سر ورق / نظم کدہ / ان لمحوں کے دامن میں مبشرہ انصاری قسط نمبر 5

ان لمحوں کے دامن میں مبشرہ انصاری قسط نمبر 5

ان لمحوں کے دامن میں

مبشرہ انصاری

قسط نمبر 5

من ہی من میں فیصلہ کرتی وہ جلدی سے شال لپیٹتی، دروازہ کھولتی، سیڑھیاں پھلانگتی چوب محل سے باہر نکل آئی…. سب لڑکیاں اپنے نائٹ ڈریسز میں ملبوس (Bottle Game) کھیلنے میں مصروف تھیں…. ہر بار بوتل گھمانے کے بعد اسکے رکتے ہی تمام لڑکیوں کی چہچہاتی آوازیں اس یخ فضا میں گونج اٹھتیں…. مانہ چوب محل سے دروازے کے باہر کھڑی، سامنے بیٹھیں ہنستی کھیلتی ان چودہ لڑکیوں کے گروپ کی جانب دیکھنے لگی…. گروپ میں تین برٹش لڑکیاں ایسی تھیں جو کہ ازحد بے باک، تمکنت، آپا دھاپی اورانتہاپسند شخصیت کی مالکہ تھیں…. وہ تینوں لڑکیاں یقینا آشلے، سحر اور برینڈا ہی تھیںجو پہلے دن سے مانہ کو نفرت بھری نگاہوں سے گھورتی آئی تھیں…. آگ بجھانے کے لیے پانی کی ضرورت پڑتی ہی ہے…. ایک ہی جگہ پر آگ ہی آگ ہو، ایسا ممکن نہیں…. گروپ میں تین لڑکیاں بہت اچھی بھی تھیں، جو مانہ کواپنے سے الگ تصور ہرگز نہیں کرتی تھیں…. سبھی کے ساتھ ایک جیسا ہی برتاﺅ کرتی دکھائی دیتیں…. ان تین لڑکیوں میں ایک برٹش انگریز حانہ اور دو برٹش مسلم لڑکیاں، مسکان اور فارا تھیں۔ پانچ لڑکیاں بے حد بیوقوف تھیں…. ان پانچوں کی ہر حرکت میں بچکانہ پن واضح طور پر نمایاں دکھائی دیتا…. اور خاص طور پر جب الحان ان لڑکیوں کے سامنے ہوتا تو ان کی صورتیں عجیب سے عجیب تر ہوتی چلی جاتیں…. الحان بھی اکثر ان پانچوں کا مذاق اُڑاتا دکھائی دیتا…. اور یہ پانچ لڑکیاں یقینا الگ الگ ممالک سے تعلق رکھتی تھیں…. ایک انڈین لڑکی پوجا…. ایک برٹش مسلم تائبہ، ایک برٹش انگریز آماندہ اور دو کورئین لڑکیاں غیوری اور میراں تھیں…. گروپ میں رہ گئیں باقی کی تین لڑکیاں ازحد رومانٹک اور فیری ٹیل کی داستان دکھائی دیتی تھیں…. ایک برٹش مسلم صاحبہ، ایک انڈین، نیہا اور ایک برٹش انگریز جینی….ان تینوں کا پیار پر پکا ایمان تھان اور انہیں لگتا تھا کہ اس شو میں انہیں ان کا پیار لازمی مل جانے والا ہے…. وہ تینوں زیادہ تر افسانوی باتیں ہی کرتی دکھائی دیتیں…. الحان کو وہ تینوں یقینا پسندتھیں…. اور آخری پندرہویں لڑکی وہ خود تھی…. میمانہ انان ازمانہ….جو نہ چاہتے ہوئے بھی زبردستی اس رئیلٹی شو کا حصہ بنی ہوئی تھی….

سامنے گیم میں مگن لڑکیوں پر نگاہ دوڑاتی وہ چوب محل کی دائیں جانب جہاں پر سمندر بھی واقع تھا، چلی آئی…. اسی جانب الحان کا الگ کمرہ بھی موجود تھا…. مگر وہ شاید سو رہا تھا…. وہ اس وقت اسے فیس کرنا بھی نہیں چاہتی تھی…. کمرے پر ایک اُچٹتی سی نگاہ دوڑاتی وہ کمرے سے چند قدم کے فاصلے پر تنے کھڑے ایک بڑے سے درخت کے نیچے جا کھڑی ہوئی…. چاندنی لہروں میں طبق اندر طبق گھل مل رہی تھی…. لہریں اُفق سے اُبھرتیں تو لہروں اور اُفق کے درمیانی فاصلوں میں اندھیرا سا چھا جاتا…. چاندنی میں لہروں اور لہروں کے درمیان اندھیرے کا باہمی سینہ بہ سینہ رقص ایک عجیب منظر پیش کررہا تھا…. آہستہ آہستہ لہروں کے درمیانی فاصلوں سے اندھیرے غائب ہونے لگے…. چاند دمکتی نیلی سیڑھیاں چڑھتا ہی چلا گیا…. ہر شے چاندنی بن گئی…. لہریں ساحل کی طرف آتیں مگر ساحل کو چھوڑ کر پتھروں سے ٹکراتی واپس مرکز کی طرف لوٹ جاتیں…. بھاٹاجوار میں بدل رہا تھا…. لہریں اُبھرتی ڈولتی رہیں…. مانہ درخت کے نیچے ساکت کھڑی چاند اور لہروں کا منظر تکتی رہی…. وہ سمندر کے قریب ہرگزنہ جانا چاہتی تھی…. اسے اتنے ڈھیر سارے پانی سے ڈر لگتا تھا…. بچپن سے ہی واٹر فوبیا کا شکار تھی…. پھر بھی نجانے کیوں وہ کافی دیر تک سمندر کی لہروں کو تکتی رہی تھی…. ہوا بہت ٹھنڈی چل رہی تھی…. لمبی سانس کھینچ کر تازہ ٹھنڈی ہوا اپنے اندر اُتارتی درخت کے سائے تلے بیٹھ گئی…. ہر بار ہوا کی سائیں سائیں کے ساتھ دور کہیں سے لڑکیوں کے قہقہوں کی گونج سنائی دیتی…. اور پھر اچانک سے غائب ہوجاتی…. اس نے اردگرد نظر دوڑائی…. چاند کی نیلی دمکتی روشنی میں یہ طلسمی جزیرہ بے حد خوبصورت دکھائی دے رہا تھا…. جہاں رات کی تنہائی میں از حد سکون میسر تھا…. لمبی سانس کھینچتے ہی ایک پُرسکون خوبصورت مسکراہٹ اپنے آپ اس کے لبوں پر پھیلتی چلی گئی….

”کتنا سکون ہے یہاں…. کس قدر خوبصورت جگہ ہے…. بے حد پُرسکون…. کاش…. کہ زندگی بھی اس قدر پُرسکون ہوتی۔“

جزیرے کا چپہ چپہ نظروں میں قید کرتی وہ من ہی من میں جزیرے کو سراہنے لگی تھی….

”کوئی تو بات ہے دل میں اور اتنی گہری ہے

تیری مسکراہٹ تیری انکھوں تک نہیں پہنچی

ہوا کی سنسناہٹ کے ساتھ ہی ایک بھاری مردانہ آوازاس کی سماعت سے ٹکرائی تھی…. مانہ یکایک چونک اٹھی…. اچنبھے سے کچھ ہی فاصلے پر موجود الحان کے کیبن کی بالکونی کی جانب دیکھتی آنکھیں میچ کررہ گئی…. الحان شریر قاتلانہ مسکان لبوں پر سجائے، وائٹ شرٹ اور ریڈ شارٹس میں ملبوس بالکونی میں کھڑا اسی کی جانب دیکھ رہا تھا…. شال مزید مضبوطی سے لپیٹتی اب کے وہ اپنے آپ میں ہی سمٹ کر رہ گئی…. اگلے ہی ثانیے الحان الہ دین کے جن کی طرح عین اس کے سامنے آن کھڑا ہوا….

”تمہارے ہی ناول کی شاعری تھی…. پسندنہیں آئی؟“

قدموں کی چاپ قریب سے قریب تر آتی محسوس ہوئی…. وہ بجلی کی سی تیزی سے اٹھ کھڑی ہوئی….

”اتنی خاموشی صحت کے لیے اچھی نہیں ہوتی….“

مانہ اب کے شعلہ بھڑکاتی نگاہوں سے اپنے عین سامنے چند قدم کے فاصلے پر کھڑی اس کہربا شخصیت کی جانب دیکھنے لگی….

”یہ بھی تمہارے ناول کا ڈائیلاگ ہے…. یہ بھی پسند نہیں آیا؟“

وہ بے حد متانت چہرے پر سجائے بغور مانہ کی جانب دیکھ رہا تھا…. غصہ میں پھنکارتی وہ قدم چوب محل کی جانب بڑھانے ہی لگی تھی کہ الحان نے دیوار بن کر اس کا راستہ روک لیا….

”میرا راستہ چھوڑیں….“

”مانو! کم آن…. کیا ہم تھوڑی دیر بات نہیں کر سکتے؟ دیکھو کس قدر خوبصورت چاندنی رات ہے…. بالکل تمہارے ناول جیسی…. تمہیں بہت پسند ہے ناں؟“

وہ ایک الگ انداز سے اس کی جانب دیکھتا بہت دھیمے لہجے میں گویا ہوا تھا…. مانہ کا دل چاہا کہ وہ پلک جھپکتے ہی اس کی نظروں سے غائب ہو جائے…. مگر ایسا ناممکن تھا…. وہ الجھتی سانسوں کو بحال کرتی نظروں کا زاویہ بدل کر بولی….

”مجھے آپ سے بات نہیں کرنی….“

”کیوں نہیں کرنی؟….“

وہ براہ راست اس کی آنکھوں میں جھانکنے لگاتھا…. مانہ ایک اچٹتی سی نگاہ اس پر دوڑاتی پھرتی سے آگے کی جانب بڑھی…. اگلے ہی پل الحان کی مضبوط گرفت نے اس کی کلائی پکڑتے ہی اسے مزید آگے بڑھنے سے روک دیا تھا…. مانہ اچنبھے سے اس کی جانب دیکھنے لگی….

”میرا ہاتھ چھوڑیں….“

”تاکہ تم بھاگ جاﺅ؟“

وہ فل طاقت سے اپنا ہاتھ آزاد کرانے لگی….

”میں نے کہا میرا ہاتھ چھوڑیں….“

اسے اس وقت الحان سے بے حد خوف محسوس ہونے لگا….

”مانو پلیز!…. صرف پانچ منٹ….“

وہ التجا کرنے لگا….

”وہاں اس طرف بہت سی لڑکیاں موجود ہیں…. آپ ان کے ساتھ ٹائم سپینڈ کر سکتے ہیں…. اور انہیں آپ کے ساتھ ٹائم سپینڈ کرنا اچھا بھی لگتا ہے….“

”مگر مجھے یہ وقت تمہارے ساتھ سپینڈ کرنا ہے….“

”آپ کیوں خوامخواہ اپنا وقت برباد کر رہے ہیں؟“

”تمہیں جانناچاہتا ہوں….“

”لیکن مجھے آپ کو مزید جاننے میں کوئی دلچسپی نہیں….“

وہ دو ٹوک انداز میں بولی….

”یعنی تمہیں مجھ پر یقین ہی نہیں کہ میں واقعی تمہیں پسند کرتا ہوں؟“

وہ پوچھ رہا تھا….

”یقینا…. اور میں یہ بھی بہت اچھی طرح سے جانتی ہوں کہ آپ یہ پسندیدگی کا ڈرامہ صرف اور صرف اس سو کالڈ شو کے لیے کر رہے ہیں…. اور میں اب تک کے سفر میں آپ کے لیے چیلنجنگ ثابت ہوئی ہوں، کہ جہاں تمام خوبصورت لڑکیاں آپ پر مر مٹنے کو تیار ہیں…. وہاں میں آپ سے بات تک کرنا گوارہ نہیں سمجھتی…. اور یہی بات آپ کے دل کو کچوکے لگا رہی ہے…. برداشت نہیں کر پا رہے آپ…. آپ چاہتے ہیں کہ یہاں موجود ہر لڑکی پاگلوں کی طرح آپ کے پیچھے پیچھے منڈلاتی رہے…. مگر آئی ایم اکسٹریملی سوری مسٹر الحان ابراہیم! میں ان لڑکیوں میں سے ہرگز نہیں…. جو آپ جیسے نوٹنکی لڑکوں کے لیے صرف ایک آپشن کا درجہ رکھتی ہیں….“

نجانے اس میں اتنی ہمت کہاں سے آ گئی تھی کہ وہ الحان کے سامنے براہ راست اس کی بے عزتی کیے چلی جا رہی تھی اور وہ سراسیمہ حیران کھڑا ٹکر ٹکر اسی کی جانب دیکھے چلا جا رہا تھا….

”ناﺅ لِسن ٹو می کیئرفُلی مسٹر الحان ابراہیم! میں یہاں نہیں رہنا چاہتی…. بالکل بھی نہیں رہنا چاہتی …. میں اپنی دنیا میں واپس لوٹنا چاہتی ہوں…. اپنی وہ جاب کرنا چاہتی ہوں…. جس کا وعدہ عاشرزمان نے مجھ سے کیا ہے…. آپ پلیز اس بات کو قبول کر لیں کہ دنیا میں ایک ایسی لڑکی بھی موجود ہے…. جو آپ کی پرسنالٹی، آپ کی دولت، آپ کی شان و شوکت، کسی بھی چیز سے امپریس ہرگزنہیں ہے….“

”یعنی تمہیں ایسا لگتا ہے کہ میں یہ سب صرف اپنی اَنا کی خاطر کر رہا ہوں؟“

وہ درہم برہم دکھائی دے رہا تھا….

”ہاں….“

اسی ہٹ دھرم اندازمیں جواب دیا گیا….

”میں تمہیں کیسے یقین دلاﺅں کہ میں تمہیں واقعی پسند کرتا ہوں؟“

اس کی نگاہوں اور لبوں دونوں پر سوال تھا….

”اس کی ضرورت نہیں…. کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ آپ یہاں گیم کھیلنے آئے ہیں…. اینڈ آئی ایم رئیلی ویری سوری….! میں آپ کی اس گیم کا حصہ ہرگز نہیںبن سکتی….“

”نہ میں تم سے جھوٹ بول رہا ہوں، نہ مذاق کر رہا ہوں….نہ ہی کوئی گیم کھیل رہا ہوں…. سمجھیں تم؟“

وہ بے حد تحمل سے گویا ہوا…. مانہ غصے میں پھنکارتی خاموشی سے اس کی جانب دیکھتی رہی…. وہ پھر سے گویا ہوا….

”ہاں! یہ سچ ہے کہ تم جیسی لڑکی کبھی بھی میراانتخاب نہیں رہی…. نہ تمہیں کپڑے پہننے کا ڈھنگ ہے…. نہ بات کرنے کی تمیز ہے…. اور اوپر سے یہ موٹے بھدے شیشے والے چشمے جو مجھے بے انتہا زہر لگتے ہیں….“

اس نے ہاتھ بڑھا کر ایک جھٹکے سے اس کی آنکھوں پر ٹکا وہ بھدا چشمہ کھینچ اُتارا….

”ان سب کے باوجود…. مجھے تم اچھی لگتی ہو…. بے حد اچھی لگتی ہو….“

وہ براہ راست اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے مسحورکن اندازمیں بولا تھا…. مانہ ششدر ہی رہ گئی…. الحان کی نگاہوں کی تپش محسوس کرتے ہی وہ جلدی سے نظروں کا زاویہ بدل گئی….

”میں جانتا ہوں کہ تم بھی مجھے پسند کرتی ہو…. مگر اقرار نہیں کرنا چاہتیں،کیونکہ تم ایک اَناپرست لڑکی ہو….“

”خوش فہمی ہے آپ کی….“

وہ مسلسل اپنی کلائی چھڑانے کی تگ و دو میں مصروف تھی….

”خوش فہمی نہیں…. یقین ہے….“

وہ مانہ کے چہرے پر لہراتی بالوں کی لٹ کان کے پیچھے اُڑستے ہوئے بے حد دھیمے لہجے میں گویا ہوا…. نظریں اس کے خوبصورت چہرے کا طواف کرنے میں مصروف تھیں….

”مجھے تمہاری آنکھیں بہت پسند ہیں…. بہت گہرائی ہے ان آنکھوں میں…. بہت سے راز پنہاں ہیں…. اور میں یہ تمام راز جانے کا خواہشمند ہوں….“

وہ بنا پلکیں جھپکائے ساکت نگاہوں سے اس کی جانب دیکھتی رہی…. دل بہت تیزی سے دھڑکتا محسوس ہوا تھا….

”اور مجھے یقین ہے کہ تم مجھے نااُمید ہرگز نہیں کرو گی….“

اس کی باتیں، اس کا انداز، اس کا لہجہ اس قدر مسحورکن تھا کہ وہ پلک جھپکتے میں اس کے اسیر میں قید ہوتی دکھائی دی….

”انتظار کروں گا…. تمہاری اَنا کے خول سے باہر نکل کر اپنی آنکھوںمیں چھپے ان تمام رازوں کو مجھ سے شیئر کرنے کا انتظار….“

اگلے ہی پل اسے اپنی کلائی آزاد ہوتی محسوس ہوئی تھی…. وہ جو بے جان پتلے کی مانند ساکت کھڑی تھی، یکایک اپنی آزاد کلائی کی جانب دیکھنے لگی…. الحان چشمہ واپس اس کی ناک پر ٹکاتا…. دونوں بازو اپنے سینے پر باندھے تپش بھری نگاہوں سے اس کی جانب دیکھنے لگا تھا….

”تھینکس فور یور ٹائم مانو!“

دھڑکنوں پرقابو پاتی وہ پھرتی سے پلٹی اور چوب محل کی جانب دوڑتی چلی گئی…. الحان کی نگاہوں نے دور تک اس کاپیچھا کیا تھا….

الحان ابراہیم وہ شخص تھا جس کے دامن سے ہر عام سے عام اور خاص سے خاص لڑکی اپنے آپ لپٹتی ہی چلی جاتی…. مگر وہ چند لمحے یا چند دن ان لڑکیوں کے ساتھ بیتا کر اپنی راہیں آرام سے چن لیا کرتا تھا…. اس کی زندگی میں نجانے کتنی لڑکیاں آئی تھیں…. آئیں اور پھر چلی بھی گئیں…. اس نے کبھی کسی کو روکنا بھی نہ چاہا تھا…. مگر اب یہ پہلی بار تھا…. کہ وہ کسی بے تکی سی بے ڈھنگی سی لڑکی کو اپنے اردگرد موجود دیکھنا چاہتا تھا…. نجانے وہ اس کی ضد بنتی جا رہی تھی یا چیلنج یا کچھ اور…. وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا….

ض……..ض……..ض

وہ اپنے بیڈ پر بے سدھ لیٹی، وحشت زدہ نگاہوں سے کمرے کی چھت پر کسی غیرمرئی نقطے کی جانب ٹکرٹکر دیکھے چلی جا رہی تھی….

”بہت بڑی غلطی کر دی میں نے اس شو میں آ کر کے….“

من ہی من میں وہ خود سے ہمکلام ہوئی گھبراہٹ کے عالم میں لب بھینچتی وہ کروٹ بدل گئی…. سامنے والا بیڈ ابھی بھی خالی تھا…. مسکان ابھی تک کمرے میں واپس نہیں آئی تھی…. تین بجاتی گھڑی پر نظریں دوڑاتی وہ بیقراری کے عالم میں اٹھ بیٹھی…. اک الگ قسم کی وحشت اس پر طاری ہو چکی تھی…. لب بھینچتی، یخ ہوتے ہاتھوں کو آپس میں جکڑتی وہ لمبے لمبے سانس کھینچنے لگی….

”وہ رئیس زادہ چاہے جتنی مرضی ڈرامے بازیاں کر لے…. میں اسے خود کو بیوقوف بنائے جانے کے مقصد میں کامیاب ہرگز نہیں ہونے دوں گی“

من ہی من میں فیصلہ کرتی، بھنویں اُچکاتی وہ ایک بارپھر سے بیڈ پر لیٹ گئی…. نیند تھی کہ آنے کانام تک نہ لے رہی تھی…. ساری رات کروٹ بدل بدل کرگزار دی…. جب کروٹ بدلتے بدلتے تھک چکی تو اٹھ بیٹھی…. کچھ دیر مسکان کے خالی بیڈ کو تکتے رہنے کے بعد وہ اٹھی اور واش روم میں گھس گئی…. وضو کیے وہ باہر نکل آئی۔ نماز فجر ادا کرتے ہی وہ اپنا پین اور ڈائری سنبھال بیٹھی …. لکھتے لکھتے گھنٹوں گزرنے کا احساس تک نہ ہوا…. وہ اپنے ناول کی دنیا میں پوری طرح سے گم تھی کہ یکایک دروازے پر ہوتی دستک نے اسے اس کے ناول کی دنیا سے انفکاک کر ڈالا…. پین مٹھی میں دبوچے وہ گھورتی نگاہوں سے دروازے کی جانب دیکھنے لگی….

”کون؟“

”مانہ!“

مس فاطمہ ہینڈل گھماتے ہی اندر داخل ہوئیں….

”مسکان اور جینی لاپتہ ہیں….“

مس فاطمہ کے لہجے میں پریشانی واضح طور پر عیاں تھی….

”کیا؟“

اک جھٹکے سے پین اور ڈائری سائیڈ پر پھینکتی وہ مضطرب اٹھ کھڑی ہوئی….

”مگر کیسے؟“

خبر ہی ایسی تھی کہ وہ ششدر رہ گئی….

”لاﺅنج کے مین دروازے پر لگے کیمرہ سے ریکارڈ کی گئی وڈیو کے مطابق یہ پتا چلا ہے کہ مسکان وار جینی صبح کے چار بجے لاﺅنج کے احاطے سے باہر نکلیں اور پھر واپس نہیں آئیں….“

مس فاطمہ کی ڈیٹیل سنتے ہی وہ سر تھام کر رہ گئی….

”آپ نے تمام رومز چیک کیے؟ ہو سکتا ہے وہ دونوں یہیں کہیں ہوں؟“

”ہم نے تمام رومز چیک کر لیے ہیں…. آخری روم تمہارا تھا…. مگر وہ دونوں یہاں بھی نہیں…. میں نے سوچا شاید تم اس بارے میں کچھ جانتی ہو….“

سوالیہ نگاہیں خود پر مرکوز دیکھتے ہیں وہ سٹپٹااٹھی….

”مجھے کیسے معلوم ہو گا…. میں تو کل رات سے بند ہوں اس روم میں…. اور…. اور مسکان تو پوری رات روم میں نہیں آئی….“

”آر یو شیور کہ وہ پوری رات روم میں نہیں آئی؟“

”یس، آفکورس! میں اک لمحے کے لیے نہیں سوئی…. مسکان اور تمام لڑکیاں کچھ گیمز کھیل رہی تھیں رات بھر…. مجھے لگا شاید مسکان نے ان لڑکیوں میں سے کسی کے ساتھ روم شیئر کر لیا ہو گا…. مجھے ہرگز اندازہ نہ تھا کہ معاملہ اس قدر گمبھیر ہو سکتا ہے….“

وہ پھر سے لب بھینچنے لگی….

”اس چوب محل کی پچھلی جانب ایک گھنا جنگل ہے…. اور مجھے خدشہ ہے کہ وہ دونوں ٹہلنے کی غرض سے اس جنگل میں جانکلیں اور پھر واپسی کا راستہ بھول گئیں….“

”اوہ مائے گاڈ!“

اسے ایک اور دھچکا لگا…. عالم اضطراب میں وہ پھنکارنے لگی….

”اب کیا ہو گا؟“

وہ پوچھنے لگی….

”عاشرزمان نے کچھ ٹیمز بنائی ہیں…. ان دونوں کو ڈھونڈنے کے لیے…. تمہیں بھی بلایا ہے….“

”ہاں ضرور!…. میں اپنے بوٹ پہن کر آتی ہوں….“

”تمہیں اپنا بیگ بھی لینا ہو گا….“

وہ جاتے جاتے پلٹی….

”بیگ کیوں؟“

”پورا دن لگ سکتا ہے…. یہ Island بہت بڑا ہے۔ عاشرزمان نے 5 ٹیمز بنائی ہیں ان دونوں لڑکیوں کو ڈھونڈنے کے لیے…. ہم لوگ بیرونی امداد حاصل نہیں کر سکتے…. شو کی ابھی پہلی ہی قسط آن ایئر گئی ہے…. اور اگر کسی کو کان و کان خبر ہو گئی…. تو مشکل ہو جائے گی…. آئی ہوپ یو انڈرسٹینڈ!“

وہ سراسیمہ حیران کھڑی مس فاطمہ کی جانب دیکھنے لگی….

”پورا دن؟ …. او کے…. میں آتی ہوں….“

کچھ سوچتے ہوئے اثبات میں سر ہلاتی وہ پلٹ گئی…. مس فاطمہ جا چکی تھیں…. جلدی سے بلیوجینز، وائٹ شرٹ، بلیک لانگ شرگ اور بلیک لانگ بوٹ پہنتی،بالوںکو پونی ٹیل میں قید کرتی، بیگ اٹھاتی وہ سیڑھیاں پھلانگتی چوب محل سے باہر نکل آئی…. عاشرزمان ازحد پریشانی کے عالم میں الحان سے محو گفتگو تھا…. مانہ نے اردگرد نگاہ دوڑائی…. عاشر اور الحان کے سوا اسے دور دور تک اور کوئی دکھائی نہ دیا…. نڈھال قدموں سے چلتی وہ ان دونوں کے قریب چلی آئی….

”مانہ! اتنی دیر لگا دی تم نے…. معاملے کی نزاکت کا اندازہ بھی ہے تم کو؟“

مانہ پر نظر پڑتے ہی عاشر ایک دم بھڑک اٹھا تھا….

”آئی ایم سوری!…. مس فاطمہ نے بولا کہ پورا دن لگ سکتا ہے…. انہوں نے بیگ تیار کرنے کو بھی بولا…. اسی لیے….“

عاشر کے رویے پر وہ سہم سی گئی….

”آئی ایم سوری مانہ!…. ایکچوئلی ان دونوں لڑکیوں نے میرا دماغ خراب کر کے رکھ دیا ہے….“

عاشر اب کے ناد م دکھائی دے رہا تھا….

”اٹس او کے!…. باقی سب لوگ کہاں ہیں؟“

وہ اردگرد نگاہ دوڑانے لگی تھی….

”چار ٹیمز آل ریڈی روانہ ہو چکی ہیں…. اور مس فاطمہ باقی کی تمام لڑکیوں کے ساتھ اندر ہیں…. وہ لڑکیاں تب تک باہر نہیں نکل سکتیں جب تک مسکان اور جینی مل نہیں جاتیں…. پانچویں ٹیم میں تم اور الحان ہو….“

”کیا؟“

عاشر کی اطلاع پر وہ بے یقینی کے عالم میں عاشر اور پھر سامنے خاموش کھڑے الحان کی جانب دیکھنے لگی….

”اگر تمہیں میرے ساتھ چل کر اپنی فرینڈ کو ڈھونڈنے میں کوئی مسئلہ ہے تو اٹس او کے…. تم نہیں چلو میرے ساتھ…. میں اکیلا چلا جاتا ہوں…. اس Island کے چپے چپے سے واقف ہوں…. مجھے اکیلے جانے میں کوئی دقت نہیں….“

الحان سپاٹ لہجے میں گویا ہوا تھا…. مانہ اک لمحے کو سوچ میں پڑ گئی….

”مانہ! ہمارے پاس زیادہ ٹائم نہیں ہے…. تم کو ہیلپ کرنی ہے تو بولو…. نہیں تو واپس اپنے کمرے میں چلی جاﺅ….“

عاشر کا دو ٹوک انداز اسے فیصلہ کرنے پر مجبور کر گیا….

”اوکے!…. میں ساتھ چلتی ہوں….“

مسکان وہ لڑکی تھی جس نے تمام لڑکیوں کی چبھتی نگاہوں کے باوجود اس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا…. اور اب اس کی مشکل گھڑی میں وہ اس کا ساتھ کیسے چھوڑ سکتی تھی…. وہ سخی تھی…. دوستی پر جان نچھاور کر دینے والی…. جلدی سے فیصلہ کرتی وہ الحان کی جانب دیکھنے لگی….

”اوکے!…. لیٹس گو!“

گھمنڈی انداز میں بولتا وہ اپنے کہربائیت انداز سے چلتا جنگل کی جانب چل نکلا…. مانہ بھی لب بھینچتی جلدی سے اس کے تعاقب میں چل نکلی تھی….

ض……..ض……..ض

وہ دونوں چوب محل کو بہت پیچھے چھوڑ آئے تھے…. ان کے چاروں طرف اونچے اونچے درخت تھے…. وہ دونوں اپنے اپنے بیگز شولڈر پر ٹانگے جنگل کے سینے کو چیرتے آگے ہی آگے بڑھتے چلے جا رہے تھے…. مانہ مسلسل الحان کے تعاقب میں تھی…. کچے مٹیالے انجانے راستے پر قدم دھرتی وہ بار بارمڑ مڑ کر پچھلے راستے کی جانب نظریں دوڑاتی…. الحان خاموشی سے چپ چپ اپنے قدم آگے کی جانب دھرتا چلا جا رہا تھا…. بادل اُمڈ اُمڈ کر آنے لگے…. راستے پر سائے بڑھنے لگے…. ہوا میں خنکی آنے لگی…. مانہ نے ایک دم جھرجھری لی…. درختوں کی بلندیوں اور گہرے کالے بادلوں پر نظر دوڑاتی وہ نڈھال قدموں سے چلتی لمبے لمبے سانس لیتی ایک درخت کے قریب جاتے ہی درخت کا سہارا لیتی سوالیہ نگاہوں سے الحان کی پیٹھ کی جانب دیکھنے لگی…. اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا چلتے چلتے سانسوں کی الجھن بھی بڑھ چکی تھی…. وہ خشک ہوتے لبوں کو زبان سے تر کرتی تکان بھرے لہجے میں بولی….

”کیا ہم تھوڑی دیر ریسٹ کر سکتے ہیں؟“

آگے کی جانب بڑھتے قدم ایک دم سے رُکے…. وہ پلٹا اور لمبا سانس کھینچتا نڈھال قدموں سے چلتا اس کے قریب آن کھڑا ہوا…. نظریں اردگرد کے راستوں پر دوڑنے لگی تھیں…. مانہ دھپ سے زمین پر بیٹھ گئی…. ہاتھ میں پکڑی پانی کی بوتل منہ سے لگاتی وہ غٹاغٹ آدھی بوتل خالی کر گئی….

”سنا ہے…. دو سال پہلے…. اس جنگل میں ایک خوبصورت لڑکی کی لاش ملی تھی….“

الحان گہری سنجیدگی سے گویا ہوا تھا…. غٹاغٹ پانی نگلتی مانہ ایک دم سے کھانسنے لگی تھی…. الحان اپنی شریر مسکراہٹ چھپائے مسلسل اردگرد کے راستوں پر نظریں دوڑا رہا تھا….

”آپ مجھے ڈرانے کی کوشش کر رہے ہیں؟“

اپنی کھانسی پر کنٹرول پاتی وہ ازحد غصے سے پھنکاری….

”ہرگز نہیں…. مجھے تو بس مسکان اور جینی کی فکر ہو رہی ہے….“

وہ برجستہ بولا….

مانہ اسے گھورتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی….

”کیا ہوا؟“

”یہاں بیٹھ کر ٹائم بربادکرنے کی ضرورت نہیں…. مجھے بھی ان دونوں کی فکر ہے….“

وہ ترش مزاجی سے گویا ہوئی….

”تمہی نے بولاتھا، تھوڑا ریسٹ کرنے کو…. صرف ایک ہی گھنٹے کے واک پر پرانی پاکستانی فلموں کی ہیروئنز کی طرح لمبے لمبے سانس لے رہی تھیں تم…. ورنہ اتنی سی واک سے میں ہرگز نہیں تھکتا….“

وہ اپنے اندازمیں گویا ہوا، جواباً مانہ کھاجانے والی نگاہوں سے اس کی جانب گھورنے لگی….

"What?”

الحان تیوری چڑھائے سوالیہ نگاہوں سے اس کے تپتے چہرے کی جانب دیکھنے لگا تھا…. مانہ دانت پیستی، پیرپٹختی جلدی سے آگے بڑھتے راستے کی جانب بڑھ گئی….

”Don’t stray مانو! تم بھی کھو گئیں تو بہت مشکل ہو جائے گی یار!“

الحان بھی تیزی سے اس کی جانب لپکا تھا….

مزید ایک گھنٹہ گزر چکا تھا…. الحان نے ہاتھ میں پکڑے میپ پر نظر دوڑائی…. مانہ بھی آسمان کی جانب نظر دوڑانے لگی تھی….

وہ اچھی خاصی مضطرب دکھائی دینے لگی…. چہرے پر ناچتا خوف بھی واضح طور پر عیاں ہونے لگا….

”تمہیں ڈر لگ رہا ہے؟“

الحان اس کے خوبصورت چہرے کا طواف کرنے لگا تھا….

”نہیں…. شاید ہاں…. مجھے ان دونوں کی بہت فکر ہو رہی ہے…. نجانے وہ کہاں چلی گئیں….“

”ہوں!….“

”وہ دونوں اس جنگل میں اتنا دور کیسے آ سکتی ہیں؟…. ہو سکتا ہے کہ…. وہ دونوں…. ساحل سمندر پر گئی ہوں…. اور خدانخواستہ سمندر میں….“

وہ کچھ سوچتے ہوئے اپنی ہی سوچ پر جھرجھری لینے لگی….

”ایسا ممکن ہی نہیں…. چوب محل پر اردگرد سمندر کے راستے کی جانب کیمرے فکس ہیں…. ہم نے ساری فوٹیج دیکھی تھی مگر وہ دونوں سمندر کی جانب نہیں گئیں…. یقینا جنگل کی جانب ہی گئی ہیں….“

وہ اپنی سوچوں پر منتشر ایک بار پھر سے پلٹ کر الحان کے ساتھ ساتھ ان دونوں کو ڈھونڈنے کی غرض سے آگے کی جانب بڑھنے لگی تھی

ض……..ض……..ض

الحان، مسکان اور جینی کے لیے پریشان ضرور تھا لیکن وہ اس بات پر خوش بھی تھا کہ ان دونوں کی وجہ سے مانہ بنا کسی جھگڑے کے خاموشی سے اس کے ساتھ قدم سے قدم ملاتی انجانے راستوں کی جانب صرف اسی کے بھروسے آگے کی جانب بڑھتی چلی جا رہی تھی…. وہ جو اسے پانچ منٹ دینے کی روادارنہ تھی…. پچھلے کئی گھنٹوں سے اکیلی اس کے ساتھ تھی…. الحان کو نجانے کیوں اس کی موجودگی کا احساس اس قدر بھانے لگا تھا کہ پریشانی کے عالم میں بھی اس کے دل میں پھوٹتے لڈو واضح طور پر محسوس ہونے لگے تھے…. وہ ہرگز نہیں سوچتا تھا کہ یہ فیلنگز کیا ہیں، کیوں ہیں، کس لیے ہیں…. اسے اچھی طرح سے معلوم تھا کہ وہ اس شو میں ایک شرط کے تحت آیا ہے…. اور اسے اپنی لگائی گئی شرط پر ازحد یقین تھا…. وہ اپنی بات سے پھر جانے والا انسان ہرگز نہ تھا…. پھر یہ سب کیا تھا…. شاید وقتی رجحان تھا…. جہاں تمام خوبصورت لڑکیاںاس پر مر مٹنے کو تیار تھیں، وہاں مانہ جیسی عام سی لڑکی اسے گھاس تک نہ ڈال رہی تھی…. شاید اس کی توجہ حاصل کرنے کی خاطر اسے یہ سب کرنا اچھا لگ رہا تھا…. وہ جانتا تھا کہ مانہ کے ساتھ اس کا ریلیشن کیسابھی موڑ اختیار کر لے…. بہرحال شو کے اختتام پر سب کچھ ختم ہو جانے والا تھا…. اسے اپنی ذات پریقین تھا…. پیار نام کی چیز کی عدم موجودگی پر بھی یقین تھا…. اسے بس اس شو میں بیتائے گئے ہر پل کو اچھی طرح سے بیتانا تھا…. اور پھر شو کے اختتام پر پیار نام کی چیز کو دھتکارتے ہوئے اسے اکیلے ہی گھر واپس جانا تھا…. اپنے دوست کبیر کو ثابت کر کے دکھانا تھا کہ دیکھوپیار ٹائم پاس کے سوا کچھ بھی نہیں….

اسے معلوم تھا کہ مانہ کے لیے وہ جو کچھ محسوس کرتا ہے…. وہ پیار ہرگز نہیں…. جب پیار پر یقین ہی نہ تھا تو پھر پیار کیسا…. وہ بس اتنا جانتا تھا کہ جوکچھ بھی وہ محسوس کر رہا ہے…. پہلی بار ہے…. اور بہت خوبصورت ہے…. وہ بس ان لمحات کو جی بھر کر جینا چاہتا تھا…. مانہ کی توجہ حاصل کرنے کے لیے صرف اپنے دل کی سن رہا تھا…. گزشتہ زندگی میں کس قدر سیریس ریلیشنز رہے تھے…. مگر کبھی بھی اس نے ایسے لمحات ہرگز نہ جیے تھے…. کبھی ایسا محسوس تک نہ کیا تھا،جیسا وہ مانہ کی موجودگی کے احساس کے ساتھ محسوس کرنے لگا تھا…. اس کا مسکرانا، اس کا گھورنا سب کچھ اچھا لگتا تھا…. اس کے دل میں مانہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے فزیکل ریلیشن کی چاہ ہرگز نہ تھی…. البتہ اس کے ساتھ کی چاہ اس کی موجودگی کی چاہ ضرور تھی…. وہ چلتے چلتے مانہ کی جانب دیکھتا اپنے ذہن میں اُبھرتی سوچوں کو جھٹکنے لگا تھا….

”کیا سوچے چلا جا رہا ہوں میں…. مجھے صرف اس کی موجودگی پسند ہے اور کچھ نہیں…. نہیں…. یہ پیارنہیں ہو سکتا…. وقتی دلچسپی ہے، آئی نو دیٹ!“

دل ہی دل میں ہمکلام ہوتا وہ آگے کی جانب بڑھ رہا تھا….

”اوکے!…. بھاڑ میں جائے شرط، بھاڑ میں جائے پیار، بھاڑ میںجائے یہ شو…. مجھے بھی اس بیوقوف، بھدے چشمے والی اَناپرست لڑکی کا ساتھ چاہیے بس…. ان خوبصورت فیلنگز کو ہمیشہ محسوس کرنا چاہتا ہوں…. بہت پُرسکون لمحات ہیں یہ…. "I love these feelings”

لمبی سانس کھینچتا وہ پُرسکون انداز میں خوبصورت مسکراہٹ لبوں پر سجائے آسمان پر اُمڈ اُمڈ آتے کالے بادلوں کی جانب دیکھنے لگاتھا….

ض……..ض……..ض

”اندھیرا چھانے لگا ہے…. مجھے لگتا ہے ہمیں واپس جانا چاہیے…. ہو سکتا ہے وہ واپس آ گئی ہوں یا دوسری کسی ٹیم کو مل گئی ہوں….“

بڑھتے اندھیرے سے پریشان ہوتی وہ قدم روکتی الحان کی جانب دیکھنے لگی….

”اگر وہ واپس آ چکی ہوتیں یا کسی بھی ٹیم کو مل چکی ہوتیں تو عاشر اس ریڈیو کے ذریعے مجھے اطلاع ضرور دے دیتا….“

الحان نے اپنی جینز کی پاکٹ پر لگے ریڈیو کی جانب اشارہ کیا….مانہ کے چہرے پر تکان واضح طور پر عیاں تھی…. وہ خود بھی چلتے چلتے تھک چکا تھا…. پورا دن گزر چکا تھا ان دونوں کو چلتے چلتے…. اورپھر بھوک کی شدت بھی ستانے لگی تھی….

”ہم لوگ یہیں پر اپنا کیمپ سیٹ اَپ کرلیتے ہیں…. تمہارا کیا خیال ہے….“

وہ پوچھنے لگا….

”عاشرزمان نے ابھی تک اطلاع کیوں نہیں دی؟“

وہ بدستور پریشان کھڑی الحان کی جینز کی پاکٹ پر لگے ریڈیو کی جانب دیکھتے ہوئے بولی….

”وہ مل چکی ہوتیں تو اطلاع یقینی طور پر آ جانی تھی مانو!…. اطلاع نہیں آئی، مطلب وہ دونوں ابھی تک لاپتہ ہیں….“

”اوکے!…. کیمپ یہیں پر سیٹ اَپ کر لیں…. مجھ میں مزید چلنے کی گنجائش ہرگز نہیں….“

وہ رونے کو آئی تھی…. الحان اپنی مچلتی شریر مسکراہٹ چھپاتا کیمپ سیٹ اَپ کرنے میں مصروف ہو گیا تھا….

کیمپ سیٹ کرنے کے دوران مانہ بھی اس کی مدد کرنے لگی تھی….

”میں کچھ لکڑیاں اکٹھی کر کے لاتا ہوں…. رات ہونے سے پہلے ہمیں روشنی کرنا ضروری ہے….‘

کیمپ سیٹ اَپ کرتے ہی وہ متانت سے گویا ہوا…. مانہ اثبات میں سر ہلاتی آسمان کی جانب دیکھنے لگی…. الحان آگے بڑھ گیا…. کچھ دور جاتے ہی وہ یکایک لڑکھڑاتا پٹاخ سے زمین کا حال پوچھ بیٹھا….

الحان کی چیخ سنتے ہی مانہ سٹپٹاتی ہوئی تیزی سے اس کی جانب لپکی…. شاید اس کی نظر نہ پڑی تھی اُتار پر، تبھی وہ بیدردی سے زمین کا حال پوچھ بیٹھا تھا….

”آر یو اوکے؟‘

کس قدر پریشانی تھی اس کی آوازمیں…. الحان اگلے ہی لمحے سیدھا ہو بیٹھا…. اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ ہلکی سی خراش کے سوا اسے کسی قسم کی کوئی گہری چوٹ نہیں آئی ہے…. مگر وہ موقع سے فائدہ اٹھانا بھی اچھی طرح سے جانتا تھا….

”میری ٹانگ میں بہت شدید تکلیف ہو رہی ہے….“

وہ بڑی مہارت سے درد سہنے کی ایکٹنگ کرنے لگا تھا….

”کیا ہوا؟…. مجھے دکھائیں….“

وہ تیزی سے پھلانگتی اس کے قریب چلی آئی….

”آ آ آ….“

وہ ایک دم چلّا اٹھا…. خوف اور گھبراہٹ کے عالم میں مانہ کی حالت غیر ہونے لگی….

”کیا ہوا؟“

وہ پھر سے رونے کو آئی تھی….

”میرے شولڈر میں بے حد تکلیف ہے….“

اس نے جلدی سے ایک اور جھوٹ گاڑھ دیا….

”آپ کھڑے ہو سکتے ہیں؟“

”خود سے کھڑا نہیں ہو سکتا….“

وہ کراہنے لگا….

”میں ہیلپ کرتی ہوں….“

وہ تیزی سی جھکتی اپنی بانہوں کے سہارے اسے کھڑا ہونے میں ہیلپ کرنے لگی…. الحان اپنی شریر مسکراہٹ چھپاتا کراہتا چلا گیا….

مانہ کی مکمل توجہ حاصل کرنے کے لیے کیا احمقانہ چال چلی تھی اس نے،مگر اس کی یہ چال یقینا کام کرتی دکھائی دی تھی….

”میں عاشرزمان سے ہیلپ کے لیے بولتی ہوں….“

”نہیں نہیں نہیں….“

وہ برجستہ بولا….

”میں ٹھیک ہو جاﺅں گا…. میرے بیگ میں بینڈیج موجود ہے…. ان لوگوں کو پریشان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں….“

کیمپ کے نزدیک پہنچتے ہی اسے سہارا دئیے زمین پر بٹھاتی وہ جلدی سے اس کے بیگ کی جانب لپکی….

”لکڑیاں میں لے آﺅں گی، آپ یہاں آرام سے بیٹھیں….“

بیگ اس کے نزدیک پھینکتی وہ متانت سے گویا ہوئی….

”میں پہلے لکڑیاں لے آتی ہوں…. اس سے پہلے کہ مکمل طور پر اندھیرا ہو جائے…. آگ جلانی بہت ضروری ہے…. پھر میں آپ کے زخم کو دیکھوں گی….“

متانت سے بولتی وہ سہج سہج کر قدم بڑھاتی لکڑیاں جمع کرنے کی غرض سے تھوڑی دور چلی گئی…. الحان سر جھکائے شریر مسکراٹ لبوں پر سجائے من ہی من میں خود کی ایکٹنگ پر داد دینے لگا تھا…. کچھ ہی دیر بعد مانہ چند لکڑیاں سینے سے لگائے اسے واپس اپنی جانب بڑھتی دکھائی دی تھی…. وہ ایک بار پھر سے چوکنا ہو بیٹھا تھا…. کیمپ کے کچھ ہی فاصلے پر لکڑیاں رکھتی وہ ایک بار پھر سے الحان کے کراہنے پر ہڑبڑا اُٹھی…. لکڑیاں پھینکتی وہ تیزی سے درد میں کراہتے الحان کی جانب بڑھی….

”تکلیف زیادہ ہے؟“

درد سے کراہتا وہ اثبات میں سر ہلانے لگا…. مانہ جلدی سے بیگ ٹٹولتی بینڈیج باہر نکالنے لگی…. الحان بڑے مزے سے اس کی پریشانی انجوائے کر رہا تھا…. وہ پوری لگن سے اس کے خراشیدہ سرخ ہوتے گھٹنے پر بینڈیج کرنے لگی تھی…. الحان اسے بتانا چاہتا تھا کہ وہ مکمل طور پر ٹھیک ہے…. لیکن مانہ کی اس کے لیے پریشانی اور مکمل توجہ، اسے سچ بتا دینے سے قطعی طور پر باز رکھ رہی تھی…. الحان کی ہتھیلی اور چہرے کی دائیں جانب بھی ہلکی سی خراشیں نظر آ رہی تھیں…. اپنی نرم و نازک انگلیوں کے پوروں سے سڑن روک دینے والی کریم اس کی ہتھیلی اور چہرے پر لگاتی وہ خاصی پریشان دکھائی دے رہی تھی…. الحان ٹکٹکی باندھے مسحورکن انداز میں تپش بھری نگاہوںسے اس کے خوبصورت معصوم چہرے کا طواف کرنے لگا تھا…. اس کے چہرے کو چھوتیں مانہ کی نرم و نازک انگلیاں الحان کی سانسوں کی اُلجھن بڑھائے چلی جا رہی تھیں….بے حد قریب سے اس کے چہرے کا دیدار کرتا وہ من ہی من میں ہمکلام ہوا تھا….

”اگر اسے معلوم پڑ جائے کہ میں مکمل طور پر ٹھیک ہوں اور درد کی ایکٹنگ کر رہا ہوں…. تو انہیں خوبصورت ہاتھوں سے میرا قتل کر ڈالے گی….“

”شولڈر کی تکلیف کیسی ہے؟“

اس کی آواز سماعت سے ٹکراتے ہی وہ یکایک چونک اٹھا تھا….

”پہلے سے بہتر ہے….“

وہ خوامخواہ مسکرانے لگا تھا…. مانہ اثبات میں سر ہلاتی اٹھ کھڑی ہوئی….

”میں آگ جلانے کی کوشش کرتی ہوں….“

”آگ میں جلاتا ہوں…. تم سے نہیں ہو گا مانو!“

مانہ کو خود سے دور جاتے دیکھ کر وہ لپک کر اٹھ کھڑا ہوا…. الحان کی اس قدر پھرتی پر وہ ہکا بکا کھڑی اس کی زخمی ٹانگ کی جانب دیکھنے لگی….

”شِٹ!“

اپنی ہی بیوقوفی پر وہ سر جھکائے خود کو ملامت کرنے لگا….

”پپ…. پہلے سے بہتر فیل کر رہا ہوں….“

وہ ہکابکاکھڑی مانہ کی جانب چور نگاہوں سے دیکھتا تامل کرنے لگا…. مصنفہ ہونے کے ناطے مانہ کو آنکھوں میں چھپے اور چہرے پر لکھے جھوٹ پڑھ لینے کی صلاحیت حاصل تھی….

”آپ نے مجھ سے جھوٹ بولا؟“

وہ غصہ میں پھنکارنے لگی…. الحان ایک لمحہ کے لیے خاموش رہا، پھر ہچکچاتے ہوئے اپنی غلطی تسلیم کرنے لگا….

”اوکے!…. آئی ایم سوری!….“

اسے اندازہ نہ تھا کہ وہ اتنی جلدی باآسانی اپنی غلطی تسلیم کر لے گا…. الحان کی ڈھٹائی پر وہ ازحد آتش پا دکھائی دینے لگی….

”تم سے زیادہ گھٹیا، دغاباز، مکار اور کمینہ انسان میں نے زندگی میں کبھی نہیں دیکھا….“

وہ غصہ میں پھنکارتی یکایک آپ سے تم پر اُتر آئی تھی…. الحان کو معاملے کی نزاکت کا بڑی اچھی طرح سے انداز ہ ہو چکا تھا، تبھی وہ لجاجت بھرے انداز میں اس کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے بولا….

”آئی ایم سوری مانو! میرا یہ سب کرنے کا ہرگز ارادہ نہ تھا، مگر…. اچانک….“

”دور رہو مجھ سے…. کہا تھا ناں تم سے کہ میرے ساتھ کوئی بھی گیم کھیلنے کی کوشش ہرگزمت کرنا….“

”مانو!“

”شٹ اَپ…. تم ایک نہایت ہی مکار اور کمینے انسان ہو….“

غصہ میں پھنکارتی وہ ہاتھ میں پکڑی ٹہنی دور پھینکتی واپس جاتے راستے کی جانب دوڑنے لگی….

”مانو! میری بات تو سنو!“

”تم نے مجھے اس چیز کے لیے پریشان کیا…. جو وجود میں ہی نہیں تھی….“

غصہ میں پھنکارتی وہ آبدیدہ نگاہوں سے اس کی جانب دیکھتے ہوئے بولی….

”تم پریشان تھیں میرے لیے؟“

”افکورس آئی واز….“

وہ ایک دم چلّا اٹھی….

”نیکسٹ ٹائم…. میں تمہاری کسی بھی بات کا یقین کر لوں گی…. اس سوچ کو اپنے گھٹیا ذہن میں لانے کی کوشش بھی ہرگز مت کرنا۔“

وہ واپس کیمپ کی جانب پلٹی…. اپنا بیگ اٹھاتی ایک بار پھر سے واپسی جاتے راستے کی جانب بڑھنے لگی….

”کہاں جا رہی ہو تم مانو! کم آن یار!…. میں سیریسلی تمہیں سب کچھ سچ سچ بتا دیا چاہتا تھا…. مگر مجھے تمہارے اسی ری ایکشن کا ڈر تھا…. جو تم اس وقت کر رہی ہو….“

”اوہ رئیلی؟…. بہت اچھی ایکٹنگ کر لیتے ہو تم…. اس شو میں بھی یہی کرنے آئے ہو ناں؟…. ویری گڈ…. تمہیں کیا لگتا ہے…. میرے ساتھ بہت آسانی سے گیم کر سکتے ہو؟…. ا یک بات کان کھول کر سن لو…. تم اگر ڈال ڈال ہو تو میںپات پات ہوں…. یاد رکھنا….“

وہ ازحد برہم لہجے میں بولی….

”ڈال ڈال، پات پات….میں سمجھا نہیں؟“

وہ ناسمجھی کے عالم میں بولا…. جواباً مانہ اسے گھورتی ایک بار پھر سے واپسی کی جانب دوڑنے لگی….

”مانو! کم آن…. تم اس وقت غصہ میں ہو…. میں سمجھ سکتا ہوں…. پلیز آئی ایم سوری…. ایسا آئندہ کبھی نہیں ہو گا…. پکا پرامس…. پلیز واپس چلو…. ہم آرام سے بیٹھ کر اس بارے میں بات کر سکتے ہیں….“

مانہ کے پیچھے دوڑتے ہوئے وہ لجاجت بھرے انداز میں بولا….

”ڈونٹ ٹچ می!“

اپنے بازو پکڑے جانے پر وہ ایک بار پھر سے چلاّ اٹھی….

”تمہیں معلوم ہے…. مجھے زندگی میں سب سے زیادہ نفرت کس چیز سے ہے؟…. جھوٹ سے…. اور تم…. بہت بڑے جھوٹے انسان ہو….“

جھٹکے سے اپنے بازو چھڑاتی وہ تیزی سے جنگل کا سینہ چیرتی انجانے راستے کی جانب بڑھتی چلی گئی…. الحان قدم بہ قدم اس کے تعاقب میں تھا…. کچھ دور جانے کے بعد وہ ایک بار پھر سے لجاجت بھرے انداز میں بولا….

”آئی ایم سوری…. پلیز واپس چلو….“

پریشانی کے عالم میں وہ پلٹا اورششدر رہ گیا….

”ہم کہاں پر ہیں؟“

”مجھے نہیں معلوم…. اور نہ ہی مجھے اس کی کوئی پرواہ ہے…. چلے جاﺅں یہاں سے…. اکیلا چھوڑ دو مجھے….“

”مانو! مجھے نہیں لگتا کہ میں اس جگہ کو اچھی طرح سے جانتا ہوں….“

وہ گردانتے ہوئے جنگل کے چاروں طرف نظر دوڑاتا گہری سنجیدگی سے گویا ہوا….

”کیا؟….“

وہ یکایک سٹپٹا اٹھی…. آگے کی جانب بڑھتے قدم ایک دم سے تھم سے گئے….

”تم نے تو کہا تھا کہ تم اس جنگل کے چپے چپے سے واقف ہو؟“

مانہ کے دل کی دھڑکنیں زوروں سے دھڑکتی محسوس ہوئی تھیں….

”وہ تو میں ایسے ہی بڑھا چڑھا کر کہہ رہا تھا….“

وہ ہنوز گردانتا پریشانی کے عالم میں گویا ہوا….

”الحان! اگر یہ تمہاری کوئی نئی چال ہے…. تو بہت ہی گھٹیا چال ہے…. مجھے تمہاری یہ گندی حرکتیں ہرگز پسند نہیں….“

مکمل چھائے اندھیرے میں وہ خوف بھری متلاشی نگاہیں اردگرد دوڑاتی اپنے کیمپ کو ڈھونڈنے لگی تھی….

”مانو! مجھے میری ماں کی قسم…. میں اس وقت کوئی چال نہیں چل رہا….“

وہ گہری سنجیدگی سے بولا…. اس کی آنکھوںسے ٹپکتی سچائی واضح طور پر محسوس کی جا سکتی تھی…. تبھی وہ نظروں کا زاویہ بدلتے ہوئے بولی….

”یہ سب تمہاری غلطی ہے….“

”میری غلطی کیسے؟“

وہ سوالیہ نگاہوں سے اس کے آتش پا چہرے کی جانب دیکھنے لگا…. پھر اگلے ہی پل وہ تحمل بھرے انداز میں گویا ہوا….

”اوکے، اوکے!…. یہ میری ہی غلطی ہے….“

اس نے اپنے ہاتھ کھڑے کر دئیے….

”تمہارے پاس میپ ہے؟“

وہ پوچھنے لگا….

”کیا؟…. آر یو کڈنگ می؟“

وہ پھر سے بھڑک اٹھی….

”ریڈیو؟“

”ریڈیو اورمیپ دونوں چیزیں تمہارے پاس تھیں….“

”اور وہ دونوں چیزیں میرے بیگ میں تھیں…. اور میرا بیگ اس وقت کیمپ میں رکھا ہے….“

”تو؟“

خوف بھری نگاہیں اس پر مرکوز کرتی وہ رونے کو آئی تھی….

”تو یہ کہ…. کیا تم چلّا سکتی ہو؟“

”کیا؟“

”ہمارے پاس اور کوئی آپشن نہیں….“

وہ اردگرد نگاہ دوڑاتے ہوئے بولا….

”ہم دونوں کھو چکے ہیں….“

”ہم اتنی دور تو نہیں آئے….“

وہ الحان کی بات پر یقین ہرگز نہ کرنا چاہتی تھی….

”ہم اسی راستے واپس جاتے ہیں…. جہاں سے ہم آئے ہیں…. اینڈ ڈونٹ ٹچ می!“

سہمے ہوئے انداز میں بولتی وہ ایک دم چلّا اٹھی…. الحان نے ایک بار پھر سے اس کے بازو پکڑ کر اسے روکنے کی کوشش کی تھی….

”مانو! اندھیرا بہت بڑھ چکا ہے…. تمہیں کیا لگتا ہے کہ ہم اس گھنے جنگل میں کس جانب سے چل کر یہاں آئے ہیں؟“

وہ تحمل سے پوچھنے لگا….

”ہم رائٹ سائیڈ سے آئے تھے….“

”آر یو شیور؟“

”شاید!“

”اس گہرے اندھیرے میں کیمپ تک کا راستہ کیسے ڈھونڈو گی؟…. ہم اگر آگ جلا چکے ہوتے…. تب بھی باآسانی کیمپ تک پہنچ سکتے تھے….“

مانہ کے تعاقب میں چلتا وہ مسلسل بولے چلا جا رہا تھا….

”میرا پیچھا مت کرو الحان!….“

وہ نفرت سے پھنکاری….

”میں تمہیں اس گھنے جنگل میں اکیلا ہرگز نہیں چھوڑ سکتا….“

الحان ایک ننھے معصوم بچے کی طرح اس کے چہرے کی جانب دیکھتے ہوئے بولا….

”مجھے تمہارے ساتھ کی قطعاً ضرورت نہیں….“

وہ اپنے کہے گئے ہر ہر لفظ پر ذور دیتے ہوئے بولی….

”لیکن ہم کھو چکے ہیں…. اور رات بھی بہت گہری ہے…. مجھے لگتا ہے کہ ہمیں سورج نکلنے تک یہیں پر بیٹھ کر انتظار کر لیا چاہیے…. آئی ایم شیور…. صبح ہوتے ہی ہم لوگ کیمپ تک باآسانی پہنچ جائیں گے….“

”میں ابھی…. اور اسی وقت کیمپ واپس جاﺅں گی….“

ٹھوس اندازمیں بولتی وہ آگے کی جانب بڑھنے لگی….

”مانو! اٹس امپوسِبل!“

وہ دونوں ہاتھوں کی انگلیاں اپنے بالوں میں پھنساتا تکان بھرے لہجے میں بولا تھا….

”میرے پاس ایک آئیڈیا ہے….“

مانہ پلٹی اور چٹکی بجاتے ہی بولی….

”کیسا آئیڈیا؟“

”ہم اسی راستے سیدھے واپس جائیں گے…. مجھے یقین ہے کہ ہم اسی راستے سے چل کر یہاں تک آئے تھے…. کیمپ تک پہنچتے ہی ہم میپ کی مدد کے ذریعہ ابھی اسی وقت واپس Island جائیں گے…. اور پھر میں اپنے روم میں جا کر اپنا سارا سامان پیک کروں گی…. اور اسی وقت اس تھرڈ کلاس شو کولات مار کر واپس اپنے گھر چلی جاﺅں گی۔“

”تم واپس نہیں جا سکتیں…. ڈونٹ فورگیٹ کہ تم نے عاشرزمان کے ساتھ ایک کانٹریٹ سائن کیا ہے….“

”مجھے اس کانٹریکٹ کی رتی بھر پرواہ نہیں اب…. جاب جائے بھاڑ میں….“

”مانو! تم اس وقت غصہ میں ہو…. اور تمہیں معلوم ہے کہ غصہ کے وقت کوئی بھی فیصلہ کر لینا نہایت احمقانہ عمل کی ضمانت ہے….“

وہ مایوسی سے گویا ہوا….

”تمہیں میرے لیے اس قدر پریشان ہونے کی ضرورت ہرگز نہی…. میری جاب ہے…. میں چاہے ایکسیپٹ کروں چاہے لات مار دوں…. میری مرضی….“

تیز تیز قدم اٹھاتی وہ انجا راستے کی جانب بڑھتی چلی جا رہی تھی…. الحان مسلسل اس کے تعاقب میں تھا….

”اوکے فائن!…. ہم ایک ڈیل کرتے ہیں….“

”مجھے تمہاری کسی ڈیل میں کوئی انٹرسٹ نہیں….“

”میں ممکنہ طور پر تمہیں تمہارے گھر واپس جانے کا موقع فراہم کر سکتا ہوں….“

”اگر ہم اس جنگل سے زندہ واپس لوٹ بھی گئے تب بھی مجھے تمہاری کسی ڈیل کی کوئی ضرورت نہیں….“

”آئی پرامس مانو!“

”دیکھوالحان! مجھے اس وقت تم سے کسی بھی ٹاپک پر بات کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں…. مجھے کیمپ واپس پہنچنا ہے، بس!“

”لیکن تم اپنے گھر واپس چلی جاﺅ گی؟“

”ہاں….“

”مانو!…. یہ کانٹریکٹ کی خلاف ورزی ہے…. تمہیں اس کے لیے بھاری اماﺅنٹ پے کرنا پڑ سکتی ہے….“

”جانتی ہوں….“

وہ تحمل سے بولی….

”لیکن یہ تمہارے ساتھ اس Island پر رہنے سے لاکھ درجے بہتر آپشن ہے….“

”دیٹ ہرٹس…. تم یہ سب کہہ کر مجھے تکلیف دے رہی ہو!“

”گڈ!“

”مانو! مجھے واقعی ہرٹ ہو رہا ہے۔“

”اوہ پلیز…. یہ صرف تمہاری Ego ہے….“

”ہرگز نہیں….“

وہ ایک دم بھڑک اٹھا…. الحان اسے یقین دلاتے دلاتے تھک چکا تھا…. کہ وہ واقعی اپنی کی گئی حرکت پر شرمندہ ہے اور اسے یقینی طور پر پسند کرتا ہے….

”میری بات کا یقین کیوں نہیں کرتیں تم کہ میں واقعی تمہیں پسند کرتاہوں….اور تم جاننا چاہتی ہو کہ میں تمہیں پسند کیوں کرتا ہوں؟“

”نہیں….“

وہ سپاٹ لہجے میں بولتی آگے ہی آگے بڑھتی چلی گئی….

اس کے انکار کے باوجود الحان نے اپنی بات جاری رکھی….

”مجھے تم پسند ہو…. اس لیے کہ تم اس Island پر موجود ان تمام لڑکیوں سے بالکل مختلف ہو….تم بے حد خوبصورت ہو…. جتنی خوبصورت ہو اتنی ہی خوب سیرت بھی ہو تم بناوٹی نہیں…. دل کی صاف، بہت معصوم، پاکیزہ محبت کرنے والی اور…. اور مجھے یقین ہے کہ تم بھی مجھے پسند کرتی ہو!“

"What?”

”یس! آئی نو مانو! تم بھی مجھے پسند کرتی ہو!“

وہ ٹھوس لہجے میں بولا….

مانہ چلتے چلتے رُکی…. پلٹ کر براہ راست اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے قطعی لہجے میں بولی….

”میں تمہیں پسند ہرگزنہیں کرتی….“

”اور مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ تم یہ شو صرف اس لیے چھوڑ کر جانا چاہتی ہو…. کیونکہ تم اپنی فیلنگز سے ڈرتی ہو…. تم اس بات سے ڈرتی ہوکہ کہیں تمہاری میرے لیے پسندیدگی پیار میں نے بدل جائے….“

وہ پھر سے ایک چال چلنے لگا تھا…. اور اسے اس کی چال کام کرتی بھی دکھائی دے رہی تھی….

”اپنی اس معقول سوچ کو اپنے تک ہی محدود رکھو تو بہتر ہے…. میں یہ شو صرف اس لیے چھوڑ کر جا رہی ہوں کیونکہ مجھے تمہاری یہ گھٹیا گیمز، گھٹیا چالیں، یہ سارا ناٹک ہرگز پسند نہیں…. اور یہ سوکالڈ شو کبھی بھی میرے لیے اہم ہرگز نہیں رہا….“

”نو…. تم یہ شو صرف اس لیے چھوڑ کر جانا چاہتی ہو کیونکہ تم ڈرتی ہو کہ کبھی کسی کمزور لمحے میں تم مجھ سے پیار نہ کر بیٹھو…. تمہیں مجھ سے محبت نہ ہو جائے….“

وہ مسحورکن انداز میں بولتا اس کی آنکھوں میں جھانکنے لگا تھا….

”امپوسیبل!“

نظروں کا زاویہ بدلتی وہ برجستہ بولی….

”اوکے…. تو پھر ثابت کرو….“

”کیا ثابت کروں؟“

”یہی کہ تم ڈرتی نہیں کہ تمہیں مجھ سے محبت نہ ہو جائے….“

”ہرگز نہیں…. ایسا ممکن ہی نہیں کہ میں تم جیسے انسان سے محبت کرنے لگوں….“

”تو پھر رہو اس شو میںاور ثابت کرو….“

وہ چیلنج کرنے لگا….

”اگر تم ٹاپ تھری تک اپنے گھر واپس جانے پر بضد رہیں تو میں باآسانی تمہیں ایلیمنیٹ کر دوں گا…. مگر تمہیں ثابت کرنا ہو گا کہ میں چاہے کچھ بھی کروں، کوئی بھی گیم کھیلوں، کوئی بھی چال چلوں…. تم مجھ سے محبت نہیں کرو گی….“

الحان کی ڈھٹائی پر وہ تیش پا نگاہوں سے اسے گھورتی غصہ میں پھنکارنے لگی تھی…. الحان باریک بینی سے اس کے چہرے کے اُتار چڑھاﺅ بڑی خاموشی سے نوٹ کر رہا تھا….

”ٹاپ فائیو (5)….“

وہ قطعی لہجے میں بولی….

”ٹاپ فور (4)….“

وہ سودا کرنے لگا….

”ڈیل…. ٹاپ فور (4)…. اور تم مجھے میری جاب سمیت گھر واپس بھیجو گے….“

وہ سپاٹ لہجے میں بولی….

”ڈن…. ڈیل…. ٹاپ فور (4) اور میں یقینا تمہیں تمہاری جاب سمیت باعزت تمہارے گھر واپس روانہ کر دوں گا…. پرامس!“

اس کا دل خوشی کے عالم میں ناچتا اس کے وسیع سینے کی سیر کرنے لگا تھا…. خوشی کا ٹمٹماتا 440 واٹ کا بلب اس کے چہرے پر واضح طور پر دمکنے لگا…. ازحد شاداں وہ اپناہاتھ اٹھائے ڈیل کنفرم کرنے لگا تھا…. مانہ اس کے اٹھے ہاتھ کی جانب دیکھتی نفرت سے پھنکارتی ایک بارپھر سے جنگل کا سینہ چیرتی آگے کی جانب بڑھنے لگی تھی….

”اُف یہ محترمہ کس قدر برفیلی اور سخت طبیعت کی مالکہ ہے…. اس کے اردگرد پھیلی اس چٹان کے خول کو توڑنے کے لیے مجھے کچھ نہ کچھ تو سوچنا ہی پڑے گا….“

اس کے تعاقب میں چلتا، اسی کی جانب دیکھتا وہ من ہی من میں پلاننگ کرنے لگا تھا…. چہرے کے اُتار چڑھاﺅ اس کے دل و دماغ میں اُبھرتی سوچوں کا عکس واضح طور پر بیان کرتے دکھائی دئیے تھے….

”میرا بینڈیج والا پلان بھی اک پل میں چوپٹ کرکے رکھ دیا اس لڑکی نے…. خیر ! مسکان اور جینی مل جائیں ایک بار…. پھر واپس Island جاتے ہی اس پتھر کوموم کرنے کی ہر ممکن کوشش ضرور کروں گا…. مشکل ضرور ہے…. پر ناممکن نہیں….اس کا دل نہ جیتا تو میرا نام الحان ابراہیم نہیں….“

قاتلانہ شریر مسکراہٹ لبوں پر سجائے، لمبی سانس کھینچتااک ادا سے وہ اپنے لب بھینچ کر رہ گیا تھا….

”نہیں…. تمہیں ایسا ہرگز نہیں کرنا چاہیے الحان!“

خود کی گمشدہ آواز سماعت سے ٹکراتے ہی وہ یکایک چونک اٹھا تھا….

”تم اس شو میں اک شرط جیتنے کے لیے آئے ہو…. مانہ اور لڑکیوں جیسی نہیں ہے…. اس کی فیلنگز کے ساتھ کھیلنا، اس کے ساتھ ٹائم پاس کرنا ٹوٹلی اَن فئیر ہو گا اس لڑکی کے ساتھ…. یہ ان سب لڑکیوں سے الگ ہے…. بالکل مختلف….“

اپنی ہی سوچوں کو پس پشت ڈالتا وہ آپادھاپی کے عالم میں من ہی من ہمکلام ہوا….

”اس بارے میں، میں بعد میں سوچوں گا…. فی الحال میں ان لمحات کو جی بھر کرجینا چاہتا ہوں…. مرغوب ہونا چاہتا ہوں…. اسے ایک نہ ایک دن مجھے ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر اپنے گھر واپس تو جانا ہی ہے…. تو پھر اس کی موجودگی، اس کے ساتھ کے یہ لمحات میں یادگار کیوں نہ بناﺅں؟….“

”اچھا…. مانہ کے شو چھوڑ جانے کے بعد اور اس رئیلٹی شو کے ختم ہو جانے کے بعد بھی تم اگر اس کا ساتھ چاہتے رہے تو؟…. تو تم کیا کرو گے؟“

ضمیر کی آواز پھر سے چوٹ کرنے لگی….

”اوہ…. پھر تو بہت بڑی پرابلم ہو جائے گی یار….! اس بارے میں تو میں نے سوچا ہی نہیں….“

لب کاٹتا وہ منتشر نگاہوں سے اس کی سوچوں کی گفتگو سے انجان جنگل کا سینہ چیرتی مانہ کی جانب دیکھنے لگا….

ض……..ض……..ض

”کیا ہم تھوڑی دیر کے لیے رُک نہیں سکتے؟“

وہ تکان بھرے لہجے میں پوچھ رہا تھا….

"No!”

وہی ہٹ دھرم انداز تھا….

”اس بار واقعی میرے گھٹنے میں بہت تکلیف ہو رہی ہے مانو!…. Trust me مجھے چوٹ واقعی آئی ہے…. زیادہ نہیں، پر آئی تو ہے…. تم نے بینڈیج کرتے وقت دیکھی تھی ناں یار!“

وہ نڈھال قدموں سے چلتا اسی کی جانب دیکھنے لگا….

”آئی ڈونٹ کیئر!“

لاپرواہی سے بولتی وہ چلتی رہی….

”اوکے…. تو پھر تم جاﺅ اکیلی…. مجھے نہیں لگتا کہ میںاس تکلیف میں مزید سفر کر سکتا ہوں….“

الحان کے جواب نے تیزی سے چلتی مانہ کویکایک چونکنے پر مجبور کر ڈالا…. آناً فاناً اٹھتے قدم اک جھٹکے سے رُکے…. وہ کچھ دیر یونہی کھڑی رہی…. پھرپلٹی…. الحان نڈھال انداز میں زمین پر بیٹھا تھا….ہ خود بھی تھک چکی تھی…. دور دور تک کیمپ اور سمندر کا نام و نشان تک دکھائی نہ دے رہا تھا…. گھپ اندھیرے میں وسیع آسمان سے جھانکتے چاند کی نیلی مدھم روشنی اردگرد پھیلے لمبے لمبے تناور درختوں کو عجیب سا خوابی ماحول بخشے دے رہی تھی…. وہ اس وقت دوہری کیفیت میں مبتلا ہو چکی تھی…. کیا ٹھیک ہے کیا غلط، کیا سچ ہے کیا جھوٹ، اسے کچھ سجھائی نہ دے رہا تھا…. زیادہ نہیں، پر زخمی تو ہوا تھا…. یہ بات وہ اچھی طرح سے جانتی تھی…. نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی سخاوت جاگ اٹھی…. وہ چلتی ہوئی الحان کی پچھلی جانب ایک درخت کے قریب جا بیٹھی….

”فائن!“

”رئیلی؟“

الحان کا چہرہ خوشی سے ٹمٹما اٹھا….

”میں یہ تمہارے لیے یا تمہارے کہنے پر نہیں کر رہی ہوں…. مجھے بھی تھکاوٹ ہو رہی ہے….“

اس نے جلدی سے ایک جھوٹ گاڑھا….

”تھینکس…. اینی ویز!“

الحان اپنی قاتلانہ مسکراہٹ لبوں پر سجا بیٹھا…. مانہ سر جھکائے اپنا بیگ کھول بیٹھی تھی…. الحان ہی کی خریدی گئی بلیک شال باہر نکالتی وہ اپنے شولڈرز پر پھیلانے لگی…. الحان اٹھ کر اس کے برابر میں آ بیٹھاتھا….

”آئی ہوپ کہ بارش نہیں ہو….“

لمبی سانس کھینچتے ہی وہ وسیع آسمان پر پھیلے کالے بادلوںپر نگاہ دوڑاتا زیرلب بڑبڑانے لگا…. مانہ نے اس کی بات کا جواب نہ دیا…. خاموش نگاہیں آسمان پر دوڑاتی وہ کروٹ بدلے زمین پر لیٹ گئی…. الحان نظریں گھما کر اس کی جانب دیکھنے لگاتھا…. کروٹ بدلتے ہی وہ اپنی آنکھیں موند گئی تھی…. الحان تھوڑی دیر یونہی بیٹھا اسے دیکھتا رہا…. کچھ ہی لمحوں بعد وہ آسمان کی جانب دیکھتا سیدھا زمین پرلیٹ گیا…. ان دونوں کے بیچ چند ہی انچز کا فاصلہ تھا…. الحان وسیع آسمان پر پھیلے ٹمٹماتے تاروں کادیدار کرنے لگا…. اگلے ہی پل نیند کے پُرزور حملے نے وارکیا…. خوبصورت تاروں کا منظر دھیرے دھیرے دھندلانے لگا…. آنکھیں بند ہوتے ہی کانوںمیں اجنبی اجنبی سرسراہٹیں در آنے لگیں….دل کی دھڑکنیں زوروں سے دھڑکنے لگیں…. وہ نیند کے غلبے میں کھینچ کھینچ کر سانس لےنے لگا…. مانہ نے آہستگی سے اپنی آنکھیں کھولیں….آہستگی سے کروٹ پلٹتی وہ چند انچز کے فاصلے پر سیدھے لیٹے، کھینچ کھینچ کر سانس لیتے الحان کی جانب دیکھنے لگی…. وہ عجیب طرح سے سانس لے رہا تھا…. مانہ حیرانگی سے اس کی جانب دیکھتی آہستگی سے اٹھ بیٹھی…. اب وہ براہ راست الحان کی جانب دیکھنے لگی تھی…. اس کا چہرہ تپ رہا تھا…. مانہ نے ہاتھ برھا کر اس کی پیشانی کو چھونا چاہا….مگر پھر اگلے پل کچھ سوچتے ہوئے یکایک اپنا ہاتھ واپس پیچھے کی جانب کھینچ لیا…. وہ ایک بار پھر سے بغور اس کے چہرے کی جانب دیکھنے لگی تھی…. گھنے سیاہ سٹائلش کٹ بال، مردانہ خوبصورت ناک…. گلابی ہونٹ…. معصوم چہرہ…. ہر لحاظ سے ایک مکمل انسان تھا وہ…. سوتے میں کس قدر معصوم لگ رہا تھا الحان ابراہیم…. وہ اپنے دونوں ہاتھ آپس میں جکڑ بیٹھی تھی…. آسمان پر نگاہ دوڑاتی وہ بھاری ہوتی سانسوں کو کھینچ کھینچ کر اپنے اندر اُتارتے الحان کی جانب دیکھنے لگی….

ض……..ض……..ض

جاری ہے ۔۔۔۔۔

- admin

admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے