سر ورق / افسانہ / نوک جھونک … ریحانہ ستار ہاشمی

نوک جھونک … ریحانہ ستار ہاشمی

نوک جھونک

                        ریحانہ ستار ہاشمی

            آج پھر صبح ہی صبح اس کی ساس نے خبر نشر کی تھی کہ اس کی طبیعت ناساز ہے سو وہ دائمہ کے بچوں کو گھر پر نہیں رکھ سکتی ۔۔۔ اور وہ جو بالکل رائم کے ہمراہ سکول جانے کے لئے تیار کھڑی تھی ۔۔ اس کا یہ خبر سن کر منہ حلق تک کڑوا ہو گیا تھا۔ وہ جانتی تھی اس کی ساس کی طبیعت اسی دن خراب ہوتی تھی جس دن اس کا دونوں بچوں کو ان کے پاس چھوڑ کر جانے کا پروگرام ہوتا تھا۔۔دائمہ نے تھکے ہوئے انداز میں رائم کی جانب دیکھ کر اسے جتایا تھا۔۔۔جبکہ رائم نے اس سے ایسے نگاہ پھیر لی تھی جیسے یہ سب باتیں اس کی مطلب کی نہیں ہیں۔

وہ وہاں رکی نہیں تھی تیزی سے غصے میں پاﺅ ں پٹختی ہوئی اندر کمرے کی جانب ہو لی تھی۔۔۔ دونوں بچے ماں کے پیچھے پیچھے ہی کمرے میں آکر اس کے پاس آن کھڑے ہوئے تھے ۔۔۔

دائمہ اور رائم کی شادی کو پانچ سال ہو گئے تھے ان دونوں کے علی اور رمشہ دو بچے تھے ۔۔۔ علی چار سال کا جبکہ رمشہ دو سال کی تھی۔۔۔ رائم طبیعت ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے کچھ دنوں سے سکول نہیں جا رہا تھا سو وہ گھر پر ہی تھا۔ رائم اور شائم دو بھائی تھے ۔۔۔ شائم بھائی کے ہاں کوئی اولاد نہیں تھی۔۔۔۔ بقول دائمہ کے وہ خوش قسمت تھی کہ اس کی صرف ایک ہی نند تھی اور وہ بھی شادی شدہ تھی ورنہ جنگ و طبل کے اس میدان مزید سپائیوں کا اضافہ ہو جاتا اور پھر اس اضافے سے اس کی شکشت لازمی تھی۔ جبکہ اس کی نند ثانیہ بہت ہی اچھی لڑکی تھی جو دائمہ اور اس کے بچوں کا ہمیشہ خیال رکھتی اور محبت سے پیش آتی تھی۔۔۔ دائمہ قریبی گورنمنٹ کے سکول میں پڑھاتی تھی گورنمنٹ کی جاب ہونے کی وجہ سے وہ جاب کو خیر آباد بھی نہیں کہہ سکتی تھی یہ جانتے ہوئے بھی کہ رائم کی جاب کوئی مستقل جاب نہیں تھی اور وہ کسی بھی وقت جاب چھوٹ جانے پر گھر میں ڈیرا جما کر بیٹھ جاتا اور پھر بچوں کے سو خرچے وہ سب رائمہ کی تنخواہ سے ہی پورے ہوتے تھے۔رائمہ کے ماں باپ بھی اسی شہر میں رہتے تھے سو وہ روز سکول جاتے ہوئے بچوں کو ان کی نانوں کے ہاں چھوڑ آتی اور چھٹی کے وقت واپسی پر انہیں ساتھ لے آتی تھی۔۔۔لیکن آج کل اس کے اما ں ابا عمرہ کرنے کی غرض سے سعودیہ گئے ہوئے تھے ا ن چند دنوں میں بچوں کے رکھنے کا مسئلہ مسئلہ کشمیر بنا ہوا تھا۔وہ ایک ہفتے کی چھٹی پہلے ہی سکول سے کر چکی تھی لیکن وہ اب مزید پندرہ چھٹیاں نہیں کر سکتی تھی۔لیکن نہ جانے اس کی ساس کو کیا مسئلہ تھا ۔ ایک دو دن تو انہوں نے بخوشی دونوں بچوں کو رکھا تھا لیکن دو دن میں کیا ہوگیا تھے کہ انہوں نے بچوں کو رکھنے سے انکار کردیا تھا۔۔۔۔

اور رائمہ جانتی تھی کہ اس سب میں بھابھی منیبہ کا ہاتھ تھا۔کیونکہ اسے ہی ساس کا اس کے بچوں کو دیکھنا پسند نہیں تھا۔۔نہ جانے اسے کیوں اپنے دیور کے بچوں سے چڑ تھی کہ۔۔۔حالانکہ رائمہ نے کبھی ان کے ساتھ بدتمیزی بھی نہیں کی تھی۔۔۔لیکن اسے کسی کی پرواہ نہیں تھی اس وقت تو اسے یہ سوچ سوچ کر سخت کوفت ہو رہی تھی کہ اسے سکول سے دیر ہو رہی تھی اور بچوں کو کس کے پاس چھوڑا جائے اسے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔۔۔۔

ماما کیا آج آپ سکول نہیں جائیں گی۔۔۔ننھا علی معصومیت سے ماں کی جانب اس امید سے دیکھ رہا تھا کہ شاید آج ان کی ماں سکول نہ جائیں کیونکہ جس دن ان کی ماں گھر پر رہتی تو ان کو اچھا لگتا تھا رائم بھی پریشان سا کمرے میں آکر بیڈ پر آ بیٹھا تھا۔۔۔۔

دائمہ کا دل چاہا اسے نقد کھری کھری سنا دے لیکن اس سب میں اس بیچارے کا بھی تو کوئی قصور نہیں تھا۔۔۔دائمہ کو پتہ تھا کہ آنٹی وہی کیا کرتی تھی جس کا وہ ٹھان لیتی تھی ہاں البتہ کانوں کی تھوڑی سی کچی تھی دوسروں کے سکھائے میں بہت جلد آجاتی تھیں۔۔۔

 رائم اب ایسے کیا سر جھکائے بیٹھے ہو۔۔۔سر جھکا کر بیٹھنے سے مسئلے کا حل تو نہیں ہے۔۔اب اگر میں آج بھی چھٹی کر لوں تو سکول کی میم نے میرا جینا حرا م کر دینا ہے کہ محترمہ کا ایک ہفتہ چھٹی کرکے بھی دل نہیں بھرا ۔

 وہ رائم کی جانب دیکھتے ہوئے کہہ رہی تھی جبکہ رائم کی آنکھوں میں پریشانی عیاں تھی۔۔۔۔ وہ اس سے پھر سے پوچھنے لگی تھی۔۔۔کیا آفس سے تمہیں چھٹی ہے۔۔۔

نہیں چھٹی کیسی نئی نئی نوکری ہے میرا آفس تھوڑا ہے جو مجھے ویک اینڈ کے بعد بھی چھٹی نصیب ہوگی۔۔جلدی کرو جو بھی کرنا ہے ہم دونوں کو دیر ہو رہی ہے۔۔وہ پریشان سی ر ائم کی جانب دیکھنے لگی تھی جبکہ آنٹی تو چادر لے کر نہ جانے باہر کون سے دورے پر جا چکی تھی۔

مما کیا آج آپ دونوں گھر پر ہی رہیں گے۔۔رمشہ نے بھی معصومیت سے پوچھا تھا۔۔

اُف ہو۔۔۔ ایک تم دونوں اپنی چونچ بند رکھو۔۔نظر نہیں آرہا کہ میں پہلے ہی کتنی پریشان ہوں۔۔ وہ رمشا کی جانب دیکھتے ہوئے چلائی تھی جو ماں کے سخت لہجے میں بولنے پر سہم کر باپ کے قریب ہو لی تھی۔۔

دائمہ اپنا غصہ بچوں پر تو مت نکالوں اس سب میں ان بیچاروں کا کیا قصور ہے۔۔۔سب میرا قصور ہے ، یہی کہنا چاہتے ہو نہ آپ۔۔وہ رائم پر برہم ہوئی تھی۔۔

پلیز یہ فضول کی باتیں مت کرو ۔۔تو اور کیا کروں بھنگڑا ڈالوں اس وقت۔۔۔وہ پھر سے خفا ہوئی تھی۔

جبکہ رائم دائمہ کی جانب دیکھ کر چپ سا ہوگیا تھا اسے چھیڑنا اس وقت بھڑ کے چھتے میںہاتھ دینے کے مترادف تھا۔۔۔سو وہ رمشہ کو پیار سے بچکارتے ہوئے اس کے بال سہلانے لگا تھا۔۔۔ رائمہ نے شاکی نگاہوں سے شوہر کی جانب دیکھا تھا جو بیٹھا چین کی بانسری بجا رہا تھا۔۔۔ دائمہ نے سامنے لگے کلاک کی جانب دیکھا تھا جو نو بجنے کا الارم بجا رہا تھا وہ بے چین سی ہوئی تھی آج تو میم دورانی سے اسے پکا ہی ڈانٹ پڑے گی ۔۔۔

دائم کچھ کرو ۔۔۔۔ایسا کرو تم آج اپنے آفس سے چھٹی کر لو۔۔۔ اسے ایک ہی حل نظر آیا تھا۔۔۔

کیا۔۔۔ میں آفس سے چھٹی کر لوں پاگل ہو کیا کیوں میری جاب کے پیچھے پڑی ہو۔ ۔۔ وہ برہم سا کہنے لگا تھا۔۔

اچھا تو ایسا کرتی ہوں میں گھر پر ہی رہتی ہوں

بھاڑ میں گئی نوکری بھاڑ میں گئی پریشانی۔۔۔

اس نے تیزی سے اپنا ہنڈ بیگ ہاتھ سے بیڈ پر پٹخا تھا۔۔۔اور پاﺅں پسا ر کر بیڈ پر سکون سے بیٹھ گئی تھی۔۔۔

دائم نے خفگی سے رائمہ کی جانب دیکھا تھا لیکن وہ اسے کچھ کہہ بھی نہیں سکا ۔۔۔ نہ جانے کیوں وہ اسے کبھی ڈانٹنا بھی پسند نہیں کرتا تھا۔۔۔۔دائمہ اس پر لاکھ چلاتی وہ اسے رام کرنے کی کوشش کیا کرتا تھا۔۔۔ اور شاید یہی بات اس کی جھٹانی کی آنکھوں میں کھٹکتی تھی۔۔۔اس کا جیٹھ بات بات پر اس کی جٹھانی کی خبر لیا کرتا تھا ۔۔وہ اس بات کی بھی پرواہ نہیں کیا کرتا تھا کہ وہ بھری محفل میں برجمان ہے یا پھر کمرے میں ہے۔

دونوں بے بسی سے پریشان اور خاموش بیٹھے ایک دوسرے کی جانب دیکھتے جا رہے تھے جبکہ دونوں بچے بھی ماں کی ڈانٹ سے سہم کر خاموش کھڑے تھے۔۔۔

ایسے میں کمرے کے دروازے پرد ستک ہوئی تھی دونوں نے رخ موڑ کر دروازے کی جانب دیکھا تھا ۔۔۔

کیا میں پریشان لوگوں کے کمرے میں داخل ہو سکتی ہوں ۔۔۔ رائمہ تیزی سے بیڈ سے اٹھی تھی وہ اس کی نند ثانیہ تھی ۔۔ دونوں نے اس کا خوش اسلوبی سے استقبال کیا تھا ۔۔۔

ارے ثانیہ باجی آپ صبح صبح خیریت تو ہے۔رائمہ نے فکر مندی سے نند کی جانب دیکھتے ہوئے سوال جڑا تھا اسے اپنی نند بہت عزیز تھی ہوتی کیوں نہ اس کے سسرال میں ایک اس کی نند ہی تو تھی جو ہر دکھ سکھ میں ان دونوں کے کام آیا کرتی تھی اسے دیکھ کر ان دونوں کے چہرے کھل گئے تھے۔۔۔

بھئی ایسے کیا دیکھ رہے ہو مجھے کیا میرے سینگ نکل آئے ہیں۔۔۔ وہ مسکرائی تھی۔

ثانیہ باجی کیا آج آپ ادھر ہی ہیں۔۔۔رائم جلدی سے اسے بیڈ پر بیٹھاتے ہوئے پوچھنے لگا تھا۔۔

ہاں بھئی ادھر ہی ہوں کیا نہیں رہنا چاہئے ۔۔۔۔بلکہ میں تو ایک ہفتے کے لئے تمہاری مہمان ہوں۔۔۔وہ انہیں خوشی کی خبر سنا رہی تھی۔۔۔

 اور ان دونوں نے سکون سے ایک دوسرے کی جانب دیکھا تھا۔۔۔

اچھا باجی ثانیہ میں آپ کے لئے چائے ناشتہ لاتی ہوں ۔۔ ۔ دائمہ ناشتے کے لئے کھڑی ہوئی تھی ۔۔۔

ثانیہ نے کھڑے ہوتے ہوئے دائمہ کا ہاتھ تھاما تھا۔۔۔۔

ارے میں تو ناشتہ تمہارے بھائی کے ساتھ کر کے آئی ہوں۔۔۔ وہ مجھے چھوڑ کر آفس چلے گئے ۔۔۔بہت دن سے دل اداس تھا۔۔۔

سوچا کچھ دونوں کے لئے امی ابا کے ہاں رہ آﺅں۔۔۔

اور پھر اس نے ان دونوں کی جانب بغور دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔۔۔

کیا تم لوگ آفس اور سکول جارہے ہو۔۔۔۔اور پھر وال کلاک پر نظر ڈالتے ہوئے بولی تھی۔۔۔بھئی نو سے اوپر کا ٹائم ہوگیا ہے جاﺅ آج بچوں کو ان کے نانوں کے ہاں نہ چھوڑ کر جاﺅں میرے پاس ہی چھوڑ کر جا سکتے ہو۔۔۔۔ بلکہ میں تو کہتی ہوں جب تک میں ادھر ہوں انہیں میرے پاس ہی چھوڑ جایا کرو۔۔۔ اور وہ دونوں ہی تشکر سے اس کی جانب دیکھنے لگے تھے جو اس وقت فرشتہ بن کر آئی تھی۔۔۔۔وہ تیزی سے بچوں کو اس کے حوالے کرتے ہوئے جانے کے لئے روانہ ہو گئے تھے چلو ایک ہفتہ ہی سہی انہیں سکون کا سانس تو ملا تھا۔۔۔ سچ کہا کسی نے کہ ایک در بند ہوتا ہے تو خدا سو در واں کر دیتا ہے یہ تو انسان ہی ہے جو پل بھر میںمایوس ہو جاتا ہے۔

٭

دائمہ بریک ٹائم میں سکول ٹیچر کے ساتھ سٹاف روم میں بیٹھی بچوں کی کاپیا ں چیک کر رہی تھی۔۔۔۔ ایسے میں سکول ٹیچر رانیہ اس کے پاس آبیٹھی تھی۔۔۔رانیہ ا س کی کولیگ ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی بہترین دوست بھی تھی اور وہ دونوں اپنے گھریلوں مسائل بریک میں ایک دوسرے سے شئیر کیا کرتیں تھیں۔رانیہ کے ساتھ بھی کچھ ایسے ہی گھریلوں مسائل تھے رانیہ کا شوہر بیمار ہونے کی وجہ سے گھر میں ہی اس کے آنے کا انتظار کیا کرتا تھا اس کی ساس اکثر اسے طعنہ دیا کرتی تھی کہ شادی کے بعد اس کا شوہر بیوی ہونے کے ناطے رانیہ کی ذمہ داری ہے اور اس کی بوڑھی ہڈیوں میں اب کسی کی خدمت کرنے کا دم نہیں ہے جبکہ اس کی ساس اس بات سے بے خبر رہنا چاہتی تھی کہ رانیہ کی تنخواہ کی بدولت ہی گھر میں دال روٹی چلتی تھی۔۔لیکن شاید عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی ساس کا دماغ اس بات کو کبھی قبول کرنے کو تیار نہیں تھا۔۔ ۔ اور کچھ قصور رانیہ کی بھی تھا بطور اس کی ساس کے وہ ایک بنجر شجر تھا جس پر پھل ناپید تھا۔ رانیہ کی شادی کو دو سال ہونے کو تھے کہ وہ ابھی تک اولاد کی نعمت سے محروم تھی ۔ رانیہ اس بات پر بیٹھی اکثر دل گرفتہ ہو جایا کرتی تھی۔

دائمہ تم آج اتنی دیر میں کیوں آئی ۔۔ تم نے دیکھا نہیں میم نے کتنی بری طرح انسلٹ کی تمہاری ۔۔۔رانیہ اس کے قریب بیٹھتے ہوئے اس سے دیرسے آنے پر سوال کر رہی تھی۔۔

تمہیں پتہ تو ہے میرے مسائل کا پھر بھی پوچھ رہی ہو۔۔۔۔ امی عمرے سے جب تک نہیں آتی جب تک ہمارے گھر میں جنگ کا طبل روز ہی بجتا رہے گا۔۔۔دائمہ کاپیاں چیک کرتے ہوئے افسردہ سی اسے بتا رہی تھی۔۔۔

پر یار یہ کوئی حل نہیں ہے تمہاری ماں نے تمہارے بچوں کو اپنے گھر رکھنے کا ٹھیکہ تو نہیں لے رکھا نہ اور جہاں تک مجھے معلوم ہے تمہاری بھابھی کو بھی یہ بات ناگوار گزرتی ہے کہ تم اپنے بچے اپنی ماں کے ہاں روز چھوڑو۔

اب اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ کسے ناگوار گزرتا ہے اور کون راضی ہوتا ہے۔وہ میرے بچے ہیں میں ان کو اب پھینک تو نہیں سکتی نہ سب سے پہلے میرے لئے میرے بچے اور میرا شوہر ہے اور لوگوں کی تلخیاں بعد میں ہیں، کوئی کیا سوچتا ہے مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ دائمہ کاپیاں چیک کرتے ہوئے رانیہ کی جانب دیکھ کر سنجیدہ سی کہہ گئی تھی۔

 ایک شلوشن ہے میرے دماغ میں تمہارے بچوں کے لئے اگر تم اس پر عمل کرو تو۔۔۔ رانیہ پر امید سی اس کی جانب دیکھتے ہوئے کہنے لگی تھی۔۔۔

اور دائمہ مسکرائی تھی۔۔۔۔

تمہارے پاس شلوشن ۔ چھوڑو بھئی تمہارے پاس کون سی جادو کی چھڑی آگئی جو سالوں بعد تمہیں آج ترکیب سجھائی دی۔۔

رانیہ مسکرائی تھی۔۔۔

ہے تو جادو کی چھڑی ہی اگر تھوڑا سا دل جگر بڑا کر لو تو۔۔

 دائمہ نے اس کی جانب حیرانگی سے دیکھتے ہوئے اس کی بات سمجھنے کی کوشش کی تھی۔۔۔۔

اچھا جی چلو بتا ﺅ کیا حل ہے تمہارے پاس اب تو آس رہتی ہے کوئی میرے مسائل کا فارمولہ تیار کر لے۔۔۔

رانیہ مسکراتے ہوئے کہنے لگی تھی۔۔۔

اگر تم میری بات پر عمل کرو ۔۔دائمہ تم جانتی ہو وہ کچھ لوگ کہتے ہیں نہ محبت سے اگر کوئی جان بھی مانگے نا تو بندہ جان بھی دے دے ۔۔۔۔کیا میں غلط کہہ رہی ہوں۔۔۔۔وہ الٹا دائمہ کی جانب دیکھتے ہوئے اسی سے الٹا سوال پوچھنے لگی تھی۔

دائمہ اس کی جانب سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے گویا ہوئی تھی۔۔۔

تم کہنا کیا چاہتی ہوں یہ پہلیاں نہ بھجواﺅ۔۔۔۔تم جانتی ہو میری ساس اور جٹھانی کبھی سدھرنے والی نہیں ہیں۔۔۔گویا اس نے اس کی بات سنے بغیر ہی ہار کا اعلان کر دیا تھا۔۔۔

دائمہ کسی بیوقوفی کی مجھے تم سے امید نہیں ہے تم ایک پڑھی لکھی لڑکی ہو۔یہ جو دماغ ہے نہ انسان کا ۔۔۔۔ رانیہ نے اس کے دماغ پر انگلی رکھتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔اس دماغ کو خدا نے سوچنے کے لئے دیا ہے ضد کرنے کے لئے نہیں دیا۔۔۔صرف ایک بار تم میری بات پر عمل تو کرکے دیکھو قسم سے تمہارے سارے مسئلے یوں چٹکیوں میں حل ہو جائیں گے۔۔۔رانیہ نے ہاتھ سے چٹکی بناتے ہوئے اسے سمجھانے کی کوشش کی تھی۔۔۔ا ور ساتھ میں مزید التجائیہ نظروں سے اس سے التجا کرنے لگی تھی۔۔

اور دائمہ کاپیا ں بند کرتی ہوئی اس کی جانب ہمہ تن گوش ہو گئی تھی۔۔۔۔لو بھئی تم بتاﺅں تمہارے ٹوٹکوں پر بھی عمل کر لیتی ہوں یہ جو تم رو ز روز میرا دماغ کھاتی ہو نہ ساس کو پٹانے کے لئے نت نئی ترکیبیں ۔۔۔ تمہاری حسرت بھی مٹا دیتی ہوں۔۔۔ ساس کو پٹانے کے ٹوٹکے سے پہلے کھانے کے لئے کچھ منگواﺅں بھوک سے میری جان نکلی جا رہی ہے۔۔۔۔

اوہ میں نے پیون سے سموسے منگوائے ہیں وہ آتا ہی ہوگا۔۔۔ اور پھر پیون کے آنے پر ان دونوں نے سموسے کھائے تھے اور بریک ختم ہونے تک اپنے اپنے مسئلے پر غور و حوض کرتی رہیں تھیں۔

٭

وہ گھر میں داخل ہی ہوئی تھی کہ بہت زیادہ شور نے اس کا استقبال کیا تھا۔دروازہ بند کرتے ہوئے وہ تیزی سے آگے کی جانب بڑھی تھی ۔کمرے میں اشعر درد سے چلا رہا تھا۔۔۔

کیا ہوا اشعر کیا ہوا ایسے کیوں چلا رہے ہو۔۔۔رانیہ نے اشعر کے ماتھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے فکر مندی سے پوچھا تھا۔

تمہیں اس سے کیا میں مروں یا جیوں اس وقت بھی گھر نہیں آنا تھا جہاں دن بھر دن گزرا وہا ں رات بھی گزار دیتی۔۔ اس کے بیمار شوہر نے درد سے کراہتے ہوئے نفرت سے کہا تھا۔۔۔

کیا مطلب ہے اشعر میں تفریح پر تھوڑا جاتی ہوں چھٹی ہوتے ہی میں فورا سے گھر آجاتی ہوں تم ایسا کیوں کہہ رہے ہو۔۔ ۔ اس کی آنکھوں میں دکھ سے پانی اتر آیا تھا۔۔

اچھا چھوڑو یہ بتاﺅ تم نے کھانا وانا کھایا کیا۔۔۔ اور امی جان کدھر ہیں نظر نہیں آرہی ۔۔ ۔۔ وہ فکرمند ہوئی تھی۔

جاﺅ دفعہ ہو جاﺅ میرے کمرے سے کیوں میرا دماغ کھایا ہوا ہے ۔۔ ۔ میرے لئے کیا تم نے آیا چھوڑی ہوئی ہے جو مجھ جیسے محتاج کو بیوی کی غیر موجودگی میں کھانا دے گی۔۔۔۔اور پھر ہر بات اس کی سمجھ میںآگئی تھی۔۔۔۔وہ تیزی سے دوسرے کمرے کی جانب بڑھی تھی تاکہ اپنی ساس کو سلام کر سکے ۔۔۔ یہ سب سننا اس کے لئے کوئی نئی بات نہیں تھی یہ سارے مسئلے اس گھر کے روز کے تھے اسے اپنی شادی کے ایک سال ہی چین کا نصیب ہوا تھا کے اشعر نے اس سے نرمی سے بات کی تھی ورنہ تو اپنی بیماری کے بعد تو وہ چڑچڑا ہو گیا تھا بات بات پر وہ شک کرتا اسے طعنے دیتا سامنے کھڑی رانیہ پر چیزیں پٹخ دیتا ۔۔۔ رانیہ سمجھتی تھی کہ احساس کمتری نے اشعر کو ایسا بنا دیا ہے ورنہ وہ بالکل بھی ایسا نہیں تھا۔۔ اسے پورا یقین تھا کہ ایک نہ ایک دن اسے اپنی خدمت اور وفا شعاری کا اجر ضرور ملے گے۔۔۔

اوہ امی جان کیا ہوا آپ ایسے کیوں لیٹی ہیں ۔۔۔ خدانخواستہ آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے نہ ۔۔۔ رانیہ کمرے میں داخل ہوئی تھی اس نے سامنے چارپائی پر ساس کو نڈھال سا لیٹے دیکھا تھا اور ان کی طبعیت بالکل بھی ٹھیک نہیں لگ رہی تھی۔ان کی بوڑھی آنکھوں میں مسلسل پانی بہہ رہا تھا۔۔۔رانیہ تیزی سے ان کے قریب بیٹھتے ہوئے ہمدردی سے ان کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھ رہی تھی۔۔۔

۔۔ اس نے ساس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا اور اسے احساس ہوا تھا کہ وہ بخار میں تپ رہی تھیں۔۔۔اوہ آپ کو تو سخت بخار ہے ۔۔ آپ نے کچھ کھایا ۔۔ میں بھی کتنی پاگل ہوں بھلا میرے علاوہ کس نے دینا تھا ۔۔ اشعر بھی بھوک کی وجہ سے ہی بلبلا رہیں ہیں ۔۔۔ اور پھر اس نے ساس کی جانب دیکھتے ہوئے کہا تھا۔۔۔ اچھا امی آپ فکر نہ کریں میں آگئی ہوں میں آپ کے لئے بریڈ اور چائے بنا کر لاتی ہوں آپ تھوڑا سا کچھ کھا لیں پھر آپ کو میدیسن لینا ہوگی تاکہ آپ کو کچھ آفاقہ ہو ورنہ ایسے تو آپ مزید کمزور ہو جائیں گی۔۔۔۔وہ کھڑی ہوئی تھی اور اسکی ساس نے کمزوری سی اس کی جانب دیکھا تھا جہاں آنکھوں سے پانی بہہ رہا تھا اب وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ آنسو درد کے تھے یا پھر احساس کے۔

٭

 وہ چیزوں سے لدی پھدی گھر میں داخل ہوئی تھی ۔ معمول سے ہٹ کر آج گھر کچھ لیٹ آئی تھی ۔۔۔اس کی ساس برامدے میں ہی تخت پر برجمان تھی۔دائمہ کو سامنے دیکھ کر گویا اس کا منہ حلق تک کڑوا ہو گیا تھا۔۔۔اس کی ساس حیران اس وقت ہوئی تھی جب دائمہ روز کی طرح اندر بڑھ جانے کی بجائے اپنی ساس کے پاس ہی تخت پر بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔

اوہ آج تو بہت تھک گئی ہوں میں۔۔۔ وہ ہنڈ بیگ اور چادر سر سے اتارتے ہوئے تخت پر رکھتے ہوئے بولی تھی۔۔۔

ارے بھئی کیا صبح سے پتھر توڑ کر آئی ہو۔۔۔ مہارانی سارا دن کرسی پر بیٹھی رہتی ہے پھر بھی تھک گئی ۔۔ ۔ ایک ہمارا زمانہ تھا عورتیں شوہر اور بچوں کی دن بھر خدمت کیا کرتی تھیں اور پھر ساس سسر کے نخرے الگ۔۔۔ارے تو کیا یہ سب سنانے کے لئے یہاں بیٹھی ہو۔۔۔ جاﺅ بی بی ہمارا دماغ نہ کھاﺅ جا کر اپنی نند کو پوچھو جو دن بھر سے تمہارے بچوں کی باندی بنی ہوئی ہے۔۔۔ اس کی ساس نے اسے باتوں ہی باتوں میں لتاڑا تھا۔۔۔

امی جان چھوڑیں سب باتیں میں تو آپ کے لئے کچھ لے کر آئی ہوں ۔۔۔ اس نے شاپنگ بیگ سے خوبصورت سے پرنٹ کا سوٹ نکالتے ہوئے ساس کی جانب بڑھا یا تھا۔۔۔۔ اور اس کی ساس کی آنکھوں میں ایک چمک سی آئی تھی۔۔۔وہ ہاتھ میں لے کر سوٹ کو اتھل پتھل کر دیکھنے لگی تھی۔۔۔ جبکہ کمرے سے نکلتی ہوئی اس کی جٹھانی کی آنکھوں میں چنگاری سی نکلی تھی۔۔۔ دائمہ نے اسے نظر انداز کرتے ہوئے ساس سے پوچھا تھا جو سوٹ دیکھنے میں مگن تھی۔۔۔

امی جان آپ کو پسند تو آیا ہے نہ آج میں آتے ہوئے بازار گئی تھی سوچا آپ کے لئے لان کا سوٹ لے آﺅں لینا تو میں نے دوسرا تھا لیکن دوکاندار کے پاس وہ مو جود نہیں تھا۔۔۔۔ کوئی بات نہیں میں اسے آرڈر دے آئی ہوں اس ویک وہ بھی لے آئے گا۔۔۔میں دیکھ رہی ہوں آپ کے پاس ایک بھی کام کا لان کا سوٹ نہیں ہے ۔۔ ۔ سو میں سپیشل آپ کے لئے آج بازار گئی۔۔۔اور پھر اس نے دوسرے شاپنگ بیگ سے ایک اور خوبصورت سا سوٹ نکالتے ہوئے ساس کے ہاتھ پر رکھتے ہوئے پوچھا تھا اور امی جان یہ میں باجی ثانیہ کے لئے لائی ہوں دیکھیں کیسا ہے ۔۔۔ اور اس کی ساس کھل اٹھی تھی۔ اور واری نیاری نگاہوں سے بہو کی جانب دیکھنے لگی تھی۔۔۔

ارے بیٹا کیوں تم نے گرمی میں تکلیف کی میں بھی کہوں کیوں تم آج تھکاوٹ کا رونا رو رہی ہو۔۔۔۔اچھا تم بیٹھو میں تمہارے لئے پانی منگواتی ہوں بازار میں تو توبہ ہے بہت رش ہوتا ہے اور تم اکیلی جان سکول سے تھک کر بازار کا چکر لگا کر مزید تھک گئی ہوگی ۔۔۔ وہ حیران ہو رہی تھی جو ساس بھولے سے اس کی جانب ایک محبت کی نظر بھی نہ ڈالتی تھی اور آج احساس کے پھول اپنی باتوں سے اس پر لٹا رہی تھی۔۔۔ دائمہ کے لئے اتنا ہی کافی تھا اور وہ بولی تھی۔۔۔

نہیں امی جان آپ بھی تھکی ہوئی ہونگی مجھے پتہ ہے سارا دن بچوں نے آپ کو خوب تنگ کیا ہوگا ۔۔۔ آپ بیٹھے میں آپ کے لئے اور باقی سب کے لئے بھی چائے بنا کر لاتی ہوں۔۔وہ اٹھی تھی ۔۔

لو جی گرما گرما چائے حاضر ہے۔۔۔ میں آپ کا ہی انتظار کر رہی تھی آپ آئیں گی تو سب بیٹھ کر چائے پیتے ہیں۔۔۔ بچے سو رہے ہیں سو آپ آرام سے چائے پیئں ۔۔۔۔ اس کے اٹھنے سے پہلے ہی ثانیہ باجی چائے کے کپ ٹرے میں رکھے حاضر ہوئی تھی۔۔۔۔۔ اور پھر ان سب نے مل کر چائے پی تھی جبکہ ا س کی جٹھانی کا منہ مسلسل بنا ہو ا تھا۔۔۔ دائمہ کو اب اس کے موڈ کی پرواہ نہیں تھی اسے غرض صرف اور صرف اپنی ساس اور نند سے تھی اور سچ پوچھوں دائمہ کو بھی ان کی ضرورت تھی اس نے دل ہی دل میں رانیہ کا شکریہ ادا کیا تھا۔

٭

بریک ٹائم میں وہ دونوں پھر سے سٹاف روم میں موجود تھیں۔۔۔ رانیہ کچھ کچھ اداس اداس سی دکھائی دے رہی تھی۔۔۔ دائمہ نے اس سے اداسی کا سسب پوچھا تھا لیکن وہ ٹال گئی تھی۔۔۔۔

وہ الٹا اس سے ہی پوچھنے لگی تھی۔۔۔

تم آج بڑی مطمعین دکھائی دے رہی ہے۔۔۔

ہاں بھئی آج دل و دماغ سکون سے ہے۔۔۔۔وہ سموسے سے انصاف کرتے ہوئے بولی تھی۔۔۔

رانیہ بے دلی سے سموسہ کھاتے ہوئے پھر سے اس کی جانب دیکھتے ہوئے گویا ہوئی تھی۔۔۔کیوں آج کیا جناب کی لاٹری نکل آئی ہے۔۔۔یہ پھر اپنے گھر پر کسی جادوگر سے دم درود کروایا ہے۔۔۔

نہیں دم درود نہیں کروایا ہاں البتہ تمہارا ٹوٹکہ استعمال کرنے کی ٹرائی کر رہی ہوں۔۔۔ وہ بولی تھی ۔۔۔ رانیہ دلچسپی سے اس سے پوچھ رہی تھی۔۔۔تو اس کا اثر اتنی جلدی ہو گیا کہ تمہارا چہرہ ہی نکھر آیا ہے ۔۔۔

بس تم دیکھتی جاﺅ اب آگے آگے میں کرتی کیا ہوں اپنی جٹھانی کے سارے حربے فیل نہ کر دئے نہ تو میرا نام بھی دائمہ نہیں ہے۔۔۔۔ دائمہ عزم سے بولی تھی جبکہ رانیہ کو خوشی ہوئی تھی کہ اس نے اس کی بات مانی تھی ۔۔۔۔

اچھا تم سب چھوڑو یہ بتا ﺅ اشعر کا رویہ کچھ بہتر ہوا تمہارے ساتھے اور وہ تمہاری ساس اس کے طعنے کچھ کم ہوئے یا پھر رسی جل گئی بل نہیں گئے کے مترادف ہے۔۔۔۔

ارے نہیں وہ میری بزرگ ہیں اور میری ماں کی جگہ ہیں میں ان کی بہت عزت کرتی ہوں جبکہ اشعر کی جہاں تک بات ہے وہ میرے مجازی خدا ہیں ان کی خدمت کرنے سے میرا اللہ مجھ سے خوش ہوگا اور اجر دے گا۔۔۔امی جان تو ویسے بھی بوڑھی عورت ہیں اور کل تو انہیں سخت بخار تھا۔۔۔ وہ بتا رہی تھی۔۔۔۔ جبکہ دائمہ نے فورا سے خود بھی اس کی ساس کا حال احوال پوچھا تھا۔ ۔۔۔اور پھر وہ دونوں بریک ختم ہونے پر اپنی اپنی کلاسسز کی جانب بڑھ گئی تھیں۔

٭

آج پھر وہ سکول سے واپسی پر سیدھی اپنی ساس کے پاس آبیٹھی تھی جو برامدے میں تخت پر برجمان تھی۔آج ثانیہ باجی بھی ان کے قریب ہی کرسی پر بیٹھی نظر آئیں جبکہ دونوں بچے زمیں پر بچھی چٹائی پر ہوم ورک کرنے میں مصروف تھے۔ ثانیہ باجی کا یہ فائدہ تھا وہ بچوں کو وقت کا ضیائع نہیں کر نے دیتی تھیں کھیل ہی کھیل میں بچوں سے ان کا ہوم ورک کمپلیٹ کروا دیا کرتی تھیں۔ورنہ تو بچے دائمہ کا ہوم ورک کے دوران دماغ چاٹ جایا کرتے تھے کچھ دائمہ کے پاس وہی وقت گھر دار نبھانے کا ہوتا تھا۔

دائمہ نے پھلوں کا شاپر ساس کے آگے رکھا تھا ۔۔۔جبکہ اس کی ساس نے سوالیہ انداز میں دائمہ کی جانب دیکھا تھا ۔۔۔دائمہ نے جھٹ سے کہا تھا۔۔۔

امی جان میں سکول سے واپسی پر آپ کے لئے پھل لائی تھیں۔۔۔یہ آیپلز آپ کے لئے بہت اچھے ہیں یہ جو آپ تھکی تھکی رہتی ہیں یہ سب کمزوری کی وجہ سے ہے ۔۔۔ اور یہ گریپس بھی کھائیں میں دھو کر لاتی ہوں فورا سے کھائیں باقی پھل بھی شاپر میں ہیں روز تھوڑے تھوڑے کھا یا کریں آپ کی صحت کے لئے بہت اچھے ہیں سب۔۔۔۔ وہ گریپس اٹھائے انہیں دھونے چلی گئی تھی جبکہ اس کی ساس اسے منع کرتی رہ گئی کہ وہ سکول سے تھکی ہوئی آئی ہے بعد میں وہ کھا لیں گی۔ لیکن اس نے گریپس دھو کر ٹرے میں ساس کے سامنے رکھے تھے ۔۔۔ اور اس کی ساس محسوس کر رہی تھی جیسے دو دن سے وہ اس کا خیال بیٹی سے بھی بڑھ کر کرنے لگی ہے۔۔۔ وہ دل ہی دل میں خوشی سے بے حال تھیں۔۔۔

اور پھر روز ایسا ہونے لگا تھا وہ واپسی پر ان کے لئے کچھ نہ کچھ لے کر آتی ۔۔۔ کبھی پھل کبھی جوس کبھی کچھ کبھی کچھ اس کی ساس اس کی قدر کرنے لگی تھی ۔۔۔ جو ساس ہر روز محلے کی ہر آنے جانے والی عورت کے سامنے دائمہ نامہ لے کر بیٹھا کرتی تھی اب بہو کی شان میں قصیدے سنایا کرتی تھی۔ ثانیہ باجی کے جانے کے بعد اس کی ساس ہی بچوں کا خیال رکھتی اور اسے بے فکر رہنے کی ہدائت کرتی اور اس کی واپسی کی منتظر رہتی جیسے کوئی ماں اپنی بیٹی کے لئے منتظر ہوا کرتی ہو۔سارا گھر خوش تھا اب تو رائم کو بھی ذہنی سکون میسر ہو گیا تھا۔۔۔بس خوش نہ تھی تو اس کی جٹھانی ۔۔۔ دائمہ نے اب جٹھانی کے مسئلے پر بھی سوچنا شروع کر دیا تھا ۔۔۔ اور پھر وہ دن بھی جلد آگیا تھا جب اس کی جٹھانی بھی اس کے آگے آگے بچھی جا یا کرتی تھی۔۔

٭

پورے ایک مہینہ کے بعد رانیہ کی ساس کی صحت کچھ بحال ہوئی تھی ورنہ تو وہ ان کی بیماری پر بہت پریشان ہو گئی تھی۔۔۔آخر بزرگوں کا سایہ بھی گھر پر رحمت ہو ا کرتا ہے ۔اس نے پورے مہینہ اشعر اور ساس کا بے حد خیال رکھا تھا۔۔۔ان کی تیمارداری میں وہ خود کو بھی بھول گئی تھی اور اسی انتھک کوشش میں وہ خود کو بھی بیمار سا محسوس کرنے لگی تھی۔

صبح وہ بیڈ سے اٹھنے لگی تھی کہ اس کا دماغ چکرایا تھا۔۔۔۔ا س نے پھر سے کوشش کی تھی جیسے وہ کھڑی ہوئی دھڑام سے فرش پر گر کر بے ہوش ہوگئی تھی اس کے گرنے کے شور پر اشعر کی فورا سے آنکھ کھلی تھی ۔۔۔ اور وہ اسے فرش پر بے ہوش گرا دیکھ کر پریشان سا اونچی اونچی آواز میں اپنی ماں کو آوازیں دینے لگا تھا جو ساتھ والے کمرے میں صبح کی نماز ادا کر رہی تھیں۔۔۔۔ اس کی ساس سلام پھیر کر تیزی سے اس کے کمرے کی جانب دوڑی تھی بہو کو فرش پر بے ہوش دیکھ کر وہ بھی حواس باختہ سی ہوگئی تھی ۔۔۔ کیسے تیسے اسے ہوش میں لا کر بیڈ پر لٹایا تھا اور پھر اس کی ساس نے اسے اس دن سکول جانے سے سختی سے منع کر دیا تھا۔۔۔ اور رانیہ ساس کی پیار بھری ڈانٹ پر اثبات میں سر ہلا گئی تھی۔۔۔ناشتہ کروانے کے بعد وہ رانیہ کو قریبی ہسپتال میں لے گئی تھیں ۔ ڈاکٹر نے مختلف ٹیسٹ کروانے کی ہدایت کی تھی۔۔۔اس کی ساس اس کی ٹیسٹ کی رپورٹ لئے اس کے ہمراہ گھر میں داخل ہوئی تھی۔۔ ۔ رانیہ نہ نہ کرتی رہ گئی اس کی ساس اسے بیڈ پر لٹاتے ہوئے اس کے لئے جوس لینے کے لئے کچن کی جانب چل دی تھی۔جوس پلانے کے بعد وہ وہیں بیڈ پر بیٹھتے ہوئے اشعر اور رانیہ کی جانب دیکھتے ہوئے بولی تھیں۔۔

بہو آج سے تم گھر کا کوئی کام نہیں کروگی ۔۔۔ اشعر نے بھی ماں کی جانب سوالیہ انداز میں دیکھا تھا ۔۔۔جبکہ رانیہ کا دل بھی خوف سے دھڑکا تھا کہ کہیں اس سے کوئی خطا تو نہیں ہوگی جو امی جان ایسا کہہ رہی تھی۔۔۔ وہ جانتی تھی جب اس کی ساس اس سے ناراض ہو ا کرتی تھی وہ اسے کسی کام کو بھی ہاتھ نہ لگانے دیا کرتی تھی۔۔۔۔وہ بیڈ سے اٹھ کر بیٹھتے ہوئے کبھی ساس اور کبھی اشعر کی جانب دیکھ رہی تھی۔۔۔ وہ پریشان پریشان سی ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ کو مسلنے لگی تھی۔۔۔۔

اور انتظار کر رہی تھی کہ ابھی اشعر کی آواز گونجے کی اور وہ رانیہ کو بے نقد سنائے گا۔۔۔۔

وہ فورا سے دھیمی سی آواز میں منمنائی تھی۔۔۔

امی جان۔۔۔جبکہ اس کی ساس نے ہاتھ کے اشارے سے اسے بولنے سے منع کیا تھا۔پھر وہ اشعر کی جانب رخ کرتے ہوئے گویا ہوئی تھیں۔۔یہ تم بیمار بیمار رہنے کا اپنے سر پر بھوت سوار رکھتے ہو نہ اب اس خول سے خود کو نکالوں اپنے کام خود سے کرنے کی کوشش کیا کرو۔۔۔۔

پر امی اجان ہوا کیا ہے وہ پوچھنے لگا تھا۔۔۔

ارے بیٹا میں دادی بننے والی ہوں ۔۔ ۔ تم باپ بننے والے ہو۔۔۔ وہ خوشی سے بھر پور لہجے میں بیٹے کی جانب دیکھتے ہوئے کہہ رہی تھی۔۔۔جبکہ رانیہ نے شرم سے اپنی گردن جھکالی تھی۔۔۔۔اسے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ آخر خدا نے پانچ سال بعد اس کی سن لی تھی خدا اسے ماں کے رتبے پر فیض کرنے والا تھا۔۔۔ جبکہ اشعر بھی نگاہیں رانیہ کے چہرے سے ہٹانا گویا بھول گیا تھا۔۔۔۔ وہ اس کے اس روپ پر فریفتہ ہونے لگا تھا۔۔۔۔ ماں کے درجے پر فائز ہونے پر وہ سب کی نگاہوں میں متبعر ہوگئی تھی۔۔۔اس کی ساس پھر سے اس کی جانب دیکھتے ہوئے پیار نچھاور کرنے لگی تھی۔۔۔۔ارے بہو تمہیں بہت بہت مبارک ہو ۔۔۔ تم جانتی ہو بیٹا ہم تو شاید اس نعمت کے قابل نہیں تھے اللہ نے تمہارے صبر اور خدمت کے آجر میں اس نعمت سے نوازا ہے۔۔۔پتہ نہیں میں نے اپنی ذندگی میں کونسی ایسی نیکی کی تھی کہ اللہ نے مجھے بہو کے روپ میں تم جیسی بیٹی سے نوازا ہے۔میں لاکھ تمہیں برا بھلا کہتی رہی لیکن تمہارے چہرے پر بھولے سے بھی ایک شکن نہیں آئی تم کس مٹی کی بنی ہو۔۔۔تم آج سے کبھی یہ نہ سمجھنا کہ تمہاری ماں باپ نہیں ہیں ۔۔۔ آج سے میں تمہاری ماں ہو بیٹا۔۔۔۔ اور ہاں اشعر یہ جو تم روز رو ز میری بیٹی پر چلاتے ہو نہ تو آئنیدہ اس بات کا خیال رکھنا اگر تم نے میری بیٹی سے رتی بھر بھی زیادتی کی تو مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا۔۔۔۔اور اشعر ماں کی ڈانٹ پر شرمندہ شرمندہ سا نگاہیں جھکا گیا تھا۔۔۔۔ وہ خود بھی تو رانیہ کی خدمات کا دل سے ممنون تھا۔اچھا بیٹا تم اپنا خیال رکھو۔۔۔ اور ہاں سکول سے ایک ہفتے کی چھٹی لے لو تاکے تمہاری صحت کچھ ٹھیک ہو ۔۔۔ اب میں تمہیں اکیلی کو اتنی محنت نہیں کرنے دونگی۔۔۔ میں خدا کے آگے شکرانے کے نفل ادا کرنے جا رہی ہوں ۔۔۔ جس نے ہمیں اس قابل سمجھا کہ ہمارے گھر کے آنگن میں خوشیاں اترنے والی ہیں۔۔۔۔اس کا جتنا بھی شکر کیا جائے وہ کم ہے۔۔۔۔وہ دعائیں دیتی ہوئی اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کمرے سے باہر چلی گئی تھی۔۔

ساس کے جانے کے بعد وہ اشعر کی جانب سے خوشی کی منتظر تھی لیکن ۔۔۔۔اشعر خاموش ہو گیا تھا۔۔۔ وہ نگاہیں جھکا کر چپ سادھے بیٹھ گیا تھا۔۔۔ اس نے ڈرتے ڈرتے نگاہیں اٹھا کر اشعر کی جانب دیکھا تھا اس کی نگاہیں جھکی ہوئی تھی۔۔۔ رانیہ کو اس کی آنکھوں میں نمی کا احساس ہو ا تھا۔۔۔ اور وہ تڑپ کر فورا سے اشعر کی جانب اپنا رخ کرتے ہوئے بولی تھی۔۔۔

اشعر کیا ہوا۔۔۔ کیا مجھ سے پھر سے کوئی غلطی ہوگئی ہے۔۔جبکہ اشعر کی آنکھ سے پانی بہتا ہوا اسکے گالوں پر ڈھلکا تھا۔۔۔

اشعر آپ کی خامشی مجھے پریشان کر رہی ہے۔۔۔

میری کوئی بات بری لگی ہے کیا آپ کو ۔۔۔

اگر ایسا ہے تو میں آپ سے معافی مانگتی ہوں وہ اس کے سامنے اپنے دونوں ہاتھ گیلی آنکھوں سے جوڑ گئی تھی۔۔۔جبکہ اشعر نے فورا سے اس کے جڑے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامے تھے۔۔۔

پاگل ہو کیا کیوں مجھے مزید گناہ گار کر رہی ہو۔۔۔میں مانتا ہوں میں پڑھ لکھ کر بھی جاہل ہی رہا۔۔۔۔تم چپ چاپ میری ہر زیادتی خندہ پیشانی سے برداشت کرتی رہی۔۔۔ وہ دیکھ رہی تھی اسے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ یہ وہی اشعر ہے جس کی زبان ہر پل اس پر انگارے برسایا کرتی تھی۔۔۔ آج محبت کی پھوار برسا رہی تھی۔۔۔ وہ بے یقینی کے عالم میں بنا پلکیں جھکائے اشعر کی جانب تکے جا رہی تھی۔۔۔اور وہ کہہ رہا تھا۔۔۔تمہیں یقین نہیں آرہا نا میرے لہجے پر میری معافی پر ۔۔۔ ٹھیک تم پریشان نہ ہو میں اپنے عمل سے ثابت کرونگا کہ میں تم سے بے حد محبت کرتا ہوں میں اپنے گزشتہ رویے پر شرمندہ ہوں۔۔۔تم میرے لئے اور میرے گھر کے لئے رحمت کا فرشتہ ہو۔۔۔ کاش میں اتنے سال ضائع نہ کرتا تمہاری محبت میرے دل پر پہلے ہی عیاں ہو جاتی ۔۔۔۔وہ اسے نہ جانے کیا کچھ کہے جا رہا تھا۔۔۔ اور وہ خود کو دنیا کو خوش قسمت ترین عورت محسوس کرنے لگی تھی۔۔۔کسی نے سچ کہا ہے مرد کی محبت اور توجہ ہی عورت کو دنیا کی حسین تریں عورت بنا دیتی ہے اور وہ بھی ایسا ہی محسوس کر رہی تھی۔۔۔

٭

اشعر اور اس کی ماں کے چہرے پر خوشیاں دمک رہی تھی وہ کیوں نہ خوش ہوتے اللہ نے ان کے آنگن میںخوشیا ں رانیہ کے دو جڑواں بچوں سجل اور ولید کی صورت میں چہکا دی تھی۔رانیہ صحن میں کرسی بچھائے ہاتھ میں سکول کے بچوں کے ٹیسٹ تھامے چیک کرنے میں مصروف تھیں وہ بچوں کے ٹیسٹ چیک کرنے کے ساتھ ساتھ نظر صحن میں کھیلتے ہوئے دونوں بچوں پر بھی رکھے ہوئی تھی۔۔۔

پاپا آگئے ۔۔۔ بچے دوڑتے ہوئے خوشی سے لان میں داخل ہوتے ہوئے اشعر سے چمٹ گئے تھے ۔۔۔اوہ پاپا کی جان کیسے ہو ۔۔۔ وہ ان دونوں کو پیار کرتے ہوئے پوچھ رہا تھا۔۔۔۔ اچھا یہ بتاﺅ کہ مما کو زیادہ تنگ تو نہیں کیا نہ ۔۔تمہیں پتہ ہے نہ اگر ماما کو تنگ کیا تو پھر پاپا کو بھی ان سے بہت ڈر لگے گا۔۔۔ وہ ان دنوں کو اپنی گود میں اٹھائے رانیہ کی جانب بڑھا تھا جبکہ رانیہ اشعر کی بات پر دھیرے سے مسکرا دی تھی۔۔۔ وہ دانتوں کے نیچے پین کی نب رکھے مسکراتے ہوئے اشعر اور بچوں کی جانب دیکھ رہی تھی۔۔۔۔وہ سوچ رہی تھی کہ وقت کتنا بدل گیا ہے۔۔۔ اسے ماضی کی تلخیاں اب صرف ماضی کی پرچھائیاں سی لگتی تھیںان چار سالوں میں اشعر نے اپنی ہر ہر بات سے ثابت کر دیا تھا کہ وہ اس دنیا کا سب سے اچھا شوہر ہے۔ اس کی ساس اور اشعر نے اسے زندگی میں اتنا پیار دے دیا تھا کہ اسے اب کسی شے کی تمنا نہ رہی تھی۔۔۔ کہ اس کا گھر جنت کا گہوارا بن گیا تھا۔۔۔۔

بچوں آجاﺅ بیٹا میں نے گرم گرم چائے کے ساتھ شامی بنائے ہیں۔ رانیہ بیٹاآجاﺅ مجھے پتہ ہے تمہیں چائے کے ساتھ شامی بہت پسند ہیں۔۔۔۔اور وہ چاروں آواز کی جانب اندر کی جانب بڑھ گئے تھے اور پھر سب نے دونوں بچوں کی معصوم معصوم باتوں کے دوران گرما گرم چائے شامی کے ساتھ لی تھی۔۔۔۔ ایک دوسرے کی محبت اور احساس نے ان کے گھر کو جنت بنا دیا تھا۔

٭

آج پھر وہ دونوں سٹاف روم میں بریک کے دوران چائے پیتے ہوئے باتوں میں مصروف تھیں۔۔ہاں بھی دائمہ اور سناﺅ گھر میں سب ٹھیک ہیں نہ رانیہ پوچھ رہی تھی جبکہ دائمہ کچھ بجھی بجھی سی لگ رہی تھی۔۔۔ وہ چائے کی چسکی لیتے ہوئے کچھ سوچ رہی تھی۔۔۔بھئی میں نے تم سے کچھ پوچھا ہے دائمہ کیا ہوا کوئی پرابلم ہے کیا۔۔۔ مجھے نہیں بتاﺅ گی اس نے پھر سے پوچھا تھا۔۔دائمہ چونکی تھی اور بولی تھی۔۔۔ ہاں ہاں سب ٹھیک ہے بس یار ایک مسئلے پر کچھ فکر مند سی ہوں۔۔۔میرے بڑے جیٹھ نے جائیداد کی تقسیم کا شور کیا ہوا ہے۔۔۔ ۔ گھر میں بھی عجیب سا ماحول ہے بے سکونی سی ہے ۔۔۔۔ اور رانیہ نے چائے پیتے ہوئے اس کی جانب بغور دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔۔دائمہ تم میں ایک چیز کی بہت کمی ہے اور وہ ہے صبر کا فقدان۔۔۔اور دائمہ فورا سے بولی تھی ۔۔ کیا مطلب ہے تمہارا۔۔۔رانیہ نے فورا سے مسکراتے ہوئے کہا تھا بھئی تمہیں اس مسئلے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔ تم اپنا اور اپنے بچوں کا دھیان رکھو باقی تمہاری ساس اور رائم بھائی خود سب دیکھ لیں گے تم ریلکس رہو بس۔۔۔یہ زندگی پریشان ہو کر گزارنے کا نام نہیں ہے بس اللہ کو ہر وقت یاد رکھو اسی سے مدد مانگوں وہ ضرور ہر مسئلے میں ہماری مدد کریگا۔۔۔بے شک اسی نے ہمیں پیدا کیا ہے۔۔۔رانیہ اسے سمجھا رہی تھی اور دائمہ کے دل اور دماغ میں سکون سا اترتا جا رہا تھا ۔۔۔۔چائے کا کپ میز پر رکھتے ہوئے وہ رانیہ کا ہاتھ تھامتے ہوئے تشکر سے گویا ہوئی تھی۔۔۔

رانیہ تم کتنی اچھی ہو نہ۔۔۔اور رانیہ مسکرائی تھی۔۔۔بھئی دیکھو نہ مجھے کوئی بھی مسئلہ ہو تو تمہارے پاس اس کا حل ہوتا ہے تمہیں یاد نہیں آج سے کچھ سال پہلے بچوں کو گھر پر رکھنے کا مسئلہ میری جان کھائے ہوا تھا کتنا پریشان ہوئی ہوئی تھی ان دنوں میں لیکن تمہارے مشورے نے میرے گھر کو جنت بنا دیا تھا ۔۔۔ تم ٹھیک کہتی تھی کہ محبت دو اور محبت لو زندگی گزارنے کا بہترین فارمولہ ہے۔میری وہی ساس اور جٹھانی ہیں جو مجھے اب خود سے بھی عزیز رکھتی ہیں۔ میرے شوہر میری تعریفیں کرتے نہیں تھکتے ۔میری نند جو میری بہنو ں سے بھی بڑھ کر مجھے عزیز رکھتی ہے۔وہ جب تک اپنی دن بھر کی مصروفیت مجھے سنا نہیں لیتی اس کا دن نہیں گزرتا۔۔۔اور مجھے اب یقین ہے رانیہ جیسا تم کہہ رہی ہو انشاءاللہ یہ مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔۔۔مجھے امید ہے میری جٹھانی اس معاملے میں ہرگز بھی میرے جیٹھ صاحب کا ساتھ نہیں دیں گی۔۔اچھا تم سنا ﺅ تمہارے بچے کیسے ہیں ۔۔۔ اور جوابا وہ اس کی جانب دیکھتے ہوئے آسودگی سے مسکرادی تھی۔۔۔ اور ایک ایسی ہی مسکراہٹ نے دائمہ کے چہرے پر بھی احاطہ کیا تھا۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

دروازہ …محمد جاوید انور

دروازہ محمد جاوید انور "کہہ دیا نا میں نے لکھنا چھوڑ دیا ہے۔” اس کے …

ایک تبصرہ

  1. تحریر بہت اچھی ہے۔ لیکن کچھ غلطیاں ہیں اس میں۔
    ایک تو لڑکی کا نام کہیں رائمہ لکھا ہوا ہے تو کہیں دائمہ لکھا ہے اور لڑکے کا نام کہیں رائم تو کہیں دائم لکھا ہوا ہے
    دوسرا ایک لفظ استمال کیا گیا ہے شلوشن۔ جو کہ شاید سلوشن ہوتا ہے اگر میں غلط نہیں تو۔
    تیسرا یہ کہ جب منظر ایک سے ہٹھ کے دوسرے طرف جاتا ہے تو پتا نہیں چلتا۔ نہ یہ پتا چلتا ہے کہ رائمہ گھر داخل ہوئی ہے یا اس کی کولیگ
    اور چوتھی جو غلطی مجھے معلوم ہوئی وہ یہ تھی کہ وقت میں بڑی چھلانگیں لگائی ہوئی ہیں۔۔۔۔مثال کے طور ہے رانیہ کی شادی کو دوسال ہونے کا ذکر کیا گیا تو اگلے ہی پہراگراف میں شادی کو پانچ سال گزر چکے تھے اور اس سے اگلے میں بچے بڑے بھی ہوچکے تھے

    اگر اس بات کا ذکر کر دیا جائے کہ شادی کو اتنا عرصہ گزرنے کے بعد۔۔۔۔! تو شاید کچھ بہتر ہوسکے

    باقی ایک اچھے معاشرتی مسئلے کو اجاگر کیا گیا ہے تحریر میں۔

    پہلی دو غلطیاں تو ٹائیپنگ کی تھی جو کہ شاید میں نے دو سے بھی زیادہ کردی ہوں اس تھوڑی سی بات میں باقی دو غلطیاں مجھے محسوس ہوئی ہیں جوکہ شاید میرا غلط خیال ہو۔۔۔۔!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے