سر ورق / کہانی / خود غرض محبت۔۔۔ سید بدر سعید

خود غرض محبت۔۔۔ سید بدر سعید

 

وائٹ کالر مجرم

شمائلہ سے میری پہلی ملاقات دارالحکومت کے ایک فائیو سٹار ہوٹل کی لابی میں ہوئی تھی ۔اس ملاقات میں میاں رشید احمد بھی موجود تھا بلکہ یوں سمجھ لیں کہ شمائلہ سے ملاقات کا انتظام بھی اسی نے کیا تھا۔ میاں رشید اچھو ڈکیت کا بیٹا تھا۔ اچھو ڈکیت اپنے زمانے میں علاقے کا مشہور ڈکیت تھا ،پھر بڑھاپے میں اس نے ڈیرے داری شروع کردی۔ اس کے ڈیرے پر جوئے کی محفل جمتی تھی۔ شراب ،کباب اور اسلحہ سمیت وہاں پر ہر قابل ذکر دو نمبر دھندہ ہوتا تھا۔ اچھو ڈکیت اشتہاری مجرم تھا۔ اس کے باوجود علاقے کا تھانیدار اس کے ڈیرے کا رخ نہیں کرتا تھا۔ اچھو نے آخری عمر میں مجرموں اور پولیس کے معاملات نمٹانا شروع کر دیئے اور صلح صفائی کے معاملات طے کرنا شروع کر دیئے۔ میاں رشید اسی اچھو ڈکیت کا بیٹا تھا۔ اس کا خاندانی پس منظر دیکھ کر خیال آتا ہے کہ ضرور ایسا شخص مار دھاڑ کرنے والا ہو گا لیکن ایسا ہرگز نہیں تھا۔

میاں رشید ماسٹر ڈگری ہولڈر تھا۔ اس کے اٹھنے بیٹھنے سے لگتا تھا کہ اس کا تعلق ایلیٹ کلاس سے ہے۔ وہ منہ ٹیڑھا کرکے انگلش بول سکتا تھا اور شہر کے بڑے کلب میں اٹھتا بیٹھتا تھا۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ اچھو ڈکیت کا بیٹا جرائم کی دنیا سے کٹ گیا تھا بلکہ سچ تو یہ تھا کہ اس نے کم عمری میں ہی اپنے باپ سے کہیں زیادہ دولت کما لی تھی۔ یہ ساری دولت جرائم کے ذریعے ہی حاصل کی گئی تھی۔ دارالحکومت میں ہی نہیں بلکہ ملک بھر کے کئی اضلاع میں اس کے خلاف سنگین جرائم کے مقدمات درج تھے لیکن کہیں بھی اس کا اصل نام اور شناخت نہیں تھی۔ اس چیز کا فائدہ میاں رشید خوب اٹھا رہا تھا۔ جس وقت وہ دارالحکومت کے فائیو سٹار ہوٹل کی لابی میں میرے سامنے بیٹھا تھا ،اس وقت بھی مجھے بخوبی معلوم تھا کہ اس ماڈرن نظر آنے والے نوجوان کے خلاف متعدد مقدمات درج ہیں ۔دوسری جانب مجھے یہ بھی معلوم تھا کہ وہ ایک ہفتے سے اس ہوٹل میں قیام پذیر ہے اور اسے کسی قسم کی گرفتاری کا کوئی ڈر نہیں ہے۔

اچھو ڈکیت نے بہت پہلے ہی بھانپ لیا تھا کہ آنے والے دور میں ڈیرے داری اور اسلحہ کے بل پر بدمعاشی کا کلچر ختم ہو جائے گا۔ اچھو ڈکیت خود تو اس کلچر سے الگ نہ ہو سکا لیکن اس نے اپنے بیٹے کو آنے والے دور کے مطابق تیار کرنا شروع کردیا۔ شیدے نے انگلش میڈیم تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کی۔ مہنگی یونیورسٹی سے ڈگری بھی حاصل کی ۔دوسری طرف اچھو نے اسے ہاتھ کی صفائی، اسلحہ کا استعمال اور روایتی لڑائی بھڑائی میں بھی طاق کر دیا۔ ڈگری لینے کے بعد شیدا ایک پڑھے لکھے نوجوان کے روپ میں سامنے آیا تو اس کا نام میاں رشید تھا۔ اس نے کسی حد تک علاقائی سیاست میں بھی حصہ لیا اور دکھاوے کے لئے دو تین فیکٹریاں بھی لگالیں۔ اس مہذب کاروبار کے سائے میں اس نے اپنا اصل خاندانی کام شروع کر دیا۔ وہ ایک ڈکیت کا بیٹا تھا اور اس کی جڑیں زیر زمین چلنے والے انہی دھندوں سے جڑی ہوئی تھیں۔ آپ اسے مہذب ڈکیت کہہ سکتے ہیں۔ میاں رشید نے اپنا الگ گروہ بنایا۔ اس کے گروہ میں پڑھے لکھے لوگ شامل تھے۔ ان لوگوں نے اسلحہ کی بجائے جدید ٹیکنالوجی کو اپنا ہتھیار بنایا۔ یہ ایسے ڈکیت تھے جنہیں معاشرے میں معزز سمجھا جاتا تھا۔ ابتدا میں اچھو کے ساتھیوں نے اس کے اس فیصلے کی سخت مخالفت کی تھی لیکن جب رشید نے اپنے پہلے ”کیس“ میں ہی بڑی رقم حاصل کر لی تو اس پر باقاعدہ جشن منایا گیا تھا۔

میاں رشید کو دھوکے، فراڈ سمیت وائٹ کالر جرائم کا ماہر سمجھتا جاتا تھا۔ بھیس بدلنے سے لے کر مہذب ڈکیتیاں، بنک فراڈ اور غبن میں اسے اس قدر مہارت حاصل تھی کہ لٹنے والوں کو لٹ جانے کے بعد بھی اپنے لٹنے کا یقین نہیں آتا تھا۔ اس روز میں ایک سٹوری کے سلسلے میں میاں رشید سے ملنے گیا۔ میری چونکہ اچھو ڈکیت سے بھی سلام دعا تھی اس لئے میاں رشید بھی میرا بہترین ”سورس“ تھا۔ وائٹ کالر جرائم کی اکثر خبریں مجھے اسی کے ذریعے ملتی تھیں۔ اس روز شمائلہ بھی اس کے ساتھ تھی ۔میاں رشید نے ہی شمائلہ سے تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ وہ اس کے گروہ کی اہم رکن ہے۔ شمائلہ کم عمر لڑکی تھی، یوں لگتا تھا کہ جیسے وہ ابھی یونیورسٹی کی طالبہ ہے لیکن اس کے انداز سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ اپنے حسن اور قدرتی معصومیت کے ہتھیاروں کو استعمال کرنا بخوبی جانتی ہے۔ اس کے انداز میں قدرتی معصومیت تھی اور وہ گفتگو کے دوران اسی بھرپور معصوم لہجے میں گالیاں بکنے کی بھی عادی تھی۔

میاں رشید نے بتایا کہ شمائلہ بنک ڈکیتی کی دو کامیاب وارداتیں کر چکی ہے۔ اب وہ اس سے بھی بڑے کیس ہینڈل کر رہی تھی۔ اسی روز گفتگو کے دوران معلوم ہوا کہ شمائلہ ایک ارب پتی بزنس مین کے ساتھ اسی ہوٹل میں ٹھہری ہوئی ہے۔ اس نے حال ہی میں اس بوڑھے بزنس مین سے شادی کی تھی۔ یہی اس کا دھندہ تھا ۔وہ امیر مگر بوڑھے افراد کو اپنے عشق کے جال میں پھنساتی اور پھر ان سے شادی کر لیتی تھی۔ عام طور پر اس کی ان سے پہلی ملاقات اسی طرح کسی فائیو سٹار ہوٹل میں ہوئی تھی۔ وہ انتہائی معصومانہ انداز میں اس کے قریب ہو جاتی اور پھر دونوں خفیہ شادی کر لیتے تھے۔ چونکہ شادی خفیہ ہوتی تھی اس لئے عام طور پر شمائلہ کسی فائیو سٹار ہوٹل میں ہی رہائش اختیار کرنے پر اصرار کرتی یا پھر اس کا شوہر اسے رہنے کے لئے کوٹھی خرید دیتا تھا۔ محض چند ماہ میں ہی شمائلہ اس سے جائیداد کا بڑا حصہ اپنے نام کروا لیتی اس کے علاوہ بنک میں بھاری رقم، مہنگی جیولری اور دیگر خریداری تو لازم ہوتی تھی۔ کچھ عرصہ بعد یا تووہ بزنس مین کسی حادثے میں مارا جاتا یا پھر شمائلہ اس سے طلاق لے لیتی۔ یہ بتانے کی ضرورت ہی نہیں کہ ایسے ”مرغے“ کے ساتھ پیش آنے والا حادثہ مکمل منصوبہ بندی کے بعد ترتیب دیا جاتا تھا۔ شمائلہ اور اس کے خفیہ نکاح کا ریکارڈ پہلے ہی غائب ہو چکا ہوتا تھا ویسے بھی ہر بار شمائلہ کا نام اور شناخت تبدیل ہوتی تھی۔

                اس ہوٹل میں ہی میں نے شمائلہ سے پوچھا کہ اگر تمہارے شوہر نے تمہیں ہمارے ساتھ بیٹھے دیکھ لیا تو تمہاری ساری گیم خراب نہیں ہو جائے گی۔ اس نے بے ساختہ ہنستے ہوئے کہا کہ ”بڈھے کو تو میں افیون کھلا کر آئی ہوں، شام کو ہی اٹھے گا“۔ یہیں انکشاف ہوا کہ اسی ہوٹل میں شمائلہ کا ایک اور امیر بوڑھے سے بھی معاشقہ شروع ہو چکا ہے۔ اب وہ جلد ہی پہلے شوہر سے جان چھڑا کر دوسرے شوہر کو کنگال کرنے کے لئے پرتول رہی تھی۔ اس سارے دھندے میں اصل کردار شمائلہ کا ہوتا تھا لیکن شمائلہ کے نام ٹرانسفرہونے والی ساری جائیداد میاں رشید کے نام منتقل ہوتی جاتی تھی۔ ”کیس“ حل ہونے کے بعد اس رقم کو گروپ کے سبھی اراکین میں بانٹا جاتا تھا۔ سب سے زیادہ حصہ میاں رشید کا ہوتا تھا۔ اس کے بعد شمائلہ کو رقم ملتی اور پھر گروپ کے باقی اراکین کو حصہ دیا جاتا۔ شمائلہ اسی طرح بیک وقت کئی اور فراڈز میں بھی ملوث تھی۔ وہ سافٹ ویئرز کی ماہر تھی۔ اس نے آن لائن کئی فراڈ کئے اور لوگوں کو خوب لوٹا۔ کئی اہم سرکاری افسر اس کی زلفوں کے اسیر تھے۔ وہ ان افسروں کو اپنے بچاﺅ کے لئے استعمال کرتی تھی۔ اکثر سرکاری افسر اسے خوش کرنے کے لئے بڑے بڑے گھپلے بھی کر چکے تھے۔ وہ صحیح معنوں میں اڑتی تتلی تھی جس نے کئی ایک کو بیک وقت اپنے پیچھے لگا رکھا تھا۔ اس کی ماں کا تعلق بازار حسن تھا ۔یہ سارے داﺅ پیچ اسے وراثت میں ملے تھے لیکن اچھو ڈکیت کی طرح شمائلہ کی ماں بھی آنے والے دور کی چال پہچان گئی تھی لہذا اس نے بھی شمائلہ کو اعلی تعلیم دلائی اور ماڈرن انداز میں لوگوں کو لوٹنے کا ہنر سکھایا ۔ میاں رشید کے گروپ کے سبھی اراکین ایسے ہی پس منظر کے حامل تھے۔

میری میاں رشید اور اس کے گروہ سے متعدد ملاقاتیں ہوئیں ۔ان کی بدولت مجھے معلوم ہو جاتا تھا کہ دارالحکومت میں کس قسم کے وائٹ کالر جرائم جنم لے رہے ہیں۔ انہوں نے جدید کمپیوٹر سسٹم کے تحت ایک مکمل ”آپریشن روم“ بھی بنا رکھا تھا۔ میں نے متعدد رپورٹس انہی سے ملنے والی اطلاعات کی بنیاد پر فائل کی تھیں۔ شمائلہ کو میں ”خوبصورت ناگن“ کہا کرتا تھا جو آخری وقت تک اپنے شکار کو علم نہ ہونے دیتی تھی کہ اسے ڈس لیا گیا ہے۔ شمائلہ سے پہلی ملاقات کو لگ بھگ ڈیڑھ برس بیت گیا تھا۔ ایک روز معلوم ہوا کہ شمائلہ کو قتل کر دیا گیا ہے۔ بتانے والے نے اس کی تصویر دکھائی تو میں فورا پہچان گیا کہ یہ شمائلہ کی تصویر ہے۔ پولیس کو اس کی تشدد زدہ لاش گندے نالے کے پاس سے ملی تھی۔یہ خبر ملتے ہی میں میاں رشید کے ”آپریشن روم“ چلا گیا ،میاں رشید مجھے وہیں مل گیا۔ وہ شراب سے دل بہلا رہا تھا لیکن ہوش و حواس میں تھا۔ میرا خیال تھا کہ وہ شمائلہ جیسے ”ہیرے“ کو کھو دینے کا غم غلط کر رہا ہے لیکن ایسا نہیں تھا۔ شمائلہ کے بارے میں اس سے بات کی تو وہ اسے ننگی گالیاں بکنے لگا۔ وہیں مجھے معلوم ہوا کہ میاں رشید ہی نے شمائلہ کو قتل کروایا ہے۔ وہ اسے غدار قرار دے رہا تھا۔ اس کے مطابق شمائلہ اسے دھوکا دے رہی تھی۔ وہ ”مرغوں“ سے ملنے والی جائیداد اور رقم کا ایک بڑا حصہ خفیہ طور پر محفوظ کر رہی تھی اور اس بارے میں گروہ کو بھنک بھی نہیں پڑنے دے رہی تھی۔ یہ جائیدادیں اور رقم وہ ایک درمیانی ”رابطے“ کے نام منتقل کروا دیتی جو اسے شمائلہ کی ماں کے نام منتقل کرا دیتا۔ کسی وجہ سے میاں رشید کو اس پر شک ہوا تو اس نے خفیہ طور پر انکوائری شروع کرا دی۔ اس کے ہاتھ ثبوت لگ گیا کہ شمائلہ واقعی اسے دھوکا دے رہی ہے۔ اس نے شمائلہ پر بدترین تشدد کرایا۔ قطرہ قطرہ تیزاب اس کے جسم پر گرا کر انتہائی اذیت دینے کے بعد شمائلہ کو قتل کر دیا گیا۔

شمائلہ اپنا کردار ادا کرکے مر گئی تھی۔ میں نے اس خوبصورت لڑکی کی تشدد شدہ لاش بھی دیکھی ۔اس نے مختصر مگر بھرپور زندگی گزاری تھی ۔ اس کے دن رات فائیو سٹار ہوٹلوں میں گزرتے تھے اور اس کے نام اربوں کی جائیدادیں منتقل ہوتی رہیں۔ اس کے باوجود وہ تیس برس تک بھی زندہ نہ رہ سکی۔ اس کے مرنے کے بعد اخبارات نے ”گندے نالے سے دوشیزہ کی لاش برآمد“ جیسی سرخیاں لگائیں اور پھر شمائلہ کی کہانی ہمیشہ کے لئے دفن ہو گئی۔ میاں رشید نے اس کا کردار ایک اور لڑکی کو دے دیا۔ جو کام پہلے شمائلہ کرتی تھی اب وہی کام حوریہ کرنے لگی۔ میاں رشید جیسوں کے پاس ایسے خوبصورت مہروں کی کمی نہیں ہوتی۔ اچھو ڈکیت کا بیٹا اب ایک بااثر سیاست دان بن چکا ہے۔ شہر میں اس کے کئی کاروبار ہیں۔ اعلی شخصیات اس کے ڈرائنگ روم میں کھانا کھانے کو اعزاز سمجھتی ہیں۔ فلمی اداکارائیں اس کے ساتھ شام گزارنے پر فخر کرتی ہیں۔ اس کے باوجود اچھو ڈکیت کے بیٹے کا اصل دھندہ اسی طرح جاری ہے۔ اس کے ”آپریشن روم“ میں ”گرے ٹریفک“ سے لے کر ہر طرح کا جدید جرم ہوتا ہے۔ یہ وائٹ کالر مجرم اب شہر کے معززین میں شمار ہوتے ہیں جبکہ ان کے لئے کام کرنے والی ”شمائلہ“ اب بھی غداری کے جرم میں قتل کر دی جاتی ہیں

خود غرض محبت

قتل کی اس واردات کے وقت میں قاتل کے گھر پر ہی تھا ۔وہ میرا بہت اچھا دوست تو نہیں تھا لیکن اس کے ساتھ اچھی جان پہچان ضرور تھی۔ یہ واردات جھنگ کے نواحی علاقے میں ہوئی تھی۔ میرے دوست ملک عباس کا تعلق اسی گاﺅں سے تھا۔ ملک عباس سے میری دوستی انٹرمیڈیٹ میں ہوئی۔ وہ جھنگ سے پڑھنے لاہور آیا اور پھر اسی شہر کا ہو گیا۔ یہاں اس نے ٹریول ایجنسی کھول لی البتہ اپنے گاﺅں سے اس کا رشتہ کمزور نہ ہوا۔ ہم چند دوست اس کے ساتھ اکثر جھنگ جایا کرتے تھے۔ وہیں میری شریف سے پہلی بار ملاقات ہوئی اور پھر اچھی جان پہچان ہو گئی۔ شریف گاﺅں کے انہی لڑکوں جیسا تھا جو کچھ نہیں کرتے۔ وہ اپنے باپ کے ساتھ زمینوں کی دیکھ بھال کرتا تھا اور دوستوں کی محفلیں جماتا، کبھی کبھار رات گئے ان محفلوں میں ہیر سنی جاتی اورکبھی موڈ ہوتا تو شہر سے ناچنے والیاں بلا کر داد عیش دی جاتی۔ البتہ ناچ گانے کی محفل کو بڑے بوڑھوں سے خفیہ رکھا جاتا تھا۔ اس مقصد کے لئے کھیتوں میں موجود ڈیرہ استعمال میں آتا تھا۔ ایک شام خبر ملی کہ شریف کے والد صاحب گھر میں اتفاقیہ حادثے میں جاں بحق ہو گئے ہیں۔ میں اس وقت دفتر میں رپورٹ فائل کر رہا تھا۔ ملک عباس کا فون آیا تو میں نے اگلے روز کی چھٹی کی درخواست جمع کرائی اور ہم اسی شام جھنگ کے لئے نکل کھڑے ہوئے۔ اگلے روز قل خوانی تھی۔ اس رات پولیس نے شریف کو گرفتار کر لیا۔گرفتاری کے وقت ہم اکٹھے بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ ابتدائی طور پر صرف اتنا معلوم ہو سکا کہ اسے گاﺅں میں ہی ہونے والے ایک اور قتل کے شبہ میں گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ قتل عین اسی وقت ہوا جب شریف کے والد کے ایصال ثواب کے لئے قرآن خوانی ہو رہی تھی۔ اس موقع پر شریف بھی موجود تھا۔ مجھے ہی نہیں بلکہ وہاں موجود ہر شخص کو اس بات پر حیرت تھی کہ ایک ہی شخص بیک وقت دو جگہ کیسے ہو سکتا ہے۔ ہمارا کہنا تھا کہ شریف اپنے والد کے لئے ہونے والی قرآن خوانی کے وقت اپنے گھر میں تھا، وہی سپارے اور گھٹلیاں لے کر آیا تھا اور دعا کے بعد وہی سب کو کھانا کھلانے میں پیش پیش تھا۔ دوسری جانب پولیس کا اصرار تھا کہ عین اسی لمحے ہونے والے قتل کا اصل مجرم شریف تھا۔ ایک خاتون قتل ہوئی تھی جس کے بارے میں پولیس اصرار کر رہی تھی کہ شریف نے اپنے ہاتھ سے قتل کیا ہے۔

ابتدائی طور پر جو صورت حال پیش آئی اس نے ہمیں چکرا کر رکھ دیا۔ شریف کو پولیس گرفتار کرکے لیجا چکی تھی۔ اگلے روز معلوم ہوا کہ اس سے اس کے اپنے باپ کو قتل کرنے کا اعتراف بھی کرا لیا گیا ہے۔ ایک ہی دن میں وہ پولیس ریکارڈ میں دوہرے قتل کا ملزم بن گیا تھا۔ یہ سب میری موجودگی میں ہوا تھا۔ میں اس کے والد کے جنازے پر آیا تو شریف معصوم انسان تھا، اگلے روز اسے میرے سامنے قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور اس سے اگلے روز ایک اور قتل کا اعتراف بھی کرا لیا گیا۔ اس صورت حال میں میری دلچسپی کا کافی سامان تھا ۔میں نے اس کیس میں دلچسپی لینی شروع کر دی اور بطور کرائم رپورٹر اس معاملے کو دیکھنے لگا۔ چند اعلی پولیس افسروں سے فون کرایا تو تھانیدار بھی اچھے انداز میں تفصیلات بتانے لگا۔ اس کیس کی تفصیل مجھے پولیس ریکارڈ، تھانیدار اور شریف سے گفتگو کے ساتھ ساتھ اس علاقے کے لوگوں سے معلوم ہوئی۔ کہانی کے تسلسل کو جاری رکھنے کے لئے اسے مربوط کر رہا ہوں لیکن یاد رہے کہ کوئی بات پہلے معلوم ہوئی اور کوئی بات بعد میں معلوم ہوئی تھی۔

قتل کی ان وارداتوں کے پیچھے محبت کا ایک کھیل چل رہا تھا۔ شریف کو اسی گاﺅں کی ایک لڑکی ہیر سے محبت تھی۔ اس نے پیش قدمی کی تو ہیر بھی اس کی جانب مائل ہو گئی۔ بظاہر محبت کا یہ کھیل چوری چھپے جاری تھا۔ وہ کھیتوں اور ڈیرے پر ملتے، کسی درخت کے نیچے بیٹھ کر خود کو ہیر رانجھا سمجھتے اور لوگوں کے سامنے اسی طرح نظر آتے جیسے دونوں کے درمیان ایسا کوئی چکر نہیں ہے۔ دوسری جانب ان کے قصے گاﺅں بھر میں پھیل رہے تھے۔ دیکھنے والے جب کسی محفل میں چٹخارے لے لے کر ان کا قصہ سناتے تو زیب داستان کے لئے اس میں مزید تڑکا بھی لگا دیتے۔ یہ صورت حال دونوں گھرانوں کے لئے قابل تشویش تھی۔ انہی دنوں ہیر کی ماں نے اس کی شادی کر دی جبکہ شریف کی تمام تر منتوں کے باوجود اس کے گھر والوں نے ہیر کا رشتہ مانگنے سے انکار کر دیا۔ ہیر رخصت ہو کر قریبی گاﺅں چلی گئی جبکہ شریف کچھ دن لوٹ پوٹ ہونے کے بعد دوبارہ پہلے کی طرح کھیتوں میں اپنے والد کا ہاتھ بٹانے لگا۔ کہانی میں اصل موڑ اس وقت آیا جب شادی کے چھ ہی ماہ بعد ہیر گاﺅں لوٹ آئی۔ اس کا شوہر بہتر مستقبل کی تلاش میں دبئی چلا گیا تھا۔ فی الوقت وہ اپنی بیوی کو ساتھ نہیں لیجا سکتا تھا۔ اس کے دبئی جانے کے بعد ہیر اپنے سسرال سے لڑ جھگڑ کر واپس گاﺅں آ گئی۔ اس کا کہنا تھا کہ جب اس کا شوہر واپس آئے گا وہ بھی تب ہی سسرال آئے گی۔ ہیر کے والد وفات پا چکے تھے اور بوڑھی ماں کا اس پر زور نہیں چلتا تھا۔ لہذا ہیر اپنی ماں کے گھر ہی رہنے لگی۔ ہیر کی واپسی کے ساتھ ہی شریف اور اس کی ملاقاتیں پھر شروع ہو گئیں۔ دونوں کا پرانا عشق زندہ ہوا تو گاﺅں میں ایک بار پھر ان کی داستانیں چسکے لے لے کر سنائی جانے لگیں۔ اب کی بار شریف کے باپ نے بھی صورت حال کو نظرانداز نہ کیا اور اسے سختی سے ہیر سے ملنے سے روکا۔اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ہیر کی ماں نے خود اس معاملے پر شریف کے باپ سے بات کی تھی۔ وہ اپنی بیٹی کی بدنامی پر خوف کا شکار تھی کیونکہ اب ہیر شادی شدہ تھی۔ اسکی شریف کے ساتھ معاشقے کی خبر سسرالی گاﺅں تک پہنچ جاتی تو حالات مزید خراب ہو سکتے تھے۔

ایک طرف تو شریف کا باپ اور ہیر کی ماں مل کر اپنے بچوں کو ایک دوسرے سے دور رکھنے کا فیصلہ کر رہے تھے تو دوسری طرف ہیر اور شریف اب کبھی جدا نہ ہونے کا فیصلہ کر چکے تھے۔ ہیر نے اسے صاف صاف بتا دیا تھا کہ وہ اس کی وجہ سے میکے آ کر بیٹھی ہے اور اب دوبارہ سسرال نہیں جائے گی۔ ہیر کے اس قدم سے شریف کی مردانگی نے جوش مارا اور اس نے بھی ہیر سے وعدہ کر لیا کہ وہ اب اسے کسی اور کے پاس نہیں جانے دے گا۔ ان کی ملاقاتوں نے رنگ دکھانا شروع کیا تودونوں کے والدین نے انہیں سختی سے ایسی حرکتوں سے روکا۔ ایک روز شریف کے باپ نے اس کے ساتھ اسی بارے میں بات کی اور اسے گاﺅں اور خاندان کی عزت رکھنے کا کہا تو دونوں میں تلخ کلامی ہو گئی ۔اس وقت دونوں گھر کی اوپر والی منزل کی سیڑھیوں پرکھڑے تھے۔ کسی بات پر غصے میں آ کر شریف نے باپ کو دھکا دیا تو وہ سیڑھیوں سے نیچے گر گیا۔ یہ دھکا بوڑھے باپ کے لئے زندگی کا آخری دھکا ثابت ہوا کیونکہ سیڑھیوں سے گرتے ہی وہ دم توڑ گیا۔ شریف نے ابتدا میں یہی بتایا کہ اس کا باپ چکر آنے کی وجہ سے گر کر مرا۔ پولیس کی تفتیش کے دوران اس نے اعتراف کیا کہ اس کا باپ دھکا لگنے سے گر کر مرا تھا لیکن اس کے باوجود اس کا یہی کہنا تھا کہ یہ اتفاقیہ حادثہ تھا۔ وہ اپنے باپ کو قتل کرنے کا ارادہ نہیں رکھا تھا۔

ممکن ہے کہ اس کا باپ حادثاتی طور پر ہی مرا ہو لیکن ہیر کی ماں منصوبہ بندی کے تحت قتل کی گئی تھی۔ دونوں پر محبت کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا جس طرح شریف اپنے باپ کو اپنی محبت کا قتل سمجھتا تھا اسی طرح ہیر بھی اپنی ماں کو اپنی خوشیوں کی قاتل سمجھتی تھی۔ اپنے باپ کی موت کے بعد شریف نے ہیر کی ماں کو بھی راستے سے ہٹانے کا منصوبہ بنا لیا۔ اس کام میں اسے ہیر کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ ہیر کی ماں مر جاتی تو وہ گھر بھی مکمل طور پر ہیر کے پاس آ جاتا اور اسے کوئی سسرال جانے پر بھی مجبور نہ کر سکتا۔ دونوں کا منصوبہ بھی یہی تھا کہ ہیر اپنے شوہر سے طلاق لے کر شریف سے شادی کر لے گی۔ ہیر کی ماں کے قتل کے لئے شریف نے خاص طور پر اپنے باپ کی قل خوانی کا وقت منتخب کیا تھا۔ وہ قرآن خوانی کے آغاز پر خاص طور پر سب کے آگے سپارے رکھتا رہا تاکہ سب کی نظروں میں رہے۔ درمیان میں انتظامات کے بہانے وہ چپکے سے کھسک گیا اور ہیر کے گھر پہنچ گیا۔ دونوں نے مل کر ہیر کی ماں کا گلا گھونٹ دیا اور پھر شریف اسی طرح خاموشی سے اپنے گھر لوٹ آیا۔

 اس ساری کارروائی میں انہیں بمشکل آدھا گھنٹہ لگا۔ شریف اپنے باپ کے ایصال ثواب کے لئے ہونے والی قرآن خوانی میں آیا اور دعا کے بعد خاص طور پر سب کو کھانا کھلانے میں آگے آگے رہا۔ اس لئے وہاں موجود سب لوگوں کو یہی لگا کہ شریف اپنے باپ کے قلوں پر ہی تھا۔ اپنے آپ کو جائے واردات سے دور ثابت کرنے کے لئے اس کے پاس بہت سے گواہ تھے۔ دوسری جانب ہیر نے اپنی ماں کے ہارٹ اٹیک کا ڈرامہ رچا دیا۔ وہ ماں کی لاش پر غم کی مکمل تصویر بنی ہوئی تھی، لیکن میت کو نہلانے والی خاتون کو اس کی گردن پر نشانات سے شبہ ہو گیا۔ یہ خاتون پولیس کی ٹاﺅٹ بھی تھی ۔اس نے فوراً یہ خبر علاقہ کے ایس ایچ او کو دی ۔ایس ایچ او نوجوان تھا جو نیا نیا بھرتی ہوا تھا لہذا اس میں ابھی پولیس کے روایتی جراثیم نہیں آئے تھے۔ اس نے فوراً لاش قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لئے بھجوا دی۔ کڑی سے کڑی ملائی گئی تو پولیس کو ایک گواہ مل گئی۔ یہ ہیر کی ہمسائی تھی جس نے شریف کو ہیر کے گھر داخل ہوتے دیکھا تھا۔ اسے یہ بات اس لئے بھی خاص طور پر یاد رہ گئی تھی کہ اس وقت شریف کے باپ کی قل خوانی تھی جبکہ وہ ہیر کے گھر جا رہا تھا ۔ اس خاتون کا شوہر بھی شریف کے گھر گیا ہوا تھا ۔

پولیس نے قاتل پریمیوں کو گرفتار کر لیا۔ دونوں ہی روایتی تفتیش کے سامنے نہ ٹھہر سکے۔ جب میں پولیس سٹیشن میں ان سے ملنے گیا تو گفتگو کے دوران ایسا لگا کہ جیسے انہیں اپنے ماں باپ کے قتل پر کسی قسم کا کوئی غم نہیں ہے۔ میں نے ان سے مختلف سوالات کئے تو دونوں ہی کا کہنا تھا کہ ان کے والدین ان کی محبت کے قاتل تھے۔ ہیر کو اس بات کا غصہ تھا کہ اس کی ماں نے جلد بازی میں اس کی شادی کروا کر اس کی زندگی برباد کر دی جبکہ شریف بھی اپنے باپ کو اپنی خوشیوں کا قاتل سمجھتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں نے ہیر کا انٹرویو مکمل کرتے ہوئے ٹیپ ریکارڈ آف کیا تو اس نے نفرت بھرے لہجے میں کہا تھا۔ میری ماں جب زندہ تھی تو میری خوشیوں کا خون کرتی رہی۔ اب مر گئی تو بھی جاتے جاتے مجھے پھنسا گئی ہے۔ یہ عجیب محبت کے دعویٰ دار تھے جن کے نزدیک اپنی خوشیوں کے سوا کچھ بھی اہم نہ تھا۔ انہیں قتل پر کسی قسم کی پشیمانی نہ تھی البتہ پکڑے جانے کا دکھ ضرور تھا۔ شاید یہ اس نوجوان نسل کے نمائندے تھے جو فارمولا فلموں اور ڈراموں کے زیر اثر اس حد تک خود غرض ہو چکی ہے کہ اب اس کے لئے اقدار، روایات، رشتے اور خلوص کوئی معانی نہیں رکھتے۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

کچھ کہنا تھا تم سے ۔۔۔ بِینوبسواس/عامر صدیقی

کچھ کہنا تھا تم سے بِینوبسواس/عامر صدیقی ہندی کہانی …………….  ویدیہی کا من بہت اتھل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے