سر ورق / ناول / ڈھل گیا ہجر کا دن نادیہ احمد قسط نمبر8

ڈھل گیا ہجر کا دن نادیہ احمد قسط نمبر8

۔

ڈھل گیا ہجر کا دن

نادیہ احمد

قسط نمبر8

میرے چارہ گر!

تیری چپ کھلے

کہ

ہوا کو اذنِ سفر ملے!!

میرے زخم کھِل کے گلاب ہوں!

یہ جو سانس سانس ہیں وحشتیں

یہ سراب و خواب کی منزلیں

یہ دئیے کی لو سی جو آس ہے

تیرا حکم ہو۔۔۔

تو یہ جل بجھے!!

مجھے عشق کا یہ صلہ ملے

تیرے ہاتھ روح کی گرہ کھلے

یہ بدن کی قید سے ہو رِہا

تیرا یہ کرم

مجھے کیمیا!!

نہ سوال ہوں

نہ جواب ہوں

کسی طور ختم یہ عذاب ہوں۔

نیم تاریک کمرے کے وسط میں دھرے بستر پہ لیٹے شہباز کے بے دم وجود میں زندگی کی واحد رمق اس کی تیز چلتی سانسیں تھیں۔ کمرے کی خاموشی میں گونجتی اس کے تنفس کی آواز عجیب ہولناکی برپاءکرتی تھی۔ بیڈ کے پاس رکھی واحد کرسی پہ بیٹھے ٹیپو کی نگاہ پچھلے آدھے گھنٹے سے اس کے سینے پہ جمی تھی۔ ابھرتی ڈوبتی سانسوں کا تسلسل سینے پہ نمایاں ہورہا تھا ۔ ہر سانس کے ساتھ ٹیپو کے اپنے اندر بہت کچھ ٹوٹتا ، بکھرتا اور نئے سرے سے سمٹ جاتا۔ پچھلے دو دن سے شہباز کی حالت شدید خراب ہورہی تھی۔ اس نے کھانا پینا مکمل چھوڑ دیا تھا ۔اب بھی تمام دن میں اس نے بمشکل چند چمچ پانی ہی پیا تھا اور اب بہت دیر سے مستقل غشی کے عالم میں وہ بستر پہ بے سدھ پڑا تھا۔ڈاکٹر کے مطابق اب تو بس دعا تھی جو اس کے لئے آسانی کر سکتی تھی ۔ دوا اور علاج دونوں ناکام ہوچکے تھے ۔ ایک سانس تھی جو اب اٹکی تھی ورنہ بستر پہ پڑی اس زندہ لاش کو دیکھ کر خوف آتا تھا۔ شائد اسی لئے دو دن سے کوئی ملازم اور اس کی بیوی کمرے میں نہیں آرہا تھا پر وہ اس سے خوف نہیں کھاتا تھا۔ اس کا ڈر بہت سال پہلے اس کے دل و دماغ سے نکل گیا تھا۔ دس سال کی عمر میں وہ اس سے بری طرح خوفزدہ تھا۔ اس کی مار، گالیاں، ماں اور بہن کو دئیے جانے والے طعنے سوتے میں بھی اسے ڈرایا کرتے تھے۔ سفینہ کی دردناک موت کا آسیب سالوں اس کا پیچھا کرتا رہا لیکن اس سے بڑھ کر بہن کی بدکرداری اس کی روح کا داغ بنی اس سے لپٹی رہی اور اس سب کی وجہ یہ ایک شخص تھا جو برسوں سے بے بسی کی انتہا کو چھوتا اس کے رحم و کرم پہ پڑا تھا۔ جو ہل کر خود سے پانی بھی نہیں پی سکتا تھا اور اپنی ہر ضرورت کے لئے اپنی اس اولاد کا محتاج تھا جس کی زندگی کو دردناک عذاب میں بدلنے والا وہ، اس کا اپنا باپ تھا۔

”اللہ“۔ اس کے بے جان وجود میں ہلکی سی جنبش ہوئی تھی۔ حلق کے زور پہ کراہتے ہوئے ٹیپو نے اس کے کانپتے لبوں سے یہ لفظ سنا تھا۔ بے اختیار اس نے باپ کا ہاتھ تھام لیا۔ ہاتھ کی پشت سے اپنی آنکھوں کا پانی صاف کرتے اس کا ذہن ماضی کی دھندلی یادوں میں کھوگیا تھا۔

٭….٭….٭

انصاری ہاو ¿س کے لان میں آج رات میں دن کا سماں محسوس ہورہا تھا۔ مناسب فاصلے پہ گروپ کی شکل میں گول میز کے گرد کرسیاں رکھی گئی تھیں ۔ اس سے کچھ فاصلے پہ بوفے ٹیبل سجا تھا۔ پاس ہی لائیو بار بی کیو کا انتظام تھا جس کی اشتہا انگیز خوشبو مہمانوں کی بھوک میں اضافہ کر رہی تھی۔ باوردی بیرے وقفے وقفے سے مہمانوں کو ڈرنکس سرو کر رہے تھے۔ بطور ڈی سی یہ پہلا عشائیہ تھا جس میں سمیر اور اس کی فیملی کے پروفیشنل اور پرسنل سبھی دوست شامل تھے۔ سبھی کے چہروں پہ مسکراہٹ نمایاں تھی۔ سمیر ، نور اور زبیر انصاری سب سے خوشدلی سے ملتے مبارکباد وصول کرتے نظر آتے تھے۔ سمیر ابھی اس ڈنر کو کچھ عرصہ مو ¿خر کرتے ہوئے اپنے کام پہ توجہ دینا چاہتا تھا ۔ وہ ان دنوں بے حد مصروف تھا لیکن یہ نور انصاری کی خواہش تھی کہ عمیر آیا ہے تو اس بہانے ایک گیٹ ٹو گیدر ارینج ہوجائے پھر خود سمیر کو بھی اپنے حلقہِ احباب کی جانب سے پریشر کا سامنا تھا ۔ تقریباََ سب مہمان وقت پہ آچکے تھے سوائے کشمالہ کے اور اس کے انتظار میں کئی بار سمیر نے کلائی پہ بندھی گھڑی کی طرف دیکھا تو کبھی نگاہ مین اینٹرنس کی طرف گئی۔ اتنا تو اسے یقین تھا وہ اس ڈنر کو کسی صورت مِس نہیں کرے گی ۔ اس کے یقین کو تقویت کشمالہ کی آمد سے ہوئی ۔

بلیک سلک کرتے اور ٹراو ¿زر میں ہائی ہیلز کے ساتھ وہ اپنی اٹھی ہوئی گردن اور مخصوص مسکراہٹ چہرے پہ سجائے لان میں داخل ہوئی تو بہت سے لوگوں کی توجہ کا مرکز تھی۔ سب سے پہلے سمیر نے آگے بڑھ کر اس کا استقبال کیا۔ وہ خود اس وقت بلیک ڈنر سوٹ میں تھا۔ ایش گرے ٹائی کی ناٹ کو درست کرتے متانت سے چلتا وہ اس تک پہنچا۔ اس کے چہرے پہ وہی رسمی مسکراہٹ تھی جو اس کی شخصیت کا حصہ تھی اور کشمالہ کے اندر طوفان برپاءکر دیتی تھی۔ پر افسوس جب بھی وہ اس مسکراہٹ کو کوئی معنی دینے کی کوشش کرتی سمیر اس کا ہر تجزیہ غلط ثابت کر دیتا تھا۔ وہ ہمیشہ کی طرح اس سے اتنے ہی وقار سے ملا تھا۔ اس کی تاخیر سے آمد کا شکوہ کرنے اور کچھ خیر مقدمی جملوں کے بعد وہ اسے اپنی فیملی سے ملوانے کے لئے آگے بڑھا۔

”بڑا ذکر سنا تھا آپ کا آج ملاقات بھی ہوگئی“۔ فریحہ نے بالخصوص اسے سر سے پاو ¿ں تک دیکھتے پرجوش لہجے میں کہا۔ وہ نور انصاری کی زبانی کشمالہ کی کہانی سن چکی تھی۔ وہ یہ بھی جانتی تھی کہ نور کو کشمالہ ، سمیر کے لئے دل و جان سے پسند آگئی ہے مگر سمیر اسے اپنی سب سے اچھی دوست اور کولیگ سے زیادہ کچھ نہیں مانتا یہ بات بھی اسے نور بتا چکی تھیں لہذا اس وقت کشمالہ سے ملاقات فریحہ کے لئے خاصی پیچیدہ تھی کیونکہ وہ کشمالہ کو ہر اس اینگل سے جانچ رہی تھی جو اسے اس کی متوقع بھابھی بنانے میں مددگار ہوں اور ہر اس پیرائے پہ تول رہی تھی جس کی بناءپہ سمیر اسے ریجیکٹ کررہا تھا۔ کشمالہ کے لبوں کی مسکراہٹ کچھ اور گہری ہوئی اور اس بار اس نے گردن گھما کر پاس کھڑے سمیر کی طرف دیکھا جو لاتعلق سا پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے ان سب کی باتیں سن رہا تھا۔ اس نے کشمالہ کی نگاہوں کو خود پہ محسوس تو کیا پر اس کی طرف دیکھا نہیں بلکہ وہ فریحہ کی شرارتی مسکراہٹ سے چڑ رہا تھا۔

”آئی وِش وہ ذکر، ذکرِ خیر ہی ہو“۔کشمالہ نے ذو معنی انداز میں غیر سنجیدگی سے کہا۔ پاس کھڑے سمیر نے خاموشی میں ہی عافیت جانی کیونکہ وہاں اس وقت نا صرف اس کے پیرنٹس کھڑے تھے بلکہ ضلع انتظامیہ کے ہائی آفشئیلز بھی موجود تھے ۔ یوں بھی کشمالہ اس کی باقاعدہ گیسٹ تھی اور وہ ایک اچھے میزبان کی طرح اسے کسی شکایت کا موقع نہیں دینا چاہتا تھا۔

”ڈیفینیٹلی یس۔ آپ سے ملاقات کے بعد ممی تو آپ کی تعریفیں کرتی نہیں تھکتیں“۔فریحہ نے ناسمجھی سے بے ساختہ کہا۔ وہ کشمالہ کی بات کا مطلب سمجھ نہیں پائی تھی ویسے بھی اس کا دھیان ا ب ا س وقت علینہ کی طرف تھا جو اس کے لاکھ سمجھانے کے باوجود اب تک لان میں نہیں آئی تھی۔

 ”شی از رئیلی ویری سویٹ۔ سمیر بالکل آپ کے جیسا نہیں ہے آنٹی“۔ کشمالہ نے بے ساختہ کہا تو فریحہ کو اس کی بات بالکل اچھی نہیں لگی جبکہ سمیر خاصہ محظوظ ہوا۔ مسٹر اینڈ مسز انصاری نے بھی بس مسکرانے پہ اکتفا کیا ۔ وہ لوگ اب کشمالہ سے اس کی خیریت اور تاخیر سے آمد کی وجہ دریافت کر رہے تھے۔ فریحہ ایکسکیوز کرتی ان سے کچھ فاصلے پہ کھڑے عمیر کی طرف بڑھی تاکہ علینہ کے متعلق پوچھ سکے۔ ویٹر اب کشمالہ کو ڈرنک سرو کر رہا تھا۔

”آپ نے بھی دوبارہ اسے آنے کا نہیں کہا“۔ فریحہ نے منہ بناتے ہوئے عمیر سے شکوہ کیا۔

”یار میں اسے اب یہاں اٹھا کے لانے سے تو رہا۔ وہ اپنی مرضی کی مالک ہے اور سوری ٹو سے تھوڑی ہٹی ہوئی سی بھی ہے تو ایسی بندی کو اب کوئی کتنا سمجھا سکتا ہے۔ “عمیر نے بے بسی سے کندھے اچکاتے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ نور کے ساتھ عمیر نے بھی اسے بہت سمجھایا لیکن اس کا انکار اقرار میں نہ بدلا اور پھر فریحہ کی دھونس اور بلیک میلنگ سے وہ بمشکل راضی ہوئی تھی کہ کچھ دیر کے لئے ہی سہی وہ وہاں ضرور آئے گی۔ پھر بھی کافی دیر گزرنے کے بعد بھی وہ اب تک وہاں نہیں آئی تھی تو فریحہ کی تشویش بڑھتی جارہی تھی۔

”سمیر بھائی ہوتے تو یوں چٹکیوں میں منالیتے“۔فریحہ دونوں ہاتھ باندھے لب بھینچے پھولے منہ کے ساتھ وہاں کھڑی شدید بے مزہ ہورہی تھی۔ اسے سمیر سے بھی تھوڑا سا شکوہ تھا کہ اس نے ایک بار بھی علینہ کو پرسنل انوائیٹ نہیں کیا تھا حالانکہ یہ دعوت تو اسی کی طرف سے تھی۔ اور علینہ پہ تو ڈھیر سارا غصہ تھا جس نے اس دعوت میںشمولیت سے صاف انکار کر دیا تھا ۔ علینہ کا بھی اس میں کیا قصور تھا اس کا مسئلہ ہی اتنا روائتی اور جینوئن تھا کہ اس کی جگہ کوئی بھی ہوتا تو ایسے ہی ری ایکٹ کرتا۔ اس کے مطابق یہ ایک چھوٹا سا پرسنل ڈنر تھا اور علینہ کے پاس نارمل سے کپڑے تھے جو وہ اپنے ساتھ لائی تھی مگر جب اس نے فریحہ کی زبانی مہمانوں کی لسٹ سنی تو اس کے ہاتھوں کے طوطے ہی اڑ گئے۔ وہ بہت بننے سنورنے والی لڑکی نہیں تھی ایسے میں چار چھ ڈھنگ کے جوڑوں کے ساتھ وہ آرام سے ایک سیزن گزار لیا کرتی تھی۔ گھر یا کالج کے سوا اس کا کہیں جانا نہیں ہوتا تھا تو اس مناسبت سے کپڑوں کا انتخاب بھی کرتی۔ گرمی کے دن تھے تو اس حساب سے وہ اپنے اچھے لان کے سوٹ ساتھ لائی تھی مگر وہ اس قابل تو ہرگز نہیں تھی کہ ایک شاندار دعوت میں پہنے جاتے۔ ڈنر کا پلان اتنا غیر متوقع تھا کہ وہ اتنی افراتفری میں کچھ بھی شاپنگ نہیں کرسکتی تھی۔ ویسے بھی کچھ ڈھنگ کا خریدنے تو انہیں کم سے کم شہر جانا پڑتا حالانکہ نور نے اس سے کہا بھی تھا کہ وہ اسے شاپنگ پہ لے چلیں گیں مگر اس نے سہولت سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ وہ اس ڈنر میں شامل نہیں ہوگی اور گھر کے اندر رہے گی۔ سمیر تک اس کا انکار پہنچا تو اسے شدید غصہ آیا تھا مگر اس نے کوئی تبصرہ نہیں کیا کیونکہ اس کے خیال میں یہ ایک ڈفر ایکسکیوز تھا ۔ ویسے بھی علینہ اس کے لئے اتنی وی آئی پی نہیں تھی پر یہ فریحہ تھی جس نے اسے اپنی دوستی کے واسطے دے کر راضی کیا تھا کہ وہ چاہے د س منٹ کے لئے ہی سہی پر وہاں ضرور آئے اور ڈنر کرے کیونکہ سمیر کو برا لگے گا۔

”حالانکہ میرے خیال میں میری غیرموجودگی انہیں زیادہ سکون دے گی“۔ اپنے زریں خیالات کا اظہار اس نے بس دل میں ہی کیا تھا کیونکہ وہ فریحہ کو اپنی وجہ سے مزید ہرٹ کرنا نہیں چاہتی تھی۔ وہ اس پرخلوص لڑکی کی محبت کو مزید آزمانا نہیں چاہتی تھی۔

”ایسے ہے تو پھر ایسے ہی سہی۔ اب سب کچھ کپڑے تو نہیں ہوتے“۔ علینہ نے بھی آج ڈھٹائی کی سب حدیں ختم کرتے اپنے صبح کے پہنے ہوئے لان کے فیروزی جوڑے میں دعوت اٹینڈ کرنے کا قصد کیا ۔ ویسے بھی کپڑے بدلنے سے کون سا شکل بدل جاتی ہے۔ یہی سوچ کر وہ مزے سے اپنے کمرے سے نکلی اور لان میں پہلا قدم رکھتے اسے پہلا چکر آیا تھا۔ باقی مہمانوں کی تو خیر خود فریحہ اور نور انصاری اتنے شاندار انداز میں تیار تھیں۔ فریحہ نے شارٹ شرٹ کے ساتھ سلک ایمبرائیڈڈ ٹراو ¿زر پہن رکھا تھا جبکہ نور انصاری نفیس شیفون کی ساڑھی میں بے حد ڈیسنٹ لگ رہی تھیں۔ علینہ نے وہاں جانے کا ارادہ ترک کرتے واپسی کی دوڑ لگانی چاہی پر فریحہ کی نظر اس وقت تک اس پہ پڑ چکی تھی۔ اسے کھینچ کر زبردستی کسی فاتح کی طرح وہ لان کے وسط میں لے آئی تھی۔ علینہ کو عجیب سی شرمندگی نے آگھیرا حالانکہ اس وقت کوئی بھی اس کی طرف متوجہ نہیں تھا۔

”آپ کے کہنے پہ آئی ہوں لیکن صرف تھوڑی دیر کے لئے اور پلیز یہاں سے تو چلیں“۔ علینہ ایک کونے میں چھپ کر بیٹھنا چاہتی تھی جبکہ فریحہ اسے اب کچھ رشتے داروں سے ملوانے کے موڈ میں تھی مگر سب سے پہلے وہ اسے کشمالہ سے ملوانا چاہتی تھی ۔ کیا پتا کل کو وہ اس کی بھابھی بن جائیں کم سے کم علینہ کو دکھا تو دے۔ یہی سوچ کر وہ اسے زبردستی دھکیلتی لان کے اس کونے میں پہنچی جہاں اسوقت وہ سب کشمالہ کے ساتھ کھڑے باتیں کر رہے تھے۔ کشمالہ کی ان دونوں کی طرف پشت تھی ۔ علینہ کو یہ سب نہایت آکورڈ لگ رہا تھا اس لئے وہ وہاں جانا نہیں چاہ رہی تھی اور اسی کھینچا تانی میں وہ غیر دانستہ طور پہ کشمالہ سے جاٹکرائی۔ اپنے دھیان میں کھڑی کشمالہ کے ہاتھ میں پکڑے سوفٹ ڈرنک کا گلاس جھٹکا لگنے سے چھلکا تو اس کے قیمتی سلک کرتے پہ نشان نمایاں ہوگا۔

”یو ایڈیٹ، آنکھیں کیا محض دکھاوے کے لئے رکھی ہیں“۔کشمالہ نے پلٹ کر شرمندہ سی علینہ کو دیکھا جس کے کچھ فاصلے پہ کھڑی فریحہ کا منہ کھلا تھا۔ اس کے عام سے لباس سے وہ اسے گھر کی کوئی ملازمہ سمجھتی اس پہ برہم ہوئی تھی۔ وہاں کسی کو بھی اس وقت کشمالہ سے اس شدید ری ایکشن کی امید نہ تھی۔ خود علینہ کی چہرہ دھواں دھواں تھا ۔

”کشمالہ ۔۔۔۔“نور انصاری نے کچھ کہنا چاہا پر کشمالہ پلٹ کر ان کی طرف متوجہ ہوئی اور تیز لہجے میں بولی۔

”سوری آنٹی میں نے آپ کی ملازمہ کو ڈانٹ دیا ۔ پلیز ڈونٹ مائینڈ لیکن اس جیسا غیر ذمہ دار اور بے مہار ایک نوکر ہماری حویلی میں ہوتا تو بابا اسے اٹھوا کر ہماری جاگیر سے میلوں دور پھنکوا دیتے“۔مسٹر اینڈ مسز انصاری نے بے بسی سے پہلے ایک دوسرے کو اور پھر شرمندگی سے پاس کھڑی علینہ کو دیکھا جو سر جھکائے بمشکل اپنے آنسو ضبط کئے وہاں کھڑی تھی۔ فریحہ کو کشمالہ سے اس چھوٹے پن کی امید نہیں تھی۔ اس کا پر غرور لہجہ فریحہ کو باور کرا گیا تھا کہ کس بنیاد پہ سمیر اسے آج تک اپنے شریکِ حیات کے طور پہ قبول نہیں کرسکا اور پہلی بار اسے اس بات نے بے حد خوشی دی تھی۔ اسے علینہ پہ بھی شدید غصہ تھا جو چپ چاپ سہم کر ایسے کھڑی تھی جیسے کوئی گناہ کر بیٹھی ہو۔ غلطی سے ٹکرائی تھی معذرت کرکے دو سناتی ۔لیکن یہ لڑکی بھی نا اس کا سارا زور بس آنسو بہانے پہ رہتا ہے۔

”یہ ملازم نہیں تمہاری طرح ہماری مہمان ہے انفیکٹ یہ میری کزن ہے“۔سمیر دو ٹوک لہجے میں اپنے ہر حرف پہ زور دیتا خاصے غصے میں بولا تھا۔ اس کے چہرے اور لہجے سے جھلکتی واضح ناپسندیدگی کو محسوس کرتے کشمالہ نے اپنا نچلا لب کاٹا۔ علینہ کے لیے اب وہاں مزید کھڑے ہونا مشکل تھا۔ آتے ہی اتنا بڑا تماشہ لگ گیا تھا جبکہ وہ تو وہاں پہلے ہی آنا نہیں چاہ رہی تھی۔ وہ تیزی سے لان عبور کرتی گھر کے پچھلے حصے کی طرف چلی گئی۔ نور انصاری کی تو سمجھ میں ہی نہیں آیا وہ کہیں تو کیا اور کریں تو کریں۔ خوامخواہ چھوٹی سی بات کا اتنا بڑا سین کرئیٹ ہوگیا تھا۔ پھر بھی انہوں نے آنکھ کے اشارے سے سمیر کو منع کرنا چاہا۔

”اوہ۔۔۔مگر اس کا حلیہ“۔کشمالہ کو سمجھ نہیں آیا وہ اب کیا کہے۔

”جب اپنا آپ بہت اونچائی پہ کھڑا کر لیا جائے نا تو نیچے کھڑے سب لوگ کیڑے مکوڑے ہی نظر آتے ہیں۔ سب کچھ ظاہر نہیں ہوتا اس لئے لوگوں کو ان کے حلیے سے جج کرنے کی رسم کو اب متروک ہوجانا چاہیئے“۔ سمیر کی بات پہ کشمالہ کو شاک لگا تھا۔ وہ کم سے کم سمیر سے اتنی معمولی سی بات پہ اتنا شدید ردِعمل ایکپیکٹ نہیں کر رہی تھی وہ بھی اس صورت جبکہ وہ خود اس کی مہمان تھی اور خود کو اس کے بے حد قریبی لوگوں کی فہرست میں پہلے نمبر پہ تصور کرتی تھی مگر کچھ ایسا ہی تو ابھی کچھ دیر پہلے اس نے علینہ کے ساتھ کیا تھا۔ سامنے سمیر تھا جو اپنی ازلی بے مرورتی اور دل جلا دینے والی صاف گوئی کی بدولت اس کی کمزوری بنا ہوا تھا لیکن اس کے اس انداز کا سامنا کشمالہ کو اس سچویشن میں کرنا پڑے گا یہ تو اس نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔ اس بار دھواں دھواں ہونے کی باری کشمالہ کی تھی۔

٭….٭….٭

اپنے کمرے میں جانے کی بجائے وہ گھر کے پچھلے حصے کی طرف بنے صحن میں چلی آئی تھی جہاں ملازموں کے کوارٹر ، لانڈری اور ایک چبوترہ بنا ہوا تھا۔ یہاں ایک لوہے کی گرل کا بڑا سا دروازہ لگا تھا جہاں سے گھر کے اندر داخل ہوا جاسکتا تھا مگر عام حالات میں یہ ہمیشہ بند رہتا تھا اور ملازم گھر کے سائیڈ سے گزرتی گلی کا استعمال کرتے تھے۔ علینہ جانتی تھی وہ اگر کمرے میں گئی تو کوئی نا کوئی اسے منانے وہاں آجائے گا جبکہ وہ اس وقت کسی کا بھی سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی۔ زمانہ ہوا اسے روٹھنے پہ منانے کوئی نہیں آتا تھا لیکن اس گھر میں آکر یہ تبدیلی علینہ کی زندگی میں آئی تھی کہ اسے خاموشی سے جلنے کڑھنے نہیں دیا جاتا تھا۔ اس کے رونے دھونے پہ پابندی لگ گئی تھی۔ ایک ایک منٹ محبت سے پچکارنے والی نور فاطمہ انصاری اسے خفا ہونے ہی نہیں دیتی تھیں اور بہنوں سے بڑھ کر محبت دکھانے والی فریحہ پورے حق اور مان کے ساتھ دھونس جماتی تھی۔ اتنی بہت سی محبتوں نے زندگی سے اتنے برسوں کی کڑواہٹ کم کرنا شروع کر دی تھی۔ ایسے میںغصے والی باتوں پہ بھی کم بخت غصہ نہیں آتا تھا۔ لیکن آج کشمالہ کی باتوں نے اسے عجیب انداز میں اپنی اوقات کا احساس دلایا تھا۔ وہ کتنی مِس فٹ تھی ان سب لوگوں میں یہ احساس تو یہاں آنے کے کچھ دن بعد یہاں کے مکینوں نے ختم کردیا تھا شائد اسی لئے اسے کشمالہ کی صورت یہ آئنیہ دیکھ کر تکلیف ہوئی تھی اور وہ نہیں چاہتی تھی اس تکلیف کے لمحے میں کوئی اس سے وہی روائتی باتیں کرکے اس سے اس غلطی کی معافی مانگے جو انہوں نے کی ہی نہیں۔ قریباََ دس منٹ تک وہ وہاں اکیلی بیٹھی جی بھر کے روتی رہی۔ چھت پہ بس ایک ساٹھ وولٹ کا بلب روشن تھا جس کی مدہم سی روشنی ناکافی تھی۔ اچانک اسے اپنے پیچھے قدموں کی چاپ محسوس ہوئی اور پھر کوئی دھیمے قدموں سے چلتا اس کے برابر اسی چبوترے پہ آبیٹھا جہاں پہلے سے پاو ¿ں لٹکائے علینہ بیٹھی تھی۔ علینہ نے گردن گھما کر آنے والے کو نہیں دیکھا پر اس کے رونے کو ایک دم بریک لگا تھا۔ دانتوں سے نچلا لب کاٹتے اس نے خود پہ قابو پانے کی کوشش کی اور پھر ہاتھ کی پشت سے اپنے گالوں پہ بہتا نمکین پانی صاف کیا۔ اتنے بہت سے لوگوں کے بعد اب اس کے سامنے اپنا تماشہ بنوانا اور بھی تکلیف کا باعث تھا۔ ساتھ بیٹھا شخص کچھ نہیں بولا جیسے وہ شائد اسے سنبھلنے کا وقت دے رہا تھا یا شائد پھر وہ بس وہاں یہی کرنے آیا تھا۔ کچھ لمحے خاموشی کے گزرے اور پھر جب علینہ کو اس طویل خاموشی سے وحشت ہونے لگی تو اس نے گردن موڑ کر اس کی جانب دیکھا۔

”آئی تھنک اِٹ واز جسٹ آ مس انڈرسٹینڈنگ“۔عمیر نے بھی اس بار اس کی طرف دیکھا تھا اور پھر کندھے اچکا کر عام سے لہجے میں تبصرہ کیا۔ علینہ نے کچھ بھی کہے بناءگردن جھکا لی۔ وہ اب خاموشی سے اپنی گود میں رکھے ہاتھوں کو ایک ٹک دیکھ رہی تھی ۔

”تمہیں پتا ہے ایک بار لندن میں میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا“۔اچانک عمیر کی آواز ابھری ۔ علینہ نے نا ماننے والے انداز میں سر اٹھا کر اس کی طرف خائف نظروں سے دیکھا ۔ اپنے سوٹ کی جیکٹ سائیڈ پہ رکھتے عمیر نے باقاعدہ سر ہلایا۔ وہ بے حد سنجیدہ تھا ۔

”سیریسلی!“اپنی بات پہ زور دیتے عمیر نے علینہ کو اپنی سچائی کا یقین دلانے کی کوشش کی۔ علینہ اب بھی خاموش رہی۔

”میں ایک ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے گیا۔ میں نے وائٹ شرٹ اور بلیک ٹراو ¿زر پہنا ہوا تھا اور اتفاق سے اس ریسٹورنٹ کے ویٹرز کا ڈریس کوڈ بھی بالکل وہی تھا“۔اپنی سفید قمیض کے بازو فولڈ کرتے وہ اب علینہ کو تفصیل بتانے لگا۔ جملے کے اختتام پر وہ لمحہ بھر کو رکا پر علینہ کو یہ رکنا محال گزرا۔ اس میں اچانک بچوں والا تجسس ابھرا تھا۔

”پھر؟“وہ نا چاہتے ہوئے بھی بولی۔

”میں اندر داخل ہوا تو ایک ٹیبل پہ کیا ہی شاندار قسم کی گوری بیٹھی تھی۔ اس نے ایک شان سے مینیو کارڈسے نگاہ اٹھا کر میری طرف دیکھا۔ اسے اپنی طرف متوجہ دیکھ کر میں کچھ احساسِ تفاخر میں مبتلا ہوکر اس کی طرف بڑھا اور جانتی ہو اس نے میرے پاس پہنچنے پہ کیا کیا میرے ساتھ“۔عمیر نے بھرپور سسپنس کا مظاہرہ کرتے نہایت سنجیدگی سے کہا تو علینہ نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھتے نفی میں سر ہلایا۔

”اپنا آرڈر لکھوانا شروع کردیا“۔ہاتھ پہ ہاتھ مارتے عمیر نے دل برداشتہ لہجے میں کہا۔

”آپ کو بہت غصہ آیا ہوگا نہیں؟“علینہ بے ساختہ بولی۔ اس کے ساتھ بھی تو ابھی کچھ دیر پہلے ایسی ہی دردناک سچویشن ہوئی تھی۔

”بالکل نہیں ۔ میں نے بھی اس سچویشن کو انجوائے کرتے ہوئے تحمل سے اس کا آرڈر سنا اور سر جھکا کر اسے یس میم کہتا اس کی ٹیبل سے آگے بڑھ کر ایک خالی میز پہ جا کر بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر وہ حیرت سے میری اس حرکت کو دیکھتی رہی اور پھر جب اس کی ٹیبل کا سرور وہاں پہنچا تو الٹا وہ خود شرمندہ ہوگئی“۔ عمیر کی بات پہ علینہ بے اختیار قہقہ لگا کر ہنسی۔ عمیر خود بھی ہنسنے لگا اور ان دونوں کی زوردار ہنسی کی آواز نے گلی سے آتے سمیر کو چونک کر رکنے پہ مجبور کیا تھا۔ وہ جو کشمالہ کی انسلٹ کے بعد روتی دھوتی علینہ کو اس لئے ڈھونڈ رہا تھا کہ اس سے معذرت کرکے اسے واپس لے جائے گا علینہ کے ساتھ عمیر کی موجودگی پہ حیرت زدہ سا وہیں رک گیا۔

”یہ تو واقعی لطیفہ ہوگیا ۔ “اچانک اپنی آپ بیتی بھول کر وہ اب واقعی عمیر کے قصے میں انوالو ہوچکی تھی۔ سمیر دھیمے قدموں سے آگے بڑھا ۔ علینہ اور عمیر اس کے سامنے تھے جبکہ علینہ کا چہرہ بھی دکھ رہا تھا ۔ البتہ عمیر کی پشت تھی۔ علینہ پوری طرح عمیر کی طرف متوجہ تھی ۔ ہنستے ہنستے علینہ کی آنکھوں سے پانی نکلنے لگا تھا۔ انگلی سے آنکھ کا کونہ صاف کرتے اس نے بمشکل ہنسی پہ کنٹرول کیا۔ اس کے معصوم چہرے پہ ہنسی کے یہ رنگ اس دھیمی روشنی میں بھی نمایاں ہورہے ۔ سمیر قدم آگے نہیں بڑھا پایا۔

”ایسے لطیفوں سے لطف اندوز ہونے کے لئے انسان میں حسِ مزاح کا ہونا بہت ضروری ہے جس کی تم میں شدید قلت پائی جاتی ہے“۔چبوترے پہ بیٹھے پاو ¿ں ہلاتے عمیر نے بات برائے بات چوٹ کی تو علینہ نے برا مانے بغیر اس کی ہاں میں ہاں ملائی۔

”آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ میرا سینس آف ہیومر بہت برا ہے۔ جوک اول تو مجھے سمجھ ہی نہیں آتے اور اگر آجائیں تو ہنسی نہیں آتی“۔ وہ بھی اب اسی ریلیکس انداز میں بیٹھی پاو ¿ں ہلا رہی تھی۔

”لیکن میری خفت پہ تو خوب ہنسی آرہی ہے محترمہ کو“۔عمیر نے جتایا تو ایکدم علینہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ واقعہ وہ عمیر کی بے عزتی کو تو بھول ہی گئی تھی۔

”سوری“۔اس نے باقاعدہ کان پکڑے۔ پیچھے کھڑے سمیر کو ان دونوں کی اس بے تکلفی پہ خوامخواہ غصہ آیا تھا۔ کیا ضرورت تھی اسے اس ملکہِ جذبات کے لئے پریشان ہوکر پارٹی چھوڑ کر یہاں آنے کی۔ اس پہ تو کوئی اثر ہی نہیں ہوا الٹا مزے سے بیٹھی عمیر کے گھٹیا جوک پہ قہقہے لگا رہی ہے۔ وہ ایکدم ہی پلٹ کر واپس لان کی طرف چل پڑا رہا تھا۔

”کم آن علینہ۔ زندگی کی لائیٹر سائیڈ کو انجوائے کرنا سیکھو۔ ابھی تمہاری عمر ہی کیا ہے جو ہر وقت اتنی شدید مایوسی اور سنجیدگی خود پہ طاری کئے رکھتی ہو“۔عمیر اب سنجیدگی سے اسے سمجھا رہا تھا۔ وہاں جو کچھ ہوا وہ اس نے بھی دیکھا مگر وہ اس سب پہ تاسف کرکے علینہ کی بے چارگی میں اضافہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔ پچھلے دو تین دن میں اس نے علینہ کو جتنا سمجھا تھا اس کے مطابق وہ ایک شارپ اور ذہین لڑکی تھی جس کی خود اعتمادی اس کے والدین کی علیحدگی اور موجودہ حالات کی نظر ہوچکی ہے مگر وہ قابلِ رحم نہیں قابلِ ستائش ہے کیونکہ ان حالات میں اپنی ذہانت کا مثبت انداز میں استعمال کر رہی ہے۔

”کچھ چیزیں آپ کے مزاج کا حصہ بن جاتی ہیں۔ آپ کو ان پہ کنٹرول نہیں ہوتا“۔ علینہ اب قدرے سنجیدہ تھی۔ ناخن کو دانت سے کترتے اس نے لاپرواہی سے کہا جیسے شائد وہ اب اپنی ذات کے متعلق مزید گفتگو نہیں کرنا چاہتی۔

”آئی ایم ناٹ کنوینسڈ۔ وحشی درندوں اور سمندر کی بے لگام موجوں کو کنٹرول کرنے والا انسان اپنے ہی سامنے اتنا بے بس نہیں ہوسکتا۔ مجھے یقین ہے تم نے کبھی کوشش ہی نہیں کی خود کو ایسی فیز سے نکالنے کی“۔عمیر نے اپنے انداز سے سمجھانے کی کوشش کی۔

”ایسی کوئی بات نہیں۔۔۔“علینہ نے بات بدلنا چاہی مگر عمیر نے اس سے پہلے ہی موضوع لپیٹ دیا۔ ظاہر ہے وہ فریحہ کے کہنے پہ اسے مناکر واپس لے جانے آیا تھا نا کہ ہمیشہ کے لئے یہاں بیٹھنے۔

”خیر جو بھی بات ہے۔ فی الحال ہم ڈپریسنگ باتیں نہیں کریں گے۔ دیکھو ابھی اپنی درگت کا اتنااندوہناک نقشہ کھینچا میں نے وہ بھی ایک سنہرے بالوں والی حسینہ کے ہاتھوں۔ کچھ تو میرے روگ کا خیال کرو“۔اپنے سینے پہ ہاتھ مارتے عمیر نے مصنوعی تاسف سے کہا تو پہلی بار علینہ کو اندازہ ہوا کہ عمیر کی وہ کہانی سچ نہیں تھی۔

”آپ مجھے ہنسانے کے لئے مذاق کر رہے تھے نا۔ آپ کے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہوا“۔ اس نے باقاعدہ منہ بنایا۔

”یہ بتاو ¿ تمہارا موڈ ٹھیک ہوا؟“علینہ نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا۔

”مَشن اکمپلیشڈ! چلو اٹھو ہم یہاں بیٹھے کیوں بور ہوں بھلا۔ وہاں چل کر باربی کیو انجوائے کرتے ہیں“۔عمیر نے دونوں ہاتھوں کو تالی بجانے کے سے انداز میں مارتے پرجوش انداز میں کہا اور پھر پاس پڑا اپنا کوٹ اٹھاتے چبوترے سے اٹھ کر کھڑا ہوا۔ علینہ بھی اس کے ساتھ ہی اٹھ کر کھڑی ہوگئی۔ جس وقت وہ دونوں واپس لان میں پہنچے نور انصاری اور فریحہ دونوں نے ایک ساتھ سکون کا سانس لیا۔ فریحہ نے بھاگ کر اسے گلے لگایا اور پھر وہ تینوں ڈنر کے لئے چلے گئے جبکہ کمشنر کے ساتھ بیٹھے کھانا کھاتے سمیر کی بھوک بالکل ختم ہوگئی تھی۔

٭….٭….٭

 ”یار پیسے تو سب وہ تیرا نشئی باپ چھین لیتا ہے۔ تیرے سے اچھا تو میں ہوں کم سے کم اپنی محنت کا پیسہ تو اپنی جیب میں ڈالتا ہوں“۔ اپنے ہم عمر لڑکوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے وہ زیادہ وقت خاموش ہی رہتا تھا ۔ ٹیپو تسلیم کرتا تھا کہ وہ ان جیسا دلیر کبھی نہیں بن سکتا۔اس ورکشاپ میں کام کرتے اسے کئی سال بیت گئے تھے۔ اب تو گریس اور موبل آئل کی چکنی سیاہ تہوں میں اٹے بدرنگ کپڑے پہنے وہ خود بھی اس تاریک ماحول کا حصہ بن چکا تھا پر آج بھی اس کے دل میں شہباز کا خوف قائم تھا۔ وہ خوف جو مار کے ساتھ ساتھ سفینہ اور فاطمہ پہ لگائے جانے والے بہتانوں کی صورت شہباز نے اس کے اندر منتقل کیا تھا ۔ اس کے سامنے زباں بندی کرکے وہ اس کی مار سے بچ جاتا تھا لیکن اس کی ماں اور بہن پہ کیچڑ اچھالنے کا کوئی موقع شہباز ہاتھ سے جانے نہ دیتا تھا۔ شہباز کی زبان کے شعلے سوتے میں بھی اس کو ڈراتے تھے۔ حالات بدلے تھے نہ واقعات، بس زندگی چند قدم اور آگے سر ک گئی تھی ۔

”ابا پہلے ہی استاد سے پیسے لے جاتا ہے۔ میں کیا کرسکتا ہوں“۔اپنے کھانے کا آخری لقمہ چباتے دھیمے لہجے میں ٹیپو بولا تو ساتھ بیٹھا اقبال عرف بالا ہنسنے لگا۔ وہ بھی اسی کا عمر کا تھا پر چالاکی میں وہ بڑوں بڑوں کا استاد تھا۔

”تو بات کرکے تو دیکھ آخر تیری محنت کی کمائی ہے کچھ تو تیری جیب میں بھی آئے“۔منیر نے سمجھاتے ہوئے کہا۔

”وہ ہوش میں ہی کہاں ہوتا ہے کہ کوئی بات سن سکے۔ پھر کچھ کہہ دو گالیاں بکنے لگتا ہے لیکن تم دیکھنا جب میں بڑا ہوجاو ¿ں گا نا تو ابا کو چھوڑ کے بھاگ جاو ¿ں گا“۔ٹیپو بے بسی سے کہتا کپڑے سے ہاتھ صاف کرنے لگا۔ شہباز نے پچھلے چند سالوں میں جوا چھوڑ دیا تھا لیکن اب وہ ہر قسم کا نشہ کرنے لگا تھا جو ان حالات اور اس جگہ پہ میسر تھا ۔ اس دوران ایک بار بھی اسے یہ احساس چھو کر نہ گزرا تھا کہ وہ اپنے معصوم بچے کے ننھے ہاتھوں کی کمائی کو کس حرام طریقے سے اڑا کر اپنی رگوں میں جو زہر بھر رہا ہے ایک دن وہ زہر اسے کہیں کا نہیں چھوڑے گا۔ اور واقعی اس زہر نے شہباز کو آج کہیں کا نہیں چھوڑا تھا۔ موت اور زندگی کی کشمکش میں گھرا وہ بس نشانِ عبرت بنا آج اپنے اسی بیٹے کے ہاتھوں میں تھا جس سے سالوں پہلے قلم اور کتابیں چھین کر اس کے ہاتھ میں اوزار پکڑا دئیے تھے۔

”تم بس اپنے پچھلوں کو ہی روتے رہنا میرا کبھی مت سوچنا“۔ اسے ماضی کی سوچوں سے رخشندہ کی تیز آواز نے نکالا تھا۔ وہ خود بری طرح رو رہی تھی اور اسے اس طرح روتا دیکھ کر ایک منٹ کو تو خاور بھی گھبرا گیا تھا۔اس کا ہاتھ تھامے وہ اسے کمرے سے باہر لے آیا تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا اس شور شرابے سے اس کے باپ کی آنکھ کھل جائے۔

”ہوا کیا ہے رخشندہ بتاو ¿ تو کیا افتاد ٹوٹی ہے تم رو کیوں رہی ہو؟“کمرے سے نکل کر اس نے پانی کا گلاس رخشندہ کے ہاتھ میں پکڑایا۔ اسے صوفہ پہ بٹھاتے وہ خود بھی اب اس کے سامنے بیٹھا تھا۔ بیٹھے بیٹھے اس دوران اس نے ان تمام ممکنات کے متعلق سوچنا شروع کر دیا جو رخشندہ کو اس طرح پریشان کر رہے تھے۔

”مونس کا کچھ پتا نہیں۔ تین چار دن ہوگئے ہیں۔ موبائل بند جارہا ہے گھر پہ بھی نہیں۔ اس کا باپ یہی سمجھتا رہا وہ میرے پاس ہے ا ور مجھے لگا وہ اپنے گھر ہوگا“۔تو اس کا اندازہ درست تھا ۔ رخشندہ کے لئے مونس سے زیادہ اہم ایسا کوئی نہیں تھا جو اس حد تک اسے بوکھلا دے۔

”کہیں دوستوں کے ساتھ نکل گیا ہوگا۔ اس کے دوستوں کو کال کرکے پوچھنا تھا“۔خاور اس کی عادتوں سے واقف تھا۔ اس سے پہلے بھی وہ اپنے دوستوں کے ساتھ یہاں وہاں نکل جاتا تھا۔ اس کی لااوبالی فطرت سے خود رخشندہ بھی اچھی طرح واقف تھی ۔ ہمیشہ ایک دو دن بعد جب اس کی ڈھونڈ مچتی یا پھر فون سے رابطہ ہوتا تو وہ چین سے بیٹھ جاتی۔ شہباز کو لگا اب بھی شائد وہ چھٹیاں منانے کہیں اور نکل گیا ہے۔

”سب طرف پتا کرچکی ہوں۔ ہائے میرا بچہ ۔ میرا تو کلیجہ منہ کو آرہا ہے سوچ سوچ کر اللہ جانے کس حال میں ہوگا“۔رخشندہ نے سینہ پیٹتے شور مچایا۔ اس بار خاور کو بھی تشویش ہوئی تھی۔

”حوصلہ کرو میں پتا کرواتا ہوں کیوں بری باتوں کو ذہن میں لا رہی ہو۔ مل جائے گا ان شاءاللہ“۔ اس کی تسلی نے بھی رخشندہ کے آنسوو ¿ں کی برسات میں کوئی کمی نہیں کی تھی۔ خاور جو پہلے ہی اپنے با پ کی وجہ شدید پریشان تھا اب اس نئی ٹینشن پہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا تھا مگر یہاں بیٹھ کر رخشندہ کی سینہ کوبی و بین سننے سے تو بہتر تھا وہ باہر جاکر مونس کو ہی ڈھونڈ لے۔ اپنی سوچ کو عملی جامہ پہناتے وہ بالآخر گھر سے باہر نکل گیا تھا لیکن سوائے افسوس اس کے ہاتھ کچھ نہیں آیا تھا کیونکہ مونس کی کہیں سے بھی کوئی خبر نہیں مل سکی تھی۔ تھک ہار کر وہ گھرواپس آگیا تھا مگر اس نے رخشندہ کو تسلی دی تھی کہ صبح سب سے پہلے وہ پولیس اسٹیشن جائے گا مونس کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروانے۔

٭….٭….٭

صبح انصاری ہاو ¿س میں سستی سے نمودار ہوئی تھی۔ رات ڈنر کے بعد سب کو رخصت کرتے اچھا خاصہ وقت ہوگیا تھا۔ پھر انصاری صاحب کی دونوں بہنیں رات کو وہیں رک گئیں تھیں اور اب اپنی واپسی کی تیاری کر رہی تھیں۔ ناشتہ سب نے قسطوں میں کیا کیونکہ ہر کوئی آج اپنی مرضی سے جاگا تھا۔ دوپہر تک سب کچھ معمول پہ واپس آچکا تھا۔ سمیر اپنے کسی کام کے سلسلے میں نکل گیا تھا جبکہ زبیر و بیگم انصاری کو آج اپنے ایک مشترکہ فرینڈ کے بیٹے کا ولیمہ اٹینڈ کرنے قریبی شہر جانا تھا۔ گھر میں بس اب علینہ، فریحہ اور عمیر تھے۔ فریحہ اور عمیر لاو ¿نج میں تھے جبکہ علینہ اس وقت کتابوں میں سر دئیے بیٹھی تھی۔ باتوں باتوں میں فریحہ کا عمیر کے ساتھ ڈنر کا پلان بن گیا ۔ عمیر کا ارادہ تو فریحہ کو اکیلے ساتھ لے جانے کا تھا لیکن اس محترمہ نے خود ہی علینہ اور سمیر کو اس پروگرام میں شامل کرلیا تو وہ بیچارہ خاموش ہوگیا۔ اب انکار تو کر نہیں سکتا تھا حالانکہ اسے فریحہ سے ایک اہم بات شئیر کرنی تھی مگر اب اس سے زیادہ وہ کر بھی کیا سکتا تھا۔

”بھائی کہاں ہیں آپ، جلدی گھر پہنچیں“۔ وہیں بیٹھے بیٹھے اس نے سمیر کو کال ملا دی۔

”کوئی ایمرجنسی ہے کیا“؟وہ اس طرح اس کے جلدی جلدی بولنے پہ گھبرا گیا تھا۔

”عمیر بھائی آج ہم تینوں کو ڈنر پہ لے جا رہے ہیں“۔سمیر کے سینے سے ایک سکون کی سانس خارج ہوئی تھی ورنہ اس نے تو واقعی سمیر کو پریشان کر دیا تھا۔

”تین کون“؟اس نے لاپرواہی سے سوال کیا۔

”میں ، آپ اور علینہ!“فریحہ کے جواب نے سمیر پہ بم پھوڑا تھا۔ حلق خوامخواہ ہی کڑوا ہوگیا تھا۔

”مجھے دیر ہوجائے گی ۔ اس وقت ایک جگہ اسٹک ہوں۔ تم جاو ¿“۔اسے یقین تھا یہ ڈنر ان دونوں بھائی بہن کی بجائے یقینناََ علینہ کی شان میں دیا جارہا ہے۔ رکھائی سے کہتے اس نے فریحہ کی اگلی بات سنے بغیر کال ڈسکنیکٹ کر دی تھی۔

سمیر سے نا امید ہوکر وہ بھاگم بھاگ علینہ کے پاس گئی جو اس کے کمرے میں بیٹھی فنانس کی کتاب کھولے نوٹس بنا رہی تھی۔ حالانکہ پیچھے بیٹھے عمیر کی امید بحال ہوئی تھی۔

”چلو علینہ جلدی سے ریڈی ہوجاو ¿۔ تمہارے پاس پورے دس منٹ ہیں“۔ فریحہ نے جلدی سے سامنے پڑی کتاب بند کرتے افراتفری میں کہا۔

”کہاں جانا ہے فریحہ باجی“۔ علینہ نے پیچھے مڑ کر دیکھا ۔ فریحہ الماری سے اپنے کپڑے نکال رہی تھی۔ ساتھ ہی علینہ کا ایک سوٹ اس نے اس کی طرف اچھالا۔

”عمیر بھائی کے ساتھ ڈنر پہ“۔ علینہ کے سوال کا جواب دے کر وہ اب ڈریسنگ روم میں گھس گئی۔

”میرا موڈ نہیں ۔ آپ لوگ جائیں“۔وہیں بیٹھے بیٹھے علینہ نے بیزاری سے کہا۔ اسے ویسے بھی آو ¿ٹنگ وغیرہ سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ پھر ان دونوں کے درمیان وہ بیوقوف لگتی۔

”کوئی بہانہ نہیں چلے گا۔ یار عمیر بھائی نے ہم سب کے لئے پروگرام بنایا اور ایک ایک کرکے سب ہی ڈراپ ہورہے ہیں۔ سوچو انہیں کتنا برا لگے گا“۔فریحہ کا موڈ واقعی خراب ہوگیا تھا۔

”اور۔ کون۔ نہیں جارہا؟“علینہ نے حیرت سے سوال کیا۔

”سمیر بھائی۔ “فریحہ نے منہ بنایا۔

”وہ کسی میٹنگ میں ہیں شائد اور اب تمہارا موڈ نہیں“۔اسے تفصیل بتاتے وہ ایک بار پھر اس کا ہاتھ کھینچ کر اٹھانے لگی۔

”چلو نا میری بہن۔ تھوڑی سی آو ¿ٹنگ سے ذہن فریش ہوجاتا ہے ۔ اور تم نہیں جاو ¿ گی تو میں بھی نہیں جاو ¿ں گی۔ منع کر دیتی ہوں عمیر بھائی کو“۔علینہ کو اس کی اسی دھونس سے ڈر لگتا تھا ۔ اسی لئے وہ اسے کسی بات پہ نا نہیں کہہ سکتی تھی لیکن کل اس کی بات مان کر بھی دیکھ چکی تھی ۔ نتیجہ اچھا خاصہ شرمندہ کروا گیا تھا۔ آج کچھ سر میں بھی درد تھا اور اب پڑھائی کا موڈ بنا تھا وہ بلاوجہ اپنی مرضی کے خلاف فقط فریحہ کو خوش کرنے تو نہیں چل سکتی تھی۔

”فریحہ باجی پلیز مجھے فورس مت کریں اور دیکھیں ناراض بھی مت ہوں۔ میری طبیعت ٹھیک نہیں ۔ آپ کے ساتھ زبردستی چلی بھی جاو ¿ں گی تو نہ خود انجوائے کرسکوں گی نہ آپ کو کرنے دوں گی۔ “ اس نے التجائیہ کہا تو فریحہ خاموش ہوگئی۔ اس کی سنجیدگی سے بھی ڈرلگ رہا تھا وہ کہیں ناراض نہ ہوجائے۔ فریحہ جو کپڑے بیڈ پہ پھینک کر اب ایک کونے پہ منہ پھلائے بیٹھی تھی، علینہ اس کے ساتھ جا بیٹھی اور محبت سے بولی۔

”آپ جائیں اور زبردست سا ڈنر انجوائے کریں“۔ وہ اب فریحہ کا ہاتھ تھامے بیٹھی تھی۔

”لیکن مجھے تمہاری بھی فکر لگی رہے گی۔ ممی بھی گھر نہیں ہیں اور بھائی۔۔۔۔“فریحہ کی بات پہ علینہ کو جی بھر کے پیار آیا۔ وہ اسے دو تین گھنٹے اکیلا چھوڑنے پہ اداس ہورہی تھی۔ ایک اس کے اپنے ہیں جو سالوں سے اسے چھوڑ کر بیٹھے ہیں۔ دل ایک دم ہی بوجھل ہوا تھا مگر خود پہ قابو پاتے اس نے فریحہ کو سمجھایا۔

”میں اپنا خیال خود رکھ سکتی ہوں۔ آپ بس اچھا سا ٹائم اسپینڈ کرکے آئیں عمیر بھائی کے ساتھ۔ وہ اتنی دور سے آئیں ہیں اور آپ کے کہنے پہ ہی انہوں نے یہ پروگرام بنایا تھا پھر آپ نہیں جائیں گیں تو انہیں کتنا برا لگے گا“۔فریحہ بمشکل راضی ہوگئی تھی۔ پھر علینہ نے باقاعدہ اس کی تیاری میں مدد کی جس سے اس کا موڈ مزید بہتر ہوا تھا۔ عمیر نے بھی اسے سرسری سا ساتھ چلنے کا کہا لیکن اس نے معذرت کرلی تو عمیر نے بھی اصرار نہیں کیا۔ ان دونوں کے نکلتے ہی علینہ دوبارہ اپنی کتابوں میں مگن ہوگئی تھی۔

٭….٭….٭

رخشندہ نے رات بمشکل رو دھو گزاری تھی۔ صبح ہوتے ہی اس نے ایک بار پھر مونس کا نام لے کر رونا دھونا شروع کر دیا تھا۔ خاور خود بھی اب کچھ پریشان تھا ۔ وہ چاہتا تھا اور کچھ نہیں تو ایک پولیس رپورٹ ضرور ہوجائے مگر اس سے پہلے ہی مونس خود گھر پہنچ گیا تھا۔ ملازم نے دروازہ کھولا تو بے حال سا مونس تقریباََ روتا دھوتا رخشندہ سے لپٹ گیا۔

”لو وہ آگیا“۔خاور کو اس کی حالت دیکھ کر تشویش تو ہوئی پر ساتھ ہی ایک پرسکون سانس سینے سے نکلا کہ وہ صحیح سلامت ہے۔

”شکر ہے اللہ جی میرا بچہ صحیح سلامت واپس آگیا۔ کہاں چلا گیا تھا میرا لال اور یہ کیا حال بنایا ہوا ہے“؟رخشندہ نے اس کا ماتھ چومتے شکر ادا کیا مگر وہ اس کی بری حالت کو نظر انداز نہ کرسکی۔

”کہاں تھے تم اور یہ کیا حلیہ بنا رکھا ہے۔ تمہاری ماں کتنی پریشان تھی“۔ خاور نے پوچھ ہی لیا۔

”میں کہاں تھا اور میری یہ حالت کیسے ہوئی یہ تو آپ ان کی لاڈلی بیٹی سے پوچھیں۔ وہ آپ کو زیادہ بہتر بتا سکتی ہے“۔مونس نے زہر خندہ لہجے میں کہا تو خاور کی پیشانی پہ بل واضح ہوئے۔

”تم علینہ کی بات کر رہے ہو۔ اس کا یہاں کیا ذکر“۔اس بار وہ کچھ سخت لہجے میں بولا۔ اسے مونس کا اس انداز میں علینہ کا ذکر کرنا بالکل اچھا نہیں لگا تھا۔

”یہ سب کچھ اسی کی وجہ سے ہوا۔ اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ گھوم رہی تھی اس دن ۔ میں نے دیکھ کر منع کیا ۔آخر کو رشتے داری کا سوال ہے اب ہماری بھی اس شہر میں کوئی عزت ہے۔ لیکن اس کی بد دماغی سے تو آپ واقف ہیں۔ اپنی غلطی پہ شرمندہ ہونے کی بجائے اپنے کھڑوس بوائے فرینڈ سے کہہ کر مجھے تھانے میں بند کروادیا“۔مونس نے جھوٹ پہ جھوٹ بولتے کمینگی کی ہر حد پار کر ڈالی۔ اپنے گھٹیا پن کا ملبہ علینہ کے سر پھینکتے وہ ساری سچائی گول کر گیا۔ رخشندہ کا منہ تو حیرت سے کھلا رہ گیا تھا ۔

”کیا بکواس کر رہے ہو تم ۔ کچھ اندازہ بھی ہے تمہیں تم میری بیٹی پہ کیسا گھٹیا الزام لگا رہے ہو“۔خاور بولا نہیں دھاڑا تھا۔ ایک منٹ کو تو مونس بھی سہم گیا۔ ا س نے آج تک خاور کو کبھی کسی سے اونچی آواز میں بات کرتے نہیں سنا تھا ۔ وہ تو اس کی بد زبان ماں سے بھی ہمیشہ تحمل سے بات کرتا تھا ۔ علینہ سے وہ اتنا لاتعلق تھا کہ مونس کو لگتا تھا وہ بآسانی علینہ پہ بہتان تراشی کرکے اس کے کردار کی دھجیاں اڑا سکتا ہے پر یہ بھول گیا وہ خاور سے اس کی بیٹی کے متعلق بات کر رہا ہے جس سے وہ لاکھ دور سہی پر لاپرواہ ہرگز نہیں تھا۔

”ارے میرے بچے کو کیا ضرورت ہے اس منحوس ماری پہ الزام لگانے کی“۔رخشندہ نے خاور کو غصے میں کھولتا دیکھ کر تیز لہجے میں کہا پر آج کا دن یقینناََ مختلف تھا۔

”تم چپ رہو۔ “ خاور نے بے اختیار اسے جھڑک دیا تو وہ بھی ایک پل کو چپ کی چپ رہ گئی پر پھر وہ رخشندہ ہی کیا جو خاموش ہوجائے۔

”میری زبان بند کرانے سے کیا ہوگا اس نواب زادی سے کیوں نہیں پوچھتے جاکر“۔رخشندہ کی بات خاور کے اشتعال میں مزید اضافہ کر گئی تھی۔ ایک آگ تھی جو سالوں سے اس کے اندر لگی تھی۔ کئی سال پہلے اس کی بہن کی کردار کشی کرتے اس کے باپ نے بھی یونہی زہر اگلا تھا اور آج ان لوگوں کا نشانہ اس کی بیٹی تھی۔

”اس سے کیوں پوچھوں تمہارے بیٹے سے کیوں نہ پوچھوں۔ اس نے میری بیٹی کا نام بھی کیسے لیا“۔وہ تقریباََ چلایا تھا۔

”انکل مجھ پہ بگڑنے کی ضرورت نہیں۔ میں تو خوامخواہ بھلائی کرتا پھنس گیا ہوں۔ آپ جاکر دیکھ لیں خود وہ جن کے گھر رہتی ہے ان کے بیٹے کے ساتھ ہی چکر چل رہا اس کا ۔ دونوں کھلے عام گھوم پھر رہے تھے“۔مونس پہ ڈھٹائی ختم تھی۔ پہلے علینہ کا تھپڑ اور اب سمیر کے ہاتھوں ہوئی ذلت نے اس میں بدلے کی آگ بھڑکا دی تھی۔اس کی کچھ سزا تو علینہ کو بھگتنا تھی۔ وہ خاور کو علینہ سے اس حد تک بدگمان کر دینا چاہتا تھا کہ وہ اسے کوئی سخت سزا دیتا۔ خاور اس بار کچھ بول نہیں پایا تھا۔ وہ ان لوگوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا سوائے اس بات کے کہ وہ لوگ اس کی نانی کے اعتبار والے ہیں۔

” اور سچ مانیں تو وہ لڑکا ایک نمبر کا فلرٹ ہے۔ میں نے کچھ دن پہلے اسے ایک اور آئٹم کے ساتھ ریسٹورنٹ میں دیکھا تھا“۔ مونس اس دن کی تفصیل بھونڈے انداز میں مرچ مصالحہ لگا کر بتانے لگا جبکہ خاور کو لگا شائد نور فاطمہ کی بدکرداری علینہ میں منتقل ہوچکی ہے۔

٭….٭….٭

فریحہ اور عمیر کی روانگی کے بعد کچھ دیر تو وہ کتاب کھولے بیٹھی رہی پر اب کچھ سستی محسوس ہورہی تھی تو سوچا کیوں نا تھوڑی سی واک ہی کرلے۔ یہی سوچ کر وہ باہر لان میں چلی آئی۔ شام سے موسم قدرے بہتر تھا، ہلکی سی ہوا چل رہی تھی اور موسم میں حدت کم تھی۔ علینہ کو یہاں آکر اچھا لگا تھا۔ کل والے واقعے کے بعد اسے آج خود پہ بڑی حیرت ہورہی تھی۔ وہ جو معمولی معمولی باتوں کو سر پہ سوار کرکے ہفتہ ہفتہ قنوطیت میں گزار دیا کرتی تھی آج اتنی جلدی نارمل کیسے ہوگئی۔ کتنی آسانی سے اس نے ایک ناخوشگوار واقعہ کو بھلا کر اپنی فیلنگز پہ قابو پالیا۔ تو کیا یہ سب اس گھر کے لوگوں کی بدولت ہے جو اس کی دل جوئی اور مورال اسپورٹ اس انداز میں کر رہے ہیں کہ اسے محسوس بھی نہیں ہوتا۔ وہ مدد کرتے احسان نہیں جتاتے، ان کی توجہ بوجھ نہیں لگتی۔ صرف چند دنوں میں وہ کتنی بدل گئی ہے ۔ اسے خوش رہنا اچھا لگنے لگا ہے۔

کچھ ایسی ہی سوچوں میں گھری وہ سینے پہ ہاتھ باندھے چھوٹے چھوٹے قدموں سے چلتی لان کے ایک سرے سے دوسرے تک جا پہنچی۔ دوپہر میں ہونے والی بارش کی نمی پاپولر کے پتوں پہ اب تک ٹھہری ہوئی تھی۔ اس نے شرارت سے درخت کے تنے کو ہلایا تو ننھی بوندیں ٹپ ٹپ برسنے لگیں۔ علینہ نے بے اختیار اپنے چہرے کا رخ آسمان کی طرف کر لیا تاکہ پانی کے قطروں کو اپنے چہرے پہ محسوس کر سکے۔ ان کی تازگی سے اپنا آپ سیراب کرتے وہ اس وقت اتنی مگن تھی کہ اپنے پیچھے کھڑے سمیر کی موجودگی کا احساس تک نہیں ہوا جو کافی دیر سے اسے خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔

”کیا ہورہا ہے؟“وہ ٹھٹک کر پلٹی۔ وا ئٹ شرٹ اور بلیو ڈینم میں وہ ہاتھ میں اپنی گاڑی کی چابی گھماتا بڑی فرصت سے اسے دیکھ رہا تھا جیسے آج اسے کوئی دوسرا کام ہی نہ ہو۔ علینہ کچھ شرمندہ ہوئی پر غصہ اسے سمیر پہ بھی آیا ۔ (یہ تو باہر گیا تھا اچانک کیسے آگیا اور میں کون سے دھیان میں تھی جو مجھے خبر ہی نہیں ہوئی) خود کو کوستی وہ کچھ خجل تو ہوئی پر جلد ہی خود پہ قابو پالیا اور بڑی ڈھٹائی سے جواب دیا ۔

”پیڑ پودوں سے کانفرنس“۔ سمیر کے لبوں پہ مسکراہٹ ابھری جسے اس نے نچلا لب دبا کر چھپانا چاہا۔ وہ کچھ دیر پہلے ہی گھر پہنچا تھا۔اتفاق سے گاڑی اندر لانے کی بجائے اس نے باہر ہی پارک کر دی اور علینہ کو لان میں دیکھ کر اسے حیرت ہوئی تھی کیونکہ اس کے مطابق تو وہ عمیر اور فریحہ کے ساتھ تھی۔ وہ پہلے تو اگنور کرتے گزر جانا چاہتا تھا لیکن کچھ سوچ کر وہ اس کی جانب چلا آیا ۔ اسے حیرت ہوئی تھی کیونکہ علینہ کا موڈ خاصہ خوشگوار تھا اور وہ اکیلی انجوائے کر رہی تھی۔

”وہ تو تم آدھی رات میں کرتی ہو۔ ویسے اس رات واقعی میں تمہیں کوئی چڑیل سمجھا تھا“۔سمیر نے باقاعدہ بدلا چکایا۔ علینہ کی طرف سے اب وہ مزید کسی چبھتی ہوئی بات کا منتظر تھا لیکن وہ نظر انداز کرکے جانے لگی ۔ سمیر نے روکنا چاہا۔

”کہاں جارہی ہو“۔علینہ کے بڑھتے قدم رک گئے۔

”رکو مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے“۔مزید کہتا وہ چند قدم آگے بڑھا اور علینہ کے سامنے آکر کھڑا ہوگیا۔ علینہ نے سر اٹھا کر اس کے چہرے کی طرف دیکھا۔ اس کے چہرے پہ بے پناہ سنجیدگی تھی پر وہ علینہ کی آنکھوں میں دیکھتا اسے بے تحاشہ کنفیوز کر رہا تھا۔ علینہ نے نظریں جھکا لیں۔

”علینہ کل رات جو بھی ہوا مجھے اس کا افسوس ہے۔ کشمالہ کو تم سے اس طرح بات نہیں کرنی چاہیئے تھی بہرحال جو بھی ہوا کشمالہ کی طرف سے میں تم سے معذرت کرتا ہوں“۔حالانکہ علینہ کے سامنے ہی سمیر نے کشمالہ کو فوراََ جواب دے دیا تھا پھر بھی وہ کل سے اس کی طرف سے معذرت کا ایک لفظ سننے کی خواہاں تھی۔ گھر کے ہر فرد نے اسے اس مسئلے میں اسپورٹ کیا ، اس کی دلجوئی کی ماسوائے سمیر کے تو علینہ کو اس کی اس کی بے نیازی نے تکلیف پہنچائی تھی۔ (باتیں سنا سکتا ہے تو سوری بھی کرسکتا تھا)اب اس کی جانے بلا سمیر تو اسی وقت اس کے پیچھے آیا تھا لیکن بھلا ہو عمیر کا جس نے اس سے پہلے پہنچ کر علینہ کا موڈ چٹکیوں میں ٹھیک کر لیا اور سمیر کو پتنگے لگا دئیے۔

”ایسی معذرت کس کام کی جس میں تاسف شامل نہ ہو“۔علینہ جل کر بولی تو سمیر کا دماغ گھوم گیا۔ وہ اس کرٹسی پہ یہ الزام تراشی سننے تو نہیں آیا تھا۔

”تم یہ کہنا چاہتی ہو کہ کشمالہ نے جو کیا میری مرضی سے کیا؟“اسے شدید حیرت نے آگھیرا تھا۔ آخر اس لڑکی کی بدگمانی کب ختم ہوگئی۔

”میں اس موضوع پہ کسی سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتی اور مجھے کسی کی جھوٹی معذرت بھی نہیں چاہیئے“۔علینہ کچھ اور تپ کر بولی تو سمیر کا پارا آسمان کو چھونے لگا۔ وہ ان لہجوں کا عادی نہیں تھا پر سامنے بھی علینہ تھی ۔ اپنی بات کہہ کر وہ فوراََ ہی وہاں سے جانے لگی تو سمیر نے ایک دم آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔

”کیا مطلب ہے تمہارا اس بات سے۔ “اس کی کلائی مضبوطی سے تھامے وہ ایک بار پھر اس کے سامنے آکر کھڑا ہوگیا اور اس بار کچھ سخت لہجے میں بولا۔

”میرا ہاتھ چھوڑیں“۔ علینہ نے ہلکا سا سسکتے اپنا ہاتھ چھڑانا چاہا۔

”میری بات سنے بغیر تم یہاں سے نہیں جاسکتی“۔سمیر کی مضبوط گرفت سے نکلنا اتنا بھی آسان بھی نا تھا وہ بھی اس وقت جب وہ اس ایشو کو کلئیر کرنا چاہتا تھا وہ اسے یونہی الزام لگا کر جانے نہیں دے سکتا تھا۔

”کس حق سے مجھ پہ یہ دھونس جماتے ہین آپ۔ جب دل چاہا منہ اٹھا کر شرمندہ کردیا۔ کبھی خود کبھی آپ کے دوست۔ آپ کو کیا لگتا ہے آپ کے گھر چند دن رہنے آئی ہوں تو ایسے ہی سڑک پہ پڑی تھی “۔ ایک ہاتھ سے اپنا بازو چھڑاتے وہ اب تقریباََ رونے کو تھی۔ اس نے اگلا پچھلا سارا شکوہ اس کے منہ پہ دے مارا تھا۔

”تم جانتی ہو اس دن تمہیں کیوں ڈانٹا تھا میں نے۔ اور تم سے سوری بھی کیا تھا“۔ سمیر نے اچانک اس کی کلائی چھوڑی تھی۔ علینہ چند قدم پیچھے ہوئی اور اپنے دوسرے ہاتھ کی ہتھیلی سے اپنی کلائی مسلنے لگی۔ سمیر کا لہجہ اس بار نرم تھا۔

”نہیں چاہیئے آپ کی سوری۔ تب نہ اب۔ اور جیسے میں تو احمق ہوں نا، نہیں جانتی ایسی باتوں سے آپ کو کتنی تسکین مل رہی ہوگی۔ انجانے میں آپ کے ساتھ جو کچھ میری وجہ سے ہوا اس کا بدلہ مل گیا“۔سمیر کا دل چاہا اپنا سر پیٹ لے۔ یہ لڑکی اب تک جانے انجانے زیادتی بھی اسی کے ساتھ کرتی رہی ہے ۔غلطی اس کی تب بھی نہیں تھی اور آج بھی نہیں پھر بھی وہ اس کے پاس معذرت کرنے آیا تو بدگمانی بھی اسی سے ۔

”شٹ اپ“۔بے اختیار اس کا ہاتھ اٹھتے اٹھتے رہ گیا تھا ورنہ دل تو چاہ رہا تھا آج اس کی طبیعت صاف کر ہی دے۔

”ایک لفظ اور بکواس کا منہ سے نکالا تو ایک لگاو ¿ں گا الٹے ہاتھ کی ساری عمر کے لئے دماغ سے بدگمانی کا کیڑا نکل جائے گا“۔ علینہ کانپ ہی تو گئی تھی۔ اس نے اس سے پہلے سمیر کو اتنی اونچے لہجے میں بولتے نہیں سنا تھا۔

”تم مجھے اتنا چیپ انسان سمجھتی ہو جو ایک لڑکی سے بدلہ لینے کی خاطر اپنے گھر پہ اس کی تذلیل کروائے گا“۔اسے رہ رہ کر اس پہ غصہ آرہا تھا۔ وہ تو کب کا ان مس انڈراسٹینڈنگز کو بھول چکا تھا۔ مونس کے معاملے میں بھی اس نے علینہ کا بھرپور ساتھ دیا تھا یہاں تک کہ اپنے گھر والوں کو اس بات کی ہوا بھی نہیں لگنے دی تھی۔ جس لڑکی کی عزت کی خاطر وہ اپنی ماں سے جھوٹ بول رہا تھا وہ اسے اتنا گھٹیا گردان رہی تھی یہ بات سمیر کی برداشت سے باہر تھی۔

”میں اس موضوع پہ کوئی بات نہیں کرنا چاہتی“۔علینہ سینے پہ ہاتھ باندھے رخ موڑ کر کھڑی ہوگئی۔

”کرنی پڑے گی بات مس علینہ خاور۔ آپ کسی انسان کے خلوص ، اس کی شخصیت پہ بہتان تراشی کرکے خاموشی کی راہِ فرار اختیار نہیںکرسکتی ہیں“۔ سمیر نے اسے کندھے سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا۔ سمیر کے چہرے پہ سنجیدگی اور غصہ صاف نظر آرہا تھا۔ وہ تیز نظروں سے اسے گھور رہا تھا۔ علینہ نے لب بھینچے نظریں چرائیں۔

”جس کے اپنے خلوص سے عاری ہوں اسے غیروں سے ایسی توقعات نہیں رکھنی چاہییں سو میںنے بھی نہیں رکھیں“۔ وہ دو ٹوک لہجے میں بولی۔

”تمہارے اپنوں نے تمہارے ساتھ کیا کیا اور کیوں کیا اس کا ذمہ دار میں نہیں ہوں۔ تمہیں ان سے جو شکایات ہیں ان کی وجہ سے تم میری تذلیل ہرگز نہیں کرسکتی“۔سمیر کو اندازہ تو تھا وہ ہر بات کو اپنی زندگی کی مایوسی سے جوڑ کر ہمیشہ منفی رنگ دینے کی کوشش کرتی ہے مگر اس طرح وہ کسی دوسرے کے خلوص کے ساتھ زیادتی کرنے کا حق نہیں رکھتی۔

”لیکن نہیں اس میں تمہارا بھی کیا قصور، تمہاری پرسنیلٹی ہی نفسیاتی ہے۔ “علینہ کو سب سے زیادہ آگ سمیر کے اس جملے نے لگائی تھی۔

”جب جانتے ہیں قصور کس کا ہے تو مجھ پہ چلانے کا کیا فائدہ سمیر صاحب۔کیا لینے آئیں ہیں آپ ایک نفسیاتی مریضہ کے پاس“۔ تیز لہجے میں کہتی وہ سمیر پہ دو حرف بھیج کر ایک بار پھر آگے بڑھی لیکن سمیر کی برداشت جواب دے چکی تھی۔ یہ معاملہ اب اس طرح تو ختم نہیں ہوسکتا تھا ۔ بات ابھی ادھوری تھی اور سمیر اس لڑکی کے دماغ سے بدگمانی کا کیڑا ہمیشہ کے لئے ختم کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ بے اختیار اس نے علینہ کو روکنے کے لئے اس کا بازو کھینچا تو وہ لڑکھڑاتے ہوئے سمیر کے سینے سے جا ٹکرائی۔ اس سے پہلے کے اسے پرے دھکیلتی وہ پیچھے ہوتی کسی نے درشتی سے اس کا نام پکارا تھا۔

”علینہ!“سمیر اور علینہ نے ایک ساتھ آواز کی سمت دیکھا تھا اور پھر علینہ کو اپنی سانسیں تھمتی ہوئی معلوم ہوئی تھیں۔

٭….٭….٭

”تھینک یو فار دی زبردست ٹریٹ۔ لیکن اگر بھائی اور علینہ بھی ساتھ ہوتے تو زیادہ مزا آتا“۔ فریحہ نے اسٹیک کاٹتے خوشگوار موڈ میں کہا ساتھ ہی ساتھ ہلکی سی آہ بھی بھری کہ وہ اس وقت علینہ اور سمیر کو کتنا مس کر رہی ہے۔

”یعنی مجھ ناچیز کی کمپنی نے مایوس کیا ہے آپ کو“۔عمیر نے باقاعدہ برامانتے احتجاج کیا۔

”بالکل نہیں۔ میں نے کہا نا ان دونوں کے ساتھ ہونے سے ”زیادہ “ مزا آتا۔“فریحہ نے کچھ شرمندہ ہوتے تفصیل کہنا چاہی پر عمیر آج کچھ الگ ہی موڈ میں تھا۔

”یعنی قابلِ برداشت ہوں“۔ابرو اٹھائے اس کے کئے جانے والے ذومعنی سوال پہ چونکتے فریحہ تقریباََ خاموش ہوگئی تھی۔

”اور اگر ساری عمر برداشت کرنا پڑے تو؟“وہ ابھی پہلی بات کا مقصد سمجھنے سے قاصر تھی کہ عمیر نے اس کی مشکل میں مزید اضافہ کردیا تھا۔

”آپ کیا کہنا چاہتے ہیں میں سمجھی نہیں“۔بالآخر فریحہ نے پوچھ ہی لیا۔

”شادی کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے“۔عمیر نے اس بار ڈائریکٹ سوال کیا تھا۔فریحہ کچھ کہہ نہیں پائی۔

 نور فاطمہ کا اندازہ بالکل درست تھا کہ نگہت آپا کی باتوں میں چھپا اسرار انہیں کچھ اسی بات کا اشارہ دے رہا تھا ۔ عمیر کے لئے فریحہ کو پسند نگہت آپا نے کیا تھا جس پہ اسے ہرگز اعتراض نہ تھا اور یقینناََ اس کے ماموں ممانی کو بھی اعتراض نہیں ہونا تھا لیکن عمیر ایک بار اپنی تسلی کے لئے فریحہ کی مرضی بغیر کسی دباو ¿ کے جاننا چاہتا تھا اور وہ اسی صورت ممکن تھا جب وہ خود بغیر کسی کو انوالو کئے فریحہ سے مل لے۔ وہ فریحہ کو کافی عرصے سے پسند کرتا تھا مگر اس کے لئے فریحہ کی رائے بھی بے حد اہم تھی۔ نگہت کا خیال تھا عمیر کو اس بات کو اتنی اہمیت نہیں دینی چاہیئے کیونکہ زبیر انصاری کبھی فریحہ کی مرضی جانے بغیر اس کی شادی طے نہیں کریں گے لیکن عمیر کی اپنی الگ سوچ تھی۔ وہ اپنی فیملی ویلیوز سے اچھی طرح واقف تھا اور نہیں چاہتا تھا فریحہ پہ کوئی فیصلہ مسلط کیا جائے۔ بلکہ اچھا ہے وہ دونوں ایک دوسرے کو سمجھ کر اس رشتے کی بات چلائیں۔

”میں نے اب تک اس موضوع پہ کچھ سوچا نہیں“۔ فریحہ نے جان چھڑاتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا پر دل میں اس پل ایک ٹیس اٹھی تھی۔ کسی کی بے حسی یاد آئی تھی۔ خود پہ قابو پانے کی کوشش میں بے اختیار وہ اپنے کھانے کی پلیٹ کی طرف متوجہ ہوگئی۔

”میں نے بھی نہیں سوچا تھا لیکن ممی کی خاطر سوچنا بھی پڑا اور فیصلہ بھی کرنا پڑا۔ لیکن میں کوئی بھی فیصلہ اکیلے نہیں کرنا چاہتا۔ اس سے پہلے کے بات بڑوں تک پہنچے میں سمجھتا ہوں میرے لئے سب سے اہم تمہاری مرضی اور خوشی جاننا ہے“۔عمیر نے گرما گرم بیک پوٹیٹو پہ چھری چلاتے ڈائریکٹ بات کی۔ فریحہ کا اسٹیک کاٹتا ہاتھ رک گیا۔

”عمیر بھائی آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں۔ کون سا فیصلہ اور کس کی مرضی“۔ وہ واقعی شدید شاک میں تھی۔

”فری ممی چاہتی ہیں میں تم سے شادی کرلوں۔ “ فریحہ کو سمجھ نہیں آیا اسے اس بات پہ کس طرح ری ایکٹ کرنا چاہیئے۔

”میں اچانک پاکستان اسی مقصد کے لئے آیا تھا ۔ اگر ہمارے درمیان انڈراسٹینڈنگ ڈویلپ ہوجاتی ہے تو ممی ہمارے رشتے کی بات ماموں ممانی سے کریں “۔عمیر نے تفصیل سے بتایا۔

”اچھا تم کھانا تو کھاو ¿، کھانا کیوں چھوڑ دیا۔ “ اسے ہاتھ روکتے دیکھ کر عمیر نے مزید کہا۔وہ اسے کیا بتاتی اس کی تو بھوک ہی اڑ گئی تھی۔

”لیکن ایسا کیسے ہوسکتا ہے“۔فریحہ کو یقین نہیں آرہا تھا۔ یا پھر وہ یقین کرنا ہی نہیں چاہتی تھی۔

”ایسا کچھ ناممکن بھی نہیں ڈاکٹر فریحہ انصاری۔ دنیا کی نظر سے دیکھا جائے تو ایک دم پرفیکٹ میچ ہے ہمارا“۔ عمیر نے ایک نگاہ فریحہ کے سنجیدہ چہرے پہ ڈالی جہاں اس شرارت بھرے جملے کا بھی کوئی خاص اثر نہیں ہوا تھا۔

”لیکن میں نے ایسا کبھی نہیں سوچا۔ “خاصی بودی اور احمقانہ توجیح دیتے اس نے عمیر کو اپنے طور پہ کنوینس کرنے کی ناکام کوشش کی تھی۔

”تو اب سوچ لو مجھے کوئی جلدی نہیں“۔وہ بے دلی سے مسکرائی تھی۔

”میں شادی کے لئے ذہنی طور پہ بالکل تیار نہیں ہوں۔ مجھے ابھی آگے پڑھنا ہے“۔کچھ دیر سوچنے کے بعد بالآخر اسے ایک مناسب بہانہ مل ہی گیا تھا۔

”اپنی پڑھائی اور پریکٹیس تم شادی کے بعد بھی جاری رکھ سکتی ہو۔ میری یا میرے گھر والوں کی طرف سے تم پہ اس سلسلے میں کوئی پریشر نہیں ہوگا“۔عمیر نے اس کی وضاحت کو رد کرتے اسے کھلی آفر دی تھی۔ اب میڈیسن جیسی پڑھائی کے بعد کرئیر کو جاری رکھنے کے لئے تعلیم کا سلسلہ تو ہمیشہ ہی چلتا رہتا ہے۔ یہ بات ان سے بہتر کون سمجھ سکتا تھا کہ فریحہ کے لئے یہ مسئلہ کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں۔

”شادی ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے اور میں دو کشتیوں میں سوار ہوکر صرف ڈوب جاو ¿ں گی“۔فریحہ اب واقعی ڈسٹرب نظر آرہی تھی۔ گو اس کا رویہ عمیر کو بھی حیرت میں مبتلا کر رہا تھا لیکن وہ اس پہیلی کو سلجھانا چاہتا تھا۔

”یہ اپروچ نور ممانی کی بیٹی کی تو ہرگز نہیں ہوسکتی“۔عمیر نے تمسخر سے کہا۔ وہ سمجھ چکا تھا فریحہ اسے صاف دوٹوک انکار نہیں کر پارہی۔

”ممی میں اور مجھ سے بہت فرق ہے اور پھر۔۔۔۔“ہاتھ میں پکڑا کانٹا پلیٹ میں پٹختے وہ زچ ہوئی۔ عمیر نے ہاتھ کے اشارے سے اسے خاموش ہونے کا کہا۔

”فری!!“وہ اب نہایت سنجیدہ نظر آرہا تھا۔ وہ پہلے والی ہلکی سی مسکراہٹ اور آنکھوں کی شرارت رخصت ہوچکی تھی۔

”بھول جاو ¿ میں نے ابھی تم سے کیا کہا۔ کوئی رشتہ نہیں ہورہا، کوئی شادی نہیں ہورہی۔ اب بتاو ¿ پرابلم کیا ہے؟“عمیر کے سوال پہ فریحہ کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی تھی۔ اس نے باقاعدہ انکار نہیں کیا تھا لیکن جس طرح وہ مزاحمت کر رہی تھی بہانے بنا رہی تھی عمیر کی جگہ کوئی بھی ہوتا وہ اسے انکار ہی سمجھتا اور جب وہ اس کا انکار سمجھ چکا تھا تو کیسے ممکن تھا اس سے وجہ دریافت نہ کرتا۔

”پرابلم؟۔۔۔۔۔کوئی۔۔کوئی پرابلم نہیں“۔خود کو کمپوز کرتے اس نے بمشکل کہا۔

”تم مجھ سے اپنا ہر راز شئیر کرسکتی ہو اینڈ ٹرسٹ می۔ ۔۔۔یہ بات ہمیشہ ہم دونوں کے درمیان رہے گی“۔فریحہ نے نگاہ اٹھا کر عمیر کی طرف دیکھا۔ وہ ا س کے جواب کا منتظر تھا۔

”عمیر بھائی۔۔۔“فریحہ نے وہ الفاظ ڈھونڈنے کی کوشش کی جن سے وہ عمیر کو اپنا مسئلہ بتا سکے۔ عمیر اب خاموشی سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔

ژ              ژ

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

جنوں ..مہتاب خان ..قسط نمبر 3 آخری

جنوں  مہتاب خان  (قسط نمبر 3) ساحر نے عادل کا چیلنج قبول کر لیا تھا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے