سر ورق / افسانہ / بھوت … ناصر صدیقی

بھوت … ناصر صدیقی

              بھوت

ناصر صدیقی

                پورے پانچ سال بعد نفیسہ نے مجھے فون کیا:

                ”کیا تم”اب بھی“ میری بہت عزت کرتے ہو؟ اپنی بہن سمجھتے ہو؟“

                ”ہاں کیوں نہیں؟ہر طرح سے ثابت بھی کر سکتا ہوں۔آ پ تو خود غلط فہمی کا شکار ہوئی تھیں اور مجھے___“

                ”تو پھر مجھے فوراً سے پیشتر دس ہزار روپے ارسال کرو!میرا پتا سلیم سے ملے گا۔“میری بات کاٹ کر انھوں نے فون رکھ دیا۔

                مجھے سے سولہ سال بڑی نفیسہ کبھی میری باس رہی تھیں ۔ایک بار یونہی جب میں نے اپنے رشتے کو شدت سے منوانا چاہا تھا توناراض ہوئیں کہ آخر مجھے ”رشتہ“ کی اتنی وضاحت کرنے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟ کہیں نیت خراب تو نہیں ہے؟ تعلقات جو بھی ہیں بنا کسی رکاوٹ یا ”وضاحت “ کے چل تو رہے ہیں____پھر اسی غلط فہمی اور ناراضی کے ساتھ تبادلہ کرواکر اپنے شہر چلی گئی تھیں۔

                 نفیسہ مجھے ایک مشکل امتحان میں ڈال گئی ہیں،میں سوچنے لگا،لیکن دس ہزار روپے میرے پاس کہاں؟البتہ ایک دو استانیوں کی تنخوائیں میرے پاس ضرور رکھی ہوئی ہیں جوگرمیوں کی تعطیلات کے بعد دینی ہیں۔ تب تک سوچا جائے گا۔

                 شام کومیں نفیسہ کے دور کے عزیز، سلیم کے پاس گیا اپنا مدعا بتایا تو کچھ ہچکچاہٹ کے بعد اس نے مجھے پتہ دے دیا۔

                دوسرے ہی دن میں نے دس ہزار روپے نفیسہ کو ارسال کر دیئے۔

                کچھ دنوں کے بعد نفیسہ کا ایک خط ملا جس میں صرف ایک حیرت ذدہ کر دینے والی تصویر تھی____:اتنا کھلا گریبان میں تو ان کے تین سال قریب رہ کر بھی نا دیکھ سکا تھا ۔ وہ ایک گھریلو خاتون تھیں، دوپٹہ ان کے لئے لازم و ملزوم تھا۔

                یہ سب کیا ہے___؟میری پریشانی دو چندہوگئی:ایک دس ہزار رروپے کی پریشانی اور دوسری اس دعوت ہوس دینے والی تصویر کی۔

                ایک ہفتے بعد انکا ایک اور خط ملا جس میں لکھا تھا: میری تصویر پسند آئی کہ نہیں؟اس سے زیادہ اچھی اور ”واضح“ تصویر بھی میرے پاس ہے۔کہو تو ارسال کردوں؟

                یہ سب کیا ہو رہا ہے آخر؟! میں تو انھیں اپنی بہن سمجھتا رہا تھا بلکہ میری عمر کا انکا ایک بیٹا بھی ہے۔اور یہ ہیں کہ مجھے فحش اور لچر تصویر دکھاتی ہیں۔آخرکیا ثابت کرنا چاہتی ہیں؟وہ ایسا کیو ں کر رہی ہیں؟؟؟

اب کی بار حیرت کی بجائے مجھے غصہ آگیا اور میں نے جھٹ جوابی خط لکھ ڈالا کہ اپنی واضح سے واضح اور صاف سے صاف تصویر ارسال کر۔

                دیر نہ گزری کہ انھوںنے اپنی ایک اور تصویر ارسال کی جس کے پیچھے لکھا تھا:دس ہزار روپے میں،میں صرف یہی دکھا سکتی ہوں۔اگر مجھ سے ”ملنے“ کا” شوق“ ہے تو قیمت بیس ہزار روپے ہے ۔

                یہ سچ ہے کہ یہ ہوش ربا تصویردیکھ کر پہلی بار رشتہ پگھل گیا ۔اور رہی بات پیسوں کی تو استانیوں کی تنخواوں کے بقیہ پچاس ہزار روپے اب بھی میرے پاس پڑے ہوئے تھے۔

                دوسرے دن جب میں بس میں بیٹھ کر نفیسہ سے ”ملنے“انکے شہر جا رہا تھا تو یہ خوف مٹ چکا تھا کہ میں ساٹھ ہزار روپے کی چوری یا ڈکیتی کر کے جا رہا ہوں۔یہ خوف مٹانے کا سار کمال نفیسہ کے”جسم“ کا تھا جس نے مجھے دیوانہ،چور اور ڈکیٹ بنانے میں کوئی بھی کسر نہیں چھوڑی تھی۔

                اٹھارہ گھنٹوں بعد میں انکے گھر کا دروازہ بلا دھڑک کھٹکھٹانے لگا تھا کہ میرے دل و دماغ میں اب بہت کچھ تپ رہا تھا۔دروازہ کھولنے والی نفیسہ ہی تھیں جو مجھے دیکھ کر ایک عجیب سی اور فتح مند مسکراہٹ بکھیر گئیں۔لیکن یہ کیا___؟!انکا سر دوپٹہ سے پورا ڈھکا ہوا اور قمیص کا ہر بٹن بند!

                ”آیئے ناصر! میرے شہر آنے پر خوش آمدید!“یہ کہہ کر وہ چلنے لگیں تو میں انکے پیچھے ہو لیا۔گھر میں ایک پراسرا سی خاموشی چھائی ہوئی تھی ۔جب تبادلہ ہوا تھا تو چند بچوں کی ماں تھیں اور ایک شوہر بھی رکھتی تھیں۔یہ سب کہاں ہیں؟کیا اس گھر میں اکیلی رہتی ہیں؟؟ جیسے سوالات اب مجھے حیران کرنے لگے تھے۔

                ڈرائینگ روم میں مجھے بٹھا کر وہ خود باہر چلی گئیں۔تھوڑی دیر بعد آئیں تو ایک ہاتھ میں گرم چائے کی پیالی تھی اور دوسرے ہاتھ میں ایک بھرا ہوا لفافہ ۔

                ”یہ لیجئے!“لفافہ مجھے دے کرخود صوفے پر بیٹھ گئیں۔چائے وہ پہلے ہی میرے سامنے کی تپائی پہ رکھ گئی تھیں۔

                ”اس میں کیا ہے؟“ میری حیرانی نے پوچھا ۔

                “کھول کر دیکھیں!“اب کی بار مسکراہٹ پراسرار تھی۔میں نے لفافہ کھولا۔اس میں پیسے تھے۔”یہ دس ہزار روپے ”تمہارے“اپنے ہیں۔امانت کے طور پہ میرے پاس رکھے تھے۔میں تم کو آزما رہی تھی۔مجھے یقین تھا کہ بہن بھائی کا رشتہ اپنے طور پر بنا کر تم نے خود پر جبر کیا ہے ۔عورت کسی مرد کی رگ رگ کو جانتی ہے۔میں نے تمہیں کئی بار اشارہ دیا لیکن تم ہر روز رشتے کو پاکیزہ اور مضبوط بناکر اپنے اوپر جبر کرتے رہے ۔اور اسکا نتیجہ آج تم نے خو دیکھ لیا ہے۔“

                ”یہ سب کہنے کا مطلب؟میں تو اب بھی آپ کو___“

                ”کیا تم بیس ہزار روپے لے کر اپنی بہن سے یا ایک”جسم “سے ملنے آئے ہو ؟؟“

                اس پر میں خاموش رہا کہ انکی پکڑ مضبوط تھی اور میں پکڑا جا چکا تھا۔

                “ہاں! نفیسہ!“میرا گلہ رندھ گیا،”میں نے واقعی خود پر ظلم کیا ہے۔جبر کر گیا ہوں اپنے آپ پر۔میں آپ کو بہت چاہتا ہوں۔“

                اس پر نفیسہ پہلے ایک گہری سوچ میں پڑ گئیں اور پھر اپنی بانہیں میری طرف پھیلادیں۔ میں فوراً جاکر ان سے لپٹ گیا تومیری ہچکی بندھ گئی۔جب میں رو رو کے ہلکا ہو گیا تو اپنے جسم سے دھیرے سے ہٹا کر بولیں:

                ”تم سیدھے واپس اپنے شہر چلے جانا۔ہم سب ایک مہینے بعد وہیںآرہے ہیں۔تمہاری”نفیسہ“تمہیں وہیں ملے گی اچھی طرح اور ہمیشہ کے لئے۔“لہجہ میں ایک دلاسہ تھا،جیسے ایک محبوبہ نہیں ایک ماں بن کر سمجھا رہی ہوں۔میں واقعی ایک بے حد بچہ سا لگ رہا تھا۔

                دوسری ہی بس سے جب میںواپس اپنے شہر آگیا تو ایک چور اور ڈکیٹ نہیں ایک ذمہ دار ملازم لگ رہا تھا جسے تعطیلات کے بعد استانیوں کو انکی پوری تنخوائیں دینا تھیں اور”نفیسہ“ کا انتظار بھی کرنا تھا۔

                ایک مہنہ گزر گیا____ایک سال بھی____اور دس سال بھی۔ نفیسہ نہیں آئیں۔ انھیں لکھے میرے ہزاروں خط کا کوئی جواب آیااور نہ ہی سلیم نے ان کے متعلق میرے کسی سوال کا جواب دیا۔

                                                                                ٭٭٭٭٭

                آج صبح سے ہی میرا سر بھاری ہو رہا تھاجیسے میرا کچھ کھونے لگا ہو۔ماضی کو کھنگالا تو معلوم ہوا آج ہی کی تاریخ کو نفیسہ نے اپنے شہر میں مجھے گلے لگایا تھا تو میرے دل کی ساری گندگی آنکھوں کے رستے بہہ نکلی تھی۔یہ الگ بات کہ بعد میں خواہشوں نے ایک پھر ایک ”گندگی“ جمع کی تھی۔مجھ سے رہا نہ گیا۔میں نفیسہ،اپنی نفیسہ کے عزیز ،سلیم کے پاس پھر یہ منت کرنے آیا کہ خدا کے لئے مجھے انکے متعلق کچھ تو بتا دو !

                ”دیکھو ناصر!“وہ مجھے بتانے لگا،”ایک بات بلکہ راز آج صاف کئے دیتا ہوں کہ نفیسہ کو مرے ہوئے بارہ سال ہو چکے ہیں۔وہ خود کشی کر گئی تھیں۔کیوں؟یہ بھی مجھے معلوم ہے لیکن بتاوں گا نہیں۔“

                ”یہ کس طرح ممکن ہے سلیم؟!“میں حیران رہ گیا،”مجھے تو اچھی طرح یاد ہے کہ آج ہی کے دن،دس سال پہلے میں ان سے انکے شہر اور گھر میں مل چکا ہوں۔انھیں مرے ہوئے بارہ سال کیسے ہو سکتے ہیں؟مجھے یقین ہے کہ وہ زندہ ہیں۔تم کچھ چھپا رہے ہو۔پلیز مجھے انکا نیا پتہ دے دو۔“

                ” وہ مر چکی ہیں ناصر،بارہ سال پہلے۔“

                ” میں پھر کہتا ہوں ،یہ کس طرح ممکن ہے؟دس سال پہلے میں ____“

                ”جھوٹ سراسر جھوٹ۔“میری بات کاٹ کر وہ کہنے لگا،”نفیسہ مر چکی ہیں۔ممکن ہے تم دیوانے ہو چکے ہو یا تم نے کوئی خواب دیکھا ہوگا۔آخر کسی مردے سے ملاقات کس طرح ممکن ہے؟“یہ کہہ کر وہ اس طرح چلا گیا جیسے ایک بھوت ہو۔(ختم شد)

                      ( ۴ اگست ۹۹۹۱ءتا۸ اپریل ۸۱۰۲)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

دروازہ …محمد جاوید انور

دروازہ محمد جاوید انور "کہہ دیا نا میں نے لکھنا چھوڑ دیا ہے۔” اس کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے