سر ورق / مضامین / fun کہکشاں آفاقی.شخصیت اور  

fun کہکشاں آفاقی.شخصیت اور  

کہکشاں آفاقی……شخصیت اور Fun

 نادر خان سَرگِروہ ….. نئی ممبئ بھارت

کہکشاں آفاقی؛ جیسا کہ نام سے ظاہر ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب آپ ہی سوچیے کہ کیا ظاہر ہوتا ہے. محترمہ نے لکھنے کی شروعات اقوالِ زریں سے کی۔ اورآج تک اپنی اوقات نہیں بھولیں۔ یعنی شروعات کو نہیں چھوڑا۔ وہ مختلف اخبارات و رسائل کو بڑی محنت کے بغیر جمع کیے اور توڑے مڑوڑے گئے اقوال اپنے نام و مقام کے "اضافے” کے ساتھ بھیجا کرتیں۔ اُن کا یہ شوق دیکھ کر , کچھ دوستوں،  بلکہ ہمارے دشمنوں نے اُنہیں یہ کار”جامد” مشورہ دیا کہ اِن زریں، سنجیدہ، گہرے اور بلند اقوال سے ہَٹ کر بھی کچھ لکھنا چاہیے۔ اِس "زیریں” مشورے کے بعد انہوں نے پیچھے مُڑ کر اپنے دوستوں کو کبھی نہیں دیکھا اور اقوال، خبروں اور روز مرہ، چھینکنے، کھانسنے تک کے  واقعات کو افسانوں میں ڈھالنا شروع کر دیا۔ اُن کی کہانیوں کے کردار پِسے ہوئے طبقے سے آتے ہیں۔۔۔۔۔ اُن کے گھر میں جھاڑو پوچا کرنے، ڈانٹ ڈپٹ سننے۔

.

وہ اپنی نوکرانی سے کام کے دوران (نوکرانی کے کام کی بات ہورہی ہے) اُس کی درد بھری بلکہ درد ٹھونسی ہوئی داستان سنتی ہیں۔ جب اُس کی اپنی ذات سے جڑی کہانیاں ختم ہوجائیں تو۔۔۔ پاس پڑوس کی۔۔۔  محلے بھر کی داستانوں پر کان صاف کرتی ہیں۔۔ پھر ایک روز، نوکرانی کے پاس سنانے اور گھڑنے کو کچھ نہیں بچتا تب اُسے فارغ کردیا جاتا ہے۔ جاتے جاتے، کچھ پیسے اِس بات کے کاٹ لیے جاتے ہیں کہ نوکرانی کام۔۔۔۔۔ کم اور باتیں زیادہ کرتی تھی۔

.

 نئی نوکرانی کی تلاش کا تکلیف دہ مرحلہ بھی اُن کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے۔ جس میں وہ  نوکرانی کی عدم موجودگی کی صورت میں ہونے والی وہ تکالیف بیان کرتی ہیں، جن سے اُن کے شوہر کو گزرنا پڑتا یے۔ تلاش بِسیار کے موضوع پر اُن کا ایک افسانہ منظر ِعام سے جا چکا ہے۔ جس کا عنوان تھا۔

نوک”رانی” کے نخرے۔

.

نئی "مہارانی” کی تقرری کے اُن کے اپنے کچھ اصول ہیں، جو ہر نئے تجربے کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔  خوش حال، خوش باش نوکرانی اُن کی پہلی پسند تو کیا آخری پسند بھی نہیں۔

نوکرانی کا فرسٹ اِمپریشن یہ ہو کہ۔۔۔۔

 وہ گھر میں قدم رکھتے ہی رونا دھونا شروع کردے۔

جھگی میں رہتی ہو۔ ماحول میں آلودگی اِتنی زہریلی ہو کہ مچھر بستی میں داخل ہوتے ہی جان سے جائیں۔

 ماں باپ اور بھائیوں نے جنازے کو سجا کر اُسے سسرال بھیجا ہو۔

 شوہر ناکارہ مگر بہت سے بچوں کا باپ ہو۔ بیوی کی کمائی سے شراب پی کر رات بھر خوب دھنائی کرتا ہو، جس کا ثبوت مضروب و مظلوم کے جسم پر زخموں اور کھرونچوں کی شکل میں صاف نظرآئے۔

 وہ ہر بات کو بڑھا چڑھا کر اور نمک مرچ لگا کر بیان کرنے میں ماہر ہو، تاکہ افسانہ قلمبند کرتے وقت یہ فضول کام افسانہ نگار کو نہ کرنا پڑے۔

.

ایک مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ انٹرنیٹ  پر پیش کیے گئے چند افسانوں پر پے در پے سرقے کا الزام آیا. "دوسری” افسانہ نگار…. مُشتری قمرِستانی کے کئی افسانوں سے اِن کا خیال ٹکرایا۔ پھر مُشتری, کہکشاں سے ٹکرائیں.

.

 کہکشاں نے جب مشتری تک پہنچ کر تحقیق  کی تو یہ دریافت ہوا کہ حاضر سروِس نوکرانی، مشتری کے ہاں کھانا پکانے اور قصے بگھارنے کا کام کیا کرتی تھی۔ اِس انکشاف کے بعد کہکشاں محتاط ہوگئیں اور انٹروِیو کے سب سے پہلے سوال میں یہی کریدا جاتا ہے کہ جن جن گھروں میں پہلے کام کِیا، اُن میں کوئی "افسانہ بِگاڑ” تو نہ تھی؟

.

کہکشاں کی شہرت اَدَبی اُفُق سے زیادہ جھونپڑیوں، جھگیوں کی "سطح” پر ہونے لگی ہے۔ کام کی تلاش کرنے والیوں کو یہ علم ہوچکا ہے کہ اگرچہ وہ اپنی زندگی سے مطمئن ہیں, تب بھی رونے دھونے کی اداکاری آنی چاہیے۔ سُگھڑ ہونے کے ساتھ ساتھ "قصہ گھڑ” بھی ہونا چاہیے. ایسے میں, اُنہیں گھر کے کام سے زیادہ نئی نئی کہانیاں گھڑنے پر محنت کرنی پڑتی ہے۔ اکثر کام والیاں، نام کی کہکشاں کے مقابلے میں کام کی "کہانی کار” بن چکی ہیں۔

.

"کہکشاں” نے گھر بیٹھے بیٹھے زندگی کی تلخیوں کو کاغذ پر اتارا۔ اپنے "تلخیقی سفر” میں وہ لکھنے اور دوسروں کو سکھانے میں ہی مصروف رہیں۔ ایسے میں پڑھنے کا وقت نہ مل سکا, یہاں تک کہ اپنے لکھے زریں اقوال بھی۔  لہذا اُن کے خیرخواہ، جنہیں وہ حاسدین میں شمار کرتی ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں سیکھتے سیکھتے یکبارگی کچھ سیکھ ہی لینا چاہیے۔

.

میرے ہمزاد پُرجوش پوری نے آج  "سَر کے بَل”  کھڑے ہو کر کہکشاں آفاقی کے اِرتِقائی سفر کا جائزہ لیا اور یہ تاریخی بیان دیا ۔۔۔۔۔

” کہکشاں کا فن بلندیوں کو چھو رہا ہے”خ

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ھرمن نارتھروپ فرائی ۔۔۔۔ احمد سہیل

ھرمن نارتھروپ فرائی ۔(Herman Northrop Frye) ::: تحریر ۔۔ احمد سہیل (امریکہ) کینڈین ادبی نقادو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے