سر ورق / افسانہ / بلی کی موت…. ناصر صدیقی

بلی کی موت…. ناصر صدیقی

              بلی کی موت

ناصر صدیقی

                جب بھی اسے یہ اطلاع ملتی کہ کہیں کوئی جانور جان کنی کی حالت میں ہے،وہ دوڑا دوڑا وہاں جاتا اور اس وقت تک کھڑا ہو کر دیکھتا جب تک جانور کی جان نکل نہ جاتی۔اکیلا تماشہ دیکھ رہا ہے یا سکے ارد گرد اور بھی لوگ ہیں؟اسے اس چیز سے کوئی سروکار نہیں۔کبھی کبھی کوئی بچہ ہانپتا ہوا اس کے پاس آکر کہتا: ” خوشخبری ہے!پہلے دو روپے دے دو!“اس پر وہ کہتا:”جانتا ہوں۔پہلے یہ بتا کہ میرے جاتے جاتے وہ مر تو نہیں جائے گانا؟“___”نہیں۱“بچہ جواب دیتا،”تازہ تازہ مر رہا ہے۔“تب وہ بچے کو دو روپے دے کر جانور کے مرنے کی جگہ کا پتہ لئے بھاگا بھاگا وہاں جاتا اور حالت نزع کی لطف اندوزیوں میں کھو جاتا۔

                میں شہر میں نیا آیا ہوا تھا۔ایک دن جب پہلی بار اسے ایسا کرتے دیکھنے کا موقع ملا تھا تو میں قدرے حیران رہ گیا تھا۔وہ بار بار اپنے ایک ہاتھ کی مٹھی بنا کر اسے دوسرے ہاتھ کی ہتھیلی پر زور زور سے مارتا تھا اور حالت نزع کی سختیوںمیں جکڑی بلی کے بچے کو مخاطب ہو کر کہتا تھا: ” مرو!کمینی مرو!“اس کا چہرہ، غصہ، جوش اور نہ جانے اور کن جذبات سے سرخ ہو چکا تھا۔”میں کہتا ہوں مرجاو کمینی!جس نے اسے مارا ہے اس نے بہت اچھا کیا ہے۔“وہ بار بار کہتارہا تھا۔

                میں نے بھی اسے پاگل سمجھ کر اپنی راہ لی تھی کہ ایسی حرکتیں اور باتیں تو کوئی ذی ہوش شخص کر ہی نہیں سکتا تھا۔

                بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ اسکا نام نعیم ہے اور عرصہ پندرہ سال سے اس شہر میں سکونت پذیر ہے۔ جب سے آیا ہے اسکی حرکتیں یہی ہیں ۔ کسی کرائے کے سستے مکان میں رہتا ہے۔کام نہیں کرتا اور نہ ہی آج تک اسے کسی نے بھیک مانگتے دیکھا ہے۔پتہ نہیں کہاں سے اسے پیسے ملتے ہیں۔

                مجھے اشتیاق ہو کہ اسکے بارے میں مجھے اور معلومات ملے ۔ایک مخصوص ہوٹل میں وہ اکثر بیٹھا دکھائی دیتا تھا۔میں نے بھی جان بوجھ کر اسی ہوٹل میں اپنا ڈیرہ جمایا کہ موقع ملنے پر اسے کرید لوں۔

                ایک دن اس نے مجھ سے ماچس مانگ لی تو موقع اچھا جان کر ماچس کے ساتھ اسے اپنا اعلی برانڈ کا ایک سگریٹ بھی پیش کیا۔خلاف توقع وہ میری اس پیشکش کو قبول کر گیا تو میں نے اپنا نام بتایا اور یہ بھی کہ یہاں میرا تبادلہ ہوا ہے ۔جاتے ہوئے میں نے اسکے چائے کے پیسے بھی دے دئےے۔

                دوسرے دن اس نے کل کے چائے کے پیسے دینے کا شکریہ اد کیا۔

                ”اسکا یہ شائستہ انداز دیکھ کر کون اسے پاگل قرار دے سکتا ہے!بس ذرا صاف ستھرا لباس پہن لے، بالوں میں کنگھی کرے اور ____ “اور میری سوچ منقطع ہوئی کہ ایک بچہ ہانپتا ہوا اس کے پاس آ گیا تھا۔

                ”چاچا! ابھی ابھی ایک بلی کو کسی نے پتھر مارا ہے۔وہ تڑپ رہی ہے۔۔۔۔“

                ”اچھا!“وہ فوراً ایک جوش لئے کھڑا ہو گیا،”جلدی بتاو کہاں ہے؟اور ہاں!“اس نے میری طرف ہاتھ کا اشارہ کر کے کہا،”یہ تم کو دورپے دے گا۔ابھی میرے پاس کھلے نہیں ہیں۔“

                بچے سے بلی کے مرنے کی جگہ کا پوچھ کر وہ فورا! تیزی سے نکل گیا۔بچہ میری طرف دیکھ رہا تھا۔میں نے دو روپے نکال کر اسے دے دئےے اور سوچنے لگا کہ اب نعیم مجھے دوستانہ نظروں سے دیکھنے لگا ہے۔

                جلد ہی وہ ایک عجیب کیفیت کے ساتھ واپس آ گیا،جیسے خوش ہے اور غصہ میں بھی۔

                ”یہ آخر کیا چکر ہے؟“میں نے آج پوچھ ہی لیا،”جب سے آیا ہوں آپ کو جانوروں کی جان کنی دیکھنے پر اچھا خاصہ پیسہ خرچ کرتا دیکھ چکا ہوں۔آپ کا یہ عمل مجھے حیران ذدہ کر گیا ہے۔کیا مجھے بتانا پسند کریں گے کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟“

                اس پر پہلے اس نے مجھے عجیب نظروں سے دیکھا پھر اپنے چہرے کو قدرے دوستانہ کر کے بتایا،”آج تک میں نے کسی کو نہیں بتایا کہ مجھے جانوروں کی حالت جان کنی سے کیوں سکون ملتا ہے۔تم میرے دوست بنے ہو تو بتا دیتا ہوں۔لیکن یہ بات کسی اور کو ہر گز نہ بتانا___ وعدہ ؟“

                ”وعدہ____‘میں نے جواب دیا۔

                ”یہ تقریباً سترہ سال پہلے کی بات ہے۔اس وقت میری عمر چھبیس،ستائیس سال تھی۔اپنی بیمار ماں کے لئے دوائی لے کر گھر آیا تو دیکھا کہ ماں الٹی کر رہی ہے اور میری بہن غائب۔پھر الٹی پہ الٹی۔۔اور مر گئی۔میری قیمتی دوائی جو میں نے بڑی مشکل سے خریدی تھی،میرے کام آ نہ سکی تھی۔لیکن بات اس پر ختم نہیں ہوئی تھی۔میری بہن سارا دن غائب رہی۔ رات کوپتہ چلا کہ وہ اپنے کسی آشنا کے ساتھ بھاگ گئی تھی۔”اپنی بیمار ماں کا بھی خیال تک نہیں کیا سالی رنڈی نے!“میرا خون کھولنے لگا۔پاس ہی ایک کالی بھی مسلسل میاں میاں کر رہی تھی۔مجھے اور غصہ آگیا ۔مجھے لگا میری بہن ہے جو بے شرمی کی آخری حد بھی توڑ کر میری بے بسی کا مذاق اڑا رہی ہے۔پاس ہی ایک اینٹ پڑی تھی جسے اٹھا کربلی کو دے مارا۔وہ حالت نزع میں آگئی اور تڑپ ٹرپ کر مر گئی۔وہ بلی نہیں میری بہن تھی،سالی رنڈی۔۔۔۔اگر مل جائے تو اسکا سر قلم کردوں ۔۔ ۔ ۔۔۔یہی میری کہانی ہے دوست!“اور اسکا غصہ کم ہونے لگا جو گفتگو کے دوران کتنا زیادہ تھا۔

                ”کیا میںآپ کی بہن کا نام پوچھ سکتا ہوں“میں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔

                ”اس کمینی کا نام عتیقہ ہے۔“اس نے پھر دانت پیس کر جواب دیا۔

                عتیقہ کا نام سن کر میرے چہرے پہ پسینہ آنے لگا کہ وہ اب میری بیوی تھی جو برسوں پہلے میرے ہی ساتھ بھاگ گئی تھی۔

                ”کیا ہوا دوست؟!“میری بدلی حالت دیکھ کر اس نے پوچھا،”کیا تم میری کہانی سے پریشان ہو گئے؟“

                ”ہاں دوست! آپ کی بہن نے اچھا نہیں کیا۔مجھے کہیں مل جائے تو میں ٓپ کو ضرور اطلاع دوں گا “ میں نے زندگی کا پہلا جھوٹ بولا اور پھر اٹھ کر جانے لگا۔اس کے چائے کے پیسے آج بھی میں نے ہی دئے تھے۔ (ختم شد )

                ( ۵۱ دسمبر ۸۹۹۱ئ۔۔۔تا۔تیرہ اپریل دو ہزار اٹھارہ)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

دروازہ …محمد جاوید انور

دروازہ محمد جاوید انور "کہہ دیا نا میں نے لکھنا چھوڑ دیا ہے۔” اس کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے