سر ورق / ناول / جنوں ..مہتاب خان ..قسط نمبر 3 آخری

جنوں ..مہتاب خان ..قسط نمبر 3 آخری

جنوں 

مہتاب خان 

(قسط نمبر 3)

ساحر نے عادل کا چیلنج قبول کر لیا تھا -اسی سلسلے میں وہ ڈیڈی سے بات کرنے آیا تھا-وہ اپنے بیڈ پر نیم دراز تھے-

"آؤ بیٹے خیریت تو ہے بیٹھو-” وہ بیڈ کے پاس رکھی کرسی پر بیٹھ گیا-"آپ سے ایک ضروری بات کرنی تھی-"

"اچھا مجھے بھی تم سے بات کرنی ہے-"

"آپ کہیے ڈیڈی کیا بات ہے؟”

"تمھاری تعلیم مکمل ہو چکی ہے اب کاروبار سنبھالو -"

"ڈیڈی آپ جانتے ہیں یہ کاروبار میرے بس کا نہیں-"ساحر نے کہا –

"تو پھر کیا کرنا چاہتے ہو؟”

"میں اسی سسلے میں آپ کے پاس آیا تھا-میں فلم بنانا چاہتا ہوں،فلم بھی ایک بزنس ہے اور اس میں منافع بھی زیادہ ہے-"

وہ کچھ دیر سوچتے رہی پھر ان کے لبوں پر مسکراہٹ آ گئی-"تم اس میدان میں بھی بزنس نہیں کرو گے-مجھے معلوم ہے خیر اگر تمھاری یہ خواہش ہے تو ضرور پورا کرو-بچپن سے میں نے تمھاری ہر خواہش کو پورا کیا ہے تو آج کیسے انکار کر سکتا ہوں-"اس کی ماں کی وفات کے بعد اس کے ڈیڈی اس کا کچھ زیادہ ہی خیال رکھنے لگے تھے-

"لیکن ڈیڈی اس سے پہلے میں فل پروڈکشن کی تربیت کے لیے باہر جانا چاہتا ہوں-

"یہ بھی کوئی مسئلہ نہیں جو چاہو کرو-"

آخر کار وہ ملک سے باہر چلا گیا-

                                                          ***************************

دو سال بیت گئے تھے-دی اسٹینڈر فلمز کے آفس میں بری سی میز کے عقب میں ریوالونگ چیئر پر عادل مہدی بیٹھا تھا-آفس کا دروازہ کھلا اور پیون اندر آیا-اس کے ہاتھ میں اخبارات کا پلندہ تھا،جو اس نے عادل کے سامنے میز پر رخ دیا-عادل نے ایک مشہور اخبار کا فلمی صفحہ اٹھایا،عادل کو مسکراتے دیکھکر اس کا اسسٹنٹ بولا-

"کیا خبر ہے سر؟”

ہماری فلم جوانی دیوانی کو سراہا جا رہا ہے-"عادل بولا-

"فلم ہے ہی اچھی-"اسسٹنٹ نے کہا –

عادل اخبار پر نظریں دوڑا رہا تھا-اچانک اس کی نظر ایک سرخی پر جم کر رہ گئی-"یہ کیا بکواس ہے کیا بے تکا تبصرہ لکھا ہے -"

"کیا ہماری کسی فلم پر-"اسسٹنٹ نے کہا –

"نہیں-"عادل نے جھٹکے سے کہا اس بے وقوف ساحر کی فلم کے بارے میں لکھا ہے-اسے سال کی سب سے بہترین فلم قرار دیا گیا ہے-"

"ارے سر وہ امریکہ پلٹ ہے اسی لئے سب شافی اس کے پیچھے لگے ہوئے ہیں-کامیابی کا فیصلہ تو باکس آفس میں ہوتا ہے-"

"ایک تو تم بولتے بہت ہو-"عادل چڑچڑے انداز میں بولا-"ہونہہ فلم بنانے چلے ہیں-"عادل نے اخبار ایک طرف اچھالا-"تم نے اس کی فلم دیکھی ہے؟”

"بکواس ہے سر میرے تو سر کے دو فٹ اوپر سے گزر گئی-"اسسٹنٹ نے خوشامدی لہجے میں کہا –

"خاموش رہو ………پھر اس کی اتنی تعریفیں کیوں ہو رہی ہیں؟”

"اس نے  کی ہو گی صحافی کی جب ہی اس نے اتنی تعریفیں لکھی ہیں-آپ کو نہیں پتا آج کل کیا چل رہا ہے-سب بکاؤ ہیں-ہماری فلم جوانی دیوانی کا ایک شو بھی نہیں ٹوٹا ہے،پہلے دن کی طرح رش لے رہی ہے ،یہ ہے اس کی مقبولیت کا عالم اور یہ احمق صحافی ساحر کے گن گا رہا ہے-

داؤد ربانی کاروباری معاملات میں بڑا تیز تھا،اس نے اندازہ کر لیا تھا کہ کامیاب فلمیں بنانے کے لیے جس پروڈیوسر کی ضرورت ہے وہ عادل ہی ہے-عادل کے ساتھ اس نے دو فلمیں بنی تھیں جو بڑی دھانسو ثابت ہوئی تھیں-اس کے بعد داؤد نے عادل کے ساتھ معاہدہ کر لیا تھا-اب دونوں ایک دوسرے کے ساتھ کام کر رہے تھے-ان کی نی فلم جوانی دیوانی نے غیر معمولی کامیابی حاصل کی تھی-یہ ایک عریاں و فحاشی سے بھرپور مسالہ فلم تھی،سیٹھ کی تجوری بھر گئی تھی-

عادل اس وقت سیٹھ داؤد کے سامنے اس کے دفتر میں بیٹھا ہوا تھا-

"کیا ہوا منہ کیوں لٹکا ہوا ہے؟”

"بات ہی ایسی ہو گئی ہے-"

"کیا ہوا؟”داؤد نے تشویش زدہ لہجے میں استفسار کیا-

"مجھے غصہ آ رہا ہے-یہ بھی کوئی بات ہوئی،محنت ہم برسوں سے کر رہے ہیں اور وہ کل کے آئے ہوئے پروڈیوسر کی تعریفیں ہو رہی ہیں-"

"ارے بابا بولنے دو ان کو ان کا کام ہی بولنا ہے،پبلک جو مانگتی ہے پبلک کو دو اور مل بناؤ خلاص …………. اپن کو کونسا ایوارڈ لینا ہے-اپنے کو خالی پیسہ چاہئے پیسہ ………یہ باتیں چھوڑو،نیکسٹ فلم کے بارے میں سوچو…………کوئی دھانسو آئڈیا لاؤ -اور سنو اس فلم میں جس لڑکی سے آئٹم سانگ کروایا تھا،اسی سے نیکسٹ فلم میں آئٹم کروانا-اسے دیکھ کر تو میری حالت خراب ہو جاتی ہے،پبلک کا کیا حال ہوتا ہو گا-بڑی گرم لڑکی ہے یار-"

                                                    ******************************

ساحر نے تمام اخبارات بڑے غور سے پڑھے تھے-وہ مطمئن تھا،اس کی پہلی فلم جنت لوگوں کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہی تھی-"آسمان تک” اس کی دوسری فلم تھی-اخبارات میں اس پر مثبت تبصرے شایع ہو رہے تھے-فلم کے پریمیئر میں فلم انڈسٹری کے تمام بڑے اور اہم لوگوں نے شرکت کی تھی وہاں صحافیوں کی بھی ایک بڑی تعدات موجود تھی- اب اگلا مرحلہ اسے عام نمائش کے لئے پیش کے جانے کا تھا – اسے عوامی روعمل دیکھنا تھا’ کیونکے اصل فیصلہ عوام  ہی کرتے ہیں – دیکھنا یہ تھا کے فلم باکس آفس پر کتنا بزنس کرتی ہے – خود اسے پرواہ نہیں تھی مگر ڈیڈی ایک کامیاب بزنس مین تھے وہ اسے بھی کامیاب دیکھنا چاہتے تھے –

وہ سٹوڈیو جانے کے لئے تیار ہو رہا تھا جب اس کے ڈیڈی آ گئے-

  "مبارک ہو بیٹے اخبار میں تمہاری اس فلم کو بہت سراہا گیا ہے- بزنس کے اعتبار سے فلم کسی رہے گی ؟” انہوں نے پوچھا – وہ ملک کے نامی گرامی صنعت کر تھے اور بچپن سے ہی کاروبار میں پڑ گئے تھے – انہوں نے یہ مقام اپنی ذہانت اور محنت سے حاصل کیا تھا – آج ملک کے امیر ترین لوگوں میں ان کا شمار ہوتا تھا – وہ ساحر کو بھی اپنی کا مزاج الگ تھا – بہرحال انہوں نے ہمیشہ اس کی حوصلہ افزائی کی تھی- انہیں حیرت اس بات کی تھی کے اپنی پہلی فلم جنت پراس نے زیادہ سرمایہ نہیں لگایا تھا یہ فلم کم بجٹ میں بنی تھی اور ایک کامیاب فلم ثابت ہوئی تھی -اسے بہت منافع ہوا تھا –

‘فیصلہ تو فلم کی ریلیز پر ہی ہوگا ڈیڈی -” اس نے پر سکون لہجے میں کہا – ابھی تو مجھے وہ فلم بنانی ہے جس کا خواب میں نے برسوں پہلے دیکھا تھا -"

"ہاں ڈیڈی بہت پہلے میں نے ایک سکرپٹ لکھا تھا جو فلم انڈسٹری نے مسترد کر دیا تھا- میں اس پر فلم بنانا چاہتا ہوں – یہ کسی کا چیلنج بھی ہے – صرف اسی چلینج کو قبول کرتے ہوے میں اس انڈسٹری میں آیا ہوں -"

"یہ تو بڑی جزباتیت ہے بیٹے’ کاروبار میں جزبات نہیں چلتے بہرحال تمہاری باتیں تم جانو-‘ انہوں نے کہا اور کمرے سے چلے گئے –

وہ فلم بنانے سے پہلے ساحر کو اپنی ساکھ بنانی تھی پھر وہ فلم ….. موو آن  فلمز کے بیز تلے اس کی دو فلمیں کامیابی سے ہمکنار ہوئی تھیں اور فلم بینوں کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تھیں –

راتوں رات ساحر سب کی توجہ کا مرکز بن گیا تھا- لوگ اسے مبارک باد  دے رہے تھے -اب باری تھی اس فلم کی جس کے لئے اس نے اتنی جدوجہد کی تھی -وو لڑکی اسے مل گئی تھی جسے اس فلم میں مرکزی کردار ادا کرنا تھا- ربیکا اس کے تصور کے عین مطابق تھی -لیکن عادل اسے ناکام کرنے کے لئے سازشوں میں مصروف ہو گیا تھا- یہ بات وہ بھی اچھی طرح جانتا تھا کہ عادل اسے شکست سے ہمکنار کرنے کے لئے ہر حربہ آزمائے گا – اس نے ربیکا کے ذریعے اس پر شب خون مارا تھا – وہ ربیکا کو ورغلانے کی کوششوں میں مصروف تھا ساحر کو ڈر تھا کے ربیکا اپنی سادگی اور معصومیت کی وجہ سے اس شاطر  کے جال میں پھنس سکتی تھی -اسی بات نے اسے بےچین  کر رکھا تھا – اس کی راتوں کی نیند اڑبگی تھی – وہ ازحد پریشان تھا- اسی لئے وہ اپنی فلم اور ربیکا کی پبلکسٹی بھی نی کر رہا تھا بلکہ ربیکا کو صحافیوں دور رہنے کا مشورہ دیا ہوا تھا’ لیکن آج صبح  جب اس نے ربیکا کا انٹرویو اخبار میں پڑھا تو اس کے پیر تلے سے زمین نکل گئی- وہ بہت افسردہ تھا- اسے اپنا خواب بکھرتا ہوا محسوس ہوا تھا-جب اسے کچھ سجھائی نہ دیا تو اس نے ربیکا کو اپنی داستان حیات کا ایک ورق اسے دکھایا تھا-

ربیکا یہ تمام داستان سن کر آبدیدہ اور گم صم بیٹھی ہوئی تھی-ساحر کی باتوں نے اس کی سوچوں کا رخ بدل دیا تھا-اس سے پہلے وہ اس فلم کے لیے اتنی سنجیدہ نہیں تھی-اس کے وجود میں ایک شعلہ سا روشن ہو گیا تھا-وہ سوچ رہی تھی انسان کی شخصیت میں انقلاب کتنی آسانی سے رونما ہوتے ہیں-اس کی شخصیت میں بھی یج انقلاب آیا تھا-اب وہ یہ کردار ادا کرنے کے لیے بے چن تھی-

"آپ کا خواب اب میرا خواب ہے-ہم اس فلم کو جلد از جلد مکمل کریں گے-"وہ بغور ساحر کی طرف دیکھتے ہوئے بولی تھی-"آپ کو اب مجھ سے کوئی شکایت نہیں ہو گی،آپ شوٹنگ کا شیڈول  میں ہوں-"

ساحر کے دل سے جیسے کوئی بڑا بوجھ اتر گیا تھا-ربیکا کے گھر سے وہ پر سکوں واپس آیا تھا اور سوچ رہا تھا کہ اب دیر نہیں کرنا چاہئے-فلم کی شوٹنگ شروع کر دینی چاہئے-

ساحر نے اس فلم کے کچھ مناظر کی شوٹنگ کے لیے لوکیشن تلاش کر لی تھی -یہ ملک کے شمالی علاقے کا ایک دوردراز گاؤں تھا-ساحر کو یہ جگہ بہت پسند ای تھی-مگر یہاں تک پہنچنے کے لیے جو راستہ تھا وہ انتہائی دشوارگزار تھا-راستے کے ایک طرف پہاڑ اور دوسری طرف گہری کھائیا ں تھیں-یونٹ کے افراد اس کے اسسٹنٹ کے ہمراہ پہلے ہی وہاں جا چکے تھےاور شوٹنگ کی تیاریاں کر رہے تھے-

ربیکا ساحر کی گاڑی میں پچھلی نشست پر اس کے ساتھ بیٹھی تھی گاڑی ڈرائیور چلا رہا تھا-گاؤں تک پہنچنے والا دشوارگزار راستہ شروع ہو گیا تھا-ساحر بہت خوش تھا-اس کی برسوں کی خواہش تکمیل پا رہی تھی-

عادل نے ربیکا سے رابطہ کرنے کی بڑی کوشش کی تھی مگر وہ ناکام رہا تھا نہ تو وہ اس کا فون سن رہی تھو نہ ہی مسیج کا کوئی جواب دے رہی تھی-وہ نہ جانے کیوں اس سے کترا رہی تھی-اسے پتا چل گیا تھا کہ ساحر فلم کی شوٹنگ کے لیے  علاقے کی طرف گیا ہے-اسے یہ بھی علم تھا کہ اگر یہ فلم بن گئی تو ایک عظیم فلم ثابت ہو گی جو مدتوں یاد رکھی جائے گی-کسی طرح یہ فل نہ بن سکی تو ساحر کی تباہی یقینی تھی،کیسے………..اس کا منصوبہ ساز ذہن کی منصوبے بنا کر رد کر چکا تھا-سوچ سوچ کر اس کا ذہن جواب دے چکا تھا-اس وقت اس کی یہ حالت تھی کہ انتہائی قدم اٹھانے سے بھی دریغ نہیں کرتا-وہ اس وقت اندھا دھند ڈرائیونگ کر رہا تھا-

ہر طرف شام کا ملگجا اندھیرا پھل رہا تھا-وہ وحشیانہ انداز میں ڈرائیونگ میں ڈرائیونگ کر رہا تھا-اس کے دانت بڑی سختی سے ایک دوسرے پر جمے ہوئے تھے اور ماتھے پر شکنوں کا جال پھیلا ہوا تھا-اس کی مطلوبہ کار سے اس کا فاصلہ کم ہوتا جا رہا تھا-اس کا کا اس نے بڑی بے چینی سے انتظار کیا تھا-یہ موقع قدرت نے اسے فراہم کیا تھا کہ اس کی موت حادثہ نظر آتیاور وہ صاف بچ جاتا-فاصلہ کم ہوتا جا رہا تھا-

ساحر کا ڈرائیور سمجھا کہ پیچھے آنے والی کار آگے نکلنا چاہتی ہے-اس نے سائیڈ ہو کر گارکو آگے جانے کا اشارہ دیا،مگر یہ کیا پیچھے آنے والی سفید کار تیزی سے اس کے برابر ای اور اسے ایک زوردار ٹکر ماری……….ساحر کی گاڑی تیزی سے لہری،ڈرائیور نے ماہرانہ انداز میں اس پر قابو پا لیا اور اسپیڈ بڑھا دی-ربیکا کی سریلی چیخ کر میں گونجی،ساحر بھی متوحش ہو گیا-پچھلی کر نے بھی اسپیڈ بڑھا دی تھی وہ دوبارہ اس کے برابر ا گئی-اس کی ٹکر زوردار تھی،اس بار ساحر کی کر ڈرائیور کے قابو سے باہر ہو گئی اور لہراتی ہوئی کھائی کی طرف بڑھنے لگی-ساحر اور ربیکا کی آنکھوں میں حیرت،بے یقینی اور خوف کے تاثرات منجمد ہو کر رہ گئے تھے-جبکہ ڈرائیور کر پر قابو پانے کی سر توڑ کوشش کر رہا تھا مگر بے سود،کر کھائی میں گر چکی تھی-پچھلی کر کے ڈرائیور نے مڑ کر اس کر کو کھائی میں گرتے ہوئے فاتحانہ انداز سے دیکھا اور مطمئن ہو کر کر آگے بڑھا دی-

یہ سب چشم زدن میں ہو گیا تھا-اتفاق سے ان کے پیچھے ایک مال بردار ٹرک بھی تھا جس کے ڈرائیور نے حاضر دماغی کا ثبوت دیتے ہوئے ٹکر مارنے والی کر کا نمبر نوٹ کر لیا تھا-کر کی نمبر پلیٹ لاہور کی تھی-اس حادثے کے نتیجے میں ڈرائیور موقع پر ہی ہلاک ہو گیا تھا-جبکہ لڑکی کا چہرہ لہولہان تھا مگر اس کی سانسیں چل رہی تھیں،جبکہ نوجوان بے ہوش تھا،بظاھر اس کے جسم پر کسی زخم کا نشان نہیں تھا-

ان کی قسمت نے یاوری کی تھی اس مقام پر کھائی زیادہ گہری نہیں تھی،ان کے زندہ بچ جانے کی بظاھر یہی وجہ نظر آ رہی تھی-ٹرک ڈرائیور نے مقامی لوگوں کی مدد سے ڈرائیور کی لاش اور دونوں زخمیوں کو قریب ترین اسپتال پہنچا دیا تھا-

کچھ ہی دیر میں پولیس جائے حادثہ پر پہنچ گئی تھیاور ابتدائی تفتیش مکمل کر لی تھی-ربیکا کی حالت بڑی تشویش ناک تھی اس کے چہرے اور گردن پر گھرے زخم آئے تھے-جبکہ ساحر کی ریڑھ کی ہڈی کو  پہنچا تھااور حادثے کے بعد سے وہ مسلسل بے ہوش تھا-ساحر اور ربیکا کو لاہور کے ایک بڑے اور پرائیویٹ اسپتال میں لے جایا گیا تھا،اس کی ریڑھ کی ہڈی میں فرکچر تھا-آپریشن ناکام ہوا تھا،اس کا نچلا دھڑ ناکارہ ہو گیا تھا لیکن ڈاکٹرز نے امید ظاہر کی تھی کہ ایک آپریشن بعد میں مزید کیا جائے گا جس سے وہ چلنے پھرنے کے قابل  ہو جائے گا- ربیکا کے چہرے اور گردن کے ٹشوز پھٹ گئے تھے-اسٹیچز کی وجہ سے اس کا خوبصورت چہرہ متاثر ہوا تھا-ربیکا کو اس کی ماں کسی اور اسپتال لے گئی تھیں-بہرحال ان دونوں کی جان بچ گئی تھی-

ساحر کی آنکھ اسپتال کے بیڈ پر کھلی تھی-اس نے ادھر ادھر دیکھا-بیڈ کے برابر کرسی پر ڈیڈی بیٹھے ہوئے تھے-وہ اپنی عمر سے کہیں بوڑھے دکھائی دے رہے تھے-ان کی آنکھیں سوجھی ہوئی اور چہرے پر شدید تھکن تھی-اسے ہوش میں آتے دیکھ کر وہ اس کے قریب آگئے اور اس پر جھک کر بولے-

"کیسی طبعیت ہے بیٹے؟”

"مجھے کیا ہوا ہے ڈیڈی میں اسپتال میں کیوں ہوں؟”

"تمھارے ساتھ ایک حادثہ ہو گیا تھا،تم بے ہوش ہو گئے تھے-"

"تو کیا وہ خواب نہیں تھا؟”ساحر کا لہجہ عجیب سا ہو گیا-

"ربیکا………….”اس کی آنکھوں سے وحشت جھانکنے لگی-

"شکر ہے الله کا کہ تم دونوں کی جان بچ گئی-ڈرائیور موقع پر ہلاک ہو گیا تھا.،اس کی تدفین ہو چکی ہے-اگر تمہیں فوری طبی امداد نہ دی جاتی تو ……….”

"کاش ایسا ہی ہوتا-"

"ایسا نہ کہو بیٹا،تم میری زندگی ہو-میرے جینے کا سہارا،میری  امید-"

"پولیس آئ  تھی تمہارا بیان لینے لیکن تم بے ہوش تھے وہ پوچ رہے تھے کہ کسی سے تمھاری ذاتی دشمنی تو نہیں یا کسی پر شک تو نہیں جو تمھاری جان لینا چاہتا ہو……….میں نے عادل پر شک کا اظہار کر دیا تھا،اسے پولیس نے حراست میں لے لیا ہے-"

"عادل-"اس نے دانت بھینچ کر کہا -اس کے جسم میں لہو کی گردش تیز ہو گئی تھی-

اسی وقت ایکنرس کمرے میں آئ –

"انہیں ہوش آ گیا؟”وہ بولی-"ڈاکٹر نے کہا تھا انہیں ہوش آ جائے تو انہیں اطلاع دی جائے-"

"ابھی ہوش آیا ہے”

"میں ڈاکٹر صاحب کو بلاتی ہوں-"نرس کمرے سے چلی گئی-

یہ حادثہ ،حادثہ نہیں اقدام قتل تھا گزرے ہوئے واقعات اور حالات واضح طور پر عادل کی طرف اشارہ کر رہے تھےکہ وہ مجرم تھا-شدید زخمی ہونے والے ساحر کے والد نے بھی عادل پر شک کا اظہار کیا تھا،انسپکٹر نے ایک گھنٹے کے اندر ہی اسے حادثے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے گرفتار کر لیا تھا،جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور دو شدید زخمی تھےلیکن تفتیش کی گاڑی آگے نہیں بڑھ پا رہی تھی-

عادل نے صحت جرم سے صاف انکار کر دیا تھا-حادثے میں استعمال ہونے والی کر کا بھی پتا چل گیا تھا-وہ کر چوری کی تھی-

کوئی عام آدمی ہوتا تو پولیس دو گھنٹے میں اس سے حقیقت اگلوا لیتی لیکن عادل کوئی عام آدمی نہیں تھا،ایک مشہور و مقبول فلم پروڈیوسر تھا-اس پر تھرڈ ڈگری نہیں آزمائی جا سکتی تھی-عادل نے پولیس کو حادثے کے وقت جائے حادثہ سے دوری اور لاہور میں اپنی موجودگی کے ٹھوس سبوت فراہم کر دیے تھے-پولیس کا اب اسے حراست میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں تھا-پولیس اسے آزاد کرنے پر مجبور تھی-عادل کو پولیس نے چھوڑ دیا تھا اس وارننگ کے ساتھ کہ اسے دوبارہ کسی وقت بھی طلب کیا جا سکتا ہے-اس نے  بھی پولیس کو اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا تھا-

عادل رہا ہو گیا تھا لیکن ساحر جانتا تھا کہ حادثے کے پیچھے عادل کا ہی ہاتھ ہے-وہی اس وقت اس کا بد ترین دشمن تھا- اسپتال سے وہ گھر آ گیا تھا اور وہیل چیر تک محدود تھا اس کا نچلا دھڑ بے جان تھا-وہ جسمانی اور ذہنی طور پر ٹوٹ چکا تھا،بکھر چکا تھا-وہ انتہائی افسردہ اور مایوس تھا،اس کی تو دنیا ہی تاریک ہو گئی تھی-اس کا خواب تعبیر پانے سے پہلے ہی بکھر گیا تھا-وہ خواب جس کی تعبیر کے لیے اس نے برسوں محنت کی تھی اور لامتناہی انتظار کیا تھا-اس کی وہ فلم آغاز سے پہلے ہی انجام کو پہنچ گئی تھی-اس نے خود کو اپنے کمرے میں بند کر لیا تھا-نہ کسی سے ملتا تھا نہ بات کرتا تھا،ایک رامیز ہی تھا جس سے کبھی کبھار وہ مل لیتا تھا،ورنہ تو اس نے دنیا سے مکمل طور پر کنارہ کشی اختیار کر لی تھی-رامیز سے ہی اسے پتا چلا تھا کہ ربیکا کی ماں اسے ملک سے باہر علاج کے لیے لے جانا چاہتی ہیں-

"حوصلہ رکھو ساحر تمہارا غم بہت بڑا ہے لیکن جو غم دیتا ہے وہی حوصلہ بھی دیتا ہے،بس آدمی کو ذرا ہمت سے کام لینا چاہے-تم ٹھیک ہو جو گے اور پہلے کی طرح………..”

رمز نے کہا –

"نہیں اب کچھ نہیں ہو سکتا-"ساحر نے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ چھپا لیا-اگلے ہی لمحے وہ سسک سسک کر رو رہا تھا-

"ساحر یار حوصلے سے کام لو تم تو برے ہمت والے ہو-"رامیز اس کے کندھے پر ہاتھ رکھے اسے تسلی دے رہا تھا-

ساحر نے چہرے سے ہاتھ ہتا لئے تھے لیکن اس کا جسم اب بھی لرز رہا تھا-

اس دوران متعدد بار عادل بھی اس سے ملنے کی کوشش کرتا رہا تھا-ڈیڈی اور رامیز کو نہ جانے کیسے اپنی بے گناہی کا یقین دلایا تھا مگر وہ اس پر یقین کرنے کے لیے ہرگز تیار نہیں تھا-

بیٹا ایک بار اس سے مل لو……..سن لو وہ کیا کہنا چاہتا ہے؟سچ پوچھو تو مجھے یقین نہیں  ہے کہ اس جرم کے پیچھے اس کا ہاتھ ہے-وہ تمہارا بچپن کا دوست ہے تم اس کے ساتھ پلے بڑھے ہو،ساتھ رہے ہو-"عادل اس شام ساحر کے گھر آیا تو ڈیڈی نے ساحر سے کہا تھا-

"ڈیڈی آپ نہیں جانتے وہ بچپن سے مجھ سے حسد میں مبتلا رہا ہے-میری اس حالت کا ذمہ دار صرف اور صرف وہ ہے-آپ ایسے شخص کی حمایت کر رہے ہیں-"

ساحر نے بے یقینی سے کہا تھا-

"میں اس کی حمایت نہیں کر رہا صرف یہ چاہتا ہوں کہ ایک بار اس سے مل لو وہ کئی بار آ چکا ہے-"

"اچھا بلائے-"

کچھ ہی دیر میں عادل اس کے کمرے میں موجود تھا-ساحر کو دیکھتے ہی وہ بانہیں پھیلائے اس سے ملنے کو آگے بڑھا تو ساحر نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روک دیا-

"تم یہاں کیوں آئے ہو؟میری شکست میری بے بسی کا تماشا دیکھنے؟”ساحر نے کہا –

میرے بھائی ،میرے دوست،میں اس حادثے کا ذمہ دار نہیں ہوں-میں حلف اٹھانے کے لئے تیار ہوں،میں اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ تمھاری پی در پی کامیابیوں کو دیکھ کر میں حسد میں مبتلا ہو گیا تھا مگر صرف کام اور کاروبار کی حد تک میں تمہارا حریف تھا-ذاتی طور پر تو میں تمہیں کوئی کانٹا چبھتے ہوئے بھی نہیں دیکھ سکتا-اتنے برسوں کی انتھک محنت اور ٹھوکروں کے بعد بھی میں ان خوابوں کو نہیں پا سکا جو ہم دونوں نے مل کر دیکھ تھے اور تم آتے ہی اس انڈسٹری پر چھا گئے تھے-میں تمہارے کام میں رخنے ڈال رہا تھا مگر تمہیں یا تمہاری ٹیم کو کوئی تکلیف دینے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا-"

"بس بند کرو اپنی فالتو باتیں ،اور نکل جو میرے گھر سے مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی-"ساحر نے اس کی طرف سے منہ پھیر لیا-"مجھے غلط نہ سمجھو دوست-"عادل نے شرمندگی سے کہا -"تمھاری اس حالت پر میں بہت رنجیدہ ہوں-اس المیے نے ہمارے درمیان ہر اختلاف کو ختم کر دیا ہے-میں غلطی پر تھا مجھے معاف کر دو-"وہ زمین پر اس کے قدموں میں بیٹھا کہہ رہا تھا-"میں تمہارا وہی دوست ہوں،جو تم سے محبت کرتا تھا-تمھارے ساتھ گھر والوں سے چھپ چھپ کر فلمیں دیکھتا تھا-"

اس بار ساحر سے ضبط نہ ہوا اور وہ رونے لگا-عادل بھی پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا-

"فکر نہ کرنا دوست تمہارا وہ خواب ضرور پورا ہوگا-"عادل نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا اور آنسو پونچھتا ہوا وہاں سے اٹھ کر چلا گیا-

یہ عادل سے اس کی آخری ملاقات تھی-پھر عادل کہیں روپوش ہو گیا تھا-وہ لاہور میں نہیں تھا-اس کے عزیز و اقارب کو بھی معلوم نہیں تھا یا وہ اس کی روپوشی پر پردہ ڈال رہے تھے-بہرحال کس کو معلوم نہیں تھا کہ عادل کہا ں  گیا -اس کی زیر تکمیل فلمیں التوا کا شکار تھیں،فلمساز اور دیگر متعلقین اسے تلاش کرنے میں ناکام رہے تھے-

ربیکا کے بارے میں پتا چلا تھا کہ وہ اپنے علاج کے سلسلے میں لندن چلی گئی تھی اور ہنوز واپس نہیں آئ  تھی-

تین سال کا طویلعرصہ گزر چکا تھا-اس دوران ساحر کے متعدد آپریشن ہوئے تھے بلآخر خدا کے فضل سے وہ بلکل ٹھیک ہو گیا تھا لیکن اس نے پلٹ کر فلم انڈسٹری کی طرف دیکھا بھی نہیں تھا-اب وہ اپنے ڈیڈی کا بزنس سنبھال رہا تھا-وقت نے بہت سے زخموں پر مرہم رخ دیا تھا-اس کی زندگی رواں دوں اور پر سکوں تھی بس کبھی کبھی ایک کسک سی اس کے دل میں ہوتی تھی-اس کا خواب ادھورا رہ جانے کی کسک-

اس حادثے کی تفتیش میں پولیس ناکام رہی تھی اور اصل مجرم کا سراغ انہیں نہیں مل سکا تھا-اس کس کی فائل پر وقت کی دھول جم گئی تھی کہ اس پولیس اسٹیشن میں جہاں حادثے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا،ایک نیا انسپکٹر تبادلہ ہو کر آیا تھا-انسپکٹر جہاں زیب ایک ذہین،دیانت دار اور فرض شناس افسر تھا اس نے اس کس پر از سر نو تفتیش شروع کر دی تھی-

کڑیوں سے کڑیاں  ملتی گئیں-اور تفتیش کا دائر لاہور کے علاقے ڈیفنس تک پھل گیا جہاں مجرم کی رہائش گاہ تھی-

یہ ایک متمول گھرانے کا چشم و چراغ تھا-جب انسپکٹر جہاں زیب نے ساحر کے ڈرائیور کے قتل اور ساحر اور ربیکا کو شدید زخمی کرنے کے الزام میں اسے گرفتار کیا تو اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ اتنے عرصے بعد پولیس اسے گرفتار کر لے گی-

وہ پولیس کی تفتیش کے سامنے زیدہ دیر نہیں ٹہر سکا اور اس نے اقبال جرم کر لیا-اسی سلسلے میں انسپکٹر جہاں زیب نے ساحر کو پولیس اسٹیشن بلایا تھا-

ٹھکرائے جانے کا احساس کسی جذباتی فرد کے لیے بڑا شدید ہوا کرتا ہے جو اسے ایک پل بھی چین نہیں لینے دیتا اور یہاں تو اس لڑکی نے اسے ٹھکرایا تھا جسے اس نے بچپن سے اپنے دل میں بسایا ہوا تھا-وہ طاقتور،گھمنڈی اور جذباتی نوجوان تھا،وہ اس سے انتقام لینا چاہتا تھا،منگنی توڑ کر ربیکا نے اس کے منہ پر تمانچہ مرا تھا-وہ اپنی یہ ہتک بھولا نہیں تھااور اس دن اخبار میں ربیکا کی تصویر دیکھ کر اور فلمی دنیا میں اس کی وابستگی کی تفصیل پڑھ کر تو وہ غصہ میں آپے سے باہر ہو گیا تھا-ربیکا کا فلم میں کام کرنا اس نے اپنے اور اپنے خاندان کے لیے بے عزتی تصور کیا تھا-………اس خبر نے اس کے جذبہ انتقام کو سہ آتشہ کر دیا تھا-

اس کے بعد فردین ربیکا کی کھوج میں رہنے لگا تھا اور مسلسل اس کا تعاقب کرتا رہتا تھا-جلد ہی اسے معلوم ہو گیا تھا کہ وہ ساحر کے ساتھ فلم کی شوٹنگ کے لیے شمالی علاقوں کی طرف جا رہی ہے-یہ اس کے لیے بہترین موقع تھا،وہاں راستے بڑے دشوار گزر تھے-وہ ربیکا کی موت کو بڑی آسانی سے حادثے کا رنگ دے کر صاف بچ سکتا تھا-

ساحر سے اس کی کوئی دشمنی نہیں تھی-وہ تو صرف ربیکا سے انتقام لینا چھٹا تھا………لیکن اس حادثے میں ساحر اور ربیکا بچ گئے تھے اور ایک بے گناہ انسانی جان ضایع ہو گئی تھی-

اس کا اتیقام ادھورا رہ گیا تھا-ربیکا ملک سے باہر علاج کی غرض سے چلی گئی تھی-یوں وہ اس کی پہنچ سے بہت دور ہو گئی تھی-بے گناہ ڈرائیور کا لہو رائیگاں نہیں گیا تھا-اتنے عرصے بعد اس نے فردین کو پھانسی کے پھندے تک پہنچا دیا تھا-

فردین کو قانون کے شکنجے میں دیکھ کر ساحر حیران رہ گیا تھا-عادل کے حوالے سے وہ اپنے دل میں ندامت محسوس کر رہا تھا-

اس کی بد گمانی سے عادل اتنا دل برداشتہ ہوا تھا کہ فلم انڈسٹری ہی چھوڑ گیا تھا-"کہاں ہو دوست آ جاؤ،میں بہت شرمندہ ہوں-"ساحر نے سوچا تھا-

اس دن رامیز ساحر کے آفس میں اس کے سامنے بیٹھا کہ رہا تھا-

"تم نے کچھ سنا ساحر عادل اپنی کسی فلم کی شوٹنگ کر رہا ہے-پچھلے دنوں اسے لاہور میں دیکھا گیا تھا-اس کی فلم تکمیل کے آخری مراحل میں ہے-"

"کیا؟”ساحر اچھل پڑا "کہاں ہے وہ؟”

"آج کل وہ لاہور سے باہر آوٹ دور شوٹنگ کر رہا ہے-"

"اچھا جیسے ہی وہ لاہور آئے مجھے اطلاع ضرور دینا-"

"ہوں-"پھر کچھ دیر ادھر ادھر کی باتیں کر کے وہ چلا گیا تھا-

ایک مہینہ بیت گیا تھا عادل کی کوئی خیر خبر نہیں تھی نہ ہی عادل اس سے ملنے آیا تھا بلکہ آج ہی اسے عادل کی فلم "آزادی” کے پریمیئر شو کا دعوت نام موصول ہوا تھا-

پریمیئر شو میں فلم انڈسٹری کے بڑے بڑے لوگ مدعو تھے ان میں صحافی بھی موسجود تھے-ساحر ڈیڈی کے ساتھ آیا تھا-وہ ڈیڈی کے ساتھ بیٹھا باتیں کر رہا تھا-اس نے ہال میں چاروں طرف نظر دوڑائی عادل اسے کہیں نظر نہیں آیا-

فلم شروع ہوتے ہی ہال میں سناٹا چھا گیا-پہلے سین کو دیکھ کر ہی سب متحیر رہ گئے-عادل مہدی جو فارمولا فلموں کا روایتی ہدایت کار تھا اس سے اتنی مؤثر انتیدے منظر کی عکس بندی کی توقع نہیں تھی-یہ ایک صحرا کا منظر تھا،جسے عادل نے اپنی تمام تر جزیات کے ساتھ فلمایا تھا-اس خوبی کی توقع عادل سے نہیں کی جا سکتی تھی-جوں جوں فلم آگے بڑھتی گئی،لوگوں پر ایک سحر سا طاری کرتی گئی-ہر شخص محویت کے عالم میں فلم میں کھویا ہوا تھا-ہر چیز حقیقی اور جان دار تھی-ہیروئن کے روپ میں ربیکا و دیکھ کر وہ بری طرح چونکا ……….وہ اپنے کردار میں مکمل طور پر دہلی ہوئی تھی……..ربیکا سے وہ اتنی اچھی اداکاری کی توقع نہیں کر سکتا تھا-……..وہ اگر یہ فلم بناتا تو اتنے بھرپور تاثرات کے ساتھ فلم بند نہیں کر سکتا تھا-ساحر نے سوچا-نے سوچا-وہ محویت کے عالم میں اپنے خواب کی تعبیر دیکھ رہا تھا-

عادل نے فلم کے ایک ایک شاٹ پر محنت کی تھی-وہ فلم ساحر کے تصور سے بڑھ کر ثابت ہو رہی تھی-عادل کوخود بھی یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ فلم اس نے بنائی ہے-اسے بنانے کے لیے اس نے بڑی محنت کی تھی-ربیکا کی صحت یابی اور پلاسٹک سرجری کے جانگسل مشکلات کو سہا تھا-جب جا کر اس خواب کو تعبیر ملی تھی اور یہ اس کی محنت کا صلہ ملنے کا دن تھا-وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ اتنی خوبصورت اور با مقصد فلم بھی بنا سکتا ہے-یہ اس کے لیے بہت بڑا اعزاز تھا-

اچانک پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا-عادل نے متلاشی نظروں سے ساحر کی طرف دیکھا جہاں ستائش کی تحریر لکھی تھی-فلم کی کامیابی اور مقبولیت کی سند اسے مل گئی -وہ خوشی سے کھل اٹھا-فلم ختم ہو گئی تھی-………ساحر اسکرین پر نظریں جمائے ہوئے تھا فلم کے ٹائٹل آ رہے تھے…….آخری آنے والا ٹائٹل اس کے لیے دھماکا خیز تھا-ہدایت کار ساحر مرد……….ساحر نے بے یقینی سے اسکرین کو دیکھا لیکن یہ اس کی نظروں کا وہم نہیں تھا……..وہ اسی کا نام تھا،وہ فوت فوت کر رونے لگا-

لوگ ہال سے باہر نکل رہے تھے……مگر وہ دونوں ہاتھوں سے چہرہ چھپائے روئے جا رہا تھا………اسے نزدیک ہی کسی کے قدموں کی چاپ سنی دی-اس نے آنسوؤں سے بھیگا ہوا اپناچہرہ اوپر اٹھایا……….سامنے عادل کھڑا تھا-

وہ جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا-تم نے ایسا کیوں کیا عادل………یہ فلم تمھاری ہے تم نے اس پر میرا نام کیوں دیا؟”

جواباً عادل نے اسے سینے سے لگا کر بھینچ لیا-"دوست خواب چھینٹے نہیں بلکہ انہیں تعبیر دیا کرتے ہیں-"اس کے لہجے میں اپنایت تھی-

اتنے عرصے تم نے پلٹ کر میری خبر ہی نہیں لی-ساحر نے شکایت کی-

"تمھارے اس جنون نے مجھے مہلت ہی نہیں دی-"

"کوئی بات نہیں،تم نے اس فلم کی شکل میں مجھے وہ تحفہ دیا ہے جس کا کوئی بدل نہیں،آج تمہیں مجھ سے ایک وعدہ بھیکرنا ہو گا،آج کے بعد تم ایسی ہی صاف ستھری با مقصد فلمیں بناؤ گے-ہمیں اپنی قوم کو ایجوکیڈ کرنا ہے انہیں مفید اور اچھا انسان بنانا ہے -"

بے شک ہم دونوں مل کر ایسی ہی خوبصورت اور با مقصد فلمیں بنائیں گے-"

"ویسے مجھے حیرت اس بات پر ہے کہ تم نے ربیکا سے اتنی اچھی اداکاری کیسے کروالی -ربیکا نے تو کمال کردیا-"

"میں نے تم سے پہلے ہی کہا تھا وہ بڑی با صلاحیت ہے لو وہ آگہی خود ہی اس کے سامنے اس کی تعریف کر دو-اس نے بڑی محنت کی ہے-"وہ دبدبے آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا میک اپ سے بے نیاز سادہ لباس میں وہ بہت خوبصورت اور باوقار لگ رہی تھی-اس نے ساحر کو سلام کیا اور شمیلے انداز میں کہا  –

"میں نے آپ کو مایوس تو نہیں کیا ؟”

"نہیں تم نے تو کمال کر دیا -"

"تمہارا خواب تو پورا ہو گیا بیٹا،میرے خواب کا کیا ہو گا؟” اسی وقت اچانک ڈیڈی نے کہا –

"کونسا خواب ڈیڈی -"ساحر نے چونک کر کہا –

میری بھو اور پوتے پوتیوں کا خواب-"

"آپ کا خواب ربیکا کی شکل میں یہاں موجود ہے-ساحر کے لیے اس کے دل میں چھپی محبت کا میں گواہ ہوں-اس عرصے میں پل پل اس نے تمہیں یاد کیا ہے-"عادل نے ساحر کی طرف دیکھ کر کہا

ربیکا نے چونک کر عادل کو دیکھا پھر مسکرا کر سر جھکا لیا-

                                               *****************************************

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

عورت زاد امجد جاوید قسط نمبر 9

عورت زاد امجد جاوید قسط نمبر 9 باقی کاریں بھی اندر آ رہی تھیں۔ نویرا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے