتنی فلمیں لکھ چکے ہو؟”
"یہ میرا پہلا اسکرپٹ ہے،ویسے میں اتنا گمنام بھی نہیں ہوں-” ساحر نے جلدی سے کہا –
"بھئی میرے کو ضرورت نہیں اسکرپٹ کی-"
"آپ ایک نظر دیکھ تو لیں-"
"ٹھیک ہے تم اتنی دور سے آئے ہو،تو دیکھ لیتا ہوں،کل شام کو آ کر مل لینا-"
اگلے روز شام چھ بجے ساحر اسٹوڈیو پہنچا تو گیٹ بند تھا اور لمبا ترنگا بڑی بڑی مونچھوں والا چوکیدار گیٹ کے پاس اسٹول پر بیٹھا مونچھوں کو تاؤ دے رہا تھا-ساحر نے کچھ فاصلے پر گاڑی  پارک کی اور گیٹ سے اندر جانا ہی چاہتا تھا کہ چوکیدار نے آواز دی-"رکو…….کدر جاتا ہے؟”
"اندر جانا ہے-"ساحر نے کہا –
نئیں جا سکتا-"
"کیوں نہیں جا سکتا؟”ساحر کو اس لہجے کا کبھی سامنا نہیں کرنا پڑا تھا-وہ حیران تھا-"مجھے جہانگیر صاحب نے بلایا ہے-"وہ بڑے ضبط سے کام لے رہا تھا -چوکیدار نے بڑے مشکوک انداز میں اسے دیکھا-"پر اس نے تو میرے کو نئیں بتایا،وہ کسی کو بلاتا ہے تو ام کو پہلے بول دیتا ہے،یہاں ہیرو بننے بڑا لڑکا لوگ آتا ہے اور اندر جانے کا نیا نیا بہانہ  بناتا ہے-"
ساحر نے تو یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ یہاں اسے اس صورت حال کا سامنا کرنا پڑ ے گا-……. وہ واپس جانے کے لیے پلٹنے ہی والا تھا کہ کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا-…….وہ چونکا اور پلٹ کر دیکھا،چند لمحے تو وہ اسے پہچان ہی نہیں سکا…….وہ بہت بدل بھی تو گیا تھا-
"نہیں پہنچانے-"
آواز سنتے ہی وہ  پہچان گیا تھا-"عادل تم……………؟” وہ اس سے لپٹ گیا-
وہ برسوں کے بعد ملے تھے دیر تک ایک دوسرے سے لپٹے رہے-پھر دونوں نے پیچھے ہٹ کر ایک دوسرے کو بغور دیکھا-
"تم بلکل نہیں بدلے-"عادل نے کہا –
"اور تم  بدل گئے ہو-"ساحر بولا-
چوکیدار عادل کو جانتا تھا،انہیں ایک دوسرے سے بغلگیر دیکھ کر وہ بے پروائی سے اسٹول پر جا کر بیٹھ گیا-
"مجھے تو بدلنا ہی تھا دوست……..وقت بھی تو کتنا بدل گیا ہے-"عادل نے افسردگی سے کہا –
"ہاں چھ سال ہو گئے-"ساحر نے گہری سانس لے کر کہا -"میں تمہارے گھر گیا تھا،وہاں پتا چلا کہ سب گھر  والے لاہور شفٹ ہو گئے ہیں-مجھے امید نہیں تھی کہ اس طرح یہاں تم سے ملاقات ہو گی-
"زندگی بدل گئی یار-"عادل نے کہا –
"میں نے تم سے رابطہ کرنے کی بہت کوشش کی،مگر تم نے شاید اپنا فون نمبر تبدیل کر لیا ہے-تمہیں کبھی میری یاد نہیں آئ ؟”
"ان گزرے ماہ و سالوں میں میں خود کو بھی بھول چکا ہوں-کسی کی یاد کیا آتی-حالات کی سختیوں نے کچھ سوچنے کا موقع ہی نہیں دیا -تم خوش قسمت ہو کہ تمھارے پاس دوستوں کو یاد کرنے کی فرصت ہے-اس کے لہجے میں بلا کی تلخی تھی-"خیر چھوڑو ان باتوں کو یہ بتاؤ یہاں کیسے آنا ہوا؟”
"بس یار ایک اسکرپٹ لے کر آیا تھا جہانگیر صاحب کے پاس-کل ان سے فون پر بات ہوئی تھی مگر یہ چوکیدار مجھے اندر ہی نہیں جانے دے رہا-"
"یہ بے چارہ مجبور ہے،یہاں روز بہت لوگ آتے ہیں اور ایک ہی لاٹھی سے ہانکے جاتے ہیں،خیر تم نے لکھا ہے اسکرپٹ؟………ابھی تک دماغ میں وہی خناس موجود ہے-"وہ ہنستے ہوئے بولا-
نہ صرف موجود ہے بلکہ پہلے سے توانا بھی ہو گیا ہے لیکن تم بتاؤ تم یہاں کیسے؟”
"مزدوری کر رہا ہوں-"وہ تلخی سے بولا-"جہانگیر صاحب کا اسسٹنٹ ہوں-"
"زبردست یار-"ساحر خوشی سے بولا-
"یہ دنیا ہماری سوچو اور خوابوں سے بہت مختلف ہے دوست-لیکن تم ابھی نہیں سمجھو گے-چلو اپنے ارمان پورے کر لو میں تمہیں ان سے ملوا دیتا ہوں-"
وہ اسے اندر لے گیا تھا-……….سامنے خوبصورت لان تھا اور اطراف میں اسٹوڈیو کی عمارت تھی-نچلی منزل پر ایک لمبی سی راہداری تھی اور بے شمار دروازے تھے-دروازوں پر مختلف ناموں کی تختیاں لگی ہوئی تھیں-عادل اسے جہانگیر پکچرز کے دفتر میں لے گیا-
جہانگیر اس کے تصور سے زیادہ مایوس کن تھا-پچاس پچپن سالہ فربہ اندام جسم،گول چہرہ،چھوٹی  چھوٹی بے چین آنکھیں سر سے گنجا اپنی کرسی پر نیم دراز تھا-اس کے پہلو میں لگی کرسی پر ایک بھڑکیلے میک اپ اور قابل اعتراض لباس میں کرسی پر ایک لڑکی بیٹھی تھی-اس کا کھلا گریبان دعوت نظارہ دے رہا تھا-
جیسے ہی عادل بمعہ ساحر کے کمرے میں داخل ہوا-وہ اچھل پڑا –
"ارے بابا دور ہٹ کر بیٹھ کتنی بار تیرے کو بولا ہے-چپکا نہیں کر-"
"دور سے آپ کو نظر نہیں آتا نا -اسی لیے دوسری لڑکیوں کو چانس دے رہے ہیں،میں تو آپ کو نظر ہی نہیں آتی-"وہ اٹھلا کر بولی-
"چانس دوں گا نا بابا،تیرے کو ہیروئن بناؤں گا نازو تو پھکر نا کر بول دیا نا -وہ نازو نامی اس لڑکی کا گال سہلاتا ہوا بولا-
ساحر نے گلا  کھنکارا جہانگیر نے چونک کر اسے دیکھا پھر عادل پر نظر پڑتے ہی مسکرایا-"اچھا ہوا تو آ گیا-ذرا سیٹ پرجا- سنبھال لے گا نا آج””جہانگیر نازو کی طرف دیکھ کر مسکرایا-
"سنبھال لوں گا آپ فکر نہ کریں-"عادل نے کہا "یہ میرا دوست ہے ساحر-"
"آؤ ،آؤ -"اس نے ساحر سے ہاتھ ملایا-"ہیرو بننے کا ہےکیا ؟
 "نہیں جناب…….بس…….”
"ارے کیوں نہیں بننا چاہتا،تم تو بنا بنایا ہیرو ہے کیوں عادل؟”اس نے عادل کی طرف دیکھتے ہوئے کہا –
"یہ رائٹر ہے "عادل نے کہا –
"میری کل رات آپ سے بات ہوئی تھی-"ساحر نے یاد دلایا-وہ جہانگیر کے سامنے کرسی پر بیٹھ گیا-
"اچھا تم عادل کا دوست بھی ہے-"
"جی-"
"کیا کہانی  ہے؟”
ساحر نے اسکرپٹ کا پلندہ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا "یہ لیجیے اس پر میں نے بہت محنت کی ہے-"
"ارے بابا ہٹاؤ اسے اس کا میں کیا کروں گا مجھے کہانی سناؤ کہانی -"جہانگیر نے بے زا ر لہجے میں کہا –
ساحر حیرانی سے اسے دیکھتا رہ گیا-کہانی سناؤں-"
"ہاں بابا آئیڈیا کیا ہے،اچھا لگا تو فلم بناؤں گا-"
"اسکرپٹ پڑھے بغیر ؟”
اسکرپٹ کا ٹینشن تم کیوں لیتا ہے،وہ میں خود لکھوا لوں گا–تم خالی آئڈیا سناؤ -"
ساحر کو چکر آ گیا-"جہانگیر صاحب میں اسکرپٹ پڑھ کر آپ کو کہانی سنا دوں گا-"عادل نے بات سنبھالی -"ٹھیک ہے جیسی تیری مرضی-"جہانگیر نے بے دلی سے کہا –
"تم ایسا کرو ایک دو دن میں چکر لگاؤ میں تمہیں بتا دوں گا-"
ساحر نے اس کا شکریہ ادا کیا اور اس سے ہاتھ ملا کر باہر نکل گیا-وہ دونوں اسٹوڈیو کے کینٹین میں چلے آئے تھے-عادل نے چائے کا آرڈر دیا-
"یہاں سیٹ پر ہی کام ہوتا ہے-،اسکرپٹ اور مکالمے سیٹ پر ہی لکھ جاتے ہیں تاکہ اگر ایکٹر کو ادائیگی میں مشکل پیش آ رہی ہو تو تبدیل کے جا سکیں-"عادل نے کہا –
ساحر ابھی تک شاک کی کیفیت میں تھا-"میری سمجھ میں نہیں آ رہا ،یہاں کیسے کام ہوتا ہے-؟”
"پہلے میری بھی سمجھ میں نہیں آتا تھا-،لو چائے پیو ،کچھ سمجھنے کی کوشش نہ کرو جیسا چل رہا ہے چلنے دو-"اس نے چائے کی پیا لی ساحر کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا -جو کچھ دیر پہلے ویٹر رکھ  گیا تھا-
"میں یہ فلم ضرور بناؤں گا-"اس نے اسکرپٹ کے پلندے کو تھپتھپاتے ہوئے کہا -اور اس بے قاعدگی سے نہیں بلکہ طریقے سے بناؤں گا-
"تم نہیں بنا پاؤ گے-"عادل نے بے رحمی سے کہا -وہ عادل کو دیکھتا رہ گیا-
"خیر چھوڑو میں اسکرپٹ پڑھ کے جہانگیر سے خود بات کر لوں گا-،تم ایک ہفتے بعد آنا-"
"ٹھیک ہے یار-"دونوں اٹھ کھڑ ے ہوئے-
اتنے برسوں بعد ملیں ہیں دل چا ہ رہا ہے خوب باتیں کریں مگر مجھے ایک شوٹنگ نمٹانی  ہے-خیر پھر کبھی سہی ،آؤ میں تمہیں چوکیدار سے ملوا دوں  وہ آئندہ تمہیں نہیں روکے گا-پھر دونوں کے درمیان فون نمبرز کے تبادلے ہوئے تھے-اور ساحر اس سے ہاتھ ملا کے رخصت ہو گیا تھا-
وہ اسٹوڈیو سے بڑا دل گرفتہ لوٹا تھا-وہاں اس کی کوئی پزیرائی نہیں ہوئی تھی-جہانگیر سے اس کی دوسری ملاقات فلم کے سیٹ پر ہوئی تھی-اس بار اس نے دیکھا کہ فلم کیسے بنائی جاتی ہے-اسکرپٹ کیسے لکھا جاتا ہے،وہ دیکھ رہا تھااور عبرت پکڑ رہا تھا-اسی وقت جہانگیر کی نظر اس پر پڑی –
"عادل اس کا اسکرپٹ واپس کر دو-"عادل جو کیمرہ مین کو کوئی ہدایت دے رہا تھا ان کے قریب چلا آیا-
"بہتر-"قریب آ کر وہ بولا-
"کیا آپ کو پسند نہیں آیا؟”ساحر کو یقین نہیں آ رہا تھا-
"دیکھو تم نوجوان نہیں سمجھتے ، فلم ایسے نہیں بنتی-عادل تو سمجھا اپنے دوست کو-"
عادل اس کا ہاتھ تھامے جہانگیر کے آفس میں لے آیا-میز پر اس کا اسکرپٹ رکھا تھا وہ اٹھایا اور کہا چلو کینٹین میں چل کر بات کرتے ہیں-چائے کا آرڈر دینے کے بعد عادل نے بات شروع کی-
"میں نے تمہیں پہلے ہی بتا دیا تھا کہ یہاں کس طرح کام ہوتا ہے-"
"لیکن یہ غلط ہے-"
"مانتا ہوں مگر میں اور تم کیا کر سکتے ہیں،یہی زندگی کی اصل حقیقت ہے-تمہارے دماغ میں ابھی تک کتابی باتیں گھسی ہوئی ہیں جن کا حقیقی زندگی سے کوئی تعلق نہیں-تم جیسے سونے کا چمچ منہ میں لے کر پیدا ہونے والے لوگوں کو کیا پتا کہ قدم کیسے جمائے جا تے ہیں-کچھ دن یہاں ٹھوکریں کھاؤ سب کچھ سمجھ جاؤ گے-"ساحر ہکا بکا اسے دیکھ رہا تھا-اس کی دولت کا حوالہ دیتے ہوئے اس کے لہجے میں جو نفرت تھی اس نے ساحر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا-
بہت  پرانا اور اچھا دوست جو کبھی اس کا ہم خیال تھا آج کس انداز میں بات کر رہا تھا-کیا وہ اس سے حسد کرتا تھا-،اسے یقین نہیں آ رہا تھا-
"تم نے میرا اسکرپٹ پڑھا ہے؟”کافی دیر بعد ساحر نے پوچھا-
"بہت اچھا ہے………….مگر اس پر فلم بنانا آسان نہیں ہے-اس پر فلم بنی تو فلاپ ہو گی-ہمارے ماحول میں یہ فلم  نہیں چلے گی-یہاں صرف مرچ مسالہ ٹائپ فلمیں ہی کامیاب ہوتی ہیں-"
"یہ ایک صاف ستھری با مقصد اور خوبصورت فلم ہوگی عادل -تم جو کر رہے ہو یہ تمہارا کام نہیں ہے یار،ڈائریکشن تو تم سیکھ ہی چکے ہو-تم یہ فلم ڈائریکٹ کرو سرمایہ میں لگاؤں گا-ایسی فلم بنانا ہم دونوں کا خواب تھا-"ساحر نے پر جوش انداز میں کہا –
نہیں دوست تمہارا خواب تمہیں مبارک ہو-میرے خواب تو کب کے اپنی موت آپ مر چکے ہیں-مجھے فلم بنانی ہوگی تو خود بناؤں گا-تمھاری مالی امداد تو میں نے اس وقت بھی قبول نہیں کی تھی جب مجھے اس کی اشد ضرورت تھی-دولت سے تم مجھے نہیں خرید سکتے-یہ تم اچھی طرح جانتے ہو-"عادل نے تلخی سے کہا -اپنے خواب پورے کرنے کے لیے تم خود جدو جہد کرو جیسے میں نے کی ہے-دیکھ لو میں تمہاری دولت نہ لینے کے باوجود تم سے کہیں آگے ہوں-"
عادل کے تلخ و ترش جملوں پر وہ بڑے ضبط سے کام لے رہا تھا-اس کا رویہ اس کی سمجھ سے بالاتر تھا-
"تم بہت بدل گئے ہو عدل-"ساحر نے مایوسی سے کہا اور میز پر رکھا ہوا اسکرپٹ اٹھا یا-"لگتا ہے تم گزرے ہوئے ان برسوں کا ساتھ بھول گئے…………….اب شاید ہماری کبھی ملاقات نہ ہو-"
"میں بھی تم سے ملنا نہیں چاہتا -"عادل نے سفاکی سے کہا –
یہ جان کر ساحر کو بڑی تکلیف پہنچی تھی کہ جسے وہ جگری یار سمجھتا تھا وہ اس سے حسد میں مبتلا تھا-حیران و پریشان ساحر وہاں سے نکل گیا تھا-
عادل اپنی جگہ بیٹھا کھولتا رہا -وہ اس وقت ساحر سے نفرت محسوس کر رہا تھا-اسکرپٹ پڑھنے کے بعد سے اس کا یہ حال تھا-وہ سوچتا رہا تھاکہ ایسی عظیم فلم بنانا تو اس کا خواب تھا جو وہ اپنی کم مائیگی کی بنا پر پورا نہیں کر پایا تھا-
ساحر اس کا بچپن کا دوست تھا-اس کا دولت مند ہونااس وقت بھی اس کے دل میں کانٹے کی طرح چبھتا تھا-ساحر کی جبیں نوٹوں سے بھری ہوتی تھیں اور وہ خالی ہاتھ ہوتا تھا-دولت کے حوالے سے ساحر ایک ایسا آئینہ تھا جس میں عادل کو اپنی محرومیاں نظر آتی تھیں-وہ اس کے سامنے احساس کمتری میں مبتلا رہتا تھا- وہ کامیاب و کامران ہونا چاہتا تھااس کے لیے اس نے بڑی جدو جہد کی تھی-بڑی ٹھوکریں کھائ تھیں
اب جب کے وہ کامیابی کی سیڑھیوں  پر قدم رکھ  رہا تھا،وہ نہ جانے کہاں  سے دوبارہ آ گیا تھا، اس کی محرومیوں کا احساس دلانے اسے ناکام ثابت کرنے-وہ ہمیشہ کے لیے اس کانٹے کو اپنے دل سے نکال دینا چاہتا تھا-
ساحر کی اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ پھر فلم نگری کا رخ کرتا-اس کی ایک جھلک ہی اس کے لیے کافی تھی لیکن دکھ اسے اس بات کا تھا کہ وہ اپنا عزیز ترین دوست کھو بیٹھا تھا-عادل کے رویے سے اسے بہت تکلیف پہنچی تھی-وہ سمجھ گیا تھا کہ عدل انتدا ہی سے احساس محرومی کا شکار تھا اور اس سے حسد کرتا تھا، اس طبقاتی فرق نے ان کی دوستی کو نگل لیا تھا-
اب اس کے سامنے عادل کا چیلنج تھا،اس نے کہا تھا اپنے خواب پورا کرنے کے لیے خود جدو جہد کرو،ساحر نے زبان سے تو کچھ نہیں کہا  تھا مگر دل میں اس نے یہ چیلنج قبول کر لیا تھا-اب اسے نئے سرے سے جدوجہد کرنیتھی- (جاری ہے)
 

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ڈھل گیا ہجر کا دن نادیہ احمد قسط نمبر7

ڈھل گیا ہجر کا دن نادیہ احمد قسط نمبر7 خواب ٹوٹ جاتے ہیں بھیڑ میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے