سر ورق / افسانہ / ”غلط فہمی“ ملیحہ سید

”غلط فہمی“ ملیحہ سید

”غلط فہمی“

ملیحہ سید

 

     پانچ سال پہلے جب میری محبت کے ہر سوال پر تم نے go to hell کہا تھا تب میں نے خود کو جہنم کا ایندھن بنانے کی ہر ممکن کوشش کی ۔ ہر بار کوئی طاقت مجھے بچاتی رہی مگرمیں اپنی ہی ذات میںخامیاں تلاش کرتی رہی کہ ارمان توقیر نے مجھے رد کیوں کر دیا،جس کے بقول میں ایک منفرد عورت ہوں،سب سے الگ اور سب سے جدا،اسی لیے میں نے اپنے آپ سے نفرت کی اور بہت زیادہ کی ۔مگر پھر بھی ایک مدت اس سراب نے مجھے اپنا اسیر رکھا کہ مجھے تم سے محبت ہے ۔اسی لیے صرف ایک تم سے محبت کی وجہ سے میں نے ہراس انسان سے رابطہ رکھا جس کا تعلق تم سے تھا، تاکہ مجھے تمہاری خبر ملتی رہے ،اور جب مجھے احسا س ہوا کہ تمہارا فیصلہ صحیح تھا میں اور تم ایک راہ کے مسافر نہیں تھے اور نہ ہی بن سکتے تھے۔ میرے اور تمہارے درمیان کچھ بھی مشترک نہیں تھا ،تب کچھ کچھ صبر آنا شروع ہوا اور میں نے تمہاری بابت پوچھنا چھوڑ دیا،مگر وہ غلط فہمی دور نہیں ہو رہی تھی کہ مجھے تم سے محبت ہے اور شدید قسم کی محبت ہے اور تم کو بھی ہے مگر میں غلط تھی ۔

یہ وقت نے ثابت کیا کہ میں،ارسا محمودغلط تھی کہ محبت جب بھی کی دو لوگوں نے کی ،محبت دو ہی لوگ کرتے ہیں۔یک طرفہ محبت ،محبت نہیں ہوتی وہ یا تو ہوس ہوتی ہے یا پھر غلط فہمی ۔ہوس ہو تو قتل ہوتی ہے اور قتل کرتی ہے اور اگر غلط فہمی ہو تو پھر انسان ساری زندگی خود ہی میں کمی اور خامیاں تلاش کرتا رہ جاتا ہے جبکہ انسان مکمل نہیں ہے۔وہ خطا کا پتلا ہے ، یہ سچ ہے کہ خطائیں صرف رب معاف کرتا ہے،بندہ تو احتساب کرتا ہے۔پتا ہے ارمان، دو طرفہ محبت میں ملن ہو یا نہ ہو عزت اور قربانی کا جذبہ برقرار رہتا ہے۔اس لیے کہ دو طرفہ محبت ایثارکرنے اور نثار ہونے کا نام ہے بس جدائی میں محبت کا انداز جدا ہو جاتا ہے۔

 تم جانتے ہو اپنی اس غلط فہمی کے پیچھے میں نے خود پر دنیا کی ہر خوشی حرام کر لی، میں نے اپنی جاب ہی چھوڑ دی کہ تم بھی وہیں ہو اور میں بھی وہیں ۔ میں محسوس کرتی تھی کہ تم مجھے دیکھ کے چڑچڑے ہو جاتے ہو اور یوں میں نے اپنا شاندار مستقبل تباہ کر دیا ورنہ اس بات کا یقین ہمارے سب سینئرز کو تھا کہ میں اگر فیلڈمیں رہتی تومیرا ایک نام ہوتا ، مقام ہوتا۔

تم کویاد ہے کہ تمہاری سالگرہ پر تم کو اپنے گھر کے دروازے پر، اپنی بائیک پر جو سرخ پھولوں کا گلدستہ ملا کرتا تھا ، تم جانتے تھے کہ وہ میں رکھتی ہوں ، جب کوئی تم سے محبت کی بابت بات کرتا تو تب تم خاموش ہو جاتے تھے کیونکہ تم جانتے تھے کہ تم نے محبت کو رد کر دیا ہے۔تم کسی سے بھی محبت نہیں کرنا چاہتے حتیٰ کہ خود سے بھی نہیں کیونکہ جو لوگ خود سے محبت کرتے ہیں وہی سب سے کرتے ہیں۔ محبت دینے والے بڑے عظیم ہوتے ہیں اورتم اس خوبی سے خالی تھے۔تم دنیا دار تھے اور محبت دنیا داری سے الگ دنیا ہے۔

نومبر کی اس ہلکی ہلکی خنکی میںباغ جناح کے ایک سرد بنچ پر بیٹھے ہوئے ارمان خاموشی سے ارسا محمود کی باتیں سن رہا تھا اور اسے سننا بھی تھیں ۔ ارسا محمود اس کی دوست ،بہترین دوست جس سے دوستی نبھانے کے لیے ارمان توقیرنے بہت ساروں سے دشمنی مول لی۔ مگروہ نہیں جانتا تھا کہ ارسا پہلی نظر کے تیر کا شکار تھی اور پہلا تیر بھلا دل سے کب نکلتا ہے ،جب بھی نکلتاہے دل اس کے ساتھ ہی نکلتا ہے۔پانچ سال پہلے 26مارچ 2011میں جب ارسا نے اس سے اپنی محبت کا برملا اظہار کیا تب ارمان کو اس سے وحشت سی ہو گئی۔ایک چھوٹی سی بات کو بہانہ بنا کر اس نے پہلے تعلق ختم کیا اور پھر جب ارسا نے مسلسل اس سے معافی مانگی تب اس نے یہ کہہ کر کال بند کر دی کہ اب تم سے پولیس رابطہ کرے گی، تم ایک شریف آدمی کو بلاوجہ تنگ کر رہی ہو۔پانچ سال پہلے ہونے والی ساری باتیں اس کے دماغ میں گونج رہی تھیں ،ارسا کا گلوگیر آواز میں معافی مانگنا۔ ارمان جانتا تھا کہ ارسا تب بھی غلط نہیں تھی اور آج بھی غلط نہیں ہے۔ غلط وہی تھا مگر اپنی مردانہ انا کے چکر میں کبھی اس نے تسلیم نہیں کیا۔

وہ ارسا کو گالیاں دیتا رہا،کوستا رہا ،اس کے کردار پر انگلی اٹھاتا رہا اور وہ خاموشی سے سب سنتی رہی ، در گزر کرتی رہی اورآج جب باغ جناح میں ایک دوست سے ملاقات کر کے وہ واپس جا رہا تھا تب اس نے ارسا کو دیکھا تو اسے یاد آ یا کہ اس کا گھر پاس ہی ہے اور وہ یہاں واک کے لیے آتی رہتی ہے خاص کر پتوں کے گرنے کے موسم میں ۔پتانہیں کیا سوچ کر اس نے ارسا کو آواز دی۔

ارسا اس کے سامنے آنے پر پہلے تو روکی مگر پھر اپنی ذات کے مکمل اعتماد کے ساتھ اس کے سلام کا جواب دیا ۔ارمان پر موسم کا اثر تھا یا پھر یہ یقین کہ ارسا آج بھی اس سے محبت کرتی ہے ۔اس نے ارسا سے کچھ باتیں کرنے کا عندیہ لیا ۔ ارسا بھی شاید موڈ میں تھی یا کچھ اور وجہ کہ اس نے اپنے ساتھ آئی دوست کو گھر جانے کا کہا اور خود ارمان کے ساتھ خاموش سی چلتی ہوئی باغ کے اس پر سکون گوشے کے بینچ پر آ کر بیٹھ گئی۔تب ہی سے وہ بول رہی تھی یا پھر اپنے اندر ایک مدت سے دبائے غصے کو باہر نکال رہی تھی۔ آخر390دن تک اس نے ارمان سے معافی مانگی تھی جس کے ہر جواب پر اس نے go to hellہی کہا تھا اور جب آخری کال پر اس نے پولیس کی دھمکی دی تب وہ خاموش ہو گئی کہ جس مرد کے پیچھے وہ دیوانی رہی ،وہ چھ فٹ کا بونا ہے۔ مرد اتنا بزدل نہیں ہوتا کہ ایک عورت سے ڈر جائے خاص کر اس سے جو اس سے محبت کی دعویٰدار ہو۔ وہ اسے سمجھا سکتا تھا کہ ہم ایک راستے پر نہیں چل سکتے مگر جو الفاظ اس نے ادا کئے ،انہوں نے اسے ایک عرصہ تنگ کیا اور اس کے اندر گھٹن بڑھتی رہی ۔دو سال ایک سرد،خاموش رات کی طرح اس نے گزارے ،جو کبھی کبھی ٹھہر جاتی ہے اور ہمیں لگتا ہے ،صبح کبھی نہیں ہو گی۔

 پتاہے ارمان میں نے اپنی دوست بن کرخود تم سے رابطہ کیا۔ نام لیے بغیر اپنا ذکر کیا تو تم نے فوراً ہی میرا نام لے دیا کہ ہاں ہے ایک پاگل جو تم سے محبت کرتی ہے ۔یہ سچ ہے ارمان تم محبت سے نہیں مجھ سے دور بھاگ رہے تھے۔ میں نے اس سوال کے اتنے جواب سوچے ہیں کہ ہر جواب ایک کہانی لگتا ہے۔ مگر 390دن تم سے معافی مانگنے کے بعد اور پھر اگلے دو سال خود کو سزا دینے کے بعد میں جب حقیقت کی دنیا میں واپس آئی تو مجھے ادراک ہوا کہ خاموشی کے اس سردسفر نے مجھے بہت بہادر بنا دیا ہے ۔ محبت میری کمزوری نہیں تھی، میرا جذباتی رویہ میری کمزوری نہیں تھا یہی تو میری طاقت تھی جو غلط جگہ پر لگ گئی۔

ارسا کی ساری باتیں سننے کے بعد ارمان کے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا، ارسا کو کھونے کے بعد اس نے پایا ہی کیا تھا؟ مگر آج اسے لگا کہ وہ واقعی خالی ہاتھ رہ گیا ہے اورپیچھے مڑ کر دیکھنے میں اس نے بہت دیر کر دی ۔

 اُسے آج سمجھ میں آیا کہ اس کی ماں صحیح کہا کرتی تھی ،محبت کی قدر کیا کرو،محبتوں کو رد کرنے والے ہمیشہ خالہ ہاتھ ہی رہتے ہیں۔محبت بھی رزق جیسی ہے بار بار رد کرو گے تو تم سے بہت دور چلی جائے گی اور ارسا نے تو 390دن تک مسلسل دستک دی تھی۔وہ خامیاں جو ارسا کوسناتا رہا وہی اسے عمارہ میں ملیں۔عمارہ اسے اچھی لگتی تھی کہ پیسے والے باپ کی بیٹی تھی جبکہ ارسا متوسط طبقے کی ورکنگ وومن۔

 عمارہ نہ تو اچھی بیوی ثابت ہوئی اور نہ ہی ماں۔اپنی مادی خواہشوں کے تعاقب میں، اس نے خود کو ہی تہی داماں کر لیا۔ اس نے ارسا کی طرف دیکھا جس کی آنکھوں میں نمی ضرور تھی مگر اسے لگا کہ یہ شکر کی ایک جھلک ہے ۔ تبھی اس کی خاموشی ٹوٹی اور اس نے فقط ایک ہی لفظ کہنے پر اکتفا کیا اور وہ تھا ” سوری“۔

ارسا کے اندر سکون کی ایک لہر دوڑ گئی اس نے ایک ہلکے سے تبسم کے ساتھ اپنا بیگ اٹھایا اور خدا حافظ کہہ کر باغ کے داخلی راستے کی طرف بڑھ گئی ۔

ارمان نے دیکھا کہ اس کے قدموں میں اعتماد تھا۔ اس نے دل میں عمارہ کو طلاق دینے کا فیصلہ واپس لے لیا کہ اب کے سزا اس کو کاٹنا ہے اور وہ بھی عمر بھر۔

کلائی پر بندھی گھڑی کی سوئیاں ساڑھے چھ کا وقت بتا رہیں تھیں۔اُسے گھر جانے کی جلدی تھی تاکہ اپنی امی کو بتا سکے کہ وہ عظیم کے ساتھ شادی کے لیے تیار ہے اوریہ شادی وہ اپنی پوری رضامندی سے کر رہی ہے اس کے قدم بہت تیزی سے اٹھ رہے تھے۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

دروازہ …محمد جاوید انور

دروازہ محمد جاوید انور "کہہ دیا نا میں نے لکھنا چھوڑ دیا ہے۔” اس کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے