سر ورق / کہانی / گوری شنکر ”پردیسی “ اَرپن کمار/عامر صدیقی

گوری شنکر ”پردیسی “ اَرپن کمار/عامر صدیقی

گوری شنکر ”پردیسی “

اَرپن کمار/عامر صدیقی

ہندی کہانی

………………..

 گوری شنکر دوبے ہر صبح باقاعدگی سے سیر پر نہیں جا پاتے تھے۔انہوں نے زندگی بھر فقط اپنی مرضی چلائی۔ ہر بات میں۔پہننے اوڑھنے سے لے کر کھانے پینے تک ہر چیز میں، جو اپنے دل نے چاہا وہی کیا۔ نئے نئے جب کالج گئے تھے، تب انہیں این سی سی جوائن کرنے کا دل چاہا۔ باپو کی جانب سے خریدی گئی اپنی سائیکل پر فخریہ انداز میں سوار وہ اپنے کالج کے”پلے گراﺅنڈ“ میں گئے۔ وہاں انسٹرکٹر کی طرف سے کرائے جانے والے لیفٹ رائٹ ان کو اپنے من موافق نہیں لگے، تو انہوں نے دوبارہ اس کی طرف کبھی دھیان ہی نہیں دیا۔ خیر، کالج سے نکلتے نکلتے ان کا ایک سرکاری نوکری کےلئے انتخاب ہو گیا اور ان کی پہلی تقرری دہلی میں ہوئی۔پھر ممبئی میں اور آج کل وہ جے پور میں ہیں۔

شہروں کی تبدیلیاں گوری شنکر بابو پسند کرتے ہی رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ منتقلی سے محض انسان کا جسم ہی کسی نئی جگہ پر نہیں جاتا ہے، بلکہ اس سے خود اس پر اور اس کے بال بچوں کے اندر بہت سی اقسام کی جدتوں کا داخلہ بھی ہوتا ہے۔اس سے زندگی میں ایک قسم کی دلچسپی برقرار رہتی ہے۔ان کی بیوی کو، جو بہار کی ایک خالص قصباتی ثقافت سے آئی ہیں، شروع شروع میں اپنے شوہر کے ان تبادلوں سے بہت پریشانی ہوتی تھی۔ بعد میں وہ بھی اپنے شوہر کی رو میں بہنے لگیں۔

جے پور میں ر ہائش کےلئے گوری شنکر بابو کو چند دنوں میں ہی ایک سرکاری رہائش گاہ مختص کر دی گئی۔تھوڑی مشقت کے بعد ایشیا کی سب سے بڑی کالونی کہے جانے والے ”مان سروور“ کے ایک اچھی انگریزی میڈیم درسگاہ میں اپنے اکلوتے صاحبزادے کا انہوں نے داخلہ بھی کرا دیا۔ لیکن ذرا رکیئے یہ کہانی گوری شنکر بابو ہے نا! تو یہاں درسگاہ اور داخلے جیسے الفاظ ان کے حساب سے ٹھیک نہیں رہیں گے۔ ہمیشہ اپنے اسٹیٹس سمبل کو لے کر محتاط رہنے والے گوری شنکر بابو کے صاحبزادے کا درسگاہ میں داخلہ نہیں، بلکہ اسکول میں ایڈمیشن ہوا تھا۔ اپنے اکلوتے بیٹے پر وہ جی کھول کر خرچ کرتے ہیں۔

”پیسہ بچا کر کیا کریں گے۔اپنے ساتھ سورگ میں تھوڑے ہی نہ لے جائیں گے۔“بیوی کی چّلم چّلی پر ہر بار یہی کہہ کر اسے چپ کرا دیتے ہیں گوری شنکر بابو۔ہر مہینے صرف اسکول فیس کے نام پر یہی کوئی چھ ہزار روپے کا خرچ وہ خوشی خوشی برداشت کرتے ہیں۔ مہینے دو مہینے میں کسی نہ کسی ایکٹویٹی کے نام پر کبھی پانچ سو تو کبھی ہزار کا چونا مزید لگ ہی جاتا ہے۔ ایسے میں درسگاہ اور داخلہ جیسے الفاظ انہیں پانی کی طرح خرچ ہو نے والے اپنے پیسے کی توہین لگتے ہیں۔

زندگی بھر تعلیم سے محبت کرنے والے گوری شنکر دوبے کی ترقی کا سفر کوئی کم طویل نہیں ہے۔ ایکدم اجڈ دیہاتی سے ایک مہذب شہری بننے تک کا طویل سفر۔ کئی دہائیاں لگےں ان کو یہاں تک پہنچنے میں۔ جسمانی اور ذہنی، منطقی اور روحانی، سماجی اور ثقافتی، ہر سطح پر کتنی تیاریاں کرنی پڑیں ہیں انہیں اس کےلئے۔گرودت کے اسٹائل میں اپنی ہلکی مونچھوں کے بیچ مسکراتے ہوئے کہیں نہ کہیں وہ اپنی اس پیش رفت پر دل ہی دل اِتراتے بھی ہیں۔ کہاں تو وہ اپنے گاو ¿ں میں روزانہ کی حاجتوں سے فراغت حاصل کرنے کےلئے کھیتوں کی سیر کیا کرتے تھے، دریا تالاب کے کنارے جایا کرتے تھے۔بھری برسات میں جب ہر جگہ پانی کھڑا ہوتا تھا، تو کسی اونچی جانب چڑھنے پر دباو ¿ کا آزاد ہونا انہیں آج بھی خوب یاد ہے۔تب کتنی مشکل سے وہ کچھ دیر بیٹھ پاتے تھے۔ بیچ راستے پر بیٹھنا کتنا برا لگتا تھا مگر جب ہر طرف پانی میں انسانوں کے فضلات تیر رہے ہوں، ایسے میں نیچے کسی کھیت کی منڈےر پر بیٹھا بھی تو نہیں جا سکتا نہ! جانے کیوں گوری شنکر شروع سے اپنے ہر طرح کے رویے کو لے کر یایوں کہیں کہ اپنی طرزِ زندگی کو لے کر بے انتہا محتاط اور حساس تھے۔ وہ ہر وقت ذاتی تو کبھی اجتماعی ترقی کی اور بہتر طرزِ زندگی کی باتیں سوچا کرتے تھے۔ انہیں اپنے گاو ¿ں سے کوئی چڑ نہیں تھی ،مگر وہ یہاں بھی محدود وسائل میں ہی سہی، ایک معیاری زندگی بسر کرنے کا طریقہ تلاش کرنا چاہتے تھے۔ گاو ¿ں میں صبح صبح مسواک رگڑتے لوگوں کے کثیر اجتماع میں گوری شنکر اپنے ٹوتھ برش پر پیسٹ لگائے اورا سٹیل کے ایک جگ میں پانی لئے برش کر رہے ہوتے۔ایک دن کی ہی بات ہے، ایسی ہی ایک صبح گوری شنکر کے ہم جماعت سنجو پاسوان کے والد رام دین پاسوان آگئے۔ انہیں ہرکسی کو کوئی نہ کوئی عرفیت دینے کی عادت تھی۔ مٹی اور گھانس کے کچے مکان میں رہنے والے ،تھے تو وہ ایک غریب آدمی ہی اور ان کے پاس یہی کوئی ایک آدھ بیگھا کھیت بھی مشکل سے ہی ہوگا۔ گاو ¿ں میں کبھی اِس کا، تو کبھی اُس کا کھیت بٹائی پر لے کر وہ اپنا اور اپنے خاندان کا پیٹ پالا کرتے تھے۔ مگر اپنی اقتصادی حالت سے الگ وہ گاو ¿ں کے سب سے بڑے ہنر مند اورقصہ گو تھے۔ چٹکلے باز ان جیسا کوئی نہیں ، حاظرجواب ان جیسا کوئی نہیں۔اس صبح بھی ایک جگ لے کر گوری شنکر ہمیشہ ہی طرح گاو ¿ں کے”بتھان “ پر بیٹھے برش کر رہے تھے۔ باقی لوگ جہاں نیم، بانس، آم، پیلو یا کسی اور درخت کی شاخ سے کوئی ملائم، لچکتی، کچی لکڑی توڑ کر مسواک کر رہے تھے وہیں گوری شنکر بابو، بناکا ٹوتھ پیسٹ اور برش کے ساتھ مزے سے اپنے دانت چمکانے میں مصروف تھے۔ ٹوتھ پیسٹ اور برش کا استعمال تو وہ کر رہے تھے، لیکن ان کے اندر کا دیہاتی یہاں بھی اپنا کام دکھا رہا تھا۔وہ برش کرتے ہوئے بھی تقریباً اتنا ہی وقت لگا رہے تھے جتنا لوگ مسواک کرنے میں لگاتے ہیں۔ اسی لیے ان کے برش کے ریشے جلد ہی ایک طرف جھکی ڈال کی طرح مڑ جایا کرتے تھے ۔

…. …. ….

معاشرے میں رہتے ہوئے ہماری ہر حرکت پر ایک ساتھ کئی نگاہیں پڑ رہی ہوتی ہیں۔ تبھی تو گاو ¿ں کی عورتیں اپنے بچوں کے ماتھے پر کاجل کے بڑے بڑے ٹیکے لگا کر انہیں باہر بھیجتی ہیں ۔جو شہروں میں آکر کچھ پوشیدہ انداز میں بچے کے کان اور سر کے بال کے درمیان کہیں ، آسانی سے نہ دکھائی دیئے جانے والی کسی جگہ پر لگا دیے جاتے ہیں۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے گاو ¿ں کی عورتیں اپنی مانگ میں خوب لمبا اور گہرا سندور لگاتی ہیں، وہیں شہر کی عورتیں بالوں سے ڈھکی اپنی مانگ میں کہیں کہیں ایک نقطے کی طرح چھوٹا سا ٹیکالگا کر رہ جاتی ہیں۔رام دین پاسوان بھی ایک تیز مشاہدے والے اور ناقد ٹھہرے۔وہ گوری شنکر کے طرزِ عمل پر مسلسل نظر جمائے ہوئے تھے۔مگر اب تک دعا سلام تک ہی ان کا رشتہ تھا گوری شنکر سے۔اپنی مذاقیہ فطرت کے برعکس وہ گوری شنکر کے ساتھ سنجیدہ ہی رہا کرتے تھے۔مگر اس صبح انہیں جانے کیا سوجھا کہ وہ گوری شنکر کے سامنے اپنے اصلی روپ میں آ گئے۔ کافی دیر تک وہ گوری شنکر کو چھیڑتے رہے۔ گوری شنکر پانی پانی ہو گئے۔ گاو ¿ں والوں نے اس دن گوری شنکر کی ٹانگ کھنچائی کا کافی مزہ لیا۔ ان کا یہ مزہ دوبالا ہو رہا تھا، کیونکہ ان سب کے دوران گوری شنکر مسلسل جھینپتے چلے جا رہے تھے۔اور پھر یہ کیا، اپنے ٹریڈمارکہ انداز میں عوام کو محظوظ کرتے ہوئے رام دین پاسوان نے اس صبح گوری شنکر کا آخر کار ‘ ‘ نام کرن ‘ ‘ کر ہی دیا ۔۔۔ گوری شنکر پردیسی۔

” آج سے گوری شنکر دوبے، گوری شنکر پردیسی کہلایا کریںگے۔“رام دین پاسوان کی طرف سے بھرے اجتماع میں جو یہ اعلان ہوا تو پورا اجتماع ‘ ‘ہو ہو ہو’ ‘ کے نعروں سے گونج اٹھا۔ اور پھر یہ نام ایسا چل پڑا کہ گاو ¿ں میں تو کیا پورے علاقے میں ہی گوری شنکر دوبے ہمیشہ کے لئے گوری شنکر پردیسی ہو گئے۔ یہی تو خاصیت تھی رام دین پاسوان کی کہ ان کا دیا ہوانام بالکل فٹ بیٹھتا تھا اور گاو ¿ں والوں کے منہ پر ایسے چڑھ جایا کرتا تھا ،جیسے کھیت سے واپس آنے کے بعد ان کے پورے جسم پر مٹی چڑھ جایا کرتی ہے۔

خیر، گوری شنکر تو اس دن کافی جھینپے، تلملائے۔ مگر گاو ¿ں کے بڑوں، بزرگوں کے بیچ کیا کر سکتے تھے۔بعد میں تو لوگ انہیں اسی نام سے پکارنے لگے۔ دیکھو گوری شنکر پردیسی آ رہا ہے۔ وہ جتنا چڑتے لوگ انہیں اتنا چڑاتے۔ پھر ایک دن انہیں لگا کہ اس مذاق کا مزہ انہیں بھی لینا چاہئے۔ اور پھر کیا تھا، اپنے اس نام کے زبان زدِعام ہونے پر وہ خود بھی قہقہہ مار کر ہنسنے لگے۔ ایک عرصہ گذرنے پر مذاق بھی سچ کا روپ لینے لگتا ہے۔ گوری شنکر سوچنے لگے، کیا ان کا رہن سہن واقعی ان کے سنگی ساتھیوں، ان کے گاو ¿ں والوں سے کافی مختلف ہے یا پھر خوامخواہ ہی ان کے کچھ شہری انداز کو ضرورت سے زیادہ طول دیا جا رہا ہے۔ کوئی گوری شنکر کو کہتا کہ دیکھو پردیسی آ رہے ہیں، تو وہ ایک ہلکی ہنسی ہنس کر اس کی بات کو ان سنا کر دیتے ،مگر اگلے ہی لمحے دل ہی دل وہ خود کو گوری شنکر پردیسی کہہ کر دیکھتے۔ اور”پردےسی“لفظ پر کچھ دیر ضرور ٹکتے۔

حالانکہ یہ گوری شنکر کو معلوم تھا کہ نیم جیسے مفید اور معالجاتی اہمیت کے حامل درخت کی تازہ اور لچکدار لکڑی سے دانت صاف کرنا کتنا مفید ہے، مگر روز روز ان کو توڑنے کے چکر سے وہ بچنا چاہتے تھے۔ اگر ایک بار کسی سے تڑوا کر رکھ بھی لو، تو وہ آہستہ آہستہ خشک ہونے لگتی ہیں۔ پھر ان کے باپو جب کبھی باہر سے آتے ٹوتھ پیسٹ، برش، صابن، سرف جیسے گھر کے ضروری سامان لانا نہیں بھولتے تھے۔ گوری شنکر کو اچانک اپنے باپوکی یاد آگئی اور ان کا سر اپنے آپ ان کو یاد کرکے جھک گیا۔ ان کے باپو فوج میں تھے اور سن باسٹھ کی کئی کہانیاں ،خوشی غمی کے مخلوط جذبات لئے وہ سنایا کرتے تھے۔ان کی کہانیوں کو سننے کے لئے پورا گاو ¿ں چوپال میں جمع ہو جایا کرتا تھا۔ہمیشہ کی ہی مانند ایک دن صبح سویرے اپنے معمول کے مطابق ان کے باپو گاو ¿ں میں بڑے سے عوامی کنویں پر آرام و سکون سے نہا رہے تھے کہ اچانک انکا پاو ¿ں پھسلا، وہ اینٹوں کے بنے پختہ فرش پر ایسے گرے کہ پلک جھپکتے میںوہیں شہید ہو گئے۔پورا گاو ¿ں اپنے اس بہادر سپاہی کی یوں اچانک ہوئی موت پر غمزدہ تھا۔ گوری شنکر کو اپنے باپو کی خدمت کرنے کی بڑی عادت تھی۔اکثر وہ اپنے خوابوں میں اپنے باپوکے پاو ¿ں دباتے رہتے تھے۔ مگر ایک ”ایکس سروس مین “ کا جذبہ ان کے والد میں ایسا بھرا ہوا تھا کہ وہ کہا کرتے تھے۔

 ”بیٹا گوری شنکر ، تم اپنے کام میں مست رہو۔ تمہارا باپ ایک جواں ہمت فوجی ہے۔ وہ جب تک جئے گا، اپنی طاقت کے بل بوتے پر جئے گا۔“

جاتے جاتے بھی ایکس سروس مین نے اپنے قول کی لاج رکھی۔ اس دن اپنے باپو کی موت پر گوری شنکر کو یہی باتیں یاد آتی رہیں اور وہ کافی دیر تک دل ہی دل میں سسکتے اور سوچتے رہے کہ باپو جی ٹھیک کہا کرتے تھے، انہیں شاید اپنی موت کا پیشگی علم تھا۔ وہ کتنے بڑے خوددار نکلے۔ اپنی پوری زندگی بغیر کسی پر بوجھ بنے گزار دی۔ کسی کے لئے کچھ بھی کرنا انہیں منظور تھا، مگر کسی کی مدد لینے سے وہ ہردم بچنا چاہتے تھے۔ وہ ہردم ایشور سے دعا کیا کرتے تھے کہ انہیں ایسا دن نہ دیکھنا پڑے، جب کسی کے آگے انہیں اپنی جھولی پھےلانی پڑے۔ایشور نے ان کی دعا شاید سن لی تھی۔

…. …. ….

یہاں دور درازجے پور میں آج گوری شنکر کو اپنے فوجی والد کافی دیر تک یاد آتے رہے۔ اور آئیں بھی کیوں نہیں، یہاں ان کے گھر سے تھوڑی ہی فاصلے پر دہلی کے انڈیا گیٹ (حالانکہ سائز اور جگہ کے حساب سے دونوںکا کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا) کی طرز پر ایک شہداءیادگار بنی ہوئی ہے۔ جب کبھی وقت ملتا ہے، گوری شنکر وہاں ٹہلتے ہوئے چلے جاتے ہیں۔ وہاں دیواروں پر ملک کے لئے شہید ہونے والے راجستھانی فوجیوں کے نام کھدے ہیں۔ وہ کئی بار وہاں موجود ایک ایک نام کو بڑے احترام کے انداز سے اور کانپتے ہاتھوں سے دیر تک چھوتے ہوئے آہستہ آہستہ آگے بڑھتے۔ اس کے ٹھیک پیچھے ایک بڑا سا بین الاقوامی معیار کا اسٹیڈیم ہے، جس میں وہ کئی بار تیز تیز قدموں سے چلتے ہوئے برسک واک کیا کرتے۔

 گوری شنکر نے اپنی آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسوﺅں کو پونچھ ڈالا۔ انہیں اچانک بڑی شدت سے یہ محسوس ہوا کہ انہیں ایک ایسے بہادر شخص کی موت کو یاد کر کے رونا نہیں چاہئے۔پہلے وہ ملک کے ایک سچے سپوت تھے۔ ان کے باپو تو وہ بعد میں تھے۔اپنے باپو کے جذبے کے آگے انہیں اپنا قد بڑا بونا محسوس ہوا۔ انہیں اپنا اس طرح سسکنا اپنی بزدلی کی نشانی لگا۔انہوں نے دل ہی دل فیصلہ کیا کہ ہو سکا تو وہ بھی کبھی ملک و قوم کے لئے کچھ کرکے دکھائیں گے اور آج کے بعد کبھی بھی اپنے باپو کو یاد کرکے یوں پھوٹ پھوٹ کر نہیں روئیں گے۔

جے پور میں گوری شنکر کے گھر کے ساتھ ایک بنگالی مارکیٹ ہے، جہاں ایک چھوٹی سی سبزی منڈی قائم ہے۔ وہاں ہر ہفتہ بنگال، بہار کے مختلف علاقوں سے سبزیاں آتی ہیں اور کئی بار گوری شنکر بھی وہاں جاکر سبزیاں خرید چکے ہیں۔اس کے علاوہ صبح ٹہلتے ہوئے وہ یوں ہی اُدھر کا رخ کر لیتے ہیں۔بانس کی کھپچیوں سے عارضی سا گھر بنا کر رہنے والے عمر رسیدہ مرد اور عورتوں کو وہ بڑے دھیا ن سے اور دیر تک دیکھتے رہتے۔ گوری شنکر سوچتے، ہم کتنے بڑے ہو جائیں۔کتنی دور آ جائیں۔ کسی طرح کابھی کام کرنے لگیں۔ ہماری پرانی خاص طور بچپن اور نوجوانی کی کہانیاں بھلائے نہیں بھولتیں۔کئی بار گوری شنکر جے پور میں صبح کی سیر کرتے ہوئے اپنے گاو ¿ں اور اپنی نوجوانی کے دھندلے ہوتے ہوئے قصوںکو چپکے سے یاد کر لیتے ہیں۔ تب آدھے گھنٹے کی اپنی سیر کے دوران وہ دیکھ تو جے پور کو رہے ہوتے ہیں، مگر ان کے اندر کہیں بہت گہرائی میں، کسی فلم کی مانند ان کاگاو ¿ں چل رہا ہوتا ہے۔

انہیں بنگالی مارکیٹ میں مردوں کا لنگی اور عورتوں کا ساڑی پہنے ہوئے ادھر ادھر چلنا کچھ عجیب نہیں لگتا ہے۔کیونکہ وہ خود آٹھویں جماعت سے لنگی پہننے لگے تھے۔ مغربی بنگال، بہار، جھاڑکھنڈ، اڑیسہ جیسی ریاستوں سے آئے تارکینِ وطن مزدوروں کی یہ دنیا انہیں ایک جانی پہچانی دنیا ہی لگتی۔انہیں ایک خاص قسم کا اطمینان اور اپناپن لگتا ایسے علاقوں میں گھومتے ہوئے اور ان سے مول بھاﺅ کرتے ہوئے۔مگر صرف اسی بنیاد پر گوری شنکر کا مزاج ان سے نہیں مل سکتا تھا۔کیونکہ طویل عرصے سے باہر رہتے ہوئے دوبے جی کو اب تک دنیا کے کئی رنگوں سے واسطہ پڑ چکا تھا۔ اسے آپ گوری شنکر کے اندر کی مزاحمت بھی کہہ سکتے ہیں یا پردیس میں مقامی بمقابلہ غیر مقامی کی باہمی جدوجہد بھی سمجھ سکتے ہیں۔کیونکہ ایسی صورت ِحال میں بہت سے دلچسپ واقعات وجود میں آتے تھے اور زیادہ ترمعاملوں میں گوری شنکر کو اپنے علاقے کے ان مزدوروںکے اپنے تئیں کئے جانے والے طرز عمل کو لے کر کچھ اچھے تجربات نہیں ہوا کرتے تھے۔حالانکہ اس کے لئے وہ خود کو بھی کم مجرم نہیںمانتے تھے۔ ان کی کڑک آواز، ان کے تیکھے نین نقش، فوری طور پر غصے میں آ جانے کی ان کی عادت۔آج کے زمانے میں کون کس کا احترام رکھتا ہے اور جہاں تک سسرے ان مزدوروں کی بات ہے، یہ ہر ایرے غیرے سے ڈریں گے، اگر وہ مقامی ہے اور اگر آپ اس کے ہی طرح پوربیا ہیں تو آپ اس کے ٹھیے پر تو پہنچیں گے بعد میں، وہ آپ کو پہچان دور سے ہی لے گا اور آپ کی مستقل رہائش کی ٹوہ لے لے گا۔ ہر مخصوص علاقے کی چال ڈھال اور بول چال میں چند ایسی خاصیتیں ہوتی ہیں کہ بندہ اپنے علاقے والوں کے ریڈار تلے گرفت میں آ ہی جاتا ہے۔ ہو سکتا ہے اگلے ٹھیے والا آپ کو یہیں کا سمجھے، مگر کیا مجال ہے کہ کوئی پوربیا دکاندار آپ کی پہچان میں کبھی کوئی غلطی کرے اور آپ اس وہم میں نہ رہیں کہ وہ آپ کے کپڑوں یا آپ کی نفاست کے رعب میں آئے گا۔ بھائی صاحب وہ صرف اتنا سوچتا ہے کہ جس طرح میں پردیس میں کسی طرح اپنا اور اپنے خاندان کا پیٹ پال رہا ہوں ویسے ہی یہ حضرت یہاں آئے ہیں۔ پھر چاہے آپ لاٹ کلکٹر ہوں، آپ کی بلا سے۔ وہ آپ کی وجہ سے یہاں تھوڑے ہی نہ ٹکا ہوا ہے۔ پردیس میں سبھی طرح کی جدوجہد اور ذلت بھرے زندگی نے ننگی اور سخت دھوپ میں انہیں کچھ اس طرح تپا دیا ہے اور ایسا لوہا بنا دیا ہے کہ ان کے اندر کی ساری نرماہٹ تباہ ہو چکی ہے۔ ایسے میں آپ اس سے تاو ¿ میں بات کریں گے تو ہو سکتا ہے کسی ‘ ‘لوکل’ ‘کا تاو ¿ تو وہ کچھ دیر کے لئے سہہ بھی لے، مگر وہ آپکا نہیں سہے گا۔ وہ سماجیات کے لحاظ سے ایک دم نچلی سطح پر کھڑا ہوا ہے۔ وہ خود اپنی اس حالت کو دل ہوا تو مان لے گا ،مگر آپ اُسے اسکی کم حیثیت ہونے کا احساس دلائیں گے ،تو وہ بپھر پڑے گا۔یہ ٹھیک بھی ہے۔کوئی خودکو کم کیوں سمجھے۔گوری شنکر کئی بار سامنے والے کی نگاہ سے بھی دنیا کو دیکھتے۔ ایسا ہی کردار تھا گوری شنکر کا، جنہیں ناپسند کرتے ان سے بھی دیر تک ناراض نہیں رہ پاتے۔ اپنی بیوی سے کہتے۔

 ”چلو ہمارا کیا جاتا ہے، اچھا برتاو ¿ کرے یا برا۔ اس کی بلا سے۔“

مگر کہیں اندر ہی اندر گوری شنکر دگرگوں حالات میں ان کی جانب سے کئے جانے والی جدوجہد کو سلام بھی کیا کرتے اور ان کی ظاہری اکھڑ کو اپنے دفاع کی ٹیپیکل دیسی ٹیکنک بھی مانتے تھے۔

 گوری شنکر کی کالونی میں ملک کے مختلف علاقوں سے آئے بہت سے گھرانے رہا کرتے تھے۔ شروع شروع میں گوری شنکر کو لگا کہ چلو اچھا ہے۔ ایک ہی جگہ پر منی ہندوستان دیکھنے کو ملے گا اور اپنے اس خیال سے وہ کچھ پرجوش بھی ہوئے۔ مگر جس کلرفل انڈیا کی چمک دیکھنے کی انہیں امید تھی، وہ تو انہیں وہاں نہیں دکھا ،بلکہ اس کی جگہ ٹوٹے پھوٹے لوگ اور ان کی پریشانیاں ہی سامنے آئیں۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کے جھگڑوں پر آپس میں لڑتے جھگڑتے اور ایک دوسرے سے منہ پھلاتے بڑے لوگ ہی انہیں نظر آئے۔انہیں تعجب ہوا کہ کیا شہری بھارت یہی ہے!کیا سوفیسٹی کیٹڈ لائف اسٹائل اسے ہی کہتے ہیں۔ گوری شنکر ان دنوں بات بات میں کندھے زیادہ اچکانے لگے تھے۔

…. …. ….

جے پور میں صبح سویرے اکیلے پیدل سیر کرتے ہوئے وہ زیادہ تر گاو ¿ں کی باتیں سوچا کرتے تھے۔گھر میں آکر بھی وہ اکثر و بیشتر اپنی بیوی کے سامنے ایسا ہی کوئی معاملہ چھیڑ دیتے۔ انکی بیوی شوبھنا کچھ سمجھتی اور کچھ نہیں سمجھتی۔وہ اپنے شوہر کو ایک حد تک تو سمجھتی تھی، مگر کوئی کسی کے اندر چاہے کتنا ہی کیوں نہ اتر جائے، اسکو پوری طریقے سے نہیں سمجھ سکتا۔ پھر چاہے وہ آپس میں میاں بیوی ہی کیوں نہ ہوں۔ شوبھنا ایک دن اپنے شوہر کے اندر جھانکنے کی ایسی ہی ایک کوشش کرتی ہوئی بولی۔

 ”آپ جو اس طرح اکیلے گھومتے ہیں، اس سے تو اچھا ہے نہ کہ ہم دونوں ساتھ ساتھ گھومیں”

 گوری شنکر کیا بولتے۔ مگر انہیں اپنی بیوی کی ہوشیاری کو تاڑتے دیر نہ لگی۔ شوبھنا کچھ کچھ ان پر شک کرتی ہے، اس کا احساس انہیں پہلے بھی ہوا تھا۔ مگر وہ سوچتے، دنیا کی کون سی بیوی ایسی ہے، جو اپنے شوہر پر شک نہیں کرتی۔پر حقیقت میں انہیں اچھا ہی لگا۔ چلو جو باتیں وہ اپنے اندر کرتے ہیں، اب وہی باتیں وہ بیوی کے ساتھ کر لیا کریں گے۔ اپنی جن یادوں کی دنیا میں وہ خود ڈوبتے ابھرتے رہتے ہیں ،اب اس کی گہرائی میں کوئی اور بھی ان کے ساتھ ہو لیا کرے گا۔ وہ فوراً بولے۔

 ”ٹھیک ہے، کل سے ساتھ چلیںگے۔“

اگلے دن ان کی بیوی شوبھنا اور خود گوری شنکر صبح سویرے پہلی بار اکٹھے سیر کو نکل پڑے۔سب سے پہلے نچلی منزل پر رہنے والے مسٹر بھاردواج نے انہیں غور سے دیکھا اور مسز بھاردواج نے مسکراکر دونوں کا دل سے استقبال کیا۔اس کالونی میں وہ دونوں پہلی بار صبح کی سیر پر ایک ساتھ باہر نکل رہے تھے۔ چند قدم چلنے پر سوسائٹی کا گیٹ آیا، جہاں تعینات گارڈ نے کچھ مزید ادب سے آج دونوں کو سلام کیا۔ سامنے ہی آسمان میں سورج پوری طرح نکلنے کی تیاری کر رہا تھا۔اس کی کرنوں نے گویا دونوں کو ایک ساتھ منور کیا۔ سڑک کے کنارے لگے گل مہر، املتاس کے پھول کھلے ہوئے تھے۔نیم میں بھی پھول آئے ہوئے تھے۔پڑوس کی کالونی میں درختوں کے جھرمٹ سے کوئل کی کوک رہ رہ کر کانوں تک آ رہی تھی۔ سامنے مرکزی سڑک پر آتے ہی بھےرو ںبابا جمے تھے۔ پہلے گوری شنکر نے اور پھر شوہر کی پیروی کرتے ہوئے شوبھنا نے بھی اپنا سر جھکا کر انکو پرنام کیا۔ پھردونوں دائیں طرف مڑ گئے۔ شوبھنا نے اچانک اپنی رفتار تیزکی۔ گوری شنکر تھوڑا پیچھے رہ گئے۔ ان کے اندر کا مرد کہیں شکست کھا کر گر پڑا۔ پیچھے سے ہی آواز لگائی۔

 ”ارے ہاں بھئی، اتنی تیز کیوں چل رہی ہو۔“

بیوی نے بغیر پیچھے مڑے ہی آواز لگائی۔“دوبے جی آپ بھی اپنی رفتار بڑھائیں۔ اس طرح چہل قدمی کرنے سے کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ تھائیرائیڈ کا ٹی۔ایس۔ایچ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔“

 گوری شنکر کیا بولتے۔ وہ اپنی عادت سے مجبور تھے۔ ایک تو انکو صبح اٹھنا ہی بھاری لگتا تھا اور پھر پسینے میں تربتر ہوکر تیز تیز چلنا، آج تک انہیں کبھی اچھا ہی نہیں لگا تھا۔

”دیکھو شوبھنا، میں تو یوں ہی چلتا ہوں خراماں خراماں۔ فطرت اور ماحول کا بھرپور جائزہ لیتا ہوا۔ میں تو ان میں دل لگاتا ہوں۔ ان کا ہو جاتا ہوں ”، گوری شنکر نے تھوڑے فاصلے سے کچھ تیز آواز میں کہا۔

ادھر شوبھنا اپنے بڑھتے وزن اور ٹی۔ایس۔ایچ کے اضافے کی فکر میں کچھ سننے کو تیار کہاں تھی۔ وہ تو صبح کی سیر کو ایک ٹاسک کے طور پر لے کر اپنے گھر سے نکلی تھی۔دونوں میاں بیوی میں یہی تو فرق ہے۔ ایک کہاں اپنے دماغ کا غلام، تو دوسرا کہاں اپنی ہر سرگرمی کو بڑے ناپ تول کر پورا کرنے والی اور پھر بھی دونوں کو ایک چھت کے نیچے رہتے ہوئے یہی کوئی پندرہ ایک برس تو ہو ہی گئے ہوں گے۔ گوری شنکر دل ہی دل اپنی شادی کا سال یاد کرنے لگے۔

کہاں تو شوبھنا تیز تیز قدموں سے چل کر اپنے جسم کا زیادہ سے زیادہ پسینہ بہانا چاہ رہی تھی اور کہاں گوری شنکر بابو جے پور کی سڑکوں پر یہاں کے مقامی باشندوں کی ناپسندیدہ اور نظروں سے چھپی رہنے والی سوہانجے کی پھلیوں کی طرف دیکھ کر کسی سوچ میں مگن آہستہ آہستہ چلے جا رہے تھے۔جن درختوں پرسوہانجے کی پکی اور سوکھ چکیں پھلیاں دِکھتیں وہاں وہ غمگین ہو جاتے اور جہاں سبز اور تازہ پھلیاں دیکھنے کو ملتیں وہاں وہ للچائی آنکھوں سے انکی طرف دیکھتے۔ کسی نہ کسی طریقے سے وہ اسے توڑ لینا چاہتے تھے۔مگر شہری کھِسّو پنے کے مارے گوری شنکر صرف دل مسوس کر رہ جاتے۔پھر بھی اس درخت کے نیچے وہ کچھ دیر تک ضرور منڈلاتے۔آج بھی اپنی بیوی کے ساتھ چلتے ہوئے وہ کچھ دیر کے لئے اپنے ایسے ہی پیارے سوہانجے کے ایک درخت کے پاس آکر کھڑے ہو گئے۔کہتے ہیں کہ ذائقے کا چسکا آدمی کو اپنا غلام بنا دیتا ہے۔مگر یہاں تو بات اس سے بھی بڑھ کر تھی۔ ایک طویل عرصہ یا کئی سال ہو گئے تھے گوری شنکر کو سوہانجے کی سبزی کھائے ہوئے۔ دال میںڈوبی ہری ہری پتلی پتلی ڈنڈیاں چوسنے میں کتنا سکون ملتا تھاانہیں اپنے بچپن میں۔ سچ آج بھی گوری شنکر سوہانجے کے اس ذائقہ کوبھولے نہیں ہیں اورسوہانجا ہی کیوں اپنے بچپن کی جانے کتنی چیزوں کو وہ اپنی یادوں میں بسائے ہوئے ہیں۔ پھر چاہے گاو ¿ں کے باہر بنی اونچی نیچی فیلڈ پر دن دن بھر فٹ بال کھیلنا ہو، پڑوس والے گاو ¿ں کے گنے کے کھیتوں سے گنے چرانا ہو، دیا سلائی کی ڈبیوں سے مٹی کی اینٹوں بنانی ہوں، رات رات بھر بھوجپوری چےتا گانا ہو یا پھر کچھ اور انہیں سب کچھ یاد ہے۔

…. …. ….

آج کل جے پور میں گوری شنکر کا پیٹ کچھ زیادہ نکل آیا ہے۔ یہاں کے ان کے کچھ ساتھی ملازمین اس بات پر ان کی ٹانگیں بھی کھینچنے لگے ہیں۔ دوبے صاحب سوچتے اور دل ہی دل اپنی اس سوچ پر ہنس پڑتے، بھلا یہ کون سی بات ہوئی۔ ساری کرامات پیٹ کی ہو اورکھنچائی ٹانگ کی۔ یہ تو ٹانگوں کے ساتھ سراسر ناانصافی ہوئی۔ایسے ہی باتوں باتوں میں ایک دن ان کے ایک سینئر ساتھی آرکے جین کہنے لگے۔

 ”یار دوبے صاحب، آپ صبح صبح سیر کیوں نہیں کرتے۔ آپ کے ٹھیک پڑوس میںجے پور کا اتنا بڑا سینٹرل پارک ہے۔ پورے جے پور کے وی آئی پیز وہاں دوڑتے ہیں۔”یوگا“ کرتے ہیں، ورزش کرتے ہیں۔آپ بھی جایا کرو۔“

دوبے صاحب کیا کہتے۔بات تو پتے کی کہی تھی آرکے جین نے۔ مگر دوبے جی کو عین موقع پر مذاق سوجھ گیا۔ چھوٹتے ہی بولے۔

”جین صاحب میں وی آئی پی نہیں ہوں نہ! ”

پھر دونوں مل کرا یکبارگی زور سے ہنسے تھے۔ خیر صاحب یہ تو دوبے صاحب کا ایک رخ تھا مذاقیہ اور ہنسوڑ۔ مگر ان کا ایک دوسرا رخ بھی ہے جو ان کے اندر کہیں چھپا ہوا ہے۔ وہ ایک باریک بیں معائنہ کاراور توسیع پسند خیالات والے شخص ہیں۔وہ جہاں کہیں جاتے ہیں، وہاں کچھ زمین جائداد لینے کی سوچنے لگتے ہیں۔ پتہ نہیں کبھی کسی پرانے زمیندار کے ایک وارث نے گوری شنکر جی سے کہہ دیا تھا۔

 ”دوبے صاحب میرا تو یہ ماننا ہے کہ آدمی کی اگر قسمت ہو تو ایسی ہو کہ وہ زمین کے جس حصے پر بھی پیشاب کر دے ،وہ زمین اسی کی ہو جائے۔“

بہت پہلے کہی گئی یہ بات گوری شنکر کو آج بھی یاد ہے۔ وہ جہاں کہیں جاتے ہیں، سب سے پہلے وہاں پیشاب ضرور کرتے ہیں۔ یہاں جے پور میں بھی کیا اور چاہے اس بات سے کوئی تعلق ہو یا نہ ہو، مگر یہاں بھی انہوں نے دو سال کے اندر اندر سو گز کا ایک پلاٹ خرید لیا۔ مگر چاہے ملک کے کسی بھی کونے میں رہ لیں، گوری شنکر کی روح آج بھی گویا اپنے گاو ¿ں میں ہی بستی ہے۔یہاں جے پور میں وہ جس علاقے میں رہتے ہیں، راجستھان کے بارے میں ایک مشہور تصور سے با لکل مختلف یہاں کافی ہریالی ہے۔ساتھ ساتھ انکے کمپلیکس کے علاوہ کئی دوسرے سرکاری محکموں کے بھی اس علاقے میں اپنے اپنے رہائشی کمپلیکس ہیں۔ ایسے میں مناسب طور پر بھرپور نہ سہی ،پھر بھی کافی کھلی جگہ رکھتے ہوئے فلیٹوں کو تعمیر کیا گیا ہے۔فلیٹ بھی عموما چار منزل تک ہی ہیں۔ کمپلیکس کے اندر خالی جگہوں میں درختوںکے پودے بھی ٹھیک ٹھاک تعداد میں لگائے گئے ہیں۔بچوں کے کھیلنے کے لئے چھوٹے پارک، بیڈمنٹن کورٹ وغیرہ کی بھی سہولیات ہیں۔ مجموعی طور پر ماحول کافی حد تک نیچرل ہے۔ اس لئے گوری شنکر کا من یہاں لگا رہتا ہے۔ جب وہ اپنے برآمدے میں بیٹھے ہوتے ہیں ،تب کوئل کی کوک ان کا دل موہ لیتی ہے۔ انہیں اس طرح درختوں سے گھرے ماحول میں رہنا اچھا لگتا ہے۔ بچوں کو اسکول کے لئے روانہ کرنے اور سیر سے واپسی کے بعد عموماً دونوں میاں بیوی برآمدے میں پلاسٹک کی کرسیوںپر بیٹھ کر ایک ساتھ ہی چائے پیتے ہیں۔ سامنے برآمدے سے راجستھان اسمبلی کا گنبد دکھائی دیتا ہے۔ آج صبح ہی کی تو بات ہے۔ کوئی ہفتے بھر بعد گوری شنکر اپنے بچوں کو اسکول بس تک چھوڑنے کےلئے، اپنے من پسند پلنگ سے اٹھ کر تیار ہوئے۔ اس بیچ یہ ذمے داری شوبھنا ہی انجام دیتی رہی تھی۔ وہ بھی اس لئے کہ کل رات انکا اکلوتا بیٹا گورَو دوبے، ان سے اپنے بس ڈرائیور کی شکایت کر رہا تھا۔

 ”پاپا، آج کل پھر سے ہمارے ڈرائیور انکل ہمارے ساتھ غلط برتاو ¿ کرنے لگے ہیں۔ اگر میں کتاب نکال کر پڑھنے لگتا ہوں تو وہ ڈانٹ دیتے ہیں۔ یا پھر ہم دو دوست، کھڑے ہو کر بات کرنے لگتے ہیں تو کئی بار بس کے تیز مڑنے پر ہم اچانک گر پڑتے ہیں۔ہمیں چوٹ لگ جاتی ہے۔ ٹرننگ پر بھی وہ بس سلو نہیں کرتے ہیں ۔“

 گورَو عادتاً تھوڑا رک رک کر اپنے اسکول ڈرائیور کی شکایت اپنے پاپا سے کر رہا تھا۔ دوبے صاحب کو غصہ تو خوب آ رہا تھا، مگر کیا کریں، یہاں جسے دیکھو وہی بدتمیزی پر اترا ہوا ہے۔کس کس کو سُدھاریں۔پھر کون کس کی سن بھی رہا ہے۔ابھی حال ہی میں تو بس کے ڈرائیور اور کنڈیکٹر دونوں سے ان کی ٹھیک ٹھاک لڑائی ہوئی تھی۔ مگر پھر وہی ڈھاک کے تین پات۔ گوری شنکر خون کا گھونٹ پی کر رہ گئے۔ پھر اپنے بیٹے کو ہی سمجھایا۔

 ”بیٹا کھڑا ہو کر آپ کو بات کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ آپ خوامخواہ گر جاتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ بس تیز چلانا اس کی عادت ہو گئی ہے۔ پچھلی بار بھی اسے اتنا سمجھایا تھا، مگر کتے کی دم ٹےڑھی کی ٹےڑھی ہی رہتی ہے۔“

 گوری شنکر گالی نہیں دینا چاہ رہے تھے، مگر جوش میں انکو اپنی زبان پر کنٹرول نہ رہا اور پھر گوری شنکر کسی بھی صورت میں اپنے بیٹے کو غیر محفوظ اور کمزور نہیں ہونے دینا چاہتے تھے۔

صبح کی سیر میں کہاں تو آدمی صاف ہوا کو زیادہ سے زیادہ اپنے پھیپھڑوں میں اتار لینے کے مقصد سے باہر نکلتا ہے اور کہاں ادھر ذہن میں دنیا بھر کی الجھنیں چلتی رہتی ہیں۔ گوری شنکراپنی سوسائٹی کے گیٹ کے باہر آئی اسکول بس میں اپنے بچے کو بٹھا کر ایک سخت نگاہ ڈرائیور پر ڈالنا نہ بھولے۔ مگر واضح طور پر کچھ نہ بولے۔ انہیں بہت پہلے کسی بزرگوار نے کہا تھا۔

 ”گوری، کئی بار سخت نگاہ ڈالنے بھر سے آدمی ڈر جاتا ہے۔کم از کم تب تو بالکل ہی جب وہ سراسر غلطی پر ہو۔“

دنیا بدلی، لوگ بدلے، ملک بدلا، کہاوتیں بدلیں۔ کہاں کچھ ہوتا ہے۔ ان سب کے باوجود پرانی کہاوتوں میں بچی کھچی طاقت کی وہ کچھ قدر کرتے ہیں اور اس کے مطابق اپنی حکمت ِعملی بنا لیتے ہیں۔جب تک سامنے کی سڑک سے بس بائیں جانب نہ مڑ گئی، تب تک وہ پیلے رنگ کی اسکول بس کو، ایک جگہ کسی پتھر کی مورتی کی مانند کھڑے، اسے جاتے ہوئے دیکھتے رہے۔گورَو بھی عادتاً پیچھے گردن گھمائے بڑی دیر تک اپنے باپ کی طرف دیکھتا اورہاتھ ہلاتا رہا۔ صبح سویرے جے پور کی سڑک پر راجستھان اسمبلی سے تھوڑے ہی فاصلے پر یہ منظر بڑا دلچسپ تھا، جب دو باپ بیٹے اس طرح ایک دوسرے کو اوجھل ہونے تک دیکھتے رہے اور ایک دوسرے کی طرف ہاتھ ہلاتے رہے۔ سارے ماحول میں وارفتگی کی گرماہٹ تیرتی گئی۔ اپنی دھوپ کی گٹھری کو صدیوں سے اٹھائے ہوئے سورج کو، اس وقت وارفتگی کی گنگا میں ڈوبے گوری شنکر تمام نسلوں کو پیدا کرنے والا پہلا باپ محسوس ہوا۔خود اعتماد گوری شنکر سڑک پر چہل قدمی کرتے ہوئے فطرت کی جولانیوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے رہے۔ وہ راہ چلتے ہوئے کئی بار سورج کی طرف دیکھتے اور جتنی بار بھی دیکھتے اتنی بار ہی انکا سر احتراماً خم ہو جاتا۔

 گوری شنکر اپنے آس پاس موجود درختوں اور پودوں کے حالات کا بغور جائزہ لیتے اور انجان لوگوں کی سرگرمیوں پر کسی جاسوس کی سی نظر رکھتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھوں میں ایک ایک لیٹر دودھ کی دو تھےلیاں جھلاتے واپس اپنے گھر کی طرف واپس آ رہے تھے۔

…. …. ….

جب سے گوری شنکر نے کار لی ہے، سبزی لانے، بچے کے اسکول میں پیرنٹس میٹنگز کے اجلاس میں حصہ لینے، رات میں کہیں ڈنر پر جانے جیسے کئی چھوٹے موٹے کام وہ کار ہی کرنے لگے تھے۔ گوری شنکر گاڑی چلا کر خوش تھے اور شوبھنا اور ان کا بیٹا اس میں بیٹھ کر۔ ایسے ہی ایک دن پیر کی صبح میاں بیوی سبزی ترکاری لانے کے لئے اپنی گاڑی پر نکلے۔ بیٹا اسکول جا چکا تھا۔ اس وقت دونوں میاں بیوی ہی تھے۔گورَو کی موجودگی میں شوبھنا، گوری شنکر کے ساتھ آگے والی سیٹ پر کم ہی بیٹھ پاتی تھی۔ مگر جب کبھی دونوں یوں اکیلے ہوتے، شادی کے پندرہ سال بعد بھی دونوں کے چہرے پر ایک یکساں لالی آ جاتی۔ گوری شنکر کچھ بھی اوٹ پٹانگ سا بول کر اپنی بیوی کو چھیڑتے۔ دبلی پتلی اور اسمارٹ شوبھنا ہنس ہنس کر دوہری ہوتی چلی جاتی۔ ایسے میں اگر کوئی باہر سے اندر کے منظرکو کچھ دیکھ پاتا، اس کے خیال میں دونوں میاں بیوی کم اور پریمی جوڑا زیادہ لگتے۔ آج گوری شنکر کچھ زیادہ ہی موڈ میں تھے۔ طلوع آفتاب کے وقت تیز بارش ہوئی تھی۔ صبح کا موسم کافی سہانا ہو رہا تھا۔ صاف ستھری سڑک اور نہائے دھلے درخت، پودے سبھی ان کے اندر موجود روما نیت میں اضافے کا کام کر رہے تھے۔ گوری شنکر عموماً گاڑی آہستہ چلایا کرتے تھے ،مگر آج کچھ تیز اور انوکھے انداز میں وہ گاڑی کو چلا رہے تھے۔ مانو گاڑی ان کی کوئی محبوبہ ہو جیسے۔ ویسے کئی بار شوبھنا، گوری شنکر کو طعنے مار چکی تھی۔

 ”اجی چھوڑیے دوبے جی، آپ مجھ سے زیادہ اپنی گاڑی اور لیپ ٹاپ سے محبت کرتے ہیں۔ ضد کرکے یہ دونوں چیزیں بہترین لانے کو میں نے ہی کہا تھا۔ آخر کچھ ہی چیزیں تو ایسی ہوتی ہیں، جو ہم بار بار نہیں خریدتے۔ تو کیوں نہ ایسی خریدی جائیں کہ جس سے ہمیں مکمل اطمینان مل سکے۔مگر مجھے کیا معلوم تھا کہ ان کی خوبصورتی کا نشہ آپ پر ایسا چڑھے گاکہ آپ انہیں ہم سب سے بچاتے پھریں گے۔ لیپ ٹاپ کا بیگ اور گاڑی کی چابی آپ کہاں رکھتے ہیں، ہم ماں بیٹے کو تو ان کا اندازہ تک نہیں ہوتا۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ میں اپنے لئے یہ دو سوتنیں خرید رہی ہوں۔آپ نے اتنا پیار تو مجھے ان پندرہ سالوں میں بھی نہیں کیا ،جتنا گزشتہ سال بھر میں لیپ ٹاپ اور گاڑی کے ساتھ کر چکے ہیں ۔“

گوری شنکر مسکراکر رہ گئے۔

ہمیشہ سنجیدہ رہنے والے گوری شنکر کو یوں مسکراتا دیکھ کر شوبھنا بھی اندر ہی اندر بہت خوش ہو رہی تھی۔ مگر کہتے ہیں نہ کہ کئی بار کوئی بڑی انہونی آنے سے پہلے آدمی خوشی اور مسرتوں کی ایسے ہی لہروں میں ہچکولے کھاتا ہے۔ اب جس بڑی سڑک پر آکراپنی گاڑی کو گوری شنکر بائیں موڑنے والے تھے، پیچھے سے تیز آتی اِنووا نے ان کی گاڑی کو بڑے زور کی ٹکر ماری ۔ فٹ پاتھ سے لگ کر گاڑی دو بار پلٹی۔ ویسے دوبے صاحب کی گاڑی بھی ایک سیڈان ہی تھی، اس لیے دو بار پلٹنے کے بعد گاڑی خود تو پچک گئی، مگر دوبے صاحب اور ان کی بیوی کی جان بچ گئی۔ گوری شنکر خود کو اور اپنی بیوی کو کسی طرح سے گاڑی سے باہر نکالنے کی کوشش کرنے لگے۔ تب تک نکڑ پر چائے بیچنے والا بھگت، اونٹ چلا نے والی، محلے کے افراد اور راہ چلتے لوگوں نے آکر مل جل کردونوں میاں بیوی کو گاڑی سے باہر نکالا۔شوبھنا کا سر پھٹ گیا تھا اور گوری شنکر کے بائیں ٹانگ اور دائیں ہاتھ کی ہڈیاں ٹوٹ گئی تھیں۔ دونوں میاں بیوی کو ہسپتال لے جایا گیا۔ شوبھنا کے سر کے بال کاٹے گئے اور پھر کوئی سات آٹھ ٹانکے لگائے گئے۔ گوری شنکر کے دائیں ہاتھ میں لوہے کا راڈ لگایا گیا اور پھر ہڈیوں کو اس کے سہارے جوڑ کران پر پلاسٹر چڑھایا گیا۔ انکی بائیں ٹانگ میں بھی پلاسٹر چڑھایا گیا۔ شکر تھا کہ کوئی ہفتے بھر کے اندر اندر شوبھنا اپنی پرانی حالت میں واپس آ گئی تھی۔ اتنے دنوں کے لئے پورا گھر درہم برہم ہو گیا تھا۔

 گوری شنکر تو کوئی مہینے بھر بستر پر ہی پڑے رہے۔ اس دوران دفتر میں انکی غیر موجودگی سے نجانے کتنے طرح کے مسئلے در پیش ہوئے۔دن میں ان کا معاون کئی کئی بار فون پر معلومات لیتا۔کیا ڈی ۔پی۔ڈی، کیا آر۔ٹی۔آئی، کیا اسٹاف ممبران کا ٹریولنگ بل، جانے کتنے سارے محکمے ان کے پاس تھے۔ دائیں ہاتھ میں پلاسٹر چڑھا ہوا تھا۔ سو موبائل بائیں ہاتھ میں پکڑے، دیر دیر تک فون پر ہی وہ کچھ نہ کچھ احکامات دیتے رہتے۔ کبھی اپنے اس ‘ ‘امپورٹینس’ ‘ کا خیال آتے ہی اندر اندر ان کی چھاتی چوڑی ہو جاتی۔ مگر ایک ہی بات جب ان کا معاون بار بار پوچھتا اور لاکھ سمجھانے کے بعد بھی کسی نہ کسی الجھن میں گھرا ہی رہتا، تو وہ جھنجھلا سے اٹھتے۔ فون پر ہی اس کی ہوا نکالنے لگتے۔ شوبھنا ایک لمحے کے لئے پس و پیش میں پڑ جاتی۔ سوچنے لگتی، وہ اپنے جس شوہر کو اتنا”گارنٹڈ“لے کر چلتی ہے، کیا وہ واقعی اتنا بڑا افسر ہے اور لوگ اس کی دہاڑ کو اتنا برداشت کرتے ہیں۔ دل ہی دل اسے اپنے شوہر کے ایسے رتبے پر بڑا فخر محسوس ہوتا، مگر اگلے ہی لمحے وہ کندھے اچکاکر کچن میں چلی جاتی۔

…. …. ….

ایک سنسان دوپہر گوری شنکر اپنی بیوی کو کہنے لگے۔

 ”دیکھو شوبھنا ،مجھے تو میری نوجوانی کے دنوں میں ہی میرے گاو ¿ں والوں نے گوری شنکر پردیسی کانام دے دیا تھا۔آج سوچتا ہوں، تو تب کا مذاق سچ لگتا ہے۔ شاید رام دین چچا میری اس قسمت کو جانتے تھے۔ تبھی انہوں نے میرا ایسا نام کرن کیا تھا۔ آج سے کوئی تیس سال پہلے جو میرا نام کرن کیا گیا، مجھے کیا معلوم تھا کہ وہ مذاق سچ ثابت ہوگا۔ آج دیکھو اس کارحادثے میں، میں اپنا ایک پاو ¿ں تڑوائے ہوئے بیٹھا ہوں۔ بائیں پاو ¿ں میں پلاسٹر ہے اور دائیں ہاتھ میں راڈ لگی ہوئی ہے۔ بستر میں دن دن بھر اکیلا پڑا رہتا ہوں۔ سوسائٹی کے لوگوں کو اپنی موج مستی سے فرصت کہاں ہے، ایسے میں گاو ¿ں بڑا یاد آتا ہے۔“

شوبھنا نے میٹھے انداز میں کہا،”تو بنائیں نا پروگرام گاو ¿ں کا۔چلتے ہیں وہاں۔آخر وہ آپ کی جنم بھومی ہے۔ آپ کے سگے بھائی رہتے ہیں وہاں۔ کچھ بھی ہو جائے خون کا رشتہ کبھی پھیکا نہیں پڑتا ہے۔“

اپنی رو میں شوبھنا کیا کیا کہتی گئی اور کسی اسٹیچو کی طرح گوری شنکر اپنی بیوی کی طرف دیکھتے رہے۔ ساری باتیں سن کر بھی وہ خاموش ہی رہے ۔ گویا کوئی بت بستر پر پڑا کسی کو ایک ٹک دیکھ رہا ہو۔ بیوی سے رہا نہ گیا۔ان کا بازو سہلاتی ہوئی بولی۔

 ”کیا بات ہے، ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں؟ کچھ بولتے کیوں نہیں؟“

کمرے کی چھت کی جانب سونی آنکھوں سے گھورتے ہوئے وہ کچھ دیر خاموش رہے۔ پھر بہت ہی دھیمی آواز میں کہنا شروع کیا، جیسے خود کو ہی سنا رہے ہوں۔

 ”کیا بولوں، آج دور دور تک مجھے کوئی صورت نہیں سوجھ رہی ہے۔کیا یہ صورتحال صرف آج کے حالات کی وجہ سے ہے ، جو سبھی لوگ اس طرح الگ تھلگ ہیں۔ یا پھر اس کی بنیاد کہیں بہت پہلے ڈلی تھی۔ کیا انسان کے پاس اگنور کئے جانے کی ایسی کوئی صورتحال اچانک آتی ہے۔“

”اجی چھوڑیے بھی چھوٹا سا حادثہ ہے، آپ اسے اتنا دل پر کیوں لے رہے ہیں۔“

 بیوی نے ان کی توجہ کسی اور طرف بٹانا چاہی۔ بہت دیر سے بستر پر لیٹے ہوئے تھے گوری شنکر ۔لیٹے لیٹے مانو ان کی کمر اکڑ گئی ہو، تھوڑا اٹھ کر بیٹھنا چاہ رہے تھے۔ شوبھنا نے انہیں اٹھانے میں مدد کی۔ اپنی پیٹھ کو پلنگ کے سرہانے لگاتے ہوئے گوری شنکر کو بڑا آرام ملا۔ بائیں ٹانگ میں تو پلاسٹر ہی لگا تھا۔ دائیں ٹانگ گھٹنے سے موڑتے ہوئے گوری شنکر اپنی بیوی کی طرف دوبارہ مخاطب ہوئے۔اپنے جسم کی اس بدلی حالت سے انہیں تھوڑا آرام محسوس ہوا۔ انہوں نے اپنی بات آگے جاری رکھتے ہوئے کہنا شروع کیا۔

 ”دیکھو شوبھنا، بات چھوٹے یا بڑے حادثے کی نہیں ہے۔بات ہے کہ کسی واقعے سے ہم کیا سیکھتے ہیں۔اگر ہم وقت کی نبض کی بدلتی دھڑکن کو اپنے سینے میں محسوس نہ کر سکیں، تو ہمارے انسان ہونے کا مطلب ہی کیا ہے۔“

 پھرذرا سنبھلتے ہوئے گوری شنکر آگے بولنے لگے،”دیکھو شہر میں ہر کوئی فلیٹ کی بودوباش کا اسیر ہوتا چلا جا رہا ہے اور اسے حاصل کر کے یا اس میں رہتے ہوئے فخر محسوس کر رہا ہے۔ دراصل وہ ایک چھوٹے پنجرے نما دڑبے میں رہنے کے عادی ہو چکے ہیں۔’نہ اُدھو کو لینا، نہ مادھو کو دینا ‘کے مردہ اصول کے ساتھ۔“

 ”لیکن آپ تو خود اس اصول کی وکالت کیا کرتے تھے جی۔“ شوبھنا نے حیرت بھری نظروں سے اپنے شوہر کی جانب دیکھا۔کسی نے گہری نیند میں چٹکی لی ہو جیسے، گوری شنکر تڑپ اٹھے اورکہنے لگے۔

 ”بس یہی سمجھو شوبھنا کہ میں اب تک ایک نوع کی مدہوشی میں جی رہا تھا۔ شہر کی جو کشش ہوتی ہے، اس کی خماری میں جی رہا تھا اب تک۔ مگر ایک چھوٹے سے واقعے نے کہیں بہت اندر تک مجھے متاثر کیا ہے۔لگتا ہے شہر کی چکاچوند میں جو چیز پہلے دفن ہوتی ہے، وہ آدمی کی انسانیت ہی ہوتی ہے۔ یہاں کی تیز رفتار زندگی میں سب سے پہلے ہمارے اندر کی تعلق داری ہی دبتی اور مرتی ہے۔مزے کی بات یہ ہے کہ ہم اسے ماڈرن اور شارپ ہونا کہتے ہیں۔“

…. …. ….

 گوری شنکر نے دل ہی دل میںدوبارہ اپنے گاو ¿ں کی مٹی سے جڑنے کا ارادہ کیا اور وقفے وقفے سے گاو ¿ں جاتے رہنے کا فیصلہ بھی۔انہیں اچانک اپنے ریٹائرمنٹ کی تاریخ کا خیال در آیا اور لگا کہ فرصت کے دن گاو ¿ں میں ہی گزارے جائیں۔اپنے گاو ¿ں سے جڑی کئی یادیں ان ذہن میں کوندنے لگیں۔ انہیں اپنے بیتے بچپن اور اپنے موجودہ بڑھاپے کی کڑی اپنا گاو ¿ں ہی لگا۔ انہیں لگا کہ ان کی اس مصنوعی شہری زندگی کی ہی طرح گاو ¿ں پر چھینٹا کشی کرنے کا ان کا خیال بھی نقلی تھا۔ گاو ¿ں، اب بھی اپنی لاکھ برائیوں کے باوجود رہنے کے قابل بچا ہوا ہے۔ اجتماعیت کی وجہ سے کمزور سے کمزور آدمی کا بھی وہاں عام طور پر ہی مناسب گزر بسر ہو ہی جاتا ہے۔چھوٹے موٹے بحرانوں میں لوگ ایک دوسرے کی مدد عمدہ طریقے سے کرتے ہیں۔ اس مدد میں احسان کا بوجھ بھی نہیں محسوس ہوتا ہے۔ اچانک گوری شنکر کو چہارم جماعت میں پڑھی کہاوت یاد آئی، ”لوٹ کے بدھو گھر کو آئے“۔ ان کے چہرے پر پشیمانی کی ایک ہلکی سی لکیر بنی اور پھرگہری ہوتی چلی گئی۔ تبھی انہیں چہارم جماعت کی ہی ایک دوسری کہاوت یاد آگئی، ”صبح کا بھولا اگر شام میں آ جائے تو اسے بھولا نہیں کہتے“۔ گوری شنکر دوبے کے دل میں طمانیت کا تاثر ابھر آیا۔ ان کے چہرے پر امید کی کرن دوڑ گئی۔ ان کے اندر کی رجائیت جوش مارنے لگی۔ انہیں لگا کہ گاو ¿ں کی اقتصادی اور سماجی حالت بھی وقت کے ساتھ بدلے گی۔ وہاں بھی ترقی کی بادِ نسیم چلے گی۔ لوگوں کی مفلسی کچھ کم ہوگی اور مرجھائے چہروں پر مسکراہٹ کی روشنی چمکے گی۔ وہ خود بھی اس تبدیلی کا حصہ بنیں گے۔ شہر میں ہانپتے کانپتے بڑھاپے کو ڈھونے سے بہتر ہے کہ اسے شان سے اپنے گاو ¿ں میں صاف ہوا، پانی کے درمیان جیا جائے۔ اب گاو ¿ں میں بھی تو زیادہ گہرائی کے برمے لگنے لگے ہیں۔ اتھلے کنوئیں اور برمے تو جانے کب کے سوکھ گئے۔ ویسے ہے تو یہ المناک ہی، مگر پینے کے پانی کے معیار میں مجبوری میں ہی سہی بہتری تو آئی ہے۔ انہیں لگا کہ شہر میں کیڑے مکوڑے کی طرح جینے اور زندگی بھر ایک پہچان کے لئے ترستے رہ جانے سے بہتر ہے کہ گاو ¿ں میں باعزت، شاندار اور پر وقار اندازسے جیا جائے۔ وہاں رہ کر کچھ خاص نہیں بھی کر سکے، تو وہ خود کے بل بوتے پر گاو ¿ں کی آئندہ نسل کو تعلیم و تربیت دینے کا کام تو کر ہی سکتے ہیں۔ یہ سب سوچتے ہوئے انہوں نے ساتھ رکھا ایک پرانا ریڈیو چلا دیا۔ یہ ریڈیو ان کے باپو نے ان کی زمانہ طالب علمی میں ان کی سترہویں سالگرہ پر تحفے میں دیا تھا۔”وِوِدھ بھارتی“پر ساحر کا لکھا گیت آ رہا تھا۔۔۔۔

وہ صبح کبھی تو آئے گی،

وہ صبح کبھی تو آئے گی،

وہ صبح کبھی تو آئے گی

ان کالی صدیوں کے سر سے

جب رات کا آنچل ڈھلکے گا،

جب دکھ کے بادل پگھلےںگے،

جب سکھ کا ساگر چھلکے گا،

جب امبر جھوم کے ناچے گا،

جب دھرتی نغمے گائے گی۔

…. …. ….

مٹی کا بھی ہے کچھ مول مگر،

مگر انسانوں کی قیمت کچھ بھی نہیں

انسانوں کی عزت جب جھوٹے سکوں میں نہ تولی جائے گی

وہ صبح کبھی تو آئے گی، وہ صبح کبھی تو آئے گی،

وہ صبح کبھی تو آئے گی

…. …. ….

اس دوپہر گوری شنکر نے شوبھنا سے دنیاجہاں کی باتیں کیں۔ زیادہ تر اپنے گاو ¿ں کے قصے کہانیاں اور یہاں شہر میں رہتے ہوئے اپنے اندر کہیں گہرائی میں سماتی جاتی تنہائی کو بھی پہلی بار کھل کربانٹا گوری شنکر نے اپنی بیوی سے۔ گاو ¿ں اور شہر کا موازنہ کرتے ہوئے گوری شنکر کو کب جھپکی آ گئی، یہ انہیں پتہ ہی نہیں چلا۔ شوبھنا اپنے شوہر کی معصومیت پر مسکر اکر رہ گئی۔ گوری شنکر خواب میں رام دین پاسوان سے باتیں کر رہے تھے۔رام دین چچا ۔۔۔دیکھئے گوری شنکر واپس اپنے گاو ¿ں آ گیا ہے۔ہمیشہ ہمیشہ کے لئے۔وہ تو گھر والوں کے لئے میں باہر گیا تھا چاچا جی۔ اب میں ریٹائر ہوکر یہیں رہوں گا آپ سب کے درمیان۔ گوری شنکر نے خواب میں دیکھا کہ رام دین پاسوان ایک دم سے ضعیف ہو گئے ہیں۔اپنے بستر سے اٹھ بھی نہیں پاتے۔ان کا بیٹا سنجو پاسوان دن رات ان کی خدمت میں لگا رہتا ہے۔اسی سے گوری شنکر کو پتہ چلا رام دین چچا اب اونچا بھی سننے لگے ہیں۔ گوری شنکر ان کے کان کے پاس اپنا منہ لے جا کر زور سے بولا۔

 ”رام دین چچا اپنا رکھا نام اب واپس لے لیجئے۔ گوری شنکر پردیسی اب گوری شنکر دیسی ہو گیا ہے۔ سن رہے ہیں آپ۔ گوری شنکر پردیسی اب گوری شنکر دیسی ہو گیا ہے۔خواب اتنا حقیقی تھا کہ ان کے برابر بیٹھی ان کی بیوی شوبھنا نے بھی اپنے شوہر کی گنگناہٹ سنی۔

 ”گوری شنکر پردیسی اب گوری شنکر دیسی ہو گیا ہے۔“

…. …. ….

مگر خواب سے الگ ایک حقیقت کی دنیا ہوتی ہے۔ دونوں جدا جدا ہوتی ہیں، مگر کئی بار یا کہیے اکثر دونوں کو انسان ایک ساتھ جیتا ہے۔

 گوری شنکر کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ انکے گاو ¿ں سے سنجو پاسوان کا فون آیا۔ اس کے والد رام دین پاسوان کے بائیں پاو ¿ں میں گھٹنے کے نیچے لقوہ مار گیا تھا۔ گاو ¿ں میں کچھ لوگوں نے جے پور کے قدرتی طریقہ علاج کے کلینک میں دکھانے کا مشورہ دیا تھا۔ سنجو بھی اپنے والد کے پاو ¿ں کے لئے ہر امکان کو ٹٹولنا چاہتا تھا۔ اسی سلسلے میں سنجو نے اسے فون کیا تھا۔ اس رات سنجو سے اور پھر رام دین پاسوان سے گوری شنکر کی دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ گوری شنکر کو بڑا اچھا لگا کہ ان کے اتنے پیارے بزرگ ان کے گھر پر آ رہے ہیں۔ مگر ان سے ملنے میں ابھی کوئی دو ہفتے کا وقت تھا۔ اسے مسرت ہوئی کہ وہ اس کے گھر پر اس کے ساتھ رہیں گے۔ وہ ان سے اپنے پرانے دنوں کو تازہ کر سکے گا۔ وہ اس ملک میں جانے کہاں کہاں تک گھوم آئے، مگر انہیں رام دین چچا جیسے تجربہ کار اورگپ باز، منجھے ہوئے طنز نگار اب تک نہیں ملے تھے۔ ہر معاملے میں، وہ بہت درست اورچبھتا ہوا تبصرہ کیا کرتے تھے۔ گوری شنکر کی آج جو اور جتنی بھی عمدہ زبان دانی تھی، اس کا ایک بڑا کریڈٹ رام دین چچا کو جاتا ہے۔

…. …. ….

آخر کار وہ دن بھی آ گیا، جب گوری شنکر ، رام دین چچا سے ملے۔ وہ ان کو لانے خود اسٹیشن پر گئے تھے۔ ریلوے کے سلیپر کوچ سے جیسے ہی رام دین چچا نکلے، ان کے پوپلے چہرے اور انتہائی کمزور جسم کو دیکھ کر وہ فریبِ نظری سے باہر نکل آئے۔ رام دین چچا کی جو تصویر ان کے شعور میں تھی، اس سے بالکل الگ یہ ایک تھکے ہارے اورتباہ و برباد بوڑھے کی جسمانی حالت تھی۔ انہیں دل ہی دل، اپنے دوست سنجو پر غصہ آیا۔ کیا اسے ان جیسی اتنی بڑی شخصیت کا دھیان ٹھیک سے نہیں رکھنا چاہئے تھا۔ ایسے لوگ صرف کسی کے ایک والد نہیں ہوتے، وہ معاشرے کا ثقافتی ورثہ ہوتے ہیں۔ کیا اسے اتنی سی بات بھی پتہ نہیں ہے۔ رام دین چچا کے دھول میں اٹے پیروں کی طرف جب گوری شنکر کا دایاں ہاتھ بڑھا، تو رام دین چچا نے انہیں درمیان میں ہی روک کر ان کے ماتھے اور سر کے بالوں کو سہلایا۔ مگر ان کے کانپتے ہاتھوں کو وہاں تک پہنچنے میں کچھ وقت لگا۔ گوری شنکر کو یاد آیا۔پہلے بھی جب کبھی، وہ ان کے پیروںکو چھونے آگے بڑھتے تھے، وہ انہیں درمیان میں ہی روک کر جی بھر کر آشیرباد دیا کرتے تھے۔ آج بھی وہ یہی کر رہے تھے۔ مگر آج یہ کرتے ہوئے وہ کتنے قابلِ رحم لگ رہے تھے۔

…. …. ….

ہسپتال، ڈاکٹر، ٹیسٹ لیب، کیمسٹ وغیرہ کے چکروں میں سنجو کے ساتھ گوری شنکر بھی دن رات ایک کئے ہوئے تھے۔ انکے بائیں پاو ¿ں میں گھٹنے سے نیچے لقوہ مار گیا تھا۔ کبھی بالکل تندرست اور چاق و چوبند رہنے اور دِکھنے والے رام دین چچا کا وزن اب کافی کم رہ گیا تھا۔ ان کا چہرہ تو ایکدم پوپلا ہو گیا تھا۔ اندر کا طنز نگار مرا تو نہیں تھا، مگر وقت کے تھپےڑو ںسے مرجھا ضرور گیا تھا۔ گوری شنکر پورے دو برس کے بعد اپنے رام دین چچا کو دیکھ رہے تھے۔ ان کی یادوں سے یکسر مختلف ۔مانو یہ ایک دوسرے ہی رام دین تھے۔ تعلق کا رس ٹپکتاتو ضرور تھا، مگر اب اس بوڑھے ہو چکے پھل میں رس مانو برائے نام ہی رہ گیا تھا۔ گوری شنکر ، کئی بار آگے بڑھ کر بات چیت کی پہل کرتے، مگر رام دین چچا کی طرف سے ضروری طاقت کی کمی پاتے۔ گوری شنکر خود پچاس کو چھونے والے تھے اور ریٹائرمنٹ کے بعد، اپنے گاو ¿ں میں ہی بسنا چاہتے تھے۔ وہ اس بابت رام دین چچا سے آگے کا صلاح مشورہ کرنا چاہتے تھے۔مگر رام دین چچا کی صحت درست نہیںہوپا رہی تھی۔ وہ چاہ کر بھی ان سے کچھ پوچھ نہیں پا رہے تھے۔ پھر آج کل ان کی اداسی بھی گوری شنکر کو انکے قریب جانے نہیں دے رہی تھی۔ ڈاکٹر اپنا کام کر رہے تھے۔ کچھ دوائیں، پیروں کے مساج اور کچھ انکی ورزشیں چل رہی تھیں۔ مگر ان کا سب سے زیادہ زور صحت بخش کھانے پر تھا۔ انہیں شک تھا کہ رام دین جی کو ان کے گاو ¿ں میں صحیح کھانا شاید نہ مل پا رہا ہو۔ گوری شنکر کی تیز چلنے والی عقل ڈاکٹروں کا اشارہ سمجھ رہی تھی۔ ہفتہ کی شام کھانا کھانے کے بعد، گھر سے باہر گوری شنکر ٹہلنے گئے اور ساتھ میں سنجو کو بھی اپنے ساتھ لے گئے۔وہ اسے گاو ¿ں میں رام دین چچا کے لئے ہر طرح کے ضروری بندوبست کرنے کو کہہ رہے تھے۔ سنجو خاموشی سے سن رہا تھا۔ گوری شنکر سے سنجو کے گھر کے حالات پوشیدہ نہیں تھے۔ انہوں نے سنجو کو ہر ممکن حد تک مدد کرنے کی پیشکش بھی کی۔ سنجو چپ رہا۔ گوری شنکر کسی بھی حالت میں رام دین چچا کو خوش رکھنا چاہتے تھے۔ اپنے باپو کے بعد وہ گاو ¿ں میں کسی اور سے اگر جڑے ہوئے تھے، تو وہ رام دین چچا ہی تھے۔ اگلے دن اتوار کی شام، گاو ¿ں کے لئے ان دونوں کی ٹرین تھی۔

…. …. ….

دیکھتے دیکھتے دو ہفتے گزر گئے تھے۔ گوری شنکر نے رام دین چچا کی خدمت میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ گوری شنکر کی کل چھٹی تھی۔ صبح آرام آرام سے ان کے اور گھر کے دیگرمعمولات چل رہے تھے۔ آج صبح سے ہی رام دین چچا کچھ کچھ اپنے پرانے روپ میں واپس آ رہے تھے۔ کچھ تو مہمان داری کااحساس تو کچھ آج کی الوداعی ملاقات، رام دین چچا صبح سے ہی کسی نہ کسی بہانے کوئی نہ کوئی بات کیے چلے جا رہے تھے۔ گوری شنکر نے آخر کار اپنے من کی بات آج ان سے ہی کہہ ڈالی۔

 ”چچا جی، میں سوچتا ہوں۔۔۔کیوں نہیں ریٹائرمنٹ کے بعد گاو ¿ں ہی شفٹ کر جاو ¿ں۔ آپ کیا کہتے ہیں؟ “

عادتاً اپنے دونوں ہونٹوں کو کستے ہوئے رام دین چچا بولے،”اس سے پہلے کہ میں تمہیں اپنی رائے دوں، تم مجھے یہ بتاو ¿ کہ کیا اب تک کی اپنی نوکری سے تم نے یہاں کوئی گھر لیا ہے۔“

 گوری شنکر ، رام دین چچا کی اس بات کو بخوبی سمجھ رہے تھے۔ آرام سے انہوں نے کہنا شروع کیا، ”جی، تھوڑے فاصلے پر ایک پلاٹ لیا ہے۔“

رام دین چچا کی آنکھوں میں روشنی کی کرن کوند گئی، جیسے یہ کامیابی خود ان کے بیٹے کی ہو۔ بولے،”بہت اچھے گوری شنکر ۔ ہمیں تم سے یہی امید تھی۔ اب اپنے سوال کا جواب سنو۔ بیٹے، گاو ¿ں میں اب پہلے والی کوئی بات نہیں رہی۔تم چاہے شہر میں جتنے ہوشیار بنے پھرتے رہو، مگر گاو ¿ں والے تمہیں مناسب احترام کبھی نہیں دیں گے۔ وہ تمہیں اپنے بیچ سے نکلاہوا ایک شخص مانیں گے اور تمہارے ساتھ بھی وہی برتاو ¿ کریں گے، جو وہ آپس میں کرتے ہیں۔ تمہیں یہ سب ٹھیک نہیں لگے گا ۔“

 گوری شنکر بھی چپ رہنے والے کہاں تھے،”مگر چچا جی، یہ تو اچھی بات ہے نا۔ لوگ آپ سے برابری کا برتاو ¿ کریں۔ اس میں آخر ہرج کیا ہے۔ ہمیں ایسی کسی جاگیردارانہ ذہنیت سے باہر آنا چاہئے۔“

رام دین چچا نے اس بیچ پانی کا ایک گلاس مانگا۔ بیوی کو منع کرکے گوری شنکر خود ان کے لئے پانی لائے۔ رام دین،جانے پہچانے انداز میں، پانی کو چائے کی طرح چسکی لے کر پیتے ہوئے آگے بولنے لگے۔

 ”دیکھو، گوری شنکر میں برابری کے کسی خیال کا مخالف نہیں ہوں۔ یہ تم جانتے ہو۔ مگر وہ برابری پر بات نہیں کرتے بیٹا، بلکہ اس کے بہانے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے ہیں۔ تم یہ سب طویل وقت تک نہیں سہہ پاو ¿ گے۔“

 گوری شنکر بھی اپنی پوری رو میں آ گئے تھے،”کیوں اب بھی تو میں بیچ بیچ میں گاو ¿ں جاتا ہی ہوںنا۔ سب تو ٹھیک ہی لگتا ہے۔“

رام دین مسکرا دیے،”پچھلی بار گاو ¿ں کب آئے تھے گوری شنکر اور کتنی دیر کے لئے؟“

 گوری شنکر چپ رہے۔

اپنی عادت کے مطابق رام دین چچا نے پہلے سوال کیا اور بعد میں خود ہی جواب دیا،” گوری شنکر بیٹے، مجھے اچھی طرح یاد ہے۔ تم دن بھر رک کر شام کی گاڑی سے ہی واپس ہو گئے تھے۔ کیوں پردیسی بابو اور یہ بات کوئی دو سال پرانی ہے۔“

 گوری شنکر ، اپنے پیارے چچا کے محبت بھرے اس جواب سے کسی پھول کی طرح کھل گئے اور کہنے لگے،”چچا جی، آپ کو یہ سب کچھ یاد ہے۔“

رام دین بھی اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے مسکرا دیئے،”ارے بیٹا گوری شنکر ، تم بھول گئے شاید، یہ نام میرا ہی رکھا ہوا ہے۔“

”کیسے بھول سکتا ہوں چچا جی۔ شروع میں میں کتنا چڑھتا تھا اپنی اس عرفیت سے۔ ہر کوئی آپ کی ہی طرح مجھے اس نام سے چھیڑ نے لگا تھا ”، گوری شنکر نے مصنوعی غصہ دکھاتے ہوئے کہا۔

رام دین چچا مسکراکر رہ گئے۔

…. …. ….

ٹرین میں دونوں کو بٹھا کر، ابھی گوری شنکر کوچ سے نیچے اتر ہی رہے تھے کہ محبت سے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے رام دین چچا نے بِنا اشکوں کی آنکھوں سے کہا،” گوری شنکر ، ویسے تو کہنا نہیں چاہئے، مگر کہہ رہا ہوں،تم پردیسی ہی ٹھیک ہو۔ اور اب تو اس شہر میں تم نے زمین کا ایک ٹکڑا بھی خرید لیا ہے۔ اس پر ایک اچھا سا گھر بناﺅ۔یہیں اپنا گھر پریوار سنبھالو۔ بچوں کو پڑھاﺅلکھاﺅ۔ ہاں۔۔بیچ بیچ میں اپنی زمین جائیداد کی کھوج خبر لینے گاو ¿ں ضرور آ جایا کرو۔ ‘ ‘

 گوری شنکر نے رام دین چچا کے پاو ¿ں چھوئے اور پھر خاموشی سے ٹرین سے نیچے اتر گئے۔ ٹرین آہستہ آہستہ پلیٹ فارم سے کھسک رہی تھی۔ گوری شنکر اس کی مخالف سمت میں تھکے اور اداس قدموں سے آگے بڑھے چلے جا رہے تھے۔

٭٭٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

کچھ کہنا تھا تم سے ۔۔۔ بِینوبسواس/عامر صدیقی

کچھ کہنا تھا تم سے بِینوبسواس/عامر صدیقی ہندی کہانی …………….  ویدیہی کا من بہت اتھل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے