سر ورق / افسانہ / بات۔۔۔ محمدزبیرمظہرپنوار

بات۔۔۔ محمدزبیرمظہرپنوار

بات

محمدزبیرمظہرپنوار

بھیا” تھارے پاس پانچ منٹ ہیں۔۔۔ کیوں” خیریت تو ہے۔۔۔ وہ جی نا ماری سمجھ میں ایک بات نہیں آ رہی ۔۔۔ اتے سالوں سے پہیلی لیے پھرتا ہوں کوئی سمجھاتا بھی نہیں ۔۔۔ بس وہی آپ سے بات کرنی تھی اور سمجھنی بھی تھی ۔۔

نہیں بلکل نہیں” میں نے کہا

بھیا صرف پانچ منٹ کی تو بات ہے۔۔۔

لگتا ہے آج پھر سے پھیری والے کو بات پوچھنے کا دورہ پڑا ہے۔۔(میں من ہی من میں خود سے مخاطب ہوا)۔۔۔۔ کئی سالوں سے اس پھیری والے کا معمول تھا ۔۔۔ جب کبھی کوٹ پینٹ والے شخص کو دیکھتا ۔۔۔ تو بات لیے آ ٹپکتا۔۔۔ مگر اس کی کوئی بھی نہ سنتا۔۔ ہر بار اسے مجھ سمیت سبھی یہ کہہ کر بھگا دیتے جاتے ہو کہ داروغہ کو بلائیں ۔۔۔۔ وہ داروغہ سے بہت ڈرا کرتا ۔۔ بیچارہ بہت صاف دل اور بھولا سا انسان ہونے کے باوجود کسی کو ایک آنکھ نہ بھاتا ۔۔ مجھ سمیت ہر کوئی اس سے عاجز اور بیزار نظر آتا ۔۔۔۔۔

بھیا جی آج تو سن لو پلیج۔۔۔۔ اس نے التجایا انداز میں کہا”

ارے واہ کرمو” تجھے تو انگریزی بھی آتی ھے ۔۔۔ میں نے شرارت سے اس پہ طنز کیا ۔۔۔۔ انگریجی وگریجی تو کونی آوئے پر پلیج او کے نو یس تھانکو روج روج سن کر یاد ہو گئے ۔۔ وہ بولا۔۔۔

بہت دنوں بعد آج میرا موڈ اچھا تھا کیونکہ رات بھر میں اور فرینہ فون پہ باتیں کرتے رہے” ہمارے درمیان جتنے گلے شکوے تھے سب دور ہو گئے ۔۔پھر اس سے پورے چھ ماہ بعد آج رات ملاقات ہونے والی تھی۔۔۔میرے ساتھ آج کرمو کا بھی دن اچھا ہونے والا تھا کیونکہ میں من ہی من کرمو کی بات سننے کو  راضی ہو چکا تھا۔۔۔۔ لیکن شرارتا انکار کیے جا رہا تھا ۔۔۔ اور پھر وقت بھی تو گزارنا تھا جیسے بھی گزرے۔۔۔سونے پہ سہاگہ کرمو وقت گزاری کے لیے ابھی میسر تھا۔۔۔ سوچا کہ کیوں نا اسی بہانے آج کرمو کی بات ہی سن لی جائے” پتہ نہیں بیچارہ اتنے سالوں سے کیا کہنا چاہتا ہے۔۔۔ مجھے آج دفتر سے چھٹی تھی۔۔کوئی کام بھی تو نہیں تھا ۔۔ سوائے حجامت کروانے اور دن بھر پگھلتی مچلتی سلگتی ملاقات کے متعلق سوچنے کے علاوہ ۔۔۔

خیر اس سے کہا اچھا کرمو اپنی بات سناؤ” مگر دیکھو بات کو کھینچ تان کر بڑا مت کرنا ۔۔۔ او کے ٹھیک ہے بوت بوت تھانکو ۔۔۔ بھیا جی ۔۔۔۔ میں پھر اسکی انگریزی پہ ہنسا (ہاہاہا)..

تو بھیا جی پتہ ہے” نہیں ہاہاہا (میں ہنسا اور اسکی بات پہ اسکا مزاق اڑاتے ہوئے کہا۔۔۔ بتائے گا تو تو پتہ چلے گا)

بھیا جی سنیے تو۔۔۔ اچھا مزاق ختم چلو شروع کرو اپنی بات

جی ہم نے اپنی جندگی سے بہت کچھ سیکھا ہے ۔۔۔۔ ہم نے سب کچھ محسوس کیا ہے۔۔۔پڑہائی لکھائی کے ہووے اس کے فیدوں کا بھی مانے معلوم ہے ۔۔ جندگی موت کون دیوے ۔۔۔جھوٹ سچ” اجت عبادت کے ہووے مارے کو سب پتا ہے ۔۔۔۔

مارے تو رونگھٹے کھڑے ہو جاوے۔۔۔۔۔ جب جھوٹ دھوکا اور برے کاموں کا خیال آوے۔۔۔دو بار مارے سے غلطی سے چوری کا مال خرید ہو گیا ۔۔ داروغہ نے پکڑ کر مانے مارا الگ اور دو دن جیل میں سڑنے کی الگ سزا ہوئی ۔۔ جب رہائی ہوئی تو دل کیا” ڈوب مروں ۔۔ قریب تھا میں” خود کشی کر لیتا ۔۔ پھر سوچا کہ مر جاؤں گا تو میری جورو رنڈوی ہو جاوے گی اور مارے بچے یتیم۔۔۔۔ میں بوت رویوں ۔۔ پھر میں مندر درگاہ اور چرچ جاتا” اپنی غلطی سے توبہ کرتا رہتا ۔۔ شب خدا کے گھروں پہ پانچ سال لگاتار حاجری دیتا رہا۔۔۔ تب جا کے تھوڑا سکون ملا ۔۔ پتہ ھے جب جب بھی  مانے بیتا وقت یاد آوے۔۔۔مارے شرم کے ماری آنکھیں جھک جاوے ۔۔۔۔

ہممم ۔۔۔ یہ تو بہت اچھی بات ہے کرمو” مگر کہنا کیا چاہتے ہو۔۔۔

بھیا جی وہ شام لال کا بڑا چھورا جو یونیورسٹی پڑھے ہے ۔۔ اس نے مندر سے چوری کی۔۔۔ جامع مسجد کے امام صاحب کا چھورا مقدس کتابوں کو آج تک جلاتا  ہے۔۔۔۔ فادر اینتھونی نے لڑکی کی اجت لوٹ لی ۔۔۔

مانے سمجھ نہیں آئی ۔۔ یہ کیوں ہوا ۔۔۔۔۔اسکی باتیں سن کر مارے حیرت کے میں اسکا چہرہ تکتا رہ گیا ۔۔۔ وہ بولتا ہی چلا گیا ۔۔۔ اور میں بلکل ہی ساکت ہو چکا تھا جیسے مجھے کسی سانپ نے سونگھ لیا ہو ۔تھوڑا سا ہوش آیا تو میں اٹھ کر چل دیا شاید میرے پاس اسکے سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا ۔

   

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

دروازہ …محمد جاوید انور

دروازہ محمد جاوید انور "کہہ دیا نا میں نے لکھنا چھوڑ دیا ہے۔” اس کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے