سر ورق / مضامین / ملکہ کے قلم سے ۔۔۔۔ صباحت رفیق چیمہ

ملکہ کے قلم سے ۔۔۔۔ صباحت رفیق چیمہ

آپ اگرا میچور ہوتے تو آج آپ رائٹر نہ ہوتے!
صباحت رفیق چیمہ

جی ہاں،اگر آپ رائٹر ہیں تو آپ کو دوسروں کو دکھانے کے لیے میچور بننے کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ آپ کی میچورنیس آپ کے لکھے ہوئے لفظوں میں بخوبی نظر آئے گی۔بس یہی کافی ہے۔ آپ اپنی زندگی کو ویسے گُزارو جیسے آپ گُزارنا چاہتے ہو وہ اس لیے کہ آپ اپنے بارے میں دوسروں کے خیالات کبھی نہیں بدل سکتے۔ اس لیے آپ بیکار کی کوششیں ہی مت کیجئیے۔زندگی کواپنی مرضی سے گُزاریں اور خوش رہیں ۔ اگر آپ کی امیچور حرکتیں آپ کو خوش رکھتی ہیں ۔ آپ اپنے آپ کو خوش رکھنے کے لیے ہنسی مذاق کرتے ہو سیریس نہیں رہتے توکیا اس کا یہ مطلب ہے کہ آپ میں سنجیدگی نام کی چیز نہیں ہے؟آپ میچور نہیں ہیں ؟اگر آپ اپنی پریکٹیکل لائف میں جاؤ گے تو مطلب کچھ بھی سیریس نہیں لو گے؟
مجھے بہت ہنسی آتی ہے کہ جب کوئی ایک رائٹر کے پاس آ کے کہے کہ آپ میچور نہیں ہیں ۔
خُدا کے بندو،رائٹرز کی پہلی بات ہی یہی ہوتی ہے کہ وہ وقت سے پہلے میچور ہو جاتے ہیں ۔وہ کم عمری میں ہی وہ باتیں سمجھنے لگتے ہیں جنہیں سمجھنے کے لیے دوسرے انسانوں کو وقت لگتا ہے۔وہ صرف سچویشن دیکھ کے ساری کہانی جان لیتے ہیں ۔اور یہاں بات کرتے ہیں کہ میچور نہیں ۔
اور مجھے تب بھی بہت ہنسی آتی ہے جب کوئی ایک رائٹر کے پاس آ کر کہے کہ آپ کی کہانیاں پڑھ کر لگتا نہیں کہ آپ نے ہی لکھا ہے۔
ٓٓارے عقل کے اندھے لوگو، میری بات سُنو۔رائیٹنگ ایک صلاحیت ہے۔ لکھنا رائٹر کی جاب ہے۔اب یہ کہاں لکھا ہے کہ ایک رائٹر جو بھی لکھے گا وہ اپنے بارے میں لکھے گا؟ اگر محبت لکھے گا تو وہ محبت کرتا ہو گا؟ اگر درد لکھے گا تو وہ درد سہتا ہو گا؟ اگر ہنسی لکھے گا تو وہ ہنستا ہو گا؟ اگر آنسو لکھے گا تو وہ روتا ہو گا؟ خُدا کے لیے رائٹرز کو اُس کی تحریروں سے جج کرنا چھوڑ دو۔ اُس کی غلطی یہ ہے کہ اُس کے پاس حساس دل ہوتا ہے۔ وہ درد جو لوگ محسوس نہیں کرتے وہ ہم رائٹرز محسوس کرتے ہیں اور اُسے لکھتے ہیں ۔وہ محبت جو دل کے تاروں کو چھو لیتی ہے وہ محبت ہم کاغذ پر لکھ کے اُسے امر کر دیتے ہیں ۔
میں نے بارہا لوگوں کو یہ کہتے سُنا ہے کہ آپ تو ماشاء اللہ سے رائٹر ہیں آپ تو ایسی امیچور حرکتیں نہ کریں ۔یا یہ کہ آپ تو رائٹر ہیں سو آپ قربانی کا بکرا بن جائیں اپنی خوشیوں کو آگ لگا دیں ۔ اور دوسروں کو خوشیاں سونپ دیں ۔ واہ بھئی رائٹر ہونا بھی عذاب ہو گیا۔اور بہت سی رائٹرز صرف اس وجہ سے اپنے قلم کو محدود کر لیتی ہیں کہ اگر وہ یہ لکھ دیں گی تو لوگ یہ کہیں گے وہ کہیں گے۔ ارے بھاڑ میں بھیجو لوگوں کو اور کھُل کے لکھو۔ کیونکہ لکھنا آپ کا کام ہے۔ اور آپ کا کام اور آپ کی ذاتی زندگی، آپ کی شخصیت دو علیحدہ چیزیں ہیں ۔تو لوگوں کو بولنے دو جو بولتے ہیں ۔ اُن کا تو کام ہی بولنا ہے اگر وہ نہیں بولیں گے تو کون بولے گا۔ لیکن آپ کا جو کام ہے وہ یہ کہ آنکھیں کھُلی رکھ کے اور لوگوں کی طرف سے کان بند کر کے لکھتے جائیں ۔ بلکہ ڈھٹائی سے وہ بھی لکھ دیں جو وہ آپ کو کہتے ہیں ۔ پڑھ کے خود ہی آگ لگ جائے گی آگ۔
بس آپ بے فکر ہو کے لکھیں وہ جو دل کرتا ہے اور زندگی ویسے گُزاریں جیسے آپ گُزارنا چاہتے ہیں ۔
مجھے شادی کے بعد کا نہیں پتہ کہ سسرال میں امیچور حرکتیں برداشت کی جاتی ہیں یا نہیں ۔لیکن اتنا پتہ ہے کہ جب تک آپ اپنے ماں باپ کے گھر ہوتے ہو نا۔ آپ زندگی کو کھُل کے انجوائے کرو۔ ڈھیر ساری امیچور حرکتیں کرو۔آپ کو کوئی نہیں روکے گا کہ آپ ایسی بے وقوفانہ حرکتیں کیوں کر رہے ہو۔بلکہ آپ کی کھلکھلاہٹیں جب جب گھر میں گونجیں گی آپ کے ماں باپ اُن کھلکھلاہٹوں کو انجوائے کریں گے۔اور جب آپ وہاں نہیں ہوں گے تو آپ کے ماں باپ بیٹھ کے اُن کھلکھلاہٹوں کو محسوس کیا کریں گے۔
آپ کی زندگی میں آنے والا پہلا مرد ، آپ کا باپ ہوتا ہے۔یہ وہ واحد شخص ہوتا ہے جس کی محبت میں کوئی کھوٹ نہیں ہوتا۔جس کا نام جب تک آپ کے نام کے ساتھ جُڑا رہتا ہے آپ حقیقی معنوں میں زندگی کا مزا لیتے ہو۔راج کرتے ہو اُس کے گھر میں ۔ یہاں آپ نے کوئی بات منہ سے نکالی تو وہاں باپ جب تک پوری نہیں کر دے گا سکون سے نہیں بیٹھے گا۔زندگی میں ایسی پُر خلوص محبت آپ کو دنیا کا کوئی مرد دے ہی نہیں سکتا۔ اس لیے اگر آپ کے باپ کے علاوہ آپ کو کوئی بدلنے کے لیے بولے تو کبھی بھی اُس کے لیے خود کو بدلنے کی کوشش مت کرنا۔ کیونکہ آپ اُس سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے جو آپ ہیں ۔اپنے آپ کو بہتر بناؤ لیکن کسی دوسرے کے لیے اپنے آپ کو کبھی بھی مت بدلو۔بھول جائیے کس نے کیا تکلیف پہنچائی ، لیکن اُنہیں کبھی مت بھولیے گا جو آپ سے محبت کرتے ہیں ۔
ہر گُزرا دن ماضی بن جاتا ہے ۔ ہر گُزرا دن آپ کا ماضی ہے آپ ہر اُس گُزرے دن کو بھول جائیے جس کی وجہ سے آپ کو رونا پڑے۔آپ اپنے آج پر فوکس کریں جو آپ کے لبوں پر مُسکراہٹ بکھیر دے گا۔اپنے آج کو اُس طرح گُزاریں جس طرح آپ گُزارنا چاہتے ہیں۔ اپنے آپ کو صرف اس وجہ سے تبدیل کرنے کی کوشش نہ کرو کیونکہ آپ اگر خود کو بدلیں گے نہیں تو کسی کو کھو دیں گے؟ نہیں نہیں ۔۔۔ایسی غلطی زندگی میں ہر گز مت کیجئیے گا۔آپ ، آپ ہیں جو آپ کی محبت کو سمجھتا ہو گا تو وہ آپ کو ایسے ہی ایکسیپٹ کرے گا۔اُس کی نظر میں آپ کی محبت کی قدر ہو گی۔اور اگر کوئی آپ کو قبول کرنے سے پہلے یہ شرط رکھے کہ آپ پہلے اپنے آپ کو بدلو اور پھر وہ آپ کو قبول کرے گا۔ میری بات کا بُرا مت منائیے گا کیونکہ ایسے شخص کے بارے میں ، میں یہی کہوں گی کہ چھوڑ دیجئیے ، بھاڑ میں بھیج دیجئیے۔ کسی کاغذ پر نام لکھیے آگ لگا کر فلش آؤٹ کر کے قصہ ہی تمام کیجئیے۔پھر لوگ آپ کی محبت کو جھوٹا کہیں جو مرضی کہیں کہنے دیجئیے۔پروا نہ کیجئیے آپ کے لیے صرف آپ کا وجو د اہم ہونا چاہئیے ۔آپ کو کیا لگتا ہے کہ آج آپ محبوب کے لیے اپنے آپ کو بھول جاؤگے ، محبوب کے قدموں میں سر رکھ دو گے اُس کے پاؤں کی دھول کو کاجل کی طرح آنکھوں میں لگاؤ گے تو وہ مان جائے گا؟
ارے نہیں بالکل بھی نہیں ،اب وہ زمانے ہی نہیں رہے اگر آپ ایسا کریں گے اپنا سر اپنے محبوب کے قدموں میں رکھیں گے تو جانتے ہیں وہ کیا کرے گا؟ آپ کے سر کو روند کے آگے بڑھ جائے گا۔ اس لیے ہوش کے ناخن لیں ۔ اگر آپ پھر بھی کچھ نہ سمجھیں مطلب آپ خود کو روندنے کا تہیہ کر بیٹھیں تو پھر پتہ ہے کیا کریں ؟
میں بتاتی ہوں ، پتہ کیا یہ جو انسانی ذہن ہے نا اس پر سُنی سُنائی باتیں بہت اثر کرتی ہیں ۔جیسے میں ایک مثال دیتی ہوں اگر آپ کسی کو کہیں گے کہ آپ بُرے انسان ہیں ۔ وہ پہلی دفعہ سُنے گا تو نظر انداز کر دے گا۔ لیکن جب آپ یہی بات ہر گھنٹے کے بعد اُسے کہتے رہیں گے تو اُس کا دماغ اس بات کو سُن سُن کے اس قدر عادی ہو جائے گا کہ اُس کا دماغ یہ بات قبول کر لے گا کہ وہ ایک بُرا انسان ہے۔اب وہ بے اختیاری طور پر بُرے انسانوں کی طرح پیش آنے لگے گا۔بالکل اسی طرح آپ اپنے آپ سے کہئیے کہ آپ ’ملکہ‘ ہیں ۔ بار بار یہ الفاظ اپنی زبان پر لائیے کہ ’میں ملکہ ہوں ۔‘ کیا ہوا ہنسی آ رہی ہے؟ کہ لوگ کیا سمجھیں گے ۔ مطلب لوگ آپ کو قبول نہیں کریں گے اگر آپ خود کو ملکہ سمجھنے لگ گئے؟ آپ کو ہو سکتا آپ کی ظاہری شکل و صورت سے احساس دلا کے یہ کہیں کہ کہاں کی ملکہ؟؟؟
ارے جانے دیجئیے لوگوں کو اور اُن کی باتوں کو۔آپ کو لوگوں کے لیے نہیں اپنے لیے ملکہ بننا ہے۔ آپ کو کوئی ملکہ والا گیٹ اپ نہیں کرنا۔ آپ کو ملکہ کی عادتوں کو اپنانا ہے۔
ملکہ کبھی کسی انسان کے سامنے جھُکتی نہیں ہیں۔
آپ بھی مت جھُکیے صرف اللہ کے سامنے خود کو رول دیجئیے خود کو کیڑے مکوڑوں سے ذیادہ حقیر سمجھ کے اُس سے مانگ لیجئیے ۔ وہ عطا کر دے گا۔ لیکن کسی انسان کے سامنے یہ حرکت مت کیجئیے گا۔ اُس کے بس میں عطا کرنا نہیں ہے بلکہ جو آپ کے پاس ہے وہ اُسے بھی چھین لے گا۔
ملکہ کبھی ہار نہیں مانتی ہیں۔
حالات چاہے کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں ۔ لیکن وہ ہر وقت خود کو لڑنے کے لیے دوسروں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رکھتی ہے۔کبھی ہمت نہیں ہارے گی۔ حالات اُسے ہرا رہے ہوں گے لیکن وہ آخری دم تک لڑے گی لیکن ہار نہیں مانے گی۔ آپ بھی مت مانیے۔ اپنی سب تکلیفوں ، مصیبتوں ، پریشانیوں سے بلا جھجک کہہ دیجئیے کہ آپ اُن کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں ۔سو آپ کو ہرانے کی کوشش نہ کریں کیونکہ آپ ہار نہیں مانیں گی۔
ملکہ اپنا وقار بُلند رکھتی ہیں ۔
آپ بھی ایسا ہی کیجئیے خود کو خاص سمجھیے کسی دوسرے کے لیے نہیں ۔ صرف اپنے لیے۔اپنی زندگی صرف اپنے لیے جینا شروع کریں ۔ ایسی زندگی جس میں کسی دوسرے انسان کی وجہ سے آپ کا ہنسنا یا رونا متاثر نہ ہو۔بس جس سے محبت کریں اُسے بتائیں ، احساس دلائیں اپنی محبت کی شدت کا، اور پیچھے ہٹ جائیں ۔اگر اُس کے دل میں آپ کے لیے تھوڑی سی بھی عزت ہو گی، تھوڑا سا بھی احساس ہو گا تو وہ آپ کے پاس لوٹ آئے گا۔ ورنہ آپ جتنی مرضی کوشش کر لیجئیے وہ نہیں لوٹے گا۔کل کی اُمید پر اپنا آج خراب نہ کریں ۔بلکہ آج ایسے عمل کریں جس سے آپ کا کل خوشگوار ہو سکے۔
زندگی بہت انمول ہے۔ اللہ نے ہمارا چہرہ خود اپنے ہاتھوں سے تخلیق کیا ہے۔ خود کو خاص سمجھئیے۔ اس خاص چہرے کی آنکھوں میں آنسو مت آنے دیجئیے۔محبت تو مٹھاس سے بھری ہوئی ہوتی ہے دل کو سکون دیتی ہے۔ لیکن جب محبت ہی تکلیف دینے لگے تو ایسی محبت سے خود کو زخمی مت کیجئیے۔ چھوڑ دیجئیے سب۔ خود کو دور کر لیجئیے۔آپ کسی کی وجہ سے نہیں آپ اپنی وجہ سے بھی خوش رہ سکتے ہیں ۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ھرمن نارتھروپ فرائی ۔۔۔۔ احمد سہیل

ھرمن نارتھروپ فرائی ۔(Herman Northrop Frye) ::: تحریر ۔۔ احمد سہیل (امریکہ) کینڈین ادبی نقادو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے