سر ورق / جہان اردو ادب / شمسہ نجم : محمد زبیر مظہر پنہوار

شمسہ نجم : محمد زبیر مظہر پنہوار

مہمان شمسہ نجم

میزبان: محمد زبیر مظہر پنہوار

سوال۔ آپ کا اصل اور قلمی نام ۔

جواب: میرا نام شمسہ نجم ہے۔ اسی نام سے لکھتی ہوں۔ شادی سے پہلے شمسہ احد کے نام سے لکھتی تھی۔

سوال..تعلیمی اور خاندانی پس منظر ۔۔

جواب: میں نے گورنمبٹ گرلز ہائی اسکول جھنگ سے میڑک کیا۔پانچویں جماعت میں اسکالر شپ حاصل کیا، آٹھویں جماعت میں اسکالر شپ حاصل کیا ۔ میڑک بورڈ میں اسکول میں دوئم پوزیشن حاصل کی۔ اور اسکالر شپ ملا۔ گورنمنٹ کالج جھنگ سے بی اے کیا۔ شادی کے بعد کراچی میں رہائش اختیار کی۔ کراچی یونیورسٹی سے 1999ء ۔ 2000ء اردو میں ایم اے کیا۔ پھر امریکہ منتقل ہوگئی۔ یہاں پر چائلڈ ڈویلپمنٹ میں ڈگری حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ آرٹ کی تعلیم بھی حاصل کی۔

میرا گھرانہ کافی مذہبی ہے۔ دادا کے والد اور نانا کے والد عالمین اور مذہبی اسکالر تھے۔ والد وولن سینٹر جھنگ میں مینیجر تھے۔ وہ زمیندار تھے۔ والدہ نے کئی سال تک ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر  اور پھر ایجوکیشن آفیسر جھنگ  کے فرائض انجام دیئے۔

سوال.. ادب سے لگاؤ کی خاص وجہ اور آپ کو کب ایسا لگا کہ آپکے اندر ایک تخلیقکار موجود ہے جو بہت سی باتیں کہنا لکھنا چاہتا ہے ۔۔

جواب: میرے والد صاحب بہت قابل انسان تھے۔ وہ شطرنج کےبہترین کھلاڑی اور اعلی درجے کے شکاری تھے۔ میں نے شطرنج ان سے ہی سیکھی۔ انہیں ادبی کتابوں اور رسائل کا بہت شوق تھا۔ میری والدہ کو بھی اردو ادب سے بہت دلچسپی تھی۔ مجھے ادب سے لگاو ان دونوں کے اعلی ذوق اور ان کی ادب سے محبت کی وجہ سے ہوا۔ اسکول کے دور میں بچوں کی دنیا کے لیے کہانی لکھی۔ نویں جماعت میں پہلا افسانہ لکھا۔ نویں کلاس میں میری نظم اسکول کے میگزین میں شامل ہوئی۔تقریری مقابلوں میں انعامات حاصل کیے۔ کالج کے چار سالہ دور میں متعدد بین الاقوامی ادبی تحریری مقابلوں میں حصہ لیا اور اپنے لکھے مضامین پر انعامات حاصل کیے اور بہت پذیرائی ملی۔ ان مضامین کو لکھ کر احساس ہوا کہ ہم اپنی بات کیسے عوام تک پہنچا سکتے ہیں۔

سوال۔۔ پہلی کہانی کب لکھی اور کس مجلہ یا اخبار میں شائع ہوئی ۔۔

جواب: میں اپنے لکھے ہوئے اسلامی موضوعات پر مضامین کو اپنے ادبی کرئیر کی ابتداء سمجھتی ہوں۔ یہ مضامین جنگ نوائے وقت اور ایکپریس اور تکبیر میں شائع ہوئے تھے۔

سوال۔۔ ہمارے معاشرے کا چونکہ ماحول ایسا ہے کہ انٹلیکچوئل طبقے کو اہمیت کم دی جاتی ہے پھر آپ تو انٹلیکچوئل طبقہ کے سب سے حساس ترین لوگوں میں سے ہیں آپکو ضرور شروعات میں فیملی دوستوں محلوں داروں سے کچھ نہ کچھ عجیب سننے کو ملا ہو گا خاص کر پہلی دو چار کہانیوں کے بعد لوگوں کا ری ایکشن کیا تھا آپ کے متعلق ۔۔

جواب: میں نے جب بھی کچھ لکھا چاہے وہ افسانہ ہو یا مضمون سب نے بہت سراہا لیکن جب پہلا افسانہ لکھا۔ تو میرے گھر والوں نے بہت تعریف کی۔ لیکن شروع میں زیادہ تر مضامین لکھےاور ادبی مضامین کے مقابلوں میں کئی بار اول انعامات ملے ۔ ہر بار میرے والدہ محترمہ بنفس نفیس مجھے جھنگ سے لاہور لے گئیں۔ میں نے سرٹیفکیٹ حاصل کیا اور سیمینار میں اپنا مضمون پڑھا اور ہال میں موجود مجمع ججز اور دیگر شرکائے مقابلہ کی بھرپور داد وصول کی۔

سوال۔۔ صحیح معنوں میں آپکی کونسی تحریر تخلیق آپکی پہچان بنی جس نے آپکو عام  عوام میں سے اٹھا کر علمی و ادبی طبقہ میں متعارف کروایا ۔۔

جواب: میرا خیال ہے کہ میری شاعری سے اور میری پینٹنگ سے میری پہچان ہوئی۔ اور میرے افسانے جاچ”  "وہ اک لمحہ” اور "پیاس” انڈیا اور پاکستان کے اخبارات و جرائد میں چھپے۔ اور بہت پسند کئے گئے۔ اور ادبی مضامین بھی لٹریچر سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کو بہت پسند آئے یہ صرف میرا خیال ہے لیکن اس کا جواب میرے معتبر قارئین مجھ سے زیادہ بہتر دے سکتے ہیں۔

سوال۔. آپ کےادباء میں سے بہترین دوست جو رائیٹر بننے کے بعد بنے ہوں اور آپکی ہمیشہ رہنمائی کی ہو ۔۔

جواب: اپنے قلمی سفر کے دوران بہت سے ادیب دوست بنے۔ ظفر عباس، رفیع الدین راز ، خالد خواجہ، عرفان مرتضی، شفقت محمود، نادر خان سرگروہ، فیصل سعید ضرغام، عمران شاہد بھنڈر، احمد سہیل، ستیا پال آنند، اور عاکف محمود یہ سب میرے  بہت پیارے، مخلص اور معتبر دوست ہیں اور چند اور بہت  پیاری شخصیات میری دوست بنیں لیکن لسٹ طویل ہو جائے گی۔ ان سب عزیز دوستوں کے قیمتی مشورے میری ہمیشہ رہنمائی کرتے رہے ہیں۔

سوال۔۔ آپکی نظر میں ادب کی معاشرے میں گنجائش کتنی ہے اور آج کا قاری ادیب سے کیا چاہتا ہے۔۔

جواب ۔ ادب زندگی ہے۔ ادب کے بغیر زندگی نامکمل ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ ادب مختلف شعبہ زندگی کی نقل میں وجود میں آتا ہے یہ انسانی سوچ کا ترجمان ہوتا ہے۔ کوئی بھی شاعر یا ادیب جس معاشرے میں سانس لیتا ہے جس دور میں زندہ ہوتا ہے، اسی ماحول کی منظر کشی کرتا ہے اور اسی دور اور ماحول سے متاثر نظر آتا ہے۔  قاری بھی یہی چاہتا ہے قاری حالات حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتا ہے دنیا میں کیا ہو رہا ہے اردگرد کیا ہو رہا ہے۔ یہ جستجو ہی پڑھنے پر اکساتی ہے۔ صحت مند اور حقیقت سے قریب ادبی مواد ذہنی بالیدگی کا کام کرتا ہے۔ کچھ قاری صرف وقتی سکون کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ اس لیے کتاب پڑھتے ہیں لیکن زیادہ تر قارئین پڑھنے کے شوقین ہوتے ہیں۔ وہ ہر چھوٹے سے چھوٹے اخبار کے ٹکڑے کو بھی پڑھ ڈالتے ہیں۔ کیونکہ انہیں ہر جگہ سے علم کشید کرنے کا شوق ہوتا ہے۔ مطالعہ کی یہ مستقل عادت معیاری اور غیر معیاری تحریر میں فرق سکھا دیتی ہے۔

سوال۔۔ کسی زمانے میں ترقی پسند ادباء تحریک کا جنم ہوا تھا ۔ کیا اس سے اردو ادب کا فائدہ ہوا یا نقصان ۔۔

جواب۔ ترقی پسند ادبی تحریک میں کافی بڑی ادبی شخصیات کا نمایاں کردار ہے۔ یہ ہندو مسلم کے اشتراک سے بنائی گئی تھی۔ منشی پریم چند کے نظریات و خیالات نے ادب کو محلات اور امیر طبقے کے گرد گھومتی کہانیوں سے نکال کر عام آدمی کی دسترس تک پہنچایا ترقی پسند  ادبی تحریک نے ادب میں مقصدیت کی اہمیت پر زور دیا۔ معاشی استحصال ، غربت و افلاس، ظلم و ستم اور ناانصافی کے خلاف قدم اٹھانے پر اکسایا ۔ لیکن اس زمانے میں بے شمار نئے ادیب پیدا ہوئے۔ جن میں سے کچھ بہت مشہور بھی ہوئے۔ لیکن ان میں سے صرف چند ایک نے ہی ترقی پسند ادبی تحریک کی پالیسیوں کو اپنایا۔ بہرحال اس ادبی تحریک کی کاوشوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہر ادبی تحریک کا مقصد ادب کو پروموٹ کرنا ہی ہوتا ہے۔

سوال۔۔ ادب میں جدیدیت اور مابعدجدیت کا فلسفہ کس حد تک ہمارے قاری پہ اثر انداز ہوا یا پھر ہمارا قاری یا ادیب بیسویں صدی کی پہلی پچاس دہائیوں میں کھڑا نظر آتا ہے۔۔

جواب۔ جدیدیت کا آغاز پہلی جنگ عظم کے بعد ہوا۔تاکہ جنگ کے بعد، غلام، آقا کی مرضی کے مطابق زندگی گزاریں۔ اس دور میں مشینری اور سائنسی علوم کا نصاب میں دخول ہوا جو کہ مثبت پہلو تھا ۔ لیکن جدیدیت کے نام پر مذہب سے دوری اور  پس پردہ بے حیائی کو فروغ ہوا۔ ادب میں جنسیت اور فحاشی کا اضافہ ہوا۔صرف برصغیر میں ہی جدیدیت کے اثرات اور عوامل پر غور فرمائیے۔ نتائج بہت منفی نظر آتے ہیں۔ جدیدیت پسندوں نے انگریز حاکموں کی پالیسی کو لبیک کہا۔ انگریزوں کا خیال تھا کہ اسلام اور اسلامی اطوار اور اسلامی طرز تعمیر کی جگہ مغربی اطوار اور مغربی طرز تعمیر کو جدید کہہ کر متعارف کروایا جائے۔ مذہب کو پس پشت ڈال کر صرف انسانیت کے لیے کام پر زور دیا جائے۔ لیکن مذہب کے بغیر ادب تو کیا سیاست تک بیکار ہے۔

جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

ما بعد جدیدیت پر میں نے اسی لیے قلم اٹھایا کہ یہ جدیدیت کی نفی کرتی ہے۔ یہ حال میں رہتے ہوئے ماضی کو ساتھ لے کر چلتی ہوئی وقت ،زمانہ، مذہب اور

تاریخ کا گھیراو کرتی ہے۔ نثر نظم اور مصوری پر اس کا اطلاق احسن ہے۔ لیکن اس کی مزید آگے شاخیں ہیں اس کی تشکیل ردتشکیل اور نوآبادیات کی پالیسی کا عملی زندگی پر اطلاق میں ذاتی طور پر پسند نہیں کرتی جس میں مسلمان بستیاں توڑ کر یہودی بستیاں بسانا شامل ہے۔

ایک اچھے ادیب کو ان دونوں کے مابین فرق اور ان کی افادیت اور نقصانات کا علم ہوناچاہیئے۔ اس بات سے بھی آگاہ ہونا چاہیئے کہ ادب پر اس کا اطلاق کیسے ہو گا تبھی بہتر ادب تخلیق ہو سکتا ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ اب کئی ادبا ان موضوعات پر کام کر رہے ہیں اور دنیا کے شانہ بشانہ چل رہے ہیں۔ نیا ادب  بہت عمدگی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ مابعد جدیدیت کا ادب پر اطلاق ہونے کے باوجود نقاد اسے واضح نہیں کر پاتے۔ اس کے لیے ایک لائحہ عمل ترتیب دینے کی اشد ضرورت ہے۔ اللہ پاک مشرقی فلسفیوں کو اور دانشوروں کو ان موضوعات سے نبٹنے کی صلاحیتیں عطا فرما۔ اور سمجھ بوجھ میں اضافہ فرما۔ آمین

سوال۔۔ کیا آپکی نظر میں موجودہ ادب، قاری یا عام آدمی جو کہ سرسری مطالعہ کرتا ہے، کو اپیل کرتا ہے بالخصوص اردو ادب ۔۔

جی بالکل اپیل کرتا ہے خصوصی طور  پر تعلیم یافتہ طبقے کے لیے اردو ادب بہت زیادہ کشش رکھتا ہے۔

سوال۔۔ کیا وجہ ہے کے اردو ادب کا معیار اس لیول تک نہیں پہنچ پایا جہاں آج مغرب ہے حالانکہ ماضی میں اردو ادب اور ادباء نے اچھی خاصا عالمی لیول کا کام کیا مگر اب فقدان ۔۔

اردو کا ادیب کسی بھی لحاظ سے مغربی ادیب سے معیار میں کم نہیں ہے۔ لیکن اردو ادیب کو اس کا جائز مقام نہ ملنے کی سب کی بڑی وجہ فرقہ پرستی ہے۔ ہم فرقہ پرستی کا شکار ہو کر قابل ادیبوں اور شاعروں کو ان کے جائز مقام سے محروم رکھتے ہیں ۔ اس کے بہت برے اور منفی نتائج نکلتے ہیں ۔ انٹللیکچوئیل صدیوں میں پیدا ہوتا ہے جو سازگا ماحول نہ ملنے کی وجہ سے گمنامی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اور ہمیں مجبورا مغربی فلسفیوں اور انٹللیکچوئیلز پر ہی تکیہ کرنا پڑتا ہے۔

دوسری وجہ لوگوں میں حسد اور جلن کا پایا جانا ہے۔ مغرب میں قلم کے حوالے سے حسد اور جلن نہیں ہے۔ (وہاں بھی فرق برتا جاتا ہے لیکن صرف مسلمانوں کے ساتھ)۔ ایک اور بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم لاشعوری طور پر مغرب سے متاثر ہیں۔ ہم خود مغرب کو پروموٹ کرتے ہیں اور اپنے ادیبوں کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مغرب والے اپنے چھوٹے سے چھوٹے ادیب کو صرف ایک دو آرٹیکل کی بنیاد پر سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں ان کے حوالے اپنے مضامین میں دیتے ہیں۔ ہم بھی مغربی ادیبوں کے حوالوں کو معتبر جانتے ہیں اگر ان کا حوالہ نہ ہو تو ہمارے مقالے کو اتنی اہمیت نہیں ملتی جو اس کا حق ہوتا ہے۔

سوال۔۔ آپکی نظر میں ماضی و حال کے دو نام بطور بہترین افسانہ نگار  اور ناول نگار ۔۔ کس وجہ سے ۔۔

جواب: اشفاق احمد کے افسانے میرے لیے بہت کشش رکھتے ہیں۔ اسلوب، جذبات نگاری اور روانی کمال کی ہے۔ مستنصر حسین تارڑر بھی میرے پسندیدہ ادیب ہیں ۔ان کے دلچسپ پر مزاح سادہ اسلوب میں لکھے گئے سفر ناموں کا ایک اپنا ہی مزہ ہے۔ انتظار حسین بہت اچھے افسانہ نگار تھے۔

سوال۔۔ ہمارے ہاں فن افسانہ نگاری  کا خلاء پیدا ہو گیا ہے اسکی وجہ آپ ناقدین کو مانتے ہیں یا ادباء کو ۔ ناقدین کو اسلیے کے شاید وہ آج بھی نئے ادب کو قبول کرنے میں عار زرا جھجھک محسوس کرتے ہیں یا پھر افسانہ نگار کیونکہ ہمارے ہاں موضوعات کے چناؤ میں غلطی کر بیٹھتے ہیں ایسے موضوعات جنہیں پڑھ پڑھ قاری اکتا چکا ۔ یا پھر منتخب موضوع کو نبھانے میں ادیب غلطی کر بیٹھتا ہے ۔

جواب: میں نہیں سمجھتی کہ ایسا ہے۔ افسانے لکھے جا رہے ہیں۔ اور اچھے افسانے لکھے جا رہے ہیں اور موضوعات میں تنوع بھی ہے۔ جو اچھا نہیں لکھ پاتے انہیں رہنمائی اور وقت کی ضرورت ہے۔ نو عمر لکھاری رفتہ رفتہ پختگی حاصل کرتے ہیں۔ اس لیے انہیں وقت ضرور دینا چاہیئے۔ اور ایک اور اہم بات یہ کہ ہر تحریر شہ پارہ نہیں ہوتی۔ ایک ادیب کئی طرح کے افسانے مختلف موضوعات پر لکھتا ہے۔ ان میں سے ایک یا دو ہی شہرت کے دوام حاصل کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے باقی سب افسانے رد کر دئیے جائیں۔

نقاد ہمیشہ ادبی تحریر کو کھوٹے کھرے کے پیمانے پر پرکھ کر اس کے محاسن و معائب بیان کرتا ہے۔ معائب بیان کرنے کا مقصد ادیب کی اصلاح ہے اگر ادیب حیات ہے تو وہ اسی تخلیق میں اصلاح کر سکتا ہے اور آئندہ ایسی کسی غلطی کا ارتکاب نہیں کرتا جو قابل گرفت ہو۔ اور اگر ادیب دنیا میں نہیں تو اس کی تحریر کا تجزیہ پیش کرتا ہے جس سے قاری کو مدد ملتی ہے۔ اس لیے ادبی تخلیق میں کسی کجی کے لیے نقاد کو مورد الزام ٹھہرانا غلط ہے۔

سوال۔۔ آپکی نظر میں تنقید کا مطلب اور سب سے بہترین تنقیدی کام کس کا رہا ۔

جواب۔ تنقید کا مطلب کھوٹے اور کھرے کی پرکھ ہے۔ تنقید ایک عدسہ ہے۔ جو باریک بینی سے تخلیق کی خوبیوں اور خامیوں کا جائزہ لیتی ہے۔ اور طے کرتی ہے کہ اسلوب کے لحاظ سے اور موضوع و ٹریٹمنٹ کے لحاظ سے تحریر اچھی ہے یا بری۔ تنقید ایک تحریر کا ادبی مقام متعین کرنے میں ممد و معاون ثابت ہوتی ہے۔ میں نے اپنے مضمون "مابعدجدیدیت” میں مشرقی اور مغربی نقاد کے نام درج کئے تھے۔ اپنے مضمون کا لنک یہاں ایڈ کر رہی ہوں۔ تاکہ آپ سب کے نام تفصیل سے دیکھ سکیں۔

https://m.facebook.com/groups/1810859812479640?view=permalink&id=1936926346539652

سوال۔۔ مغربی ادب میں آپکی پسندیدہ شخصیات کے دو نام اور انکی تخلیقات یہ بھی بتائیں کیوں اور کس وجہ سے ۔

جواب۔ مجھے آرتھر کینن ڈائل کی کہانیاں بہت پسند ہیں خاص طور پر شرلاک ہوم۔ لیکن شرلاک ہوم سیریز کے علاوہ بھی اس کی شارٹ اسٹوریز بہت خوبصورت اور پراثر ہیں۔ اس کا انداز بیاں ذہن پہ ایک تاثر بلکہ ایک سوال چھوڑتا ہے۔ شیکسپیئر کے ڈرامے مجھے اچھے لگتے ہیں۔ بہت خوبصورت نظمیہ سلسلہ ہے۔

اور مجھے ایڈگر ایلن پو کی کہانیاں بہت پسند ہیں۔ وجہ یہ کہ دلچسپ ہوتی ہیں  یا شاید کوئی وجہ نہیں بس مجھے پسند ہیں شاید اس لیے۔ مسکراہٹ

سوال۔۔ اردو ادب میں افسانچہ۔ فلیش فکشن یا مائیکرو فکشن مطلب مختصر ترین کہانیوں کی گنجائش ہے کہ نہیں اگر ہے تو کیوں اگر نہیں تو کیوں ۔۔

جواب۔ بالکل گنجائش ہے بلکہ ان کے بغیر ادب نامکمل ہے۔ میں نے مائیکرو فکشن کی ترویج کے لیے "حروف ادب” کے پلیٹ فارم پر مائیکروفکشن کے ادبی مقابلے بھی کروائے ہیں ۔ طالب علموں کے لیے بھی ایک مقابلہ رکھا گیا تاکہ نئی نسل میں سے لکھنے والے ابھر کر سامنے آئیں اور مائیکروفکشن کی بھی ترویج ہو۔ مائیکرو فکشن پر میرا مضمون ہے جس میں مائیکروفکشن کی افادیت بیان کی گئی ہے۔ یہ مضمون کافی اخبارات اور رسائل میں بھی چھپ چکا ہے۔ یہاں پر اس کا لنک بھی دے رہی ہوں۔ مائیکروفکشن لکھنے کے شوقین افراد کو اسے ایک بار ضرور پڑھنا چاہیئے۔

https://m.facebook.com/groups/1810859812479640?view=permalink&id=1810890962476525

سوال۔ زندگی سے کیا چاہتی ہیں اگر مل گیا ہے تو مزید خواہش ۔۔

جواب۔ اللہ کا احسان ہے کہ اللہ اور رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد میرے بچے اور میرے شوہر میرا سب کچھ ہیں۔ میں انکی خوشیوں اور سلامتی کی دعائیں مانگتی ہوں۔ اپنے ملک پاکستان کی سلامتی اور ترقی کے لیے دعاگو ہوں۔ اور اردو کی ترویج اور ترقی چاہتی ہوں۔

سوال۔۔ محبت کی اہمیت اور مفہوم آپکی نظر میں ۔۔ آپکو کبھی محبت ہوئی ۔۔

جواب۔ محبت آفاقی جذبہ ہے۔ انسان محبت کی کئی جہتیں ساتھ لے کر چلتا ہے۔ لیکن ہر محبت قربانی مانگتی ہے اگر آپ میں قربانی کا جذبہ نہیں تو آپ کو کسی سے محبت نہیں۔ مجھے اپنے بچوں سے اپنے شوہر سے اپنی شاعری سے اور کاغذ اور قلم سے عشق ہے۔ جی مجھے بھی محبت ہوئی۔

سوال۔ اپنی نجی زندگی مطلب فیملی سے وابستہ دلچسب خوبصورت اور انمول واقعہ۔۔

جواب۔ ایسا کوئی خاص واقعہ اس وقت ذہن میں نہیں ہے۔

سوال۔۔ آپکی شخصیت چند ایسے پہلو جو عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہے ہمیشہ ۔۔

جواب۔ میری شخصیت کھلی کتاب کی طرح ہے۔  مجھے شطرنج کھیلنے کا بچپن سے شوق تھا میں اپنے بھائیوں کے ساتھ کرکٹ بھی کھیلتی تھی۔ اسکول میں بیس بال جو اس وقت اسکولوں میں راونڈر کہلاتا تھا کی ٹیم میں شامل تھی۔ گٹار اور کی بورڈ بجانے کا شوق تھا۔ گٹار بجانے کی اجازت ہی نہیں ملی۔

میں موت سے نہیں ڈرتی موت برحق ہے لیکن مجھے خدا کے سامنے پیش ہونے والے لمحے سے ڈر لگتا ہے خدا سے دعا ہے مجھے دائیں ہاتھ والوں کے ساتھ رکھے اور میری اور کل مومنین کی بخشش فرمائے۔ آمین۔

سوال۔ اپنے فالورز قارئین اور ادباء کے لیے پیغام ۔۔۔

جواب۔ میرا پیغام یہی ہے وہ قوم ہی زندہ قوم کہلاتی ہے جو اپنی قومی زبان اور ثقافت کی حفاظت کرتی ہے۔ دنیا میں سر اٹھا کر جینے کے لیے اپنی پہچان کو زندہ رکھیے۔ اللہ پاک پاکستان اور اردو کا حافظ و نگہبان رہے۔ آمین

ادبا کے لیے عرض ہے کہ قلم خدا کا عطیہ ہے اس کی ناموس کا خیال رکھیے۔ یہ فحاشی پھیلانے یا ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کے لیے نہیں ہے۔ جو کہ آج کل کچھ ادیبوں کا شیوہ ہے۔ اس کا صحیح استعمال کیجیے۔ زندگی بہت مختصر ہے اچھا لکھئے تاکہ آپ کے بعد آپ کی اچھی یادیں باقی رہیں۔

سوال۔ اردو لکھاری ڈاٹ کام اور میرے لیے کوئی خصوصی پیغام اگر دینا چاہیں تو ۔۔

جواب۔ اردو لکھاری ڈاٹ نے اردو کی ترویج و ترقی کے لیے مختلف شعبہ ادب سے جڑی شخصیات کے تعارف کا سلسلہ شروع کیا ہے جوکہ ایک احسن قدم ہے۔ یہ قارئین کو اپنے پسندیدہ ادبی شخصیات سے متعارف کروانے اور قریب لانے کا خوبصورت طریقہ ہے ۔ اور ادبی شخصیات کو ان کی حیات میں متعارف کروانا ان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے مترادف ہے جو کہ ایک بہت بڑی ادبی خدمت ہے اور قابل ستائش ہے۔ جہان اردو ادب کی پوری ٹیم اور خاص طور پر میرے چھوٹے پیارے سے بھائی زبیر پنہوارصاحب کی ادبی کاوشوں کو سلام۔ جن کی شبانہ روز محنت سے بہت سی ادبی شخصیات کو نزدیک سے جاننے کا موقع ملا۔

بہت بہت شکریہ

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

امین صدرالدین بھایانی۔۔۔ محمد زبیر مظہر پنوار

سوال ..آپ کا اصل اور قلمی نام ۔۔ جواب ۔۔ امین صدرالدین بھایانی سوال ۔۔ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے