سر ورق / مضامین / زبیرپنوار کے افسانے تاریخ کا تنقیدی و فکری جائزہ۔۔ باسط آذر

زبیرپنوار کے افسانے تاریخ کا تنقیدی و فکری جائزہ۔۔ باسط آذر

تحریر ۔۔ باسط آزر ۔۔ چنیوٹ ۔ پاکستان

زبیرپنوار کے افسانے تاریخ کا تنقیدی و فکری جائزہ

تاریخ زبیر مظہر پنوار کا ایک فکر ی  بنیاد پر استوار افسانہ ہے جس میں انسان اور علم کے درمیان تعلق کو اس کی معاشی اور سیاسی ترقی کے تناظر میں پیش کیا گیا ہے ۔ اس افسانہ میں جو خیالات اور افکار متن میں شامل ہونے کے باوجود بیانیہ میں موجود نہیں ۔ وہ انسان کی منفی روش ، علم اور طاقت کے  مابین تعلق ، انسان کا انسان کے ساتھ حیوانی سطح پہ تعلق کہے جا سکتے ہیں ۔

اس کہانی کو عام بیانیہ کی سطح سے بلند کرنے کے لیے مختلف علامات کو برتا گیا ہے جن میں ” ہوا میں معلق عمارتیں ” جو کہ انسان کی مٹی اور بنیاد  سے انحراف کا عندیہ دیتی ہے ، عمارتیں جو ثقافت اور تہذیب کا جنم ہیں ، پناہ گاہیں ہیں ، خاندان کی اکائی بنانے میں اہم ترین ہیں خواہ وہ غار کی عمارت ہو ، جھونپڑی یا کسی بھی قسم کا گھر ۔ انسان اپنی رہائش میں تبدیلی کے ساتھ ہی معاشرتی ترقی اور تبدیلی کو واضح کرتا آیا ہے ۔ یہی انسان میں آرٹ کو بھی نمایاں کرتی ہیں اور اس کی بقا کی جبلت کی طرف بھی اشارہ کرتی ہیں ۔

گویا عمارت کا ہوا میں معلق ہونا ہر قسم کے تحفظ اور جبلت سے انحراف اور اس کے خاتمے کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔

"تحسین ” یہ کردار بذات خود ایک علامت ہے جیسا کہ افسانے میں اس کا کردار ایک سپلٹ پرسنیلٹی کی صورت کو پیش کرتا ہے ۔ گویا تحسین کہانی بتانے والے کی ہی ایک ذہنی حالت ہے جس میں وہ ماضی میں ہونے والے واقعات اور انسان کی گم گشتہ تاریخ کو یاد رکھے ہوئے ہے ۔ یہاں ایک نفسیاتی نظریہ جو کہ جبر کو مہمیز کیے دیتا ہے استعمال کیا گیا ہے جس کو جینیاتی میمری کا نظریہ کہتے ہیں ۔ اس نظریہ کو پیش کرنے والوں میں کارل جنگ جیسے ماہر نفسیات دان شامل ہیں اور وہی اس کا پہلا پیش کار بھی کہا جاتا ہے ۔اس نظریہ کی رو سے انسان میں اپنے اجداد کے جینز کے ذریعے ان کی زندگی میں ہونے والے تجربات اور نمایاں تبدیلیاں محفوظ ہوتی ہیں ۔ یہیں اس عظیم تغیر میں ایک حد کا ادراک بھی ہوتا ہے جو کہ انسان کے جینز کی بنیاد پر ہی اس کا نئی شکل میں ڈھالے جانا سامنے آتا ہے گو کہ اب زمین نہیں مگر زمین کی یاد اور اس کے تجربات اب بھی جینز میں موجود ہیں ۔

” فطرت ” بھی یہاں علامت کے طور پر سامنے آ رہی ہے جس میں انسان اور زمین کی فطرت کے ساتھ انسان میں ایسی تخلیقی صلاحیتیں پیدا ہونے کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے  جو کہ انسان کے خدا کے نائب ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہیں مگر یہ نائبیت اور اس کا رجحان خدا کے مخالف جا رہا ہے ۔

"تاریخ ” افسانہ کا عنوان بھی ہے اور علامت بھی ۔ تاریخ انسان کے اندر موجود ماضی کا ثبوت ہے ۔یہی تاریخ اس کو انسان کے ہاتھوں انسان اور دنیا کی تباہی کے بارے آگاہ کرتی ہے اور اس کے اسباب کو یاد کرواتی ہے ۔ تاریخ یہاں ایک محرک بھی بنتی ہے جو کہ اپنی شناخت کے معانی میں بھی ڈھلتی ہے ۔ اس انسان کی شناخت کے لیے جو کہ اب انسان کے جینز کے ساتھ اس کی ساخت میں تبدیلی کر کے کچھ اور بنا دیا گیا ہے ۔ جسے سائی بورگ جیسی کوئی حالت سمجھا جا سکتا ہے۔

” زمین ” زمین یہاں جنت کی دوبارہ تخلیق کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔ اس انسان کو دوبارہ زمین جیسا ماحول تخلیق کرنا ہے جس کے سبب اب وہ خیالات جو اسے جنت سے منسوب لگتے تھے اب زمین اور اس کے ماحول کی صورت میں ستا رہے ہیں ۔ یعنی ایک نئے مذہب کا جنم جو کہ انسان کے ہاتھوں ہونے جا رہا ہو ۔

” فنا ” ہونا بھی فنا ہونا نہیں ظاہر ہوتا مگر اس کے جسم سے حیات پھوٹ رہی ہے ۔ یہی انسان کی تاریخ ہے ایک فرد کی موت انسان کی موت نہیں یہاں فنا بڑھوتری اور حیات میں ڈھل کر نئے معانی لے رہی ہے ۔ جیسا کہ کچھ انسانوں نے اپنی نسل کو بڑھایا اور کم اشجار والی جگہ پر نئے اشجار اگائے ۔  یہاں اسی فنا سے ” کن ” کے سوتے پھوٹتے محسوس ہوتے ہیں جو کہ اس کنجھل دار علامت کو جو ایک تصور کا روپ دھار لیتی ہے ایک بڑی الجھن میں لے جا کر مذہب کے پیرائے میں ڈھال دیتی ہے ۔

” روشنائی ” یہاں تنوع اور منفی بیانات  کی علامت بن رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ مصنوعی طرز اظہارکی طرف اشارہ کرتی ہے ۔ روشنائی ایک ایسے جھوٹ کے معانی لیتی ہے جس کو سچ بنا کر پیش کرنے سے ایسے اختلافات جنم لیتے رہے جو کہ تباہی پر ختم ہوئے ۔ یہاں روشنائی کو عورت کے ساتھ تشبیہہ دینا اس کی ایک نہج کو علامت سے نکالتے ہوئے ایک منفی بیانیے کو بھی جنم دیتا ہے جسے افسانہ میں کجی بھی کہا جا سکتا ہے کیونکہ عورت کے بارے یہ بیانیہ ایک انسانی تاریخ کا واقعہ کہا جا سکتا ہے اس تاریخ کا جس میں ایک عرصہ تک عورت کو ایسا سمجھا جاتا رہا مگر بیانِ افسانہ تاریخ کے تیسرے دور میں  موجود ہے ۔

افسانہ میں کچھ خیالات و تصورات کو مرکزی کہا جا سکتا ہے جن میں ” جبر ، انسان پر کنٹرول ، ذہنی اور دماغی تصورات پر سائنسی طور پر ہونے والا کام اور انسان کا انسان سے حیوانی سطح پر تعلق ” بنیادی اہمیت رکھتے ہیں ۔

اس نئی دنیا میں انسان کے احساسات تک کسی کی رسائی ہے۔ انسان نے طاقت کے بل بوتے پر ہمیشہ حیوانات پر تسلط رکھا اور اسے اپنے مفاد کے لیے برتا ۔ پالتو حیوانات اپنے مالک کی غلامی کو جائز سمجھتے ہوئے  اس کے حکم کے تابع رہے ہیں اور کچھ حیوانات جن سے کسی بھی وقت خطرہ محسوس ہوتا رہا انہیں ختم کیا جاتا رہا ہے ۔ تاریخ کے اس تیسرے دور میں جو کہ زمینی دور کے بعد آنے والے تحسین کے کردار کی یاداشتوں کا دور ختم ہونے کے بعد آیا ہے ، انسان سے ویسا ہی تعلق بنا لیا گیا ہے جس میں کچھ حاکم دوسرے انسان نما انسانوں یا افراد پر کلی اثر رکھتے ہیں ۔ ان کی سوچ اور خیالات تک اس کی دسترس سے دور نہیں ۔یہ جبر کی ایک انتہائی شکل کہی جا سکتی ہے مگر اس جبر میں بھی انسان جو کہ لافانی زندگی مگر محکومیت سے فرار کا خواہشمند ہے اس میں بغاوت پر اتر آیا ہے اور اس کا سبب زمین پر موجود اس کی تاریخ اور اس کا ماضی ہے ۔ یہاں زمین ایک مرتبہ پھر آزادی کے تصور میں ڈھلی سامنے آتی ہے یعنی زمین سے نکلنا آزادی کے خیال کی نفی ہے ۔ گویا جنت یا دوزخ بھی شاید غلامی کی اشکا ل ہوں اگر وہ انسان کے ہاتھوں بنائی جائیں ۔

انسان محبت کے تصور کے بغیر نہیں رہ سکتا اگر اس میں تمام تبدیلیاں کر بھی دی جائیں تو یہ محبت اور زمین کی کشش اس کے جینز کا حصہ بن چکی ہے اس کو ختم نہیں کیا جا سکتا ۔

سائنس کا انسانی ذہن اور دماغ تک تصرف جس واہمے کو جنم دے رہا ہے وہ اس قدر بے جا بھی نہیں اسی کے امکانات اس افسانے کو جنم دینے کے اہم محرکات کی صورت سامنے آ رہے ہیں ۔

انہی محرکات اور افسانے پر بات کرتے ہوئے افسانے میں موجود کچھ مسائل کی طرف اشارہ کرنا بھی لازم ہے ۔ ان میں سب سے اہم مسئلہ انبیا کے نام کے ساتھ علیہ السلام کے الفاظ کا استعمال جو کہ مذہبی طور پر تو جائز ہے مگر ایک ایسے کردار کی زبان سے جس کو معلوم ہے کہ مذاہب انسان نے خود گھڑے تھے اور وہ قبائل کی طرح قصہ پارینہ بن چکے ہوں ، آدم فقط آدم کے طور پر لکھا جانا چاہیے اور بیان ہونا چاہیے تھا ۔

دوسری بات زبان کا مذاہب کے بعد ایجاد ہونے کا بیان ہے جو کہ غلط ہے ۔ تیسری بات روشنائی کو جھوٹ ، تصنع ، بناوٹ اور فساد کی صورت پیش کرتے ہوئے اس کا عورت کے ساتھ یا اس کے روپ میں پیش کرنا معاشرتی منفیت یا سٹریو ٹائپ کا افسانے میں لانا ہے جس کی متن اجازت نہیں دیتا ۔

افسانے کی سب سے اہم بات اور اس کا مرکزی خیال مشیل فوکالٹ کے تصور ” علم اور قوت ” کی صورت میں پیش ہو رہا ہے ۔ انسانی ترقی اس کے علم میں اضافہ کے مرہون منت تھی اور رہے گی مگر اسی علم کو بقول فوکالٹ قوت سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا دونوں ایک ہی سکہ کے  دو رخ ہیں ۔ یہاں اسی قوت کے بل بوتے پر جو کہ علم کی وجہ سے ہے یا دوسرے رخ سے در حقیقت علم ہی ہے ، انسانوں کو جانوروں کی سطح پر لا کر ان کو ویسا ہی محکوم بنا دیا گیا ہے مزید نسل نہ بڑھے کا حل بھی ان کو ابدیت دے کر حاصل کر لیا گیا ہے ۔ یہاں حاکم کا کسی بھی قسم کا بیان نہ آنا اس کا خدا ہی کی طرح دسترس سے دور مگر موجود ہونا ثابت کرتا ہے ۔ یعنی وہ اسی علم یا قوت کے بل بوتے پر ان کمزور افراد کا خدا بن بیٹھا ہے ۔

یہی بات اس افسانہ میں مذہب میں جبر اور سوچنے سمجھنے کی روش کے خلاف انتہائی اقدامات اور رکاوٹ ڈالنے پر تنقید بھی کرتا نظر آتا ہے۔یعنی اگر ایسا ہی رہتا ہے تو انسان اپنی آزادی کی خاطر اس سے بغاوت بھی کر سکتا ہے ۔ ان تمام مفاہیم کے باوجود افسانہ مذہب اور معاشرہ سے اپنی بنیاد کو آزاد کرواتا نظر نہیں آتا جس کی مثال عورت کے بارے موجود خیالات یا بیانات اور نئی بغاوت اور تغیر کی شکل کا مذہبی طرز پر ہی نمودار ہونا ہے ۔

ذاتی رائے :۔

مجموعی طور پر ایک فکری اور اچھا افسانہ ہے ایک ایسا افسانہ ہے جو اردو ادب میں لکھا جانا چاہیے تھا ۔

اس افسانے پر یہ تنقید و تبصرہ کوئی حجت نہیں بلکہ فقط ایک کوشش ہے اور اس پر مزید بات اور تنقید کی بہت گنجائش موجود ہے "(باسط آزر )

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ھرمن نارتھروپ فرائی ۔۔۔۔ احمد سہیل

ھرمن نارتھروپ فرائی ۔(Herman Northrop Frye) ::: تحریر ۔۔ احمد سہیل (امریکہ) کینڈین ادبی نقادو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے