سر ورق / یاداشتیں / ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 30 ۔۔۔سید انور فراز

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 30 ۔۔۔سید انور فراز

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول
عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو!
ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 30

سید انور فراز
شو بزنس کی طرح کوچہ ء صحافت میں بھی وجود زن سے رنگینیاں اور رنگ رلیاں عروج پر نظر آتی ہیں لیکن مکمل طور پر صحافتی حلقوں کو شوبزنس کا ہم پلہ نہیں کہا جاسکتا کیوں کہ ابتدائی زمانے ہی سے شوبزنس میں آنے والی خواتین کی اکثریت کا تعلق بازار حسن سے رہا، بعد میں شریف گھرانوں کی خواتین بھی آہستہ آہستہ اس شعبے میں آئیں اور انھوں نے بڑے رکھ رکھاؤ کا مظاہرہ کیا ، صحافتی اور پبلشنگ اداروں میں صورت حال خاصی مختلف رہی،علمی دلچسپی رکھنے والی خواتین اس طرف متوجہ ہوئیں جن کا خاندانی پس منظر لائق احترام تھا، یہ الگ بات ہے کہ حالات کے بھنور میں گردش کرتی فیملیز بھی شکم کی آگ بجھانے کے لیے جس طرح دیگر شعبوں میں اپنی لڑکیوں کو بھیجنے پر مجبور ہوتی ہے اسی طرح اس شعبے میں بھی ایسی لڑکیاں آتی رہتی ہیں جنھیں لکھنے پڑھنے سے کچھ نہ کچھ یا بہت زیادہ شغف رہا ہو لہٰذا ان کا موازنہ شوبزنس کے اُس گروپ سے نہیں کیا جاسکتا جس نے صرف دولت کی ہوس میں مبتلا ہوکر اس طرف چھلانگ لگائی ہو۔
اپنے طویل مشاہدے اور تجربے کی بنا پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایک آدھ مثال کو چھوڑ کر ہم نے کسی لڑکی کو بھی بدکرداری کی جانب مائل نہیں دیکھا،بے شمار لڑکیوں سے ہمارا رابطہ و تعلق رہا،وہ اپنے حالات کی مجبوریوں کا شکار نظر آئیں، قمر تابندہ کا شمار بھی ہم ایسی ہی لڑکیوں میں کرتے ہیں، بے شک اللہ نے بہت اچھی شکل صورت سے نوازا تھا اور یہ ممکن نہیں ہوتا کہ کوئی ایسی لڑکی جو چندے آفتاب و ماہتاب ہو ، دیکھنے والوں کی نظر میں نہ آئے بلکہ ہماری گزشتہ قسط پر تابندہ نے کمنٹ کرتے ہوئے جو شعر لکھا تھا وہ بھی اس تمام صورت حال کی بھرپور نشان دہی کرتا ہے ؂
اچھی صورت بھی کیا بری شے ہے
جس نے ڈالی بری نظر ڈالی
تابندہ کا تو یہ ذاتی تجربہ و مشاہدہ ہے لیکن عام آدمی بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا، کوئی نئی لڑکی جیسے ہی کسی دفتر میں جلوہ افروز ہوتی ہے، اکثر مرد حضرات کی آنکھیں چمکنے لگتی ہیں، محترم مشتاق احمد یوسفی کیا کمال بات کہہ گئے ہیں ’’عورت کی زبان اور مرد کی آنکھوں کا دم سب سے آخر میں نکلتا ہے‘‘
رمضان چیمبرز ، حالیہ قومی اخبار ہاؤس میں جب تک قومی اخبار کے دفاتر کا اضافہ نہیں ہوا تھا اور صرف جاسوسی سسپنس ، نئے اُفق کے دفاتر تھے، ایسی گمبھیر صورت حال نہیں تھی جیسی بعد میں دیکھنے میں آئی، رنگ برنگے لوگ اور بھانت بھانت کی بولیاں سننے کو ملیں، نئے اُفق میں تو ایک طویل عرصے تک ہم نے کسی لڑکی کو نہیں دیکھا،ہمارے دفاتر میں البتہ شروع ہی سے ماہنامہ پاکیزہ میں خواتین کا عمل دخل رہا، سب سے پہلے نادرہ گیلانی پھر محترمہ ساجدہ معراج اور پھر صفیہ ملک صاحبہ جب کہ ان کے ساتھ کوئی نہ کوئی معاونت کرنے والی لڑکی بھی ضرور ہوتی تھی لیکن جاسوسی، سسپنس میں خواتین کا کردار بہت کم رہا، البتہ سرگزشت کے اجرا کے بعد اس میں اضافہ ہوا، مزید یہ کہ جب کتابت سیکشن ختم ہوا اور اس کی جگہ کمپیوٹر کمپوزنگ نے لی تو بھی لڑکیوں کی تعداد بڑھتی چلی گئی، ہمارے اپنے کمپیوٹر سیکشن کی انچارج ذکیہ نامی ایک لڑکی تھی لیکن قومی اور جرأت نے جس تیزی سے ترقی کی،اُتنی ہی تیزی سے وہاں خواتین کی بھی بھرمار ہوئی جس کے نتیجے میں بہت سے اسکینڈل بنتے بگڑتے رہے جن میں سے اکثر کا تذکرہ بھی ناقابل اشاعت ہے۔
لڑکیوں کو کام کے دوران میں سب ہی لوگوں سے اچھے انداز میں بات چیت کرنا پڑتی ہے اور اس کے نتیجے میں افسانے جنم لینے لگتے ہیں، ان کی خوش اخلاقی کو غلط رنگ دے دیا جاتا ہے، بقول ساحر لدھیانوی ؂
میں جسے پیار کا انداز سمجھ بیٹھا تھا
وہ تبسم، وہ تکلّم تِری عادت ہی نہ ہو
ایک اور پہلو بھی بڑا ہی دلچسپ ہے،مالکان یا کسی سینئر پوسٹ پر کام کرنے والا تقریباً ہر بندہ خواتین سے نرم رویہ رکھتا ہے جیسا کہ خواتین سے رکھنا چاہیے، اس نرم رویے کو بھی یار لوگ اپنی مرضی کا رنگ دینے سے باز نہیں آتے، ہم نے بہت پہلے ایک لڑکی کا قصہ لکھا تھا جسے ساجدہ معراج نے صرف اس وجہ سے جاب سے نکال دیا کہ وہ معراج صاحب کی تعریف کیا کرتی تھیں اور انھیں کچھ ایسی رپورٹیں بھی ملی تھیں کہ معراج صاحب کا رویہ بھی اس کے ساتھ نرمی کا ہے، الیاس شاکر بھی بنیادی طور پر اندر سے ایک نرم دل انسان تھے چوں کہ خود بہت نچلی سطح سے ترقی کرکے ایک بڑے مقام تک پہنچے تھے لہٰذا معاشی کمزوریوں کا شکار افراد پر خاص طور سے مہربان رہتے تھے،ہم نے ان کی ایسی مہربانیوں کے بہت سے مظاہرے اپنی آنکھوں سے دیکھے، قمر تابندہ کے ساتھ بھی شاید کچھ ایسا ہی معاملہ ہوا، تابندہ کا تعلق ٹنڈوآدم سے تھا، وہ اپنے گھر کی واحد کفیل تھی، اسی لیے الیاس شاکر کی عنایات کا ظہور ہوا تو ارد گرد کے دیکھنے والوں کو دال میں کالا نظرآنے لگا، گلزار شاہد یا اور دیگر افراد بھی امیدواروں میں شامل ہوگئے، ذوالفقار ارشد گیلانی ان دنوں نئے افق کے ایڈیٹر تھے اور عمران قریشی کے ساتھ ان کا خصوصی یارانہ تھا جب قمر تابندہ کے حسن و خوبصورتی کا چرچا عام ہوا تو ذوالفقار بھی متوجہ ہوگئے، ایک اطلاع کے مطابق انھوں نے عمران قریشی سے شرط لگائی کہ وہ اس لڑکی کو زیر دام لانے میں ضرور کامیاب ہوں گے،چناں چہ ایک نئی مہم جوئی شروع ہوگئی، ان دنوں آج کے ایک اور مشہور صحافی یونس آفریدی ان کے برادر عزیز تھے اور وہ خود بھی ایک لڑکی سے معاشقہ لڑارہے تھے، ہمیں یاد نہیں کہ وہ کہاں کام کرتی تھی لیکن بڑی پابندی سے روزانہ بلڈنگ میں آتی اور دفتر دفتر سب سے ملتی، ہمارے دفتر میں بھی آنا جانا تھا، اسی کی زبانی ہمیں معلوم ہوا کہ وہ، یونس آفریدی، ذوالفقار ارشد گیلانی اور قمر تابندہ قریب ہی موجود ایک ایرانی ہوٹل کیفے نوید میں بیٹھتے ہیں، ایک روز اس نے بتایا کہ ذوالفقار نے تابندہ سے کہا کہ تم میری دوست بن جاؤ جس پر تابندہ نے جواب دیا کہ میں اس قسم کی دوستی کی قائل نہیں ہوں، ہاں! اگر کوئی سنجیدگی سے شادی کی پیشکش کرے گا تو میں اس پر غور کروں گی، بھائی ذوالفقار نے آؤ دیکھ نہ تاؤ فوراً ہی شادی کی پیشکش کردی جس پر یقیناً تابندہ نے سنجیدگی سے غور کرلیا ہوگا جبھی یہ شادی ممکن ہوسکی، تابندہ کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک اس حقیقت سے واقف نہیں تھی کہ ذوالفقار پہلے سے شادی شدہ اور دو بچوں کے باپ ہیں لیکن خرابی یہ ہوئی کہ ذوالفقار کی آمدن اتنی نہیں تھی کہ وہ دو گھر چلاسکے، یہی بات اکثر وجہِ فساد رہی، تابندہ کو شادی کے بعد بھی جاب کے عذاب سے نجات نہ مل سکی اور دونوں کے درمیان فاصلے بڑھتے چلے گئے،تابندہ نے جاب کرکے اپنا گھر چلانے کی کوشش کی تاکہ ذوالفقار پر زیادہ بوجھ نہ آئے، اس ساری صورت حال کو ایک حادثاتی یا تفریحی شادی کا نام دیا جاسکتا ہے جسے نبھانے کی تابندہ نے بہت کوشش کی یہاں تک کہ دو بچوں کی ماں بن گئی لیکن آخر میں اسے خلع لینا پڑا، ہماری معلومات کے مطابق ذوالفقار کا مؤقف یہ ہے کہ اس نے طلاق نہیں دی اور ایک خبر یہ بھی ہے کہ وہ تیسری شادی بھی کرچکے ہیں۔
تِرے عشق نچایا
یا تِرا تذکرہ کرے ہر شخص
یا کوئی ہم سے گفتگو نہ کرے
عشق کے موضوع پر یہ لاثانی اور بے مثل شعر استاد شکیل احمد ضیا مرحوم کا ہے،استاد ، جگت استاد تھے ، اپنے شاگردوں کی فہرست کا ایک رجسٹرڈ مرتب کر رکھا تھا جس میں بڑے بڑے مشہور شعرا کے نام تھے، ان کی شاعرانہ عظمت میں کوئی کلام نہیں لیکن حیرت انگیز طور پر استاد کو وہ شہرت اور مقام نہیں مل سکا جس کے وہ حق دار تھے، استاد کے دو شعر اور دیکھیے ذرا، ایسے شعر کوئی عام شاعر کہہ سکتا ہے؟
باز آ تغافل سے ورنہ اہل دل اکثر
جس کو بھول جاتے ہیں اس کو بھول جاتے ہیں

نہ اجتناب، نہ بے گانگی، نہ رَم، نہ گریز
سپردگی کا یہ عالم تمھیں ہوا کیا ہے!
استاد شکیل احمد ضیا کا دعویٰ تھا کہ وہ دنیا کی کئی زبانوں پر عبور رکھتے ہیں، اردو، فارسی، عربی، انگریزی، جرمن، اٹالین، فرانسیسی وغیرہ وغیرہ لیکن اس دعوے کا کوئی ثبوت کبھی ہمارے علم میں نہیں آیا، یہ درست ہے کہ انھوں نے بعض دیگر زبانوں سے تراجم بھی کیے، ان کی ایک مشہور کتاب مشہور نازی قصاب ایڈولف ایشمن کی بائیو گرافی ہے اور بھی بہت سی کتابوں کے ترجمے یا تصنیف کے بارے میں ان کی زبانی سنا لیکن صرف یہی ایک کتاب ہماری نظر سے گزری، اپنی زندگی کے آخری دنوں میں ضیا صاحب روزنامہ قومی اخبار سے وابستہ رہے،وہ اپنے دور کے سینئر ترین بزرگ شعرا میں شمار ہوتے تھے، تقسیم ہند کے بعد پاکستان آگئے، شاید ان کا پیدائشی شہر جھانسی تھا، ہماری ان سے پہلی ملاقات برسوں پہلے کبھی ہوئی تھی، وہ ہمارا بھی دور آوارگی تھا، شاید کسی مشاعرے میں استاد سے تعارف ہوا، پھر ہمارے ایک بہت عزیز دوست کے ماموں جو ان کے ایسے معتقد تھے کہ ان کو دنیا کا سب سے بڑا شاعر مانتے تھے، ایک روز ضیا صاحب کی دعوت کربیٹھے، ہم بھی اس دعوت میں شریک ہوئے لیکن استاد سے حقیقی راہ و رسم اسی زمانے میں بڑھی جب وہ قومی اخبار سے وابستہ ہوئے اور پھر استاد کی ذات سے وابستہ عشق کی ایک لازوال اور حیرت انگیز داستان بھی سننے کو ملی، اس داستان کا عنوان خود استاد نے یوں لکھا تھا ’’کے کے سے کے کے تک‘‘
یہ پوری داستان استاد نے ہمیں لکھ کر دی تھی کہ ہم اسے سرگزشت میں شائع کریں لیکن ہم اس کی اشاعت سے معذور تھے لہٰذا استاد کے حکم کی تعمیل نہ ہوسکی، تقریباً 85 یا 90 سال کی عمر میں استاد کا انتقال ہوگیا۔
کے کے سے کے کے تک کی تشریح کچھ یوں ہے ’’کرشنا کماری سے کبریٰ خانم تک‘‘
شاید بہت کم لوگ جانتے ہوں کہ 90 ء کی دہائی میں اسٹیج اور ٹی وی پر ایک اداکارہ کبریٰ خانم کا نام خاصا مشہور ہوا تھا، ہمیں اس کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں،عزیزم علی عمران جونیئر ہی بھرپور روشنی ڈال سکتے ہیں کہ کبریٰ خانم کیا شے تھی، ہم نے تو استاد کی زبان سے اس کے قصیدے سنے، 80 سال کی عمر میں استاد کو اس سے عشق ہوگیا تھا اور سنا ہے کہ وہ بھی استاد سے بڑے عزت و احترام سے پیش آتی تھی۔
ایک روز استاد دفتر میں بیٹھے تھے کہ جناب فراست رضوی بھی آ دھمکے اور پھر جو ادبی دھما چوکڑی شروع ہوئی اسے لفظ بہ لفظ بیان کرنا اب ہمارے لیے ممکن نہیں ہے ، استاد نے فراست رضوی کی موجودگی میں اپنے عشق کی واردات پیش کی، انھوں نے بتایا کہ نوجوانی میں انھوں نے پہلا عشق ایک ہندو لڑکی کرشنا کماری سے کیا لیکن حسب دستور ظالم زمانہ آڑے آیا اور کرشنا کماری نے خود کشی کرلی مگر اس کی بیاکل آتما کو قرار نہ آیا اور آخرکبریٰ خانم کی شکل میں اس نے دوسرا جنم لیا۔
یہ انکشاف سن کر فراست رضوی کے کان کھڑے ہوگئے اور آنکھیں اُبل پڑیں،اب ان کی دلچپسی کا عالم دیکھنے کے قابل تھا، انھوں نے بڑے مہذب اور فنکارانہ انداز میں استاد پر سوالات کی بھرمار کردی، فراست رضوی ادبی حلقوں کی جانی پہچانی شخصیت ہیں، کہنہ مشق شاعر ہیں، اس کے ساتھ ہی ان کی نوجوانی یا جوانی کے ہنگامے بھی خاصے مشہور ہیں، منظر امام کبھی ان کے بہت قریبی دوستوں میں شمار ہوتے تھے اور دونوں کی حسِ مزاح شرارت کی حد تک عروج پر رہتی تھی، ایسی ایسی بدمعاشیاں دونوں کے کھاتے میں لکھی ہوئی ہیں جنھیں خود منظر امام ہی اکثر بیان کرکے ہمیں حیران و پریشان کرتے رہے ہیں، دونوں نے مل کر اکثر بڑے بڑے ادیبوں ، شاعروں اور دانش وروں کی پگڑیاں تک اچھالی ہیں، اب ایسا شخص استاد سے کیا رعایت کرتا، استاد جس طرف کروٹ بدلتے، فراست اسی پہلو پر طنز کا کوئی لطیف نشتر چبھو دیتے،کاش! اس وقت کوئی ٹیپ ریکارڈر ہمارے پاس ہوتا اور ہم اس روز کی گفتگو کو ریکارڈ کرلیتے۔
استاد نے بتایا کہ وہ ایک طویل عرصے سے نظر کا چشمہ استعمال کر رہے ہیں، ان کی دور و نزدیک کی نظر 80 ء سال کی عمر میں بہت کمزور ہوچکی تھی مگر جس روز پہلی بار انھوں نے کبریٰ خانم کو دیکھا تو آنکھوں میں بینائی واپس آگئی اور نظر کی عینک سے نجات مل گئی، یہی اس بات کی دلیل تھی کہ کبریٰ خانم درحقیقت کرشنا کماری کا دوسرا جنم تھی، گویا استاد آواگون کے عقیدے پر ایمان لے آئے تھے، یہ سن کر فراست کا جو حال ہوا سو ہوا، ہمارا اشتیاق بھی کم نہ تھا، ایسے بہت سے واقعات استاد نے سنائے ، ہم نے فوراً ہی فرمائش کردی کہ استاد اپنی یہ داستان عشق سرگزشت کے لیے قلم بند فرمادیں، بعد میں استاد نے اس کام میں دیر نہیں لگائی، استاد سے ہم نے ایران کی مشہور شاعرہ قرۃ العین طاہرہ کی سرگزشت بھی لکھوائی تھی، یہ دونوں داستانیں اب بھی شاید ہمارے کتب خانے کے کسی انجانے گوشے میں دفن ہوں گی،ارادہ ہے کہ کسی وقت انھیں ڈھونڈ کر نکالا جائے اور اردو لکھاری ڈاٹ کام کی نذر کردیا جائے۔
ڈائجسٹ انڈسٹری یا کوچہ ء صحافت میں پروان چڑھنے والی عشق و محبت یا حرص و ہوس کی سچی کہانیاں بہت ہیں ، اس موضوع پر ایک پوری کتاب لکھی جاسکتی ہے لیکن مجبوری یہ ہے کہ ؂ اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں۔
کیا تیرا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور
ماہنامہ سرگزشت کو جاری ہوئے ابھی چند ہی سال ہوئے تھے، غالباً 1994 ء کی بات ہے، ڈاک سے ایک کہانی موصول ہوئی جس کا موضوع کرکٹ تھا، اسکول کی کاپی کے صفحات پر پیرا گرافنگ کا خیال رکھے بغیر کہانی لکھی گئی تھی،اکثر نئے لکھنے والے اسی طرح آغاز کرتے ہیں۔
عادت کے مطابق کہانی کی ابتدائی سطور پر نظر ڈالی تو کہانی نے پکڑ لیا اور آخر کار پوری کہانی پڑھنا پڑی، کہانی جاندار تھی، ہم نے ضروری ایڈیٹنگ کے بعد ماہنامہ سرگزشت میں شائع کردی اور فون پر رابطہ کرکے مصنف کی حوصلہ افزائی کی اور ملاقات کے لیے آفس آنے کا کہا۔
چند روز کے بعد ایک خاتون دفتر تشریف لائیں اور بتایا کہ وہ کاشف زبیر کی والدہ ہیں جن کی کہانی آپ نے شائع کی ہے،ہم نے عرض کی کہ آپ نے کیوں زحمت کی، کاشف کو آنا چاہیے تھا، ہمیں اس سے کچھ ضروری باتیں کرنا ہیں تو انہوں نے کہا کہ آپ کاشف سے فون پر بات کرسکتے ہیں، ہم تھوڑے سے حیران ہوئے اور پوچھا کہ آخر وہ دفتر کیوں نہیں آسکتے؟ فون پر طویل گفتگو ہم مناسب نہیں سمجھتے، یہ سن کر وہ چند لمحوں کے لیے خاموش ہوگئیں، پھر بولیں کہ وہ وھیل چیئر پر ہیں اور آپ اس بلڈنگ کے سیکنڈ فلور پر بیٹھتے ہیں لہٰذا وہ یہاں نہیں آسکتے۔
ایک لائق ، خلاق ذہن کے مالک مشہور کہانی کار کاشف زبیر سے یہ ہمارا پہلا تعارف تھا، بعد ازاں جب ہم نے ملاقات پر اصرار کیا تو گوجر نالہ کے قریب ایک مکان میں جو ان کے کسی عزیز کا تھا، ہماری پہلی ملاقات کاشف زبیر سے ہوسکی، 20,21 سال کا یہ نوجوان بچپن میں کمر پر چوٹ لگنے سے معذور ہوگیا تھا مگر اس باہمت و حوصلہ انسان نے تعلیم جاری رکھی، اس حوالے سے کاشف کی والدہ پروین زبیر صاحبہ کا کردار نہایت قابل ستائش ہے، وہ ایک بڑی بلند حوصلہ اور بہادر خاتون ہیں،جب تک ہم جاسوسی ڈائجسٹ اور سرگزشت ڈائجسٹ کی ادارت سے وابستہ رہے،ہمارا رابطہ ٹیلیفون کے علاوہ پروین صاحبہ کے ذریعے ہی کاشف زبیر سے رہا، اس ایک ملاقات کے بعد ہم نے کبھی کاشف سے ملاقات نہیں کی۔
2004 ء میں جب کاشف کی شادی کا دعوت نامہ ہمیں ملا تو ہم ادارہ چھوڑ چکے تھے اور اپنے ذاتی مسائل میں اس بری طرح الجھے ہوئے تھے کہ شادی میں شریک بھی نہیں ہوسکے لیکن کاشف سے ہمارا رابطہ فون پر مستقل رہا، خاص طور پر ہمارے ادارہ چھوڑنے کے بعد ادارے کی بیوروکریسی نے ان لوگوں کے خلاف بھی کارروائی شروع کی جو کسی نہ کسی اعتبار سے ہمارے زیادہ قریب تھے،سرگزشت کے لیے کچھ کام ہم ابن آس سے لے رہے تھے،وہ انھیں واپس کردیا گیا ، نوشاد عادل کو ہم نے رکھا تھا،اسے فارغ کردیا گیا، یمنیٰ احمد کا انتخاب بھی ہم نے کیا تھا، انھیں بھی فارغ کرنے کا پروگرام بن گیا تھا لیکن وہ کسی طرح معراج صاحب تک پہنچ گئی اور اس طرح اپنی جاب بچانے میں کامیاب ہوگئیں، ادارہ چھوڑنے کے باوجود معراج صاحب سے ہمارے مراسم برقرار تھے اور ایک نیا پرچا مسیحا کے نام سے نکالنے کا پروگرام زیر غور تھا لیکن یہ بھی بیوروکریسی کی طبع نازک پر گراں تھا، معراج صاحب کی حالت روز بہ روز خراب ہورہی تھی، انھیں یاد نہیں رہتا تھا کہ صبح انھوں نے کیا کہا تھا اور شام کو کیا پروگرام طے ہوا تھا، اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے ہم نے مناسب سمجھا کہ معراج صاحب سے بھی دوری اختیار کرلی جائے، چناں چہ ہم نے آفس جانا چھوڑ دیا، البتہ سرگزشت و جاسوسی کے نئے مدیر علی عمران آفاقی (علی سفیان آفاقی کے چھوٹے بھائی) سے ہمارا رابطہ مسلسل رہا اور آج تک قائم و دائم ہے،بعد ازاں جب معراج رسول بھی ہمارے ادارہ چھوڑنے کے تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد ہی اپنی آہستہ آہستہ بڑھتی بیماری کے شدید حملے کے پیش نظر گھر تک محدود ہوگئے تو علی عمران آفاقی کو بھی ادارہ چھوڑنا پڑا۔
کاشف سے ہم ایک قسط وار کہانی ’’سوداگر‘‘ لکھوارہے تھے جس کی شاید دو قسطیں وہ لکھ چکے تھے اور ہمارے پاس موجود تھیں، وہ دونوں قسطیں کاشف کو واپس کردی گئیں اور چھاپنے سے معذرت کرلی گئی،اس کی کہانیاں بھی روک دی گئیں، وہ بچارہ قلم کا مزدور تھا، اس کا گھر اسی قلم کاری سے چلتا تھا، بہت پریشان ہوا اور ہمیں فون کیا کہ اب کیا کیا جائے؟ فوری طور پر ہم نے عمران احمد قریشی سے رابطہ کیا اور ماہنامہ نئے اُفق میں اس قسط کی اشاعت کا بندوبست کرادیا اور کاشف کو مشورہ دیا کہ اپنے معاملات معراج رسول صاحب کے سامنے پیش کرے کیوں کہ وہ کسی صورت بھی اپنے کسی رائٹر کا نقصان برداشت نہیں کرسکتے تھے اور پھر یہی ہوا، ہمیں نہیں معلوم کہ کاشف نے کس طرح معراج صاحب تک رسائی حاصل کی،یقیناً اس کی والدہ پروین صاحبہ یا وائف مریم اس حوالے سے زیادہ جانتی ہوں گی،الحمد اللہ یہ دونوں ہستیاں حیات ہیں اور ان سے اس صورت حال کے بارے میں بات ہوسکتی ہے۔
جب تمام صورت حال معراج صاحب کے علم میں آئی تو انہوں نے کاشف کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا فوری ازالہ کیا اور اس طرح کاشف کی قلم کاری کا سفر جاسوسی ڈائجسٹ پبلی کیشن میں بلا کسی خطر کے دوبارہ شروع ہوا اور تادم حیات جاری رہا،سوداگر چوں کہ نئے اُفق میں شروع ہوچکی تھی، اس لیے معراج صاحب نے اس پر بھی کوئی اعتراض نہیں کیا۔
غالباً جولائی میں ہمیں معلوم ہوا کہ وہ بیمار ہیں، شاید آنکھوں کا آپریشن بھی ہوا لیکن بہر حال اللہ نے صحت مند کیا اور ہم نے اپنے صاحب زادے کی شادی کا کارڈ بھی انہیں بھیجا جس میں وہ شرکت نہیں کرسکے مگر فون پر معذرت کی کہ طبیعت کی خرابی کی وجہ سے ہم نہیں آسکے ، کاشف سے فون پر یہ ہماری آخری بات چیت تھی۔
گزشتہ دنوں جب وہ شدید بیماری کے سبب اسپتال میں داخل ہوئے تو ہمیں فیس بک کے ذریعے اور بعض احباب کے ذریعے اطلاع ملی ، فوری طور پر کاشف کی بہن نے رابطہ کیا اور بتایا کہ امی آپ سے بات کرنا چاہتی ہیں، پروین صاحبہ سے گفتگو ہوئی تو وہ یہ بتانے سے قاصر تھیں کہ بیماری کیا ہے؟ اتفاق کی بات یہ کہ کاشف جس اسپتال میں زیر علاج تھے وہ ہمارے کلینک کے قریب ہے اور اس میں ڈاکٹر علی ارسلان بھی ہفتے میں دو روز بیٹھتے ہیں جو خود ایک زبردست کہانی اور ڈراما رائٹر ہیں،جب وہ لندن میں زیر تعلیم تھے تو ان کی کہانیاں سسپنس ڈائجسٹ میں شائع ہوتی تھیں، ڈاکٹر علی ارسلان ہمارے محترم علی سفیان آفاقی کے سگے بھتیجے ہیں۔
ہم نے فوری طور پر ڈاکٹر ارسلان کو فون کیا اور ان سے گزارش کی کہ کاشف کی بیماری کے حوالے سے درست پوزیشن معلوم کریں، ڈاکٹر ارسلان نے متعلقہ ڈاکٹر سے رجوع کیا تو ہمیں اطلاع دی کہ صورت حال خاصی تشویش ناک ہے، واضح رہے کہ اس وقت کاشف وینٹی لیٹر پر تھے، ہم کاشف کی والدہ کو دلاسہ دینے کے سوا کیا کرسکتے تھے؟ مزید ہم نے انہیں صدقات پابندی سے دینے کی ہدایت کی اور ڈاکٹر ارسلان سے جو کچھ معلومات حاصل ہوئی تھیں، اس کی روشنی میں انہیں مشورہ دیا کہ کڈنی سینٹر سے رابطہ کریں اور کڈنی ٹرانسپلانٹ کے لیے کوشش کریں،بعد ازاں معلوم ہوا کہ ان کی طبیعت سنبھل گئی ہے اور وہ ایک دوسرے اسپتال میں شفٹ ہوگئے ہیں لیکن پھر اچانک خبر آئی کہ وہ اس دنیا میں نہیں رہے، ہم اس خبر کے لیے ذہنی طور پر تیار تھے، زندگی اور موت خدا کے ہاتھ میں ہے، یہاں انسان بے بس ہے۔
کاشف نے بہت لکھا اور بڑی کم مدت میں بہت زیادہ لکھا اور بہت اچھا لکھا، وہ ورسٹائل خصوصیات کے مالک تھے کیوں کہ ان کا برتھ سائن جوزا (Gemini) تھا ، مستقبل میں ان سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں لیکن مقدرات سے کون لڑسکتا ہے، مرزا غالب نے ایسی ہی بے بسی کی کیفیت میں شاید یہ شعر کہا ہوگا جیسی ہم محسوس کر رہے ہوں، نام کی ترمیم کے ساتھ غالب کا مشہور شعر ؂
ہاں اے فلکِ پیر جواں تھا ابھی کاشف
کیا تِرا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور
کاشف نے جتنی تیزی کے ساتھ اپنی تحریر کو نکھارا اور سنوارا، وہ خود ہمارے لیے حیرت انگیز تھا، بعض اوقات فون پر ایک گھنٹے سے زیادہ گفتگو ہوتی اور کسی کہانی یا آئیڈیے پر مختلف زاویوں سے گفتگو رہتی، کاشف لکھنے کے علاوہ پڑھنے کے کام کوبھی نہایت اہمیت دیتے، کمپیوٹر اور نیٹ کی سہولت نے کاشف کو ساری دنیا سے متعارف کرادیا تھا، اکثروبیشتر وہ ہم سے پوچھتے کہ مجھے مزید کیا پڑھنا چاہیے؟
کاشف نے مصر کے ایک قدیم فرعون کی کہانی کا ترجمہ کرکے ہمیں بھیجا، شاید اس وقت تک مصری قدیم تاریخ سے کاشف کو زیادہ واقفیت نہیں تھی، وہ ترجمہ کہانی ہمیں نہایت بور لگی اور ہم نے کاشف سے اپنی ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا’’ یہ تم کس فضولیات میں پڑگئے، بھائی اگر مصری تاریخ اور اس دور کے ماحول سے آپ کی واقفیت نہ ہوگی تو آپ کہانی کے ترجمے سے انصاف نہیں کرسکیں گے،اس کہانی کو دوبارہ ری رائٹ کرو مگر پہلے اس ماحول سے آگاہی بھی حاصل کرو‘‘
کاشف بہت محبت اور عزت کرنے والا انسان تھا، اس نے ہماری بات کا ہر گز برا نہیں مانا، تقریباً دو ماہ بعد وہی کہانی جب دوبارہ ہمارے پاس آئی تو ہم حیران رہ گئے، کاشف نے اس میں جان ڈال دی تھی اور ایسی دلچسپی پیدا ہوگئی تھی کہ جس کہانی کو پڑھنا پہلے ہمارے لیے ایک مشکل کام ہوگیا تھا، ہم اسے ایک ہی نشست میں ختم کربیٹھے، فوراً ہی ہم نے کاشف کو فون کیا اور بہت شاباش دی۔
مطالعے کا شوق بہت سے لوگوں کو ہوتا ہے لیکن ایسے لوگ کم ہوتے ہیں جو اپنا پڑھا ہوا ہضم بھی کرلیتے ہیں یعنی وہ اسے بھولتے بھی نہیں اور طرز تحریر کو بھی فالو کرتے ہیں، کاشف اپنے طرز تحریر میں احمد اقبال صاحب سے بہت متاثر تھے اور اکثر ہم سے ان کے تحریری کمالات کی تعریف کرتے تھے، انھوں نے جو طنز و مزاح پر لکھا ، اس میں احمد اقبال ہی کے انداز کی پیروی کی،یہاں تک کہ ایک مرحلہ ایسا آیا کہ جب اقبال صاحب کی شدید بیماری کے سبب ان کی قسط وار کہانی مداری کو اختتام تک پہنچانے کا سوال اٹھا تو ہماری نظر کاشف زبیر پر ہی ٹھہری اور کاشف نے یہ کام نہایت اعتماد کے ساتھ اور خوب صورتی کے ساتھ انجام دیا، جن لوگوں نے مداری پڑھی ہے، وہ گواہی دیں گے کہ مداری کی آخری قسطیں کسی طرح بھی احمد اقبال کے علاوہ کسی اور کی تحریر کردہ محسوس نہیں ہوتیں۔
(جاری ہے)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : سید انور فراز قسط نمبر 29

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول عبرت سرائے دہر ہے اور ہم …

3 تبصرے

  1. بہت خوب ، ہر قسط پہلی سے زیادہ دلچسپ اور معلومات افزا ،آپ نے اس کا نام ڈائجسٹوں کی الف لیلہ درست رکھا ہے گوکہ اس کا دائرہ یا اسکوپ آپ کے ادارے کے جرائد اور ان سے متعلقہ افراد تک محدود ہے یا پھر معراج رسول کی شخصیت کا احاطہ کرتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی بلند قامت ادبی اور سماجی شخصیات کا ذکر بھی خاصے کی چیز ہے .ہر قسط کا آغاز اور پھر اس ک اٹھان ایسی ہوتی ہے کہ ایک مرتبہ شروع کرنے کے بعد تمت بالخیر رک پہنچے بغیر نہیں رہا جاتا اس ضمن میں آپ کی طرزِعمل تحریر اس کی روانی اور لفظوں کے چناؤ کی داد نہ دینا زیادتی ہوگی.
    شکیل احمد ضیاء لیاقت آباد میں ہمارے ہی بلاک میں رہتے تھے انہوں نے ایوب خان کی خود نوشت فرینڈز ناٹ ماسٹرز کا منظوم ترجمہ کیا تھا لیکن جب 1969 میں ایوب خان کے خلاف تحریک چلی اور لیاقت آباد اس کا مرکز بنا ہوا تھا تو انہوں نے حکومتی تشدد کے خلاف احتجاجاً اسے ایک چوراہے پہ نذرِ آتش کردیا .

  2. بہت صاف اور سیدھی بات ہے کہ قمر تابندہ کا یہ معاملہ جس افسوسناک انجام پہ منتج ہوا وہ سراسر مکافات عمل ہے ، کیونکہ جب انہوں نے ذوالقار صاحب کی پہلی اہلیہ کی ازدواجی زندگی میں رخنہ ڈالا تو پھر اسکا اثر پلٹ کے کبھی ان پہ بھی تو آنا ہی تھا ۔۔۔

    انور فراز صاحب کی یہ تحریریں بہت دلچسپ ہیں لیکن میرے ماموں وصی بدایونی کے حوالے سے انکی تحریروں کے متن سے انکے اہلخانہ کو شدید اختلاف ہے ، گزشتہ دنوں انکی ایک بیٹی نجم نے جو کے امریکا میں مقیم ہے اس حوالے سے بہت شور شرابا کیا تھا اور کہ رہی تھی کہ پاکستان آکے کیس کرے گی

    اسی طرح فراز صاحب کے مضامین کے مواد سے ہمارے ماموں زاد بھائی اور برادر نسبتی نعیم اختر بھی شدید اختلاف کرتے ہیں اور انکا کہنا یہ ہے کہ وصی بدایونی کو دفتر سے نکلوانے میں فراز صاحب کی سازشوں کا بڑا دخل تھا اور اسی لیئے ایک دن خود وہ بھی گھر میں لیٹے لیٹے دفتر سے نکال دیئے گئے تھےاور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ انہیں بھی دفتر سے نکلوانے کے لیئے معراج صاحب کے متعدد بارکان بھرے گئے لیکن وہ ان باتوں سے مزہ لیتے تھے اور چپکےسے فراز صاحب کی ایسی تمام باتوں سے انہیں آگاہ کردیا کرتے تھے

  3. سن 1992 میں ہم نے ایک نئے انگریزی میگزین وومن چوائس میں کام کیا تھا تو ایک میگزین کے ٹائٹل کے لئے کبری خانم کا فوٹو شوٹ کراچی آرٹس کائونسل کے فوٹوگرافر عبدالواحد خیری سے کروایا تھا- پھر 1995 میں ہمارے ایک جاننے والے صاحب نے بہادرآباد پر ایک ڈانسنگ اکیڈمی کھولی تھی جس کی افتتاحی تقریب پرل کانٹی نینٹل میں رکھی گئ تھی- وہاں بھی انہوں نے کبری خانم کو بطور مہمان خصوصی بلایا تھا اور کبری دلہن کی طرح تیار ہو کر آئ تھیں- وہ ڈانس اکیڈمی تو خیر فلاپ ہوکر چند ماہ بعد ہی بند ہوگئ- ھاھاھا جس ڈانس اکیڈمی کی انسٹرکٹر سمیعہ ناز جیسی شوقیہ ڈانسر ہو وہ بھلا کیا چلے گی-
    اس کے بعد کبری خانم بھی پس منظر میں چلی گئیں اور اب ان کا کچھ پتہ نہیں کہ کہاں ہیں-

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے