سر ورق / جہان اردو ادب / خالد جان۔ محمد زبیر مظہر پنوار

خالد جان۔ محمد زبیر مظہر پنوار

سوال ۔۔ آپ کا اصل اور قلمی نام ۔۔

جواب۔۔ میرا اصل نام خالد تھا لیکن پھر کسی اور کے کہنے پر خالد جان کر دیا پلیز اب یہ نہ پوچھنا کہ کس کے کہنے پر

سوال ۔ اپنی تعلیمی قابلیت اور خاندانی پس منظر کے متعلق کچھ بتائیں ۔

جواب ۔۔ میرے خاندان میں کوئی پڑھا لکھا نہیں ہیں یہ سعادت صرف میرے ہی سر جاتا ہے  میں اب بھی ایک طالب علم ہوں.

سوال ۔۔ ادب سے لگاؤ کی خاص وجہ اور آپ کو کب ایسا لگا کہ آپکے اندر ایک تخلیقکار موجود ہے جو بہت سی باتیں کہنا لکھنا چاہتا ہے ۔

جواب ۔۔ جب میری پہلی ملاقات ہاشم ندیم صاحب سے ہوئی تو ان سے بہت متاثر ہوا .. اور جب فارس مغل صاحب نے حوصلہ افزائی کیا تو میں مزید موٹیویٹ ہوا اور میں ان دونوں کا شکر گزار ہوں

سوال ۔۔ پہلی کہانی کب لکھی اور کس مجلہ یا اخبار میں شائع ہوئی ۔

جواب ۔۔ پہلی کہانی یاد نہیں کہ کب لکھی البتہ سات رنگ میگزین میں چھپی تھی

سوال ۔۔ ہمارے معاشرے کا چونکہ ماحول ایسا ہے کہ انٹلیکچوئل طبقے کو اہمیت کم دی جاتی ہے ۔۔ اور آپ تو ماشاءاللہ سے انٹلیکچوئل طبقہ کے سب سے حساس ترین لوگوں میں سے ہیں۔ یقینا ابتدائی دنوں   میں ” فیملی دوستوں اور محلوں داروں سے کچھ نہ کچھ عجیب سننے کو ملا ہو گا خاص کر آپ کے لیے پہلی دو چار کہانیوں کے بعد لوگوں کا ری ایکشن کیا تھا۔

جواب۔۔ گھر والوں نے تو بھر پور ساتھ دیا لیکن اکثر دوستوں نے نا امید کیا کہ میری کہانیاں کوئی نہیں پڑیگا لیکن میں مایوس نہیں ہوا اور مزید محنت کرتا رہا اور آج بھی کررہا ہوں

سوال ۔۔ صیح معنوں میں آپکی کونسی تحریر یا تخلیق آپکی پہچان بنی جس نے آپکو عام عوام میں سے اٹھا کر علمی و ادبی طبقہ میں متعارف کروایا ۔

جواب۔۔ مجھے متعارف کرنے میں تھوڑی بہت  میرے دو افسانے "ظالم دنیا” اور "احساس ” اور زیادہ متعارف میری ٹیلی فلم کا سکرپٹ پہلی نظر نے کیا

سوال۔۔آپ کےادباء میں سے بہترین دوست جو رائیٹر بننے کے بعد بنے ہوں اور آپکی ہمیشہ رہنمائی کی ہو ۔۔

جواب ۔۔ ہاشم ندیم صاحب اور فارس مغل صاحب میرے استاد اور دوست بھی ہیں اور میرا ہڑ مشکل گھڑی میں ساتھ دینے والے طاہر صاحب اور حیدر صاحب

سوال۔۔ آپکی نظر میں ادب کی ہمارے معاشرے میں گنجائش کہاں تک ہے اور آج کا قاری ادیب سے کیا چاہتا ہے ۔

جواب۔۔میری رائے میں ادب معاشرے میں تبدل و تغیر کا میرِ کارواں ہے اورآج کا قاری ادیب سے اس’ احساسِ ذمہ داری‘ کا متقاضی ہے جس کے بعد سماج میں مثبت تبدیلیاں رونما ہوسکیں۔

سوال۔۔ کسی زمانے میں ترقی پسند ادباء تحریک کا جنم ہوا تھا ۔ کیا اس سے اردو ادب کا فائدہ ہوا یا نقصان ۔۔

جواب۔۔ کچھ فائدہ بھی ہوا اور کچھ نقصان بھی اور منٹو صاحب کو تو کوئی پسند ہی نہیں کرتا تھا کیونکہ وہ ہمیشہ سچ لکھتے تھے

سوال۔۔ مغرب میں ادب پہ جدیدیت مابعدجدیت کا نظریہ بہت سٹرونگ چھاپ چھوڑ کر گیا اسکے اثرات کیا نکلے ۔ اور ہمارے ہاں کا ادیب اسے قبول کر پایا یا نہیں یا پھر وہ آج بھی پچاس سال پیچھے کھڑا ہے ۔

جواب ۔۔ ہمارے ادباء بھی کسی سے کم نہیں ہیں البتہ محنت جاری ہیں اور انشاء الللہ محنت ضرور رنگ لائیگا

سوال۔۔ کیا آپکی نظر میں جیسا ادب آج تخلیق ہو رہا ہے وہ قاری یا عام آدمی جو کہ سرسری مطالعہ کرتا ہے اس کو اپیل کرتا ہے ..

جواب۔۔ دراصل بات یہ ہے کہ آجکل کے قارئین کتاب پڑھنے کے بجائے سارادن فیسبک ہی یوز کرتے ہیں … علم خود حاصل نہیں ہوتا اسے انسانوں اور کتابوں سے چیننا پڑتا ہیں

سوال۔۔ کیا وجہ ہے کے اردو ادب کا معیار اس لیول تک نہیں پہنچ پایا جہاں آج مغرب ہے حالانکہ ماضی میں اردو ادب اور ادباء نے اچھا خاصا عالمی لیول کا کام کیا مگر اب فقدان کیوں ۔۔

جواب۔۔ کیونکہ ہم اپنی قومی زبان اردو کہ بجائے زیادہ انگلش پر توجہ دے رہےہیں اور یہی وجہ ہے اردو ادب کے فقدان کا

سوال۔۔ آپکی نظر میں ماضی و حال کے دو نام بطور بہترین افسانہ نگار  اور ناول نگار ۔۔ کس وجہ سے ۔۔

جواب۔۔ فارس مغل صاحب اور ہاشم ندیم صاحب جوکہ بہت کم لکتھے ہیں لیکن جب بھی لکھتے ہیں تو ان کی تحریریں دل چو لینی والی ہوتی ہیں

سوال۔۔ ہمارے ہاں فن افسانہ نگاری  کا خلاء پیدا ہو گیا ہے اسکی وجہ آپ ناقدین کو مانتے ہیں یا ادباء کو ۔ ناقدین کو اسلیے کے شاید وہ آج بھی نئے ادب کو قبول کرنے میں عار مطلب زرا جھجھک محسوس کرتے ہیں یا پھر افسانہ نگار کیونکہ ہمارے ہاں موضوعات کے چناؤ میں غلطی کر بیٹھتے ہیں ایسے موضوعات جنہیں پڑھ پڑھ قاری اکتا چکا ۔ یا پھر منتخب موضوع کو نبھانے میں ادیب غلطی کر بیٹھتا ہے ۔

جواب۔۔ میرا تو یہی کہنا ہے کہ ہر نئے ادیب کو ایک بار ضرور چانس دینا چاہیئے اور ادباء سے میری یہی گزارش ہے کہ وہ غربت کی موضوعات پر زیادہ لکھے

سوال۔۔ آپکی نظر میں تنقید کا مطلب اور سب سے بہترین تنقیدی کام کس کا رہا ۔

جواب۔۔ تنقید کا تعلق تخلیق سے ہے ادب پاروں سے حاصل کردہ نتائج پر فنی تخلیقات ہی تنقیدی اصول کی بنیاد ہے مگر چونکہ تخلیق اپنے ساتھ نئے رحجانات اور معیار لے کر آتی ہے اس لیئے میری رائے میں تنقید کے رائج اصولوں کو وقت کے ساتھ بدلنے کی ضرورت ہے نقاد کا ایک ہی نمبر کے چشمے سے ساری زندگی تخلیقات کو پرکھنا درست نہیں ہے۔

سوال۔۔ مغربی ادب میں آپکی پسندیدہ شخصیات کے دو نام اور انکی تخلیقات یہ بھی بتائیں کیوں اور کس وجہ سے ۔۔

جواب۔۔ کوئی نہیں ہے فل وقت

سوال۔۔ اردو ادب میں افسانچہ ۔ فلیش فکشن یا مائیکرو فکشن مطلب مختصر ترین کہانیوں کی گنجائش ہے کہ نہیں اگر ہے تو کیوں اگر نہیں تو کیوں ۔

جواب۔۔ میری رائے میں تمام جدید تجربات کو آزمانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

سوال۔۔ زندگی سے کیا چاہتی ہیں اگر مل گیا ہے تو مزید خواہش ۔۔

جواب۔۔ جو خواہش ہے وہ شاید کھبی بھی پوری نہیں ہو پائیگی

سوال۔۔ محبت کی اہمیت اور مفہوم آپکی نظر میں ۔۔ اور کیا آپکو کبھی محبت ہوئی ۔۔

جواب۔۔ محبت تو ہوئی ہے لیکن جس سے ہوئی وہ تو محبت کے ع سے بھی واقف نہیں تھی

سوال ۔۔ اپنی نجی زندگی مطلب فیملی سے وابستہ دلچسب خوبصورت اور انمول واقعہ ۔۔

جواب۔۔ واقعات تو بہت ہیں لیکن اس وقت یاد نہیں آرہےہیں

سوال۔۔ آپکی شخصیت کے چند ایسے پہلو جو عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہے ہمیشہ ۔۔

جواب۔۔ میری محبت کے بارے میں کسی کو بھی نہیں پتا اور شاید اب سب جان جاہینگے

سوال۔۔ اپنے فالورز قارئین اور ادباء کے لیے پیغام ۔۔۔

جواب۔۔  یہی کہنا چاہونگا کہ کہ کتاب اور قلم سے دوستی کرے

سوال۔۔ اردو لکھاری ڈاٹ کام اور میرے لیے کوئی خصوصی پیغام اگر دینا چاہیں تو ۔

جواب۔۔ خود پر بھروسہ رکھے اور محنت کرتے رہیں اور آ میرے استاد محترم فارس مغل صاحب کا ناول سوسال وفا ضرور پڑھے تاکہ آپ لوگوں کے علم میں کچھ اضافہ ہو۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

امین صدرالدین بھایانی۔۔۔ محمد زبیر مظہر پنوار

سوال ..آپ کا اصل اور قلمی نام ۔۔ جواب ۔۔ امین صدرالدین بھایانی سوال ۔۔ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے