سر ورق / ناول / درندرہ۔۔ خورشید پیرزادہ قسط نمبر 18

درندرہ۔۔ خورشید پیرزادہ قسط نمبر 18

درندرہ۔۔ خورشید پیرزادہ

قسط نمبر 18

”وردا‘ میڈم کو گئے ہوئے بہت دیر ہوگئی ہے- انہوں نے کوئی فون نہیں کیا-“ راجو نے کہا-

”تو تم ہی فون کرکے پوچھ کہ کیا بات ہے-“ وردا نے مشورہ دیا-

”ہاں- میں ڈر رہا تھا کہ کہیں ڈانٹ نہ پڑ اجائے-“

”لاﺅ پھر میں بات کرتی ہوں-‘ وردا نے راجو کے ہاتھ موبائل لیتے ہوئے کہا-

”کیا ہوا— انہوں نے کال ریسیو کی؟-“

”نہیں- بس رنگ جا رہی ہے-“

”اب تو مجھے جانا ہی ہوگا- لگتا ہے سب لوگ مصیبت میں ہیں-“ راجو نے کہا-

”ہاں جانا بھی چاہئے- مگر میں تم کو اکیلے نہیں جانے دوں گی-“

”سمجھنے کی کوشش کرو- وہاں بہت خطرہ ہے- اگر تم کو کچھ ہوگیا تو میں جیتے جی مرجاﺅں گا-“ راجو نے وردا کا چہرہ اپنے ہاتھوں کے ہالے میں لیتے ہوئے کہا-

”میرا بھی یہی حال ہے- تمہیں کچھ ہوگیا تو میں بھی جی کر کیا کروں گی- مجھے خود سے دور مت کرو- ہم ایک ساتھ ہر خطرے کا سامنا کریں گے-“ وردا نے ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا-

”پتہ نہیں وہاں کیا ہو رہا ہے- لیکن میری چھٹی حس کسی انہونی کا احساس دلا رہی ہے-“

”مجھے بھی یہی اندیشہ ہے- ورنہ ان میں سے کوئی تو ہمیں فون کرتا- اب دیر نہیں کرنی چاہئے- جلدی چلو-“

”ہاں چلو- پستول اٹھا لو- اور گھبرنا ا بالکل نہیں-“ راجو نے اسے حوصلہ دلاتے ہوئے کہا-

”مجھے اپنی نہیں تمہاری فکر ہے- جب سے تم سے محبت ہوئی ہے‘ میں نے اپنی فکر کرنی ہی چھوڑ دی ہے-“ وردا ڈوبے ہوئے لہجے میں بولی-

”میرے خیال سے جھاڑیوں کے راستے جانا ہی مناسب رہے گا-“ راجو نے کہا-

”ہاں یہی ٹھیک رہے گا-“ وردا نے اس کی تائید کی-

درندہ نہایت بے رحمی کے ساتھ شہلا کو لاتیں ما رہا تھا اور بیچ بیچ میں بونس کے طور پر ایک دو لاتیں مونا کے جسم پر بھی چلا رہا تھا-

”آج میں تم کو وہ درد دوں گا کہ تم کو اپنی پیدائش پر پچھتاوا ہونے لگے گا- مجھے یہ بالکل بھی اچھا نہیں لگتا کہ میرے فن کا کوئی حصہ آزادی کے ساتھ گھومتا پھرتا نظر آئے- کھائی سے تو تم زندہ بچ نکلیں- لیکن آج نہیں بچو گی-“ یہ کہتے ہوئے درندہ وہاں سے چلا گیا- مگر جانے سے پہلے اس نے شہلا اور مونا کی پستولیں اور موبائل اپنے قبضے میں لے لئے تھے-

یہ سب درد سے کراہنے کے علاوہ کچھ نہ کرسکے- کیونکہ ان کے جسموں میں اتنی جان ہی نہیں رہی تھی کہ اٹھ بھی سکتے-

تھوڑی ہی دیر میں درندہ دوبارہ لوٹ آیا- اس بار بھی اس کے ہاتھ میں بیس بال کا بیٹ تھا- مگر اس بیٹ پر خار دار تار لپٹی ہوئی تھی-

رفیق نے درندے کا نیا ہتھیار دیکھ تو لرز کر رہ گیا-

”اوہ میرے خدا—- مجھے کچھ کرنا ہی ہوگا- میں میڈم کو کچھ نہیں ہونے دوں گا-“ رفیق کے ہاتھ پاﺅں بلاسٹ اور پھر درندے کی کرم فرمائی کی وجہ سے بری طرح زخمی ہوچکے تھے- اس کے لئے کھڑا ہونا بھی مشکل امر تھا- اس نے بڑی مشکلوں سے دائیں جانب کروٹ لی اور کسی نہ کسی طرح پیٹ کے بل خودکو گھسیٹتا ہوا شہلا کے پاس آگیا-

”اس لئے منع کر رہا تھا آپ کو— لیکن آپ میری بات سنتی ہی کہاں ہیں- آپ کے جسم پر جو چوٹ بھی لگے گی- اس کا درد بھی مجھے ہی ہوگا- اور میرے اپنے درد بدن کے درد کے مقابلے میں یہ درد زیادہ ہولناک ہے میرے لئے- کاش آپ میری محبت سمجھ پاتیں–“ رفیق بری طرح جذباتی ہو رہا تھا-

”یہ سب کیسے ہوگیا- ہماری پلاننگ کیسے ناکام ہوگئی؟-“ شہلا کی آواز میں درد کی شدت محسوس ہو رہی تھی-

”اس کمینے نے کمرے میں بم لگا رکھا تھا- میں اور مراد بلاسٹ کی لپیٹ میں آگئے تھے- ہاتھ پاﺅں بری طرح زخمی ہیں-“ رفیق نے بتایا-

”یا خدا- اس کا مطلب ہے ہمارا پورا پلان ہی فیل ہوگیا-“

”ہاں- اس نے پہلے ہی اینٹی ڈوٹ حاصل کرلی تھی- یہ بس ہمیں اپنے جال میں پھنسانے کے لئے ناٹک کر رہا تھا-“

”واہ بھئی واہ—- بہت گرما گرم چکر لگتا ہے تم دونوں کا- شاید عشق محبت کے ڈائیلاگ بولے جا رہے ہیں- مجھے کام کے وقت باتیں بالکل پسند نہیں ہیں- مسٹر مغلِ اعظم‘ اچھا ہوا کہ تم خود ہی یہاں لڑھک کر آگئے- اب قریب سے نظارہ کرنا کہ میں ڈی ایس پی صاحبہ کی کھال کیسے اڑاتا ہوں-“ درندے نے وار کرنے کے لئے بیٹ ہوامیں اٹھایا-

”رکو-“ رفیق چلایا اور کراہتے ہوئے اپنے بدن کو گھسیٹ کر شہلا کو اپنی پناہ میں لے لیا-

”خوشی سے کہیں مر نہ جاﺅں- آج کیسے کیسے نظارے دیکھنے کو مل رہے ہیں- یہ محبت بھی بڑی کتی چیز ہے— دیکھ لو بھئی مغل ِ اعظم اپنی ڈی ایس پی صاحبہ کی سزا خود بھگتنا چاہتے ہیں- ایسا سین تو کے آصف کی مغلِ اعظم میں بھی نہیں تھا- واہ- مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے- اب دیکھنا یہ ہے کہ تم اس بیٹ اور شہلا کے بیچ میں کتنی دیر تک ٹھہر پاتے ہو-ہی ہی ہی-“ درندہ خوشی سے جھوم رہا تھا-

”رفیق یہ کیا کر رہے ہو- تم ہٹ جاﺅ-“ شہلا نے رفیق کو دھکا دینے کی کوشش کی-

”پلیز – مجھ سے میرا حق مت چھینو- مجھے آپ سے بہت محبت ہے- میرے جیتے جیتے آپ کو کچھ ہوا تو میرا جینا بیکار ہے- آہ ہ ہ-“ اگلے ہی پل فضا میں رفیق کی خوفناک چیخ گونج اٹھی-

درندے نے بیٹ سے رفیق کی پیٹھ پر بہت زور کا وار کیا تھا-

”رفیق جلدی سے ہٹ جاﺅ میرے اوپر سے- تم پہلے ہی بہت زخمی ہو-“ شہلا نے کہا-

”نہیں- یہ درد میں تو سہہ لوں گا- لیکن اگر یہ درد آپ کو ملا تو نہیں سہہ سکوں گا- اس وقت کچھ اور تو میرے بس میں ہی نہیں ہے- اتنا درد تو سہہ ہی سکتا ہوں اپنی محبت کی خاطر-“ رفیق نے کراہتے ہوئے کہا-

”تم مجھ سے اتنی محبت کیوں کرتے ہو پاگل-“ شہلا نے پوچھا-

رفیق کی پیٹھ پر ایک اور وار ہوا- ”آہ ہ ہ ہ ہ—- بس آپ سے محبت ہوگئی- کیوں ہوگئی- یہ نہیں جانتا-“

راجو اور وردا نے جب فارم ہاﺅس کی دیوار سے اندر جھانک کر دیکھا تو ان کے چہروں پر ہوائیاںاڑنے لگیں-

”راجو اسے شوٹ کر دو-“ وردا نے آہستہ سے کہا-

”شش- چپ رہو- ایسے بنا سوچے سمجھے کچھ نہیں کرنا چاہئے- دیکھو اگر میرا نشانہ چوک گیا تو وہ بوکھلاہٹ میں سب کو گولیاں مار سکتا ہے- وہ بہت ماہر نشانے باز ہے- اتنی دور سے میں فائر تو کر سکتا ہوں مگر اس بات کی ضمانت نہیں ہے کہ گولی اسے ہی لگے گی— اور میری ذرا سی غلطی سب کی جان خطرے میں ڈال سکتی ہے- ابھی وہ صرف تشدد کرکے ان سے کھیل رہا ہے- اور اگر اسے گولی لگ بھی گئی تو ہمارا مقصد ادھورا رہ جائے گا- میں اسے اتنی آسان موت نہیں مرنے دوں- اسے تڑپا تڑپا کر مارنا ہے-“ راجو جوش میں ہوش کے ساتھ بولا رہا تھا-

”ہاں- اور اسی تڑپانے کے چکر میں ہی وہ سب اس کے چنگل میں پھنسے ہیں- تم سمجھتے کیوں نہیں- اس کے سر میں گولی مار کر زمین کا بوجھ ہلکا کردو راجو-“ وردا کو درندے کا ایک لمحے زندہ رہنا بھی ناگوار گزر رہا تھا-

”وہ سب ٹھیک ہے- مگر میری بات سمجھنے کی کوشش تو کرو- میں یہ کہہ رہا ہوں کہ میرا نشانہ خطا ہوگیا تو پھر کیا ہوگا- سینے پر گولی مارنا رسکی ہے- کیونکہ ہوسکتا ہے اس نے بلٹ پروف جیکٹ پہن رکھی ہو-“راجو ابھی بھی ہوش کا دامن چھوڑنے کے لئے تیار نہیں تھا-

”تو کیا ہم یہاں چپ چاپ کھڑے ہوکر تماشہ دیکھتے رہیں-“ وردا نے تپ کر کہا-

تب انہوں نے درندے کے چیخنے کی آواز سنی- مغلِ اعظم- اب ہوشیار ہوجاﺅ- اب اگلا وار تمہارے سر پر ہو رہا ہے- مجھے پکا یقین ہے کہ اس وار سے تمہاری کھوپڑی کی کرچیاں اڑ جائیں گی- اور تم فوراً جہنم کے سفر پر روانہ ہوجاﺅ گے- اپنی جان پیاری ہے تو اس کتیا کے اوپر سے ہٹ جاﺅ-“

”شیخیاں مت بگھارو‘ جو کرنا ہے کرلو- حرامزادے میں پیچھے ہٹنے والوں میں سے نہیں ہوں- نہ ہی تمہاری طرح نامرد ہوں-“ رفیق نے بھی چیخ کر کہا-

”پلیز تم ہٹ جاﺅ- سر پر وار تمہاری جان لے لے گا- میں یہ کیسے دیکھ سکوں گی- پلیز مجھے سامنا کرنے دو-“ شہلا بہت کوشش کر رہ تھی رفیق کو اپنے اوپر سے ہٹانے کی مگر کامیاب نہیں ہو رہی تھی-

”گڈ بائے مغلِ اعظم-“ درندہ پھر چیخ کر چلایا-

راجو نے اب دیر کرنا مناسب نہیں سمجھا اور اس نے درندے کے سر کا نشانہ لے کر فائر کر دیا- گولی اس کے کان کی لو کو چھوتے ہوئے نکل گئی- اور وہ تڑپ کر چونک گیا-

فائر کرنے کے بعد راجو اور وردا فوراً نیچے ہوگئے تھے-”اوہ گاڈ- وہ بچ گیا-“ راجو نے بوکھلا کر کہا-

”آہ ہ ہ ہ- کون ہے وہاں- جلدی سے سامنے آجاﺅ ورنہ ان دونوں کو گولی مار دوں گا-“ درندہ کراہ کر بولا- اس کے کان کی لو سے خون بہہ رہا تھا-

”جس بات کا ڈر تھا- وہی ہوا- اب کیا کریں-“ راجو کی کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا-

”میں دیوار کود کر جاتی ہوں- تب تک تم کچھ سوچ لو-“ وردا نے کہا-

”نہیں- تم کہیں نہیں جاﺅ گی-“ راجو نے وردا کا ہاتھ پکڑ لیا-

”وہ ان کو گولی مار دے گا- ہمیں کچھ تو کرنا ہوگا نا-“

”تم یہیں رکو میں جاتا ہوں- تم وہاں گئیں تو میں کچھ نہیں کر سکوں گا-“

”نہیں—- تم یہاں رکو گے تو کچھ امید رہے گی- میں یہاں رک کیا کروں گی-“ وردا نے سمجھاتے ہوئے کہا-

”تم کو میری قسم مجھے جانے دو اور اپنی پستول بھی مجھے دے دو- میں ایک پستول ہاتھ میں رکھوں گا اور ایک چھپا کے-“

”یہ غلط بات ہے- قسم دینا بلیک میلنگ کہلاتا ہے-“ وردا بولی

”میں دس تک گنوں گا- جلدی سے سامنے آجاﺅ ورنہ سب کو گولی مار دوں گا-“ درندے نے پھر چلا کر کہا-اس نے اپنی جیب سے رومال نکال کر کان پر رکھ لیا تھا-

”اب میں جاﺅں-“

”ہاں جاﺅ-“

”آئی لو یو وردا- چاہے کچھ بھی ہوجائے تم یہیں رکنا- یہاں سے کسی صورت بھی مت ہلنا-“ راجو نے پھر سے تاکید کرتے ہوئے کہا-

”پانچ— چھ—- سات— آٹھ— نو-“ درندہ گنتی گن رہا تھا-

”آرہا ہوں- کیوں بچوں کی طرح گنتی گن رہے ہو- اسکول میں نہیں سیکھی تھی کیا- پتہ نہیں کیسے کیسے بے وقوف اور احمق موجود ہیں اس دنیا میں-“ راجو نے دیوار پھلانگتے ہوئے کہا-

ویسے تو چاندنی رات بہت خوبصورت رات ہوتی ہے اور ایسی رات میں کتنے ہی حسین فسانے جنم لیتے ہیں- لیکن یہ چاندنی رات بہت بھیانک روپ لئے ہوئے تھی- فارم ہاﺅس پر جو کچھ بھی ہو رہا تھا اس کی وجہ سے چاندنی رات بھی اماوس کی رات میں بدل گئی تھی-

جب راجو دیوار کود رہا تھا تو دوسری طرف وردا یہی دعا مانگ رہی تھی کہ اس کی عمر بھی راجو کو لگ جائے – اور راجو پر آنے والی ہر بلا اس پر آجائے- محبت میں انسان خود کو بھول کر صرف اسے یاد رکھتا ہے جس سے وہ بہت محبت کرتا ہے- رفیق اپنی پرواہ کئے بغیر شہلا کی ڈھال بنا ہوا تھا- کیونکہ وہ اسے تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا تھا-اپنی ہستی کو مٹا دینا اتنا آسان نہیں ہوتا- لیکن محبت کے نشے میں سرشار عاشق یہ سب بڑی آسانی سے جھیل جاتے ہیں- شاید اسی لئے محبت کو سب سے عظیم جذبہ قرار دیا جاتا ہے اور خدا کو پانے کا سب سے سچا اور پاک جذبہ بھی یہی ہے-

ِِ”میں اپنی محبت کو کچھ نہیں ہونے دوں گی- چاہے اس کے لئے مجھے کچھ بھی کیوں نہ کرنا پڑے- لیکن اے میرے خدا‘ میں کیا کروں‘ مجھ ناچیز کو کچھ سمجھ میں نہیں آرہا- کیا میں یہیں بیٹھی رہوں- مجھے کچھ تو کرنا ہوگا- یا خدا مجھے راستہ دکھا- مجھے راستہ دکھا-“ وردا آنکھیں بند کرکے دعا کر رہی تھی-

انسان پر جب بھی کوئی مشکل گھڑی آتی ہے تو وہ اپنے رب سے ہی رجوع کرتا ہے- وردا بھی یہی کر رہی تھی- کچھ سوچ کر وردا اٹھی اور دیوار کے ساتھ چلتی ہوئی کچھ آگے بڑھ گئی- اس نے کچھ کرنے کی ٹھان لی تھی-

راجو فارم ہاﺅس میں کود کر دیوار کے ساتھ ہی کھڑا رہا-

”تم نے مجھے کیا کہا- بے وقوف اور احمق—- یہ پستول وہیں پھینک کر یہاں آجاﺅ- میں تمہیں بتاتا ہوں کہ بے وقوف اور احمق کسے کہتے ہیں-تم جانتے نہیں ہو کہ میں کون ہوں اور کیا کر سکتا ہوں-“

درندے نے کرخت لہجے میں راجو کو حکم سنایا-

”اوکے فائن- یہ لو پستول پھینک دی میں نے- اور مجھے پتہ ہے کہ بے وقوف اور احمق کسے کہتے ہیں- تم سے بڑا بے وقوف اور احمق تو شاید ہی دنیا میں کوئی اور ملے گا- بغیر کسی وجہ کے لوگوں کو مارتے پھر رہے ہو- یہ سب کرکے تم کو ملتا کیا ہے؟-“

”ایک فنکار کو جوملتا ہے— وہی مجھے ملتا ہے— میں لوگوں کو خاص طریقے سے مارتا ہوں- انہیں ایک خوبصورت موت دیتا ہوں- آج میری زندگی کا سب سے بڑا دن ہے- آج پہلی بار ایک ساتھ اتنے لوگوں کو مارنے کا موقع مل رہا ہے— واہ واہ– واہ- تم کیا جانو کہ اس فن میں کیا مزا آتا ہے– یہ صرف میں ہی جانتا ہوں- کیونکہ میں فنکار ہوں—- اب جلدی سے یہاں آجاﺅ تاکہ تمہاری خاطرداری بھی شروع کر سکوں- فکر نہ کرو تمہارے ہر سوال کا جواب ملے گا-ہی ہی ہی -“ درندہ اب کھلکھلا کر ہنس رہا تھا- لگتا تھا کہ اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں ہے- جیسے ایک بچہ بہت سارے کھلونے دیکھ کر نہال ہوجاتا ہے کچھ ویسا ہی حال اس وقت درندے کا بھی تھا-

راجو خاموشی سے چلتا ہوا درندے کے قریب آگیا-

”بہت دن سے میں نے کسی کی کھوپڑی نہیں اڑائی- میری پستول بہت شکوے گلے کرتی ہے مجھ سے—- سوچتا ہوں آج یہ کمی بھی پوری کر دی جائے- تم نے میرے سر کا نشانہ لیا تھانا – ہونہہ—- تم نے میرے کان کو زخمی کر دیا—تمہارا نشانہ تو خطا ہوگیا مگر میرا نشانہ کبھی خطا نہیں ہوتا- میںگولی مار کر اڑتی چڑیا کو گرا سکتا ہوں- تو سوچو تمہاری کھوپڑی کیسے بچ سکتی ہے- ہی ہی ہی ہی-“

یہ سن کر ایک پل کے لئے تو راجو کے ہوش اڑ گئے- ”اس سے پہلے کہ یہ میری کھوپڑی اڑائے- اسی کی کھوپڑی اڑا دینی چاہئے-“ یہ سوچ کر راجو نے پھرتی کے ساتھ پیچھے کی طرف چھپائی ہوئی پستول نکالی لیکن فائر نہیں کر سکا- کیونکہ پستول اس کے ہاتھ سے چھوٹ چکی تھی-

”ہا ہا ہا— اب بتاﺅ کون ہے بے وقوف اور احمق- میرے سامنے کوئی پستول لے کر کھڑا نہیں ہوسکتا—- کوئی شک ہو تو اپنی ڈی ایس پی صاحبہ سے پوچھ لو- یا پھر اس رپورٹر سے پوچھ لو- کوئی اور پستول ہے تو وہ بھی نکال کر ٹرائی کر سکتے ہو-“ صورتحال پوری طرح سے درندے کے کنٹرول میں تھی-

”ہوتی تو ضرور ٹرائی کرتا-“ راجو مردہ لہجے میں بولا-

درندے نے راجو کے ہاتھ سے گرنے والی پستول اٹھا کر اس کا چیمبر خالی کرکے دور پھینک دی-

”بہت اچھے— تمہارے ساتھ گیم کھیلنے میں مزا آئے گا- تمہاری کھوپڑی اڑانے کے لئے بہت بے چین ہو رہا ہوں میں بھی اور میری پستول بھی- ہی ہی ہی — تمہیں فوراً گولی مارنے کو دل تڑپ رہا ہے- لیکن اگر تم میرا ایک کام کر دو گے تو میں یہ تڑپ بھول کر تم کو یہاں سے جانے دوں گا- یہ دیکھو تمہارے سامنے ڈی ایس پی صاحبہ پڑی ہیں- اور ان کے اوپر مغلِ اعظم اپنا تخت سمجھ کر آرام فرما رہے ہیں- حد ہے نا بے شرمی کی— تم کیا کہتے ہو— کچھ بھی کہو مجھے اس سے کیا— ہی ہی ہی— ان دونوں کی انہی حرکتوںکی وجہ سے شہر میں جرائم بڑھ رہے ہیں— حد تو یہ ہے کہ یہ آج تک مجھے ہی نہیں پکڑ سکے- جبکہ میں جب دل چاہتا تھا ان کو ڈانٹتا بھی تھا کہ کچھ کرو- — انہوں نے عشق محبت کے سوا کچھ نہیں کیا- اور اب پڑے بھگت رہے ہیں- — وہ تو میں نے مغلِ اعظم کو کسی قابل نہیں چھوڑا ورنہ ہوسکتا ہے کہ وہ اس موقع کا پورا فائدہ اٹھا رہا ہوتا- ہی ہی ہی-“ درندہ بے غیرتی سے ہنستے ہوئے بولا-

”شٹ اپ یو باسٹرڈ- تمہیں شرم آنی چاہئے ایسی باتیں کرتے ہوئے-“ شہلا کی آواز میں بہت درد تھا- اتنا درد کہ اسے محسوس کرکے راجو کی آنکھیں بھی نم ہوگئیں-

”اگر تم خود کو زندہ رکھنا چاہتے ہو تو تمہیں ان دونوں کو مارنا ہوگا- یہ بیس بال کا بیٹ لو اور مار ڈالو ان دونوں کو- جتنا زیادہ خون بہے گا اتنا ہی مزا آئے گا- مجھے یقین ہے کہ اپنی کھوپڑی بچانے کے لئے تم اتنا تو کر ہی سکتے ہو- اب مزاکرتے ہیں- چلو شروع ہوجاﺅ-“

درندے نے بیس بال کا بیٹ راجو کی طرف پھینکتے ہوئے کہا- ”اٹھاﺅ اسے اور اپنا شروع کر دو- ان دونوں کو مارنے کے لئے تمہارے پاس صرف دس منٹ کا وقت ہے- اگر تم ان کو نہیں مار سکے تو میں اپنی پستول کی ساری گولیاں تمہاری کھوپڑی میں اتار دوں گا- اور کوئی چالاکی دکھانے کی کوشش بھی مت کرنا— تمہاری کھوپڑی میرے نشانے پر ہے- ہی ہی ہی ہی-“

راجو عجیب الجھن میں پڑ گیا تھا- اسے مرنا منظور نہیں تھا اور نہ ہی وہ شہلا اور رفیق کو مار سکتا تھا- وہ بیٹ اٹھانے کے لئے نیچے جھکا-

”کیا ہوا ہیجڑے کی اولاد— سالے بزدل— تم خود کیوں نہیں مارتے— تم نامرد ہو نامرد ہی رہو گے- کبھی مردوں والا کام تم کر ہی نہیں سکتے-“ رفیق نے اس حال میں بھی درندے کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا-

رفیق کی باتیں سن کر درندہ غصے سے تلملا اٹھا- اس نے پستول سیدھی کرکے رفیق کے سر کا نشانہ لیا- راجو نے جب دیکھا کہ درندے کا دھیان رفیق کی طرف بٹ گیا ہے تو اس نے آگے بڑھ کر نہایت تیزی کے ساتھ درند ے کے پستول والے ہاتھ پر بیٹ کا وار کیا- درندہ تکلیف کے مارے چیخ اٹھا – اس کی پستول دور جا گری اور اس کا ہاتھ خون سے بھر گیا-

”اب اس بیٹ کے ذریعے میں تم کو جہنم کا راستہ دکھاﺅں گا- وہاں کے فرشتے بڑی بے چینی سے تم جیسے گناہگار کا انتظار کر رہے ہیں- اب کتے کی طرح پٹنے کے لئے تیار ہوجاﺅ- تم جیسے پاگل کتے کو ایسے ہی خار دار بیٹ کی مار کی ضرورت ہوتی ہے-“ راجو نے اسے للکارتے ہوئے کہا-

”ہا ہا ہا— تم مجھے مارو گے— اپنی اوقات سے کچھ زیادہ ہی بول گئے ہو تم— اب دیکھو میں تمہار اکیا حال کرتا ہوں-“ درندے نے یہ کہتے ہوئے اپنا بایاں ہاتھ جیب میں ڈال ایک بڑا سا خنجر نکال لیا-

وردا ان سب باتوں سے انجان دیوار کے سہارے چلتے ہوئے کافی دور آگئی تھی- وہ چپ چاپ بنا آواز کئے دیوار پر چڑھ کر اندر کود گئی- وہ اس کمرے کے بیچ پہنچ گئی تھی جس کے آگے درندے کا کھیل چل رہا تھا-

اس سے پہلے کہ راجو اس درندے کی چال کو سمجھ پاتا‘ درندے نے بائیں ہاتھ سے خنجر پھینکا اور راجو کے سنبھلنے سے پہلے جڑ تک راجو کے پیٹ میں دھنس چکا تھا- راجو درد سے کراہ اٹھا-

”کیوں کیسی رہی- مجھے مارنے چلے تھے – ہونہہ— یہ بھول گئے کہ فنکارانہ موت کا ٹھیکہ صرف میرے پاس ہے-“

درندہ راجو کی طرف بڑھا اور راجو نے درد کی پرواہ کئے بغیر اس کے سر کا نشانہ لے کر بیٹ کا وار کیا- لیکن درندے نے جھک کر اس کا وار خالی جانے دیا اور جھکنے کے ساتھ ہی گھوم کر لات چلائی جو سیدھی راجو کے پیٹ پر لگی- لات اتنی زور کی تھی کہ راجو سنبھل نہیں پایا اور پیٹھ کے بل رفیق اور شہلا کے اوپر گر گیا- درندے نے آگے بڑھ کر راجو کے پیٹ سے خنجر نکالا اور دوسری طرف گھونپ دیا- چاروں طرف راجو کی چیخیں گونجنے لگیں-

”رفیق— رفیق— ہمیں ریاض کی مدد کرنی چاہئے-“ شہلا نے تڑپ کر کہا-مگر رفیق بے ہوش ہونے کی وجہ سے اس کی بات کا کوئی جواب دینے سے بالکل قاصر تھا- شہلا بھی ایسی حالت میں نہیں تھی کہ وہ اٹھ کر کچھ کر سکتی— درندے نے اسے بہت بے رحمی سے مارا تھا-

وردا عین اسی وقت وہاں پہنچی تھی جب راجو گرا تھا اور درندے نے خنجر دوبارہ اس کے پیٹ میں گھونپ دیا تھا- نہ چاہتے ہوئے بھی وردا کی چیخ نکل گئی- نہیں-“ چیخ کے ساتھ ہی اس کے آنسو بھی چھلک پڑے تھے- وہ سمجھی کہ راجو اب اس دنیا میں نہیں رہا-

وردا اس جگہ کھڑی تھی جہاں درندے نے سحرش کو چھپا کر رکھا ہوا تھا- اس کے ہتھیار بھی وہیں رکھے ہوئے تھے- وردا کی نظر ایک تلوار پر پڑی اور وہ تلوار اٹھا کر درندے کی طرف لپکی-

”میں تمہیں نہیں چھوڑوں گی- تم میرا سب کچھ چھین لیا-“

چیخ سن کر درندہ چونک کر دیکھنے لگا مگر اسے کوئی دکھائی نہیں دیا-

”اب کون ہے جو میرے آرٹ کا نمونہ بننا چاہتا ہے-لگتا ہے آج تو میرا جیک پاٹ لگ گیا ہے- — واہ آج تو میں لاشوں کے ڈھیر لگا دوں گا— آواز تو کسی لڑکی کی لگتی ہے- اگر ایسا ہے تو اور بھی مزا آجائے گا-“ درندے نے سوچا اور اپنی پستول کے لئے یہاں وہاں دیکھنے لگا-

”رفیق-“ شہلا نے رفیق کے سر پر ہاتھ پھیر کر اسے ہلایا-

اپنے سر پر شہلا کے ہاتھوں کا لمس محسوس کرکے رفیق نے آنکھیں کھول دیں-”آپ نے کچھ کہا— اور میرے اوپر کون پڑا ہے-“ رفیق نے پوچھا-

”ریاض ہے- درندے نے اسے خنجر مار دیا ہے-“

”اوہ میرے خدا- یہ کیا ہو رہا ہے-“

”رفیق- ہمیں ہار نہیں ماننی چاہئے- ہمیں کچھ کرنا ہوگا-“ شہلا نے اسے جوش دلاتے ہوئے کہا-

”میراجسم میرا ساتھ نہیں دے رہا ہے- نہیں تو میں کچھ بھی کر جاتا-“ رفیق نے کہا-

”جب ہم کھائی میں گرے تھے- تب بھی ہماری ایسی ہی حالت تھی-لیکن تم مجھے بچانے کے لئے اٹھ گئے تھے- کیا تم کو وہ سب یاد نہیں؟-“

”وہ سب میں کیسے بھول سکتا ہوں-“ رفیق نے کہا-

”ہمیں اٹھنا ہوگا رفیق- وہ پستول ڈھونڈ رہا ہے- اس سے پہلے کہ پستول اس کے ہاتھ میں آجائے- ہمیں اٹھنا ہے-“ شہلا اس کا حوصلہ بڑھا رہی تھی-

”راجو-“ رفیق نے راجو کو آواز دی-

”جی سر- آہ ہ ہ ہ-“ راجو کراہتے ہوئے بولا-

”تمہارے پاس کوئی ہتھیار ہے کیا؟-“

ِ”میرے ہاتھ میں بیس بال بیٹ ہے-“

”گڈ- اب تھوڑا میرے اوپر سے ہٹ جاﺅ- میں اٹھنے کی کوشش کرتا ہوں- ڈی ایس پی صاحبہ کا آرڈر ہے- اٹھنا تو پڑے گا ہی-“ رفیق نے کہا-

راجو کے پیٹ پر دو کاری زخم لگے ہوئے تھے – وہ آہستہ سے رفیق کے اوپر سے سرک گیا-

”ریاض- ہم ابھی ہارے نہیں ہیں- ہمیں کچھ نہ کچھ کرنا ہی ہے-“ شہلا بولی-

وردا نے تلوار تو اٹھا لی تھی‘ لیکن وہ شدید صدمے کی حالت میں تھی- بار بار راجو کا چہرہ اس کی آنکھوں کے سامنے گھوم رہا تھا- اس نے کسی طرح اپنے جذبات کو قابو میں کیا اور تلوار کو دونوںہاتھوں میں مضبوطی سے تھام کر درندے کی طرف چل پڑی- تب تک درندے کو بھی ایک جھاڑی کے پیچھے سے اپنی پستول مل گئی تھی- جب وردا اس کے نزدیک پہنچی تو درندے نے اسے پہچان لیا-

”کہیں میں خواب تو نہیں دیکھ رہا– مگر نہیں- یہ تو حقیقت ہے- آﺅ وردا آﺅ— خوش آمدید-“

”میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گی- تم نے میری زندگی برباد کر دی ہے-“ وردا چلا کر بولی-

”ہا ہا ہا— بہت خوب— ایک حسینہ کے منہ سے یہ سننا کتنا اچھا لگ رہا ہے- آج تم نے ثابت کر دیا ہے کہ تم میرے فن کا سب سے بہترین نمونہ بننے کے لائق ہو- یہ تلوار تمہارے کسی کام نہیں آئے گی- کیونکہ میرے پاس پستول ہے- اس لئے تلوار پھینک کر میرے پاس آجاﺅ- شاباش-“ درندے نے خوش ہوکر کہا-

”وردا – تم یہاں کیوں آئی ہو- میں نے تمہیں وہیں رکنے کے لئے کہا تھا نا-“ راجو درد بھری آواز میں بولا-

راجو کی آواز سنتے ہی وردا کی جان میں جان آئی- ”راجو تم ٹھیک ہو نا؟-“

”بس کچھ لمحوں کا مہمان ہے بیچارہ- ویسے تم کو اس کی اتنی فکر کیوں ہو رہی ہے- کہیں تمہارا اس کے ساتھ کوئی چکر وکر تو نہیں ہے- ہی ہی ہی-“ درندہ بولا-

”ہاں میرا اس کے چکر بھی ہے اور وکر بھی- وہ میرا سب کچھ ہے- میری محبت کو زخمی کرنے سزا تم کو میں دوں گی-“ ایسی گھمبیر صورتحال میں بھی وردا کا حوصلہ بلند نظر آرہا تھا-

”ہا ہا ہا ہا—- بھئی مان گئے— جب پہلی بار ملیں تھی تو خوف کے مارے تمہاری جان نکلی جا رہی تھی- اور آج اتنی نڈر بن کے میرے سامنے کھڑی ہو- بھئی ایسے تو مزا نہیں آئے گا- جب خوف ہی نہ ہو تو موت کا کیا فائدہ– تم اپنے اندر کچھ خوف پیدا کرو— اچھا ایسا کرتا ہوں کہ تم کو ایک گولی مارتا ہوں- جب تمہیں درد ہوگا تو خوف خود بخود تمہارے چہرے پر ابھر آئے گا- تمہاری طرح خوبصورت خوف- ہی ہی ہی-“ درندہ خود تو نفسیاتی تھا ہی اپنے شکار کو بھی نفسیاتی مار مارنا جانتا تھا-

اچانک درندے کے حلق سے چیخ گونج اٹھی اور وہ لڑکھڑا کر نیچے گر گیا- رفیق نے اس کے گھٹنوں کے نیچے بیٹ سے وار کیا تھا- درندے کے گرتے ہی رفیق بھی خود کو سنبھال نہیں سکا اور گر پڑا- اس حالت میں بھی اس نے صرف شہلا کی آواز پر بڑی مشکل اٹھ کر اپنی پوری طاقت سے درندے کی ٹانگوں پر وار کیا تھا-

جیسے ہی درندہ نیچے گرا وردا نے وقت ضائع کئے بغیر اس کے دائیں ہاتھ پر تلوار سے وار کیا جو پہلے ہی سے خون آلود ہو رہا تھا– اور اس کا ہاتھ پستول سمیت اس کی کلائی سے الگ ہوگی- ایک بار پھر چاروں طرف درندے کی چیخ گونج اٹھی-

”کتیا— چھنال— میرا ہاتھ— نہیں چھوڑوں گا تجھے-“ درندہ درد سے کراہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوابایاں ہاتھ جیب میںڈال کر ایک اور خنجر نکال لیا-

”تیرے عاشق کی طرح تیرا پیٹ بھی چیر دوں گا-“

وہ وردا کی طرف بڑھا ہی تھا کہ چیخ کر دوبارہ زمین پر گر گیا – اس بار شہلا نے اس کے گھٹنوں کے نیچے وار کیا تھا- وردا نے پھر ہمت دکھائی اور موقع گنوائے بغیر درندے کے بائیں ہاتھ پر تلوار سے وار کیا- اور اس کا بایاں ہاتھ بھی خنجر سمیت کلائی سے الگ ہوگیا- فضا میں درندے کی مسلسل چیخیں گونجنے لگیں-

”جو خوف تم لوگوں کو دیتے تھے- آج وہی خوف تمہاری آنکھوں میں نظر آرہا ہے- بہت بدصورت خوف ہے- بالکل تمہارے کردار کی طرح- میں تمہیں ایک منٹ کے لئے بھی زندہ نہیں رکھنا چاہتی-“ یہ کہتے ہوئے وردا نے اس کے پیٹ میں گھونپنے کے لئے تلوار اوپر اٹھائی-

”نہیں وردا- رک جاﺅ- ہم اس کو اتنی جلدی اور آسان موت نہیں دیںگے-“ رفیق نے چلا کر کہا-

وردا نے تلوار ایک طرف پھینک دی اور دوڑ کر راجو کے پاس آگئی- ”راجو— راجو— تم ٹھیک تو ہونا؟-“

”جس کی تم جیسی محبوبہ ہو اسے کیا ہوسکتا ہے-“ راجو نے مسکرانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا-

”میں نے اس کے دونوں ہاتھ کاٹ دیئے ہیں- اس نے انہی ہاتھوں سے تم کو مارا تھا نا- اس نے انہی ہاتھوں سے امی ابو کو بے رحمی سے مارا تھا نا- اس نے انہی ہاتھوں سے اتنے سارے لوگوں کو درد دیا تھا نا— آج میں نے اس کے وہ دونوںہاتھ ہی کاٹ دیئے ہیں- اب وہ ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا-“ وردا کے جذبات بے قابو ہو رہے تھے-

”تم نے بالکل ٹھیک کیا-مجھے نہیں پتہ تھا کہ میری وردا اتنی بہادر بھی ہے-“

”میں نے یہ سب کچھ تمہارے لئے کیا- اس نے تم پر حملہ کیا تو مجھ سے برداشت نہیں ہوا- میں محبت کرتی ہوں تم سے- کوئی مذاق نہیں-“ وردا کے ایک ایک لفظ سے محبت کی برکھا برس رہی تھی-

”جانتا ہوں-“

رفیق بڑی مشکل سے ہمت کرکے دوبارہ اٹھا اور بولا- ”سب ہمت کرکے یہاں آجاﺅ- آج ہم نے بہت کچھ برداشت کیا ہے- مگر اب وہ وقت آگیا ہے جس کے لئے ہم سب ایک ساتھ جمع ہوئے تھے- مراد- آجاﺅ بھائی- اب ایک گیم ہوجائے اس پاگل کتے کے ساتھ-“

شہلا نے تلوار اٹھا لی اور درندے کے پاس کھڑی ہوگئی تاکہ وہ بھاگنے کی کوشش نہ کرے- ”ذرا بھی ہلنے کی کوشش کی تو کاٹ کر رکھ دوں گی-“ شہلا پھنکارتی ہوئی بولی-

رفیق‘ وردا کے پاس گیا اور کہا- ”وردا- تم نے آج بہت ہمت دکھائی ہے- یہ تلوار تمہیں کہاں سے ملی-“

”وہاں اس درخت کے پیچھے پڑی تھی- وہاں اور ہتھیار بھی ہیں-“ وردا نے ہاتھ کے اشارے سے بتایا-

”کیا وہاں کلہاڑی بھی ہے-“ رفیق نے پوچھا-

”ہاں شاید ہے-“

”راجو بس تھوڑی اور- پھر ہم سب ہسپتال چلیں گے- ہمت رکھو-“

”میری فکر مت کرو- ایسے ایسی موت دینی ہے کہ یہ جان جائے کہ موت اصل میں کہتے کسے ہیں-“ راجو بولا-

رفیق نے اب مونا کو اٹھایا- ”تم ٹھیک ہو؟-“

”کم بخت نے سر میں ایسی لات ماری کہ اب تک سر گھوم رہا ہے- پیٹ میں بھی بہت درد ہو رہا ہے-“ مونا نے کہا-

”میرے جسم کا برا حال ہے- مگر میں کسی طرح اٹھ ہی گیا ہوں- آﺅ درندے کے ساتھ ایک گیم ہوجائے-“

مونا کو اٹھانے کے بعد رفیق نے مراد کے پاس آکر کہا- ”اٹھو دوست- تمہارے بنا گیم ادھوری رہے گی-“

مراد بھی بڑی مشکل سے اٹھا- اکیلے درندے نے ان سب کو تقریباً چیر پھاڑ کر رکھ دیا تھا- مراد نے اٹھ کر اپنی شرٹ اتار کر سحرش کو پہنا دی-

”فی الحال یہ پہن لو- کسی حد تک سترپوشی کے کام آجائے گی-“

مراد کو اٹھانے کے بعد رفیق سیدھا اس درخت کی طرف بڑھا جس کی طرف وردا نے اشارہ کیا تھا- وہاں سے اس نے کلہاڑی اٹھائی اور لڑکھڑاتا ہوا واپس درندہ کے پاس آگیا- سب نے درندے کو اپنے گھیرے میں لے رکھا تھا جو درد کی شدت سے زمین پر ایڑیاں رگڑ رہا تھا- راجو کے لئے کھڑا ہونا محال تھا- وردا نیچے بیٹھ گئی اور راجو نے اس کے گھٹنے پر اپنا سر ٹکا دیا –

”سر آپ کو کیسا لگ رہا ہے-“ رفیق نے درندے سے کہا- ”اوہ میں تو بھول ہی گیا— آپ کو تو بہت اچھا لگ رہا ہوگا- بلکہ آپ تو یہ سوچ کر کچھ زیادہ ہی خوش ہو رہے ہوں گے کہ آپ کے دونوں ہاتھ ایک خوبصورت لڑکی کے خوبصورت ہاتھوں نے کاٹے ہیں- آپ خود کو بہت خوش نصیب سمجھ رہے ہوں گے نا—- اب آپ یہ بتائیں کہ آپ کو سزا کیا دی جائے-“

”رفیق-“

”رفیق-“ رفیق نے مضحکہ اڑاتے ہوئے کہا-”ارے آپ اتنی جلدی بھول گئے- مجھے تو آپ نے مغلِ اعظم کا خطاب دے رکھا ہے-“

”دیکھو میں اپنے گناہ قبول کرتا ہوں-مجھے قانون کے حوالے کر دو‘ مجھے گرفتار کرلو- جیل میں ڈال دو- میں اپنے سارے جرم قبول کرتا ہوں-“ درندہ جو لوگوں کی گڑگڑاہٹ سے لطف اندوز ہوتا تھا آج موت کو سامنے دیکھ کر خود گڑگڑانے پر مجبور ہوگیا تھا-

”سوری ایس پی صاحب— میں تو سسپینڈ ہوں- آپ کو گرفتار کیسے کر سکتا ہوں— اور ڈی ایس پی صاحبہ آپ کے دیئے ہوئے زخموں کے نہ بھرنے کی وجہ سے اب تک ڈیوٹی جوائن ہی نہیں کر سکی ہیں- اس لئے وہ بھی آپ کو گرفتار نہیں کر سکتیں-یہ ریاض حسین ہے- مگر یہ محض ایک سب انسپیکٹر ہے اور اس کی اتنی اوقات ہی نہیں ہے کہ آن ڈیوٹی ایس پی کو گرفتار کر ے- اس لئے معذرت کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ یہاں کوئی ایسا نہیں ہے جو آپ کو گرفتار کر سکے – کوئی اور راستہ ہے تو بتائیں-“ رفیق نے مزے لیتے ہوئے کہا-

”دوسرے پولیس والوں کو بلا لو— سکندر کو بلا لو یا پھر چوہان کو بلا لو-“ درندہ ملتجی لہجے میں بولا-

”بلا لیں گے— مگر آپ کو گیم کھیلنا بہت اچھا لگتا ہے نا- تو پھر کیا خیال ہے- ایک گیم ہوجائے– – آپ ہمیں بھی تو تھوڑی بہت گیم کھیلنے کا موقع دیں نا سر-“ چونکہ رفیق سب کے جذبات کی ترجمانی صحیح انداز سے کر رہا تھا اس لئے ابھی تک کسی نے بیچ میں دخل اندازی نہیں کی تھی-

”گیم— کیسی گیم-“ درندے کے چہرے کا رنگ اڑ گیا- جو زبردست تھا آج وہ زیردست ہوکر زیرو بن کر رہ گیا تھا-

”میں کچھ سوال کروں گا- تم جواب دیتے جانا- اگر ایک منٹ کے اندر صحیح جواب نہیں دیا تو تمہارے بدن کا ایک حصہ کٹ کر الگ ہوجائے گا— ویسے ماننا پڑے گا- آپ نے کلہاڑی کی دھار بہت تیز رکھی ہے- اب آزما بھی لیں گے-“ رفیق کا لہجہ اور اس کا ایک ایک لفظ درندے کا خون خشک کر رہا تھا-

”میں کسی سوال کا جواب نہیں دوں گا- میرے ہاتھ کٹ گئے ہیں- مجھے فوراً طبی امداد چاہئے- جو پوچھنا ہے جیل میں پوچھ لینا-“ درندہ چیخ کر بولا-

”کے کے کون ہے؟-“ رفیق نے پہلا سوال کیا-

”میں نہیں جانتا-“

”بس ایک منٹ ہے تمہارے پاس- دوبارہ نہیں پوچھوں گا- تم نے جواب نہیں دیا تو ایک منٹ کے بعد اس کلہاڑی سے تمہارا بایاں پاﺅں کاٹ دوں گا-“ رفیق سنگدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا-

ایک منٹ بیت گیا اور درندے نے کوئی جواب نہیں دیا-

رفیق نے جیسے ہی اس کا پاﺅں کاٹنے کے لئے کلہاڑی اٹھائی – درندے کی آواز کھل گئی- ”میں– میں ہی کے کے ہوں-“

”تم کیسے ہو سکتے ہو—- تمہارا نام تو سلطان بخاری ہے-“ رفیق نے حیرت سے کہا-

”ہاں مگر میرے کچھ دوست کالج کے زمانے سے ہی مجھے کے کے کہہ کر بلاتے تھے-“

”تو کیا سہیل اور کرنل داﺅد خان بھی تمہارے کالج کے دوست تھے ©؟-“

”ہاں-“

”تو کیا تم نے ہی سہیل کو وردا کے خلاف جھوٹی گواہی دینے کے لئے کہا تھا اور وہ اس کے لئے راضی کیوں ہوگیا تھا؟-“ رفیق نے پوچھا-

”میں نے اسے یقین دلا دیا تھا کہ وردا ہی درندہ ہے-میں نے اس سے کہا کہ تم گواہی دے دو کیونکہ ایس پی ہونے کی وجہ سے میرا گواہی دینا مناسب نہیں ہوگا- وہ میرا دوست تھا اس لئے میری بات مان گیا-“ درندے نے بتایا-

”اور پھر تم نے اپنے دوست کو ہی مار دیا-“ رفیق نے تالی بجاتے ہوئے کہا-

”اس کا مرنا ضروری تھا ورنہ کبھی بھی میرا راز کھل سکتا تھا-“

”داﺅد خان کے گھر پر تم ہی رہ رہے تھے- ہیں نا-“ اس بار مراد نے پوچھ لیا-

”ہاں – کرنل داﺅد خان زیادہ تر شہر سے باہر ہی رہتا تھا- اس لئے میں نے اس کا گھر کرائے پر لے لیا تھا-“

”اب کرنل کہاں ہے؟-“ رفیق نے مزید کریدا-

”اس نے ایک دن میری پینٹنگز دیکھ لی تھیں- اس لئے اسے بھی مارنا پڑا- مار کر جنگل میں گاڑ دیا تھا-“

”کیا سب انسپیکٹر وحید ملک سے تمہارا کوئی رشتہ تھا؟-“ رفیق کا ایک اور سوال-

”میں رضیہ کو جنگل والے ٹھکانے پر لے جا رہا تھا تو وحید ملک مجھے نے دیکھ لیا تھا- وہ اس وقت جنگل میں ایک لڑکی کے ساتھ رنگ رلیاں منا رہا تھا- میں اسے اور اس کے ساتھ جو لڑکی تھی‘ دونوں کو مار دینا چاہتا تھا- مگر وحید میرے پیروں میں گر گیا- اور کہا کہ مجھے اپنے ساتھ ملا لو- میںنے اس سے کہا کہ جو لڑکی تمہارے ساتھ ہے پہلے اسے مارو- اور وحید نے میرے سامنے اس لڑکی کا گلا کاٹ دیا- وہ میرا شاگرد بن گیا تھا- میں نے رضیہ کے قتل کی ویڈیو اسے دی تھی تاکہ وہ فنکارانہ قتل سیکھ سکے-“ درندے نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا-

”ہاں میں نے وہ سی ڈی دیکھی ہے- لیکن وہ تو ادھوری تھی-“ رفیق نے کہا-

”میں نے اسے دو سی ڈیز دی تھیں-“

”تم جو بلیک اسکارپیو استعمال کرتے تھے وہ کس کی تھی- کیونکہ تمہارے نام پر تو کوئی بلیک اسکارپیو نہیں ہے-“

”میں بھلا اپنے نام کی گاڑی کیوں استعمال کرتا— اس کے لئے میں کرنل کی کار استعمال کرتا تھا—- اب برداشت نہیں ہو رہا ہے- درد کی شدت بڑھتی جا رہی ہے- مجھے جلدی سے ہسپتال پہنچا دو-“ درندے نے التجا کرتے ہوئے کہا-

”ہم سب ہی درد کی شدت برداشت کر رہے ہیں- تھوڑا صبر کرو—ہاں تو تم نے کالج کے دوست کی گاڑی بھی ہتھیا لی اور اس کا گھر بھی-“ رفیق نے باتوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے بولا-

”اور پھر بیچارے کو مار کر جنگل میں گاڑ دیا- توبہ ہے‘ ایسے دوست تو خدا دشمن کو بھی نہ دے-“ مونا نے بھی دل کی بھڑاس نکالی-

”تم پر کوئی حملہ نہیں ہوا تھا- ہیں نا- تم یونہی ڈرامے بازی کرکے ہمیں گمراہ کرنے کے لئے ہسپتال میں داخل ہوگئے‘ تاکہ تم پر کسی کو شک نہ ہو جائے- ڈاکٹر شکیل تمہارا دوست ہے- اس لئے تمہیں کوئی پرابلم نہیں ہوئی- اور تم خواہ مخواہ آئی سی یو میں پڑے رہے- اور وردا کے گھر پر حملہ بھی تم نے ہی کیا تھا نا- اور جب سب کچھ تمہارے کنٹرول میں تھا تب تم وہاں سے بھاگ کیوں گئے تھے-“ رفیق نے ایک اور الجھن کو سلجھانے کے لئے پوچھا-

”ہاں میں نے ڈاکٹر شکیل سے کہا تھا کہ ایک خفیہ مشن پر جا رہا ہوں- اور وردا کے گھر پر جب سب کچھ میرے کنٹرول میں آگیا تب اچانک ڈاکٹر شکیل کا فون آگیا کہ تمہارا کوئی جونیئر تمہیں ڈھونڈ رہا ہے- اس لئے جلدی سے آجاﺅ تاکہ تمہارے ہسپتال سے غائب ہونے کی خبر فاش نہ ہو-بعد میں پتہ چلا کہ چوہان مجھ سے ملنے آیا تھا- اس لئے مجھے سب کچھ بیچ میں ہی چھوڑ کر واپس جانا پڑا تھا- کاش اس دن اس چھنال کو اٹھا لاتا تو یہ نوبت ہی نہ آتی-“ درندے نے وردا کی طرف نفرت سے دیکھتے ہوئے کہا-

رفیق نے مڑ کر دیکھا بیٹ مونا کے ہاتھ میں تھا- اس نے کہا- ”مونا یہ بیٹ مجھے دینا-“

مونا سے بیٹ لے کر رفیق نے درندے کے گھنٹے پر زور دار وار کیا اور درندہ دوبارہ چیخنے پر مجبور ہوگیا-

”اگر دوبارہ ہم سے کسی کو گالی دی تو اس سے بھی برا انجا م ہوگا- یہ سمجھ لو— اچھا اب یہ بھی بتا دو کہ جنگل میں ڈی ایس پی صاحبہ پر گولی کس نے چلائی تھی- تم نے یا وحیدملک نے-“

”وحید نے چلائی تھی- ڈپارٹمنٹ کی گولی استعمال کر لی تھی اس گدھے نے – اس کی وجہ سے میرا جنگل والا ٹھکانہ خطر ے میں پڑگیا- تم لوگوں کو اسی واقعے کے بعد جنگل پر شک ہوا تھا- خیر ویسے تو میرے پاس ٹھکانوں کی کوئی کمی نہیں تھی- مگر جنگل پھر جنگل تھا-“ جنگل کو یاد کرکے درندے نے ایک سرد آہ بھری-

”ویسے تو میرا دل کر رہا ہے کہ تمہارے بدن کے ہزار سے بھی زیادہ ٹکڑے کر دوں- مگر کچھ وجوہات کی وجہ سے خود کو روکے ہوئے ہوں- ایک تو یہ کہ میں تمہاری طرح درندہ نہیں ہوں- اور دوسرا یہ کہ ہمارے ایک ساتھی کو فوراً ہسپتال پہنچانا ہے- حالانکہ ہم سب کو ہی طبی امداد کی سخت ضرورت ہے- تم نے ہماری حالت ہی ایسی بنا دی ہے- مگر راجو کے زخم بہت گہرے ہیں- ہمارے ساتھ گیم کھیلنے کا شکریہ ایس پی صاحب- اب گیم ختم- جسے یاد کرنا ہے کرلو- میں تمہاری ہی کلہاڑی سے تمہاری گردن کاٹنے والا ہوں- امید کرتا ہوں کہ اپنی کلہاڑی کا لمس محسوس کرکے تمہیں روح کو بہت تسکین ملے گی-“ رفیق ایک ایک لفظ کو چبا چبا کر بول رہا تھا-

”میں نے تمہارے سارے سوالوں کے جواب دے دیئے ہیں- پلیز مجھے قانون کے حوالے کردو-“ درندہ اپنے کٹے ہوئے ہاتھ جوڑتے ہوئے بولا-

”قانون تو آپ کے گھر کی لونڈی ہے ایس پی صاحب- میں خوب سمجھ رہا ہوں آپ کی بات- مگر مجھے انصاف کرنے میں تاخیر ذرا بھی پسند نہیں ہے- یہاں جو لوگ موجود ہیں وہ جیوری کا حصہ ہیں- تو میں تمہارے سامنے جیوری سے پوچھتا ہوں کہ ان کیا فیصلہ ہے-“رفیق نے سب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا-

”اس کی گردن کاٹ دو-“ مراد بولا-

باقی سب نے بھی مراد کا ساتھ دیا- ”ہاں اس کی گردن دھڑ سے الگ کر دی جائے-“

”سوری ایس پی صاحب- جیوری کا فیصلہ ٹالا نہیں جا سکتا- گو ٹو ہیل——“

رفیق نے مارنے کے لئے کلہاڑی اوپر اٹھائی تو ایس پی نے بچنے کے لئے کھسکنے کی کوشش کی- اور مراد نے فوراً خار دار بیٹ سے اس کے ماتھے پر وار کیا- اس کا ماتھا چھل گیا اور پورا چہرہ خون سے سرخ ہوگیا- ایس پی دوبارہ زمین پر گر گیا-

”اب دوبارہ اٹھنے کی کوشش مت کرنا درندے- — یہ حقیقت تسلیم کرلو کہ تمہاری گیم ختم ہو چکی ہے- اور تمہارے جہنم میں جانے کا وقت ہوگیا ہے-“

”تم مجھے نہیں مار سکتے – کیونکہ مجھے موت بھی نہیں مار سکتی— یاد رکھو- میں پھر آﺅں- میں ضرور لوٹ کر آﺅں گا-“

بس اب باتیں بہت ہوگئیں- اگر تمہیں دوسرے جنم پر یقین ہے تو ہم تمہارا انتطار کریں گے- بائے-“ یہ کہتے ہی رفیق نے ایک جھٹکے سے درندے کی گردن دھڑ سے الگ کر دی-

”مونا کل صبح تمہارے چینل پر یہ نیوز آنی چاہئے کہ درندے نے ایک اور شکار کر لیا- ایس پی صاحب پر درندہ پہلے بھی حملہ کر چکا ہے- اس بار اس نے ایس پی صاحب کو جان سے مار دیا-“ رفیق نے سمجھاتے ہوئے کہا-

”ٹھیک ہے- یہ کام ہوجائے گا-“ مونا بولی-

”مگر اس نئے انسپیکٹر سکندر کا کیا کریں گے- اسے کہیں ہم لوگوں پر شک نہ ہوجائے- ہمیں یہاں اپنی موجودگی کا کوئی نشان نہیں چھوڑنا چاہئے- “ مراد نے پتے کی بات کرتے ہوئے کہا-

”مراد ٹھیک کہہ رہا ہے- درندے کو زمین میں گاڑ دو اور یہاں اپنی موجودگی کا ہر نشان مٹا دو- اس لئے کہ کوئی یہ نہیں سمجھ پائے گا کہ ہم نے ایسا کیوں اور کس وجہ سے کیا-“ شہلا بولی-

”ٹھیک ہے- میں اور مراد یہ کام کرتے ہیں- تم لوگ فوراً ہسپتال پہنچو-“ رفیق نے کہا-

”لیکن طبی امداد کی ضرورت تو تم دونوں کو بھی ہے-“ شہلا نے کہا-

”مجھے آ پ کی توجہ مل گئی- بس وہی کافی ہے- سب گھاﺅ بھر جائیں گے-“ رفیق نے ہنستے ہوئے کہا-

”مذاق مت کرو-“ شہلا نے منہ بنا کر کہا-

”آپ لوگ چلیں- ہم بھی تھوڑی دیر میں آجاتے ہیں- یہاں کا کام نمٹانا بھی تو ضروری ہے- مونا نیوز والا پلان کینسل- ایس پی صاحب کو ایسے ہی غائب ہوجانے دو-“ رفیق بولا-

”اوکے- جیسے تمہاری مرضی-“

اس چاندنی رات میں چاند نے بہت کچھ ہوتے دیکھا- درندے کی حیوانیت اور درندگی کا خاتمہ ہوتے دیکھا- اور اس کے ساتھ ہی چاند محبت کے لازوال جذبے کا گواہ بھی بنا- ایسی محبت جو درندے کی درندگی کے آگے سینہ سپر ہوگئی تھی- اگر یہ محبت نہ ہوتی تو شاید وہ سب تنکے کی طرح بکھر کر رہ جاتے- یہ محبت ہی تھی جس نے انہیں کچھ کرنے کی ہمت اور جذبہ عطا کیا- اگر وردا کو راجو سے محبت نہ ہوتی تو وہ شاید ہی زندگی میں کبھی تلوار اٹھا پاتی- اور جس لڑکی نے زندگی میں کبھی ایک لال بیگ تک نہیں مارا تھا ‘ اس نے درندے کے دونوں ہاتھ کاٹ کر یہ ثابت کر دیا تھا کہ وہ اپنی محبت کو بچانے کے لئے کسی حد تک بھی جا سکتی ہے-یہی کیفیت مراد اور رفیق کی محبت کی بھی تھی- کسی شاعر نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ

بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق

اور آج اسی عشق نے ایس پی جیسے درندے کی نمرودیت کو اس کے انجام تک پہنچا دیا تھا-اسی رات چاند نے انصاف کے تقاضے بھی پورے ہوتے دیکھے- درندہ تقریباً ویسے ہی خو ف اور موت سے دوچار ہوا تھا جیسی وہ دوسری کو دے کر اپنے حیوانی نفس کو تسکین پہنچاتا تھا-

٭٭٭٭٭٭٭

پوری ٹاسک فورس ہسپتال میں موجود تھی- راجو کا آپریشن کامیاب رہا تھا اور اس کی حالت خطرے سے باہر تھی- شہلا کے ہاتھ پر بینڈیج کر دی گئی تھی- یہ بھی شکر تھا اس کے پیٹ میں کوئی نیا زخم نہیں آیا تھا- درد کو کم کرنے کے لئے اسے درد کش انجیکشن لگا دیئے گئے تھے- اسے ہسپتال میں رکنے کی ضرورت نہیں تھی مگر وہ اپنے ساتھیوں کی وجہ سے وہاں رکی ہوئی تھی- مونا کے ہاتھ پر بھی بینڈیج کر دی گئی تھی- اور چینل کی جانب سے اسے کسی خبر کی کوریج کے لئے جانا پڑا گیا تھا- بم بلاسٹ کی وجہ سے رفیق اور مراد کی حالت بہت نازک تھی- جبکہ رفیق بیس بال بیٹ کی مار کی وجہ سے اور بھی زیادہ زخمی ہوچکا تھا- اس کی پیٹھ بری طرح سے چھلی ہوئی تھی- مگر ان دونوں کی حالت بھی خطرے سے باہر تھی- دونوں کو کہیں کہیں ٹانکے آئے تھے اور کئی جگہ پٹی باندھ دی گئی تھی- اور ہاتھ پاﺅں تو تقریباً بینڈیج سے ڈھکے ہوئے تھے-

دو دن بعد پوری ٹیم ہسپتال میں راجو کے کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی-

”یار راجو- یہ تو بتاﺅ کہ ایس پی صاحب کی تصویر تمہارے پاس کہاں سے آئی-“ مراد نے اپنے دل میں ابھرنے والے سوال کو راجو پر ڈالتے ہوئے کہا-

”وہ تو غلطی سے آگئی تھی- ایک فنکشن میں فوٹوگرافر نے میری بھی کئی تصویریں کھینچی تھیں- میں نے اسے اپنی کئی تصویریں بنانے کے لئے کہہ دیا تھا- اور غلطی سے میری تصویروں کے ساتھ ایک تصویر ایس پی کی بھی آگئی تھی- وہ تصویر میں نے ایک کتاب میں رکھ دی تھی- اس کے ساتھ کچھ اور تصویریں بھی تھیں- میں وہ تصویریں فوٹوگرافر کو واپس کرنا چاہتاتھا مگر ہر بار بھول جاتا تھا-“راجو نے تصویر کی موجودگی کی اصل وجہ بتاتے ہوئے کہا-

”مگر یہ بھی کتنا عجیب اتفاق ہے کہ وردا سے وہ کتاب گر گئی- نہ وہ کتاب گرتی اور نہ ہمیں پتہ چلتا کہ درندہ کون ہے-“ شہلا نے کہا-

”شش- آہستہ بولیں- دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں-“ رفیق ہونٹوں پر انگلی رکھتے ہوئے بولا-

”ہا ہا ہا ہا-“ مراد ہنسنے لگا-

”کیا ہوا بھائی- میں نے کوئی لطیفہ سنایا ہے کیا جو تم اس طرح ہنس رہے ہو؟-“ رفیق نے حیرت سے پوچھا-

”راجو- دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں- کچھ یاد آیا کہ نہیں- ہی ہی ہی-“ مراد نے ہنستے ہوئے راجو سے کہا-

”استاد – تم بس میری بے عزتی کروانے پر لگے رہا کرو- اب اس سے آگے کچھ مت بولنا-“ راجو منہ بسورتے ہوئے کہا-

”ارے یار بات کیا ہے—- ہمیں بھی تو کچھ بتاﺅ-“ رفیق بولا-

”وردا سے پوچھو- یہ بتائے گی-“ مراد نے بات وردا پر ڈال دی-

”کوئی بات نہیں ہے- اور مجھے بھی اب کچھ یاد نہیں ہے-“ وردا نے بات ٹالنے کے لئے غصہ دکھاتے ہوئے کہا-

”سوری وردا- میں تو بس یونہی مذاق کر رہا تھا-“ مراد نے معذرت کر لی-

”دوبارہ ایسا مذاق مت کرنا- “ وردا منہ پھلا کر بولی-

سب ہی ایک دوسرے کے بہت اچھے دوست بن چکے تھے – دوستی اور پیار میں تکرار تو چلتی رہتی ہے-

دو مہینے سے پورے شہر میں سکون تھا اور اب لوگ درندے کو بھولنے لگے تھے- کسی کو پتہ نہیں تھا کہ درندہ اپنے انجام کو پہنچ چکا ہے- ڈپارٹمنٹ ابھی تک اپنے ایس پی کو تلاش کر رہا تھا- یہی خیال کیا جا رہا تھا کہ شاید درندے نے انہیں اغواءکرکے قتل کر دیا ہے- میڈیا میں بھی اسی بات پر بحث ہو رہی تھی- اور ٹاسک فورس کے لئے یہ اچھی بات تھی-

مگر اب ایک اور اچھی بات ہونے والی تھی- اور وہ اچھی بات تھی سحرش اور مراد کی شادی- مراد بغیر کسی جہیز کے سحرش سے شادی کررہا تھا- اس بات سے سحرش کا ابا بھی بہت خوش تھا اور نغمہ بھی پھولے نہیں سما رہی تھی-

خواتین کے دائرے میں نغمہ خوب جھوم جھوم کر ناچ رہی تھی- وردا بھی نغمہ کے ناچنے کے دوران تالیاں بجا بجا کر اپنی خوشی کا اظہار کر رہی تھی-اس نے گلابی رنگ کا لہنگا چولی پہن رکھا تھا- پھر اچانک نغمہ نے وردا کو بھی کھینچ کر اپنے ناچ میں شامل کرلیا-

پہلے تو کچھ دیر تک وہ شرماتی رہی پھر موسیقی کی تال پر اس کے پاﺅں خود بخود تھرکنے لگے تو وہ بھی جوش میں آگئی- اور ڈیک پر جو گانا لگا ہوا تھا وہ بھی اس کی پسند کا تھا- وردا اتنا اچھا رقص کر رہی تھی کہ نغمہ کو پیچھے ہٹنا پڑا- اب خواتین نے وردا کے گرد گھیرا ڈال دیا تھا اور خوب تالیاں بجا کر اس کی حوصلہ افزائی کر رہی تھیں- اس کا انگ انگ موسیقی کی لے پر لہراتا ہوا محسوس ہو رہا تھا-

نغمہ بھاگ کر راجو کے پاس گئی اور بولی- ”چل جلدی‘ تیری وردا بہت اچھا ناچ رہی ہے-“

”مذاق مت کر- اسے ڈانس وانس کہاں آتا ہے-“

”جھوٹ نہیں کہہ رہی- چل کے خود دیکھ لو- تمہارا دل نہ لوٹ لے تو پھر کہنا-“ نغمہ نے ہنستے ہوئے کہا-

”واقعی میں— پھر تو میں بھی اس کے ساتھ ناچوں گا-“ راجو نے قنات کے ہٹا کر اندر جھانکتے ہوئے کہا- وردا اتنی خوبصورتی سے اپنے جسم کو حرکت دے رہی تھی کہ راجو کو اعتراف کرنا پڑا کہ رقص کو اعضاءکی شاعری کیوں کہا جاتا ہے- اس کی کمر کے جھٹکے کسی زاہد کی عبادت کو بھنگ کردینے کے لئے کافی تھے- اور راجو تو تھا ہی اس کا دیوانہ-

”وہ لیڈیز کی محفل ہے- اب تم جاﺅ- بس تمہیں ایک جھلک دکھانا چاہتی تھی-“ نغمہ بولی-

”نہیں- میں اس کا پورا ڈانس دیکھ کر ہی جاﺅں گا- کم از کم یہ گانا تو ختم ہونے دو-“ راجو نے مچل کر کہا-

”اوکے- مگر خاموشی سے کھڑے رہنا-“

گانے کے ختم ہوتے ہی وردا کے تھرکتے ہوئے قدم بھی تھم گئے- اور راجو کو ایسا لگا جیسے فضا کی ہر چیز تھم گئی ہو- جب وردا کی نظر سامنے دروازے پر کھڑے راجو پر پڑی تو وہ شرم سے پانی پانی ہوگئی- اور اس کا جسم تو پہلے ہی پسینے سے شرابور تھا- وہ نظریں جھکا کر باہر آگئی-

”کیا غضب کا ناچتی ہو تم– – تمہاری اداﺅں نے تو مار ہی ڈالا مجھے- جبکہ میں تو پہلے ہی سے تمہاری محبت میں گھائل ہوچکا ہوں-“ راجو نے تعریف کرتے ہوئے کہا-

”میرے کپڑے پسینے سے بھیگ گئے ہیں- چینج کرکے آتی ہوں-“ وردا نے ٹالنے کی غرض سے کہا-

”کیا واپس اپنے گھر جاﺅ گی کپڑے بدلنے؟-“

”ہاں جانا تو پڑے گا- دوسرا جوڑا کار میں ہے لیکن یہاں چینج کرنے کی جگہ نہیں ہے-“ وردا بولی-

”تو اس کے لئے میرا گھر نزدیک پڑے گا- اتنی دور جانے کی کیا ضرورت ہے-“

”نہیں- میں وہاں نہیں جاﺅں گی-“ وردا نے انکار کرتے ہوئے کہا-

”کیوں؟-“

”تم جس طرح سے مجھے دیکھ رہے ہو- مجھے لگتا ہے کہ تمہارے ساتھ جانا ٹھیک نہیں ہے-“ وردا وجہ بتاتے ہوئے بولی-

”ایسے تو مت کہو- محبت کرتا ہو ں تم سے-تم کو کھا نہیں جاﺅں گا- چلو-“ راجو وردا کا ہاتھ پکڑ کر کار کی طرف بڑھ گیا-

وردا کا دل دھک دھک کر رہا تھا- چند منٹوں میں وہ راجو کے گھر پہنچ گئے-

”ویسے تم اس لباس میں ستم ڈھا رہی ہو- اور سونے پر سہاگہ تمہارے اعضاءکی شاعری-“

”میں نے تو کو وہاں نہیں بلایا تھا- تم کیوں آئے تھے-“

”وہ نغمہ زبردستی لے گئی تھی- میں وہاں نہ جاتا تو مجھے پتہ ہی نہیں چلتا کہ میری وردا اتنی اچھی ڈانسر بھی ہے-“ راجو نے انتہائی پیار سے کہا-

”مجھے کوئی ناچنا واچنا نہیں آتا- میں تو بس یونہی میوزک کے ساتھ تھرک رہی تھی-“

”تمہارا انگ انگ میوزک کے ساتھ ایسے تھرک رہا تھا جیسے سمندر پر موجیں لہرا رہی ہوں- اور یہ ہر کسی کا کام نہیں ہے- اور تمہارے ٹھمکے – اوئے ہوئے- کیا ٹھمکے تھے تمہارے- اور تمہاری اس پتلی کمر کا تو کیا ہی کہنا-“ راجو تعریف پر تعریف کئے جا رہا تھا-

”تمہاری اس ساری تعریف کا مقصد کیا ہے؟-“ وردا نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا-

”ارے ایک آدمی کسی عورت کی تعریف کیوں کرتا ہے— خود سمجھ جاﺅ نا- “ راجو نے شرارت سے کہا-

”راجو بس ایک مہینے کی اور بات ہے- طلاق ہوتے ہی ہم شادی کر لیں گے- میں تمہاری ہوں اور تمہاری ہی رہوں گی-“

”وہی تو میں بھی کہہ رہا ہوں کہ جب تم میری ہوتو پھر شادی ہونے یا نہ ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے- تم کو دل کی گہرائیوں سے اپنی بیوی مان چکا ہوں- اب اور کیا رہ گیا ہے- شادی کے انتظار میں کہیں میری جان نہ چلی جائے-“ راجو نے کہا-

وردا جلدی سے راجو کے منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی- ”ایسا کیوں کہتے ہو-“

”تو کیا کہوں- محبت کرتا ہوں تم سے- کوئی مذاق نہیں-“

ِ”میں بھی محبت کرتی ہوں تم سے- کوئی مذاق نہیں-“

”کہو تو اس مذاق کو تھوڑا آگے بڑھا لوں-“ راجو نے مستی سے کہا-

”لگتا ہے تم کو محبت اور مذاق کا فر ق ہی معلوم نہیں ہے-“

”مجھے کبھی کسی کی محبت نہیں ملی-“ راجو نے وردا کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں تھامتے ہوئے کہا- ”میں زندگی بھر محبت کے لئے ترستا رہا ہوں- ایسا نہیں ہے کہ میں نے کوشش نہیں کی- لیکن میری زندگی میں جو بھی لڑکی آئی اس نے کبھی میرے دل میں جھانکنے کر نہیں دیکھا-میں ہمیشہ محبت کا متلاشی ہی رہا- حتیٰ کہ میں نے محبت کو ہوس میں بھی ڈھونڈنے کی کوشش کی- تم کو دیکھتے ہی میں تمہاری محبت میں گرفتار ہوچکا تھا مگر ڈرتا تھا کہ تمہارا انکار میرا دل نہ توڑ دے- مگر آج میں بہت خوش ہوں- کیونکہ تم نے میرا دل بہت پیار سے سنبھال کر رکھا ہے- مجھے ایسی محبت کبھی اور کہیں نہیں ملی- آئی لو سو مچ-“ راجو کا ایک ایک لفظ اس کی محبت کا آئینہ دار تھا-

”میں بھی تم سے بہت محبت کرتی ہوں- سچ تو یہ ہے کہ میں تم سے محبت کرنا ہی نہیں چاہتی تھی- تم سے دور رہنا چاہتی تھی- مگر تم نے پتہ نہیں کیا جادو کر دیا کہ آخرکار میں تمہاری محبت میں پھنس ہی گئی-“ یہ کہہ کر وردا ہنس پڑی-

”اچھا یہ تو بتاﺅ کہ تم مجھ سے دور کیوں بھاگتی تھیں؟-“ راجو نے پوچھ ہی لیا-

”میں نے خواب دیکھا جس میں تم میرے ساتھ— ہوس کا کھیل کھیل رہے تھے-“

”اوہ-“

”اس خواب میں میں نے نغمہ اور پھر درندے کو بھی دیکھا تھا-اس خواب نے مجھے بہت ڈرا دیا تھا- اس لئے تم سے دور بھاگتی تھی-“ وردا نے اپنے خواب کا راز بتاتے ہوئے کہا-

”ہا ہا ہا ہا— تو اب پتہ چلا کہ تم اپنی جوانی بچانے کے چکر میں تھیں-“ راجو ہنستے ہوئے بولا-

”شٹ اپ-“ وردا نے غصے سے کہا-

راجو نے وردا کی آنکھوں میں دیکھا- غصہ صرف اس کے الفاظ میں تھا- جبکہ آنکھیں محبت کا ساگر بنی ہوئی تھیں- دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں ڈوب سے گئے- دونوں کی آنکھیں اپنی اپنی محبت کا کھل کر اظہار کر رہی تھیں- نہ راجو نے زبان سے کچھ کہا اور نہ وردا نے-ساری باتیں آنکھوں کے ذریعے ہی ہو رہی تھیں-

دونوں ایک دوسرے کے اتنے نزدیک تھے کہ ان کی گرم گرم سانسیں ایک دوسرے سے ٹکرا رہی تھیں-پھر وردا نے آنکھیں بند کر اپنا سر راجو کی چھاتی پر ٹکا دیا اور نہ جانے کن سپنوں میں کھو گئی-

اچانک راجو چلایا- ”اوہ مائی گاڈ- مراد تو میری جان ہی لے لے گا-“

وردا نے آنکھیں کھول کر اس کی طرف دیکھا- اس کی آنکھیں نم تھیں-

”کیا ہوا میری محبوبہ کو-“ راجو نے ایک انگلی سے اس کے گال پر بہتے ہوئے آنسو کو پونچھتے ہوئے کہا-

”راجو- مجھ سے ہمیشہ اتنی ہی محبت کرتے رہنا-“

”چاہے یہ دنیا بدل جائے لیکن میری محبت کبھی نہیں بدلے گی-“ راجو نے یقین دلاتے ہوئے کہا-

”لیکن تم مراد کی کیا بات کر رہے تھے-“

”ارے وہ مراد مجھے وہاں ڈھونڈ رہا ہوگا- اس کی شادی ہے او رمیں وہاں سے غائب- اب وہ تپے گا یا نہیں-“

”اوہ ہاں- میں ابھی چینج کرکے آتی ہوں-“ یہ کہہ کر وردا غسل خانے میں گھس گئی اور راجو بستر پر بیٹھ گیا-

٭٭٭٭٭٭٭

شہلا ‘ شادی کی بھیڑ میں اکیلی پریشان سی گھوم رہی تھی- اس کی نظر راجو اور وردا پر پڑی تو جلدی سے ان کے قریب آئی-

”ریاض تم نے رفیق کو دیکھا کہیں- اس کا فون بھی نہیں لگ رہا ہے-“ شہلا نے پوچھا-

”میڈم – ہم تو ابھی اپنے گھر سے آرہے ہیں- وردا کو لباس بدلنا تھا-“ راجو نے کہا-

”رفیق کل نواب شاہ واپس جا رہا ہے نا- شاید پیکنگ میں بزی ہوگا-“ وردا نے کہا-

”رفیق سر نے استعفیٰ دے کر اچھا نہیں کیا- اب تو ان کی معطلی کا آرڈر بھی کینسل ہوگیا تھا-“ راجو بولا-

”اچھا اگر رفیق نظر آئے تو اس سے کہنا مجھ سے مل لے“

”اوہ- پرسوں تو تمہاری منگنی کی تقریب ہے نا- میں تو بھول ہی گئی تھی-“ وردا نے یاد کرتے ہوئے کہا-

”ہاں- پلیز اسے میرا میسج ضرور دے دینا-“

”آپ فکر نہ کریں- جیسے ہی ملے گا سب سے پہلے یہی کام کریںگے-“ راجو بولا-

رفیق کل سے غائب تھا اور اس کا فون بھی آف تھا- شہلا جب اس کے گھر گئی تو وہاں بھی تالا لگا ہواتھا- یہی وجہ تھی کہ شہلا رفیق کے لئے بہت پریشان ہو رہی تھی- اور شادی کی بھیڑ میں اس کی آنکھیں صرف رفیق ہی کو ڈھونڈ رہی تھیں-

کل سے اس کا دن بہت برا گزر رہا تھا- جب صبح اس کی آنکھ کلی تھی تو آنکھوں میں آنسو تھے- اس نے خواب ہی ایسا دیکھا تھا- خواب میں وہ رفیق کے ساتھ تھی- دونوں ڈنر کر رہے تھے- اور جہاں وہ ڈنر کر رہے تھے وہ بھی بڑی عجیب سی جگہ تھی- یعنی وہ تھانے کی چھت پر ڈنر کر رہے تھے-

کھاتے ہوئے دونوں پیار بھری باتیں بھی کر رہے تھے- اچانک شہلا نے مسکراتے ہوئے کہا- ”رفیق تم میرے دل کی بات جاننا چاہتے تھے نا- تو کیا آج بول دوں؟-“

”ہاں بولو نا- میں تو کب سے انتظار کر رہا ہوں- بتاﺅ کیا ہے تمہارے دل میں-“ رفیق بے تابی سے بولا-

”میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں- مگر میری مجبوری یہ ہے کہ محبت کے اس سفر میں‘ میں تمہارے ساتھ دو قدم بھی آگے نہیں چل سکتی-“

”محبت کرتی ہو اور دو قدم بھی ساتھ نہیں چل سکتیں- میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ڈی ایس پی صاحبہ جیسی فولادی ارادوں والی اندر سے اتنی کمزور بھی نکلے گی- بس اب میں تم سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتا-“ رفیق نے غصے سے کہا-

”رفیق- پلیز- سنو تو-“

”کیا سنوں میں— تم نے تو محبت کو مذاق بنا کر رکھ دیا ہے- محبت کا ایسا بیہودہ اظہار نہ کبھی سنا نہ دیکھا- نفرت ہونے لگی ہے مجھے تم سے-“

اسی وقت شہلا کی آنکھ کھل گئی تھی اور اس کی آنکھوں میں آنسو بھرے ہوئے تھے- خواب میں کہی ہوئی رفیق کی بات کسی کانٹے کی طرح اس کے دل میں چبھ رہی تھی-

”اسی لئے میں نے آج تک اپنی محبت کا اظہار نہیں کیا- محبت کا اظہار کرکے اس محبت کو کھونا نہیں چاہتی میں- اسی لئے یہ محبت اپنے دل میں دبا کر رکھ رہی ہوں- مگر رفیق کیا تم کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ میں تم سے کتنی محبت کرتی ہوں- میں زبان سے اقرار کروں چاہے نہ کروں کیا تم میری آنکھوں کے راستے میرے دل کا حال نہیں پڑھ سکے ہو- یہ آنکھیں تو کچھ بھی چھپانے سے قاصر ہیں- کاش میں ایک بار ہی اس بات کا اقرار کر پاتی کہ میں تم سے کتنی محبت کرتی ہوں-

لیکن قسمت مجھے کچھ کہنے کا موقع ہی نہیں دے رہی ہے-بول دیتی اگر دل پر بوجھ نہ ہوتا- پتہ نہیں پاپا تم کو اتنا ناپسند کیوں کرتے ہیں-“ شہلا چپ چاپ بستر پر پڑی سوچوں میںڈوبی ہوئی تھی-

کچھ دیر شہلا یونہی پڑی رہی پھر اچانک اسے خیال آیا- ”آج پھر پاپا سے بات کرکے دیکھتی ہوں- انہیں منانے کی ایک اور کوشش کرکے دیکھتی ہوں- اگر پاپا مان گئے تو میں اپنے دل کی بات چھپا کر نہیں رکھوں گی-“ دل میں ایک امید لے کر شہلا بستر سے اتر آئی-

صبح کے سات بج رہے تھے- شہلا کے پاپا ڈرائنگ روم میں بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے-

”گڈ مارننگ پاپا-“

”گڈ مارننگ بیٹا- آج تم بڑی جلدی اٹھ گئیں-“

”آپ سے ایک بات کرنی ہے-“ شہلا جھجھکتے ہوئے بولی-

ِِِِ”ہاں بولو کیا بات ہے؟-“ پاپا نے اخبار ایک طرف کر دیا-

”پاپا- کیا میری پسند‘ ناپسند کوئی معنی نہیں رکھتی؟-“

”کیا مطلب— میں کچھ سمجھا نہیں-“

”میں رفیق کو پسند کرتی ہوں اور آپ زبردستی میری شادی کہیں اور کرنا چاہتے ہیں- کیا یہ صحیح کر رہے ہیں آپ؟-“

”بالکل صحیح کر رہا ہوں— کہاں تم اور کہاں وہ— تم ایک ڈی ایس پی اور وہ ایک انسپیکٹر- تم دونوں کا کوئی جوڑ نہیں ہے بیٹا-“ پاپا نے اپنے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا-

”لیکن میں اس انسپیکٹر کو پسند کرتی ہوں- کیا اس بات سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا آپ کو-“

”تم پاگل ہوگئی ہو کیا- میں نے تمہارے لئے اتنا اچھا رشتہ ڈھونڈا ہے اور تم پھر سے اس نکمے انسپیکٹر کی بات کر رہی ہو- فرق یہ ہے کہ تم دونوں میں طبقاتی فرق ہے- او رمیرے سوچنے کے لئے یہی کافی ہے- جب میں ایک بار اپنا فیصلہ سنا چکا ہوں تو تم دوبارہ وہی بات کیوں دوہرا رہی ہو-“

”کیونکہ میں شادی کے بعد گھٹ گھٹ کر جینا نہیں چاہتی- آخر رفیق میں برائی کیا ہے؟-“ شہلا نے ایک اور کوشش کرتے ہوئے کہا-

”میںکہتا ہوں کہ احسن میں کیا برائی ہے- تم دونوں کا سوشل اسٹیٹس بھی ایک ہی ہے- تم اپنے برابر کے آفیسر سے شادی کرو گی تو بات بنے گی ورنہ لوگ مذاق اڑائیں گے-“

”مگر میں رفیق کو پسند کرتی ہوں- احسن کو نہیں-“

”جب شادی ہوجائے گی تو خود بخود پسند کرنے لگو گی-“ پاپا نے حتمی لہجے میں کہا-

”میں یہ شادی نہیں کر سکتی-“

باپ بیٹی کی بحث سن کر اس کی ممی بھی آگئی-

”تو مت کرو- اسی دن کے لئے ہم نے تم کو پال پوس کر بڑا کیا ہے نا کہ ہمارے سامنے آکر کھڑی ہوجاﺅ- تم مجھ سے زندگی میں پہلی بار زبان لڑا رہی ہو— میں نے اپنا فیصلہ سنا ہے- بس-“ پاپا غصے سے بول رہے تھے-

”پاپا میں زبان نہیں لڑا رہی- صرف اپنے دل کی بات بتا رہی ہوں-“

”دل کی بات کرنے سے تمہاری زندگی نہیں سنور سکتی بیٹا—- دماغ سے کام لو— میں کوئی دشمن نہیں ہوں تمہارا-باپ ہوں- تمہارا بھلا چاہتا ہوں- احسن کے خاندان والوں کو بہت اچھی طرح سے جانتا ہوں میں- اس کے ڈیڈی میرے کلاس فیلو تھے- اپنے دل کی بات پر اپنے دماغ سے غور کرو- تم اس گھر میں ہمیشہ خوش رہو گی-“

”یہ کون کہہ سکتا ہے کہ خوش رہوں گی یا دکھی-“

”تو تم یہ کہنا چاہتی ہو کہ ہم تمہارے دشمن ہیں جو تمہیں دکھ جھیلنے کے لئے مجبور کر رہے ہیں- اگر تم ایسا سمجھتی ہو تو جاﺅ جو تم کرنا چاہتی ہو وہ کرو- تم بالغ ہو- تم کو اپنے فیصلے خود کرنا کا قانونی حق حاصل ہے- اوپر سے پولیس افسر بھی ہو- ہماری اوقات ہی کیا ہے تم کو کچھ کہنے کی- جاﺅ بیٹا جاکر اپنی مرضی کرو-“ پاپا نے دکھی لہجے میں کہا-

”نہیں پاپا پلیز- ایسی بات نہیں ہے- میں آپ کی مرضی کے بغیر ایک قدم بھی نہیں اٹھاسکتی اور یہ بات آپ اچھی طرح جانتے ہیں-“ شہلا جذباتی ہوتے ہوئے بولی-

”اگر تم کو ہماری مرضی کی اتنی ہی پرواہ ہے تو دوبارہ رفیق کی بات کیوں کر رہی ہو- مجھے وہ لڑکا بالکل پسند نہیں ہے- اگر تم دوبارہ اس موضوع پر بات کی تو میرا مرا ہوا منہ دیکھو گی-“ یہ کہہ کر جیسے پاپا نے بات ہی ختم کر دی تھی-

شہلا اپنے پاپا کے قدموں میں بیٹھ کر بولی- ”ایسی باتیں مت کریں پاپا- میں وہی کروں گی جو آپ کہیں گے-“

”میری مرضی تم جانتی ہو- تمہاری ایسی باتوں سے مجھے بہت دکھ ہوتا ہے- تم نے بھول کر بھی میرے سامنے رفیق کا نام لیا تو میرا اور تمہارا رشتہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے گا- میں بھی بھول جاﺅں گا کہ میری کوئی بیٹی بھی تھی-“ یہ کہتے ہوئے پاپا اٹھے اور وہاں سے چلے گئے-

شہلا تو کتنی ہی امیدیں لے کر اپنے پاپا سے بات کرنے آئی تھی- مگر اس کی ساری امیدیں گہری مایوس میں بدل گئی تھیں- بڑی مشکل سے وہ تیار ہوئی اور ناشتہ کئے بنا ہی تھانے کے لئے نکل گئی-

اپنے کمرے میں پہنچتے ہی شہلا کو فیکس ملا کر رفیق کی معطلی منسوخ کر دی گئی ہے- اس فیکس سے شہلا کے دکھی دل کو کچھ سکون ملا- اور یہ سب شہلا کی اپنی کوششو ں سے ممکن ہوسکا تھا- اس نے فوراً رفیق کو فون ملایا-

”ہیلو رفیق- کیا اسی وقت تھانے آسکتے ہو-“ شہلا اسے فون پر کچھ بتانا نہیں چاہتی تھی-

”میں تھانے ہی آرہا ہوں- راستے میں ہوں‘ بس دس منٹ میں پہنچ جاﺅں گا-“

رفیق جب شہلا کے آفس میں پہنچا تو وہ چوہان کو کچھ ہدایات دے رہی تھی- رفیق دروازے پر ہی رک گیا-

”مسٹر چوہان – اب تم جا سکتے ہو- جیسا کہا ہے ویسا ہی کرنا-“ شہلا نے چوہان سے کہا-

چوہان ‘ رفیق کو گھورتا ہوا باہر نکل گیا-

”رفیق آﺅ بیٹھو- وہیں کھڑے رہو گے کیا- تمہیں ایک خوشخبری سنانی ہے-“

رفیق خاموشی سے شہلا کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا-

”کیا بات ہے- کچھ کھوئے کھوئے سے ہو-“

”نہیں بس یونہی-“

”رفیق تمہارا سسپینشن کینسل ہوگیا ہے- تم آج بلکہ ابھی سے جوائن کر سکتے ہو-“ شہلا نے خوشی سے خبر سناتے ہوئے کہا-

یہ سن کر رفیق ہلکا سا مسکرایا اور بنا کچھ بولے شہلا کے سامنے ایک لفافہ رکھ دیا-

شہلا کو رفیق کے ردعمل پر حیرت ہو رہی تھی-

”کیا بات ہے رفیق- تمہیں کوئی خوشی نہیں ہوئی یہ سن کر-“ شہلا بولی-

”خوشی تو بہت ہے- اور آپ نے میرے لئے کوشش بھی بہت کی تھی- اس کے لئے شکریہ اد اکرتا ہوں-“ رفیق نے پھیکے لہجے میں کہا-

”مگر تمہارے چہرے پر اس خوشی کا کوئی تاثر نہیں آرہا- — اس لفافے میں کیا ہے؟-“

”کھول کر دیکھ لیجئے-“

شہلا نے لفافے میں سے لیٹر نکالا اور پڑھتے ہی چونک گئی-

”رفیق یہ کیا مذاق ہے- استعفیٰ کیوں دے رہے ہو- میں نے بڑی مشکل سے آرڈر کینسل کروایا ہے اور تم استعفیٰ دے رہے ہو- کیا میں پوچھ سکتی ہوں کہ تم ایسا کیوں کر رہے ہو-“

”پرسوں میں نواب شاہ واپس جا رہا ہوں- مجھے پولیس کی نوکری کبھی بھی پسند نہیں تھی- صرف اپنے والد کی وجہ سے یہ ملازمت اختیار کی تھی-“ رفیق نے کہا-

شہلا کو ایک اور جھٹکا لگا- ”نواب شاہ جا رہے ہو- مگر کیوں؟-“

”یہاں نہیں رہ سکتا- میری کچھ مجبوری ہے-“

”تم اب میرے انڈر کام کرنا نہیں چاہتے‘ ہیں نا- یہی مجبوری ہے نا تمہاری- تمہاری مردانہ انا شاید اب تم کو میرے انڈر کام کرنے کی اجازت نہیں دے رہی ہے- “

”یہ بات نہیں ہے-“

”پھر کیا بات ہے- مجھ سے اتنی دور کیوں جا رہے ہو تم-“ شہلا نے اسے غور سے دیکھتے ہوئے کہا-

”کیا میرے چلے جانے سے آپ کو کوئی فرق پڑے گا؟-“رفیق نے بھی اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا-

”اگر کوئی فرق نہ پڑتا تو کیا میں اس وقت یوں پریشان کیوں ہو رہی ہوتی- تم یہیں رہو‘ میرے پاس- مجھے اکیلا چھوڑ کر مت جاﺅ-“ شہلا نے جیسے التجا کرتے ہوئے کہا-

”آپ نے آج تک اپنی زبان سے محبت کا اظہار تک نہیں کیا- آج میں جانے کی بات کر رہا ہوں تو آپ کو دکھ ہو رہا ہے-“

”ایک بات بتاﺅ— کیا تمہارا اور میرا رشتہ صرف محبت کا ہی رہ سکتا ہے؟— کیا ہم دوست بن کر نہیں رہ سکتے-“ شہلا بولی-

”کیا ہم کبھی دوست تھے جو اب دوست بن کر رہیں گے- ہم محبت کرتے ہیں ایک دوسرے سے- میں اس محبت کو دوستی میں نہیں بدل سکتا-“ رفیق نے رندھے ہوئے لہجے میں کہا-

”کیوں نہیں بدل سکتے- دوستی بھی تو محبت کا ایک روپ ہے-“

”آپ پہلے محبت تو قبول کرتیں- پھر میں اس بارے میں کچھ سوچتا بھی- آپ بیکار میں بحث کر رہی ہیں-“ رفیق نے بات ختم کرتے ہوئے کہا-

”تم مجھ سے کیا چاہتے ہو؟-“

”آپ سے کچھ تب چاہتا جب آپ مجھے یہ حق دیتیں- مگر شاید میری محبت یک طرفہ ہے- اس لئے میں آپ سے کچھ نہیں چاہتا- میں یہاں سے جا رہا ہوں- کیونکہ میں اپنی محبت کو کسی اور کے نام ہوتا نہیں دیکھ سکتا- یہاں رہوں گا تو ہر پل گھٹ گھٹ کرجینا پڑے گا-“ رفیق بہت زیادہ جذباتی ہو رہا تھا-

”تو یہ شہر او رملازمت تم میری وجہ سے چھوڑ رہے ہو-“ شہلا کی آواز میں عجیب سا درد تھا-

”یہ ملازمت تو مجھے چھوڑنی ہی تھی- میں نے بتایا نا کہ مجھے پولیس کی نوکری کبھی بھی پسند نہیں رہی-“

”ہاں- مگر ابھی تو تم میری وجہ سے یہ سب کر رہے ہو- کیا میرے لئے اس سے بڑی سزا بھی کوئی ہوسکتی ہے-“

”یہ سز ا میں آپ کو نہیں بلکہ خود کو دے رہا ہوں- آپ کے لئے تو ایسا سوچ بھی نہیں سکتا-“

”پلیز میرے ساتھ ایسا مت کرو- یہ استعفیٰ واپس لے کر یہیں اسی شہر میں رہو-“ شہلا روہانسی ہو رہی تھی-

”ہاں یہیں رہوں اور آپ کو کسی اور سے شادی کرتا ہوں دیکھوں- پھر بچے پیدا کرتے دیکھوں- میں یہ برداشت نہیں کر سکوں گا-“

”شٹ اپ-“ رفیق کی بات نے شہلا کو غصہ سا دلا دیا تھا-

”کیوں چپ رہوں- آپ نے تو میری محبت کو مذاق بنا کر رکھ دیا ہے-“

”میں نے تم کو محبت کرنے کے لئے نہیں کہا تھا-“

”آپ کبھی کہہ بھی نہیں سکتی تھیں- میرا ہی دماغ خراب تھا جو آپ سے محبت کرنے کی بھول کر بیٹھا تھا- مجھے کیا پتہ تھا کہ میری محبت کی یوں تذلیل کی جائے گی-“ رفیق کے لہجے میں تڑپ تھی-

”دیکھو میں اس بار ے میں تم سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتی- میری بس یہی درخواست ہے کہ جب ہمارے درمیان محبت کا رشتہ ممکن نہیں ہے تو ہم اچھے دوست بن کر رہ سکتے ہیں-“

”ٹھیک ہے- مجھے آپ کی دوستی قبول ہے- لیکن یہ دوستی نبھانے کے لئے میرا یہاں رکنا ضروری نہیں ہے- فون پر بھی ہم یہ دوستی جاری رکھ سکتے ہیں-“ رفیق نے ایک اور حل ڈھونڈ لیا-

یہ سنتے ہی شہلا بھڑک اٹھی- ”جاﺅ پھر دفعہ ہوجاﺅ یہاں سے-“ وہ چلا کر بولی-

”مجھ پر چلائیں مت- غصہ کرنا مجھے بھی آتا ہے- ایک تو آپ میری محبت کی توہین کر رہی ہیں اوپر سے مجھ پر ہی چلا رہی ہیں- ڈی ایس پی صاحبہ ہوکر بھی اپنی زندگی کے فیصلے دوسروں پر چھوڑ رکھے ہیں آپ نے – واہ-“

”وہ دوسرے لوگ نہیں ہیں- میرے ماں باپ ہیں- ان کے بار ے میں کچھ مت کہنا-“

”کیوں نہ بولوں ان کے بارے میں- وہ میری محبت کو مجھ سے چھین رہے ہیں اور آپ ان کا ساتھ دے رہی ہیں- اپنے فیصلے آپ کو خود کرنے چاہئیں- ماں باپ اپنی جگہ مگر ان کی خوشی کے لئے اپنی خوشیوں کا گلا مت گھونٹیں-“

”شٹ اپ- شٹ اپ-“

”ہاںمیری زبان پر تالے لگوا دیں- میں نے کچھ غلط نہیں کہا- آپ کے والدین آپ کی خوشیوں کا گلا گھونٹ رہے ہیں-آپ ان کی مرضی مان رہی ہیں او رمجھ سے کہہ رہی ہیں کہ رک جاﺅں- تاکہ آپ کی شادی شدہ زندگی کو پھلتا پھولتا دیکھ سکوں-“

”گیٹ آﺅٹ- دوبارہ یہاں مت آنا- جاﺅ یہاں سے- مجھے تمہاری کوئی پرواہ نہیں ہے-“ شہلا نے غصے سے کہا-

اسی وقت چوہان کمرے کے اندر آکر بولا- ”میڈم یہ فائل دیکھ لیں- اس میں ساری تفصیل ہے-“

چوہان کو آتے دیکھ کر رفیق کمرے سے باہر نکل گیا-

کچھ دیر بعد جب شہلا کا غصہ سرد ہوا تو اس نے رفیق کو فون کیا مگر فون سوئچ آف تھا- کچھ دیر بعد شہلا رفیق کے پہنچی مگر وہاں تالا لگا ہوا تھا- شہلا کا پورا دن اور پوری رات بے چینی سے گزری- شہلا نے کئی بار رفیق کا فون ملایا مگر ہر بار فون بند ہی ملا-

شہلا کو امید تھی کہ رفیق‘ مراد کی شادی میں ضرور آئے گا اسی لئے وہ شادی کی تقریب میں بے چینی سے صرف اسے ہی ڈھونڈ رہی تھی-

مراد اور سحرش کا نکاح پڑھایا جا چکا تھا اور وہ دونوں پھولوں سے لدے اسٹیج پر بیٹھے ہوئے تھے- راجو اور وردا دولہا دلہن کو مبارکباد دینے پہنچے تو مراد نے کہا- ”

”تم دونوں تھے کہاں- فون بھی نہیں اٹھا رہے تھے- یہ کوئی طریقہ ہے کیا- میری شادی ہو رہی ہے اور میرے سارے ہی دوست غائب ہیں- لگتا ہے کسی دوست کو میری شادی سے خوشی نہیں ہو رہی ہے-“

”سوری استاد- ہم گھر گئے تھے- وردا کو کپڑے بدلنے تھے-“

”تو یہ چلی جاتی- تمہار اساتھ جانا ضروری تھا کیا- یہ بھی نہیں سوچا کہ پیچھے انتظامات کون سنبھالے گا- تمہاری شادی ہوگی نا تو میں بھی ایسے ہی غائب ہوجاﺅں گا- دیکھ لینا-“ مراد نے غصہ دکھاتے ہوئے کہا-

”ہاںوردا- مجھے بھی بہت برا لگا- ہماری شادی ہو رہی ہے اور کوئی ہمارے ساتھ نہیں ہے – شہلا بھی نظر نہیں آرہی ہے- ایک بار جھلک نظر آئی تھی پھر نہ جانے کہاں چلی گئی-“ سحرش بولی-

”رفیق کا بھی کچھ اتا پتہ نہیں ہے- اوپر سے ان صاحب نے اپنا فون بھی بند رکھا ہوا ہے- پتہ نہیں کہاں اتنا مصروف ہے کہ ہماری شادی میں آنے کا بھی وقت نہیں ہے اس کے پاس-“ ‘مراد نے اداسی سے کہا-

”شہلا کو تو پتہ ہوگا اس کے بارے میں؟-“ سحرش نے پوچھا-

”نہیں اسے بھی کچھ پتہ نہیں ہے- وہ تو خود ہم سے پوچھ رہی تھی رفیق کے بارے میں-“ وردا بولی-

شہلا نے راجو اور وردا کو اسٹیج پر دیکھا تو اس نے سوچا کہ وہ بھی انہی کے ساتھ مبارکباد دے دے- یہی سوچ کر وہ بھی اسٹیج پر آگئی-

”فرصت مل گئی ہم سے ملنے کی؟-“ سحرش نے کہا-

شہلا کچھ نہ بول سکی- بولتی بھی کیا-

”شہلا‘ رفیق کہاں ہے- کیا اس کے پاس ہماری شادی میں آنے کا وقت بھی نہیں ہے-“ مراد نے کہا-

شہلا لفافہ سحرش کو تھماتے ہوئے بولی- ”مجھے بھی نہیں پتہ کہ وہ کہاں ہے-“

”یہ لو- شیطان کا نام لیا اور شیطان حاضر-“ اچانک مراد بولا-

شہلا نے جلدی سے پیچھے مڑ کر دیکھا‘ رفیق اسٹیج کی طرف ہی آرہا تھا- رفیق نے شہلا کو چھوڑ کر سب سے ہی سلام دعا کی- شہلا پیاسی نگاہوں سے اس کی طرف دیکھتی رہی مگر رفیق نے ایک بار بھی اس کی طرف نہیں دیکھا-

”تمہیں اب وقت ملا ہے شادی میں آنے کا- مجھے تو لگ رہا تھا کہ تم آﺅ گے ہی نہیں-“ مراد نے شکایت کرتے ہوئے کہا-

”سوری یار – میں ایک کام میں مصروف تھا-“

شہلا بس رفیق کو ہی دیکھ رہی تھی- اور یہ دیکھ کر اس کا دل بہت بھاری ہو رہا تھا کہ وہ سب کے سامنے اسے بری طرح سے نظر انداز کر رہا تھا-

وہ سب سے ہنس ہنس کر باتیں کر رہا تھا- شہلا اس کا یہ سلوک برداشت نہیں کر پائی- دل میں تڑپ سی اٹھ رہی تھی- جس کے لئے وہ کل سے پریشان تھی وہ اسے ایک بار بھی نظر اٹھا کر دیکھنے کا روادار نہیں تھا- اس نے خود کو سنبھالنے کی بہت کوشش کی مگر اندر کے جذبات امڈ کر باہر آنے کو بے چین ہو رہے تھے اور جب آنسو برسنا شروع ہوئے تو پھر برستے ہی چلے گئے- وہ اپنے آنسو کسی کو دکھانا نہیں چاہتی تھی اس لئے فوراً اسٹیج سے نیچے اتر گئی-

سب اپنی باتوں میں مگن تھے مگر صرف سحرش ہی شہلا کے آنسوﺅں کی گواہ تھی-

”ارے شہلا کو کیا ہوا- وہ بنا کچھ کہے چلی گئی-“ مراد نے کہا-

”جانے دو اسے- ڈی ایس پی صاحبہ ‘ اپنی ڈیوٹی میں بزی رہتی ہیں- کوئی کام یاد آگیاہوگا-“ رفیق نے لاپرواہی سے کہا-

”نہیں- وہ یہاں سے روتے ہوئے گئی ہے-“ سحرش نے جلدی سے کہا-

”روتے ہوئے- مگر کیوں؟-“ مراد نے پوچھا-

”یہ تو رفیق ہی بتا سکتا ہے- رفیق وہ تمہیں بہت دیر سے ڈھونڈ رہی تھی- اور میں نوٹ کر رہی تھی کہ تم نے اس کے ساتھ بات تک نہیں کی-“ وردا بولی-

”مجھے ڈھونڈ رہی تھی- ارے نہیں- تمہیں ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی-“

مراد اپنی کرسی سے اٹھا اور رفیق کا ہاتھ پکڑ کر ایک طرف لے گیا-

”بات کیا ہے— کیا مجھے بتاﺅ گے-“

”کچھ نہیں ہے یار- مجھ سے کچھ مت پوچھو- میں اس بار ے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتا-“ رفیق نے کہا-

”اچھا- تو کیا مجھے کچھ جاننے کا حق نہیں ہے؟— کیا یہ دوستی صرف نام کی ہے- بتاﺅ مجھے کیا بات ہے-“ مراد اپنا حق جتاتے ہوئے بولا-

”وہ مجھ سے محبت کا دعویٰ کرتی ہے لیکن اپنے ماں باپ کی وجہ سے میرے ساتھ شادی نہیں کر سکتی- اس لئے میں یہ شہر اور ملازمت چھوڑ کر جا رہا ہوں-“ رفیق نے اصل بات بتا ہی دی-

”دیکھو ہر کوئی محبت میں بولڈ اسٹیپ نہیں اٹھا سکتا- ماں باپ کی بات کو نظر انداز کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا- تم اس کی مجبوری کو نہیں سمجھ رہے ہو-“ مراد سمجھاتے ہوئے بولا-

”میں سب سمجھ رہا ہوں مگر کیا کوئی اتنا بھی مجبور ہو سکتا ہے کہ اپنی محبت کا گلا گھونٹ دے-“

”وہ سب ٹھیک ہے- اب جب تم یہاں سے جا ہی رہے ہو تو ناراض ہوکر جانا ضروری ہے کیا- خوشی خوشی اس سے مل کر جاﺅ-“ مراد نے مشورہ دیا-

”وہی کرنا چاہتا تھا- کل میری اس سے بحث ہوگئی تھی اور اس نے مجھے اپنے آفس سے دفعہ ہوجانے کو کہا تھا- محبت کے دو بول تو آج تک نہیں بولے- دفعہ ہونے کو بڑی جلدی بول دیا- خود کو پتہ نہیں کیا سمجھتی ہے- کل مجھے بہت دکھ ہوا تھا اس کی باتیں سن کر- کل مجھے احساس ہوا کہ میں کس ظالم سے محبت کی ڈور الجھا بیٹھا ہوں-“ رفیق اپنے اندر کا لاوا ابلتے ہوئے بولا-

”اگر وہ ظالم ہوتی تو یہاں سے روتی ہوئی نہ جاتی-“

”سحرش کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی- میں اس بات کی شرط لگا سکتا ہوں کہ وہ رو ہی نہیں سکتی-“

”سحرش- ادھر آﺅ-“ رفیق نے سحرش کو آواز دی-

سحرش بھی اٹھ کر ان کے پاس آگئی- ”کیا بات ہے مراد-“

”تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا نا شہلا کو روتے ہوئے-“ مراد نے پوچھا-

”ہاں میں نے دیکھا تھا-“

”ابے اس کی آنکھ میں کچھ چلا گیا ہوگا- اس لئے نم ہوگئی ہوں گی-“ رفیق اب بھی ماننے کو تیار نہیں تھا-

”اس کی آنکھیں برس رہی تھیں رفیق- گالوں پر آنسوﺅں کی لڑیاں بہہ رہی تھیں- ایسا آنکھ میں کچھ چلے جانے سے نہیں ہوتا- ایسا تب ہی ہوتا ہے جب کسی کے دل پر چوٹ پہنچتی ہے- تم نے اسے اس طرح اگنور کیوں کیا؟-“ سحرش نے کہا-

”تم نہیں سمجھو گی-“

”اس کے پیچھے جاﺅ یار- اس سے بات کرو- جس سے محبت کرتے ہو اسے ایسا دکھ دینا مناسب نہیں ہے-“ مراد نے اسے پھر سمجھایا-

”دکھ تو مجھے مل رہا ہے- اسے کس بات کا دکھ- بہت بڑے آفیسر سے اس کی شادی ہونے والی ہے- وہ خود بھی افسر ہے- ان دونوں کی خوب گزرے گی- میں اس کے پیچھے نہیں جاﺅں گا- میں کل یہاں سے جا رہا ہوں اور جاتے ہوئے کوئی ٹینشن ساتھ نہیں لے جانا چاہتا- کوئی روتا ہے تو روتا رہے- خود کو اتنا مجبور اس نے بنا رکھا ہے ‘ میں نے نہیں- اپنے آنسوﺅں کی وہ خود ذمہ دار ہے-“ رفیق نے نہایت سنگدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا-

”یہ آنسو اسے تم نے دیئے ہیں‘ اسے اگنور کرکے-“ سحرش بولی-

مراد نے سحرش کا ہاتھ پکڑا اور بولا- ”چھوڑو یہ سب- رفیق تم یہ شادی انجوائے کرو- ہم کیوں بیکار کی بحث کر رہے ہیں- چلو سحرش اپنی ہاٹ سیٹ پر چل کر بیٹھتے ہیں-“

سحرش نے مراد کو سوالیہ نظروں سے دیکھا- بیٹھنے کے بعد مراد نے سحرش کے کان میں کہا- ”وہ ڈرامے بازی کر رہا ہے- ابھی دیکھنا کیسے دوڑ کر جائے گا اس کے پیچھے- وہ تو اس کے چہرے پر ہلکی سی شکن بھی برداشت نہیں کر سکتا- یہ آنسو تو بہت بڑی چیز ہیں-“

”اچھا— کاش ایسی محبت کوئی مجھ سے بھی کرے-“ سحرش ہنستے ہوئے بولی-

”تم رو کر تو دکھاﺅ- میں تمہارے ہر آنسو کے لئے محبت کی الگ الگ داستان لکھوں گا- اتنی محبت کرتا ہوںمیں تم سے-“

”پتہ ہے مجھے-“ سحرش اس کا ہاتھ دبا کر بولی-

”ہم بھی ہیں یہاں- تم دونوں ہمیں نظر انداز کرو گے تو ہم بھی میڈم کی طرح رو کر اسٹیج سے اتر جائیں گے-“ وردا نے کہا-

”اتر جاﺅ جلدی سے – ہمیں ڈسٹرب مت کرو-“ مراد نے ہنس کر کہا-

”چلو وردا- یہاں ہماری کسی کو ضرورت نہیں ہے-“ راجو نے وردا کا ہاتھ پکڑ کر کہا-

”ارے رکو- مراد تو مذاق کر رہا ہے-“ سحرش انہیں روکتے ہوئے بولی-

”میں تم سے زیادہ استاد کو جانتا ہوں- مگر دوسرے لوگ بھی انتظار کر رہے ہیں- ہم ہی اسٹیج گھیرے رہیں گے تو دوسرے کہاں کھڑے ہوں گے—- ارے رفیق سر کہاں گئے-“ راجو نے کہا-

سحرش او رمراد نے مسکرا کر ایک دوسرے کی طرف دیکھا- ”گیا نا شہلا کے پیچھے-“ مراد بولا-

”ہوسکتا ہے کہیں اور گیا ہو؟-“

”ہو ہی نہیں سکتا- وہ اسی کے پیچھے گیا ہے- تم نے اس رات نہیں دیکھا تھا جب درندہ خار دار تار والے بیٹ سے شہلا کو پیٹنے والا تھا تو رفیق کیسے شہلا کی ڈھال بن گیا تھا- اس کی پوری کمر چھل گئی تھی مگر وہ ہٹا نہیں تھا-“

”جب رفیق اس سے اتنی گہری محبت کرتا ہے تو وہ کسی اور سے شادی کیوں کر رہی ہے-“ سحرش نے پوچھا-

”اس کی کوئی تو مجبوری ہوگی- ورنہ کوئی یونہی بے وفائی نہیں کرتا-“

”یہ بات بھی ہے- مجھ سے تو برداشت ہی نہیں ہوئے اس کے آنسو- ایک پل کو تو میں حیران ہی رہ گئی تھی- مجھے یقین ہی نہیں ہوا کہ شہلا جیسی مضبوط عورت اس طرح رو بھی سکتی ہے-“

”محبت انسان سے سب کچھ کروا دیتی ہے- ویسے ابھی تھوڑی دیر میں تمہارے آنسو بھی نکلنے والے ہیں-“ مراد نے ذومعنی انداز میں کہا-

”وہ کیوں؟-“

” ارے بھئی یہ تو روایت ہے کہ ہر دلہن رخصت ہوتے ہوئے خواہ مخواہ روتی ہے- چاہے اس کے دل میں لڈو پھوٹ رہے ہو- لیکن دنیا دکھاوا بھی توکرنا ہوتا ہے نا-“ مراد نے ہنس کر کہا-

”دیکھو مراد – ابا کتنے خوش ہیں- اور باجی کی خوشی کا تو کوئی ٹھکانہ ہی نہیں ہے- اور ان دونوں سے زیادہ میں خوش ہوں- رونے کا دل ہی نہیں کر رہا- مگر رونا آہی جائے گا- غم سے نہیں خوشی کے مارے-“ سحرش ہلکے سے کھلکھلا کر بولی-

٭٭٭٭٭٭٭

جاری ہے

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

جنوں ..مہتاب خان ..قسط نمبر 3 آخری

جنوں  مہتاب خان  (قسط نمبر 3) ساحر نے عادل کا چیلنج قبول کر لیا تھا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے