سر ورق / افسانہ / ما تھو …سیمیں خان درانی

ما تھو …سیمیں خان درانی

ما تھو

سیمیں خان درانی

وہ باورچی خانے میں کافی بنانے میں مصروف تھی کہ اس کی نظر لنچ باکس, پہ پڑی جو کہ اسکا بڑا بیٹا بھول گیا تھا. ساتھ ہی فلیورڈ دودھ کا ڈبہ بھی تھا. وہ دل ہی دل میں خود کو کوسنے لگی. نگٹس اور دودھ کے ڈبے کو فرج میں رکھ دیا کہ ماسی کو واپسی پہ رات کے بچے سالن کے ساتھ دیدے گی. باورچی خانے کے ساتھ ہی اپارٹمنٹ کا ٹیرس تھا جہاں سے سامنے پارک کا خوبصورت منظر تھا. وہ کھڑکی کھول کر کھڑی کافی کی چسکیاں لے رہی تھی کہ آواز آئ, وہ دیکھ وہ رہا تھمندر, اس بلی بلڈنگ کے پیچھے. وہ دل ہی دل میں مسکرا دی کہ سمندر وہاں سے کوسوں دور تھا مگر باہر کھڑا بچہ اپنے تصورات کے مطابق دنیا کو دیکھ رہا تھا. اتنے میں دوسری آواز آئ ” چل بے, ماں کے… دیر ہو رہی ہے. استاد مارے گا. ” گالی سن کر وہ تلملا اٹھی اور مین ڈور کھول کر باہر جاکر دیکھا تو دو زرد رنگت اور بوسیدہ شلوار قمیض میں ملبوس سات اور نو سالہ بچے کھڑے تھے. اور اچک اچک کر باہر دیکھ رہے تھے. سوہا جو غصے سے لال بھبوکا ہورہی تھی. ڈھاڑی. "” گالی کس نے دی. اور تم یہاں کیوں آئے ہو. ” اتنے پوش اپارٹمنٹس میں نچلے درجے کے ان غریب بچوں کی موجودگی ہی اچنبھے کا باعث تھی. ” باجی ہم اسلم صاحب سے دکان کی چابی لینے آئے ہیں. اور دیر ہو رہی ہے مگر کبیر سنتا ہی نہیں. استاد مارے گا دیر ہو گہی تو. . سات سالہ معصوم کبیر ابھی تک اندیکھے سمندر کو کھوج رہا تھا. "اچھا ٹھیک ہے, مگر گالی نہیں دیتے بیٹا” چلو اب بھاگو یہاں سے. ” بڑا بچہ کبیر کو کھینچتے ہوئے بھاگا اور بولا. باجی.لفٹ کا بٹن دبا دیں. نیچے جانا ہے. ہمیں لفٹ کا استعمال نہیں پتا. سوہا نے ان کو اس مشین کے استعمال سے نابلد دیکھ ککر سمجھایا. لفٹ تو خراب ہے. سیڑھیوں سے جائو.بچے تیزی سے سیڑھیاں اترنے لگے مبادا اگر وہ لفٹ میں جاتے تو اسکے چنگل سے آذاد نہ ہو پاتے.

اپنا اخلاقی فرض ادا کرنے کے بعد سوہا نے کچن کیبنٹ پہ پڑی ٹوکری کو دیکھا تو تمام موسمی پھل سوکھ رہے تھے. بچوں نے چند ایک پھلوں کو چکھ کے واپس رکھا ہوا تھا. پھلوں کو پھینکتے ہوئے سوہا کو بہت افسوس ہوا اور اسکو خیال آیا کہ وہ ان دونوں بچوں کو یہ پھل دیدیتی. کتنے malnourished .تھے دونوں.

سوہا درمیانی قامت اور مناسب ساخت کی,ایک خوبورت عورت تھی. دو بیٹوں کی شفیق ماں جسکو ہر پل اپنے بچوں کی ذہنی و جسمانی نشونما کے ساتھ ساتھ کردار سازی کی بھی فکر رہتی. یہی وجہ تھی کہ اسنے شادی کے بعد نوکری کی بجائے اپنے مضمون، سوشیالوجی کی وزٹنگ لیکچرر شپ کو ترجیح دی، تاکہ گھر اور بچوں پہ توجہ قائم رہ سکے. شوہر پراجیکٹ مینیجر تھا اور گھر میں ذہنی اور مالی آسودگی دونوں برقرار تھے. نوکرانی کو ہدایات دینے کے بعد سوہا لیکچر کی تیاری کرنے لگی تو اسکو صبح کو سنی گئ گالی یاد آگئ. جس میں ماں کے لفظ کا,استعمال اس بات کا گواہ تھا کہ یہ کوئ دبنگ قسم کی گالی ہے اور مقابل کو چت کرنے کیلیے گھر,کی عورتوں کو اپنی زبان کے ذریعے باہر گھسیٹ لانا ہی مردانگی کا ایک پہلو اور پکی یاری میں ہنسی مزاق کا وطیرہ,ہے..اسی تجسس میں جب اسنے گوگل کرکے معنی دیکھے تو سوچ میں پڑ گئی. اور اپنے لیکچر کا تانا بانا اسی موضوع کے گرد بننے کا فیصلہ کیا۔

”عورت کیا ہے. اور اسکا مقام و رتبہ کیوں تضحیک کا نشانہ ہے جب آدم و حوا جنت بدر ہوئے تو شیطان نے عورت جیسی نازک ہستی کی پامالی, کروانے کو مرد کا استعمال شروع کردیا. آج تک آدم کی اس پسلی کو گالی نہیں دی گئی۔ جہاں سے حوا نے جنم لیا مگر عورت اور مرد کے اتصال کا واحد ذریعہ وہ پل، جوکہ نوع انسانی کے فروغ کا باعث ہے . یہ عورت کاہی جگرا’ ہےکہ اس ننھے سے قطر سے کس طرح جان کی بازی لگا کر کئی بشر ایک ہی وقت میں جن جاتی ہے تو کبھی جسم فروش کے روپ میں کئی مردوں کو آگے پیچھے ادھ موا کرکے اگلے گاہک کی تیاری کرتی ہے. وہ تو مرد کے اس پیمانہ مردانگی کو کبھی ناپتی تولتی بھی نہیں، جو کہ صرف ایک گھونسے کی مار ہے. مگر نعرہ زد زبان عام ہے کہ مرد کبھی بوڑھا نہیں ہوتا, حالانکہ جس طور عورت کو کارخانہ قدرت ایک خاص عمر کے بعد ریٹائرڈ کردیتی ہے اسی طور مردانگی کی بھی ایک میعاد ہے جس کو بڑھانے کی غرض سے دیسی حکیم اور بدیسی ڈاکٹر دن رات کوشاں ہیں. تو کیا مرد صرف ایک جنس ہے؟؟؟. جنس افضل اور عورت جنس کمتر.ہر لحاظ سے مرد کی محتاج. اگر ایسا ہے تو عورت کو جنت کے اوپر کیوں لا کھڑا کیا گیا. مریم نے عیسی کو بغیر باپ کے کیوں جنا اور سورت النسا کتاب اور سورت مریم, کتاب الہی کی زینت کیوں بنی. اللہ نے مرد و عورت دونوں کو تخاطب کرکے کیوں سمجھایا.مرد کو راکھا تو بنایا تو کیا عورت مرد کی عقل کی محتاج ہے. جو بشر کو جنتی ہے, اس ادراک کے بنا کہ وہ کس سے اور کس تکلیف سے جنا گیا ہے, آج مرد کی تخلیقی سوچ کی اڑان اور تخیل کی جمالیات کی اوج کی زد آکر گھائل و پسپا ہے رہتی دنیا تک عورت کا رستا گھاؤ اپنے فریضہ فروغ بشر کی ادائیگی میں کوتائ نہ کرے گا . سوہا کو جھرجھری سی محسوس ہوئی اور خیال بدلنے کو اس نے ٹی وی لگا لیا.

ننھا کبیر جب رات نو بجے گھر پہنچا تو ماں اسکی چھوٹی بہنوں کی پٹائی میں مصروف تھی جوچار سالہ جڑواں تھیں اور لڑتی بھڑتی رہتیں. دو سالہ شازی روٹی کا باسی ٹکڑا منہ میں ڈالے اس تماشے کو دیکھ کر ایک کونے میں دبکی کھڑی تھی جبکہ نومولود صغیر چارپائی پہ پڑا زاروقطار روئے جا رہا تھا. کبیر کو آتا دیکھ کر ماں نے ہاتھ روکا اور جھپٹی. دے. آج دوسرا دن تھا. کیا دیا استاد نے. کبیر نے تیس روپے اسکے ہاتھ پر رکھ دیئے. بس یہی ؟؟ پچاس روپے دیہاڑی پہ بات طے ہوئی تھی. اماں وہ اتاد نے بولا. آج دوتھرا لوز ہے. ہاتھ تھاف ہودا تو دیہالی بلھے گی. اچھا. چل آجا. بیٹھ. بریانی دی باجی نے. اس نے پلیٹ میں چاول نکال کر دیئے تو کبیر نے زمین پہ بیٹھ کر کھانے سے انکار کر دیا. اماں بیٹھا نہیں جا رہا. بہت درد ہے. چارپائی پہ دیدے. ارے نواب کی اولاد. سب کے ساتھ زمین پہ بیٹھ. مجھے دیکھ. گھر باہر سب سنبھالا ہے

تیرے باپ کی موت کے بعد. کتنی محنت کرتی ہوں. اور تو دو دن کام پہ گیا تو نخرے. ابھی تو جوان ہو کر نہ جانے میرے بڑھاپے کو کیا آگ لگائے گا. پھر ماں کی نظر اسکی شلوار پہ لگے خون کے دھبوں پہ پڑی تو اٹھ کر ایک زناٹے دار تھپڑ رسید کرکے بولی. دو ہی جوڑے ہیں تیرے پاس. یہ تو پھر مرغی حلال ہوتے دیکھنے کھڑا ہوگیا. اب صبح کیا پہن کر جائے گا. کبیر اسکو یہ بھی بتا نہ پایا کہ مرغی حلال نہیں ہوئ بلکہ ایک اصیل مرغ نے اسے حلال کیا ہے. بغیر کچھ کھائے وہ روتا روتا سو گیا. ماں نے جب سب کو بہلا پھسلا کے سلا دیا تو اسکو کبیر کی فکر ہوئی اس نے اٹھ کر بےسدھ سوئے کبیر کی شلوار کو تکا تو کانپ کر رہ گئی. دوسرے دن کبیر کے استاد کے پاس جاکر جب بات کی تو وہ غرایا. الزام لگاتی ہے, تیری بھی لے لوں کیا؟؟ کل اس نے ایک نئے نکور انجن میں اٹھا کر مٹی کا تیل ڈال دیا. ستر ہزار کا نقصان ہے. تیری مآں سے نکالوں یا تجھ سے. ابے او عبدل. ادھر آ. بتا اسکو کل کبیر سارا دن کیا کرتا رہا ہے. ساتھ مرغی والے کے پاس. اور ہاں تو بتا. نقصان بھرے گی یا بلائوں پولیس کو. کل سے دو مہنگے پرزے بھی غایب ہیں. اب روز سب کی تلاشی ہو گی واپسی پہ. اور تو مائی. لے جا اپنا بچہ. بھاگ یہاں سے. میں تو سوچ رہا,تھا یتیم ہے تو دیہاڑی بڑھا دوں گا. نیکی کا تو زمانہ ہی نہیں۔ "” ماں گڑگڑائی. "آیندہ احتیاط سے کام کرے گا. میں وعدہ کرتی ہوں”. اور منہ لپیٹ, کبیر کو و ہیں چھوڑ بھاگی.

چند ماہ بعد سوہا بچوں کو ڈراپ کرکے گھر واپس جارہی تھی. سگنل پہ سکول و دفتر کا وقت ہونے کے باعث بہت ہجوم تھا. ساتھ ہی ایک کار آکر رکی. فرنٹ سیٹ پہ ایک ہیجڑا بیٹھا بحث کر رہا تھا. ” دیکھ چندا, بات دو ہزار میں طے ہوئی تھی. ہزار پہ نہ ٹرخا. لمبی داڑھی والا ڈرائیور غرایا. لے ہزار اور نکل گاڑی سے.ابے ہیجڑے باتیں نہ بنا. .تیری ماں کی….. اے دیکھ, مجھے ماں کی گالی نہ دے تجھے بھی کسی ماں ہی نے جنا ہے. . ہیجڑا بھڑک اٹھا. وہ مکمل عورت تھی. اگر میں مکمل پیدا نہ ہوی تو اسمیں میری ماں کا کیا قصور. اور یہ جو ہم شام کو بن سنور کے سگنل پہ کھڑی ہوتی ہیں نا. اگر چنری کے بغیر ہوں تو تمہاری مردانگی اور انا کو بھی وہ تسکین نہ ملے جو ہمارے سر سے چنری کھینچتے تمکو ملتی ہے. عورت کو نیچے لگا لینے سے کوئی مرد نہیں بنتا. ورنہ ہم جیسے تو تمہاری طرح داڑھی مونچھیں رکھ کر بھی دھاڑتے پھرتے ہیں.اور کوئ جان نہیں پاتا کہ اندر کیا ہے. ہم تو سرعام اپنی کمزوری کو سر کا تاج بنائے پھرتے ہیں. ضروری نہیں کہ مکمل پیدا ہونے والا مرد ہی نکلے. ". ہیجڑے نے سر پہ اوڑھا دوپٹہ اتار کر اس آدمی کے منہ پہ مارا. اور دروازہ کھول کے اتر گیا. کھڑکی سے ہزار روپے واپس اس آدمی کے منہ پہ مارتے ہوئے بولا. "” یہ لے. ایک ہیجڑے کی طرف سے ایک مرد کو "”.

سوہا کو یکدم الجھن سی محسوس ہوئی اور اس نے دوپٹہ سر سے اتار پھینکا. یکدم ہارن کی آواز سن کر بھونچکی ہوی اور اور گاڑی سٹارٹ کرنے کو چابی گھمائی تو سیلف نے جواب دیدیا. پیچھے موجود گاڑیوں نے ہارن پہ ہاتھ رکھ دیئے تو وہ مزید الجھ,گئی. وارڈن نے ٹریفک رواں ہونے کے بعد چند بھکاریوں کو آواز دی. اوئے, ماں کے …., ادھر آئو, نکمو. کبھی حلال کمائی بھی کر لیا کرو”’. اور ان کی مدد سے اسکی گاڑی کو دھکا دلوا کر کنارے لگوا دیا. اور پھر دھکے سے گاڑی سٹارٹ کروا دی. سوہا نے مددگار بھکاریوں کا شکریہ ادا کرنے کے بعد انکو خرچی دی تو ایک بھکاری بولا.”” باجی ہم مدد کرنے کے پیسے نہیں لیتے. اپنے پاس رکھ. آگے نکڑ پہ ایک ورکشاپ ہے. چھوٹے ہوں گے اس وقت وہاں.””

ایکسیلیٹر کو مزید دباتے سوہا نے گاڑی دوڑائی تو نکڑ پہ واقعی ایک ورکشاپ کھلی تھی. ساتھ ہی ایک چائے کا ڈھابا تھا. جہاں اس وقت تازہ چائے پراٹھے کا ناشتہ مل تھا. گاڑی کھڑی کرکے سوہا نیچے اتری تو دوپٹہ اٹھا کر پھر سے سر پہ لپیٹ لیا. اندر ورکشاپ سے ایک نوعمر لڑکا نکلا اور بولا. باجی ابھی دیکھ دیتے ہیں اور آواز کسی. اوچھوٹے پانا لا. چند منٹ نہیں گزرے تو دھاڑا. اوئے مآں کے…. جلدی آ. پانا اٹھائے کبیر بھاگتا باہر آیا اور استاد کی مدد کرنے لگا. کام مکمل ہونے پہ سوہا نے اجرت کے علاوہ کبیر کو الگ سے سو روپیہ دیا تو وہ کھل اٹھا. "تھکلیہ باجی.”. سوہا نے گاڑی سٹارٹ کی اور گھر کی راہ لی.

بھولا بھالا بڑی بڑی آنکھوں والا کبیر جھوم اٹھا

اس نے پیسے جیب میں ڈالے اور جا کر اپنے لیے چائے پراٹھے کا آرڈر دیا. اسی کا ہم عمر اس وقت تیزی سے گاہکوں کو ناشتہ مہیا کر رہا تھا. کبیر اکیلا اور سب سے کم عمر تھا لہزا اس نے کبیر پہ توجہ نہ دی تو کبیر تلملایا اور چلایا. "” اوئے ما تھو” سنتا کیوں نہیں. تائے پلاتھا لا.”” قریب ہی نو عمر اوباش لڑکوں کا ایک ٹولا ناشتہ کر رہا تھا, کبیر کی بات سن کر قہقہے لگانے لگا.ان میں سے ایک بولا. "” یار یہ تو ہمارا بھی باپ نکلے گا. اس نے تو گالی کی بھی ماں بہن ایک کردی”” ہاہاہا

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

دروازہ …محمد جاوید انور

دروازہ محمد جاوید انور "کہہ دیا نا میں نے لکھنا چھوڑ دیا ہے۔” اس کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے