سر ورق / مزاحیہ شاعری / اس ہفتے کے مزاحیہ قہقہے۔ نوید ظفر کیانی

اس ہفتے کے مزاحیہ قہقہے۔ نوید ظفر کیانی

اس ہفتے کے مزاحیہ قہقہے۔ نوید ظفر کیانی

 

مجھے کیا دے گا عطائے نگار کا موسم

یہ اِک انار کا اور سو بیمار کا موسم

تمام قومی خزانے تجوریوں میں بھریں

گزر نہ جائے کہیں لوٹ مار کا موسم

مہینہ اینڈ پہ۔۔۔ بجلی کا بل ہزاروں میں

لو پھرہے چالو ہمارے ادھار کا موسم

میں لے کے بیٹھی ہوئی تھی کتابِ علمِ عروض

تمام رات رہا ہے خمار کا موسم

میاں کے سر کو دبانا پڑا تو ہے لیکن

یہ دردِ سر تو ہے جوتوں کی مار کا موسم

جو بارشوں میں نہانے کا لے لیا پنگا

بھگت رہی ہوں ابھی تک بخار کا موسم

مقابلہ ہے بھلا حسن کا یا میک اپ کا

عروج پر ہے گلیمر کی وار کا موسم

سنور رہے ہیں جو دولہا دلہن سے زیادہ لوگ

یہ شادیاں ہیں کہ بینا سنگھار کا موسم

روبینہ شاہین بینا

دل کیوں روز بلکتا ہے

شادی ہے یا سکتہ ہے

جلی ہوئی ہانڈی کی بو

دسترخوان مہکتا ہے

بچہ وزن میں بیس کلو

ساٹھ کلو کا بستہ ہے

بل پے کر دینے کے بعد

گھر میں فاقہ بچتا ہے

فرماتا ہے بس افسر

باقی ہر کوئی "بکتا ہے”

پیسا ہے تو موبائل

لاکھوں میں بھی سستا ہے

ہر شوہر تصویر نما

دور خلا میں تکتا ہے

بوجھ سے درجن بچوں کے

پاﺅں نہیں دل تھکتا ہے

تو میکے جائے بیگم

کیا ایسا ہو سکتا ہے

نوید صدیقی

کیا حقیقی خوبیاں شوہر میں ہوں

جب مجازی بیویاں دفتر میں ہوں

کیوں نہ مسٹر پیار کے چکر میں ہوں

لڑکیاں جب ان کے پس منظر میں ہوں

شیر جیسی پھرتیاں گیدڑ میں ہوں

خوبیاں ایسی مرے لیڈر میں ہوں

یوں میاں کی ظاہری صورت نہ دیکھ

مے بی اس کے بال گنجے سر میں ہوں

نیسلے کا ملک ہے پہلی غذا

کیا وٹامن پیار کے فیڈ ر میں ہوں

کہہ رہا تھا ایک مجنوں خواب میں

اس طرح کی بیویاں گھر گھر میں ہوں

فیس بک پر عام ہے وہ اس لیے

رابطے کچھ خاص میسنجر میں ہوں

عقد ثانی کے لیے درکار ہے

سب ادائیں مہ جبیں اختر میں ہوں

کون جائے گا سمندر دیکھنے

بجلیاں جب کاغذی پیکر میں ہوں

جل پری کو دیکھنے کے واسطے

خوبیاں کچھ خاص دیدہ ور میں ہوں

بات سچی ہو مگر کوٹڈ بھی ہو

تلخیاں ہمدم سبھی شوگر میں ہوں

ہاشم علی خان ہمدم

خود کو میک اپ سے داغدار نہ کر

کاسمیٹک سے منہ پہ وار نہ کر

دل کے رکشے میں تین سیٹیں ہیں

اس پہ چوتھی کو بھی سوار نہ کر

میں ہوں پہلے ہی بیویوں والا

تو مجھے اور سوگوار نہ کر

زن مریدوں کی ٹاپ رینکبگ میں

ہو سکے تو مرا شمار نہ کر

اپنا دیوان سب کا سب ہی سنا

یہ کرم مجھ پہ قسط وار نہ کر

وصل منگل کو طے ہوا تھا اگر

جان من اس کو سوموار نہ کر

اس کو آشوب چشم ہے پگلے

اپنی آنکھیں تو اس سے چار نہ کر

عشق دو فٹ ہی گہرا نالہ سہی

اِس کو کچے گھڑے پہ پار نہ کر

اس پہ کوّے بھی بیٹھ سکتے ہیں

خود کو اِتنا بھی شاخ دار نہ کر

ڈاکٹر عزیز فیصل

سیاستداں بچارے کی پریشانی نہیں جاتی

خریدی اس نے جو ڈگری، کہیں مانی نہیں جاتی

لڑکپن سے ہی غالب کی طبیعت عاشقانہ تھی

لگی ہو لت جو بچپن سے باآسانی نہیں جاتی

مرے دادا کی نانا سے ہوئی جس روز سے ان بن

اِدھر آتی نہیں دادی، اُدھر نانی نہیں جاتی

قلم، تختی، سیاہی طاق نسواں کی ہیں اب زینت

مگر یادوں سے جو مٹی تھی ملتانی، نہیں جاتی

بھٹکتی ہیں نگاہیں شیخ جی کی "مال” میں لیکن

کسی بھی حال میں بیگم کی نگرانی نہیں جاتی

جھپٹ پر کھال وہ بولا، ثواب اس کا ہی پاﺅ گے

وہاں کھالیں ہی جاتی ہیں، یہ قربانی نہیں جاتی

لگاتا ہے کئی چکر ڈرائنگ روم کے شوکت

پڑھا کر جب تلک بچوں کو استانی نہیں جاتی

شوکت جمال

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اس ہفتے کے منظوم قہقہے۔۔ نوید ظفر کیانی

  سر اپنا جو نزدیک سے دِکھلاتا ہے گنجا دل زوجہ کا اِس طرح بھی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے