سر ورق / افسانہ / آخ۔۔۔۔۔ تھو ملیحہ سید

آخ۔۔۔۔۔ تھو ملیحہ سید

  

آخ۔۔۔۔۔ تھو

ملیحہ سید 

صوبیہ نے بی اے میں جرنلزم رکھتے ہی اخبار کامطالعہ اپنی عادت بنالیا، ادارتی صفحہ اس کا پسندیدہ تھا۔ وہ ایک معروف کالم نگار کی مداح بھی تھی۔جس کا نمبر اس نے اخبار کے دفتر سے حاصل کر لیا تھا۔اس کی اکثر اس سے فون پر بات ہونے لگی ، رفتہ رفتہ خط و کتابت کا سلسلہ بھی چل نکلا۔ایم اے جرنلزم کرنے کے بعدصوبیہ نے مقامی اخبار میں کالم نگاری سے صحافت کا آغاز کیا ۔جہاں ایک دن اس کی اپنے پسندیدہ کالم نگار سے ملاقات ہو گئی ۔ انہوں نے اسے اپنی کتاب کی تقریب رونمائی میں آنے کی دعوت دے ڈالی۔جسے اس نے فوراًقبول کر لیا کہ ایسی تقریبات اس کے لیے بطور صحافی سود مند تھیں۔اس روزصوبیہ کی طبیعت خراب تھی تاہم وہ ہوٹل پہنچ گئی ۔ شہر کا یہ سب سے بڑا فائیو سٹار ہوٹل اس کے آفس سے زیادہ دور نہیں تھا۔

ہوٹل پہنچ کر اس نے کالم نگار کو اپنی آمد کی اطلاع دی اور ہال کا پوچھا ۔ اس نے اوپر آنے کے لیے کہا جہاں کمرے میں کئی افراد موجود تھے، پروگرام شروع ہونے میں ابھی کچھ دیر ہے۔ صوبیہ پہلے تو جھجکی ، مگر اب وہ ایک صحافی تھی ۔باتوں کا سلسلہ چل نکلا،کچھ دیر بعد آہستہ آہستہ لوگوں نے نیچے جانا شروع کر دیا۔ اس نے بھی نیچے جانے سے پہلے باتھ روم جانا مناسب سمجھا۔ وہ باہر آئی تو کمرے میں کالم نگار تنہا تھا۔

ماہانے اپنا بیگ اٹھا کر باہر نکلنے کا ارادہ کیاہی تھا، موصوف نے اسے جکڑ لیا۔لفظوں کے دیوتا کا لبادہ اتر چکا تھا۔۔۔۔۔۔اس نے اسے پچکارتے ہوئے کہا،،،

”ارے میرے ساتھ تعاون کرو، خواتین تو خودمیرے پاس آتی ہیں، ہمیں پاک کر دیں،آو میں تمہیں پاک کر وں“۔

ماہا نے شدیدمذمت کی اور پوری جان سے شیطان کو اپنے سے دورکرتے ہوئے بیگ سے نہ صرف موبائل نکالنے میں کامیاب ہو گئی بلکہ ویڈیو کی آپشن بھی آن کر دی۔ ماہا نے ایک نفرت بھری نگاہ اس پر ڈالی، تم کیا کسی کو پاک کرو گے، تم خودناپاک ہو،آخ۔۔۔۔ تھو۔اس نے پوری نفرت سے اس پر تھوک دیا۔

 

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

دروازہ …محمد جاوید انور

دروازہ محمد جاوید انور "کہہ دیا نا میں نے لکھنا چھوڑ دیا ہے۔” اس کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے