سر ورق / افسانہ / گمان …کے ایم خالد

گمان …کے ایم خالد

افسانہ
گمان
کے ایم خالد

وہ دونوں ابھی ایک کھوکھے سے چائے پی کر نکلے تھے۔رات کے دو بجے کا عمل تھا ۔نیند ان پر غلبہ پانے کی کوشش کر رہی تھی اور وہ نیند سے چھٹکارے کے لئے دو گھنٹوں میں تقریبا چار بار چائے پی چکے تھے۔کھوکھے سے تھوڑی ہی دور ان کا ناکہ تھا اور وہ اپنے ساتھیوں سے چائے کا کہہ کر نکلے تھے۔”بلندخان! دنیا کتنی بے حس ہو تی جا رہی ہے۔“اس نے بندوق اور وائر لیس کو سنبھالتے ہوئے کہا
”بات تو تمہاری ٹھیک ہے ذاکر بھائی۔“بلند خان نے موٹر سائیکل کو کک لگاتے ہوئے کہا۔
”نفسانفسی کا دور ہے ۔ڈکیت ہم نے پکڑا تھا انعام اوپر والوں نے لے لیا ۔یقین کرو مہنگائی اتنی بڑھتی جارہی ہے باوجود اس کہ ہمیں کچھ اوپر سے بھی کمائی ہو جاتی ہے۔میں اس دفعہ اپنے بچوں کے سردیوں کے کپڑے نہیں خرید سکا۔“
“بات تو تمہاری ٹھیک ہے “۔بلند خان نے سگریٹ کو ہونٹوں میں دبائے ہوئے کہا
”کھانستا رہتا ہے سگریٹ نہیں چھوڑتا ۔“ذاکر نے موٹر سائیکل کے پیچھے دھوئیں کے مرغولے سے بچتے ہوئے کہا
علی پور کا بس سٹاپ آ چکا تھا ۔اس سے کچھ دور ان کے تھانے کا ناکہ تھا ۔رات کو عموما اس روڈ پر ٹریفک بند رہتی تھی۔اکا دکا کسی کمپنی کی گاڑی چلتی رہتی تھی۔انہوں نے دیکھا دور سے کسی گاڑی کی لائیٹیں نظر آ رہی تھیں۔گاڑی کی رفتار بہت تیز محسوس ہو رہی تھی۔اچانک بریکوں کی چر چر اہٹ ہوئی اور کسی انسانی چیخ کی آواز ان کی سماعت سے ٹکرائی۔وہ محتاط ہو گئے۔بس انتہائی تیز رفتاری سے ان کو سائیڈ کراتے ہوئے گزر گئی۔بلند خان نے موٹر سائیکل کچے میں اتار لی تھی۔
سڑک پر ایک بندہ تڑپ رہا تھا۔شائد کو ئی مسافر بس سے اترتے ہو ئے گاڑی کے پچھلے ٹائروں تلے آگیا تھا۔”ذاکر وائرلیس پر کنٹرول روم کو حادثہ کی اطلاع دو۔“
”ٹھہرو،یہ حادثہ تو اپنے علاقے میںمعلوم ہوتا ہے۔تمہیں پتہ پچھلے حادثے پر ایس ایچ او نے کتنی ڈانٹ پلائی تھی۔“
”یہ جو برجی ہے ۔یہاں تک ہمارے تھانے کا علاقہ ہے اور برجی کے اندر حادثہ ہو ا ہے۔“ذاکر نے کہا
”اگر اس کو کسی طرح فرید کوٹ تھانے کی حدود میں ڈال دیں یہاں کون دیکھ رہا ہے۔شائد اندر کھاتے کچھ انعام ہی مل جائے۔“ذاکر نے لاش کی جانب بڑھتے ہوئے کہا۔
چاند کی روشنی ہر سو پھیلی ہوئی تھی۔بے چارہ مسافر بری طرح کچلا گیا تھا ۔حلیے سے وہ کوئی دیہاتی معلوم ہوتا تھا۔ابھی بلند خان اور ذاکر نے اس کی ٹانگوں کو ہاتھ ہی لگایا تھا کہ اس نے آنکھیں کھول دیں۔وہ دونوں ڈر گئے۔”کیا کرنے لگے ہو؟“ اس نے درد سے کراہتے ہوئے کہا۔
”کچھ نہیں،حادثہ دیکھ کر رکے تھے۔“
”بس ڈرائیور کو نہ جانے کیا جلدی تھی ۔میرا پاو¾ں دروازے میں پھنس گیا۔یہ میرا شناختی کارڈ ہے میرے گھر اطلاع کر دو۔“اس نے جیب کی جانب ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا۔
”وہ بھی کر دیں گے۔کچھ ضابطے کی کاوائی تو مکمل کرنے دیں۔“ٹانگیں بری طرح کچلی گئی تھیں۔خون ذیادہ بہنے کی وجہ سے اس پر نقاہت طاری تھی۔مگر شائد وہ دیہاتی کچھ ذیادہ ہی قوت ارادی کا مالک تھا۔وہ بولے جا رہاتھا۔
”میری بیٹی کی اگلے ہفتے شادی ہے ۔میں اس کے جہیز کی خریداری کے لئے شہر گیا تھا۔مقدر میں شائد یہ حادثہ لکھا تھا ۔میری بیٹی نے مجھ سے بہت کہا ابا صبح آ جانا ۔مگر تمہیں تو پتہ ہی ہے بیٹیوں کی شادی کے بہت کام ہوتے ہیں۔کل سارا جہیز ٹرک پر آ جائے گا۔“
ذاکر! تمہیں اچھی طرح یاد ہے ناںبرجی کے آگے فرید کوٹ کا علاقہ ہے۔“بلند خان نے اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا۔
”ہاں ،ہاں “۔ذاکر خان نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
”بزرگو! آپ کو یہاں سے کچھ آگے نہ لے جائیں وہاں گھاس بھی نرم ہے ۔آپ کو یہاں تکلیف ہو رہی ہو گی۔سڑک کنارے بجری بھی چبھتی ہے اور کوئی گاڑی بھی آ سکتی ہے۔پھر اس کے بعد ہم اپنے ہیڈ کواٹر کو حادثے کی اطلاع دیں گے۔“
ٹھیک ہے ،مگرتھوڑا سا پانی مل جائے گا ،حلق خشک ہو گیا ہے۔“
”ہاں، کیوں نہیں۔بلند خان اس کو پانی پلاو ۔“ذاکر نے موٹر سائیکل کے ساتھ لٹکے ہوئے تھرموس سے اس کو پانی پلایا۔
ذاکر نے اس کے بازوو¾ں میں ہاتھ ڈالا۔بلند خان نے دیہاتی کی چادر لے کر ٹانگیں اس میں ڈالیں۔دونوں نے اس کو تھوڑی دور ایک درخت کے ساتھ بٹھا دیا۔
”بزرگو! اب کچھ سکون محسوس ہوا۔“بلند خان نے پوچھا
دیہاتی نے آنکھیں کھولیں اور دھیرے سے مسکراتے ہوئے ”ہاں “ کہہ کر آنکھیں مو ند لیں۔
وہ دونوں باتیں کرتے ہوئے اس سے ہٹ آئے۔”اب ٹھیک ہے کم از کم یہ مدعا تو فرید کوٹ والوں کے کھاتے میں تو پڑے ۔“ذاکر نے وائر لیں کو سیدھا کرتے ہو ئے کہا
دیکھ لو ذاکر ابھی بھی کمی بیشی ہے تو وہ نکال سکتے ہیں۔“بلند خان نے اس سے کہا۔
”نہیں یار مجھے پکا یا د ہے۔“ذاکر نے وائر لیں پر ہیلو ہیلو کرتے ہو ئے کہا ۔
”جناب ذاکر علی بول رہا ہوں ہیڈ کانسٹیبل تھانہ علی پور ۔فرید کوٹ تھانے کے علاقے میں حادثہ ہو گیا ہے۔گاڑی نے بندہ کچل دیا ہے۔“
تھوڑی دیر بعد وائر لیں آپریٹر کی آوازوائر لیس سے بلند ہو رہی تھی ۔تھانہ فرید کوٹ کے علاقے میں گارڑی نے بندہ کچل دیا ہے۔رپورٹ اوور
انہوں نے ناکے سے اپنے دوسرے ساتھی بھی بلا لئے ۔انہیں بھی اصل صورتحال سے غافل رکھا گیا۔تھوڑی ہی دیر بعد تھانہ فرید کوٹ کی گاڑی وہاں آ کر رکی۔اس میں اے ایس آئی واجد اور ایک سپاہی ریاض برآمد ہوئے۔اے ایس آئی نے ذاکر علی سے پوچھا ”کیا ہوا؟“
”جی وہ بندہ ایک بس نے کچل دیاہے۔بلند خان نے دیہاتی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
”زندہ ہے یا مر گیا۔“اے ایس آئی نے پوچھا۔
”بس جی سہک رہا ہے۔“
”سرجی! یہ تو ان کا علاقہ ہے۔“فرید کوٹ تھانے سے آنے والے سپاہی نے کہا”مجھے اچھی طرح یاد ہے بر جی کے اس طرف دو سو میٹر تک تھانہ علی پور کی حد ہے۔یہ حادثہ تھانہ علی پور کے علاقہ میں ہوا ہے آپ بے شک نپائی کروا لیں۔“
”حدود کی نپائی والا کام تو اب صبح ہی ہو گا وقوعہ کا جائزہ لواور لاش کو ہسپتال بجھوانے کا بندوبست کرو۔اگر ان کا علاقہ ہوا تو یہی ذمہ دار ہو گے۔“جواب میںبلند خان اور ذاکر نے کہا ”بالکل ،بالکل۔“
قریبی گاﺅں کی مسجد سے اللہ اکبر کی آواز بلند ہو رہی تھی جب 1122کی گاڑی نے دیہاتی کے جسد خاکی کو اٹھایا۔جائے وقوعہ پر تھانہ فرید کوٹ اور تھانہ علی پور کا عملہ الرٹ کھڑا تھا۔صبح کے وقت دونوں تھانوں میں تھر تھلی مچی ہوئی تھی۔بڑے دفتر سے تھانوں کے حدود اربعہ کا نقشہ آ چکا تھا۔ایک پٹواری جو اس علاقے کو اچھی طرح جانتا تھا اس کی خدمات حاصل کی گئیں۔وہ علی پور کی بر جی پر آ کر رک گیا۔اس نے اپنے ملازم سے فیتا نکالنے کے لئے کہا۔بلند خان اور ذاکر کے دل دھڑک رہے تھے۔پٹواری اپنے ملازم کے ساتھ پیمائش کرتے ہوئے بلند خان اور ذاکر کے بنائے ہوئے جائے وقوعہ سے آگے نکل گیا۔پٹواری نے فیتے کو اکٹھا کرتے ہوئے پاﺅں سے نشان لگاتے ہوئے کہا۔”یہاں تک علی پور تھانے کی حد ہے اس سے آگے فرید کوٹ کا علاقہ شروع ہو جاتا ہے۔“
تھانہ علی پور کا ایس ایچ او قہرآلود نگاہوں سے بلند خان اور ذاکر علی کی طرف دیکھ رہا تھا۔اور وہ دونوں اپنے خلاف ہونے والی کاروائی سے خوف ذدہ تھے۔فرید کوٹ کے عملے نے سکھ کا سانس لیا۔
بلند خان اور ذاکر علی کو فرائض میں غفلت کے جرم میں نہ صرف تنزلی کے احکامات جاری کئے گئے بلکہ ان کی ڈیوٹی بھی مستقل تھانے میں لگا دی گئی۔حادثے کے تقریبا تین ماہ بعد ایک دن وہ تھانے کے لان میں گھاس پر بیٹھے وہ ان سنہری باتوں کو یا د کر رہے تھے جو ان کی کمائی کا ذریعہ بنے تھے۔ڈاکیا کو اپنی طرف آتا دیکھ کر وہ خاموش ہو گئے۔تھانے میں کبھی ان کے نام چٹھی نہیں آئی تھی۔ڈاکیے نے ان کی جانب دیکھتے ہوئے کہا”ذاکر علی اور بلند خان۔“
”جی ،جی“وہ دونوں ایک ساتھ بولے
”یہ آپ کے نام خط ہے۔“ڈاکیے نے خط ان کو پکڑا دیا۔
وہ حیرانی سے خط پکڑے بیٹھے تھے ۔بھیجنے والے نے اپنا نام چوھدری رب نواز لکھا تھا۔مگر وہ دونوں کسی رب نواز کو نہیں جانتے تھے۔ذاکر علی نے خط کھولا اس میں ایک خط کے ساتھایک ایک لاکھ روپے کے دو چیک تھے جو کہ ان دونوں کے نام تھے۔بلند خان نے اس کے ہاتھ سے خط لے کر پڑھنا شروع کر دیا۔
عزیزم بلند خان اور ذاکر علی
اسلام و علیکم!
آپ سوچ رہے ہوں گے میں کون ہوں جو آپ سے مخاطب ہوں۔عزیزم کچھ عرصہ قبل ایک رات ایکیسیڈنٹ میں گاڑی نے مجھے بری طرح کچل دیا تھا۔اللہ تعالی نے آپ کو فرشتہ بنا کر بھیج دیا۔آپ لوگوں نے جس طرح چبھتی ہوئی بجری اور سڑک سے ہٹا کر مخملی گھاس پر لٹایااور مجھے ہسپتال پہنچایا ۔میں آپ کا احسان عمر بھر نہیں بھول سکتا ۔ڈاکٹروں نے میری دونوں ٹانگیں کاٹ دیں تھیں۔مگر شکر ہے میری زندگی بچ گئی۔میری بیٹی کی شادی ہو چکی ہے۔وہ آپ جیسے فرشتہ صفت انسانوں سے ملنا چاہتی ہے۔وہ بھی آپ کو اپنا بھائی سمجھتی ہے۔میں تو شائد اسی رات ختم ہو جاتا اگر آپ لوگ نہ ہوتے۔پولیس ڈیپاٹمنٹ کو آپ جیسے فرض شناس جوانوں کی ضرورت ہے۔میں نے بڑی مشکل سے آپ لوگوں کا ایڈریس تلاش کیا۔اس کے ساتھ کچھ رقم کے چیک ہیں یہ آپ کے احسان کا بدلہ تو نہیں مگر اس میں میری خوشی ہے۔
احسان مند
چودھری رب نواز
اور دونوں کی آنکھوں سے آنسووو¾ں کی رم جھم جاری تھی۔
٭٭٭
kmkhalidphd@yahoo.com

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

دروازہ …محمد جاوید انور

دروازہ محمد جاوید انور "کہہ دیا نا میں نے لکھنا چھوڑ دیا ہے۔” اس کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے