سر ورق / نظم کدہ / من کے دریچے عابدہ سبین قسط نمبر 5

من کے دریچے عابدہ سبین قسط نمبر 5

من کے دریچے

عابدہ سبین

قسط نمبر 5

وہ تین دن رہا۔ صرف پہلے دن کے علاوہ باقی دو دن بہت اچھے گزرے تھے اس کے۔ خاص کر درید کی والدہ کے ساتھ گزرا بہت اچھا رہا۔ واپسی پر آتے وقت بہت پیار سے انہوں نے کہا تھا۔

”یہ گھر جتنا درید کا ہے اتناہی تمہارا ہے، جب دل چاہے اپنا گھر سمجھ کے آ جانا۔“

”کیوں نہیں آنٹی، ان شاءاللہ!“

”اگر تم مجھے درید کی طرح امی کہو گے تو مجھے زیادہ اچھا لگے گا۔“

”ضرور کہوں گا، امی کہنے کی حسرت تو میرے من میں دم توڑ گئی تھی، لیکن اگر آپ کو اچھا لگے تو میں ضرور کہوں گا۔“

وہ مسکرا کے بولا تھا۔ انہوں نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا تھا۔ یاسر بھی بغلگیر ہوا تھا۔

”تم سے مل کر بہت اچھا لگا۔مگر حیرت جس بات پر ہوئی وہ یہ ہے کہ تم جیسا اچھا اور شاندار آدمی درید کا دوست کیسے بن گیا۔“

”جیسے اب تیرا بنا۔“

درید نے جل کر کہا تھا۔

بہت اچھی یادیں دل میں لیے وہ ملتان آیا تھا۔ مگر یہاں آ کر جو پہلا جھٹکا لگا کہ گھر لاکڈ تھا۔ یعنی وہ تینوں اب تک گاﺅں سے نہیں آئے تھے۔

”اللہ خیر کرے، ورنہ طلال کہاں ٹکنے والا ہے۔“

وہ دونوں ہی فکرمند ہوئے تھے۔ فریش ہو کر انہوں نے بلال اور طلال دونوں کے نمبر ٹرائی کیے تھے مگر دونوں نے ہی کوئی رسپانس نہ دیا۔ پھر درید تو لیٹ گیا اور اس کا ذہن حریم کی طرف چلا گیا۔ وہاں سے بھی اس نے ایک بار اسے کال کی تھی مگر کسی نے اوکے ضرور کی تھی بات نہ کی۔ اب اس نے پھر سے نمبر ڈائل کیا تو نمبر سوئچ آف تھا۔ حریم نے اسے کئی مِس کالز کی تھیں پھر اب کیوں آف تھا نمبر۔ بظاہر وہ مطمئن سا تھا مگر جانے کیوں ذہن الجھ سا گیا۔ پہلے بلال اور اب حریم۔

بلال تو صبح ہی آ گیا۔ مگر وہ اکیلا نہیں تھا، اس کے ساتھ مریم بھی تھی۔ اور جب اس نے بتایا کہ انہو ںنے کورٹ میرج کر لی ہے تو درید اور اسفند دونوں شاکڈ رہ گئے۔

”اتنا غلط قدم اٹھانے کی کیا ضرورت تھی؟“

”بہت مجبور ہو گیا تھا۔ لیکن اگر تم لوگوں نے بھی نہیں رکھنا تو بتا دو، میں دوسرا ٹھکانہ ڈھونڈ لیتا ہوں۔“

سمجھ سکتے تھے وہ کہ اس وقت بلال کی کیا کنڈیشن ہو گی۔

”بکواس نہ کر اسفند کا ایسا کوئی مطلب نہیں تھا۔“

درید نے فریج سے جوس لا کر اسے اور مریم کو دیا تھا۔ بلال کو ریلیکس کیا۔

”بھابی کو اندر لے جاﺅ، ریسٹ کر لیں گی۔“

اسفند کے کہنے پر وہ اسے کمرے میں چھوڑ آیا تھا مگر خود واپس ان کے پاس آ بیٹھا تھا۔

”نہال اور طلال۔“

”وہ آئے نہیں اب تک۔“ گویا اسے خبر ہی نہیں تھی۔

”ہوا کیا تھا بلال کہ تم نے یہ انتہائی فیصلہ لیا۔“

”اسفند میں نہ مریم پر ظلم ہونے دے سکتا تھا نہ میں اس پندرہ سالہ بچی کے ساتھ زیادتی ہونے کے حق میں تھا۔ میں اٹھائیس سال کا ہوں اور وہ مجھ سے عمر میں آدھی تھی۔ یہ ظلم نہ تھا۔“

بلال نے ان دونوں کو جواب طلب نظروں سے دیکھا۔

”بے شک یہ غلط تھا مگر طلال تم اپنے والد کو ہی بات سمجھاتے۔“

”کیا میں نے انہیں سمجھایا نہیں ہو گا۔ اسفند ان کی بے جا ضد اور زبردستی نے ہی مجبور کیا۔ جب مجھے کوئی راستہ نظر نہیں آیا تو میں نے اور مریم نے نکاح کر لیا۔ مگر اباجی نے یہ تسلیم نہیں کیا اور مجھے گھر سے نکال دیا۔ طلال اور نہال دونوں میرے ساتھ تھے۔ مگر شاید اباجی نے انہیں زبردستی روک لیا ہو۔“

”اور بھابی کے والدین،ان کا ردعمل!“

”کیا ردعمل ہونا تھا۔ ماں تو اسکی مر چکی تھی، سوتیلی ماں نے اسے بھی جیتے جی مار رکھا تھا، اور چچا جی کو ہوش ہی نہیں تھا۔ تمہیں پتا ہے اسفند اگر میں یہ قدم اٹھاتا تو سب سے زیادہ ظلم مریم کے ساتھ ہونا تھا۔ کیونکہ میرے گاﺅں جانے سے پہلے ہی یہ بات سب کو پتا چل چکی تھی کہ میں اور مریم ایک دوسرے کو چاہتے ہیں۔اور انہوں نے اس معصوم کو ادھ موا کر دینا تھا، صرف اس خطا کے لیے کہ یہ مجھے چاہتی ہے۔“

”بہت افسوس کی بات ہے بلال۔تم جو کچھ بتا رہے ہو۔ اللہ پاک تمہارے والد کے مزاج میں نرمی پیدا کرے، مگر فکر مجھے طلال اور نہال کی ہو رہی ہے۔“

اس کی آواز بھیگ گئی۔ اسفند نے اٹھ کر اسے گلے لگا کر حوصلہ دیا تھا۔

”اوکے جسٹ ریلیکس! جو ہونا تھا ہو چکا، اور آگے جو ہو گا اللہ بہتر کرنے والا ہے۔ مگر تم یوں کمزور پڑو گے تو بھابی کوہمت کہاں سے ملے گی۔ بے شک یہ غلط انداز میں ہوا مگر اب پلیز خود کو پُرسکون رکھو۔ بے شک اللہ پاک ہی ہمارے لیے بہترین کرنے والا ہے۔“

ض……..ض……..ض

اگلی صبح طلال اور نہال پہنچے تو بلال کو کچھ سکون ہوا ورنہ وہ یہ ہی سوچ سوچ کر پریشان ہو رہا تھا کہ اس کی غلطی کی سزا اس کے چھوٹے بھائیوں کو سہنی پڑے گی۔

نہال اور طلال کم عمر تھے۔ ان کے چہروں پر ہونے والے واقعے کے اثرات واضح نظر آ رہے تھے۔ اسفند نے کافی دیر انہیں خود سے لگا کر حوصلہ دیا تھا۔

”اچھا سنو! آج کے بعد ہمارے درمیان یہ موضوع نہیں ہو گا۔ کیونکہ ہم سب کچھ اس ذات پر چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ یقینا ہمارے حق میں ہم سے بہتر فیصلہ کرتا ہے۔“ اسفند نے بڑے بھائیو ںکی طرح دونوں کو سمجھایا۔

”جی بگ بی!“

طلال نے فوراً حامی بھری۔ خیر اس کی بات کا اتنا اثر ہوا کہ اگلی صبح سب کی بہت خوشگوار تھی۔ درید کی خاص کر کیونکہ اسے کچن سے چھٹی مل گئی تھی اور یہ چارج اب مریم بھابی نے سنبھال لیا تھا۔ جب سب نارمل تھا تو اب اسفند ضیاءکے چہرے پر بارہ کیو ںبج رہے تھے۔“

”کیا ہوا تجھے؟“

”پتا نہیں درید، میرا دل عجیب سا ہو رہا ہے۔“

”وجہ؟“

”حریم کا نمبر مستقل ایک ہفتے سے بند ہے۔“

”گھر جا کرمعلوم کر لے، پھر اس میں الجھنے کی کیا بات ہے۔“

درید اسے گھر کا رستہ بھی دکھا گیا تھا اور شام میں آفس سے واپسی پر اس کا رُخ حریم کے گھر کی طرف تھا۔ مگر وہاں جا کے گھر لاکڈ دیکھ کر حیرت ہوئی تھی وہ پلٹ کر بائیک اسٹارٹ کرنے لگا تھا کہ اسے وہ ہی نوعمر لڑکا مل گیا جو پہلی بار اسے حریم کے گھر ہی ملا تھا۔

”یہ گھر لاک کیوں ہے؟“

”باجی ہاسپٹل میں ہے ناں!“

اس کی بات تو اسفند کو سخت پریشان کر گئی۔

”کیوں….؟“

”باجی نے خودکشی کر لی تھی۔ وہ تو اللہ نے زندگی رکھی تھی ان کی جو بچ گئی۔“

اسفند ضیاءکے قدموں تلے سے دھرتی کھینچ لی تھی۔

”کیا؟ کون سے اسپتال میں ہے وہ؟“

اس نے اس لڑکے سے پتا پوچھا تھا اور بیس منٹ بعد وہ ہاسپٹل میں تھا، مگرجھٹکا اسے تب لگا تھا جب حریم نے اس سے ملنے سے منع کر دیا۔

”خالہ! میں اس کی خیریت پوچھنے آیا ہوں۔“

”ابھی وہ بہت سہمی ہوئی ہے بیٹا۔ نہیں ملنا چاہتی کسی سے۔“

یہ حریم کی وہ ہی پڑوسن تھی جو اس کے پاس رہتی تھی۔

”ہوا کیا ہے حریم کو؟“

”اللہ جانے، میں تو اپنے سسر کی فوتگی پر گئی ہوئی تھی، واپس آئی تو اس کی حالت بہت ابتر تھی۔ وہ تو سانسیں تھیں جو بچ گئی۔“

وہ بہت سادہ سی گھریلو خاتون تھیں۔ اس لیے اپنے اندازے میں بتا رہی تھیں۔

اس نے بہت کوشش کی تھی مگر حریم ملنے پر تیار نہ ہوئی۔

اس رات وہ پوری رات کرسی پر بیٹھا رہا۔ نیند تو دور کی بات، وہ لیٹ بھی نہ پایا تھا۔ آخر اسے کیو ںایک غیر لڑکی کی اتنی فکر ہے!

درید صبح جاگا تو حیران رہ گیا۔

اسفند کا بستر خالی تھا۔ حالانکہ فجر پڑھ کر وہ لازمی لیٹتا تھا۔ مگر آج صحن میںبیٹھا جانے کیاسوچ رہا تھا۔ درید نے فی الوقت چھیڑنا مناسب نہ سمجھا۔

ض……..ض……..ض

آج بھی آفس سے سیدھا وہ ہاسپٹل گیا تھا۔ خالہ نہیں تھیں اور حریم گھٹنوں میں سر دیے ہچکیوں سے رورہی تھی۔ وہ لب بھینچ کر کئی لمحے کھڑا رہا۔

”حریم!“

اس کے پکارنے پر وہ بری طرح چونکی تھی۔ اس کے چہرے پر خوف کے آثار تھے، جو اسفند نے شدت سے محسوس کیے تھے۔ وہ آہستگی سے چلتا اس کے قریب آیا تھا۔ حریم سہم کر پیچھے کھسکی تھی۔

”حریم! تم ٹھیک ہو اب۔“

اسفند نے پوچھا۔ جواباً حریم کی آنکھیں پھیلی ہوئی تھیں اور لب لرز رہے تھے۔ اس کی یہ حالت شدید تکلیف دہ تھی۔ آخر کیا ہوا تھا جو حریم اس حال تک پہنچ گئی۔

”حریم پلیزٍ ڈر کیوں رہی ہو،میں ہوں اسفند۔“

وہ اس کے بیڈ کے پاس ہی کونے پر بیٹھ گیا تھا۔ حریم کئی لمحے اسے آنکھیں پھاڑے دیکھتی رہی۔ پھر جانے کیا ہوا وہ خود سمجھ نہ سکا کہ حریم پاگلوں کی طرح آ کر اس کے سینے سے لگی تھی اور ہوش و حواس سے بیگانہ ہو کر رونے لگی تھی۔ اس پر ہذیانی کیفیت طاری تھی۔

”سر جی، مجھے مر جانے دیں، مجھے نہیں جینا۔“

وہ اسے بری طرح جھنجھوڑ رہی تھی۔ اسفند کی اپنی حالت اس وقت بہت عجیب ہو رہی تھی۔ وہ کیا کرے، کیسے اسے سنبھالے۔ کیا کہے۔ اس نے بہت ہمت کر کے کافی وقت اسے رونے دیا۔ پھر مضبوطی سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا۔

”زندگی اللہ پاک کی سب سے بڑی نعمت ہے حریم، ایسے نہیں کہتے۔ اور تم تو بہت بہادر ہو ناں! تم نے یہ کیوں کیا….؟“

اس نے سوال کیا۔

وہ لمحہ بھر کو چپ ہوئی تھی۔ اس کے لب پھر لرزے تھے۔ خوف کی وہ ہی کیفیت پھر سے اس پر طاری ہوئی تھی اس کا زرد ہوتا چہرہ یکدم لٹھے کی مانند سفید ہوا تھا۔

”جس زندگی کومیں سر اٹھا کر نہ جی سکوں اسے ختم ہو جانا بہترنہیں ہے سر!“

حریم کوجانے اس پر اتنا اعتبار کیوں تھا کہ اسنے جو لب سی لیے تھے صرف اسفند کے سامنے کھول دیے اور اسفنداس کے لرزتے لبوں سے نکلنے والے لفظ سن کر جیسے پتھر کا ہو گیا تھا۔

ضبط کی انتہا تھی اس کی۔ ورنہ جو حقیقت حریم نے اسے بتائی تھی وہ ناقابل معافی تھی۔

”ایک بار مجھے بتاتی تو سہی یہ قدم اٹھانے سے پہلے۔“

”کتنے فون کیے تھے آپ کو….؟؟ حریم کے بتانے پر اس کو مِس کالز کا دھیان آیا۔ اس وقت وہ درید کے گھرمیں تھا۔

میں اسے نہیں چھوڑوں گا۔ ہمیں پولیس کو بتانا چاہیے۔“

”نہیں۔“

وہ یکدم چیخی تھی۔

”آپ کو قسم ہے اس ذات کی جو ہماری جان و آبرو کا مالک ہے۔ یہ بات آپ کے اور میرے بیچ رہے گی۔ اگر آپ مجھے زندہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ سر اٹھا کر جینے کے قابل نہیں رہی میں۔“

وہ بے بسی سے لب کچل کر رہ گیا۔ مگر حریم….

”انصاف اس رب سے بہتر کوئی نہیں کرتا۔میں نے اپنا مقدمہ اس کی عدالت میں چھوڑ دیا ہے۔ مجھے تماشہ نہیں بننا سر جی، پلیز!“

اس نے دونوں ہاتھ اسفند کے سامنے جوڑے۔ ضبط سے اس کی آنکھیں سرخ ہو گئی تھیں۔

”وہ اتنے عرصے تمہیں تنگ کر رہا تھا حریم اور تم نے ایک بار بھی مجھے نہ بتایا۔ مجھ سے شیئر تو کرتیں شایدآج۔“

وہ بولتے بولتے لب بھینچ گیا۔

”اگر مجھے اندازہ ہوتا تو میں کبھی تمہیں اکیلے نہ رہنے دیتا وہاں۔“

”کچھ نہیں بچا سر۔ کاش میں مر جاتی۔ مجھ سے یوں نہیں جیا جائے گا۔ مجھے مار دیں پلیز مجھے مار دیں۔“

اسفند نے اس کے جڑے ہوئے ہاتھ تھام لیے تھے اور اسے خود سے لگا لیا۔ وہ کتنے ہی وقت روتی رہی اس کے سینے سے لگی۔

”ایسے نہیں کہتے حریم، تم اب تنہا نہیں ہو۔“

اس نے حریم کو تسلی دی تھی۔ ڈاکٹرز سے بات کر کے پتا چلا کہ ابھی مزید دو تین دن اسے یہاں رکنا ہو گا۔ اس کا معدہ اچھی طرح واش کرنا تھا۔

وہ گھر لوٹ تو آیا تھا مگر دل وہیں اس معصوم لڑکی میں اٹکا ہوا تھا۔ سب کے درمیان بیٹھا بھی وہ جیسے یہاں تھا ہی نہیں۔

’خیرت ہے بگ بی،آج سے پہلے کبھی آپ کو اتنا زیادہ پریشان نہیں دیکھا۔“

طلال کے کہنے پر وہ چونکا تھا۔ سب اس کی طرف متوجہ تھے۔

”کچھ نہیں یار، بس سر میں درد ہے۔“

”سر کا مساج کروں بھائی جان۔“

نہال نے اپنے مخصوص لہجے میں کہا تھا مگر وہ نفی میں سر ہلانے لگا۔ اور اٹھ کھڑا ہوا۔

”چائے پی لوں گا تو سکون ہو جائے گا۔“

”کہاں جا رہے ہیں، مریم بنا دے گی۔“

ض……..ض……..ض

بلال نے فوراً ہی ہاتھ پکڑ کر روکا تھا۔

”نہیں یار وہ پریشان ہو گی۔“

”اسفند یہ غیروں والی بات نہ کیا کر۔ ہم سب ایک گھر میں رہتے ہیں۔ ایک دوسرے کے چھوٹے چھوٹے کام بھی نہیں کر سکتے۔ پہلے ہم کچن میں خود کام کرتے تھے۔ ہماری مجبوری تھی مگر اب جبکہ خاتون ہے کچن سنبھالنے کے لیے، پھر کیوں کریں….؟“

”اسفند بھائی میں بنا لاتی ہوں۔“ مریم نے جلدی سے کہا اور کچن کی جانب چل دی۔“

وہ اپنے کمرے میں آ گیا۔ چائے پی کر بھی اسے سکون نہیں آیا۔ سر میں جیسے جھکڑ چل رہے تھے اور یہ رات پھر اسنے کرسی پر بیٹھ کر گزاری تھی۔

قریباً تین بجے درید کی آنکھ کھلی تھی۔ اسے چیئر پر بیٹھا دیکھ کر وہ بہت حیران سا اس کے پاس آیا تھا مگر اس سے پہلے کہ وہ کچھ پوچھتا، اسفندنے اس کا ہاتھ تھام کر اپنے سر پر رکھ دیا۔

”تجھے قسم ہے میری، کچھ پوچھنا مت، کیونکہ تیرے آگے کمزور پڑ جاﺅں گا اور میں نے کسی سے وعدہ کیا تھا کچھ نہ کہنے کا۔“

درید اسکی سرخ ہوتی آنکھیں دیکھتا رہ گیا۔ وہ شروع سے کم بولتا تھا ان سب میں مگر اس نے آج سے پہلے اسفند کو اتنا پریشان، اتنا بکھرا ہوا نہیں دیکھا تھا۔

”اچھا، نہیں پوچھتا مگر تو سو جا، ورنہ مجھے بھی نیند نہیں آئے گی۔“

”لیٹ جاتا ہوں مگر نیند نہیں آئے گی۔“ اور وہ کروٹ بدل کر لیٹ گیا۔

صبح وہ تیز بخار میں پھنک رہاتھا۔ یہ صورتحال درید کے لیے پریشان کن تھی۔ اس پریشانی میں ناشتہ بھی بڑی خاموشی سے کیا جا رہا تھا۔ تب ہی وہ اٹھ کر آ گیا۔

”کہاں؟؟ ریسٹ کر، میںنے تیرے آفس فون کر دیا ہے….“

اس نے اسفند کو روکا۔

”آفس نہیں جا رہا کچھ ضروری کام ہے جلدی آ جاﺅں گا۔“

”اسفند تجھے اتنا تیز بخارہے کہ تیرا چہرہ بھی سرخ ہو رہا ہے بخار سے اور توکہتا ہے جانا ضروری ہے۔“

”درید پلیز میں میڈیسن لے لوں گا۔“

اس نے فٹ سے کہا تھا۔ درید بے بسی سے اسے دیکھتا رہ گیا۔

اس کی فکر ان سب کو ہو رہی تھی جسے آج کل اپنی تو فکر تھی ہی نہیں۔

دو دن بخار رہا مگر اسے جیسے پرواہ نہیں تھی۔

”کہاں ہے تو….!!“

”میں آﺅٹ آف سٹی ہوں، کل آﺅں گا۔“

درید کے لیے یہ خبر کسی جھٹکے سے کم نہ تھی۔ اسفند فون کاٹ چکا تھا۔ وہ حریم کو لے کر جس در پر آیا تھا وہاں اسے یقین تھا کہ حریم کو مکمل محفوظ پناہ ملی تھی۔ امی اور یاسر اس کی اچانک آمد اور اس کے ساتھ لڑکی دیکھ کر حیران ہوئے تھے مگر اس نے حریم کے سامنے کوئی بات نہیں کی۔ اسے ڈاکٹرز کی تجویز کردہ میڈیسن دی تھی۔ جب وہ پُرسکون نیند میں چلی گئی تو وہ امی کے پاس آیا تھا۔

”امی! حریم بے سہارا ہے۔ اس کے والدین اس دنیا میں نہیں رہے ہیں۔ گھر کے پیچھے اس کے رشتے داروں نے حریم کی جان لینے کی کوشش کی ہے۔ یہ وہاں بالکل محفوظ نہیں تھی اس لیے میں یہاں لے کر آیا ہوں۔“

”اس کی حالت دیکھ کر میں سمجھ گئی تھی کہ بچی کسی صدمے کے زیراثر ہے۔“

”جی،بہت گہرا اثر لیا ہے حریم نے۔“

اس نے جھوٹ کہا تھا۔ مگر اللہ سے معافی بھی مانگی تھی۔ امی نے اسے یقین دلایا تھا، وہ حریم کا بہت خیال رکھیں گی۔ آتے وقت حریم رو پڑی تھی۔

”پلیز حریم….! تم یہاں بالکل محفوظ ہو اور ہاں پلیز اپنا خیال رکھنا۔“

”میں بوجھ بن گئی ہوں آپ پر بھی اور میری وجہ سے آپ بھی مشکل میں آ گئے۔“

”یہ کیا فضول سوچ ہے۔ ایسا کچھ نہیں ہے۔ تم مجھ پر بوجھ نہیں۔ میری ذمہ داری ہو۔“

وہ کہہ تو گیا…. مگر آخر کیا رشتہ تھا ان میں کہ وہ اس کی ذمہ داری بن گئی تھی۔ محض انسانیت کے ناطے وہ اتنا کچھ کر رہا تھا۔

”یہ ساتھ میں میرب رہتی ہے۔ امی تمہیں اس سے ملوا دیں گی۔ وہ بھی ماسٹرز کر رہی ہے۔“

”مجھے نہیں پڑھنا، مجھ میں دنیا کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں ہے۔“

’مت سوچا کرو ایسا…. تم معصوم ہو، پاک ہو۔“

”ایسا صرف آپ سوچتے ہیں یا پھرمحض مجھے تسلی دیتے ہیں…. مجھ سے پوچھیں کہ مجھے اپنے وجود سے کتنی گھن آتی ہے۔“ وہ ایک بار پھر رو پڑی۔

”نہیں حریم، میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں اپنے دل سے تمہیں معصوم اور پاکیزہ مانتا ہوں۔ تمہارے ساتھ جو ہوا، اس میں تم بے قصور ہو۔ ایسا کبھی نہ سوچنا کہ میں صرف تمہیں تسلی دیتا ہوں۔“

”آپ کو دیکھ کر رب کی قدرت پر یقین پختہ ہوتا ہے کہ ابھی بھی اس دنیا میں اچھے لوگ ہیں۔“

”تم صرف اپنا خیال رکھنا حریم۔“ وہ آخری وقت تک اسے سمجھا کر واپس آیا تھا مگر روز اس سے بات کرنا اس کے معمول میں شامل ہو گیا تھا۔

جو چینج درید عباس کو اس میں نظر آیا تھا وہ بہت پوزیٹو تھا۔ اسفند واپس آ کر درید کو بتا رہا تھا کہ وہ حریم کو فیصل آباد چھوڑ آیا ہے۔ یہ خبر درید کے لیے حیران کن تھی مگر وہ خوش تھا کہ اسفند نے اس گھر کو اور وہاں رہنے والوں کو واقعی اپنا مانا۔

ض……..ض……..ض

چارماہ گزر گئے تھے۔ درید اور یاسر کی شادی سر پر آ گئی تھی۔ اور رات ہی حریم نے اسے کہا تھا کہ آنٹی ناراض ہو رہی ہیں کہ اتنے کام ہیں یاسر اکیلے کیسے کرے گا۔ اس نے درید کو بتا دیا تھا۔ سو طے یہ پایا تھا کہ وہ سب اکٹھے جائیں گے۔ یوں بھی درید عباس کی شادی کو لے کر سب بہت ایکسائیٹڈ تھے۔ خاص کر طلال اور نہال۔ وہ لوگ ایک ہفتہ پہلے ہی فیصل آباد پہنچ گئے تھے۔ امی ان سب کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی تھیں۔ مریم کو بھی بہت پیار سے گلے لگا کر پیشانی چومی تھی۔ رہی بات اسفند کی تو اسفند سے انہیں محبت بالکل درید کی طرح تھی۔ اسے دیکھ کر انہیں دل میں ٹھنڈک اترتی محسوس ہوتی تھی۔

”اب قدرے فکر کم ہوئی ہے، ورنہ اتنے کام باقی ہیں کہ دل ہول رہا تھا۔“ انہوں نے پیار سے اسفند کو دیکھتے ہوئے کہا۔

”آپ بس ریلیکس ہو جائیں۔ کام یوں ختم ہوں گے کہ آپ کو پتا بھی نہیں چلے گا۔“ اسفند نے انہیں ساتھ لگا کر کہا تھا اور اسفند کی بات پر انہیںبھروسہ بھی تھا۔ وہ مسکرا دی تھیں۔

”حریم کا سنائیں…. خوف کی کیفیت سے نکلی۔“ وہ سب اپنی باتوں میں مصروف تھے اور اسفند نے بہت ہولے سے ان سے دریافت کیا تھا کیونکہ جب سے وہ آئے تھے حریم محض سلام کرنے آئی تھی۔ اس کے بعد سے دوبارہ نظر نہیں آئی۔

”اللہ کا شکر ہے بچے، اب بہت نارمل ہے۔ پہلے تو گیٹ کی آہٹ پر یوں سہم جاتی تھی جیسے سفید لٹھا ہو۔ مگر اب یقین کرو، پورے اعتماد سے گھر کے سارے کام میرے ساتھ کرواتی ہے۔ تمہارے ابو اور یاسر سے پہلے بات تک نہیں کرتی تھی۔ مگر اب اکثر شام کا وقت ابو کے پاس بیٹھ کر گزارتی ہے۔ کبھی میرب کے پاس چلی جاتی ہے۔“ انہوں نے تفصیلاً بتایا تو اس نے گہری سانس لی اور دل میں رب العزت کا شکر ادا کیا۔

”مگر اسفند…. گھر سے باہر نکلتے اب بھی گھبراتی ہے۔ لوگوں کو فیس نہیں کرتی۔“ یاسر بھی اس کے ساتھ ہی آ بیٹھا تھا۔

”کئی بار بازار جانا پڑا۔ بلیو می اتنی خوفزدہ رہتی تھی۔ سارے وقت کہ امی کا ہاتھ نہیں چھوڑتی۔ میں نے بہت کوشش کی کہ اس کے اندر کا اعتماد لوٹے….“

”وقت لگے گا یاسر…. جہاں اتناکور کیا ہے، ان شاءاللہ یہ بھی دور ہو جائے گا۔“ اسے اللہ پر بھروسہ ہے۔

شادی کے اتنے کام تھے۔ کچھ وہ لوگوں کے باعث گھر کے کسی کونے میں گھسی رہتی تھی۔ اسفند اب تک اس سے بات نہیں کر پایا تھا۔ درید اور یاسر کی مہندی والے دن بھی یاسر زبردستی اسے باہر لایا تھا۔

”ایک ہی بہن ہو تم ہماری، اور تم ہی مہمانوں کی طرح چھپی بیٹھی ہو، ہمارے ساتھ بیٹھو۔“

وہ آج بھی معمول کے حلیے میں تھی۔ ڈریس ضرور نیا تھا مگر چہرہ ہمیشہ کی طرح سادہ اور شفاف تھا۔ بلیک اسکارف اسی طرح سر اور پیشانی تک لپٹاہوا تھا۔ اتنے دن میں آج وہ دکھائی دی تھی۔ یہ بات خوشگوار تھی کہ وہ کم از کم گھر کے افراد سے بہت اٹیچ ہو گئی تھی۔

یاسر نے تمام وقت اسے اپنے ساتھ بٹھا کر رکھا تھا۔ مگر رسم کے فوراً بعد وہ ہٹ گئی۔

”آپی پلیز! ایک فوٹو تو بنوا لیں۔“ طلال نے پکارا تھا مگر اسفند نے اس کے کندھے پر ہاتھ دھر کے روک دیا۔

”وہ نہیں بنوائے گی۔“ طلال نے بڑی حیرت سے دیکھا تھا اسفند کو، کیونکہ وہ ہرگزنہیں جانتا تھا اسفندحریم کو یہاں لایا ہے۔

شادی بہت دھوم دھام سے ہوئی تھی۔ ولیمے کے بعد جب تمام کام ختم ہو گئے اور وہ لوگ خوش گپیوں میں مصروف تھے تو اچانک سامنے آ کر کھڑی ہو گئی۔

”مجھے آپ کے ساتھ واپس جانا ہے۔“ اس نے سیدھا اسفند کو مخاطب کیا تھا۔

”بیٹھو!“ اسفند نے سکون سے کہا۔ وہ درید کے ساتھ ہی چارپائی پر بیٹھ گئی تھی۔

”یہاں تمہیں کوئی پرابلم ہے؟“ اس نے حریم کی طرف دیکھ کر سوال کیا تھا۔ وہ جزبز سی ہاتھوں کی انگلیاں مروڑنے لگی۔ درید اٹھ کھڑا ہوا۔

”میں آتا ہوں۔“

اسے لگا کہ شاید اس کی موجودگی میں وہ کھل کے بات نہ کرے،اس کے جانے کے بعد اسفند نے سوال پھر دہرایا تو اس نے پانی سے بھری آنکھوں سے اسفند کو دیکھا تھا۔

”میں مزید کسی پربوجھ بننا نہیں چاہتی۔ میرے اکاﺅنٹ میں اتنا پیسہ ہے کہ میں اپنا خرچ بخوبی چلا سکتی ہوں۔“

”تم نے خود کو بوجھ کیوں کہا۔“ ساری بات نظرانداز کر کے اسفند نے سوال کیا تھا۔

”سر…. برا وقت جو تھا بیت گیا۔ اب میں ٹھیک ہوں۔ پھرمجھے جہاں جو پرابلم ہوئی میں آپ سے کانٹیکٹ کرلیا کروں گی۔ پہلے آنٹی تنہا تھیں مگر اب یاسر بھائی درید بھائی دونوں کی وائف ہیں۔ مجھے مزید یہاں نہیں رہنا پلیز….“

”وہاں جا کرکیا کرو گی حریم! اکیلے رہنا تمہارے لیے ٹھیک نہیں ہے۔“

”اکیلا پن عمر بھر کا ہے۔ میں عارضی سہاروں کی عادی ہو گئی تو پھر کیسے رہ پاﺅں گی۔“

”مگر ابھی میں تمہیں وہاں تنہا نہیں چھوڑ سکتا۔“

”پلیز….“ وہ گڑگڑائی۔

وہ مزیدبات کرتے مگر امی آ گئیں اور انہوں نے بات کو وہیںچھوڑ دیا مگر اس کے چہرے پر جو پریشانی اُتر آئی تھی وہ درید دیکھ چکا تھا۔

”کب تک…. اسفند ضیائ، کب تک خود کو کسی کی بے وفائی کی آگ میں جھلساﺅ گے۔ جس نے کبھی تمہیں چاہا ہی نہیں، اس کے لیے اپنا آپ برباد کر رہے ہو۔ اور جو تمہیں چاہتی ہے….!“ اس کی آخری بات پر اسفندنے بے یقینی سے دیکھا تھا۔

”ایسے کیا دیکھ رہے ہو۔ بھلا تمہیں کسی اور کی آنکھوں میں محبت نظر کب آتی ہے۔ تمہیں تو وہ ہی آنکھیں سچ لگتی ہیں جو دھوکہ تھیں۔“

”وہ میری عزت کرتی ہے،بہت احترام ہے اس کی نظروں میں میرے لیے۔“

”تو….! جہاں عزت کی جائے وہاں محبت نہیں ہو سکتی۔ کب تک خود کو دھوکہ دو گے اسفند…. صرف عزت اور احترام کے لیے وہ آنکھیں بند کر کے تمہارے ساتھ آ گئی تھی۔ کیوں کرتی ہے وہ تم پر اتنا اندھا اعتماد، میں بتاتا ہوں۔ پیار کرتی ہے وہ تم سے،تبھی اپنی زندگی کے ہر فیصلے کا اختیار تمہیں سونپ دیا ہے۔ مگر تم…. تمہاری طرف سے اسے کیا ہمیشہ کا انتظار ملے گا۔“

”یہ فقط تمہاری سوچ ہے درید۔“ اس نے دونوں ہاتھوں سے سر تھاما تھا اور خود کو ریلیکس کرنے کے لیے کچھ دیر طلال اور نہال کے پاس جا بیٹھا۔

کل ان سب کی واپسی تھی سوائے درید کے، جس نے چند دن بعد آنا تھا۔

”مریم بھابی! انجوائے کیا آپ نے….؟“ درید نے پوچھا۔

”جی، بہت انجوائے کیا….“

”بھابی! درید بھیا دوسرے لفظوں میں پوچھنا چاہ رہے ہیںکہ آپ کو میرب بھابی کیسی لگیں؟“ طلال نے اسے چھیڑا تھا۔ درید ہنس دیا۔

”جی نہیں…. مجھے پتا ہے کہ میرب بہت اچھی ہے۔“

”ہاں واقعی میرب بہت اچھی ہے۔“ مریم نے مسکرا کر کہا تھا۔ حریم سب کے لیے چائے اور ناشتہ لے کر آئی تھی اور سب کو سرو کر کے خود بھاگنے کے چکر میں تھی کہ درید نے ٹوک دیا۔

”بیٹھو سب کے ساتھ بیٹھ کر چاﺅ پیو۔“

”بھیا، مجھے امی کے ساتھ کام کرانا ہے۔“

”ہو جائیں گے کام بھی…. یو نو ڈیئر سسٹر، مہمانوں کو ٹائم دینا بھی آپ کے فرائص میں شامل ہے اور بعد میں آپ ہمیں یاد کریں گی۔“ طلال نے اسٹائل مارتے ہوئے کہا تھا۔ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی مسکرا دی۔

”حریم! یہ سب ہماری فیملی کا حصہ ہیں۔ ان کے ساتھ وقت گزارو بلیو می، تمہیں اچھا لگے گا۔“

”میں جانتی ہوں….“ وہ کچھ کہتے لب بھینچ کر اسفند کو دیکھنے لگی۔ بس پل بھر کو دونوں کی نگاہیں ملی تھیں۔ پھر حریم ہی سر جھکا گئی۔

”کیوں کر رہی ہو تم اس طرح سے۔“

”کیونکہ میں واپس جانا چاہتی ہوں۔ میں مزید احسان کا بوجھ نہیں سہہ پاﺅں گی۔“ موقع ملتے ہی وہ پھر اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی تھی۔

”تمہیں یہاں کوئی مسئلہ ہے؟“ اسفند نے گھور کر اس کو دیکھا۔

”نہیں….مگر مجھے اچھا نہیں لگتا، میں ساری عمر بوجھ نہیں بن سکتی۔“

”حریم! پھر وہی بات۔ تم بوجھ نہیں ہو کسی کے لیے بھی اور میں نے تمہیں یہاں اس لیے بھیجا تھا تاکہ تمہیں تنہا نہ رہنا پڑے۔ مجھ سے کوئی غلطی ہوئی، کس بات پر تمہیں اعتراض ہے؟“

”آپ کو نہیں لگتا کہ میرے یہاں رہنے پر سب کو اعتراض ہو سکتا ہے۔ امی کب تک جھوٹ بولیں گی اور اب تو رشتہ داری بڑھ گئی ہے۔ یاسر بھائی کے سسرال والے آئیں گے، ہر شخص جانتا ہے کہ اس گھر میں لڑکی نہیں ہے پھر میرا وجود؟ آخر کب تک چپ رہ سکیں گے سب….“ وہ چیخ پڑی۔

”پاگل ہو گئی ہو تم….“ پہلی بار اسے حریم پر غصہ آیا تھا۔

”ہاں….! شاید مگر میں کل آپ کے ساتھ جا رہی ہوں۔“ وہ حتمی فیصلہ سنا کر مڑ گئی تھی۔

”تم نہیں جاﺅ گی۔“

”کیوں؟ آپ مجھے عمر بھر سوالیہ نشان بنا کر رکھنا چاہتے ہیں۔ میں مانتی ہوں کہ آپ کا بہت بڑا احسان ہے مجھ پر….“

”میں نے جو کیا، اپنا فرض اپنی ذمہ داری سمجھ کر کیا۔ کبھی بھی تم پر احسان جتانے کو نہیں کیا۔“

”کس حق سے ذمہ داری ہوں میں آپ کی؟“ کس قدر غیرمتوقع سوال تھا۔ وہ آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے لگا۔

”آج یہ سوال صرف میں نے کیا، آنے والے وقت میں سب کریں گے۔ اس دور میں انسانیت کے ناطے کی جانے والی نیکی کوئی تسلیم نہیں کرتا۔“ وہ آج پھٹ پڑی تھی۔ اسفند ضیاءاس کے چہرے پر ضبط اور غصے سے پھیلنے والی سرخی دیکھ رہا تھا۔ بس ایک لمحہ لگا تھا اسے سوچنے میں،اس کے بعد وہ مطمئن تھا۔

”تمہیں اور لوگوں دونوں کو تمہارے سوال کا جواب مل جائے گا کل تک…. او کے!“ اتنے سخت لہجے میں پہلی بار مخاطب ہوا تھا وہ حریم فاطمہ سے مگر جولفظ حریم نے اسے کہے تھے، وہ اس کے دل پر لگے تھے۔ وہ واقعی اب تک حقیقت سے نگاہیں چرا رہا تھا۔ سو فیصلہ ہو گیا اور فیصلہ ہوا تو…. دیر بھی نہ لگی تھی۔ اگلے دن بہت سادگی سے بالکل شرعی انداز میں اس نے حریم فاطمہ سے نکاح کرلیا تھا۔ یہ بات سب کے لیے باعث حیرت تھی۔ مگر درید تو منتظر تھا، اسے یقین تھا جلد یا بدیر یہ ہی ہونا تھا۔

نکاح کا دو گھنٹے کے بعد انہیں واپس جانا تھا۔ تب ہی وہ اس سے مل کر بات کرنا چاہتا تھا۔

”مجھے یقین ہے کہ آج کے بعد تم خود کو بوجھ ہیں سمجھو گی۔ تم میری ذمہ داری ہو کس حق سے؟ اب تمہیں یہ بھی خود یا لوگوں کو بتانا نہیں پڑے گا۔“ وہ بہت سنجیدہ تھا۔ آج بھی اس کی نگاہیں جھکی ہوئی تھیں۔ جیسے اکثر وہ حریم سے بات کرتے وقت کرتا تھا مگر حریم کو لگا وہ غصہ میں ہے۔

”آپ میرے لفظوں سے ہرٹ ہوئے تھے۔“ اس کی بہت دھیمی سی آواز آئی تھی۔

”میں چاہتا ہوں کہ تم اپنی تعلیم مکمل کرو۔ تمہارے والدین کا خواب تھا کہ تم اسلامک ہسٹری میں ماسٹرز کرو اور مجھے بھی خوشی ہو گی اگر تم ایسا کرو گی۔ میرب بھابی تمہیں ایڈمیشن وغیرہ میں ہیلپ کردیں گی۔ اور تم کو کوئی بھی پرابلم ہو، کسی بھی قسم کی مجھے فون کر دینا۔ مجھے یقین ہے کہ اب تمہیں مجھ سے کچھ کہتے اپنا وجود بوجھ محسوس نہیں ہو گا۔“

وہ اپنی بات مکمل کر کے اٹھ گیا تھا مگر کمرے سے باہر نکلنے لگا تو اس کی آواز پر قدم رک گئے۔

”آئی ایم رئیلی سوری! میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں اسی شخص کو ہرٹ کرنے کا باعث بنوں گی جو میرا محسن ہے۔ میرے لفظوں سے آپ کو تکلیف ہوئی، اس کے لیے میں سخت شرمندہ ہوں۔“

اس کے لفظوں پراسفند نے پلٹ کر اسے دیکھا تھا۔ جس کی ساری توجہ اس کی طرف ہی تھی۔ مگر اس کے لیے حریم فاطمہ بالکل نئی تھی۔ اس نے آج تک اس کو بنا اسکارف کے نہیں دیکھا تھا مگر اس وقت وہ سر پر صرف دوپٹہ لیے ہوئے تھی۔ یقینا نکاح کے وقت اسے تیار کیا گیا تھا۔ وہ ڈریس چینج کر چکی تھی مگر چہرے پر میک اَپ اب بھی موجود تھا۔ کئی لمحے وہ نگاہ نہیں ہٹا سکا تھا۔ اس کے پاکیزہ اور معصوم حسن کو دیکھ کر….

”میں ناراض نہیں ہوں۔ اس بات کو لے کر پریشان نہ ہونا۔ ہاں جو کچھ ہوا یہ میرے اور یقینا تمہارے لیے بھی غیرمتوقع تھا۔مگر میرا ایمان ہے کہ بنا اللہ کی مرضی کے کچھ بھی ممکن نہیں۔“ اسفند نے نظریں اس کے چہرے پر ہی جمائی ہوئی تھیں اور اپنی بات مکمل کرتے ہی وہ باہر چلاگیا۔

ض……..ض……..ض

”اگر تیری یہ ہی حالت ر ہی تو تیرے آفس والے تجھے فارغ کر دیں گے۔“ محض پندرہ دن بعد پھر وہ فیصل آباد کے لیے تیاری کر رہا تھا۔ جب اسفند نے ٹوکا تھا۔

”کیا کروں…. دل نہیں لگتا اب….“ اس کے لہجے میں سچائی تھی، محبت تھی۔ اسفند کئی لمحے اسے دیکھتا رہا۔

”میری مانو، میرب کو یہیں لے آﺅ۔“

”کہا تھا میں نے اسے، وہ نہیں مانی۔ کہتی ہے کہ امی کے پاس رہے گی۔“ اس نے بیگ بند کرتے ہوئے اسفند کو جواب دیا تھا۔

”اس نے ایم ایڈکرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ محترمہ کی شادی ہو گئی ہے مگر پڑھائی کا جنون نہیں گیا۔“

”اچھا ہے ناں۔“

”تو بھی چل ناں….حریم خوش ہو جائے گی۔ پچھلی بار میں گیا تو اس کی نظریں کتنی دیر گیٹ کی طرف رہیں کہ شاید تم بھی آئے ہو۔“

”تم پاگل ہو درید عباس۔“ وہ آنکھیں چرا کر بولا۔

”تو کیا تم نے صرف ذمہ داری نبھانی ہے۔ تمہیں حریم سے محبت نہیں ہے۔ بول…. چپ کیوں ہے۔ درید پوچھ رہا تھا۔“

ٹھیک ہی تو سوچ رہا تھا کیونکہ وہ جس دن سے آیا تھا مڑ کر اس نے نہیں دیکھا تھا۔ حتیٰ کہ پہلے خود روز فون کرتا تھا اور اب کبھی حریم ہی کال کر لیتی تو ٹھیک وگرنہ اس نے کال تک کرنا چھوڑ دی تھی۔

”تجھے دیر ہو رہی ہے….جا….“ وہ سنجیدگی سے اس کا کاندھا تھپک کراٹھ گیا تھا۔

”موڑ لو…. سچائی سے جب تک منہ موڑ سکتے ہو موڑ لو اسفند ضیائ، مگر ایک دن تمہیں احساس ہو گا۔“

دو ماہ گزر گئے تھے اسے آئے۔ ان دو ماہ میں درید کا تیسرا چکر تھا اور وہ جیسے بھول گیا تھا کہ کسی کی آنکھوں میں اپنے نام کے دیے جلا کر آیا تھا۔

”تقریر کرتا رہا تو ٹرین مس ہوجائے گی تیری۔“ اس نے مسکرا کے مزید جلایا تھا اسے۔

”تجھے تو واپس آ کر پوچھوں گا میں۔“

اس نے بیگ کاندھے پر ڈالا اور اسفند نے بائیک کی چابی اٹھائی تاکہ اسے اسٹیشن چھوڑ آئے۔

ٹرین چلنے سے پہلے اس نے کچھ رقم درید عباس کو تھمائی تھی۔

”میرب سے کہنا اسے ایڈمیشن میں ہیلپ کر دے۔ مزید کسی بھی طرح کی ضرورت ہوئی تو مجھے بتا دینا۔“

”اسفند اسے صرف ان روپوں کی ضرورت نہیں ہے۔“ اس نے سنہری کانچ سی آنکھوں میں دیکھا تھا جن میں یکدم ہی بے چینیاں تیرنے لگی تھیں۔

”خیانت کر رہا تھا تو حریم کے ساتھ…. جس دل میںجن نظروں میںاسے ہونا چاہیے وہاں اب تک کسی بے وفا ہرجائی کی یادیں ہیں اور اس کے ٹوٹے وعدوں کی کرچیاں نگاہوں میں لیے بیٹھا ہے تو…. مجھ سے زیادہ تجھے علم ہے اسفند کہ حریم کے کتنے حقوق تم پر واجب ہیں۔“

”دعا کیا کر درید، اللہ پاک میری مشکل آسان کر دے۔“ درید کے پہنچتے ہی حریم کی کال آ گئی۔

”تھینکس…. آپ میرابہت خیال رکھتے ہیں۔“ وہ دھیمی سی آواز میں کہہ رہی تھی۔

”مزید ضرورت ہو تو بتا دینا اور تھینکس کی کیا بات ہے،یہ تو میرا فرض ہے۔“

”مجھے پیسوں کی ضرورت نہیں…. جس کی ضرورت ہے وہ تو شاید بھول ہی گیا۔“ مگر وہ ایسا کچھ بھی نہ کہہ سکی۔

اس سے کہیں بہتر وقت تو وہ تھا جب ان میں کوئی رشتہ نہیں تھا مگر وہ اس کی ہر خوشی کی کیئر کرتا تھا۔ روز فون کرتا تھا اور اب…. وہ خود کبھی دل کو کڑا کر کے اسے فون کرتی تھی۔ کیونکہ اب اس کا لہجہ بھی ویسا نہیں تھا۔ اکثر ہی وہ اس اندازمیںبات کرتا جیسے زبردستی کر رہا ہو اور یہ بات حریم کو شدید تکلیف دیتی تھی۔

”آپ سے بات کرنی ہے۔“ کئی لمحے خاموشی کے بعد اس کی آواز گونجی تھی۔

”کہو، سن رہا ہوں۔“

”میرے تمام ڈاکومنٹس، تمام پیپرز وغیرہ تو وہیں ہیں…. مجھے ایک بار تو اپنے گھر آنا ہو گا ناں!“ اس کی بات پر کئی لمحے وہ چپ رہا تھا۔

”حریم! میں خود تمہیں رات میں فون کروں گا۔ اس وقت میں تھوڑا بزی ہوں۔“ وہ کتنی دیر منتظر رہی تھی اس کے جواب کی اور اس نے جواب دیا بھی تو کیا۔ حریم نے بنا کچھ کہے لائن کاٹ دی تھی۔

وہ رات بھر انتظار کرتی رہی لیکن کال نہیں آئی تھی۔ اس کی بے جا چپ میرب سے چھپ نہ سکی۔

”اتنی اُداس کیوں ہو؟“

”نہیں تو…. بس یوں ہی۔“ وہ گھٹنوں میں سر دیے سوچوں میں گم بولی تھی مگر میرب کو لگا اس کی آواز بھیگ رہی تھی۔

”تم رو رہی ہو حریم….!“ مگر جواب میں وہ بولی نہیں تھی جس سے میرب کا شک یقین میںبدل گیا تھا۔ وہ اٹھ کر اس کے پاس آ گئی۔ خاموش تو کل دوپہر سے ہی تھی مگر صبح سے تو چہرہ بہت اُترا ہوا تھا۔

”حریم! کیا ہوا ہے؟“ اس نے حریم کو کندھوں سے تھام کر ساتھ لگایا۔ وہ حقیقتاً رو رہی تھی۔ میرب نے اس کے آنسو صاف کیے۔

”کیا بات ہوئی…. گھر میں کسی نے کچھ کہا۔“ اس نے نفی میں سر ہلا دیا۔

”پھر اسفند بھائی نے کچھ کہا ہے۔“

”اوں ہوں۔“

”بس آج ممابہت یاد آ رہی ہیں میرب…. میری مما نے میرے لیے کتنی جدوجہد کی کہ میں معاشرے میںکمزور عورت بن کر زندگی نہ گزاروں بلکہ ان کی طرح ڈٹ کر حالات سے مقابلہ کروں اور کامیاب زندگی گزاروں۔ لیکن شاید میرے نصیب میں کمی تھی۔ یا میں ان کی طرح بہادر نہیں تھی۔

”پاگل ہو تم بالکل، اچھے بُرے حالات زندگی کا حصہ ہیں اور اسفند بھائی بھی تو یہ ہی چاہتے ہیں کہ تم خود میں اعتماد پیدا کرو۔ پھر سے وہی زندگی جیو….“ اس نے ہولے سے اس کا سر تھپکا تھا۔

”مگر زندگی اب وہ نہیں رہی میرب…. سب کچھ بدل گیا۔“ وہ بہت دل شکستہ اور ٹوٹی ہوئی تھی۔

”کچھ بھی نہیں بدلا۔ ان شاءاللہ پہلے کی طرح ہو جائے گا سب کچھ۔“ درید جانے کہاں سے ٹپک پڑا تھا۔

”آنسو صاف کرو اور پیکنگ کرو جا کے اپنی، سیاں جی کی کال آئی تھی رات آپ کے، آپ کو ساتھ لانے کا حکم دیا ہے۔“ وہ رات بھر منتظر رہی اور اس نے درید بھیا کو فون کر دیا تھا۔ مگر اتنے عرصے بعد اپنے شہر جانے کا سن کر ہی اس کا چہرہ کھل اٹھا تھا۔ درید اور میرب دونوں مسکرا دیے۔

”مجھے تو لگتا ہے میرب…. حریم کو سیاں جی ہی یاد آ رہے تھے۔“

”جی نہیں۔“ اس کا چہرہ گل رنگ ہوا تھا۔ مگر بس اک پل کو اور اس کی وجہ درید عباس جانتا تھا۔

اگلے دن وہ دونوں شام میں ملتان پہنچ گئے تھے۔ اسفند اب تک نہیں لوٹا تھا مگر باقی سب نے پرتپاک استقبال کیا تھا حریم فاطمہ کا۔ وہ عشاءپڑھ کر لوٹا تھا…. مگر اس وقت وہ نماز ادا کر رہی تھی۔ اسفند سب کے ساتھ لیونگ روم میں بیٹھ گیا تھا۔

”کیسے تھے سب…. امی ابو ٹھیک تھے۔“

”ایک دم زبردست امی تجھے یاد کر رہی تھیں۔“ وہ سر ہلا کے مسکرا دیا تھا۔

”میرب ٹھیک تھی، اسے بھی لے آتے۔“ سوچا تو تھا، چلو پھر کبھی سہی۔ درید ہولے سے مسکرا کر بولا۔

”السلام علیکم!“ وہ اندر داخل ہوئی تھی۔ اسفند نے اس کے سلام کا جواب بہت اچھے موڈ میں دیا تھا۔ اس کی خیریت دریافت کی تھی۔ حریم کے دل پر جو بوجھ تھا کہ شاید وہ اب تک ناراض سا ہے، کم ہوا تھا۔

”چلو گی ابھی اپنے گھر….!“

”اسفند! ساڑھے نو ہو رہے ہیں، صبح چلے جانا۔“ درید نے فوراً ٹوکا تھا۔

”صبح یارمیں بہت بزی ہوں۔“ اس نے درید کی طرف دیکھا جس کے چہرے پر ناگوار سے تاثر تھے۔

”چلیں حریم!“

”جی….“ وہ تبھی اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔

بہت خاموشی کے ساتھ سفر گزرا تھا۔ نہ اس نے کچھ کہا اور نہ ہی حریم کو کوئی بات کی تھی۔ بائیک گھر کے عین سامنے روکی تھی اس نے۔

اپنے گھر کا لاک کھول کر قدم اندر رکھتے ہی اس کا دل بری طرح لرزا تھا۔ ایک خوفناک حادثہ اس کی ساری زندگی پر محیط ہو گیا تھا۔ وہ اس گھر سے جڑی ساری خوشگوار یادیں جیسے بھول گئی تھی۔ بس وہ ہی دل دہلانے والا منظر یاد رہا تھا۔

اسفندنے یقینا اس کی حالت نوٹس کی تھی تب ہی تو اس کا یخ ہوتاہاتھ اپنے مضبوط ہاتھ میں تھام کر قدم آگے بڑھائے تھے۔

حریم کا یہاں آتے ہی جیسے دم گھٹنے لگا تھا۔ جانے کیوں وہ یہاں سے بھاگ جانا چاہتی تھی۔ حتیٰ کہ اسفند جیسے گھنے سایہ سے بھی یکدم ہی خوف آنے لگا۔ بمشکل اس نے اپنی ضرورت کا سامان نکالا تھا اور چھوٹے سے بیگ میں ڈالا تھا۔

”اور کچھ چاہیے۔“ اسفند کی آواز پر وہ جیسے چونک گئی۔ اس کا پسینے میں شرابور چہرہ اسفند کی نگاہ سے اوجھل نہیں تھا۔ حریم نے نفی میں سر ہلایا۔

”اوکے، چلو….“ اس نے حریم کا ہاتھ تھاما۔ دوسرے ہاتھ میں بیگ اٹھایا تھا۔ رستے میں اس نے حریم کی حالت کے پیش نظر اسے کولڈ ڈرنگ پلائی تھی۔

”ناﺅ ریلیکس پلیز….! تمہارے چہرے پر جو آثار ہیں اگر گھر جا کربھی رہے تو سب کے سوالوں کی زد میں آ جائیں گے ہم….“

”اور خاص کر میں…. درید نے تو میری بات پر یقین بھی نہیں کرنا۔ اس نے فوراً کہہ دینا ہے کہ میں نے تمہیں کچھ کہا ہو گا۔“

گھر پہنچے تو سب ہی سونے جا چکے تھے۔ درید لیونگ روم میں لیٹا تھا۔ حریم بیگ لے کر اندر چلی گئی۔

”تُو یہاں سوئے گا….؟“ وہ درید کے پاس آ گیا۔

”تو کیا تمہارا حریم کو یہاں سلانے کا ارادہ ہے تاکہ ساری دنیا کے سامنے اپنا اوراس کا تماشا بنوا سکو۔“ درید نے پلٹ کر بولا تو اسفند کو گنگ کرگیا۔

”اگر تم میرے اچھے دوست ہو تو وہ مجھے بہنوں کی طرح عزیز ہے اسفند…. مجھے کم از کم اس طرح کے بی ہیویئر کی امید نہیں تھی۔“

”کیا کیا ہے میں نے؟“

”ایک شخص اپنی وائف کو دیکھ کر اتنا روڈ کیسے ہو سکتا ہے۔ حریم کی آنکھوں کے سارے خواب بکھر گئے ہوں گے۔“ وہ تو جیسے تلا ہی بیٹھا تھا کہ اسفند کو خوب سنائے گا۔

”فار گاڈ سیک درید! میں نے ایسا کیا کہہ دیا ہے اسے….“

”ابھی عصرکے بعد ہم یہاں پہنچے تھے۔ تم صبح بھی تو لے جا سکتے تھے اسے…. کیا ہو جاتا اگر تمہاری ایک چھٹی ہوجاتی۔ وہ بیوی ہے تمہاری، ا سکا تم پر اتنا بھی حق نہیں ہے۔“

اندازہ تھا اسے کہ درید بھڑکا بیٹھا ہو گا۔ سو وہ بھی موڈ آف کیے وہاں سے اٹھ کر کمرے میں آ گیاجہاں حریم شایداس کی منتظر بیٹھی تھی۔

”بیٹھی کیوں ہو…. سو جاﺅ۔ سفر کی تھکن ہے…. ریسٹ کرو۔“ وہ نہیں چاہتا تھا کہ درید کے غصہ کا ذرا سا بھی تاثر حریم پر ہو، سو بہت نارمل لہجے میں مخاطب ہوا تھا وہ۔

مگر شاید وہ اس کی جھجک نہیں سمجھ پایا تھا۔ یہ ٹھیک تھا کہ ان کا نکاح ہو چکا تھا،مگر یوں ایک روم میں سونا….

اسفند اسے کہہ کر چینج کر کے سونے کے لیے لیٹ گیا تھا۔ اور اسے جانے کیسے آج نیند بھی جلدی آ گئی تھی۔ مگر رات کے دوسرے پہر جب اس کی آنکھ کھلی تو بھک سے اس کی ساری نیند اُڑ گئی تھی۔

حریم نیچے چادر بچھا کر سوئی ہوئی تھی۔ وہ یکدم اٹھ بیٹھاتھا۔ اسے جگانے لگا مگر پھر رُک گیا۔ اس کی نیند خراب ہونے کے خیال سے۔“

لیکن اس کے بعد وہ رات بھر سو نہ سکا تھا۔

ض……..ض……..ض

جاری ہے۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے