سر ورق / یاداشتیں / ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 31 سیدانور فراز

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 31 سیدانور فراز

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول
عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو!

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 31
سیدانور فراز

ماہنامہ سرگزشت کا اجرا ادارے کے لیے کئی اعتبار سے اہم ثابت ہوا، وہ لوگ جو جاسوسی یا سسپنس میں شائع ہونے والی سرّی ادب کی طبع زاد یا ترجمہ کہانیوں پر ناک بھوں چڑھا کر تبصرے کیا کرتے تھے، سرگزشت کے حوالے سے محتاط ہوگئے اور اس کے باقاعدہ قاری بن گئے، دوسرا اہم ترین فائدہ یہ ہوا کہ سرگزشت کی بدولت نئے لکھنے والوں سے رابطہ ہوا ورنہ صورت حال یہ تھی کہ چند مخصوص مصنفین ہی تمام پرچوں کے لیے کافی سمجھے جاتے تھے، مثلاً ہمارے ادارے میں الیاس سیتا پوری، محی الدین نواب، احمد اقبال ، عبدالقیوم شاد، محمود احمدمودی ،اقبال کاظمی، علیم الحق حقی ادارے کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے تھے، اقلیم علیم کا نام اس فہرست میں ہم نے اس لیے شامل نہیں کیا کہ وہ صرف ایک سلسلے وار کہانی کے علاوہ مزید کچھ نہیں لکھتے تھے،ادارے کی تمام ضروریات پوری کرنے کا زیادہ بوجھ مذکورہ بالا مصنفین پر تھا، اس کے علاوہ بھی دیگر مصنفین مثلاً اثر نعمانی، اسلام حسین تو اول روز ہی سے ادارے سے جُڑے رہے لیکن ہمارے دور میں ان کا کام بہت محدود رہ گیا تھا، یہی صورت چچا اسلام حسین کی تھی، 1994 ء کے بعد کاشف زبیر بھی اس فہرست میں نمایاں ہوگئے، اقبال کاظمی جب ایک بار ادارہ چھوڑ گئے تو پھر انھیں وہ مقام نہیں مل سکا جو کبھی پہلے انھیں حاصل تھا۔
اس صورت حال میں سرگزشت کے آغاز کے ساتھ ہی نئے لکھنے والوں کی تلاش کا مرحلہ بھی ہمارے سامنے رہا، سرگزشت ہی کی وجہ سے اقبال کاظمی، ابو ضیا اقبال کی واپسی ہوسکی، نئے لکھنے والوں میں علی سفیان آفاقی، طاہر جاوید مغل، کاشف زبیر، اختر حسین شیخ، روبینہ رشید اور بہت سے دیگر لکھاریوں کا اضافہ ہوا، بعض پرانے اور زیادہ لکھنے والے جن کا ذریعہ ء آمدن ہی ان کی تحریر تھی سرگزشت کے لیے بھی کام کرنے لگے،علیم الحق حقی، محمود احمد مودی،منظر امام، احمد صغیر صدیقی، غلام قادر، ساجد امجد، شمیم نوید،افسر آذر وغیرہ ، صدیقی صاحب اور مودی صاحب نے سرگزشت کے لیے ترجمے کا بہت کام کیا گویا سرگزشت ہر طرح کے صاحبانِ قلم کے لیے ایک کھلا میدان تھا اور اس کا آخری حصہ یعنی ’’سچ بیانیاں‘‘ نئے لکھنے والوں کے لیے ایک شاندار نرسری کی حیثیت رکھتا تھا،اس حصے میں درحقیقت زندگی آموز اور زندگی آمیز کہانیوں کو اہمیت دی جاتی تھی جو حقیقت سے قریب تر اور سچائی کا مظہر ہوں، بہت سی ڈاک سے آئی ہوئی کہانیاں ضروری اصلاح و درستی کے بعد اس میں شامل کی جاتیں، بعض مشہور شخصیات کی ایسی کہانیاں جو ان کے اصل نام سے شائع نہیں کی جاسکتی تھیں، نام بدل کر اس حصے میں شائع ہوتیں، دو اہم نام جو ذہن میں نہیں آئے تھے،حاجی عدیل اور ایم الیاس کے ہیں، انھوں نے بھی خصوصاً اس حصے کے لیے بہت کہانیاں لکھیں، اکثر ایسا بھی ہوتا تھا کہ کوئی سچا واقعہ ہمارے یا کسی کے بھی علم میں آتا تو کسی مصنف کو اس پر طبع آزمائی کا موقع دیا جاتا، اس حوالے سے عجیب واقعہ ایک بار ہمارے علم میں آیا اور ہم بے چین ہوگئے، عشق ویسے بھی ہمارا پسندیدہ موضوع ہے اور اس موضوع پر غیر معمولی شعر ، کہانی ، فلم یا ڈراما ہماری کمزوری ہے، یہ کہانی بھی عشق کے خارزار سے گزرتی ہے ؂
وہ کچی آگ ہے جس میں دھواں ہو
وہ کچا عشق ہے جس میں فغاں ہو
ہمارے قارئین کو معلوم ہونا چاہیے کہ اردو ادب کے علاوہ بھی ہمارے بہت سے شوق یا دلچسپیاں رہے ہیں جن میں اکلٹ سائنسز بھی شامل ہے، چناں چہ ایسے لوگوں سے ہمیشہ سے رابطہ ہوتا رہتا ہے جو اپنے پیچیدہ نوعیت کے مسائل میں مشورہ چاہتے ہوں ،چناں چہ سچی کہانیوں کی ہمیشہ ہمارے پاس بہتات رہی ہے، ایک بار ایک خاتون ہم سے ملنے آئیں، ان کی عمر اس وقت تقریباً پینتالیس سال ہوگی، خاصی بھاری بھرکم اور گفتگو میں انتہائی مہذب۔
انھوں نے کہا کہ آپ کے بارے میں میری ایک واقف نے مجھے بتایا تھا، میں ایک خاص مسئلے میں آپ کی مدد چاہتی ہوں۔
ہم نے پوچھا ’’فرمائیے، میں آپ کی کیا مدد کرسکتا ہوں؟‘‘
وہ بولیں ’’کیا میں آپ پر مکمل اعتماد کرسکتی ہوں؟‘‘
ہم نے پورے اعتماد سے جواب دیا ’’ضرور!‘‘
خاتون نے ایک گہری سانس لی اور چند لمحے سرجھکاکر بیٹھی رہیں جیسے سوچ رہی ہوں کہ بات کہاں سے شروع کی جائے پھر انھوں نے کہنا شروع کیا
’’میری والدہ کا انتقال بہت چھوٹی عمر میں ہوگیا تھا، بہن بھائیوں میں ، میں سب سے بڑی تھی، میری عمر اس وقت 14 سال تھی، ہمارے والد نے دوسری شادی نہیں کی بلکہ گھر کی تمام ذمے داری مجھ پر ڈال دی، یہاں تک کہ کھانا پکانے کا کام بھی مجھے اس وقت کرنا پڑا جب کہ میں صحیح طور پر کھانا پکانا نہیں جانتی تھی، میری والدہ بہت عمدہ کھانا پکاتی تھیں اور میرے والد عمدہ کھانے کے بہت شوقین تھے،مزاجاً وہ نہایت سخت گیر واقع ہوئے تھے اور خاص طور پر اگر کھانا اچھا نہ لگے تو بہت بری طرح پیش آتے تھے، کئی بار انھوں نے اس بات پر مجھے بری طرح مارا۔
’’ہماری رہائش کراچی کے متوسط علاقے میں تھی جہاں ایک قطار میں سرکاری کوارٹر بنے ہوئے تھے، ایسے ہی ایک موقع پر جب انھوں نے مجھے مارنا پیٹنا شروع کیا اور میری چیخ و پکار پڑوسیوں نے سنی تو ہمارے برابر کے کوارٹر میں رہنے والے ایک شریف آدمی ہمارے دروازے پر آگئے اور زور سے دروازہ کھٹکھٹایا، والد صاحب کا ہاتھ رک گیا اور انھوں نے جاکر نہ معلوم پڑوسی سے کیا کہا مگر دوبارہ واپس آکر پھر مجھ پر ہاتھ نہیں اٹھایا، دیگر بہن بھائیوں کے ساتھ بھی ان کا سلوک ایسا ہی تھا، وہ کوئی غلطی معاف کرنے پر تیار نہیں ہوتے تھے،زندگی کی دیگر ضروریات میں ہمارا بڑا خیال رکھتے،انھوں نے کبھی ہمیں کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔
ایک روز میں دروازے پر کھڑی تھی کہ ہمارے پڑوسی باہر سے واپس آئے، دونوں گھروں کے دروازے باہم نہایت قریب قریب تھے، انھوں نے میری طرف دیکھا اور مسکرائے پھر میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور پوچھا ’’دوبارہ پٹائی تو نہیں ہوئی؟‘‘
میں سہمی ہوئی نظروں سے انھیں دیکھ رہی تھی ، ان کی بات سن کر میری آنکھیں جھک گئیں، ان کے ہاتھ میں ایک تھیلا تھا جس میں شاید کچھ سامان تھا، انھوں نے تھیلے میں ہاتھ ڈال کر بسکٹ کا ایک پیکٹ نکالا اور میری طرف بڑھادیا، میں نے جھجکتے ہوئے بسکٹ لے لیے، ایک بار پھر انھوں نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا ، اس دوران میں ان کے گھر کا دروازہ کھل گیا تھا ، وہ اندر داخل ہوگئے۔
’’اس واقعے نے میرے ذہن پر بڑا عجیب اثر ڈالا، میں سوچنے لگی ، کیا کوئی مرد اتنی نرمی اور محبت سے بھی بات کرسکتا ہے؟ کیوں کہ میرا تجربہ اپنے والد کے حوالے سے اس سے مختلف تھا، اس کے بعد اکثر ایسا ہوتا رہا اور میں بھی جان بوجھ کر ان کے گھر آنے کے وقت دروازے پر پہنچ جاتی اور وہ حسب معمول کوئی نہ کوئی چیز اپنے تھیلے میں سے نکال کر میری طرف ضرور بڑھاتے، کبھی پھل، کبھی مٹھائی، کبھی مونگ پھلیاں وغیرہ، ایک روز تو جیسے قیامت ہی آگئی، جس وقت میں ان سے کوئی چیز لے رہی تھی ، اسی وقت میرے والد بھی آپہنچے اور نہایت غضب ناک لہجے میں انھیں برا بھلا کہنا شروع کردیا، وہ بے چارے معذرت کرکے اپنے گھر میں داخل ہوگئے اور میری کمبختی آگئی۔
اندر آکر انھوں نے مجھے مارنا شروع کیا اور اتنا مارا کہ میں بے ہوش ہوگئی، مجھے نہیں معلوم بعد میں کیا ہوا؟ جب مجھے ہوش آیا تو میں اپنی خالہ کے گھر میں تھی، وہ مجھے اپنے گھر لے آئیں تھیں، انہی کی زبانی معلوم ہوا کہ والد صاحب نے مجھ پر نہایت ہی گھٹیا الزامات لگائے ہیں، مجھے بدچلن اور آوارہ کا خطاب دیا گیا ہے،اس وقت میں میٹرک کی طالبہ تھی، والد صاحب کے گھٹیا الزامات کا مجھے بہت صدمہ ہوا، گویا میرا دماغ ہی الٹ گیا، میں نفسیاتی مریضہ بن گئی، مجھ پر ہسٹیریا کے دورے پڑنے لگے، میری خالہ نے میری دیکھ بھال اور علاج معالجے میں کوئی کسر نہ چھوڑی، میری حالت بہتر ہوئی تو میں نے دوبارہ تعلیم کا سلسلہ شروع کیا پھر والد صاحب مجھے دوبارہ گھر لے آئے لیکن اب ان کا رویہ خاصا تبدیل ہوچکا تھا، مجھ سے بات کرنا پسند نہیں کرتے تھے، کوئی بات کہنا ہو تو دوسرے بہن بھائیوں کے ذریعے کہتے، میرے دل میں بھی ان کی طرف سے ایک پھانس سی چبھ گئی تھی، میں بھی خاموش رہتی اور اپنی تعلیم پر توجہ دیتی۔
اپنے گھر واپس آنے کے بعد میں نے اپنے مہربان پڑوسی کے بارے میں معلوم کیا تو پتا چلا کہ والد صاحب کا ان سے دوبارہ جھگڑا ہوا اور ان پر بھی والد صاحب نے بدچلنی کا الزام لگایا، محلے کے لوگوں کے سامنے ان کی بے عزتی کی کہ یہ شخص جو شادی شدہ اور بال بچے دار ہے ، میری بیٹی کو ورغلا رہا تھا، اس بے عزتی کے بعد وہ شریف آدمی اپنا مکان بیچ کر کہیں اور چلے گئے تھے۔
اس بات سے مجھے اور بھی شدید ذہنی اذیت محسوس ہوئی اور میرے دل میں ان کے لیے ہمدردی کے جذبے کی ایک شدید لہر اٹھی، انھیں دیکھنے اور ان سے ملنے کے لیے میری بے قراری بڑھنے لگی، اب میری نظر میں وہ دنیا کے سب سے عظیم انسان تھے،میں ہر قیمت پر ان سے مل کر معافی مانگنا چاہتی تھی کہ آپ کو میری وجہ سے جو ذلت برداشت کرنا پڑی ، اس کی جو سزا آپ چاہیں مجھے دے سکتے ہیں لیکن کئی سال بیت گئے ، ان کا کوئی سراغ نہ مل سکا، اسی دوران میں والد صاحب کا انتقال ہوا، میں نے گریجویشن کرلیا تھا پھر ٹیچنگ کاکورس بھی کیا اور ایک سرکاری اسکول میں جاب بھی مل گئی، میری چھوٹی بہن کی شادی ہوگئی اور بھائی بھی برسرروزگار ہوگئے، مجھے بھی کوئی مالی پریشانی نہ رہی،بس ایک کانٹا سا دل میں کھٹکتا رہتا تھا ، آخر کار میری تلاش رنگ لائی، ہمارے بلاک میں ایک خاتون رہتی تھیں جن کی ہمارے پڑوسی کی بیگم سے اچھی دوستی تھی، ایک روز میں نے انھیں دیکھا کہ وہ ان خاتون کے گھر میں داخل ہورہی ہیں، اس وقت ان کے پاس جانا مناسب نہیں سمجھا لیکن بعد میں خاتون کے گھر جاکر پوچھا کہ وہ کیوں آئی تھیں اور اب کہاں رہتی ہیں؟
معلوم ہوا کہ برسوں بعد اپنی بیٹی کی شادی کا دعوت نامہ دینے آئی تھیں، بہر حال ان کی مدد سے رہائشی پتا معلوم ہوگیا اور پھر میں ایک روز صبح سویرے ہی ان کے گھر کے سامنے رکشا میں بیٹھی ان کے گھر سے نکلنے کا انتظار کر رہی تھی،اس طرح میں نے ان کی دکان کا پتا معلوم کرلیا، مجھے تو ان کا نام بھی معلوم نہیں تھا،وہ ایک گھڑی ساز تھے، بندر روڈ پر ان کی خاصی بڑی شاپ تھی جہاں گھڑیوں کی خریدوفروخت کے علاوہ مرمت کا کام بھی ہوتا تھا۔
اب میری زندگی میں ایک مقصدیت آچکی تھی، میں نے ان کی دکان سے کئی گھڑیاں خریدیں اور اکثر کوئی گھڑی خود خراب کرتی اور اسے مرمت کے لیے دے کر آتی، دکان پر میرا واسطہ اکثر ان کے کسی ملازم یا بیٹے سے پڑتا، وہ دکان کے ایک گوشے میں سرجھکائے کام میں مصروف نظر آتے، میری کبھی ہمت ہی نہ ہوئی کہ ان سے بات کروں اور بات کروں تو کیا بات کروں، اکثر جب ان کی دکان پر جانے کا ارادہ کرتی تو رات بھر ذہن میں خیالوں کی بھرمار ہوتی، ان سے بات کرنے کے لیے سو طریقے سوچتی لیکن صبح جب دکان پر پہنچتی تو سب بھول جاتی اور بس ایک نظر انھیں دیکھ کر واپس آجاتی، یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا، میں ان سے اپنی محبت کو کوئی نام نہیں دے سکتی تھی مگر انھیں دیکھ کر مجھے ایک روحانی خوشی حاصل ہوتی تھی، میرے رشتے داروں نے میری شادی کے لیے بھی زور دیا لیکن میں نے انکار کردیا تھا۔
ایک روز عجیب اتفاق ہوا، میں معمول کے مطابق دکان میں داخل ہوئی تو خاصا سناٹا نظر آیا، کاؤنٹر پر کوئی نہیں تھا، میں حیرانی سے ادھر اُدھر دیکھ رہی تھی، انھوں نے بھی مجھے دیکھ لیا تھا، شاید پہلی مرتبہ اپنی دکان میں دیکھا تھا، اس سے پہلے شاید انھوں نے کبھی مجھ پر نظر بھی نہیں ڈالی تھی، میں بھی کن انکھیوں سے انھیں دیکھتی رہتی تھی،وہ فوراً اٹھ کھڑے ہوئے اور میرے قریب آگئے۔
’’جی فرمائیے ، کیا کام ہے؟‘‘ انھوں نے پوچھا۔
میں کیا جواب دیتی، میری کچھ سمجھ میں ہی نہیں آرہا تھا لیکن قریب آنے کی وجہ سے انھوں نے مجھے پہچان لیا اور حیران رہ گئے،میرا نام لے کر بولے ’’تم!‘‘چند لمحے وہ حیرت کے عالم میں مجھے دیکھتے رہے ، پھر بولے ’’آؤ، ادھر آجاؤ‘‘ اور اپنی ٹیبل کی طرف بڑھ گئے، میں بھی ان کے پیچھے پیچھے ٹیبل تک پہنچ گئی، ٹیبل کے ساتھ ایک اضافی کرسی موجود تھی، انھوں نے ہاتھ سے اشارہ کرکے مجھے بیٹھنے کے لیے کہا اور میں بیٹھ گئی، سب کچھ میں ایک مشینی انداز میں کر رہی تھی۔
اپنی کرسی پر بیٹھنے کے بعد انھوں نے میرے والد اور دیگر بہن بھائیوں کے بارے میں پوچھا جس کا میں نے انھیں جواب بھی دیا پھر پوچھا ’’شادی کہاں ہوئی؟ شوہر کیسے ہیں؟ بچے کتنے ہیں؟‘‘
میں جیسے سکتے میں آگئی، مجھ سے کوئی جواب نہ بن پڑا، ٹک ٹکی باندھے انھیں دیکھتی رہی اور پھر پتا نہیں کیا ہوا، میری آنکھوں کے دریا اُبل پڑے اور ان کے چہرے پر حیرت کا طوفان نمودار ہوا، آنسو تھے کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے ؂
آج تو اُس نے حال پوچھا ہے
مجھ سے مِرا خیال پوچھا ہے
جس کا کوئی جواب دے نہ سکوں
مجھ سے ایسا سوال پوچھا ہے
انھوں نے اپنی دراز سے فوراً ایک رومال نکالا اور میری طرف بڑھا دیا، میں نے بڑی مشکل سے خود پر قابو پایا، اتنی دیر میں وہ اپنی جگہ سے اٹھے اور ایک گلاس پانی بھی لے آئے جو میرے سامنے رکھ دیا، میں نے پانی پیا اور خاموش بیٹھ گئی۔
چند لمحے خاموشی سے گزرے، شاید وہ سوچ رہے تھے کہ اب سوال کی نوعیت کیا ہونا چاہیے آخر میں نے ان کی مشکل آسان کردی اور انھیں بتایا کہ میں نے شادی نہیں کی۔
’’کیوں؟‘‘
’’کوئی آپ جیسا ہمدرد نہیں ملا‘‘ شاید میرا یہ جواب اختیاری نہ تھا، بے ساختہ زبان پر یہی جملہ آیا اور جیسے ہی احساس ہوا کہ میں نے کیا کہہ دیا ہے، میری نظریں جھک گئیں اور ایک بار پھر آنسو رواں ہوگئے۔
اس جواب پر مجھے اندازہ نہیں کہ ان کا تاثر کیا تھا، اچانک وہ پتھر کے ہوگئے تھے پھر نہایت نپے تلے الفاظ میں گویا ہوئے ’’تم نے غلطی کی، تمھیں شادی کرلینا چاہیے تھی،میں نے تمھیں کبھی ایسی نظر سے نہیں دیکھا تھا، تمھیں یہ غلط فہمی کیوں ہوئی؟‘‘
’’مجھے کبھی کوئی غلط فہمی نہیں ہوئی، آپ ہی ہمیشہ میری نظروں میں رہے‘‘
پھر انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ میں کب سے ان کی دکان پر آرہی ہوں تو میں نے انھیں بتادیا اور ساتھ ہی یہ بھی بتادیا کہ اگر آج اتفاقاً اس طرح ملاقات نہ ہوتی تو میرا یہ معمول جاری رہتا، اس سے زیادہ میں کچھ نہیں چاہتی۔
انھوں نے پوچھا ’’اب مجھ سے کیا چاہتی ہو؟‘‘
میں نے جواب دیا ’’صرف چند لمحے آپ کے ساتھ گزر جائیں، آپ کو دیکھ لیا کروں‘‘
انھوں نے بتایا کہ میں روزانہ صبح گھر کے قریب ایک پارک میں چہل قدمی کرتا ہوں، کیا تم وہاں آسکتی ہو؟‘‘
میں خوش ہوگئی اور فوراً رضا مندی ظاہر کردی، اس طرح ان کی دکان پر جانا ختم ہوگیا جو میرے لیے خاصا لمبا سفر ہوتا تھا اور روزانہ یہ ممکن بھی نہیں تھا، ان کی رہائش ہمارے گھر سے زیادہ دور نہیں تھی ، اب میرا روز کا معمول یہی تھا کہ بہت سویرے اٹھ کر اس پارک میں پہنچ جاتی جہاں وہ چہل قدمی کرتے تھے اور خود بھی ان کے ساتھ چہل قدمی کرتی، بعد ازاں اپنے اسکول چلی جاتی،یہ میری زندگی کے خوش گوار ترین دن ہیں، میرا یہ معمول جاری ہے ۔
ہم نے پوچھا کہ جب دونوں طرف سے اس نوعیت کی ہم آہنگی موجود ہے تو نکاح بھی ہوسکتا ہے، خواہ وہ خفیہ طریقے پر ہی کیوں نہ ہو، انھوں نے جواب دیا کہ وہ اس کے لیے قطعی طور پر آمادہ نہیں ہیں، انھوں نے واضح الفاظ میں مجھے یہ بھی بتادیا کہ میں نے تمھیں نہ کبھی ایسی نظر سے دیکھا اور نہ ہی آئندہ دیکھ سکتا ہوں، اب عمر کی جس منزل میں ہوں، پوتا پوتی، نواسا نواسی والا ہوں، اس حوالے سے کچھ سوچ بھی نہیں سکتا، تم نے جس انداز کی زندگی گزاری ہے، نادانستہ طور پر اس میں ایک خاص حوالے سے میرا نام بھی آگیا ہے، میں تمھاری خوشی کے لیے جو کرسکتا ہوں وہ کرتا رہوں گا۔
ہمارا اگلا سوال یہ تھا ’’ ہم سے آپ کیا چاہتی ہیں؟‘‘
’’کیا ان کے دل میں میرے لیے محبت پیدا ہوسکتی ہے؟‘‘
ہم نے پھر سوال کیا’’ان کے واضح انکار اور اس کی معقول وجہ کے باوجود کیا آپ ان سے شادی کرنا چاہتی ہیں؟‘‘
’’نہیں،ایسا نہیں ہے، شادی کی مجھے بھی اب کوئی خواہش یا ضرورت نہیں ہے لیکن یہ احساس دل میں کچوکے لگاتا ہے کہ وہ مجھ سے محبت نہیں کرتے، مجھ پر ترس کھا کر ایک احسان کر رہے ہیں‘‘
ہم سوچ میں پڑگئے، غالب کا مشہور شعر یاد آیا ؂
ہم ہیں مشتاق اور وہ بے زار
یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے؟
یہ صورت حال تو عشق کے بنیادی فلسفے کے ہی خلاف ہے، عشق کبھی یک طرفہ نہیں ہوتا، عشق کی آنچ پتھر سے پتھر دل کو بھی پگھلا کر موم کردیتی ہے،اگر خاتون کی محبت سچی ہے اور ان کی طویل جدوجہد میں بھی کوئی کوتاہی نہیں تو پھر یہ کس نوعیت کا عشق ہے ؂
یا رب! غم عشق کیا بلا ہے
ہر شخص کا تجربہ نیا ہے
ہم نے ان سے وعدہ کرلیا کہ اس حوالے سے جو کچھ ہوسکے گا، وہ ضرور کریں گے،اس کے بعد ان کے ہمارے مراسم مزید بڑھتے چلے گئے، اب وہ مہینے میں ایک بار ضرور ہمارے آفس آتیں اور کافی دیر تک اس موضوع پر باتیں کرتی رہتی تھیں، پھر ایک روز وہ آئیں تو آتے ہی رونا شروع کردیا، ان صاحب کا انتقال ہوگیا تھا، ہم نے انھیں تسلی دلاسے دیے، بہر حال اس کے بعد بھی ان سے ملنا جلنا رہا، دو تین بار ہم ان کے گھر بھی گئے ، اپنی وائف سے بھی ملوایا، اسکول سے وہ پرنسپل کے عہدے سے ریٹائر ہوئیں اور گھر تک خود کو محدود کرلیا، کبھی کبھار ہماری طرف آجاتیں اور اب ہماری اہمیت ان کی نظر میں بہت زیادہ ہوگئی تھی کہ ہم ہی ان کے واحد رازدار تھے، وہ ہمارے علاوہ کسی اور سے اپنے محبوب کی باتیں نہیں کرسکتی تھیں ؂ ذکر حبیب اصل میں وصلِ حبیب ہے۔ہم سے مرحوم کی باتیں دیر تک کرتی رہتیں اور خوش ہوتی رہتیں، تقریباً چار سال قبل انھوں نے فون پر بتایا کہ انھیں آرتھرائٹس کا شدید اٹیک ہوا ہے، اب وہ ہمارے آفس یا گھر تک نہیں آسکتیں، ہم سے درخواست کی کہ آپ چکر لگائیں، ہم ایک دفع گئے اور پھر نہ جاسکے، تقریباً دو سال تک نہ ان کا فون آیا اور نہ ہمارا خیال ان کی طرف گیا، ایک روز بالآخر یاد آیا تو ہم نے انھیں فون کیا، معلوم ہوا کہ وہ نمبر اب کسی اور کے استعمال میں ہے، ایک اتوار کو ہم ان کے گھر پہنچ گئے تو نئی اطلاع یہ ملی کہ اب اس گھر میں کچھ اور لوگ آگئے ہیں، اللہ بس، باقی ہوس۔
یہ کہانی ہم نے حسام بٹ یا نوشاد عادل سے لکھوائی تھی اور ماہنامہ سرگزشت میں شائع بھی ہوئی۔
بات کہاں سے شروع ہوئی تھی اور اس کا رُخ کس طرف مڑ گیا، عرض یہ کرنا تھا کہ سرگزشت کی سچ بیانیاں نئے لکھنے والوں کے لیے مواقع فراہم کرتی تھیں، ہمیں یاد ہے کہ عبدالرب بھٹی کی ابتدا بھی ادارے میں ان ہی سچ بیانیوں سے ہوئی تھی، اس وقت بھٹی صاحب جیکب آباد میں مقیم تھے اور ڈاک کے ذریعے کہانیاں ہمیں بھیجا کرتے تھے،چوں کہ سندھ کے ماحول پر اور معاشرت پر ان کی گہری نظر تھی لہذا ورائٹی کے لیے ان کی کہانیاں ضروری اصلاح و ترمیم کے بعد شامل اشاعت ہوتی تھیں،آہستہ آہستہ ان کی تحریر میں پختگی آتی گئی اور پھر انھیں سرورق کے رنگ بھی دیے گئے، وہ اخبار جہاں میں بھی لکھنے لگے، ہمارے ساتھ ان کی محبتیں ہمیشہ عروج پر رہیں، وہ کراچی شفٹ ہوئے تو مراسم اور بھی بڑھے جو آج بھی قائم ہیں، یہ الگ بات ہے کہ اب برسوں سے ملاقات نہیں ہوئی، گزشتہ دنوں فون پر ملاقات کا ارادہ ہوا تھا لیکن وہ ہم سے زیادہ مصروف ہوچکے ہیں ؂ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : سید انور فراز قسط نمبر 29

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول عبرت سرائے دہر ہے اور ہم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے