سر ورق / ناول / عورت زاد امجد جاوید قسط نمبر 9

عورت زاد امجد جاوید قسط نمبر 9

عورت زاد

امجد جاوید

قسط نمبر 9

باقی کاریں بھی اندر آ رہی تھیں۔ نویرا ابھی تک گاڑی ہی میں تھی ۔ نینا نے اسے وہیں بیٹھے رہنے کا اشارہ کیااور داخلی دروازے کی جانب بڑھنے کی بجائے ایک کمرے کھڑکی کی طرف گئی ۔ اس نے پسٹل کے دستے سے شیشہ توڑا اور کمرے میںداخل ہو گئی ۔ انہی لمحوں میں باہر ایک دھماکہ ہوا ۔اس کےساتھ ہی کئی چیخیں بلند ہوئیں ۔ نینا جس کمرے میں داخل ہوئی وہاں کوئی نہیں تھا ۔ اس نے دروازہ کے کی ہول سے اندر جھانکا، سامنے لاﺅنج تھا۔ وہاں اسے دو آ دمی دکھائی دئیے جو ہتھیار لئے باہر کی جانب متوجہ تھے۔ نینا نے انتہائی آہستگی سے دروازہ کھولا ۔پھر ایک دم سے اس نے ان پر فائر کردئیے ۔اس کے ساتھ ہی وہ اوٹ میں ہوگئی سامنے سے ایک ہی آدمی فائر کرنے لگا تھا۔ نینا نیچے بیٹھی اور تاک کر اس پر نشانہ لگا دیا ۔ تبھی وہاں خاموشی چھا گئی ۔ باقی دو بھاگ گئے تھے۔ایسے میں پھر باہر دھماکہ ہوا ۔بلاشبہ بلیو کیٹ ہینڈ گرنیڈ سے کام لے رہی تھی۔نینا لاﺅنج میں داخل ہوئی وہاں کوئی نہیںتھا۔اس کے ساتھ ہی اس نے داخلی دروازہ کھول دیا۔ تب اس نے دیکھا۔ سامنے کا منظر بڑا وحشت ناک تھا۔ سامنے گیٹ پر دھواں ہی دھواں تھا۔ ایک گاڑی کو آ گ لگی ہوئی تھی ۔ کئی سارے بندے اندر آ چکے تھے۔ باہر فائرنگ رُک گئی تھی۔ تبھی نینا نے صوفے کی آڑ میں بیٹھ کر بلیو کیٹ کو فون کیا، اس نے پک کیا تو اس نے پوچھا

” باہر کیاہے اب؟“

” بھاگ گئے سالے۔“ وہ بولی

” اندر میرے کور پر بھیجو کچھ بندے ۔“ اس نے کہا

” میں آ رہی ہوں۔“یہ کہتے ہی بلیو کیٹ نے فون بند کر دیا۔ نینا صوفے کی آڑ میں میں تھی

اگلے چند منٹ میں وہ اندر تھی ۔آدھے گھنٹے میں انہوں نے سارا بنگلہ کلیئر کر لیا۔ آصف کی ماں ایک کمرے میں سے ملی جو انتہائی خوف زدہ تھی ۔ بلیو کیٹ نے اسے اپنے بندوں کے حوالے کر دیا کہ اسے وہیں پہنچا دو جہاں آصف ہے ۔تبھی نویرا اندر آ گئی ۔وہ بے تحاشا رو رہی تھی جبکہ ریٹا اسے چپ کرا رہی تھی ۔نینا نے اسے بیڈ روم میںبھیج دیا۔ کچھ ہی دیر میں پولیس آ گئی ۔نویرا نے یہی بیان دیا کہ وہ اپنے گھر آ رہی تھی کہ کچھ لوگوں نے اس کے گیٹ پر حملہ کر دیا۔ بلیو کیٹ کے چند لوگ زخمی ہو گئے تھے۔ جنہیں ہسپتال پہنچا دیا گیا تھا۔

اس دن کا سوج ڈھل چکا تھا۔نویرا کے بنگلے پر خاموشی طاری تھی ۔بلیو کیٹ خود غائب تھی ، لیکن نے چند تربیت یافتہ بندے بھیج دئیے تھے ۔ نینا نے بی بی صاحب کو رپورٹ دے دی ہوئی تھی۔

” تم فکر نہ کرو حالات کنٹرول میں ہیں اب ۔ تم سکون کرو ۔تمہاری دوست بہت ساتھ دے چکی ہے۔اب یہ معاملہ قانونی ہوگا جو چند دن میں ہی حل ہوگا، تمہارا اس سے کوئی تعلق نہیں تم اب یہیں سکون کرو۔“

” کب تک ، میرا مطلب….“

” میں جلد ہی تمہیں بتاﺅں گی ۔“ بی بی صاحب نے کہا اور فون بند کر دیا۔ وہ اٹھی اور نویرا کے کمرے میں چلی گئی جو ابھی تک دہشت زدہ تھی ۔ریٹا اس کے پاس تھی ۔ وہ اس کے پاس بیٹھتے ہوئے بولی

” اس طرح تم اپنے آپ کو واقعی پاگل ثابت کر دو گی ، خود کو نارمل کرو ۔تاکہ کوئی آ بھی جائے تو اس سے ٹھیک طرح بات کر سکو ۔ اس سے اچھی طرح مل سکو ۔“

” تم ٹھیک کہتی ہو ۔“ نویرا نے کہا اور ایک طویل سانس لی پھر ا سکا ہاتھ پکڑ کر بڑے جذباتی انداز میں بولی،” کوئی اپنا بھی اس طرح جان ہتھیلی پر نہیںرکھتا۔میں تمہاری ….“

” ایسی باتوں کے لئے بہت وقت پڑا ہے۔تم خو دکو نارمل کرو، بلیو کیٹ نے جو بھی کیا پیسے کے لئے کیا۔ ہمیں اسے وہی دینا ہوگا ، جو وہ مانگے گی ۔“ نینا نے اس سے کہا تو وہ بولی

” وہ جو مانگے گی میں دوں گی ۔اتنا تو ہے میرے پاس ۔ “

 ” بس ٹھیک ہے ۔“ یہ کہہ کر وہ اس کے پاس سے اٹھ کر باہرٹیرس پر آ گئی ۔ا س کادل چاہ رہا تھا کہ وہ شعیب سے باتیں کرے ۔ اس نے ایک کرسی پر بیٹھ اسے فون ملایا مگر اس کا فون بند تھا۔ وہ وہیں بیٹھی رہی ، ہوا چل رہی تھی اور موسم بھی بہت اچھا ہو رہاتھا۔ وہ وہیںبیٹھی رہی اور بار بار شعیب کو کا ل کرتی رہی لیکن اس کا فون بند جا رہا تھا۔ ایسا کبھی نہیںہوا تھا ۔ وہ ایک دم سے پریشان ہو گئی ۔ اس کی سمجھ میں نہیںآ رہا تھا کہ اس بارے کس سے پوچھے ؟وہ اسی اضطراب میں ٹہلنے لگی ۔ وہ بار بار کال کرتی رہی لیکن ہر بار اسے فون بند ہی ملا۔ ایک بار تو اس کے جی میں آئی کہ میڈم فاخرہ سے اس کے بابا کانمبر لے اور پھر بات کرے لیکن چاہتے ہوئے بھی ایسا نہیں کر سکی۔ یہاں تک کہ آ دھی سے زیادہ رات گذر گئی ۔نینا کی بے چینی حد درجہ بڑھ گئی ۔وہ نویرا کے بنگلے میں پاگلوں کی طرح چکر لگاتی رہی ۔دوسرے یہی سمجھتے رہے کہ وہ سیکورٹی کی بنا پر یہ سب کر رہی ہے جبکہ وہ اپنے اندر کی بے چینی کم کر نے کی کوشش کر رہی تھی ۔اس کے ذہن میں کئی طرح کی سوچیں آ رہی تھیں جو ساری کی ساری منفی تھیں ۔ وہ اس وقت کو کوس رہی تھی ، جب شعیب نے کہا تھا کہ وہ اس کے ساتھ جانا چاہتا ہے اور اس نے منع کر دیا تھا ۔ پہلی بار کسی ایسے کام میں وہ اس کے ساتھ نہیںتھا۔اسے عجیب الجھن ہو نے لگی تھی ۔

وہ اپنے لئے مخصوص بیڈروم میں آگئی۔اس کی آنکھوں سے نیند اُڑ چکی تھی ۔ اس کے من کی بے کلی بڑھتی ہی جا رہی تھی ۔نجانے کب اس کی آ نکھ لگی تھی لیکن پھر اچانک کھل گئی ۔سب سے پہلے اس نے اپنا فون دیکھا۔ اس میں کچھ نہیںتھا۔ اس نے پھر کال ملائی تو شعیب کا فون بند ملا ۔ وہ اضطراب میں اٹھ کر ٹہلنے لگی ۔یہاں تک کہ کمرے سے باہر آ گئی ۔باہر ابھی اندھیرا تھا۔ صبح کے آثار دکھائی دینے لگے تھے۔تبھی اس نے بی بی صاحب کو فون کر دیا۔ چند لمحوں بعد اس کا فون اٹینڈ کر لیا گیا ۔نرم سی آواز جب نینا کی کانون میں پڑی تو اس نے خود پر قابو پاکر پوچھا

” مجھے شعیب کا فون نہیںمل رہا ، وہ کہیں ….“

” ہاں ، وہ شام سے غائب ہے ۔ اس کے بارے پتہ نہیں چل رہا ہے کہ وہ کہاں ہے ؟“ بی بی صاحب نے اسی نرم آواز میں سکون سے بتایا

” مطلب وہ ….“ اس سے زیادہ وہ کچھ نہ کہہ سکی ۔

” میںنے اس لئے تمہیں نہیں بتایا تھا کہ اس کی تین وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ ممکن ہے مٹھن خان نے اسے غائب کرایا ہو ۔ بلاشبہ یہ تمہیںٹریپ کرنے کے لئے ہے۔ دوسرا وہ خود کہیں روپوش ہو گیا ہو کہ اس پر اور اس کے بابا بہت زیادہ دباﺅ تھا۔ قانونی اداروں کا اور حکومتی لوگوں کا ۔ تیسری بات یہ کہ مجھے پتہ چلتا تو ہی میں تمہیں بتا سکتی تھی کہ وہ کہاں ہے ۔ کیونکہ میں پوری کوشش میںہوں کہ اس کا پتہ چل جائے ۔“انہوں نے سکون سے کہا

” میں یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ اسے اس کی مرضی کے خلاف اِدھر ُادھر کیا گیا ہے ۔ ورنہ وہ مجھے ضرور بتاتا ۔“ نینا نے اپنا خیال ظاہر کیا

” ممکن ہے ایسا ہی ہو ۔“ وہ دھیمے سے بولیں

” بی بی صاحب ۔! مجھے اجازت دیں کہ میںوہاں پر آ جاﺅں ۔“ نینا نے لجالت سے کہا

”جو وہ چاہتے ہیں تم بھی وہی کرنا چاہتی ہو ۔میں نے تمہیں کراچی بھیجا ہی اسی لئے تھا کہ تم کچھ دن وہاں رہ کر منظر سے ہٹ جاﺅ ۔“ بی بی صاحب نے کہا تو وہ تیزی سے بولی

” اگر انہوں نے شعیب کو نقصان پہنچا دیا تو ؟“

 ”ایسا بھی ممکن ہے ۔“ یہ کہہ کر انہوں نے چند لمحے خاموشی اختیار کی پھر بولیں ،” اچھا میں کچھ دیر بعد بتاتی ہوں۔“ یہ کہہ کر انہوںنے فون بند کر دیا ۔جس سے نینا کی پریشانی مزید بڑھ گئی ۔ وہ واپس اپنے کمرے میں آ گئی ۔

دن چڑھ آیا تھا۔ ناشتے کی میز پر بلیو کیٹ بھی تھی ۔اس نے بتایا کہ کل سے اب تک اس نے کیا کیا۔ آصف کے ساتھ اس کی ماں اور ڈاکٹر کو پولیس کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ فراڈ کرنے کا اقرار کر لیا گیا تھا ۔ اس کی سیاسی پشت پناہی کرنے والے ابھی تک سامنے نہیںآ ئے تھے ۔نویرا یہ ساری باتیں سن رہی تھی ۔وہ اس سے باتیں کرنے لگی جبکہ نینا کا ذہن پوری طرح فون کال کی طرف لگا ہوا تھا۔جو آ نہیں رہی تھی۔یہاں تک کہ دس بج گئے ۔ اس وقت وہ کال کرنے بارے سوچ رہی تھی کہ بی بی صاحب کی کال آ گئی ۔

” یہ تصدیق ہو گئی ہے کہ شعیب اس وقت مٹھن خان کے پاس ہے ۔“

” کیا ….“ وہ یہ سن کر ششدر رہ گئی ۔

” ہاں ، اسے کل شام ہی اغوا کر لیا گیاتھا۔ لیکن بہرحال چند لوگ درمیان میںپڑ گئے ہیں ۔ جس پر مٹھن کان نے اس کی زندگی کی ضمانت تو دی ہے ۔“ بی بی صاحب نے بتایا

” میں آ رہی ہوں ۔“ نینا تڑپ کر بولی

”میں تمہارے جذبات سمجھتی ہوں ، تم بھلے آ جاﺅ لیکن ٹریپ ہو جاﺅ گی ۔یہی وہ چاہتے ہیں۔“ انہوں نے سمجھایا

 ” لیکن میں شعیب کو ایسے تو نہیںچھوڑ سکتی ۔“ نینا نے یوں کہا جیسے احتجاج کر رہی ہو ۔

” اوکے آ جاﺅ۔“ بی بی صاحب نے ایک دم سے کہاتو اسے لگا جیسے اس کے من میں سکون اتر گئی ہو اور اس کے ساتھ ہی انتقام کی ایسی لہر اٹھی ، جس سے وہ پہلے کبھی آشنا نہیںتھی ۔ تقریبا! دو گھنٹے بعد وہ ائیر پورٹ تھی ۔ وہ سیدھے اپنے شہر نہیں بلکہ اسے قریبی شہر تک جانا تھا ۔

رات کا اندھیرا پھیل گیاتھا۔ جب وہ ایک کار کے ذریعے اپنے شہر میں آ ئی ۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وہ سیدھی میڈم فاخرہ کی طرف جاتی ، مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔وہ اپنی ایک جاننے والے کے پاس چلی گئی ۔ اس کا نام روزینہ تھا۔بہت عرصہ ہوا ، نینا کے اس سے تعلقات تھے۔جہاں تک ممکن ہو سکتا تھا ، وہ اس کی مدد کرتی تھی ۔ پھر یہ مدد باقاعدہ سورت میں سوچ سمجھ کے ساتھ کرنے لگی ۔ کیونکہ اس کا شوہر الیاس ایک تنو مند نوجوان تھا۔ وہ بڑے عرصے سے مٹھن خان کے ڈیرے پر کام کرتا چلا آ یا تھا۔ ان دنوں وہ ڈیرے سے اس کے فارم ہاﺅس چلاگیا تھا۔کام کرنے کے بعد وہ اکژ اپنے گھر آ جاتا تھا۔ وہ اپنے بچوں کے ساتھ ایک درمیانے طبقے کے رہائشی علاقے میں رہتے تھے ۔روزینہ اس کے ساتھ مسلسل رابطے میںتھی ۔ اس نے کار سڑک پر ہی چھوڑ دی ۔ اور وہاں سے پیدل اس کے گھر تک آئی ۔ وہ اس کے انتظار میں تھی پہلی دستک پر ہی اس نے دروازہ کھول دیا۔وہ اس کے ساتھ اندر چلی گئی ۔

ایک چھوٹے سے کمرے میں مدقوق بلب جل رہا تھا۔ الیاس ایک چار پائی پر بیٹھا ہوا تھا۔ نینا اس کے ساتھ سلام دعا کرکے ایک دوسری چارپائی پر بیٹھ گئی ۔روزینہ نے دھیرے سے پوچھا

” تم بیٹھو ، میں کھانا لے کر آتی ہوں۔“

” نہیںکھانے کی ضرورت نہیں،ادھر میرے پاس بیٹھو۔“

” تم نے جو بات پوچھنی ہے ، پوچھو،میں کھانا….“ اس نے کہنا چاہا مگر نینا نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا

” نہیںنا ، تم چھوڑو، آﺅ ۔“

روزینہ جب اس کے پاس بیٹھ گئی تو نینا نے الیاس کی طرف دیکھ کر پوچھا

” بھائی ، مجھے صرف شعیب کے بارے میں پتہ کرنا ہے ، اسے کہاں رکھا گیا ہے ؟“

اس کی بات سن کر الیاس چونک گیا۔اس نے مشکوک نگاہوں سے اس کی جانب دیکھتے ہوئے کہا

”تمہارا اس سے کیا تعلق ؟“

” اس کا مطلب ہے الیاس بھائی آپ کو پتہ ہے ، اسے کہاں رکھا گیا ہے؟“ نینا نے اس کی بات کا جواب دئیے بنا تیزی سے پوچھا

” وہ تو ٹھیک ہے لیکن تمہیں کیا؟ تم کسی کے لئے کام تو نہیںکر رہی ہو ؟“ اس نے پھر مشکوک لہجے میں پوچھا

”یہ سارے سوال اپنی جگہ ٹھیک ہیں ،لیکن مجھے شعیب کا پتہ چاہئے ، اسے کہاں رکھا گیا ہے ۔بس ، اس کے لئے تم جتنی چاہو قیمت لے سکتے ہو ۔“ نینا نے کہا تو الیاس کی آ نکھیں چمک اٹھیں ۔ اس نے چند لمحے سوچا ، پھر بولا

” کتنے دے سکتی ہو؟“

” یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ۔نینا کے ہم پر اتنے احسان ہیں کہ ….“ روزینہ نے کہنا چاہا تو الیاس نے ٹوکتے ہوئے کہا

” اسے بھی تو کہیں سے پیسے ملنے ہیں، اس میں سے ہمیں حصہ مل جائے تو کیا برا ہے، یہ پولیس والے کہاں کسی کو معاف کرتے ہیں ۔“

الیاس اسے اب تک پولیس والی ہی سمجھ رہا تھا جو کسی اطلاع کے لئے اس کے پاس آئی تھی۔

” کچھ برا نہیں ہے ، بولو کتنے پیسے دوں ؟“ نینا نے دو ٹوک لہجے میں کہا تو ا سنے پوچھا

” ایک لاکھ ہے تیرے پاس ؟“

 ” ابھی دیتی ہوں ۔ “ یہ کہہ کر وہ اپنا چھوٹا سا بیگ کھولنے لگی ۔ایک جانب نوٹوں کی گڈیاں پڑی ہوئی تھی۔ اس نے اندازے سے نوٹ اٹھائے اور اس کی طرف بڑھا کر بولی،” یہ لو ، اب بتاﺅ ۔“

الیاس نے وہ نوٹ پکڑ لئے ، پھر سنبھال کر اپنی جیب میں رکھتے ہوئے بولا

” اسے ڈیرے پر نہیں رکھا گیا۔ پہلے اسے وہیں لائے تھے لیکن بعد میں اسے فارم ہاﺅس کے گیسٹ ہاﺅس میں رکھا ہوا ہے ۔وہاں اس پر کافی تشدد کیا گیاہے ۔اس سے کسی گولی کے بارے میں پوچھ رہے ہیں۔“ الیاس نے اپنی رُو میں بتایا تو نینا کو لگا جیسے اس کے اندر تک کسی نے خنجر گھونپ دیا ہو ۔ تبھی اس نے جی کڑا کر کے پوچھا

” تو پھر بتایا نہیں اس نے ۔“

” نہیں، اب تک نہیںبتایا۔“الیاس نے سر ہلاتے ہوئے جواب دیا تو نینا نے پوچھا

” وہاں تک پہنچنے کا راستہ ؟“

” جتنا تم نے گڑ ڈالا بات اتنی ہی بتائی ہے ۔“ اس نے انتہائی کمینگی سے کہا تو نینا نے بیگ میں ہاتھ ڈالا اور کافی سارے نوٹ نکال کر اس کے آ گے رکھ دئیے ۔تبھی وہ بولا،” وہاں تک جانے کا کوئی راستہ نہیںہے۔ سوائے مٹھن خان کی مرضی کے ۔وہاں کافی لوگ ہیں سیکورٹی والے ۔ ‘ ‘

” دیکھو ۔! اس وقت میرے بیگ میں جتنی رقم ہے ساری تمہاری ، تم اس تک پہنچنے کا کوئی راستہ بتا دو ۔کوئی ایسا طریقہ ۔“

” مجھے نہیںپتہ ، لیکن میں تمہیں وہاں کے بارے میں بتا سکتا ہوں کہ کہاں پر کیا ہے ۔“

” چلو یہی سہی ۔“ نینا نے کہا تو وہ اسے سمجھانے لگا۔تقریباً ایک گھنٹہ تک وہ مغز ماری کے بعد اٹھ گئی ۔

” کہاں چلی ہو ؟“ روزینہ نے پوچھا

” مجھے کافی کام ہیں ۔ افسروں کو جواب بھی دینا ہے ۔“ اس نے کہا اور وہاں کچھ دیر مزید باتوں کے بعد گھر سے نکل کر سڑک پر آ گئی ۔وہ پیدل نکل پڑی تھی ۔ رات کا آخری پہر چل رہا تھا۔ سڑک کنارے جلتے ہوئے قمقمے روشن تھے ۔ وہ ایک طرف سڑک کنارے چلتی چلی جا رہی تھی ۔اس کا دماغ بری طرح چکرایا ہوا تھا۔

 اس کی آ نکھوں کے سامنے شعیب کا چہرہ تھا۔ یہ تصور بہت بھیانک تھا۔ تشدد کے بعد کس قدر کسمپرسی میں وہ پڑا ہوگا ۔ اس سے فقط یہی پوچھا جا رہا ہوگا کہ ” گولی“ کہاں ہے ؟ اور ویہ نہیںبتا رہا ہوگا ۔ اگر اس دوران اسے کچھ ہو گیا۔ کوئی چوٹ غلط بھی لگ سکتی ہے ، پھر کیا ہوگا۔لمحہ بہ لمحہ اس کا دوران خون تیز ہوتاجا رہا تھا، اس کا دل کر رہا تھا کہ ابھی سیدھا مٹھن خان کے پاس جائے اور شعیب کو اس اذیت سے چھٹکارا دلا دے ۔ اس کے ساتھ چاہے کچھ ہو جائے ۔ لیکناسے الیاس پر قطعا بھروسہ نہیںتھا۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ ادھ کچری معلومات پر وہاں جا پہنچے ۔اچانک اسے احساس ہو ا کہ یوں سڑک کنارے تنہا چلتے جانا خطرے سے خالی نہیںہے ۔ وہ چاہے جو کچھ بھی ہے لیکن ایک عورت ہے۔کوئی بھی نیت خراب والا بندہ اس کا راستہ کاٹ سکتا ہے ۔اسے اپنی صورت حال کا احساس ہوا تو اس نے فوری طور پر اپنا فون نکالا۔لیکن اس کے ساتھ ہی اس کے ذہن میںیہ آیا کہ وہ کسے فون کرے گی؟ کون اسے لینے آئے گا ۔ میڈم فاخرہ بلا شبہ اس سے ناراض ہوگی ۔پہلے تو وہ اسے بتا کر نہیںگئی تھی ۔پھر بارہا فون کال کا اس نے جواب نہیںدیا تھا۔ وہ کیا جواب دیتی؟ اپنے بارے میںکیا بتاتی ؟ پھر اس نے فون واپس جیب میں رکھتے ہوئے فیصلہ کر لیا کہ ابھی تو وہ عورت منزل جائے گی ۔ آگے جو ہوگا دیکھا جائے گا ۔اسے اندازہ تھا کہ وہ عورت منزل سے کافی دور ہے۔ یہاں سے پیدل نہیںجا سکتی تھی ۔ اسے سواری تو بہرحال چاہئے تھی ۔اس نے اندازہ لگایا کہ اگلے چوک پر اسے کوئی نہ کوئی سواری ضرور مل جائے گی ۔وہ یہی سوچ رہی تھی کہ ایک کار تیزی سے اس کے پاس سے گذری ، کچھ فاصلے پر جا کر تیز آواز میں بریک لگا کر رک گئی ۔اگلے ہی لمحے وہ بیک میں اس کے پاس آ کر رک گئی ۔ اس میں دو لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ پسنجر سیٹ پر بیٹھے ہوئے شخص نے لرکھڑاتی ہوئی آواز میں پوچھا

” جانا ہے تو ہم لفٹ دے دیتے ہیں۔“

” ابے اس وقت کون شریف زادی سڑکوں پر ہوگی ، ریٹ پوچھ، کام کی ہوئی تو لے چلیں گے ۔“ دوسرا شاید اس سے بھی زیادہ ٹُن تھا۔

” یار چیز تو ٹھیک ہے ،“ پھر اس کی طرف منہ کر کے پوچھا،”ہاں بول ،چلتی ہے ، کتنا لے گی ۔“

 نینا کا دماغ گھوم گیا تھا لیکن اس نے خود پر قابو پاتے ہوئے کہا

” جتنا دے دو گے ۔اب رات کتنی باقی ہے ۔“

” او خیر ۔! سمجھ دار ہے یار۔“ پہلے کی باچھیں کھل گئیں ۔

” چل بیٹھو ، خوش کر دیں گے ۔“ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے دوسرے شخص نے کہا تو نینا نے کار کی پچھلی نشست کادروازہ کھول کر بیٹھتے ہوئے اپنا پسٹل نکال لیا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ گیئر لگاتا۔ نینا نے پسٹل کی نال ڈرائیور کے سر پر رکھتے ہوئے کہا۔

” نیچے اتر جاﺅ ….“

” اوئے تم ۔بہن ….“ اس نے حیرت اور غصے میں پلٹ کر گالی دینا چاہی تھی کہ پسٹل چل گیا۔نال اس کے سر سے پھسل کر اس کے کاندھے پر جا لگی ، تبھی نینا نے فائر کر دیا ۔گولی اس کاندھے کے پار ہو گئی وہ تڑپ کر اسٹیرنگ پر گرا۔ تبھی نینا نے لمحہ بھی ضائع کئے بنا پسنجر سیٹ پر بیٹھے ہوئے پر پسٹل تان لیا۔

” اترتے ہو یا ….“

” نن …. نہیں….اترتا ہوں۔“ وہ چھلانگ مار کر باہر ہو گیا۔ پھر ا سکے ساتھ ہی اس نے دوڑ لگا دی ۔نینا تیزی سے اتری اس نے ڈرائیور کو کھینچ کر نیچے سڑک پر پھینکا دیا ۔ڈرائیور کا خون کافی حد تک بہہ گیا تھا۔اس نے ڈرائیور کی قمیص ایک جھٹکے میں پھاڑی۔ انتہائی تیزی سے جس قدر ممکن ہوا خون صاف کیا اور سیٹ پر بیٹھ کر گئیر لگا دیا۔ اس نے زخمی ڈرئیوار کو یونہی چھوڑ تے ہوئے ذرا بھی دکھ محسوس نہیںکیا تھا۔

 وہ عورت منزل کے قریب پہنچ گئی ۔ابھی اس نے کار سے جان چھڑانا تھی ۔اس نے کار عورت منزل سے تھوڑا قریب چھوڑی اور وہاں سے پیدل چلتے ہوئے گیٹ تک جا پہنچی ۔اسے گیٹ پر دیکھ کر چوکیدار چونکا تھا۔مگر اس نے بات کوئی نہیں کی تھی ۔وہ سیدھی اپنے کمرے میں پہنچی ہی تھی کہ اس کا فون بج اٹھا۔ وہ میڈم فاخرہ کی کال تھی ۔ نینا کی ہیلو کے جواب میں اس نے تیزی سے پوچھا

” میں نہیں جانتی کہ تم کہاں تھیں اور نہ پوچھوں گی لیکن تمہیںپتہ ہے کہ شعیب….“

” مٹھن خان کے پاس ہے اس وقت ۔“ اس نے خود پر قابو رکھتے ہوئے کہا

”تم ملی ہو اس کے بابا سے ؟“ میڈم نے پوچھا

” نہیں، میں نہیں ملی ۔“ اس نے بتایا

”تو پھر تم ان سے ملنا بھی نہیں، وہ تمہیں شعیب کے عوض مٹھن خان کو دے سکتے ہیں۔“ میڈم نے معلومات دی

” مجھے کسی سے کوئی غرض نہیں کہ وہ میرے ساتھ کیا کرنا چاہتا ہے ، لیکن مجھے شعیب کو چھڑانا ہے ۔ہر حال میں ۔“نینا نے یوں کہا جیسے وہ ٹرانس میں بات کر رہی ہو ۔

” کیا کرنا چاہتی ہو ؟ کیا تم خود کو….“ میڈم نے متحوش آواز میں پوچھا

” مجھے کچھ پتہ نہیں، میں نے کیا کرنا ہے یا میںکای کر سکتی ہوں ۔“ اس نے پاگلوں کی طرح کہاتو میڈم فاخرہ نے کافی حد تک سکون سے سمجھاتے ہوئے کہا

” دیکھو۔! تم تھوڑی دیر یہاں پر رُکو ، میں آ رہی ہوں۔ کہیںنہیںجانا، ہم کوئی پلان کرتے ہیں۔“

” ٹھیک ہے ۔“ اس نے خودکلامی کے سے انداز میںکہا اور فون بند کر دیا۔

ابھی اس کا فون بند ہی ہوا تھاکہ روزینہ کا فون آ گیا ۔ اسکرین پر اس کے نمبر جگمگا رہے تھے ۔ نینا کا دل نہیں چاہ رہا تھا کہ وہ کل پک کرے ۔ یہ ممکن نہیںتھا کہ اگر وہ نہ چاہتی تو الیاس اس سے رقم لے سکتا تھا۔اسے یہ دکھ نہیںتھا کہ اس نے رقم کیوں لی ، اسے مان تھا جو ختم ہو گیا تھا ۔ رقم کے عوض دی گئی معلومات بھی اتنی معتبر نہیںہو سکتی تھی ۔بیل بج کر ختم ہو گئی ۔ اس نے ایک طویل سانس لی ۔وہ اٹھنا چاہتی تھی کہ بیل ایک بار پھر بج اٹھی ۔ اس نے چند لمحے اسکرین پر دیکھا اور فون پک کر لیا۔

” ہیلو ۔!“ اس نے بے دلی سے کہا تو دوسری طر سے روزینہ روتے ہوئے بولی

” خدا کے لئے نینا بات سن لینا۔فون بند مت کرنا۔“

” بولو ، کیا کہنا ہے ۔“ اس نے سرد مہری سے کہا

” الیاس نے جو کچھ بھی کیا ، بہت برا کیا ہے ۔میںنہیںچاہتی تھی کہ وہ ….“

” ختم کرو یہ بات ، مجھے کوئی فرق نہیںپڑتا اور نہ ہی میرے اور تمہارے تعلق پر کوئی فرق پڑے گا ۔ بھول جاﺅ ایسا کچھ ہوا تھا۔مجھے تو یہ بھی پروا نہیںکہ اس نے مجھے شعیب بارے معلومات درست بھی دی ہیں یا غلط۔“ نینا نے بے دلی سے یوں کہا جیسے اسے اب کوئی افسوس نہیںہے ۔

” یہ بات بالکل درست ہے کہ شعیب اس وقت مٹھن خان کے گیسٹ ہاﺅس ہی میں ہے ، اور یہ بھی ٹھیک بتایا تھا کہ وہاں سیکورٹی بہت زیادہ ہے ۔یہ بات میںتمہیںقسم کھا کر بتا سکتی ہوں ۔“روزینہ ہے نے تیزی سے یقین دلانے والے انداز میں کہا تو نینا نے پوچھا

” تم یہ بات اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتی ہو ؟“

 ” میں بھی وہیں کام کرتی ہوں ۔اسی فارم ہاﺅس میں، ان کے گھر کے کام کرتی ہوں۔“اس نے بتایا

” کیا کرتی ہو وہاں پر؟“ نینا نے پوچھا

”یہی جو صفائی ستھرائی اور اور جو بھی کام ، سب سے اہم کام مٹھن خان کی بیٹی ’مومی‘ کو تیار ہونے میں مدد دیتی ہوں اور پھر ناشتہ کروا دیتی ہوں ، یا پھر جب کبھی اس نے باہر جانا ہو ۔“ اس نے بتایا تو نینا کی آنکھیں ایک دم سے کھل گئیں ۔ تبھی اس نے خود پر قابو پاتے ہوئے پوچھا

” مومی ،اس کی بیٹی ، کہاں ہوتی ہے ؟“

” یہیں ہوتی ہے ۔ کچھ عرصہ پہلے ہی باہریہاں آئی ہے ، وہ وہاں پڑھتی تھی ۔“ اس نے بتایا

” آج کل کہاں ہے ؟“

” ادھر ہی ہے ۔ دن چڑھے اٹھتی ہے ، رات بھر جاگتی ہے ۔بڑی خرانٹ ہے ۔ کئی لڑکوں سے دوستیاں ہیں اس کیں۔“ روزینہ نے یوں کہا جیسے وہ اسے پسند نہ ہو ۔

”وہ کبھی گھر سے نکلتی بھی ہے کہ نہیں۔“ نینا نے اچانک پوچھا تو زروزینہ کے منہ سے بے ساختہ نکلا

” نن….کلتی….نکلتی تو ہے ۔ لیکن بہت زیادہ سیکورٹی میں ۔تم یہ جو سوچ رہی ہو ، ناممکن ہے ۔“

”تم فوراً جاﺅ فارم ہاﺅس ۔ اگر ا س نے آج نکلنا ہے تو پتہ کرو، نہیںنکلنا تو بھی بتاﺅ ۔“ نینا نے ہذیانی لہجے میں کہا

” نینا پاگل مت بنو وہ ….“ اس نے کہنا چاہا لیکن نینا نے اس کی بات کاٹتے ہوئے انتہائی جذباتی لہجے میںکہا

” تمہیں شاید پتہ نہیںشعیب میری محبت ہے۔“

” اُوہ ۔! “ روزینہ کے منہ سے صرف اتناہی نکلا ، پھر چند لمحے توقف کے بعد ایک عزم سے بولی،” اچھا، میں کوشش کرتی ہوں ۔چاہے کچھ بھی ہو جائے ۔“

” شاباش ، تم صرف مجھے بتا دو ، باقی میںد یکھ لوں گی ۔“

” ٹھیک ہے ، میںبتاتی ہوں۔“ اس نے کہا اور فون بند کر دیا۔ نینا کے بدن میں سنسنی پھیل گئی ۔

دن نکل آیاتھا، جب میڈم فاخرہ وہاں آن پہنچی ۔ اس نے اصرار سے نینا کو کھلایا پلایا۔ اسے فریش ہوجانے کو کہا۔پھر وہی باتیں کرتی رہی، جو اب تک اسے معلوم تھیں۔ اس نے ہوا تک نہیںلگنے دی کہ وہ روزینہ کے ساتھ کیا پلان کرنے جارہی تھی۔میڈم فاخرہ اسے یہی سمجھاتی رہی کہ بات چیت کے ذریعے اس کا کوئی حل نکالتے ہیں۔اس نے اپنے دوستوں میںیہ بات رکھی ہے ، دوپہر تک اس کا نتیجہ آ جائے گا ۔ میڈم کا موقف یہی تھا کہ وہ سکون سے رہے اور کچھ نہ کرے ۔ کچھ بھی کرنا اپنی موت کو دعوت دینے کے مترادف ہوگا۔وہ خاموشی سے سنتی رہی۔ یہاں تک کہ میڈم دو گھنٹے کے بعد وہاں سے چلی گئی ۔جبکہ نینا بے چینی سے اس کی کال کا انتظار کرنے لگی۔اس کے لئے ایک ایک لمحہ کاٹنا بہت مشکل ہو رہا تھا۔اچانک اسے خیال آ یا کہ اگر روزینہ والا معاملہ نہ بنا تو پھر کیا کرے گی ؟ صرف اس کی آس میں نہیںبیٹھے رہنا چاہئے ۔ اسے کچھ دوسرا بھی کرنا ہوگا۔وہ کچھ دیر سوچتی رہی ، پھر اچانک اس نے ایک جُوا کھیلنے کا فیصلہ کر لیا۔

اس نے مٹھن خان کو کال ملائی ۔ زیادہ بیل نہیںگئی تھیں کہ اس کی کال پک کرلی گئی ۔

” بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے ۔“ مٹھن خان کے لہجے میں فتح مندی کا احساس جھوم رہا تھا

” شعیب کو چھوڑ دو ۔“ نینا نے خودپر قابو پاتے ہوئے کہا

” اسے چھوڑنے ہی کے لئے تو ابھی تک رکھ اہوا ہے ، ورنہ کب کا پار کر دیتا۔اس کا جرم یہی نہیںہے کہ و ہتماہرے ساتھ تھا، بلکہ اس نے میرے بیٹے ، میرے ؟؟؟کو زندگی بھر کے لئے معذور کیا۔ تم جانتی ہو نا ، گواہ ہو تم ، تمہارے سامنے ہی تو اس نے سب کچھ کیا تھا ، تیرے ایماءپر ۔“ مٹھن خان لفظ لفظ کہتا ہوا ایک دم سے جذباتی ہو گیا۔

” میں کہہ رہی ہو ں اسے چھوڑ دو ۔“ اس نے پھر سکون سے کہا تو وہ اسی جذباتی لہجے میں حقارت سے بولا

” قیمت جانتی ہونا اس کی ، خود آ جاﺅ، اسے لینے ۔اگر لے جاسکی تو لے جانا۔“

”قیمت کی بات بھی کرتے ہو تم اور سودے بازی نہیں کر رہے ہو ۔“ نینا نے طنزیہ لہجے میںکہا

”جو مرضی سمجھو ، میں تمہیں دیکھنا چاہوں گا۔اگر تم میں دم ہے ، اگر تم واقعی گولی ہو ، میرے بھیجے میں اُتر سکتی ہو تو لے جاﺅ اُسے آج شام تک ۔ اگر تم میں ہمت ہے تو ۔ورنہ میں اسے آج سورج غروب ہونے کے بعد مار دوں گا۔“ مٹھن خان نے اسی حقارت بھرے لہجے میںکہا

”میںنے تو سمجھاتھا، تم اس موقعہ سے فائدہ اٹھا کر کوئی ڈیل کر لو گے، مگر ایسا نہیں ہے ۔خیر ، مجھ میں ہمت ہوئی تو میں اُسے آج ہی سورج غروب ہونے سے پہلے نکال لوں گی وہاں سے ۔“ اس نے بڑے ٹھنڈے لہجے میں کہا

” میں انتظار کروں گا ۔ “ وہ ہنستے ہوئے بولاتو نینا نے فون بند کر دیا ۔ وہ چند لمحے تک خود کو سمیٹتی رہی ،پھر ایک طویل سانس لے کر سوچنے لگی کہ وہ کیا کر سکتی ہے ۔ یہی سوچتے ہوئے اچانک اسے خیال آ یا کہ یہ تو پتہ چل گیا کہ شعیب اغوا ہو گیا ہے،لیکن ہوا کیسے ؟ یہ معلوم نہیںہو سکا تھا؟ کیا اس کا سیل فون بھی اس کے دشمنوں کے ہاتھ لگ چکاہے یا وہ کہیں دوسری جگہ ہے ، کیا اس کا سیل فون دشمنوں کی دسترس سے دور ہے یا پھر ان کے ہاتھ لگ گیا ہے؟ یہ سیل فون بہت کام کا تھا ۔ کیونکہ اگر وہ شعیب کے اس فون کا تجزیہ کروا لیتے تو بہت کچھ اُنہیںپتہ چل سکتا تھا۔ ساری تکنیک ان کے ہاتھ لگ سکتی تھی ۔ پھر نینا کا پکڑا جانا بہت آسان تھا۔اسی ایک بات نے اسے چونکا کر رکھ دیا تھا۔ وہ ایک دم سے پریشان ہو گئی۔کہیں مٹھن خان کا اعتماد اسی وجہ سے تو نہیںہے؟ وہ مضطرب ہو گئی ۔

وہ تیزی سے سوچ رہی تھی کہ اب کیا کیا جا سکتا ہے ؟ یہی سوچتے ہوئے اچانک اسے یاد آیا ۔ بلیو کیٹ کی مانندفون ہی کی دنیا میں موجود اس کی ایک سہیلی ذہن میں آ گئی ۔ وہ بڑے دعوے کیا کرتی تھی۔ ایک بار اس نے کہا تھا اگر اسے کچھ ہو جائے ، یا کوئی اسے اغوا کر لے ، یا ایسی کوئی صورت حال بن جائے ،جس میں اس کے اپنے کے بارے میں پتہ نہ چل رہا ہو تو اسے ایک کال کر کے صورت حال بتا دینا۔ پھر وہ جانے اور اس کا کام ،وہ نمبر نینانے اپنے ہر سیل فون میں محفوظ کر لیا ہوا تھا۔نینا نے تیزی سے وہ نمبر تلاش کیا۔کال کرنے سے پہلے چند لمحے سوچتی رہی ، پھر کال کر دی۔ چند لمحے بیل بجتی رہی پھر اسی سہیلی نے فون پک کر لیا۔ چند لمحے باتیں کرتے رہنے کے بعد اسی سہیلی نے پوچھا

” ہاں بولو،آج بہت دنوں بعد یاد کیا تم نے اور وہ بھی بے وقت ، خیر تو ہے نا؟“

” خیر ہی تو نہیں ہے۔میں اس وقت ایک بہت بڑی گھمبیر صورت حال میں پھنسی ہوئی ہوں۔

” بولو ، کیا بات ہے۔“ دوسری طرف سے سہیلی نے مشینی انداز میں کہا تو نینا نے شعیب کے لاپتہ ہونے کے بارے میں بتا دیا اور یہ معلومات بھی دے دی کہ وہ کہاں مل سکتا ہے ۔ساری بات سن کر دوسری طرف سے سہیلی نے کہا ” اوکے ۔ رابطے میں رہنا ، میں کال کرتی ہوں۔“

” کیا کروگی ؟“ نینا نے تیزی سے پوچھا

”یہ میرا کام ہے ۔“ اس نے کہا اور فون بند کر دیا۔وہ کئی لمحات تک بند فون کو دیکھتی رہی ۔

اچھا خاصا دن چڑھ آیا تھا ۔ میدم فاخرہ کا کوئی فون نہیں آیا تھا۔ شاید یہ اس کے بس کی بات نہیںتھی ۔ نینا کوجب بھی شعیب کا خیال آتا، اس کے اندر دکھ کی لہر یو ںپھیل جاتی جیسے کسی نے خنجر گھونپ دیا ہو ۔ وہ تڑپ کر رہ جاتی تھی ۔وہ لاشعوری طور پر روزینہ کے فون کا انتظار کر رہی تھی ۔وہ حیران تھی کہ ابھی تک اس نے فون کیوں نہیںکیا۔ایک بار اس کے دل میں آیا کہ وہ خودد فون کر کے پوچھ لے ، مگر نمبر پش کرلینے کے باوجود اس نے خود کو روک لیا۔ اس کے پاس دو آپشن تھے ۔ یا تو مومی باہر نکلتی یا پھر نہیں نکلتی ۔ اگر وہ نکل ہی آتی تو اس کے پاس ایسا کون سا انتظام تھا جس کی وجہ سے وہ مومی کو اپنی دسترس میں کر پاتی ۔ وہ اکیلی تو باہر نہیں نکلنے والی تھی ۔ اس کے ساتھ سیکورٹی ہونا تھی ۔ اسے ان سے زیادہ طاقت چاہئے تھی ۔ وہ کافی دیر سوچتی رہی ۔ تبھی اسے خیال آیا اسے بی بی صاحب سے بات کر لینی چاہئے ۔ اگلے ہی لمحے اس نے کال ملا لی ، چند بیل کے بعد ہی فون کال پک کر لی گئی ۔ اس نے اب تک کی ساری بات بتا کر کہا

” اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔“

” لیکن اس میں یہ خیال رہے کہ وہ لڑکی ہے ۔“ بی بی صاحب نے کہا تو وہ بولی

” میںخیال رکھوں گی ۔“

” ٹھیک ہے ، ابھی کچھ دیر بعد ایک بندہ تم سے رابطہ کر ے گا ۔جیسے طاقت بھی چاہو ، اس سے مل سکتی ہے ۔“

” ٹھیک ہے ۔“ نینا نے اطمینان سے کہا

” اور ہاں ، پلاننگ سے یہ کام کرنا ، اگر کر سکو تو،مجھے مطلع رکھنا،ہر حال میں۔“ بی بی صاحب نے کہا اور فون بند کر دیا۔

اس وقت دوپہر ہو جانے والی تھی ۔جب روزینہ کا فون آ گیا۔اس نے تیزی سے کال پک کی ۔وہ انتہائی خوف زدہ دھیمی آواز میں بتانے لگی۔

” وہ ابھی اپنی ماں سے کہہ رہی تھی کہ اُسے اپنی کسی سہیلی کے گھر جانا ہے ، وہاں پارٹی ہے۔ وہ کہہ رہی ہے کہ رات دیر سے آئے گی جبکہ ماں بہت کم وقت کے لئے اُسے جانے کی اجازت دینا چاہتی ہے۔ “

” مطلب وہ باہر جائے گی۔“نینا نے یوں کہا جیسے خود کلامی کر رہی ہو ۔اسکے اندر اس قدر سنسنی ہوئی تھی کہ اسے خود اپنی آواز میں لرزش محسوس ہوئی ۔پھر تیزی سے پوچھا،” کہاں جانا ہے اس نے ؟“

” یہی پتہ کرتے ہوئے دیر ہوگئی ہے ۔وہ میں بتا دیتی ہوں، وہ سہ پہر کے قریب نکلے گی ۔“ یہ کہہ کر وہ بتانے لگی کہ اس نے جانا کہاں ہے۔ جس قدر معلومات وہ لے سکتی تھی ، اس نے لیں اور پھر فون بند کر دیا۔اسے اب زندگی کا جوا کھیلنا تھا۔اسے چند گھنٹے کا یہ وقت بہت طویل لگ رہا تھا۔

سہ پہر ہو چکی تھی ۔اس کا رابطہ ہو گیاتھا۔ کال کرنے والے شخص نے چند ایسے لوگوں کا بندو بست کر دیا تھا جو زندگی کی بازی لگادینے کو ہمہ وقت تیار رہتے تھے۔اس نے انہیں بتایا ہی نہیں کہ وہ کس لڑکی کو اغوا کرنے والے ہیں۔جس جگہ مٹھن خان کی بیٹی مومی نے جانا تھا ۔ اس کے آس پاس اس نے پورا نیٹ ورک بنا لیا ہوا تھا ۔ اسے یہ بالکل پتہ نہیںتھا کہ مومی کے ساتھ سیکورٹی کتنی ہوگی ۔مگر یہ سب کرنے کے علاوہ اس کے پاس کوئی چارہ نہیںتھا۔

جس وقت مومی فارم ہاﺅس سے نکلی ، اسے پتہ چل گیا ۔ اس کے ساتھ سیکورٹی بھی اتنی ہی تھی ، جس قدر معمول کے مطابق ہو تی تھی۔ ایک فوروہیل آگے ، اس کے درمیان مومی کی کار اور اس کے پیچھے ایک کیبن وین تھی۔وہ کل ملا کر دس کے قریب آ دمی تھے اور سبھی مسلح تھے۔جس وقت نینا عورت منزل سے نکلی ، اس وقت تک اکیلی ہی تھی ۔مومی کے نکلنے کی اطلا ع اسے ایک شاہراہ پر جاتے ہوئے ملی تھی ۔وہ فور وہیل میں تھی ۔اسے ایک شاپنگ سینٹر کے سامنے پہنچنا تھا ، جہاں سے اس نے دولوگوں کو لینا تھا۔

نینا اس شاپنگ سینٹر کے سامنے پہنچ گئی ۔وہ دولوگ بڑے اطمینان سے ٹہلتے ہوئے اس کے پاس آگئے ۔ ان میں سی ایک نے پوچھا

” بڑا گولی کی طرح آئی ہو ؟“

” گولی نے بھیجا ہے ۔“ نینا نے اس کی طرف دیکھ کر کہا

”گولی تو نہیں دے رہی ہو ؟“ اسی نے پوچھا

”وہ تو دی جا چکی۔“ نینا نے سکون سے جواب دیا تو انہوں نے مزید کوئی سوال نہیں کیا اور پچھلا گیٹ کھول کر اس کے ساتھ بیٹھ گئے ۔ یہ ان کے درمیان کورڈ ورڈ تھا۔جو نینا نے ہی ان سے کہا تھا۔وہی دو آ دمی تھے، جنہوں نے سارا نیٹ ورک بنا لیا ہوا تھا۔ وہ راستے میں اسے سمجھاتے گئے کہ ان کی پلاننگ کیا ہے۔

وہ اس گھر کے بالکل پاس پہنچ گئے تھے، جہاں مومی نے آنا تھا۔وہ شہر کا پوش علاقہ تھا۔وہ چار کنال سے کم کوئی بھی گھر نہیںتھا۔ بڑی بڑی سڑکوں پر اتنارش نہیںتھا ۔وہ ایک چوراہے کی نکڑ پر کھڑے ہو گئے ۔وہاں سے چاروں طرف دکھائی دے رہا تھا۔ ایک شخص اپنے سارے لوگوں سے رابطہ کئے ہوئے تھا۔ انہی لمحات میں اسے اپنی سہیلی کی کال موصول ہوئی ، جس نے شعیب کی رہائی کی ذمہ داری لی۔

” ایک وفد اس وقت مٹھن خان کے گھر میں پہنچ گیا ہے ۔جس میں پولیس آفیسر، خفیہ اورصحافی ہیں۔ابھی کچھ دیر بعد پتہ چل جائے گا کہ کیاہوتا ہے۔“

”دیکھ لو ، وہ اس معاملے میںکوئی سمجھوتہ اگر کر لے تو۔“ نینا نے مایوسی سے کہا

” دیکھتے ہیں۔ کوئی اچھی خبر ہی ہو گی ۔“ سہیلی نے کہا اور فون بند کر دیا ۔جن لمحات میں وہ فون بند کر رہی تھی ، اس کی نگاہ سامنے پڑی۔مومی کا قافلہ آ رہا تھا۔وہ دونون بھی دیکھ چکے تھے اور انہوں نے پورے نیٹ ورک کو الرٹ کر دیا تھا۔چند لمحوں کا کھیل تھا۔

نینا نے ایک طویل سانس لی ، اور گیئر لگا دیا ۔ اس نے اچانک یوں سامنے بریک لگائے جیسے ان کا راستہ روکنا چاہ رہی ہو ۔ سامنے سے گاڑیوں کے بریک چراچرائے ۔جیسے ہی پہلی فور وہیل رُکی، اس کے سن روف سے ایک بندہ گن لے کر نکل آ یا ۔ ایسا ہی پچھلی فوروہیل سے ہوا ۔ ہر کھڑکی سے گن کی نال برآمد ہو گئی ۔ اگلے چند لمحوں میں کئی گاڑیاں ان کے ارد گرد آن رکی تھیں۔مومی کے قافلے کو پتہ چل گیا تھا کہ ان کے ساتھ کیا ہواہے ، ہر لمحہ قیمتی تھا ۔ وہ کسی کو بھی اطلا ع کر سکتے تھے ۔اس لئے اردگرد آ جانے والی گاڑیاں رکی نہیں بلکہ ایک گاڑی مومی کی کارکے آگے اور ایک پیچھے گھس گئی ۔ اسکے ساتھ انہوں نے بے تحاشا فائرنگ شروع کر دی ۔ مومی کے قافلے سے بھی اسی شدت سے فائرنگ ہونے لگی تھی ۔ نینا نے اس فائرنگ کی پرواہ کئے بغیر اپنی فور وہیل بڑھائی اور سیدھی مومی کی کار کے پاس لے گئی فوروہیل رکتے ہی ایک بندے نے لوہے کاراڈ اٹھایا ور شیشے پر دے مارا اور کار کا پچھلا دروازہ کھول دیا۔ پچھلی نشست پر ایک سہمی ہوئی لڑکی بیٹھی ہوئی تھی ۔اسی لمحے نینا کی نگاہ ڈرائیور پر پڑی جو دروازہ توڑنے والے پر پسٹل تان چکا تھا۔ نینانے تاک کر نشانہ لیا، ڈرائیور وہیں ڈھیر ہو گیا ۔ نینا نے مومی کا بازو پکڑا اور اسے گھسیٹ کر فوروہیل میں ڈال لیا۔ تب تک فوروہیل میںموجود شخص ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ چکا تھا، جیسے ہی مومی اندرآ ئی ، اس نے فور وہیل بھگا دی ۔ مومی تڑپ رہی تھی ۔ لیکن نینا نے ایک زوردار تھپڑ اس کے مارا وہ ایک دم ٹھٹک کر لیٹ گئی ۔ تب تک وہ چوراہا پار گئے تھے ۔ نینا نے سب سے پہلے اس کا فون تلاش کرنے کی کوشش کی ۔ جس اس کے پاس نہیںتھا۔ وہ کہیں اس کے پرس ہی میں رہ گیا تھا ۔ پیچھے والوں کو اطلاع ہو گئی تھی۔ اب انہوں نے وہاں سے نکلنا تھا ۔ وہ کیسے نکلے ، یہ بات وہ بہتر سمجھتے تھے ۔

سورج غروب ہونے میں ابھی کچھ وقت تھا، جب وہ شہر کے مضافات میں موجود ایک فارم ہاﺅس تک جا پہنچے تھے۔ اس دوران پتہ چل گیا تھا کہ ان کے اپنے اور مومی کے فاقلے والے شدید زخمی ہوئے تھے ۔ ان میں ایک کی حالت نازک تھی ۔ ڈرائیور مارا گیا تھا۔ ان کے اپنے بندوں کے ساتھ کیا ہوا؟ اس بارے اسے نہیں بتایا گیا۔ فارم ہاﺅس پہنچتے ہی اس نے بی بی صاحب کو فون کر کے بتانا چاہا تو اس کی سہیلی کی کال آ ئی ہوئی تھی۔اس نے سہیلی کو فون نہیںکیا بلکہ بی بی صاحب کو بتا دیا کہ وہ ایک محفوظ ٹھکانے پر پہنچ چکی ہے ۔بی بی صاحب کو بتانے کے بعد اس نے سہیلی کو فون کیا

” فون کال کیوں نہیںلی ؟“ سہیلی نے پوچھا

 ” میںمصروف تھی ۔بتاﺅ کیا بنا؟“ نینا نے پوچھا

” وہ نہیںمانا، کہہ رہا ہے کہ اس کے بیٹے کی قاتل دے دو تو یہ لے جاﺅ ۔“ اس نے سکون سے بتایا

” مجھے معلوم تھا کہ وہ تم لوگوں کے کہنے پر نہیںمانے گا۔ وہ سکون سے ماننے والوں میں سے ہے ہی نہیں۔خیر ۔! بہت شکریہ، تم میری مدد کی ۔“ نینا نے غصے میںکہا

”سکون سے سمجھانے کا مطلب ، ایک وارننگ تھی۔ آج رات وہاں آپریشن ہو جائے گا ۔ وہ صبح سے پہلے تمہارے پاس ہوگا۔“ سہیلی نے بتایا

” میں سمجھی نہیں۔“ نینا نے تشویش سے کہا

”ہمارا مقصد یہی تھا کہ وہ اتنا مان جائے کہ شعیب اس کے پاس ہے ۔اب اسے ہم باز یاب کرائیں گے ۔ ہم نے شعیب سے ملنے کی کوشش بھی کی لیکن اس نے اجازت ہی نہیں دی ۔خیر۔! تم کل صبح میرا شکریہ ادا کرنا ، یہ اب میرے لئے بھی چیلنج ہے۔“ سہیلی نے گہرے لہجے میںکہا

 ” ٹھیک ہے ۔ میں رابطے میںرہوں گی ۔“ نینا نے کہا اور کچھ سمجھتے ہوئے اور کچھ نہ سمجھتے ہوئے اس نے فون بند کر دیا۔

مومی اس کے سامنے صوفے پر ڈھیر تھی ۔اس عمر یہی بیس پچیس کے قریب رہی ہو گی لیکن اس کا صحت مند بدن اسے اپنی عمر سے کہیںبڑا ظاہر کرتا تھا۔ گول چہرے پر شولڈر کٹ بال ۔ موٹے نین نقش ، جنہیںبنانے سنوارنے کی پوری کو شش کی گئی تھی ۔ گورا رنگ ، بھاری سینہ ، جین اور لانگ شرٹ میں اس کا بدن پھنسا ہوا تھا ۔اس کی آنکھوں سے آ نسو رواں تھے ۔ وہ سہمی ہوئی خوف زدہ تھی۔ نینا اس کے قریب گئی اور اسے بالوں سے پکڑ کر بولی

”اگر میرے ساتھ تعاون کرو گی تو کچھ نہیںکہوں گی اور اگر اپنے باپ کی طرح بے غیرتی کی تو ….“ اس نے جان بوجھ کر اپنی بات ادھوری چھوڑ دی ۔

” مجھے یہاں کیوں لایا گیا؟“ مومی نے ہمت کرکے پوچھا تو نینا بولی

” تیرے باپ کی وجہ سے ، تیرا کوئی قصور نہیںہے ، میں ….“وہ ایک دم سے چپ ہو گئی ۔ وہ اس سے کوئی بحث نہیںکرنا چاہتی تھی ۔ نینا نے اپنا خاص فون نکالا اور اس پر نمبر پش کرکے مٹھن خان کو کال کر دی ۔ چند لمحوں بعد ہی اس نے کال پک کر لی تو نینا نے سیدھے ہی کہا

” شعیب کو چھوڑ رہو یا نہیں؟“

” لیکن جو تم نے کیا، وہ اچھا نہیں،“مٹھن خان نے ایسے لہجے میںکہا ، جس سے وہ فوراً اس کا لہجہ نہ سمجھ سکی لیکن اتنا سمجھ گئی کہ وہ کہیں زیادہ شاک میں ہے۔

” تم نے اچھا کیا؟“ نینا نے پوچھا

” مومی کو چھوڑ دو ، میں شعیب کو چھوڑ دوں گا ۔“ اس نے دھیمے سے کہا

” یہ تو اب میری مرضی ہے کہ میں کیا کروں گی ۔ابھی اور اسی وقت شعیب کو چھوڑ دو ، اگلے پندرہ منٹ میں سورج غروب ہو جائے گا ۔اور اس پہلے مجھے شعیب کی کال ملنی چاہئے کہ وہ آزاد ہے ۔ اس کے بعد میںکوئی فیصلہ کروں گی ۔“ نینا نے بپھرتے ہوئے کہا

” دیکھو ۔! میرا صبر مت آزماﺅ ۔“

” بکواس نہیں ، سالے صبر کے۔“ نینا ایک دم سے پھٹ پڑی ۔پھر سانس لے کر بولی،” تم نہیں جانتے ، اگر سورج غروب ہونے سے پہلے مجھے شعیب کی کال نہ ملی تو میں کیا کر سکتی ہوں ، اس کا تم تصور نہیںکر سکتے ہو ۔بس چند منٹ ہیں تیرے پاس ۔“ یہ کہہ کر اس نے فون بند کر دیا۔

فون بند کر کے وہ خود پر قابو پاتے ہوئے اٹھ کر کمرے میں ٹہلنے لگے ، پھر کھڑکی کے قریب جا کرڈوبتے ہوئے سورج کو دیکھنے لگی ۔ڈوبتے ہوئے سورج کے ساتھ ہی شعیب کی رہائی تھی ۔ایک ایک لمحہ بھاری ہو رہا تھا۔

پندرہ منٹ یونہی گزر گئے ۔ وہ فون ہاتھ میںلئے کھڑی رہی ۔ اس میں ایک وقت ایسا بھی آیا کہ وہ مومی کی طرف سے غافل ہو گئی ۔ اگر اس کی جگہ وہ ہوتی تو ضرور مزاحمت کرتی لیکن مومی مٹی کے ڈھیر کی مانند وہی صوفے پر ڈھیر ہی رہی ۔تبھی اس کا فون بج اٹھا۔ وہ اجنبی نمبرز سے کال تھی ۔ نینا نے فون پک کیا تو بولنے والا شعیب ہی تھا۔

” میں اب آزاد ہوں، گھر جا رہا ہوں ، یہ لوگ مجھے چھوڑنے جا رہے ہیں۔“ اس کے لہجے میں جو کراہ تھی ، اس سے نینا اندر تک تڑپ گئی ۔ اس نے اپنے آپ کو سنبھالا اور کافی حد تک غصے میں بولی

” تم خود کیوں نہیںچلے جاتے ہو ۔ ان سے گاڑی لو اور اکیلے نکلو ۔“

” میں گاڑی نہیں چلا سکتا۔ میں …. بس چلا جاتا ہوں۔“ اس نے کہا اور فون ہٹا دیا ۔ پھر فون بند ہو گیا۔

نینا کے دماغ میں آندھیاں چلنے لگیں ۔ اس قدر تشدد کیا ہے انہوں نے ۔اس نے پلٹ کر مومی کی طرف دیکھا۔ وہ اپنا غصہ اس پر نکال سکتی تھی ۔ لیکن چاہتے ہوئے بھی اپنی جگہ سے ہل نہیں سکی ۔

سورج نکل آیا تھا ۔ نینا آدھی رات کے قریب اس فارم ہاﺅس سے نکل کر شعیب کے اس دوست کے فارم ہاﺅس جا پہنچی تھی جہاں وہ کبھی کبھی ملے کرتے تھے۔نکلنے سے پہلے اس نے مومی کو بے ہوش کر دیا تھا۔ اس نے اسے کارمیںڈالا اور وہاں سے اکیلی ہی نکلی تھی ۔ اس نے باقی سب کو چلے جانے کا کہا تھا ۔ وہ لوگ بہتر جانتے تھے کہ انہوں نے کیا کرنا ہے ۔ اس وقت وہ دوسری منزل کے ایک کمرے میں تھی ۔ آدھی رات کے بعد کہیں شعیب کی اپنے سیل فون سے کال آ گئی تھی ۔ اس کے بابا نے گھر میں ڈاکٹرز کو بلوا لیا تھا۔اس کا بڑا دل چاہا تھا کہ وہ اُڑ کر شعیب کے پاس چلی جائے لیکن نہ تو وہ اس کے پاس جا سکتی تھی اور نہ ہی وہ مومی کو اکیلا چھوڑ سکتی تھی ۔ اب اس کے لئے سب سے بڑا مسئلہ یہی مومی تھی ۔ وہ اسے واپس بھیجنا چاہتی تھی ۔یہ بہت اچھاموقع تھا کہ وہ مٹھن خان کو سامنے آ نے پر مجبور کر دیتی ۔مگر نجانے کیوں اس کا دل نہیںمان رہا تھا۔وہ ایک لڑکی کو ہتھیار نہیںبنانا چاہتی تھی ۔اس کے دماغ نے بہت ساری دلیلیں دی تھیں ۔

” یہ کیا ہے ، اب بھی تو تم نے اسے ہتھیار ہی بنایا ہے ، یہ بھی لڑکی ہی کا استعمال کیا ہے تو نے۔“دماغ نے دلیل دی تھی

” مگر یہ مجبوری تھی ، اب ایسا کچھ نہیںہے۔“ اس نے جواب دیا تو دماغ بولا

” اب کیا اس نے تمہارے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے ہیں، معافی مانگ لی ہے؟“

”نہیں ، اب حالات اور ہیں ۔“

” فرض کرو،اگر وہ شعیب کو نہ چھوڑتا ، ضد پر اَڑ جاتا تب کیا پھر بھی تم مومی کو استعمال نہ کرتی ؟“

” وہ حالات دوسرے ہوتے ۔“ اس نے زچ ہو کر کہا

اسی کشمکش میںکوئی فیصلہ نہیں کر پا رہی تھی ۔ یہ تو طے تھا کہ مٹھن خان سے دشمنی ختم نہیںہو سکتی تھی ۔وہ چاہے مومی کو چھوڑ دے یا پھر اسے ہمیشہ کی نیند سلا دے ۔ مومی جب ہو ش میں آئی تو بہت دیر تک خوف زدہ رہی پھر ساری رات جاگتی رہی تھی ۔ صبح کے وقت اسے نیند آ گئی ۔اس وقت وہ سوئی ہوئی تھی ۔ نینا کی آ نکھوں سے نیند جیسے روٹھ گئی تھی۔ وہ اتھی اور اس نے کھڑکی کھول دی ۔تازہ ہوا کے جھونکے نے اسے خوشگوار کر دیا۔اس نے سوچنا بند کر دیا تھا۔ لیکن سوچیں کسی بچے کی طرح اپنا آپ منوانے لگی تھیں۔ اسے بہت سارے فیصلے کرنا تھے ، ایک ایک بندے کے بارے میں اسے سوچنا تھا۔ اس نے ایک طویل سانس لی اور سوچنے لگی ۔

٭….٭….٭

زندگی میں سب سے مشکل وقت وہ ہوتاہے جب کسی شے کی شدید خواہش ہو رہی ہو ، وہ شے سامنے بھی ہو اور اسے حاصل نہ کر پا رہے ہو ں۔ نینا کے لئے وہ بڑا صبر آزما لمحات تھے ۔ شعیب اس سے تھوڑے سے وقت کے فاصلے پر ہسپتال میںپڑا تھا۔ لیکن وہ اس سے مل نہیںپا رہی تھی ۔ اس کا ایک بندہ اسی ہسپتال میں موجود تھا ، جو تھوڑی تھوڑی دیر بعد اس کی حالت کے بارے میں بتاتا جا رہا تھا۔ پتہ نہیں وہ کونسی قوت تھی جس کے بل بوتے پر شعیب تشدد ہو جانے کے باوجود ہوش میں تھا ۔ لیکن جیسے ہی وہ ہسپتال میں گیا ، اس کی حالت بگڑنے لگی تھی ۔دوپہر ہونے کو آ گئی تھی لیکن شعیب کے بارے میں کوئی اچھی خبر نہیںمل رہی تھی ۔ وہ شاید کوئی نہ کوئی راستہ نکال کر اس تک پہنچ جاتی لیکن اسے مومی کو سنبھال کر رکھنا تھا۔اسے مٹھن خان پر شدید غصہ آ رہا تھا ۔ اس نے ایک نگاہ بیڈ پر پڑی مومی کو دیکھا اور پھر اپنا غصہ کم کرنے کے لئے مٹھن خان کو فون کر دیا۔ جیسے ہی اس نے مٹھن خان کی ہیلو سنی ، تب اس نے دھاڑتے ہوئے کہا

” اگر شعیب کو کچھ ہو گیا تو میں تم سے وہ انتقام لوں گی ، جس کا تم نے تصور بھی نہیںکیا ہوگا۔“

”وہ صرف دکھاوے کے لئے ڈرامہ کر رہا ہے۔ تاکہ زیادہ سے زیادہ ہمدردیاں حاصل کر سکے ۔ تم اپنی کہو ، اپنا وعدہ پورا کرو ، اور چھوڑ دو مومی کو ۔“

” اس وقت نہیںچھوڑوں گی جب تک شعیب پوری طرح ٹھیک نہیںہو جاتا۔ اور اگر اسے کچھ ہو گیا تو میں تیری بیٹی کو نہیںچھوڑوں گی ۔ اس کے بدن کے ٹکڑے ٹکرے کر کے قسطوں میں تمہیںبھیجوںگی ۔یاد رکھنا۔“

” تم ایک کام کیوں نہیںکرتی ہو، ہم سمجھوتہ کر لیتے ہیں ۔ جو بھی مانگو گی تمہیں ملے گا ، صرف درمیان سے شعیب اور اس کے خاندان کو نکال دو ۔“ اس نے مفاہمانہ لہجے میںکہا

” ایک یہی تو نہیںکر سکتی ہوں مٹھن خان۔ تیرا اور میرا سمجھوتہ ہی کیا؟ میں تمہیں تڑپا تڑپا کر مارنے والی ہوں ۔“ اس نے دانت پیستے ہوئے نفرت سے کہا

” دیکھ لو ، یہی وقت ہے سمجھوتے کا ۔“ اس نے پھر سکون سے کہا تو نینا دھاڑتے ہوئے بولی

” بس ۔! بہت ہو چکا۔مجھے وہ سب لوگ چاہئیں جنہوں نے شعیب پر تشدد کیا۔ چاہئے تیرے ہی حکم پر کیا۔ اگلے پندرہ منٹ میں وہ ہسپتال میں ہوں۔ ورنہ تیری بیٹی کے پاس چھ ایسے خونخوار بندے بیٹھائے ہوئے ہیںمیں نے ، تم سمجھتے ہو وہ کیا کر سکتے ہیں۔“

” تم ایسا نہیںکر سکتی۔“ اس نے تیزی سے کہا

” مجھے روک بھی نہیںسکتے ۔“ یہ کہتے ہی اس نے فون بند کر دیا۔تبھی اس کی نگاہ مومی پر پڑی۔ وہ حیرت سے نینا کی طرف دیکھ رہی تھی۔وہ شاید اس کی آواز سے بیدار ہوگئی تھی ۔مومی چند لمحے اس کی طرف حیرت سے دیکھتی رہی پھر حیرانگی بھرے لہجے میں ہی اس نے پوچھا

” یہ بابا سے بات کر رہی تھی؟“

” ہاں ۔! اسی سے، جسے مارنے کے لئے میں لمحہ لمحہ تڑپ رہی ہوں ۔“ اس نے یوںکہا جیسے خود کلامی کر رہی ہو۔

” شعیب سے کیا تعلق ہے آپ کا ؟“ مومی نے پوچھا

” وہ میری محبت ہے لڑکی ، ایک عورت ہونے کے ناطے تم جان سکتی ہو کہ میں اس کے لئے کیوں تڑپ رہی ہوں، جس پر تیرے باپ نے صرف میری وجہ سے اتنا تشدد کیا کہ وہ ہسپتال میں جان کنی کے عالم میںپڑا ہے۔“ نینا نے اس کی آ نکھوں میںدیکھتے ہوئے کہا جہاں کئی سوال تھے۔

 ” ہاں ۔! میں سمجھ سکتی ہوں ۔“ مومی نے ہولے سے کہا پھر تیزی سے بولی ،”آپ ….گولی ہو ؟“

” میں جو بھی ہوں، لیکن پہلے ایک عورت ہوں۔“ نینا نے پھر یوںکہا جیسے خود کلامی کر رہی ہو ۔

” میں سمجھ سکتی ہوں۔ میںکوئی بچہ نہیںہوں۔ آپ نے یہ جھوٹ کیوں بولا کہ یہاں کچھ مرد ہیں اور ….“ وہ کہتے کہتے رُک گئی

” صرف تیرے باپ کودھمکانے کے لئے۔“ نینا نے کہا تو مومی تیزی سے بولی

” لیکن آپ نے تو مجھے کچھ بھی نہیںکہا۔“

” نہیں، ضرورت ہی نہیں پڑی ۔ “ یہ کہہ اس نے چند لمحے سوچاپھر مومی کی طرف دیکھ کر کہا،” چل اٹھ، میں تمہیں چھوڑ دوں ، تم اپنے گھر چلی جانا۔“

” مگر میں نہیںجانا چاہتی۔“ مومی نے حتمی لہجے میںکہا

” کیوں؟“ نینا نے حیرت سے پوچھا

باقی آئندہ۔

” میں کچھ وقت تمہارے پاس رہنا چاہتی ہوں۔“ مومی نے اس قدر سکون سے کہا کہ نینا نے اس کی طرف حیرت سے دیکھا۔وہ چند لمحے اسے حیرانگی میں دیکھتے رہنے کے بعد بولی

” حالانکہ تمہیں جلد از جلد مجھ سے چھٹکارا پا لینا چاہئے ،میں نے تمہیں اغوا کیا ہے لڑکی، کوئی مہمان بنا کر نہیںلائی ہوں ۔ کسی بھی وقت میرا دماغ خراب ہو سکتا ہے اورمیں تجھے کسی….“ نینا نے کہنا چاہا لیکن مومی اس کی بات کاٹتے ہوئے تیزی سے بولی

”قتل کر دو گی نا، تو کر دو ۔مجھے بر ہنہ کر کے کوئی وڈیو بنا لو گی ، بنا لو ، اس ویڈیو کو انٹرنیٹ پر وائرل کر دو گی ، کر دو ۔مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے ۔“

” لڑکی تم شاید حالات کی نزاکت کو نہیں سمجھ رہی ہو یا پھر تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے۔میں تمہیں صرف عورت ہونے کی وجہ سے کچھ نہیں کہہ رہی ہوں ، ورنہ جو کچھ تیرے باپ اور بھائیوںنے عورت کے ساتھ کیا ہے وہ تیری سات پشتوں ست انتقام لینے کے بعد بھی بدلہ پورا نہ ہو ۔“ نینا نے انتہائی غصے میں کہا تو مومی سکون سے بولی

”میں جانتی ہوں کہ میرے بھائی اور میرا باپ کیا کرتے رہے ہیں ، یہی میں چاہتی ہوں کہ میں بھی اپنی مرضی کروں ۔ مجھے بھی عیاشی کا اتنا ہی حق ہونا چاہئے۔جتنا میرے باپ اور بھائیوں کو ہے ۔جو بھی لڑکا مجھے پسند آئے ، میں اسے حاصل کرلوں ۔“

” تو یہ خواہش اپنے باپ اور بھائی سے کہو، مجھے کیوں سنا رہی ہو ،اپنی ماں سے کہو۔“ نینا نے کہا

” اور میں سمجھتی ہوں کہ یہ حالات ایسے ہیں ، جن کا سہارا لے کر میں اس خواہش کا اظہار کر سکتی ہوں۔“مومی نے سکون سے کہا تو نینا اس کی بات نہ سمجھتے ہوئے بولی

” تم پہیلیاں نہ ڈالو اور نہ مجھے تمہاری باتوں میں اُلجھنے کی ضرورت ہے۔میںنے تمہارے عوض اپنے شعیب کی رہائی چاہی ہے ۔وہ رہا ہو گیا ہے ۔اب مجھے تمہاری ضرورت نہیں۔“

” مگر مجھے تمہاری ضرورت ہے۔“ وہ حتمی لہجے میں بولی

” میری ضرورت، وہ کیسے ؟“ نینا نے اس کی بات سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے پوچھا

” دیکھو، تم میری بات مانو یا نہ مانو لیکن میری بات سن لینا“ اس نے کہا ، جس پر نینا خاموش رہی تب وہ کہتی چلی گئی ،” جس طرح تم اپنے شعیب کے لئے اتنا کچھ کر گذری ہو ،میں بھی اپنے بہزاد کے لئے اب جاں سے گذر جانا چاہتی ہوں ۔تم کہہ سکتی ہو کہ پہلے کیوں نہیں اب کیوں ، تو یہ جان لو کہ یہ حوصلہ مجھے تم سے ملا ہے ۔میں جس ماحول میں رہتی رہی ہوں ، وہاں عورت کو انسان سمجھا ہی نہیںجاتا۔یوں جیسے وہ جانور ہوں ، ان کی کوئی خواہش ہی نہ ہو ، کوئی جذبہ نہیںہے ان کے اندر۔میں بہزاد سے محبت کرتی ہوں، لیکن محض اس لئے اپنی پسند کا اظہار نہیںکر پائی کہ میں عورت ہوں ؟ “

” یہ تمہارا مسئلہ ہے لڑکی ، میں تمہیں آزاد کر رہی ہوں ، تم جاﺅ اپنی دنیا میں اور لڑو یا مرو جو مرضی کرو۔“ نینا نے اکتاتے ہوئے کہا

” مگر میں نہیںجاﺅں گی۔یہ پسٹل پکڑو اور مجھے ماردو ۔“ یہ کہتے ہوئے مومی نے صوفے کے نیچے سے پسٹل نکال کر اسے دیتے ہوئے کہاتو نینا ایک دم سے سٹپٹا گئی ۔

اس کے گمان میںبھی نہیںتھا کہ مومی یوں پسٹل اس کی طرف بڑھا دے گی ۔ وہ یہی پسٹل اس پر تان سکتی تھی۔اسی پسٹل سے نینا کو یر غمال بنا سکتی تھی۔ یہ بعد کی بات تھی کہ وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہوسکتی تھی یا نہیں۔وہ مومی کی ہتھیلی پر پڑے ہوئے اس پسٹل کو دیکھ رہی تھی جو اس نے خود ہی صوفے کے نیچے رکھا ہوا تھا ۔یہ اعصاب کو شل کر دینے والے لمحات تھے۔ مومی کے اس طرز عمل سے کچھ دوسرا سمجھ میں آئے یا نہ آئے ، لیکن یہ ضرور پتہ چلتا تھا کہ وہ اپنی بات میں مخلص ہے ۔ وہ جھوٹ نہیںبول رہی ۔ وہ چاہتی بھی وہی ہے جو کہہ رہی ہے ۔تبھی نینا نے خود پر قابو رکھتے ہوئے کہا

” اس کی ضرورت نہیںہے، وہیں رکھ دو ، خالی ہے۔“

” تو گولیاں بھر لو اس میں ۔“ مومی نے یوں کہا جیسے کوئی بچکانہ حرکت کرتا ہے ۔

” اسے وہیں رکھو اور میری بات غور سے سنو ۔“ یہ کہہ کر وہ انتظار کرنے لگی کہ مومی کیا کر تی ہے۔ مومی چند لمحے سوچتی رہی پھر اس نےاس نے واپس وہیں پسٹل رکھ دیا، جہاں سے لیا تھا۔ تب نینا اس کے پاس بیٹھتے ہوئے بولی

 ” بتاﺅ ، میں تمہارے لئے کیا کر سکتی ہوں۔“

”میں بہزاد کو ٹوٹ کر چاہتی ہوں ، وہ کوئی امیر زادہ نہیںہے، مڈل کلاس فیملی کا ایک عام سا لڑکا ہے دنیا کی نگاہ میں ۔اس کا باپ اسی شہر میں چھوٹا سا بزنس کرتا ہے ۔ میں اور وہ یونیورسٹی میں پڑھتے رہے ہیں، حالانکہ میں بہت کم جاتی تھی ، مگر اسی کے لئے جاتی تھی ۔وہ میرے قریب اس لئے نہیںہوا کہ میرے بھائی اور میرا باپ اسے مار دیں گے ۔ “

” جب اس میں اتنا حوصلہ نہیںہے کہ تم سے اظہار محبت ہی کر سکے تو پھر تم اس کی طرف کیوں ….“نینا نے کہنا چاہا تو وہ تیزی سے بولی

” وہ بھی مجھے چاہتا ہے ۔ ہماری بات ہوتی ہے ۔ میں اس ملتی ہوں ، وہ بھی مجھے ملتا ہے ۔ ایسے ہی کسی تقریب میں، کل بھی اسے ملنا تھا ۔ لیکن ….نہیں مل پائی ۔“ مومی نے افسردگی سے کہا

” اوکے ،کیا وہ تمہارے لئے اپنی جان دے دے گا۔“ نینا نے لبوں میں ہنستے ہوئے پوچھا

” میں کیوںاس کی جان لوں گی ۔ میں تو اس کے ساتھ بسنا چاہتی ہوں۔“ مومی نے کہا

” بے وقوف ، جب تم اس کے ساتھ رہوگی تو کیا تمہارا باپ اسے معاف کر دے گا ۔ نہیں وہ تواسے کبھی بھی زندہ نہیں چھوڑے گا، ویسے بھی جب اسے پتہ چل گیا کہ تمہارا اور اس کا کوئی تعلق ہے، وہ تو گیا اس دنیا سے ۔“ نینا نے سمجھاتے ہوئے کہا

” کچھ بھی کرو، لیکن مجھے اس سے ملا دو ، اتناوقت دے دو کہ ہم یہاںسے نکل کر کہیںدور چلے جائیں ، پھر ہم سامنے ہی نہیںآئیں گے، مجھے میرے باپ کی دنیا سے کچھ نہیںلینا دینا ، مجھے بہزاد چاہئے ۔“ مومی ضدی بھرے لہجے میں کہا

” اوکے اس کا سیل نمبر ہے تمہارے پاس تو مجھے دو ۔ میں دیکھتی ہوں، کیا کرنا ہے۔“ نینا نے کچھ سوچتے ہوئے کہاتو مومی ایک دم سے خوش ہو گئی ۔ اس نے جلدی سے سیل نمبر بتادیا ۔ نینا نے اسے آرام کرنے کا کہا اور وہاں سے ہٹ گئی ۔

اس کے سامنے ایک ایسی صورت حال آ چکی تھی، جس سے وہ بہت حد تک فائدہ اٹھا سکتی تھی ۔لیکن یہ وقت ایسا تھا ، جب اسے سوائے شعیب کے کچھ دوسرا نہیںسوجھ رہا تھا ۔ اسے نجانے کیا ہوا تھا ، وہ ہوش میں نہیں آ رہا تھا۔ جب تک شعیب کے بارے میں اسے کوئی اچھی خبر نہیں مل جانی تھی اس وقت تک اسے یونہی لگ رہا تھا جیسے وہ اپنے ہوش و حواس کھو چکی ہے ۔ اس نے یہی سوچا تھا کہ شعیب کی رہائی کے بعد مومی کو واپس کر دے گی ۔ ایسا وہ صرف اسی لئے چاہ رہی تھی کہ مومی ایک عورت ہے ۔ اگر وہی عورت کی تذلیل کرے گی تو اپنے ضمیر کے سامنے کیا جواب دے گی ۔یہاں وہی اس کے گلے کا ہار بن گئی تھی۔ کیا وہ اس صورت حال سے فائدہ اٹھائے یا پھر مومی کو واپس بھیج دے ، جیسا اس نے سوچا تھا، یا پھر مٹھن خان کی بیٹی کو ذلیل کر کے رکھ دے ؟وہ سوچنا چاہ رہی تھی لیکن کوئی جواب بھی اس کے پلے نہیںپڑ رہا تھا۔اس وقت شعیب ہوتا تو کوئی مشورہ ہی دے دیتا۔ وہ سرد آہ بھر کر رہ گئی ۔

٭….٭….٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

جنوں ..مہتاب خان ..قسط نمبر 3 آخری

جنوں  مہتاب خان  (قسط نمبر 3) ساحر نے عادل کا چیلنج قبول کر لیا تھا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے