سر ورق / کہانی / بھکاری … چھوی سکسینہ/عامر صدیقی

بھکاری … چھوی سکسینہ/عامر صدیقی

بھکاری

چھوی سکسینہ/عامر صدیقی

ہندی کہانی

…………….

”کہنے کو تو لوگ مجھے بھی بھکاری کہتے ہیں، پر میرے ایشٹ دےو کی سوں۔میں نے آج تک بھیک نہیں مانگی۔“

”بھگوان کے نام پہ کچھ دے دے بابا!“

”بھگوان تمہارے بال بچوں کو خوش رکھے!“

 اف کتنا شور مچا رہے ہیں یہ لوگ!

کبھی اپنے بے سرے راگوں سے، تو کبھی اپنے پیالے میں کھنکھناتے ان سکّوں سے!

نادان اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ قسمت میں روٹی ہوئی تبھی تو آج پیٹ کی آگ ٹھنڈی ہو گی؟ ورنہ میری طرح بھوک سے پیٹ میں مروڑ اٹھتے رہیں گے۔ پر کوئی جھانکنے تک نہ آوے گا۔ قسمت سے آگے اور وقت سے پہلے کسی کو کبھی کچھ ملا ہے بھلا؟ پھر بیکار میں رحم کی بھیک کیوں مانگنا؟

مجھے بھی اس خوبصورت مندر کے چبوترے پر پڑے ہوئے ایک عرصہ ہونے کو آیاہے۔ کب اور کیسے یہاں آیا، کچھ یاد نہیں۔ میرا نام کیا ہے یا کیا تھا، یہ بھی معلوم نہیں یا ذہن کے نہاں خانوں پر اگر زور ڈالوں تو اپنا نام”راجکمار“یاد آتا ہے !!مگر کسی کو بتاو ¿ں بھی تو کیسے؟کتنا مضائقہ خیز نظر آئے گا!

کہنے کو تو لوگ مجھے بھی بھکاری کہتے ہیں، پر میرے ایشٹ دیو کی سوں،میں نے آج تک بھیک نہیں مانگی۔ اور کیوں مانگو بھلا؟ کیوں اپنی پیاس سے تڑپتی ہوئی جِبوا کو تکلیف دوں؟ اگر بھگوان مجھے پیاسا ہی مارنا چاہتا ہو گا، توشفاف و تازگی بھرے پانی سے لبریز برتن بھی میرے گلے کو تر کرنے سے پہلے ٹوٹ ہی جاوے گا۔ پھر کیوں بیکار ہی گلا پھاڑنا۔

میں اپنے بوریے پرچپ چاپ دن بھر پڑا رہتا ہوں۔پنچھیوں کی چہچہاہٹ کے ساتھ جیسے ہی بھگوان کے بھگتوں کی آمدورفت شروع ہوتی ہے، ویسے ہی میرے دائیں بائیں بیٹھے میرے بھائی بند اپنے گلوں سے التجاﺅں کا آلاپ شروع کر دیتے ہیں اور کافی دیر تک بے چین نظروں سے ہر ایک یاتری کی توجہ اپنی بے چارگی پر کھینچنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ ان مورکھوں کو نجانے اتنی طاقت کہاں سے آجاتی ہے خالی پیٹ میں۔

مجھے دیکھو!نہ میں زبان ہلاتا ہوں اور نہ نظریں۔ بس آنکھیں موندے پڑا رہتا ہوں اور ان لوگوں سے زیادہ بٹور لیتا ہوں۔

لیکن ایسا بالکل بھی نہیں ہے کی میں سست یا کاہل ہوں۔ کتنی محنت سے میں اپنے چہرے پر درد بھرے جذبات لئے آنکھیں موندے، بیماری کا ناٹک کھیلتا ہوں۔ اتنا ہی کافی نہیں۔ گذشتہ اتوار مندر کی سیڑھیوں کے کنارے سے میرے کوڑھ سے سڑتے ہوئے دائیں پاو ¿ں میں جو چوٹ لگی تھی، اس کی بھی تو نمائش کرتا ہوں۔ زخم پر شہد کی مکھیوں نے ننگا ناچ مچا رکھا ہے، پر مجال ہے جو میں کبھی انہیں اڑا دوں۔ ارے بھائی ہاتھ ہلانے سے کیا حاصل ہوگا ،جب کوڑھ سے سڑتے اس زخم کی قسمت سے ،مجھے لوگوں کی رحم دلی کی وجہ سے دو وقت کی روٹی نصیب ہو جاتی ہے۔

روز کی طرح آج بھی میرے حصے میںان بھکاریوں سے کہیں زیادہ سکے اور کھانا آیا ہے۔ یقینا وہ سب میری کامیابی اورخوشحالی دیکھ کے جل رہا ہوں گے ۔ آج تو رات تک کے کھانے کا انتظام ہو گیا۔ اب کچھ دیر چین کی نیندلینے کا سوچ رہا ہوں، پر کمبخت ان بھکاریوں کے سرکش رویے رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ویسے اب اتنا کیا سوچنا۔ اگر نصیب میں سکون بھری نیند لکھی ہوگی تو کھلی آنکھوں سے بھی بڑی آسانی سے پوری ہو جاوے گی۔

میں کتنی دیر سے سپنوں کی وادیوں میں گھومنے پھرنے میں لگا ہوا تھا ،یہ تو یاد نہیں، لیکن جیسے ہی سپنوں کی ڈور ٹوٹی، مندر کی آب و ہوا پر دھیان گیا۔ خوشبودار اور معطرماحول ، بھگتوں کی چہل قدمی بھی آج کچھ زیادہ ہی ہے۔ لگتا ہے آج کوئی تہوار ہے۔ آج تو دعوت کا دن ہے۔ میرے بھکاری بھائی بندوں کو بھی آج رحم کی التجائیں زیادہ بلند نہیں کرنی پڑیں گی۔ بلکہ آج تو کھانے میں چناﺅ کے اختیار بھی مل رہے ہیں، بوندی کے لڈو، پوری کچوری،کھیر، وغیرہ۔ آج لگتا ہے واقعی اپنے نام کو صحیح ثابت کا ایک موقع ملا ہے۔” راجکمار“۔۔۔آہا۔ کتنا خوشیوں بھرا ہوا ہے یہ احساس۔ نہ ہاتھ ہلانا، نہ ہی زبان۔ یہاں تک کہ دماغ بھی لڑانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ نجانے کیوں میرے بھکاری بھائی آج بھی محنت کر رہے ہیں؟ شاید ان کی عادت ہی خراب ہوگئی ہے۔ جب بھی کوئی شریف آدمی ان کے کٹوروں میں کچھ دان دیتا ہے، وہ بار بار ہاتھ اٹھاکر،زبان ہلا کر انہیں دعائیں دیتے جاتے ہیں۔

 ” بھگوان تمہیں خوش رکھے بچہ!“ اب انہیں یہ کون سمجھائے کے بھگوان تو انہیں خوشیاں دے ہی رہا ہے، تبھی تو وہ وہاں اور ہم یہاں ہیں ۔ فالتو کی زبان اور ہاتھوں کی کسرت سے خود کو کیوں تکلیف دینا بھلا؟

اب دیکھئے نا! لمحے بھر پہلے کا مزاحیہ واقعہ، ایک عورت ہاتھ میں پرشاد کی پوری اور حلوالئے میری ہی جانب چلی آ رہی تھی۔ مجھے دینے کے ارادے سے اس نے قدم آگے تو بڑھائے، پر میرے میلے کپڑوں اور زخم سے اٹھتی تیز بو سے شاید وہ وہیں رک گئی اور بڑی کوشش سے اس نے میرے جتنے پاس ہو سکتا تھا اتنے پاس وہ دونا رکھا اور چلی گئی۔ستم ظریفی تو دیکھئے! میرے پیٹ میں بھوک کی آگ دہک رہی ہے اور کھانا ہے پورے ایک بالشت کے فاصلے پر۔ میری قسمت مجھ تک آتے آتے رہ گئی۔ اب کون زحمت کرکے اٹھ کر بیٹھے اور بالشت بھر فاصلے کے لئے ہاتھ بڑھائے۔ نہیں! نہیں! میں سست نہیں ہوں! وہ نوالہ کسی اور کا ہی ہوگا، تبھی تو میرے تک نہ پہنچا۔

اور دیکھو نا میں نے صحیح ہی سوچا تھا۔ میرے سامنے والا وہ لنگڑا بھکاری لنگڑاتے ہوئے آگے بڑھا اور لپک کر وہ دونا ہاتھ میں لے کر اپنی دعوت کے مزے لینے لگا۔

مجھ میں صبر کی کوئی کمی نہیں ہے ۔ میں انتظار کر لوں گا، پر ہاتھ نہیں پھےلاﺅںگا!

…………….

کافی وقت گزر گیا ہے، پر روزوشب ایک سا ہے ، ہاں اگر کچھ بدلا ہے تو صرف موسم۔ دسمبر کی ایک سرد صبح ہے آج۔ سوریادےو گذشتہ کئی روز سے روٹھے ہی بیٹھے ہیں۔ اس بورے سے کام نہیں بنتا اب تو۔ کچھ اوڑھنے کو مل جاتا تو ٹھٹھرن کچھ کم ہوتی۔ سنا ہے آج کوئی دیالو انسان مندر میں غریبوں کوکمبل بٹوا رہے ہیں۔ مندر کی سیڑھیاں اترتے ہوئے وہ دائیں بائیں بیٹھے بھکاریوں کو بھی کمبل دان میں دے رہے ہیں۔

کاش میں آج سیڑھیاں سے اٹھ کر چار قدم کے فاصلے پر بنے اس چبوترے پر نہ آیا ہوتا تو میرا بھی کچھ بھلا ہو جاتا۔ اب یہاں ااپنے بورے پر ٹھٹھرتا ہوا سا پڑا ہوں۔ اگرٹھنڈ سے بچنا میرے نصیب میں ہوگا، تو اس دیالو انسان کی نظر خود بخود مجھ پر پڑے گی اور ایک کمبل مجھے بھی اوڑھا دیا جائے گا، ورنہ تو قطار میں بھی شامل ہونے پر میرے باری آتے آتے کمبل کم ہی پڑ جائیں گے۔ اب دیکھو نا ۔۔۔ وہ کانا چھگن اور مریل رگھو بھی تو مایوسی بھرے چہرے لئے رہ گئے ہیں خالی ہاتھ۔ انہیں بھی توکمبل نہیں مل پایا۔ لگتا ہے ان کی اور میری قسمت ایک ہی سیاہی سے لکھی گئی ہے، وہ بھی آج میری ہی طرح سرد ی سے جھگڑتے ہوئے رات گزاریں گے۔

بھوکے پیاسے پڑے پڑے صبح سے شام ہو گئی ہے اور سڑکوں پر بھی اب سناٹا ہونے لگا ہے۔

ٹھنڈ بڑھتی جا رہی ہے اور سردی اتنی لگ رہی ہے کہ بھوک پیاس کچھ محسوس نہیں ہو رہی۔ اب تو زندہ رہنے کی امید میں میری نظریں آس پاس تیزی سے بھٹک رہی ہیں۔ کچھ ایسا تلاش کرنے کے لئے جو میں اوڑھ سکوں۔

”آہا۔۔۔یہ کیا ہے، نیلا نیلا؟“

آنکھوں پر ذرا زور ڈالا تو دیکھا کہ مندر کے باہر پھولوں کی دکان لگانے والے نے اپنے ٹھیلے پر بچھنے والی اس نیلی پلاسٹک کی شیٹ کو نیچے پھینک دیا ہے ۔ شاید کہیں سے پھٹ گئی ہوگی۔

اس کا نیلا رنگ اتنا دل نشین ہے کہ اسے اوڑھ کر تو ایسا لگے گا گویا سارا امبر ہی اوڑھ لیا ہو۔

وہ پلاسٹک کی شیٹ اتنی تو بڑی ہو گی کی مجھے پورا ڈھک لے؟ میں اپنے بورے پر بیٹھا اسے نظروں سے ناپ تول رہا ہوں۔

کیا فائدہ؟ اتنی دور اس ٹھنڈ میں اٹھ کر جاو ¿ں اور وہ پلاسٹک کی شیٹ پھر کسی کام کی ہی نہ نکلے تو؟

بیکار میں کیوں برباد کروں اپنی اس بچی کھچی توانائی کو؟

 ویسے پلاسٹک کی شیٹ ہے تو بڑی اور اس کے نیچے چھپ کے ہوا بھی نہیں۔۔۔۔

ارے! یہ کیا! وہ نیلے امبر سی پلاسٹک کی شیٹ زمین سے اٹھ کر چار ہاتھوں میں آ گئی۔

ارے یہ ہاتھ تو چھگن اور رگھو کے ہیں، جو فخریہ مسکان لئے بڑے اعتماد سے اس پلاسٹک کی شیٹ کو لے کر زمین پر لیٹ گئے ہیں اور اس کو اوڑھ کر سونے جا رہے ہیں۔

ہائے ری میری قسمت! آج تو یقینا میرایم لوک سے بلاوا آ جاوے گا! رات گہری ہوتی جا رہی ہے اور آس پاس جلائے سبھی الاو ¿ بھی ٹھنڈے ہونے لگے ہیں۔

 اب نیند آئے گی یا سیدھے موت،کون جانے ؟

…………….

صبح ہو گئی ہے شاید! میری نیند تو ٹوٹ گئی ہے، پر میری آنکھیں نہیں کھل پارہیں ہیں۔ میرے کانوں میں کچھ شور سا سنائی دے رہا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے کوئی بھیڑ میرے پاس امڈ آئی ہو۔ جسم ہونے کا احساس تو جیسے معدوم ہوگیا ہے۔ ہاتھ پیر تک نہیں ہل رہے میرے۔ ٹھنڈ سے جکڑ گئے ہیں۔ لوگوں کے بحث کا موضوع کیا ہے ،یہ مجھے صاف سنائی نہیں دے رہا۔ میرے سوچنے ،سمجھنے اور محسوس کرنے کی طاقت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ کسی نے مجھے ہاتھ لگایا بس اس سے زیادہ اور کچھ نہیں معلوم ہوامیرے حواسوںکو اور اس شورو غل کے باوجود بھی میری آنکھوں کے سامنے چھا گیا ہے ایک گہرا سیاہ سناٹا!

کافی دیر کی بیہوشی کے بعد جب میں ہوش میں آیا ،تواپنے نیچے جو محسوس ہوا وہ نہ تو زمین جیسا تھا اور نہ ہی میرے اُس بورے جیسا۔ کچھ کھردرا سا تھا۔ ہاتھ پاو ¿ں اب بھی نہیں چل رہے تھے اور آنکھیں اب بھی نہیں کھل رہی تھیں۔ پر دل کی رکی سی دھڑکن نے اب کچھ رفتار پکڑلی تھی ہے۔ میں شاید ایک پورے موسم ہی بیہوش پڑا تھا۔ کیونکہ اب جو مجھے محسوس ہو رہا ہے وہ گرمیوں کی بھیانک شکل ہے۔

میرے کانوں میں پڑنے والے جملے، اب مجھے صاف سنائی دے رہے ہیں۔

”انسان کی زندگی تو فانی ہے۔ لیکن آتما امر ہے۔بھگوان اس کی آتما کو شانتی دے!“

 میں چونک پڑا !! مجھے اب جا کر معلوم ہوا کہ میں اپنی ہی چتا پر زندہ پڑا ہوا ہوں۔ پر ہاتھ پیر ہلانے کی طاقت اب بھی مجھ میں نہ تھی۔ ہاں جبوا کچھ ساتھ دے سکتی تھی۔ پر ساری خواہشات مل ہی گئیں ہیں۔اب کون بچائے اس فانی جسم کو؟ کون موقع دے اپنے آپ کو اس تباہ حال زندگی کو دوبارہ جینے کا؟ اگر مرنا نہ ہوتا تو آج یوں چتا پر تو نہ ہوتا! کیا کروں گا اس ادھ جلے بدن کا؟ اب تو یہ اور بھی تکلیف ہی دے گا! کیا پتہ اس فانی جسم کو دان کرکے اگلے جنم میں حقیقی ”راجکمار“ بن ہی جاو ¿ں؟ پھر تو ہاتھ پیربھی نہ ہلاناہوں گے اور ساری خواہشیں خود بخود پوری ہو جایا کریں گی۔

خود کو بچانے کے کی کوشش کر تو سکتا تھا اگر چاہتا۔ ویسے جانے دو۔ وقت پورا ہی ہو گیا ہوگا، تبھی تو شمشان تک آ پہنچا ہوں۔

ستم ظریفی تو دیکھئے کہ ان آخری پلوں میں میری آنکھیں آخر کار کھل ہی گئیں اور کیا دیکھنے کو ملا؟۔اپنا خاتمہ !!

٭٭٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

کچھ کہنا تھا تم سے ۔۔۔ بِینوبسواس/عامر صدیقی

کچھ کہنا تھا تم سے بِینوبسواس/عامر صدیقی ہندی کہانی …………….  ویدیہی کا من بہت اتھل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے