سر ورق / افسانہ / شبانہ کا شوہر۔۔۔نورالعین ساحرہ

شبانہ کا شوہر۔۔۔نورالعین ساحرہ

شبانہ کا شوہر

 

نورالعین ساحرہ

شبانہ نے پانچ ہزار کا نوٹ کاؤنٹر پر رکھا۔ سر پر اوڑھی ہوئی چادر اور بھی زیادہ احتیاط نما سختی کے ساتھ  اپنے اردگرد لپیٹ لی ۔” بھائی صاحب ! اُدھار سودا منگوانے کے لئے معذرت چاہتی ہوں، اُس وقت گھر میں پیسے نہیں تھے مگر کل سمیر کے ابا چھٹی پر گھر آئے تو آپ کا حساب چکتا کرنے کے لئے پانچ ہزار روپے دے گئے تھے”

دکان دار نے ایک گہری نظر اس خوبصورت عورت پر ڈالی،اتنی گہری کہ وہ اپنے آپ میں آخری حد تک سمٹ گئی اور اسے یوں محسوس ہوا جیسے اتنے پردوں کے باوجود اسے بہت اندر تک برہنہ دیکھا جا چکا ہو ۔ خفت اور عجیب بےبسی اس کے ماتھے پر ناگوارسلوٹوں کی صورت ابھر آئی اور وہ چند قدم  پیچھے ہٹ گئی ، اس کو پیچھے ہٹتے دیکھ کر  وہ تھوڑا سا آگے ہو کر بولا ” ساری دکان آپ کی اپنی ہے باجی "جان” جب کبھی  ،جو بھی چاہے صرف  حکم کیجیے ،میں تو آدھی رات کو بھی خود سودا پہنچانے آ جاؤں گا”

”نہیں نہیں۔۔۔۔۔۔” وہ یکدم گھبرا گئی۔۔۔۔۔۔”آپ کی بڑی مہربانی، جو چیز چاہیے ہوگی میں خود لے جایا کروں گی، ویسے بھی سمیر کے ابا کی ٹرانسفر بہت جلد اِسی شہر میں ہونے والی ہے’ وہ آجائیں گے تو مجھے خود سودا لینے نہیں آنا پڑے گا۔”

دوکاندار نے آہ بھری”ٹھیک ہے باجی۔۔۔۔۔۔”جان” ۔۔۔۔۔۔جیسے آپ کی مرضی۔ ویسے جب تک سمیر کے ابا نہیں آتے آپ چاہیں تو اپنا سیل فون نمبر دے سکتی ہیں ، میں خود فون کر کے سامان بھیج دیا کروں گا۔ پیسے کی کوئی فکر نہ کریں ”

"اس کی ضرورت نہیں” سختی سے کہتے کہتے وہ وآپس مڑ گئی

اسے جاب سے دیر ہو رہی تھی۔ جیسے ہی ایک رکشہ اپنی طرف آتے دیکھا تو جلدی سے پرس سنبھالتی دروازے پر ہاتھ رکھ کر سوار ہونے لگی، رکشہ ڈرائیور نے دروازہ کھولنے کے بہانے جان بوجھ کر اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ اس نے گھبرا کر ہاتھ کھینچا تو لڑکھڑا گئی اور بری طرح گرتے گرتے بچی۔ بےبسی سے اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے جبکہ ڈرائیور پوری ڈھٹائی سے بیک مرر اس کے وجود  پر فوکس کرکے  کچھ گنگنانے لگا۔

شبانہ کو اسٹاف روم میں داخل ہوتے دیکھ کر ثوبیہ نے زارا کی طرف معنی خیز نظروں سے دیکھا اور جھک کر اس کے کان میں بولی”ابھی دیکھنا، آتے ہی ”اُنہوں” والا شوہر نامہ نشر ہونا شروع ہو جائے گا بالکل خبرنامے کی طرح اور کم سے کم بیس منٹ تو جاری رہے گا۔ وہ بھی باقاعدہ ہیڈ لائینز اور بریکینگ نیوز کے ساتھ۔۔۔۔۔۔ابھی یہ فرمائیں گی کہ میرے ”اُنہوں” نے تو آج خود میرے لئے ناشتہ بنایا یا پھر مجھے دیر ہو رہی تھی تو ”انہوں” نے میرا دوپٹہ استری کر کے دیا۔۔۔۔۔۔ آہ مجھے تو لگتا ہے اِن کے ”اُنہوں ”نے بی اے میں ہوم اکنامکس پڑھی ہوگی۔”اس کے ساتھ ہی دونوں کھلکھلا کر ہنس دیں ۔ زارا حسد و رشک کے ملے جلے جذبات لیے گویا ہوئی۔

” ثوبیہ!ایسا لگتا ہے پوری دنیا میں اِن کے شوہر سے زیادہ چاہنے والا کوئی اس دنیا میں پیدا ہی نہیں ہوا۔ بہت آرزو ہوتی ہے،کاش! میرے شوہر خرم بھی شبانہ کے شوہر جیسے ہوتے تو ہماری زندگی بھی کتنی خوشگوار ہوجاتی”

یہ کہتے کہتے زارا کے خوبصورت روشن چہرے پر حسرتوں کے تمام رنگ ایسے چھا گئے جیسے سردیوں کی صبح میں ہر طرف دُھند چھا جاتی ہے ۔ ایک ایسی دھند جہاں اپنے حقوق تو بہت صاف نظر آتے ہیں لیکن فرائض دیکھنا ممکن نہیں ہوتا، اپنا غلط عمل بھی درست معلوم ہوتا ہے اور دوسرے کی صحیح نیت بھی مشکوک قرار پاتی ہے۔ زارا نے ہمیشہ کی طرح تصور میں اپنے شوہر خرم کو شبانہ کے آئیڈیل شوہر کے روپ میں دیکھنا شروع کیا اور پھر خرم کو کسی صورت شبانہ کے ”اُنہوں” کے مقابلے پر نہ پا کر  مایوسی سےنٹھنڈی آہ بھر کر رہ گئی۔

سر مزمل نے بھی پیپر چیک کرتے کرتے نظر اٹھا کر شبانہ کو اندر آتے دیکھا تو زارا کے شوہر انگلش ٹیچر خرم کے کان میں کچھ سرگوشی کی۔ جسے سن کر وہ مکمل طور پر سر مزمل کی طرف گھوم گئے اور جھنجھلاکر بولے”چھوڑو یار ۔۔۔۔۔میں واقعی سنجیدگی سے عنقریب مس شبانہ سے بات کرنےوالا ہوں ۔ اس طرح خاموش رہنے سے گزارہ نہیں ہو گا۔ اُن کی وجہ سے میرا ہنستا بستا گھر برباد ہونے والا ہے۔ یاد ہے ان کے آنے سے پہلے میں اور زارا کس قدر خوشگوار زندگی جی رہے تھے، اب تو جیسے وہ باتیں خواب خیال ہو گئی ہیں۔” بات کرتے کرتے خرم کے لہجے میں تلخی ابھر آئی۔

"سوتے جاگتے اٹھتے بیٹھتے زارا مجھے شبانہ کے شوہر جیسا بننے کے مشورے دیتی رہتی ہے،ہر وقت میرا مقابلہ ان سے کرتی ہے اور آخر میں زچ کر دیتی ہے یہ ثابت کر کے کہ میں اس دنیا کا سب سے بے کار انسان اور نکما ترین شوہر ہوں "

"ہاں میرا خیال ہے تمھیں واقعی بات کر لینی چاہیئے اس سے پہلے کہ وہ اپنی خوشگوار ازدواجی کی مثالیں دے دے کر یہاں کئی دوسرے گھر تڑوا دیں یا حسرت و یاس کا نمونہ بنا دیں” مزمل صاحب نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملائی۔

خرم پھر سے بڑبڑائے ”نا تو مجھے شبانہ کے شوہرکی طرح اپنا ناشتہ خود بنانا آتا ہے، نا ان کی طرح روز کپڑے دھونے میں اپنی بیوی کی مدد کر سکتا ہوں، مجھے چھٹی کے دنوں میں پوری پوری رات ان کی طرح اپنی بیوی کے ساتھ بیٹھ کر تاش کھیلنا بھی پسند نہیں اور نہ ہی اپنی بیوی کے لیے پیانو پر کوئی پیار بھری دھن بجا سکتا ہوں کیونکہ ایک تو میرے گھر میں پیانو ہی نہیں کہ اس تنخواہ اور مہنگائی کے دور میں پیاز ہی آجائیں تو کافی ہے ، دوسرے اگر ہوتا بھی تو مجھے کبھی بجانا نہ آتا کیونکہ یہ میرا شوق بھی نہیں جن میں ان کے شوہر کو یدٰ طولی حاصل ہے۔ عجیب مصیبت ہے ،اب کیا ضروری ہےکہ محبت کا اظہار ان ہی مندرجہ بالا طریقوں سے ممکن ہو جو شبانہ کے شوہر کو آتے ہیں؟ حد ہوتی ہے یار ! میری بیوی کے نزدیک تو صرف یہی ساری باتیں پیار کی علامت رہ گئی ہیں اور چونکہ مجھ میں ایک بھی موجود نہیں ہے تو طے یہ ہوا کہ میں اسے پیار ہی نہیں کرتا "

زارا اور خرم شادی سے پہلے بھی اسی اسکول میں ٹییچر تھے ۔ یہیں پر ان کے پیار کا سفر شروع ہوا اور شادی کے بعد ہنسی خوشی تمت بالخیر ہوا، پانچ سال سے راوی چین ہی چین لکھ رہا تھا کہ اچانک ایک سال پہلے یہاں جاب شروع کرنے والی خوبصورت سی شبانہ نے اپنے شوہرکی محبت اور دلداری کے غیر معمولی قصے سنا سنا کر زارا سمیت تمام خواتین کے زخم تازہ کر دیے، انہیں ایکدم احساس ہونا شروع ہوگیا تھا کہ جس آئیڈیل کے انہوں نے خواب دیکھے تھے وہ اُن کی بجائے صرف شبانہ کے نصیب میں لکھا گیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ خرم اور زارا کے تعلقات میں روزانہ کی بنیاد پر جھک جھک کے بعد اب سرد مہری آ چکی تھی ۔ چند ماہ سے دونوں کے تعلقات ایسے ہوگئے تھے جیسے ان کے درمیان ہزاروں ان دیکھی دیواریں کھڑی کر د ی گئی ہوں۔ دونوں ایک دوسرے سے کھچے کھچے سے رہنے لگے تھے۔ شروع شروع میں خرم مذاق میں ٹالنے کی کوشش کرتا رہا لیکن اب بات حد سے باہر ہو گئی تھی اور وہ اس کا ذمہ دار صرف شبانہ کو سمجھتا تھا۔

شبانہ نے اندر داخل ہوتے ہی سب کو سلام کیا اور اس کے بعد خاموشی سے اپنی سیٹ پر بیٹھ کر پرس میں سے کچھ ڈھونڈنے لگی ۔ فزکس کے ٹیچر ریاض سلمان نے ایک حسرت بھری نگاہ شبانہ کے خوبصورت چہرے پر ڈال کر اپنی محرومی پر گہرا سانس لیا۔ وہ سوچنے لگے کہ شبانہ ان کو سات سال پہلے کیوں نہ ملی ورنہ زندگی سنور گئی ہوتی، حالانکہ ان کی اپنی بیوی بھی آج شبانہ کی جگہ بیٹھی ہوتی تب بھی اُنہوں نے یہی سوچنا تھا۔ بظاہر سب مصروف نظر آ رہے تھے مگر اندر اندر سے اپنے کام روکے آج کا”شوہرنامہ”سننے کے منتظر تھے ‘ سب بے قرار تھے کہ دیکھیں آج شبانہ کے شوہر نے اُس کی خاطر آسمان سے کون سے نئے تارے توڑے ہیں لیکن شبانہ آج غیر معمولی طور پر خاموش تھی جو بہت خلاف توقع بات تھی۔

”کیسی ہیں آپ شبانہ ؟”زارا نے کچھ دیر انتظار کے بعد خود ہی پہل کی۔اسٹاف روم میں موجود باقی لوگ بھی ان کی طرف متوجہ ہو گئے تھے۔ ”بس ٹھیک ہوں ‘ تھوڑی تھک گئی ہوں’ اُن کی طبعیت ٹھیک نہیں ہے ناں۔”سب ایکدم چونک اٹھے۔۔۔۔۔۔”کیوں کیا ہوا آپ کے شوہر کو؟” سر مزمل نے جلدی سے پوچھا۔

شبانہ نے ایک گہرا سانس لیا” دو دن سے سخت بخار ہےاور سانس لینے میں بھی تکلیف ہے،کسی دوا سے آرام بھی نہیں آ رہا۔ پوری رات اُن کے ساتھ جاگتی رہی’ ٹھنڈے پانی کی پٹیاں کرتی رہی لیکن بخار اُترنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا”

یہ سنتے ہی خرم نے نہ چاہتے ہوئے بھی ایک گہری نظر اپنی بیوی زارا پر ڈالی’ اگر وہ شبانہ کے شوہر جیسے عظیم انسان نہیں تھے تو زارا کب شبانہ جیسی پر خلوص بیوی تھی، اُنہیں بھی تو کئی بار بخار ہوا تھا لیکن زارا نے تو کبھی پوری رات جاگنے کی زحمت نہیں کی تھی بس دوا کھلا کر آرام سے سو جاتی تھی۔ اس کے علاوہ انہیں گھر کی روٹی پسند تھی مگر زارا ہمیشہ قریبی ہوٹل سے منگوالیتی یہ کہ کر کہ اسے روٹی پکانے سے الجھن ہوتی ہے۔ ایسی چھوٹی موٹی کئی اور باتیں بھی انہیں یاد آنے لگیں جن کی طرف انہوں نے پہلے کبھی دھیان نہ دیا تھا۔ زارا بھی خرم کی نظروں کا مفہوم سمجھ گئی تھی اس لیے نظریں چرا گئی۔

شبانہ کے شوہر کی طبیعت کا سن کر سب ہی کچھ پریشان سے ہو گئے کیونکہ آج تک وہ صرف ان کی خوش مزاجی، زندہ دلی اور بزلہ سنجی کے قصے سن سن کر نہ چاہتے ہوئے بھی خود کو ان کے عقیدت مندوں میں شمار کرنے لگے تھے۔ اُن سب کے مشترکہ خیال میں ایسا آئیڈیل یا پھر شاید احمق شوہر روئے زمین پر کوئی دوسرا موجود نہ تھا اور نہ ہی آئندہ ہونے کا امکان تھا، اسی لئے سب کو ایسے پیارے اور سیدھے سادھے بندے کی بیماری کی اطلاع سن کر واقعی دلی دکھ ہوا تھا۔ زارا تھوڑا قریب ہوگئی اورشبانہ کو دلاسہ دیتے ہوئے بولی” آپ اتنی فکر کیوں کر رہی ہیں ، بخار ہی تو ہے اتر جائے گا اس میں اتنی پریشانی کی کیا بات ہے بھلا؟”

شبانہ کی آنکھیں بھیگ گئی تھیں۔ وہ خاموشی سے اقرار میں سر ہلا کر اپنی کلاس لینے کے لئے اسٹاف روم سے باہر چلی گئی ۔ ایک ہی پل میں سارا ماحول بوجھل سا ہو گیا اور ہلکی سی اداسی کی لہر پورے کمرے کو چھو کر چلی گئی تھی۔

اگلے دن جب شبانہ کی ایک ہفتے کے لئے چھٹی والی درخواست موصول ہوئی تو زارا اور ثوبیہ نے اُس کے شوہر کی عیادت کا پروگرام بنا لیا۔ خرم ایسے موقعے پر بھلا کیوں پیچھے رہتا ۔ وہ تو ہمیشہ ہی سے شبانہ کے شوہر سے ملاقات کا متمنی تھا اور ایسا موقع کسی صورت گنوا نہیں سکتا تھا ‘ سرمزمل نے بھی جانے کی خواہش ظاہر کر دی اور یہ چھوٹا سا قافلہ چھٹی کے بعد شبانہ کے گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔

"ہمارے پاس انکا ایڈریس نہیں ہے ” خرم نے  سب کو احساس دلایا۔

"مجھے معلوم ہے ان کا گھر، میری ایک اور ملنے والی خاتون کے قریب ہی کہیں ہے۔ کئی بار انہوں نے بتایا ہے۔ وہاں کسی سے پوچھ لیں گے، نہیں ملے گا تو فون کر لیں گے” ثوبیہ نے تسلی دلائی۔

"ویسے ہمیں ایک فون کر کے انہیں اپنے آنے کی اطلاع دینی چاہیے تھی ، اس طرح اچانک چلے جانا کیا ٹھیک رہے گا؟” خرم نے گاڑی چلاتے ہوئے سب کی رائے جاننی چاہی۔

"یہ سارا قصور ثوبیہ کا ہے ” زارا جھٹ سے بولی ”صبح کہا تھا یاد سے شبانہ کو فون کر دینا کیونکہ اسی کے پاس ان کا نمبر ہے۔ اب پوچھا تو محترمہ کے فون میں بیٹری ہی نہیں اور ان کویاد بھی نہیں رہا، چلو خیر ہے کوئی بات نہیں، ہم کون سا اُنہیں زحمت دیں گے، بس پانچ منٹ کھڑے کھڑے ان کے شوہر کی عیادت کر کے واپس آجائیں گے۔”سب نے زارا کی ہاں میں ہاں ملائی اور ایڈریس ڈھونڈتے ہوئے ایک چھوٹے سے گھر کے دروازے پر پہنچ گئے، خرم نے آگے بڑھ کر گھنٹی بجائی۔ تھوڑی دیر تک کوئی جواب موصول نہ ہوا تو دوبارہ گھنٹی بجاتے ہی اندر سے شبانہ کی آواز سنائی دی۔”آجائیں ڈاکٹر صاحب! دروازہ کھلا ہے۔”

اِن میں سے کوئی بھی ڈاکٹر نہ تھا لیکن شبانہ کی آواز سن کر و ہ لوگ خوش ہو گئے کہ ٹھیک گھر میں پہنچے ہیں ۔

خرم نے زارا کو اشارہ کیا تو زارا اور ثوبیہ پہلے اندر داخل ہوگئیں البتہ خرم اور سرمزمل اخلاقاً باہر ہی کھڑے رہے کہ جب تک ان کو بلایا نہ جائے وہ خود گھرمیں داخل نہیں ہو سکتے تھے۔ زارا اور ثوبیہ جیسے ہی سیدھے ہاتھ کے پہلے کمرے میں داخل ہوئیں تو سامنے ہی ان کی نظر شبانہ پر پڑی۔ وہ بھی انہیں ایکدم سامنے دیکھ کر بری طرح ہڑبڑا گئی۔ ایک سیکنڈ کے لیے اس کے چہرے پر شدید پریشانی کی لہر  چھائی جیسے کوئی چور عین چوری کرتے وقت رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ہو ۔ ثوبیہ نے شبانہ کی حالت دیکھتے ہوئے انہیں اپنے آنے کی وجہ بتائی اور ساتھ ہی اطلاع دے کر نہ آ سکنے کی معذرت بھی کرنے لگی۔ اتنے میں کسی کے کراہنے کی آواز بلند ہوئی۔

ثوبیہ اور زارا نے چونک کر کمرے کے کونے میں پڑی چارپائی کی طرف دیکھا جہاں ایک آٹھ نو سال کا بچہ نیم بے ہوشی کی حالت میں کراہ رہا تھا۔ زارا اور ثوبیہ کی آنکھیں پھیل گئیں۔ زارا کپکپاتے ہونٹوں سے بولی”شبانہ۔۔۔۔۔۔یہ۔۔۔۔۔۔یہ تو۔۔۔۔۔۔”

شبانہ کی آنکھیں نم ہوگئیں۔۔۔۔۔۔بھرائی ہوئی آواز میں بولی”سمیر ہے۔۔۔۔۔۔میرا بیٹا۔۔۔۔۔۔”

”لیکن آپ تو کہہ رہی تھیں کہ آپ کے شوہر۔۔۔۔۔۔” ثوبیہ کی آنکھوں میں دنیا جہاں کی حیرت سمٹ آئی۔

شبانہ کی آنکھیں جھک گئیں۔۔۔۔۔۔”وہ چھ سال پہلے فوت ہو چکے ہیں ”

”کیا۔۔۔۔۔۔۔۔؟” شبانہ اور زارا کی چیخ بلند ہوئی۔۔۔۔۔۔”لیکن۔۔۔۔۔۔وہ۔۔۔۔۔۔وہ سب کیا تھا۔۔۔۔۔۔آپ تو کہتی تھیں کہ ۔۔۔۔۔۔”

زارا نے چیخ چیخ کر وہ ساری محبت بھری باتیں ان کو یاد کروانی چاہی جنہں سن سن کر وہ اپنےشوہر سے دور ہوتی چلی گئی تھی مگر شبانہ کے بہتے آنسوؤں نےاس کی چیخوں کا گلا گھونٹ دیا۔

”سب غلط کہتی تھی، جھوٹ کہتی تھی” شبانہ کی آنکھیں چھلک پڑیں۔۔۔۔۔۔” کیسے بتاتی زمانے کو کہ مجھے جینےکے لئے شاید شوہر کی اتنی ضرورت  نا ہو جتنی اِس معاشرے کو "میرے ساتھ شوہر”  کے   موجود ہونے کی ہے، اکیلی عورت کا ذکر سنتے ہی سب ہوس میں لپٹی ہمدردیاں بانٹنے چلے آتے ہیں۔ جبراً میری خدمتیں کرنے پر تل جاتے ہیں جو میری ذات اور عزت دونوں کے جنازے پر ختم ہوتی ہیں۔ اس لیے یہاں بھی سب کو یہی بتایا ہوا ہے کہ میرے شوہر کراچی میں جاب کرتے ہیں، شاید اسی لیے کسی حد تک زمانے نے مجھے  عزت اور احترام سےقبول کیا ہوا ہے ورنہ ایک جوان خوبصورت بیوہ کے لئے زمین کس قدر تنگ کر دی جاتی ہے اسکا تصور بھی آپ لوگ نہیں کر سکتے”۔

بات ختم کرتے ہی شبانہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ زارا اور ثوبیہ نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، زارا کو پتا نہیں کیا سوجھی، تیزی سے باہر کی طرف لپکی۔  خرم اور سر مزمل اندر آنے کی اجازت ملنے کے منتظر کھڑے تھے۔ اسے دیکھتے ہی دونوں چونک اٹھے۔ زارا کا لہجہ دکھ،پچھتاوے اور آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا ۔ اس نے بے تابی سے خرم کا ہاتھ تھاما اور پیار سے دبا کر بولی ۔۔۔۔۔”خرم! آپ لوگ خود جاکر ڈاکٹر کو لے آئیں اور پلیز اندر نہ آئیے گا’ شبانہ کے شوہر ذرا مذہبی قسم کے انسان لگتے ہیں۔ جاب کرنا شبانہ کی مجبوری سہی مگر شاید اُنہیں آپ لوگوں کا اس طرح بلا جھجھک گھر کے اندر آنا اچھا نہ لگے اور خود اپنی آنکھوں کی نمی چھپاتے ہوئے تیزی سےواپس اندر لوٹ گئی۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

دروازہ …محمد جاوید انور

دروازہ محمد جاوید انور "کہہ دیا نا میں نے لکھنا چھوڑ دیا ہے۔” اس کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے