سر ورق / سفر نامہ / مسافر تیرے شہر میں ۔۔۔ ساجد فاروق میاں

مسافر تیرے شہر میں ۔۔۔ ساجد فاروق میاں

۔

گلاسکو سے آئیر لینڈ تک

                لمبا تڑنگا ”فرانکو“شاید نہیں بلکہ یقینا سپانوی ہی تھا۔ ٹھوڑی قدرے باہر نکلی ہوئی تھی۔ وہ خاصا چست و چالاک اور سیماب صفت سا لگ رہا تھا۔سب سے زیادہ تیزی اور طراری اس کی زبان میں تھی۔برمنگھم تک جاتے جاتے اس نے میرا سر تقریباً چاٹ لیا تھا۔کئی دفعہ مجھے گونگا ہونے کا طعنہ دے چکا تھا۔ کیونکہ میں اس کی باتوں پر فقط سر ہلا رہا تھا۔ میں اس کے علاوہ اور کچھ کر بھی نہیں سکتا تھا۔وہ اس لئے کہ اس کی زبان کی تیزی کے سامنے میںتو کیا پوری بس بھی مل کر مقابلہ نہیں کر سکتی تھی۔ ایک بات ختم کر کے اپنی کھچڑی دار مونچھوں کو شہادت کی انگلی اور انگوٹھے سے سنوار کر پھر سے نئی بات شروع کر دیتا۔

                میں نے جب یہ محسوس کیا کہ سلسلہ دار باتوں کی رفتار ختم نہیں ہو پائے گی تو مجبوراً میں نے اپنا”واک مین“ نکالا۔ ہیڈ فون اپنے کانوں پر چڑھائے اوعر پوری آوااز سے چلا دیا۔ کئی دفعہ فرانکو کی طرف دیکھا اس کا منہ ہلتا ہوا نظر آتا۔ پھر کافی دیر تک اس کی طرف توجہ نہ دی کہ شائد موصوف یہ گمان نہ کر لیں کہ میں ان کی باتیں سن رہا ہوں۔ وہ جلد ہی ”حالات“کو بھانپ گیا۔ ہو سکتا ہے کہ اسے اکثر اسے ایسے ہی حالت کا سامنا کرنا پڑتا ہو۔ وہ ایسے سویا کہ جیسے کئی راتوں کی نیند آنکھوں میں لئے پھرتا ہو۔ اس نے سوتے میں بھی کئی دفعہ بولنے کی کوشش کی اور میں خوف زدہ رہا کہ یہ سوتے ہوئے بھی بولنا شروع نہ کر دے۔

                ہم گلاسکو پہنچ گئے۔ ساری بھری ہوئی کوچ خالی ہو گئی لیکن فرانکو ابھی تک سویا ہواتھا۔ ایک بار سٹیوورڈ نے جگانے کی کوشش بھی کی لیکن ناکامی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا۔ رات بھر کے سفرکی تھکن اور فرانکو کے حسن سلوک سے طبیعت میں عجیب سا تناﺅ پیدا ہو گیا تھا۔ جس سے ماحول بوجھل لگ رہا تھا۔ دفعتاً میرے پہلو کی جانب سے آواز آئی۔”میرا نام فیصل جمال ہے اور آپ یقینا ۔۔۔۔۔۔“ میں نے اثبات میںسر ہلا دیا۔ وہ گلاسکومیں میرے میزبان تھے۔ گلاسگو سینٹر میں ان کے کاروباری مراکز تگھے۔ چھوٹی سی عمر میں منجھے ہوئے کاروباری شخص دکھائی دے رہے تھے۔ میرا سفری بیگ سنبھالتے ہوا بولا ”اور سامان تو نہیں“

                ”ہاں ہے بہت، لیکن میرے گھر میں ہے“ میں نے مسکراتے ہوئے کہا تو فیصل نے جبرا مسکراتے ہوئے روائتی مہمان نو ¿نوازی کا ثبوت دے دیا۔

                لمبے تھکا دینے والے سفر کے بعد جب مرسیڈیز کی پچھلی سیٹ پر بیٹھا یو یوں لگا جیسے کسی نرم آغوش میں آ گیا ہوں۔ اگرچہ بھوک نے خاصہ ستایا ہوا تھا۔ لیکن پھر بھی نیند

تھی کہ مہربان ہوتی چلی جا رہی تھی۔ گھر کے سامنے گاڑی ایک جھٹکے کے ساتھ رکی۔ اچھا خاصہ جھٹکا تھا جو مجھے بیدا کر گیا۔ شائد فیصل کے پاس یہی ایک طریقہ تھا مجھے جگانے کے لئے۔ فیصل کی والدہ خاصی مہمان نواز خانون ثابت ہوئیں۔ بڑا لمبا چوڑا دستر خوان تھا۔ پاکستان کے تمام روائتی کھانے تقریباً اس میں موجود تھے۔ رات گئے تک کھانے پینے کا سلسلہ چلتا رہا۔

                آبادی کے اعتبار سے گلاسکوبرطانیہ کا تیسرا بڑا شہر تھا۔ ایشیائیوں کی ایک خاص تعداد اس میں اوراس کے ملحقہ چھوٹے چھوٹے قصبوں میں آباد ہے۔ زیادہ تر ان ایشیائی باشندوں کا روائتی پیشہ ”گروسری شاپس“ ہے۔ برطانیہ کے دوسرے شہروں کی نسبت گلاسکو کے لوگ خاصے خوشحال ہیں۔ لندن کی طرح عام گھر بھی چھوٹے نہیںہیں۔ فلیٹ بھی اتنے کشادہ ہیںکہ اندر سے گھروں کا گمان ہوتا ہے۔ دریائے گلائیڈ کے کنارے آباد اس شہر کے باسی خاصے محنتی اور جفاکش ہیں۔ مگر یہاں کی زندگی برطانیہ کے دوسرے شہروں طرح مصروف نہیں ہے۔ ہر ایک کے پاس وقت ہے کہ وہ ایک دوسرے سے مل سکیں۔ کاروبار میں ایشیائی لوگ مقامی گوروں کو مات دے گئے ہیں۔ برطانیہ ہی نہیں پورے یورپ کی سب سے بڑی ”کیش اینڈ کیری “ کے مالک ایک پاکستانی ہیں۔ جنہوں نے اپنی شبینہ روز محنت کے بل بوتے پر یہ مقام حاصل کیاکہ سینکڑوں گورے اس کے ملازم ہیں۔گلاسکو کے ایک علاقہ گوﺅن میں لیبر پارٹی کی محفوظ سیٹ پر بھی پاکستانی ممبر پارلیمنٹ چنا گیا ہے۔ برطانیہ کی تاریخ میںیہ پہلا موقع ہے کہ کوئی پاکستانی اور مسلمان رکن اسمبلی بن جائے۔

                دریائے گلائیڈ کے کنارے عظیم الشان مسجد اہل ایمان کی حرارت کا کھلا ثبوت ہے۔ جامع مسجد گلاسکوشہرکے وسط میں واقع ہے۔ یہاںکی مسلمان کمیونٹی نے خاصی تک و دو کے بعد یہ جگہ حاصل کی تھی۔ اس مسجد کے ساتھ وسیع کار پارکنگ ہے۔ فیصل کے ساتھ اس مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ مسجد میں اتنا بڑا اجتماع اہلیان گلاسکوکی دین سے لگاﺅ کی واضع دلیل تھا۔ مسجد کی تنزین و آرائش بھی خوبصورت تھی۔ فیصل نے مجھے بتایا کہ اس مسجد کے ساتھ اسلامک سنٹر بھی ہے۔جہاں پر بچوں کو قرآن اور دین کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس سے اندازہ ہوا کہ اہل گلاسکو اپنے بچوں کے مستقبل سے بے خبر نہیں ہیں۔ اس مسجد میں ابھی لاﺅڈ سپیکر لگانے کی اجازت نہیں ملی تا ہم مسجد کے اندر ہال میں چھوٹے چھوٹے سپیکر نصب ہیں تا کہ جمعہ کا خطبہ واضح طور پر سناجا سکے۔

                یوں تو برطانیہ بھر میں مسلمانوں نے مسجدیں آباد کر لی ہیں لیکن لاﺅڈ سپیکر پر اذان کی اجازت ابھی تک صرف وائٹ چیپل (لندن) کی مسجد کو ہی ملی ہے۔ لندن کے تقریباً وسط میں موجود اس مسجد سے جب اذان کی آواز گونجتی ہے تو عجیب رقت آمیز سحر طاری ہو جاتا ہے۔ ملحقہ آبادی والے کاروباری مراکز بند کر کے نماز کی ادائیگی کے لئے جوق در جوق چلے آتے ہیں۔

                اگلی شام فیصل جمال نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے ایک کھلاڑی کے اعزاز میں عشائیہ دیا جو مقامی ریستوران کیفے ایڈیا میں تھا۔ یہ اپنی طرز کا اچھا ریستوران تھا۔ ایشیائی کھانے نہایت مہارت سے تیار کئے گئے تھے۔ اس وقت مجھے لگا کہ میں اپنے وطن میںکسی جگہ ضیافت سے لطف اندوز ہو رہا ہوں۔ فیصل نے گلاسکو سے چند میل کے فاصلے پر واقع وہ رومانوی جھیل بھی دکھائی جو پہاڑی سلسلے میں گھری ہوئی تھی۔ اس جھیل کے بارے میں مشہور ہے کہ یہاں پر عجیب الخلقت مخلوق آباد ہے۔ جو بہت دور سے لوگوں نے دیکھی بھی ہے۔ ایک اخبار نے اس مخلوق کی دھندلی سی تصویر بھی شائع کی تھی۔ جو بہت دور سے لی گئی تھی۔اس جھیل سے تھوڑا آگے جائیں تو ساحل سمندر پر واقع ایک چھوٹا سا قصبہ ”گرینگ“ آباد ہے۔ اس جھیل سے تھوڑا آگے بندرگاہ بھی ہے۔ جہاں پر لگی ہوئی کرینیں اگرچہ اب بالکل خاموش ہیںمگر کسی زمانےمیں جب سامان کی نقل و حمل ہوائی جہاز سے نہیں ہوتی تھی۔ تب یہ بندرگاہ برطانیہ کی مصروف ترین بندرگاہ تھی۔ اور پوری دنیا میں سامان کی نقل و حمل یہیں سے کی جاتی تھی۔

                فیصل نے بتایا کہ کل ہم آئیرلینڈ جا رہے ہیں۔ صبح سویرے ہم نے گلاسکو چھوڑ دیا ۔ تین افراد پر مشتمل ہمارا چھوٹا سا قافلہ گاڑی سے سٹینرا (STAINRA)کی طرف روانہ ہوا۔ سٹینرا سکاٹ لینڈ کی بندر گاہ تھی۔ جہاں سے ہمیں آئیرلینڈ کے لیے سمندری جہاز پکڑنا تھا۔گلاسکو س سٹینرا تک کا سفر دو گھنٹے پر محیط تھا۔دونوں شہروں کے درمیان رابطہ سڑک چھوٹی تھی۔ اردگرد سبز کھیت جس میں سے گذرتی ہوئی سڑک بندرگاہ کی طرف جاتی تھی۔ فطرت کی خوبصورتی کا اندازہ برطانیہ کے دیہی علاقوں سے ہوتا ہے۔سنہری کرنوں نے ہر شے کوطلائی پوشاک پہنا دی تھی۔ تاحد نگاہ سبز ہ ہی سبزہ بکھرا ہوا تھا۔ ہواکے جھونکے کھڑی فصلوں سے اٹکھیلیاں کرتے ہوئے پھولوں سے خوشبو چرا کر طرف بکھیر رہے تھے۔

                ضروری کاغذات کی جانچ پڑتال کے بعد ہمیں جلد ہی بحری جہاز میں سوار ہونے کا کہا گیا۔ جہاز کے نچلے حصے میں بے شمار گاڑیاں اور ٹرک اور بسیں کھڑی تھیں۔ عملہ کے ایک رکن نے گاڑی کھڑی کرنے میں ہماری رہنمائی کی پھر ہم سیڑھیاں چڑھتے ہوئے جہاز کے اوپر والے حصے میں آ گئے۔اس حصہ میں خوبصورت کیفے ٹیریا، شراب خانہ اور ایک بڑی سی گفٹ شاپ تھی۔ یوں لگتا تھا کہ ہم کسی ٹاﺅن سنٹر میں گھوم رہے ہیں۔کیفے ٹیریا میں چائے پیتے ہوئے خوب باتیں کیں۔ ایک بڑے ہال میں انگریزی فلم چل رہی تھی۔ فیصل اور تیسرے دوست نے بیٹھ کر فلم دیکھنے کو ترجیح دی۔ کھلے سمندر کی آب و ہوا اور بحری جہاز کے ہچکولے عموماً طبیعت میں متلی سی پیدا کر دیتے ہیں۔ میں انہیں چھوڑ کر جہاز کے عرشے پر چلا گیا۔ چاروں طرف نیلے رنگ کا پانی تھاا ور تیز ہوا اس پانی سے کھیل رہی تھی سمندری پانی کی تندوتیز لہروں کے جہاز سے ٹکرانے کے بعد ہلکی پھوار جہاز کے عرشے تک آتی جو بہت بھلی معلوم ہورہی تھی۔ میں فطرت کی اس رعنائی میں گم تھا کہ عقت سے فیصل کی تشویش ناک آواز سنائی دی۔

                ”آپ یہاںہیں ہم نے تو پورے جہاز کو چھان مار ا ہے اور آپ یہاں اگر زیادہ دیر تک کھڑے رہے تو ممکن ہے آپ بیمار ہو جائیں۔ کیونکہ سمندر ی ہوائیں ہر کسی کو راس نہیں آتیں۔“ اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتا میں ان کے ساتھ نیچے کیفے ٹیریا میں آ گیا۔ جہاں پھر سے چائے کا موڈ بن جانے والا تھا۔ دو گھنٹے کے سمندری سفر کے بعدجہاز کے سپیکروں پر کپتان کی آواز سنائی دی۔”ہم آئیرلینڈ پہنچ چکے ہیں۔“

                جہاز ایک نسبتاً چھوٹے سے قصبے کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہو گیا۔ ”لارن“ اگرچہ چھوٹا ضرور ہے لیکن صاف ستھرا اور خوبصورت شہرہے۔ لوگ بہت سادہ اور ملنسار ہیں۔ انگلش لوگوں کے لئے سخت نفرت لئے ہوئے ہیں۔زیادہ تر لوگ کھیتی باڑی اور گلہ بانی جیسے پیشوں سے وابستہ ہیں۔

                ہمیں ”بیلے گاس“ جانا تھا۔جہان آئیرلینڈ کے تاریخی میلے کا انعقاد ہونے والا تھا۔سمندر کے کنارے تین گھنٹے کی مسافت کے بعد ہم بیلے کاس پہنچ گئے۔ تھکن سے برا حال تھا۔ سمندر کے کنارے ایک ریسٹ ہاﺅس تک کروایا اور پھر لمبی تان کر سو گئے۔اگلی صبح ایک مترنم سی دستک سے آنکھ کھل گئی۔ دورازے پر ہونے والی اس دستک سے محسوس یہ ہو رہا تھا کہ جیسے کوئی باہر بے قرار سا ہے۔ دونوں دوست بددستور نیند سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ دستک پھر ہوئی میں نے اٹھ کر دورازہ کھولا تو باہر اجلی دھوپ سے آنکھیں چندھا گئیں۔ بالکل سامنے سے سورج چمکنے کی وجہ سے میں اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھے بغیر نہ رہ سکا۔ جب آنکھٰن اجلی دھوپ کی عادی ہوئیں تو دیکھا میرے سامنے ایک سندر سی خوبرو آئرش لڑکی کھڑی تھی۔ ا س کا سونے کے جیسا رنگ اس قدر اجلا تھا کہ ہاتھ لگا تو میلی ہو جائے۔ میری توجہ پا کر وہ مسکرائی۔ اس کی مسکان بھی اسی کی طرح اجلی تھی۔ وہ سمندر کے کنارے بکھرے ہوئے ریسٹ ہاﺅسز میں ناشتہ تیار کرنے والی لڑکیوں میں سے ایک تھی۔

                ”آپ لوگوں کے لئے ناشتہ تیار کر دوں؟“ اس نے کہا تو مجھے اس کا لہجہ بالکل بھی کاروباری نہیںلگا۔

                ”ابھی میرےدوست سو رہے ہیں۔ وہ پتہ نہیں کب ناشتہ کرنا چاہیں گے اور ناشتے میں کیا پسند کریں میں ابھی آرڈر نہیں دے سکتا۔“ میں نے کہا تو اس کے چہرے پر ہلکی سی مایوسی اتر آئی۔ تب میںنے جلدی سے کہا۔”ویسے ناشتے میں کیا ہے۔“

                ”جو آپ پسند کریں“

                ”مجھے اس وقت پھلوں کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ تب تک دوست بھی بیدار ہو جائیں گے۔پھر تم ناشتہ بنا لینا۔“میںنے کہا تو وہ کھل اٹھی۔ مسکراتے ہوئے بولی۔

                ”سمندر کے کنارے کچھ جنگلی سٹرابری کے پودے ہیں جن کا صرف مجھے پتہ ہے ۔ آئیں میں آپ کو کھلاﺅں۔“

                وہ میرا ہاتھ پکڑ کر کسی بچے کی طرح کھینچتی ہوئی ان پودوں کے پاس لے گئی۔ وہ جنگلی سٹرابری مجھے توڑ توڑ کر دیتی رہی اور ساتھ میں باتیں بھی کرتی رہی۔جنگلی سٹرابری کچھ ترش تھی لیکن اس کی میٹھی مسکراہٹ دیکھتے ہی ساری ترشی زائل ہو جاتی۔ اس نے سر کے بالوں کو باندھ کر ایک بڑی سی پونی ٹیل بنا رکھی تھی۔ حالانکہ اس کے بال شہد رنک تھے۔ اگر کھلے ہوتے تو زیادہ خوبصورت دکھائی دیتے۔سمندر کنارے چلتے ہوئے وہ کسی شرارتی بچے کی طرح بالکل ساکت کھڑی ہو جاتی۔یوں گمان ہوتا کوئی مجسمہ ہے۔ حقیقت میںوہ کسی مصور کے حسین خواب کی دل نشیں تعبیر تھی۔

                اگلے دن کی صبح ساحل سمندر پر چلا گیا۔ میں ہوا کی اٹھکیلیوں میںمگن تھا کہ عقت سے شور شرابے کی آواز سنائی دی۔ مڑ کر دیکھا وہی دیہاتی لڑکی ایک پولیس مین سے تکرار کر رہی تھی۔ جب پولیس مین چلا گیا تو یہ کافی دیر تک اسے پیچھے سے منہ چڑاتی رہی۔ مجھے یہ بہت عجیب سا لگا۔ میں نے اسے پاس بلایا اور پوچھا کہ ماجرا کیا ہے؟

                ”وہ پولیس والا میرے بھائی کو ڈھونڈنے آیا تھا۔ پولیس کو شک ہے کہ میر ا بھائی تخریب کاری میں ملوث ہے۔“

                ”تم پولیس والے سے اس طرح کیوں الجھ رہی تھی۔ اگر وہ تمہیں پکڑ کر لے جاتا تو؟“

                ”پولیس کے پاس اختیارات نہیں ہیں۔ وہ صرف اس کو گرفتار کر سکتے ہیں جس کے بارے میں کافی شواہد موجود ہوں۔ قانونی طور پر وہ مجھ سے میرے بھائی کے متعلق بھی نہیں پوچھ سکتے۔ اگر اس نے کچھ کیا ہے تو وہ میرے بھائی کا فعل ہے میرا نہیں۔ہم لوگ آزاد ہیں۔“ اس نے اپنی میٹھی مسکراہٹ کو سنبھالتے ہوئے بتایا۔ میں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔

                ”وہ تو مجھے پتہ ہے لیکن ہمارے ہاں محلے میں جب چوری ہو جاتی ہے تو پولیس بگے کو پکڑ کر لے جاتی ہے ۔ کچھ دنوں بعد جب اصل چور پکڑا جاتاہے تو بگا گھر تو آ جاتا ہے مگر چل پھر نہیں سکتا۔“

                ”ہمیشہ کے لئے۔“ اس نے حیرت سے منہ میں انگلی دباتے ہوئے پوچھا۔

                ”ہاں ہمیشہ کے لئے! مگربگے کی ماں اس باپ پر بھی اتنا خوش ہوتی کہ خوشی میںمیٹھے پکوڑے یا نمکین پھلیاں محلے والوں میں بانٹتی ہے کہ اس کا لال گھر آ گیا ہے۔وہ اس بات کو بالکل بھول جاتی ہے کہ بگے کے ساتھ کیا بیتی ہو گی۔ حالانکہ ہم بھی آزاد ہیں۔“

                دھوپ جب زیادہ ستانے لگی تو میں نے اس سے اجازت چاہی۔جاتے جاتے میں نے اسے یہ بتایا کہ کل صبح ہم آئیرلینڈ چھوڑنے والے ہیں۔جلدی ناشتہ لے آنا۔ اس کی آنکھوں میں تنہائی اتر آئی۔ اس نے اپنے اندر کی ہلچل کو چھپاتے ہوئے ریشہ خطمی لہجے میں پوچھا”ہمیشہ کے لئے“

                ”ہاں ہمیشہ کے لئے“

                ”تم یہاں رہو گے نہیں“

                ”نہیں“

                ”ہر شخص یہاں رہنا چاہتا ہے“

                ”تمہاری خام خیالی ہے“

                ”تو پھر ہر شخص کہاں جانے کا خواہش مند ہے“

                ”ہر شخص در اصل اپنے وطن واپس جانا چاہتا ہے۔“

                یہ کہ کر میں اپنے ریسٹ ہاﺅس کی جانب چل پڑا۔ چاہتے ہوئے بھی میں اس کی آنکھوں میں جدائی اترتے ہوئے نہیں دیکھ سکا۔

ٹاوربریج

                دریائے ٹائمیز کے کنارے تقریباً بارہ ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا عمارتوں کا سلسلہ ”ٹاور آف لندن“ کہلاتا ہے۔اسے نہ تو جیل کے طور پر استعمال کیاگیا تھا اور نہ ہی اس میں جیل کی سہولتوں کی مناسبت سے تعمیر کی گئی تھیں۔ لیکن اس کے باوجود 1078ءمیں اس کی تعمیر سے لے کر استعمال کے وقت تک تقریباً 1200افراد کو اس کے تہہ خانوں میں مبحوس رکھا گیاتھا۔ ہنری ہشتم نے اپنے رہائش گاہ کے لئے وہائٹ ہال پیلس کو زیادہ بہتر جانا لیکن اس نے ٹاور کو اپنے دشمنوں کے لئے ”بہترین رہائش گاہ“ اور آخری آرام گاہ کی جگہ کے طور پر استعمال کیا۔

                ٹاور آف لندن ! دراصل برطانوی تاریخ کا ڈراﺅنا باب ہے۔ جہاں ایک طرف شاہی جواہرات کا خزانہ ہے تو دوسری طرف بدنام زمانہ مقتل گاہ بھی یہ طویل عرصہ تک جو کہ صدیوں پر محیط ہے، سپاہیوں اور ان کے خاندان کی رہائش گاہ کے لئے بھی رہا ہے۔ نو صدیوں میں ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا ہوگا جب ٹاور سپاہیوں سے خالی ہو۔ ہنری ہشتم کے دور 1200ءکے اواخر میں یہاں ایک چڑیا گھر بھی قائم ہوا۔ جس میں پہلی مرتبہ ایک چیتا اور قطبی ریچھ نمائش کے لئے رکھے گئے تھے۔ آہستہ آہستہ جانوروں میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ اس مقام پر جمع ہونے والے تمام جانوروںکو 1935ءمیں لندن چڑیا گھر منتقل کر دیا گیا۔

                1666ءمیں ایک بیکری میں آگ لگی جس نے پورے لندن کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ دریائے ٹائمیز کے کنارے لگی یہ آگ تین دن اور تین راتیں جاری رہی۔ اس آگ کا اثر 436ایکڑ رقبے پر ہوا۔اس آگ میں تیرہ ہزار گھر جل کر خاکستر ہوئے اور آٹھ آدمی لقمہ اجل بنے ۔ا تنی بھیانک آگ سے بھی اس قلعہ کو کوئی نقصان نہیں ہوا۔

                یہاں پر شاہی جواہرات کی باقاعدہ نمائش کا سلسلہ 1600ءسے جاری ہے۔ 1671ءمیں انہیں چرانے کی ایک دفعہ کوشش بھی کی گئی۔ اس واقعہ کے بعد حفاظتی انتظامات سخت ترین کر دیئے گئے۔شیشے کے ایک بڑے کمرہ نما جار میں مشہور علم ”کوہ نور“ ہیرا بھی رکھا گیا ہے۔ یہ ہیرا دیکھ کر آنکھوںمیں پنجاب پر انگریزوں کا 1849ءکا ناجائز تسلط گھوم جاتا ہے۔ کوہ نور جو کہ انگریز کاراندے فلپ ٹوگن نے لارڈڈلہوزی کو پیش کیا تھا۔ اور پھر راجہ رنجیت سنگھ کے بیٹے دلیپ سنگھ کے ہاتھوں ملکہ وکٹوریہ کو بکنگھم پیلس میں منعقدہ ایک تقریب میں پیش کیا گیا۔ اس ہیرے کو دیکھ کر خیال آ رہا تھا کہ ایسا ہی ہیرا ملکہ برطانیہ کے تاج میں جڑا ہوا ہے۔ ان دونوں میں سے کونسا اصلی ہے؟ وہاں پر موجود گائیڈ سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ اصل ہیرا ملکہ برطانیہ کے تاج میں ہی ہے۔ یہ ڈمی ہیرا ہے جو صرف سیاحوں کی دلچسپی کے لئے رکھا گیا ہے۔

                سر تھامس میور! جنہیں ہنری ششم کو چرچ کا سربراہ تسلیم نہ کرنے کے جرم میں یہاں 6جولائی 1535ءکو پھانسی دے دی گئی تھی۔ انہوں نے اسی ٹاور میں بنے پتھروں کے یخ بستہ کمرے میں پندرہ ماہ گذارے تھے۔سطح زمین سے پچاس فٹ بلند اس کمرے میں کوئی ننھا سا روزن بھی نہیں تھا۔ اس کمرے کے عین نیچے مرکزی دروازہ ہے۔ جس کے سامنے چوکیدار کے ایک سمت سے دوسری سمت چلنے کی آوازیں آج بھی اسی طرح سنائی دیتی ہے۔

                کہتے ہیں کہ سیاحوں کی دلچسپی کے لئے سوانگ رچایا جاتا ہے۔ مرکزی دروازے رات تقریباً دس بجے تالا لگانے کی سات سو سالہ قدیم رسم آج بھی اسی انداز میں دہرائی جاتی ہے۔

                چوکیدار تالا لگانے کے لیے آنے والے نگران محافظوں کے سالار سے با آواز بلند کہتا ہے ”رک جاﺅ! تم کون ہو؟“

                ”چابیاں“ وہ جواب دیتا ہے۔

                ”کس کی چابیاں؟“ چوکیدار پوچھتا ہے۔

                ”ملکہ الزبتھ کی چابیاں“ اسے پھر یہ جواب ملتا ہے۔

                یہاں قید لوگوں نے کتنی مرتبہ چابیوں کی کھنک سنی ہو گی اور آزادی کے خواب دیکھے ہوں گے۔

                قلعہ کے اندر 1581ءمیں تھامس میگا نامی ایک قیدی نے کچھ الفاط دیوار پر کھرچ دیئے جو بعد میں محفوظ کر لیے گئے اور ان انہیں نمایاں طور پرآویزاں کر دیا ہے۔ اس کی عبارت کچھ یوں ہے۔

                ”عجیب و غریب اذیتوں سے میری سچائی کو آزمایا گیا۔

                اس کے باوجود آزادی سے انکار ہے۔“

                                                                                تھامس میگا1581ئ

                سر تھامس میور والٹر ریلے اور اینی بولین جیسے کتنے تھے جنہوں نے یہاں اپنی زندگیاں قربان کر دیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دوسری شخصیتوں کے یہاں قید وہنے کے باعث اس ٹاور کو جیل کی حیثیت سے شہرت حاصل ہو گئی۔ 1241ءمیں ولیم ڈی میرش ہنری سوئم کے خلاف سازش کے الزام میں پابند جولاں کیا گیا۔ اور بعد میں اس کا پیٹ پھاڑ کر آنتیں باہر نکال دی گئیں اور جس کے چار ٹکڑے کر دیئے گئے۔ 1441ءمیں مارگیری جوڈین کو غڈاری کے الزام میں زندہ جلا دیا گیا۔ 1502ءمیں سرولیم نے ڈی لایول کو ہنری ہفتم کے خلاف بغاوت کے سلسلہ میں تقریباً اڑتیس سال اس ٹاور میں قید رکھا۔ 1746ءمیں محترمہ ٹریساٹر یکور نے جیل میں اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کے لئے خود کو رضاکارانہ طور پر قیدی بنا لیا۔ ہمیشہ سنگ سنگ رہنے کی یہ ایک انوکھی مثال ہے۔

                اس میں پہلی سرکاری پھانسی 1483ءمیں دی گئی۔ مستقبل کے بادشاہ رچرڈ سوئم نے لارڈ ہسٹلنگ کو ٹاور کے چرچ سینٹ ایڈونسولا میں دفن کیا گیا۔ 1553ءمیں ٹاور کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ملکہ اینی بولن کو توپوں کی سلامی دی گئی۔ لیکن صرف تین سال کی مدت کے بعد وہ پہلی صاحب اقتدار ملکہ تھیں جیسے ٹاور کے اندر پھانسی دے دی گئی۔ اس کا جرم بانچھ پن تھا۔ وہ شاہ ہنری کے لئے اولاد نرینہ پیدا کرنے میں ناکام رہی تھی۔ وہ شاہوں کے عتاب کا نشانہ بن گئی۔ ملکہ کی آخری خواہش تھی کہ اس کا سر کلہاڑی کی بجائے تلوار سے قلم کیا جائے۔ ہنری نے اپنی ملکہ کی خواہش کا احترام کیا اور فرانس سے ایک جلاد بلوایا جس نے اس کی گردن اڑائی۔ سر والٹرریلے نے ایک طویل عرصہ اس ٹاور میں گذارا اس کی بد قسمتی کی ابتدا 1614ءمیں ہوئی جب شاہ جیمس کو سونے کی تلاش میں جنوبی افریقہ ایک مہم پر بھیجنے کی تجویز پیش کی گئی۔ خالی ہاتھ واپس آنے پر شاہ جیمس نے اسے ٹاور میں قید کر دیا۔ جب اسے مقتل گاہ میں لایا گیا تو وہ بوڑھا اور کمزور ہو چکا تھا۔ اس نے اپنی قید کے دوران یہاں تمباکو کے پودے لگائے تھے۔

                آئیر لینڈ کے ایک مہم جو ، جس کا نام تھامس بلڈ تھا۔ لیکن وہ اپنے آپ کو کرنل بلڈ کہلوانا پسند کرتا تھا۔ اس نے ایک مرتبہ خود کو مذہبی آدمی ظاہر کر کے ٹاور کے محافظوں سے دوستی کر لی۔ ایک صبح اپنے تین ساتھیوں سمیت آیا اور جواہرات دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ دروازہ کھلتے ہی چوکیدار کو قابو میں کیا گیا اور سینٹ ایڈورڈ کا تاج اور شاہی قبالے کر بھاگ گیا۔ بعد میں تھامس بلڈ اور اس کے ساتھ پکڑے گئے۔ تھامس بلڈ نے یہ کہہ کر خامشی اختیار کر لی کہ وہ صرف بادشاہ کے سامنے ہی اپنی بات کرے گا۔ ایسا ہی ہوا اور پھر نہ صرف اسے معاف کیا گیا بلکہ سالانہ پانچ صد پونڈ پیشن بھی مقرر ہوئی۔ یہ تھیں اس دور میں بادشاہوں کی فیاضیاں۔

                ٹاور میں جس آخری آدمی کو موت کی سزا دی گئی وہ جرمن فوج کا سارجنٹ جوزف جیک تھا۔ وہ 1941ءکے اوائل میں برطانیہ میں پیرا شوٹ سے اترا۔ مگر بدقسمتی سے زمین پر آتے ہی اپنی ٹانگ زخمی کروا بیٹھا۔ اسے اس مقام پر جہاں محافظ آج اپنی کاریں کھڑی کرتے ہیں ایک کرس پر بٹھاکر فائرنگ اسکواڈ نے ہلاک کر دیا۔ وہ کرسی بھی ٹاور میں محفوظ ہے۔یہاں کے کونسل چیمبر گے فاکس نے 1605ءمیںپارلیمنٹ کو بارود سے اڑانے کی سازش کا اعتراف کیا تھا۔ اور یہاں پر دوسری جنگ عظیم کے دوران ہٹلر کے دائیں بازو ایڈولف ہیس نے چار دن گزارے تھے۔

                سترہ جولائی 1974ءکو یہاں زیر زمین حصے میں بم دھماکہ ہوا۔ اس حادثے میں ایک عورت ہلاک اور چھتیس افراد زخمی ہوئے۔ تب سے یہاں ائر پورٹ کی مانند حفاظتی اقدامات عمل میں لائے گئے ہیں۔ اس قدیم قلعہ کی قدیم دیواروں کے پیچھے بے بہاان کہی کہانیاں ہیں اور تلخ حقیقتیں بھی۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

دیکھا تیرا امریکہ۔۔۔ رضاالحق صدیقی

بروک سائیڈ بوٹینیکل پارک قدرت کے مناظر مجھے بہت متاثر کرتے ہیں،میری لینڈ،ورجینیا اور واشنگٹن …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے