سر ورق / ناول / ساڈا چڑیا دا چنبا نفیسہ سعید قسط نمبر 5

ساڈا چڑیا دا چنبا نفیسہ سعید قسط نمبر 5

ساڈا چڑیا دا چنبا

نفیسہ سعید

قسط نمبر 5

باہر سے آتے تیز شور کی آواز سے نبیرہ کی آنکھ کھل گئی۔

”یہ صبح صبح کون آگیا؟“ نبیرہ نے بمشکل اپنی آنکھیں کھولتے ہوئے گھڑی پر ایک نظر ڈالی، ابھی صرف آٹھ بج کر دس منٹ ہوئے تھے۔ بستر سے اٹھنے کی کوشش کے ساتھ ہی سر میں اٹھتی ٹیس نے اسے گزرا ہوا کل یاد دلا دیا۔ جس کے ساتھ ہی گزرے ہوئے کل کے واقعے نے اس کی اذیت میں کئی گنا اضافہ کر دیا۔ ابوذر سو رہا تھا۔ وہ بمشکل اٹھی۔ منہ پرپانی کے چھینٹے مارے اور کمرے کا دروازہ کھول دیا۔ وہ جانتا چاہتی تھی صبح صبح برپا ہونے والے اس شور کا پس منظر کیا ہے۔

”میں نبیرہ کو آج اور ابھی لے کر جاﺅں گا، دیکھتا ہوں مجھے کون روکتا ہے۔“ یقینا یہ آواز نکل صالح کی تھی۔

”انہوں نے اپنی بیوہ بہن کی پریشانی دور کرنے کیلئے تمہارا اور سکندر کا رشتہ طے کروایا تھا۔“ کان کے قریب ہی روزینہ کی سرگوشی ابھری نبیرہ کا دل یکدم ہی نفرت سے بھر گیا وہ تیزی سے آگے بڑھی لاﺅنج کے دروازے پر پہنچتے ہی اس کے قدم ساکت ہو گئے سامنے ہی سارا گھر موجود تھا۔ عمر، سکینہ، سکندر اور رفیدا کے علاوہ دیوار سے ٹیک لگائے ایدھا بھی کھڑی تھی۔ فاطمہ سامنے رکھی اونچی سی کرسی پر براجمان تھیں عائشہ اور محمد صالح لاﺅنج کے وسط میں کھڑے تھے لگتا تھا کسی نے انہیں بیٹھنے کےلئے بھی نہیں کہا نبیرہ حیران تھی اس نے انکل صالح سے کوئی رابطہ نہ کیا تھا پھر وہ کیوں آئے تھے؟ کل والے واقعہ کی اطلاع انہیں کس نے دی؟ بے شمار سوالات ایک ہی پل میں اس کے دماغ میں آئے جن کا جواب اسے تھوڑی ہی دیر میںمل گیا۔

”آپ اسے بڑے شوق سے لے جا سکتے ہیں کیونکہ میں نے آپ کو بلوایا بھی اسی لئے تھا۔“ اس پر نظر پڑتے ہی سکندر چلایا۔

”اوہ تو ان تمام لوگوں کو سکندر نے خود بلوایا ہے۔“ تذلیل کے ایک اور احساس نے اس کی آنکھوں میں مرچیں سی بھر دیں۔

”ہاں ماموں لے جائیں اسے اپنے ساتھ اب ہم سکندر اس کی شادی کی پسند سے کریں گے۔“ رفیدا نے بڑے ٹھنڈے انداز میں اس پروار کیا سکینہ اور عمر خاموشی سے بیٹھے تھے حیرت کی بات یہ تھی کہ فاطمہ کا ردعمل بالکل ایسا تھا جیسے اس سارے مسئلے سے اس کا کوئی تعلق ہی نہ ہو۔

”ٹھیک ہے یہ میرے ساتھ رہے گی ابھی تو فی الحال میں اسے اور ابوذر کو لے کر جا رہا ہوں لیکن یاد رکھنا جلد ہی حماد بھی ہمارے پاس ہو گا چلو نبیرہ پندرہ منٹ میں اپنا سامان لے کر باہر گاڑی میں آجاﺅ میں تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔“ سکندر کو جواب دیتے ہی انہوں نے نبیرہ کو بھی ہدایت دی اور خود تیزی سے باہر نکل گئے ان کی تقلید میں آنٹی عائشہ بھی باہر نکل گئیں اب یہاں مزید رکنا نبیرہ کےلئے مشکل نہیں ناممکن بھی تھا اس بات کا فیصلہ وہ رات ہی کر چکی تھی لہٰذا خاموشی سے اپنے کمرے میں آگئی اس کے پاس کوئی دوسری چوائس نہ تھی اس وقت یہاں سے نکلنے کا واحد راستہ انکل صالح کے گھر تک کا تھا اپنی آگے کی زندگی کا فیصلہ وہ یہاں سے جا کر ہی کر سکتی تھی خاموشی سے اپنا اور ابوذر کا سامان پیک کرکے وہ باہر آگئی کسی نے بھی اسے روکنے کی کوشش نہ کی اس گھر میں اس کی کیا حیثیت تھی؟ اب مزید یہ جاننے کی خواہش اس کے دل میں نہ تھی تقریباً آدھ گھنٹہ میں وہ انکل کے گھر پہنچ چکی تھی راستہ میں ہی انہوں نے ابوذر کے دودھ کے ٹن، دلیہ اور دیگر سامان پیک کروا لیا تھا وہ بالکل خاموش تھی وہ انکل صالح کے ساتھ ان کے گھر اس حالت میں آئے گی یہ تو اس نے سوچا بھی نہ تھا اسے تو امید ہی نہ تھی کہ سکندر اور اس کے گھر والے اسے اس طرح کھڑے کھڑے گھر سے نکال دیں گے وہ ابھی تک شاک کی حالت میں تھی شام ہوتے ہی ربیعہ اور عبدالوہاب بھی وہاں پہنچ گئے اس کی اجڑی ہوئی حالت دیکھتے ہی ربیعہ رونے لگی جبکہ اس کے آنشو خشک ہو چکے تھے تھے اسے محسوس ہو رہا تھا اب وہ تھک گئی ہے اب جو بھی ہو وہ ہر حال میں پاکستان جانا چاہتی تھی چاہے دنیا کچھ بھی کہے اس کا دل یہاں سے اچاٹ ہو چکا تھا اس کے دل سے دنیا کی باتوں کا خوف اڑن چھو ہو گیا تھا۔

”تم نے اپنے گھر اطلاع دی ہے۔“

ربیعہ نے اسے کندھے تھام کر ہلایا۔

”نہیں پہلے میں ذرا مولانا عبد الرزاق سے مشورہ کر لوں پھر اس کے گھر فون کریں گے۔“ مولانا عبد الرزاق کا نام نبیرہ پہلے بھی سن چکی تھی یہاں اکثر کو نسلنگ کے سلسلے میں ان سے ہی رابطہ کیا جاتا تھا۔

”پھر بات ہوئی آپ کی مولانا صاحب سے۔“ عبدالوہاب نے دریافت کیا۔

”ہاں دو دن تک وہ مصروف ہیں پھر سکندر کی طرف جائیں گے اس سے بات کرکے نبیرہ سے ملاقات کریں گے اس کے بعد کونسلنگ کروائی جائے گی پھر جو بھی فیصلہ ہوا اس کی روشنی میں پاکستان رابطہ کیا جائے گا۔“ انکل نے ہر نقطہ کی وضاحت کرتے ہوئے سمجھایا۔

”انکل پلیز مجھے یہ سب کچھ نہیں کرنا مجھے ہر حال میں پاکستان واپس جانا ہے، میں اب مزید یہاں نہیں رہ سکتی۔“ صالح کی بات ختم ہوتے ہی نبیرہ تیزی سے بولی سب نے ایک ساتھ اس کی جانب دیکھا سختی سے اپنے ہونٹوں کو بھینچے وہ گود میں دھرے اپنے ہاتھوں کی جانب تک رہی تھی شدید ضبط کے باوجود آنسو اس کے گال کو گیلا کر چکے تھے اس کا دکھ ربیعہ کے دل کو چیر گیا گھر سے اس طرح نکالے جانے کی جو اذیت نبیرہ محسوس رہی تھی اس کا اندازہ کوئی چاہ کر بھی نہیں لگا سکتا تھا بے عزتی کے شدید احساس نے اسے اودھ موا کر دیا تھا۔ اپنوں سے دور پردیس کی یہ رسوائی اسے خون کے آنسو رُلا رہی تھی ”اب مجھے یہاں نہیں رہنا“ یہ فیصلہ وہ سکندر کے گھر سے نکالے جانے سے قبل ہی کر چکی تھی پچھلے تین دنوں سے وہ جس کرب کا شکار تھی اس کاواحد حل اب سکندر سے علیحدگی میں پنہاں تھا یہ ہی وجہ تھی کہ اسے کسی بھی کونسلنگ سے کوئی سروکارنہ تھا۔

”مجھے اپنے گھر کال کرنی ہے، میں اپنے والد سے ہر مسئلہ ڈسکس کرنا چاہتی ہوں۔“ وہ حتمی اور اٹل لہجہ میں بولی۔ انکل صالح خاموشی سے اس کے چہرے پر نظریں جمائے جانے کیا سوچ رہے تھے جبکہ عائشہ ابوذر کو گود میں لئے اس کے قریب ہی بیٹھی تھیں۔

”یہ وقت جذباتی فیصلے کرنے کا نہیں ہے تمہیں جو بھی کرنا ہے سوچ سمجھ کر کرنا ہو گا کیونکہ تم پاکستان کے کسی دوسرے شہر میں نہیں ہو جہاں سے ٹکٹ کروا کر میں تمہیں واپس بھیج دوں گا تم ایک دوسرے ملک میں موجود ہو جہاں کے اپنے کچھ قاعدے، قوانین ہیں جن پر عمل پیرا ہونا تمہارے لئے بہت ضروری ہے۔“

”کیا مطلب؟“ وہ بھنویں اچکا کر بولی۔

”مجھے اپنے ملک واپس جانے کیلئے آپ کے ملک کے کن قاعدے اور قوانین کو فالو کرنا ہو گا؟ پلیز انکل ذرا آپ مجھے وضاحت سے سب کچھ سمجھائیں میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ میں واپس کیوں نہیں جا سکتی۔“ وہ الجھ گئی تھی صالح انکل کی بات سمجھ ہی نہ پائی۔

”تمہارا پاسپورٹ کہاں ہے؟“ کسی بھی بات کی وضاحت سے قبل انہوں نے نبیرہ سے صرف یہ ہی ایک سوال کیا جسے سنتے ہی وہ چونک اٹھی۔

”پاسپورٹ وہ تو شاید سکندر کے پاس ہے بلکہ یقینا اس کے پاس ہی ہو گا آپ مانگیں وہ دے دے گا۔“ اس کا لہجہ یقینی تھا۔

”اور ابوذر کے کاغذات مثلاً اس کا برتھ سرٹیفکیٹ اور پاسپورٹ وغیرہ وہ کہاں ہیں۔“ اوہ یہ سب تو اس نے سوچا ہی نہ تھا انکل نے صحیح کہا تھا وہ اتنی آسانی سے اس مصیبت سے جان نہیں چھڑوا سکتی تھی۔ مایوسی کی ایک شدید لہر نے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

”لیکن جب سکندر نے مجھے رکھنا ہی نہیں ہے تو وہ میرے تمام پیپرز بھی دے دے تاکہ میں واپس جا سکوں۔“ مایوسی میں امید کی ایک جھلک اسے نظر آئی۔

”ہاں تمہارے پیپرز تو وہ دینے کو تیار ہے لیکن کیا تم حماد کے ساتھ ساتھ ابوذر کو بھی سکندر کے حوالے کر دو گی؟“ انکل نے نبیرہ سے دریافت کیا جو ہونق بنی ان کا منہ تک رہی تھی۔

”دیکھو بیٹا تم ابوذر کو اپنے ساتھ پاکستان نہیں لے جا سکتیں یہ یہاں کا قانون ہے۔“

”کیوں نہیں لے جا سکتی، میں اس کی ماں ہوں کوئی بھی قانون چند ماہ کے بچے کو اس کی ماں سے جدا نہیں کر سکتا۔“

”یہ ہی بات تو میں تمہیں سمجھا رہا ہوں دیکھو نبیرہ اگر تم پاکستان جانا چاہوگی تو ہمارے ملک کے قانون کے تحت تمہیں اکیلے واپس جانا ہو گا کیونکہ تم اس بچے کو دوسرے ملک نہیں لے جا سکتیں۔“

”لیکن ہمارے ملک کے قانون میں تو ہمیشہ ماں کا ساتھ دیا جاتا ہے خواہ اس کا تعلق کسی بھی ملک سے ہو۔“ اس نے حیرت سے ربیعہ کی سمت دیکھا اس کے چہرے پر بکھری حیرت یہ ثابت کر رہی تھی کہ وہ بھی اسی نقطہ سے اسی طرح لاعلم تھی جس طرح نبیرہ۔

”لیکن یہاں ایسا نہیں ہے البتہ اگر تم سکندر سے علیحدگی اختیار کرکے یہاں رہنا چاہو تو اس سلسلے میں ہم سب تمہاری مدد کر سکتے ہیں۔“

”کیسی مدد؟“

”جیسے میں کوشش کرکے تمہیں یہاں کوئی معقول سی جانب دلوا سکتا ہوں تمہاری یہاں رہائش کا انتظام بھی ہو سکتا ہے بلکہ اگر تم چاہوں تو تم ہمارے ساتھ ہمارے گھر پر بحیثیت بیٹی کے رہ سکتی ہو کیوں عائشہ ٹھیک کہہ رہا ہوں نا میں؟“ بات کرتے کرتے انہوں نے عائشہ کو مخاطب کیا جنہوں نے اثبات میں سر ہلا کر ان کی بات کی تصدیق کی۔

”یہاں رہائش اختیار کرنے میں تمہیں ایک فائدہ اور بھی ہو گا وہ یہ کہ میں کوشش کرکے حماد بھی تمہیں دلا دوں گا۔“ انکل کی یہ تمام گفتگو اس کے کسی بھی مسئلے کا حل نہ تھی وہ یہاں شادی ہو کر سکندر کے ساتھ رخصت ہو کر آئی تھی اب اگر سکندر اس سے کوئی تعلق اور رشتہ نہ رکھنا چاہے تو وہ کس طرح یہاں رہ سکتی تھی کس حیثیت سے وہ اپنی زندگی دیار غیر میں گزار لیتی اپنے پیاروں سے دور، عورت اپنوں سے دوری صرف ایک شخص کیلئے برداشت کرتی ہے جو اس کے شوہر کے منصب پر فائز ہوتا ہے اب اگر وہ شخص ہی اپنا نہ ہو تو پھر کس طرح ساری زندگی گزاری جا سکتی ہے۔ انسان تو سارے معاشرے کے ایک ہی جیسے تھے جو ہاتھوں میں سنگ ریزے لئے جابجا کھڑے نظر آتے ہیں جہاں کہیں موقع ملے اپنے سامنے کھڑے فرد کو لہولہان کر دیں ایسے میں کس طرح وہ اپنی ساری جوانی تیاگ دے یہ سب اس نے سوچا ضرور مگر کہا کچھ نہیں وہ جان چکی تھی جذباتی پن اس تمام مسئلے کا حل نہیں ہے بلکہ اب اسے جو بھی کرنا ہے بہت سوچ سمجھ کر کرنا ہے فی الحال ضروری تھا کہ انکل جو کچھ کہیں ان کی ہاں میں ہاں ملائی جائے۔

”ٹھیک ہے انکل آپ وہ ہی کریں جو آپ کو مناسب لگے۔“ بولتے ہوئے اس کی آواز رندھ گئی، ربیعہ نے جلدی سے آگے بڑھ کر اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔

”ہمت کرو نبیرہ، خدا پر بھروسہ رکھو وہ جو بھی کرے گا بہتر کرے گا۔“ وہ اس کا سر تھپکتے ہوئے دھیرے سے بولی۔

”ہمت ہی تو ہے جو یہ سب کچھ برداشت کر رہی ہوں ورنہ شاید کب کی مر گئی ہوتی۔“

”اچھا یہ ابوذر کو لو وہ کب سے بھوکا ہے پھر ہاتھ منہ دھو کر کپڑے تبدیل کر لو میں اور وہاب تمہیں ذرا باہر گھما لائیں شاید اسی طرح تمہارا دل کچھ بہل جائے۔“ شاید ربیعہ نہیں جانتی تھی کہ وہ دل جو ٹوٹ کر بکھر جائیں وہ اس طرح نہیں بہلتے پھر بھی نبیرہ نہ چاہتے ہوئے بھی خاموشی سے تیار ہو کر ان کے ساتھ باہر آگئی کم از کم وہ اپنا خیال رکھنے والے خود سے منسلک لوگوں کو مایوس نہ کرنا چاہتی تھی ویسے بھی وہ جان چکی تھی اچھی یا بری اپنی زندگی اسے خود جینی ہے اب فیصلہ اس کے اپنے ہاتھ میں تھا کہ وہ کیسی زندگی گزارنا پسند کرتی ہے۔

QQQQ

”دیکھو بیٹا اللہ تعالیٰ نے مردوں کو عورتوں کا ولی مقرر فرمایا ہے، اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں جگہ جگہ فرماتا ہے کہ اپنی بیویوں سے نیک سلوک کرو خاص طور پر سورة النساءمیں اس بارے میں کچھ جگہ وضاحت کی گئی ہے۔“ مولوی صاحب سانس لینے کیلئے رکے اور پل کے پل سکندر کے چہرے پر ایک نظر ڈالی۔

”جانتے ہو اللہ تعالیٰ میاں بیوی کے درمیان صلح کو بہت پسند فرماتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ:

”اگر کوئی عورت اپنے شوہر کی جانب سے زیادتی یا بے رغبتی کا خوف رکھتی ہو تو دونوں (میاں بیوی) پر کوئی حرج نہیں کہ وہ آپس میں کسی مناسب بات پر صلح کر لیں اور صلح (حقیقت میں) اچھی چیز ہے۔“ سورة النسائ)

نبیرہ سر پر دوپٹہ اوڑھے خاموشی سے سرجھکائے مولانا عبد الرزاق کی تمام گفتگو سن رہی تھی وہ دو گھنٹے قبل ان کے ساتھ سکندر کے گھر آئی تھی کیونکہ مشاورت کیلئے سکندر نے انکل صالح کے گھر آنے سے صاف انکار کر دیا تھا اس کا کہنا تھا کہ یہ مشاورت لڑکی کے گھر ہوتی ہے جہاں دونوں فریقین کی جانب سے ایک فرد کی موجودگی ضروری ہے اب جبکہ نبیرہ کا گھر یہاں نہیں ہے تو یہ معاملہ سکندر کے گھر پر طے پایا جانا چاہئے اس سلسلے میں مولانا صاحب نے دوبار اس سے ملاقات کی اور اسے سمجھانا چاہا لیکن وہ مسلسل اپنی بات پر اڑا رہا وہ صالح محمد کو نبیرہ کا سرپرست تسلیم کرنے پر رضا مند ہی نہ تھا۔

”ٹھیک ہے اگر وہ یہاں نہیں آتا تو یہ بھی وہاں نہ جائے گی۔“ انکل صالح نے غصہ میں آکر اپنا فیصلہ سنا دیا مزید ایک ہفتہ اسی کھینچا تانی میںگزر گیا اور بھی جانے کتنا ٹائم اسی طرح گزر جاتا اگر اسی رات پاکستان سے ردا کا فون نہ آجاتا۔ رات کے ایک بجے سوئی جاگی کیفیت میں تھی جب پاکستان سے آنے والی کال نے اس کے تمام احساسات کو بے دار کر دیا عام طور پر کبھی بھی اسے اس وقت کوئی فون نہ کرتا تھا کسی انہونی کے احساس نے اس کے دل کی دھڑکن کو تیز کر دیا اس نے کانپتے ہاتھوں سے یس کا بٹن دبا کر سیل اپنے کانوں سے لگا لیا۔

”السلام علیکم۔“ دھیمی آواز میں بولتے ہوئے اس نے ابوذر پر ایک نظر ڈالی جو اس کے پہلو میں بے خبر سو رہا تھا۔

”وعلیکم السلام۔“ ردا کی آواز اسے بھیگی ہوئی محسوس ہوئی۔

”شاید میری ماں میرے تمام حالات جان چکی ہے پہلا خیال۔“ اس کے ذہن میں یہ ہی آیا۔

”کیا بات ہے ممی سب خیریت تو ہے؟“

”خیریت کہاں بیٹا تمہارے پاپا آئی سی یو میں ہیں۔“ بغیر کسی تمہید کے ردا روتے ہوئے بولیں۔

”کیا ہوا پاپا کو؟“ وہ ایک دم شاک ہو گئی یہ بالکل ایک غیر متوقع خبر تھی۔ اس کا دل صبح سے گھبرا رہا تھا، جس کی وجہ اب سمجھ میں آئی۔

”یا اللہ میرے پاپا کو صحت عطا فرما۔“ اس کے دل کی گہرائیوں سے آواز نکلی حالانکہ ابھی وہ یہ بھی نہ جانتی تھی کہ احتشام صاحب صاحب کو ہوا کیا ہے؟

”ان کو دوسرا ہارٹ اٹیک آیا ہے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ بائی پاس کرنا پڑے گا ہم تمہیں پردیس میں پریشان نہ کرنا چاہتے تھے بیٹا اسی لئے اطلاع نہ دی لیکن اب جب ڈاکٹرز نے آپریشن بتایا تو میں صبر نہ کر سکی کیا تم کسی طرح پاکستان نہیں آسکتیں۔“ بات کرتے کرتے ردا نے وہ سوال کیا جس کا جواب دل کی گہرائیوں سے سوائے ہاں کے کچھ نہ تھا۔

”بیٹا میں چاہتی ہوں تم پاکستان آکر اپنے پاپا سے مل لو ویسے بھی وہ تمہیں بہت یاد کرتے ہیں ہمارا پروگرام تھا ایک ماہ تک وہاں آنے کا لیکن یہ بس اچانک ہی پرسوں جانے انہیں کیا ہو گیا۔“ ردا بھرائی ہوئی آواز میں اسے تمام تفصیل سنا رہی تھیں جسے وہ خالی الذہنی سے سن رہی تھی مصیبت ایک کے بعد ایک اس کی طرف لپک رہی تھی اس کی سمجھ میں نہ آیا وہ ردا کو کیا جواب دے اس کا بس چلتا تو ابھی اڑ کر پاکستان چلی جاتی لیکن پاﺅں میں پڑی مجبوری کی زنجیریں اسے جکڑے ہوئی تھیں۔

”تم کہو تو میں سکندر سے بات کروں تمہیں پاکستان بھجوا دے بے شک پندرہ دن کیلئے ہی سہی۔“ ردا اس کے دل کی کیفیت سے بے خبر بولے جا رہی تھی نہیں جانتی تھی کہ ان کی لاڈلی بیٹی کس اذیت سے دوچار ہے۔

”نہیں ممی پلیز آپ انہیں کچھ مت کہیں میں خود بات کرکے آپ کو کل تک بتا دوں گی اور آپ اپنا خیال رکھئے گا اللہ پاپا کو جلد صحت عطا فرمائے گا۔“

اور پھر فون بند کرنے تک اس نے ردا کو اپنے بارے میںکچھ بھی نہ بتایا یہ بھی نہیں کہ وہ انکل صالح کے گھر قیام پذیر ہے وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس پریشانی میں اپنی ماں کو مزید کوئی دکھ دے وہ ساری رات نبیرہ نے جائے نماز پر گزار دی وہ رو رو کر اپنے باپ کی صحت و سلامتی کیلئے دعائیں کرتی رہی باپ کی تکلیف نے اپنا درد بھی بھلا دیا۔

”پلیز انکل آپ سکندر سے کہیں میرا پاسپورٹ دے دے مجھے ہر حال میں پاکستان جانا ہے۔“ وہ روتے ہوئے صالح محمد سے التجا کر رہی تھی جو خاموشی سے اس کی ہر بات کو سن رہے تھے انہیں صبح ہی پتا چلا تھا کہ احتشام آئی سی یو میں ہیں۔ اس کے بعد امان اور ردا کو فون کرکے انہوں نے تمام صورتحال معلوم کر لی تھی احتشام کے بائی پاس کی خبر نے انہیں بھی پریشان کر دیا تھا اب ان کی سمجھ میں بھی نہ آرہا تھا کہ فوری قدم کیا ہونا چاہئے؟

”ٹھیک ہے بیٹا تم خود کو سنبھالو میں سکندر سے بات کرتا ہوں۔“ اسے تسلی دیتے وہ گھر سے چلے گئے، شام کو ان کی واپسی تک نبیرہ جلے پیر کی بلی کی طرح گھر میں پھرتی رہی وہ پہلا دن تھا جب اسے ابوذر کا خیال بھی نہ آیا آج اگر اسے کچھ یاد تھا تو صرف اپنا باپ، وہ مسلسل شفا سے رابطہ میں تھی جو پل پل کی خبریں اسے دے رہی تھی کتنے خوش نصیب تھے سب لوگ جو ایک ساتھ تھے ایک وہ ہی بدنصیب تھی جو اپنوں سے دور قید تنہائی کاٹ رہی تھی شام تک انکل کے انتظار میں گزارے جانے والے چھ گھنٹے اسے چھ صدیوں کے برابر لگ رہے تھے۔

”انکل لے آئے آپ میرا پاسپورٹ؟“ انکل کے گھر میں داخل ہوتے ہی وہ بے قراری سے ان کی جانب بڑھی، انہوں نے رک کر ایک نظر اس کے ستے ہوئے چہرے پر ڈالی۔

”تم نے آج کھانا نہیں کھایا؟“ یہ اس کے سوال کا جواب تھا، اسے یاد آیا وہ صبح سے بھوکی تھی حالانکہ عائشہ کئی بار اس کی منت کر چکی تھیں کہ وہ کچھ کھا لے مگر جانے کیوں اس کا دل ہی نہ چاہ رہا تھا۔

”دل نہیں چاہا کھانا کھانے کو۔“ وہ دھیمے سے بولی۔

”تو آﺅ پہلے میرے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاﺅ پھر بات کرتے ہیں۔“ بمشکل اپنے حلق سے چند نوالے اتارنے کے بعد وہ پھر سے اپنے مدعا پر آگئی۔

”انکل مجھے پاکستان جانا ہے اپنے پاپا کے پاس۔“

”دیکھو نبیرہ میں نے تمہیں پہلے ہی کہا تھا کوئی بھی کام جذباتی ہو کر مت کرو بلکہ ہر بات سوچ سمجھ کر کرو۔“ انکل نے پاس رکھے برتن میں اپنے ہاتھ دھوئے اور انہیں تولیہ سے خشک کرتے ہوئے نبیرہ کو سمجھایا۔

”دیکھو بیٹا میں تمیں پہلے بھی سمجھا چکا ہوں فی الحال ان حالات میں تمہارا پاکستان جانا قطعی غیر مناسب ہے جب تک تمہارے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہ ہو تمہارا یہاں موجود رہنا اشد ضروری ہے۔“

”لیکن انکل میرے پاپا سیریس کنڈیشن میں ہےں۔“ وہ روتے ہوئے بولی۔

”ٹھیک ہے اگر تم چاہتی ہو پاکستان جانا تو بے شک جاﺅ اس سلسلے میں سکندر کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہے، میں کل ہی تمہارے پیپرز جمع کروادیتا ہوں لیکن یہ یاد رکھنا کہ تم یہ سفر تنہا ہی کرو گی ابوذر تمہارے ساتھ نہ ہو گا اور پھر یہ بھی سوچو نبیرہ اگر تمہیں وہاں پہنچنے ہی سکندر طلاق کے پیپرز بھجوا دے تو تم کیا کرو گی۔“ انکل کے آخر جملے نے روتی ہوئی نبیرہ کو سر اٹھانے پر مجبور کر دیا طلاق کا خوف اس کے اعصاب کو جھنجلا گیا وہ بھی اس وقت جب اس کا باپ ہسپتال میں زندگی و موت کی کشمکش میں پڑا ہو اس کے دونوں بچے اس سے میلوں دور ہوں، آج سے چار سال قبل شروع ہونے والا یہ کٹھن سفر اسے تہی دامن کرکے ایک جھٹکے میں ہی ختم ہو جاتا وہ جہاں سے چلی تھی وہاں واپس پہنچ جاتی اپنی ذات کی نفی کرکے بھی اسے کچھ حاصل نہ ہوتا، خسارہ اس کا مقدر بن جاتا سکندر ہر ظلم کے بعد بھی فاتح ہی قرار پاتا دو بیٹے، پسندیدہ بیوی اور ہر طرح کی عیاشی اس کا نصیب بن جاتی، اس کے ہاتھ کیا آتا سوائے ذلت اور رسوائی کے، انکل کیا کہنا چاہتے تھے وہ با آسانی سمجھ گئی ویسے بھی گزرتے ہوئے وقت اور حالات نے اسے اپنی عمر سے زیادہ سمجھ دار بنا دیا تھا آہستہ آہستہ وہ اپنے جذبات پر قابو پانے کا فن سیکھ گئی تھی۔

”ٹھیک ہے، انکل مگر میں اپنی ممی کو کیا جواب دوں؟“ وہ اپنی جذباتی کیفیت سے ایک دم ہی باہر نکل آئی۔

”گڈ نبیرہ تم کافی سمجھدار ہو بیٹا اور مجھے تمہاری یہ عادت بہت پسند ہے تم ہر بات جلدی مان جاتی ہو۔“ انکل نے اطمینان بھرا سانس لیتے ہوئے اس کے سر پرہاتھ رکھا۔

”تم اپنی والدہ سے کہو کہ تمہارے پیپرز نیشنیلٹی کیلئے جمع ہیں لہٰذا ان دونوں تمہارا ویزا لگنا نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن بھی ہے پھر بھی انہیں سمجھا دینا کہ تم کوشش کر رہی ہو جیسے ہی ممکن ہوا تم پاکستان ضرور آﺅ گی۔“

”ٹھیک ہے انکل۔“ بات اس کی سمجھ میں آگئی۔ اب وہ آسانی سے اپنے گھر والوں کو قائل کر سکتی تھی۔

”اور ہاں آج مجھے سکندر کا فون بھی آیا تھا۔“

”سکندر کا فون؟“ اس نے حیرت سے سوال کیا۔

”ہاں وہ تم سے ملنا چاہتا ہے اس سلسلے میں اس نے مولانا عبد الرزاق سے بھی رابطہ کیا ہے۔“

”ضرور یہ اس کی کوئی چال ہو گی ورنہ میں نہیں سمجھتی کہ وہ اتنی آسانی سے آپ کو فون کرکے مجھ سے ملاقات کی بات کرتا۔“ وہ خاصی بدظن تھی، بدگمانی اس کے لہجہ سے جھلک رہی تھی جسے صالح محمد نے محسوس ضرور کیا مگر کہا کچھ نہیں۔

”اصل میں، میں میں نے حماد کےلئے یہاں کی ایک شرعی عدالت سے رجوع کیا تھا جو قریبی اسلامک سینٹر میں موجود ہے، میرا مطالبہ حماد کی کسٹڈی کا تھا تین سالہ بچہ کوئی بھی باپ اپنی تحویل میں نہیں رکھ سکتا وہ بھی اس صورت میں جب وہ دوسری شادی کرنا چاہتا ہوں۔“

”اوہ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اپنے بیٹے سے جدائی کے تصور نے اسے مجھ سے رابطہ کرنے پر مجبور کر دیا۔“ بات اس کی سمجھ میں آگئی۔

”ہاں…. اور اب جب اس نے خود مجھ سے رابطہ کر لیا ہے تو میرا خیال ہے کہ تم مولانا صاحب کے ساتھ فاطمہ کے گھر چلی جاﺅ سکندر تم سے مشاورت اپنے گھر میں ہی کرنا چاہتا ہے اس سلسلے میں وہ کوئی بات سننے پر آمادہ نہیں ہے۔“ اپنے باپ کی بیماری، ماں کے دکھ، بہن بھائیوں کی پریشانی اور ان حالات میں ان سے دوری نے نبیرہ کو اندر سے توڑ دیا تھا بظاہر وہ مضبوط نظر آرہی تھی لیکن جو کیفیت اس کے دل کی تھی وہ ہی جانتی تھی اسی احساس شکست نے اسے مجبور کیا کہ وہ مولانا صاحب کے ساتھ واپس اس گھر میں جائے جہاں واپس نہ جانے کی وہ دل ہی دل میں کئی بار قسم کھا چکی تھی شاید ابھی اس کے نصیب کی مزید کچھ آزمائشیں باقی تھیں اسے لگتا وہ اپنے رب کی پسندیدہ بندی ہونے کا اعزاز حاصل کر چکی ہے یہ ہی وجہ تھی جو وہ آزمائشوں کےلئے منتخب کر لی گئی تھی اور جب وہ مشاورت کیلئے سکندر کے گھر آئی تو یہ سوچ چکی تھی سمجھوتا وہ واحد حل ہے جو اس کی زندگی کو تاریک ہونے سے بچا سکتا ہے اور یہ سمجھوتا اسے اپنے بچوں کیلئے کرنا تھا جنہیں لے کر وہ یہاں سے نہ جا سکتی تھی۔

”مولانا صاحب یہ بہت نافرمان ہے، میرے حکم کی رد گردانی کرتی ہے۔“ وہ اپنی سوچوں میں گم تھی جب سکندر کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی وہ یکدم چونک اٹھی۔

”تو کیا تم نافرمان نہیں ہو؟“ مولانا صاحب نے الٹا سکندر سے سوال کیا۔

”کیا تم اپنے رب کے حکم کی ردگردانی نہیں کرتے؟“ مولانا صاحب کے اس سوال کا بھی جواب سکندر کے پاس نہ تھا اس نے خاموشی سے سر جھکا لیا۔

”جب تم اپنے رب کی نافرمانی کرتے ہو تو کیا وہ تمہیں بے گھر کر دیتا ہے؟ تمہارے نصیب میں لکھا گیا رزق چھین لیتا ہے؟ یا تمہیں دنیا میں ذلیل و خوار کرتا ہے؟ تمہیں بیماریوں کے بوجھ سے لاد دیتا ہے؟ بتاﺅ سکندر تمہارا رب تمہاری نافرمانیوں پر تمہیں کون سی سزا دیتا ہے؟ وہ نافرمانی جو تم اس کی دن رات کرتے ہو کیا وہ ان پر تمہیں معاف نہیں فرماتا؟ بے شک معاف فرماتا ہے جب ہم اس سے معافی طلب کرتے ہیں تو تمہارے خیال میں یہ عورت جو آج تمہارے سامنے سر جھکائے بیٹھی ہے تم سے معافی کی طلب گار نہیں ہے۔“ مولانا صاحب نے اسے ایک بار پھر لاجواب کر دیا۔

”اللہ تعالیٰ نے تو بدکار عورتوں کےلئے بھی معافی کی گنجائش رکھی ہے پھر تم کیوں اس کے حکم سے رد گردانی کرتے ہوئے اپنی بیوی کو گھر سے نکالنے کے در پے ہو، کیوں اس سے دونوں بچے چھیننا چاہتے ہو کوئی بھی ظلم کرنے سے پہلے یاد رکھنا اللہ تعالیٰ ظالم سے حساب ضرور لیتا ہے۔“ بات کرتے ہوئے مولانا صاحب کے لہجہ میں اشتعال آگیا۔

”تم ایک نیک عورت کے ساتھ زیادتی کے مرتکب ہو رہے ہو وہ بھی صرف اس بنا پر کہ یہ تم کو ناپسند ہے۔“ نبیرہ نے ایک نگاہ سکندر کے چہرے پر ڈالی اپنی ناپسندیدگی کا اظہار وہ مولانا صاحب کے سامنے بھی کر چکا تھا۔ اس سوچ نے نبیرہ کے دل کو دکھ سے بھر دیا آج اس کے باپ کا بائی پاس تھا شاید آپریشن شروع ہو چکا ہو گا اس نے سامنے لگی دیوار گیر گھڑی پر ایک نظر ڈال بے اختیار ہی سورة فاتحہ کا ورد اس زبان سے جاری ہو گیا۔

”دیکھو بیٹا قرآن نے ہمیشہ عورتوں کے ساتھ نیک سلوک کا حکم دیا ہے فرمان خداوندی ہے۔“

”ان کے ساتھ اچھے طریقے سے برتاﺅ کرو پھر بھی اگر تم انہیں ناپسند کرتے ہو تو ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور اللہ اس میں بہت سی بھلائی رکھ دے۔“ مولانا صاحب نے اپنی گود میں رکھے قرآن شریف کو کھول کر سورة النساءکی مذکورہ بالا آیت نہ صرف پڑھ کر سنائی بلکہ قرآن مجید کو سکندر کے سامنے بھی کر دیا۔

”دیکھو بیٹا تمہاری کوئی بھی شکایت ایسی نہیں ہے جسے بنیاد بنا کر تم اپنی بیوی سے علیحدگی اختیار کرنا چاہتے ہو، یاد رکھو جائز کاموں میں طلاق اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسند کیا جانے والا فعل ہے تو کیا تم بلا سبب کوئی ایسا فعل سرانجام دینا پسند کرو گے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک ناپسندیدہ ہو۔“ مولانا صاحب نے اپنی بات کے اختتام پر سکندر پر ایک نظر ڈالی۔

”مولانا صاحب اس کے کسی غیر مرد سے تعلقات بھی ہیں جو پاکستان سے نہ صرف اسے مسیج کرتا ہے بلکہ اکثر و بیشتر اس کے فون بھی آتے رہتے ہیں۔“ ایک اور نیا الزام کوئی اور وقت ہوتا تو وہ چلا اٹھتی مگر اس وقت وہ سوچنے سمجھنے کی تمام صلاحیتیں کھو چکی تھی۔

”تمہارا شوہر جو الزام تم پر لگا رہا ہے کیا وہ درست ہے۔“ مولانا صاحب کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی، اس نے خالی خالی نظروں سے ان کی جانب تکا وہ سمجھ ہی نہ پائی وہ کیا کہنا چاہتے ہیں۔

”نیک عورتوں کےلئے نیک مرد اور بری عورتوں کیلئے۔“ جانے یہ آواز کس کی تھی اس نے چونک کر ایک نظر سکندر کی چہرے پر ڈالی۔

”تو کیا میں بدکردار عورت ہوں جو میرے مقدر میں سکندر جیسا مرد لکھ دیا گیا۔“ اسے سوچنے سے بھی یاد نہ آیا اس کی زندگی کا کوئی ایسا پل جو یہ ثابت کر دے کہ نبیرہ احتشام ایک بدکردار عورت ہے۔

”دیکھو بیٹی شادی کے بعد عورت اپنے مرد کی امانت ہوتی ہے۔“ اس کی خاموشی سے جانے مولانا صاحب نے کیا نتیجہ اخذ کیا۔

”اگر تمہارے شوہر کی بات درست ہے تو اپنی اصلاح کرو، اگر یہ تم پر بہتان باندھ رہا ہے تو پھر اس کی پکڑ اللہ تعالیٰ کے ہاں ضرور ہو گی۔“

”یہ بہتان نہیں ہے، آپ پوچھیں اس سے کیا اس کے تعلقات کسی سنان نامی شخص سے نہیں ہیں۔“ نبیرہ کی خاموشی نے سکندر کو مزید شہہ دے دی۔

”سنان۔“ اس کے سوئے ہوئے احساسات جھنجلا اٹھے اس نام کے ساتھ ہی وہ سب کچھ بھول گئی وہ جسمانی طور پر یہاں تھی دماغی طور پر وہ کراچی کے ایک کارڈیو ہسپتال کے آئی سی یو کے باہر بیٹھی تھی جہاں اس کا باپ ایڈمٹ تھا اس کے آس پاس گھر کے تمام افراد موجود تھے بے اختیار سورة فاتحہ کا ورد اس کی زبان پر جاری ہو گیا آنکھوں سے جاری آنسو اس کے گالوں کو بھگوتے جا رہے تھے۔

”دیکو بیٹا اللہ تعالیٰ معاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے بہتر یہ ہے کہ تم دونوں سب کچھ بھلا کر آپس میں صلح کر لو کیونکہ یہ عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک نہایت پسندیدہ عمل ہے۔“ جواباً سکندر نے کیا کہا وہ سمجھ نہ پائی عین اس وقت اس کے قریب رکھا موبائل فون بج اٹھا بے اختیار اس کی نگاہ سامنے لگی گھڑی پر پڑی شاید آپریشن مکمل ہو چکا تھا صرف تین گھنٹوں میں ایسا ہونا مشکل ہی نہیں ناممکن امر بھی تھا پھر یہ فون کس کا آرہا تھا شاید انکل صالح کا ہو اس نے کپکپاتے ہاتھوں سے فون اٹھایا جو بند ہو چکا تھا۔

”نبیرہ بنت احتشام کیا تمہیں اپنے شوہر کی تمام باتیں منظور ہیں وہ سب جو ابھی اس نے تم سے کہا؟“ اسے یاد ہی نہ آیا کہ سکندر نے اس سے کیا کہا تھا اس کا پورا جسم ہولے ہولے لرز رہا تھا وہ خوف زدہ تھی فون ایک بار پھر بج اٹھا، کمرے میں موجود دونوں افراد نے بھی بے اختیار اس کے زرد چہرے پر نظر ڈالی۔

”کس کا فون ہے؟“ سکندر کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی اس نے اپنے ہاتھ میں تھامے سیل پر ایک نظر ڈالی اسکرین پر جگمگانے والا نمبر یقینا شفا ہی کا تھا وہ کپکپا اٹھی۔

”یا اللہ خیر کرنا مجھے کسی بھی بری خبر سے محفوظ رکھ میرے مالک میرے باپ کو صحت کاملہ عطا فرمانا۔“ دل ہی دل میں دعا کرتے ہوئے اس نے یس کا بٹن دبا کر سیل اپنے کانوں سے لگا لیا اپنے دل کی دھڑکن کی آواز اسے اپنے کانوں میں سنائی دے رہی تھی اس وقت اس کی ذات کمرے میں موجود دونوں نفوس کی مکمل توجہ کا مرکز تھی دوسری طرف شفا کی آواز سنتے ہی اسے محسوس ہا جیسے وہ بے ہوش ہو جائے گی اسے اپنی ٹانگوں سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی اس کا تمام جسم سن ہو گیا سکندر نے کب اس کے ہاتھ سے سیل تھاما اسے ہوش ہی نہ رہا اس کا ذہن مکمل طور پر تاریکی میں ڈوب چکا تھا یقینا وہ بے ہوش ہو گئی تھی۔

مجھے اتنا پیار نہ دو بابا کل جانے مجھے نصیب ہو۔

میں بھی روتی ہوں، تم آنسو پونچھا کرتے ہو۔

مجھے اتنی دور نہ چھوڑ آنا، میں روﺅں اور تم قریب نہ ہو۔

میرے ناز اٹھاتے ہو بابا۔

میری چھوٹی چھوٹی خواہش پر تم جان لوٹاتے ہو بابا۔

کل ایسا نہ ہو اک نگری میں، میں تنہا تم کو یاد کروں۔

اور رو رو کے فریاد کروں۔

اے اللہ کوئی میرے بابا جیسا ناز اٹھانے والا ہو۔

وہ چت لیٹی یک ٹک کمرے کی چھت پر لگے اسٹارز کو دیکھ رہی تھی جو اندھیرے میں چمک رہے تھے وہ سوچ بھی نہ سکتی تھی کہ حالات اسے اس نہج پر لے آئیں گے جہاں سے واپسی کا راستہ نہ صرف دشوار گزار بلکہ ناممکن ہو گا اس نے تو کبھی سوچا بھی نہ تھا وہ دور دیس میں اپنے پیاروں سے دور اس طرح کے دن بھی گزارے گی ان تمام مشکلات میں گھر کر بھی ایک اطمینان اس کے دل کو حاصل تھا وہ تنہا نہ تھی اس نے پلٹ کر اپنے پہلو میں دیکھا ابوذر گہری نیند سو رہا تھا سکندر اس کی تلاش میں کتے کی طرح سارا شہر سونگھتا پھر رہا تھا وہ جانتی تھی اس کے گھر والے بھی اس سے رابطے کےلئے بے قرار ہوں گے وہ مجبور تھی، اسے حالات نے مجبور کر دیا تھا اس کیلئے بھی یہ ہی بہتر تھا وہ کسی سے رابطہ نہ رکھے اپنی تنہائی اور بے بسی کے احساس سے اس کا دل بھر آیا بے اختیار آنسو اس کی گالوں کو بھگوتے ہوئے تکیہ پر گرنے لگے۔

QQQQ

کھانا کھاتے کھاتے اس کی نظر شیشے سے اس پار روڈ پر پڑی جہاں ہلکی ہلکی بارش میں فٹ پاتھ پر ایک نوجوان لڑکا اور لڑکی جا رہے تھے لڑکی نے ڈارک یلو سوٹ پہن رکھا تھا جو اس امر کی نشاندہی کر رہا تھا کہ وہ ہندو تھی ویسے بھی یہاں عام طور پر اس طرح کے گہرے رنگ ہندو ہی پہنتے تھے لڑکا جانے اس کے کان میں کیا کہہ رہا تھا لڑکی کے چہرے پر پھیلی مسکراہٹ اسے دور سے بھی نظر آرہی تھی۔

”کیا کھاﺅ گی؟“ سکندر کی آواز سنتے ہی وہ چونک اٹھی ویٹران کے قریب ہی کھڑا تھا غالباً آرڈر لینے کیلئے۔

”چکن تکیہ“ یہ ایک پاکستانی ہوٹل تھا جہاں وہ سکندر سے خاص فرمائش کرکے آئی تھی ویسے بھی جب سے مولانا عبد الرزاق نے سکندر کو سمجھایا تھا اس کے رویہ میں خاطر خواہ تبدیلی آئی تھی جو نبیرہ کیلئے خوش آئند تھی آج بھی دونوں نے پہلے سینما میں لگی پاکستانی مودی دیکھی اور پھر اسی کی فرمائش پر سکندر اسے پاکستانی ریسٹورنٹ بھی لے آیا اور اب وہ مزے سے چکن تکہ انجوائے کر رہی تھی اس کے دونوں بچے گھر پر فاطمہ کے پاس تھے جب وہ گھر آئے ابوذر بھی دادی کے پاس سو چکا تھا۔

”اسے یہیں سونے دو ورنہ یہ ڈسٹرب ہو گا جاگ گیا تو تمہیں بھی نہ سونے دے گا۔“

سکندر کے کہنے پر وہ ابوذر کو چھوڑ کر اپنے کمرے میں آتو گئی تھی مگر وہ ساری رات اس نے کانٹوں پر گزاری اسے آج اندازہ ہوا وہ ابوذر کے بنا ایک پل بھی نہیں جی سکتی شاید وہ حماد سے زیادہ ابوذر سے محبت کرتی تھی لیکن نہیں وہ تو حماد پر بھی جان دیتی تھی یہ اور بات تھی حماد کو اس سے انسیت بالکل نہ تھی وہ اگر کسی سے محبت کرتا تھا تو شاید وہ فاطمہ تھی ورنہ کبھی نبیرہ نے اسے سکندر سے بھی بے جا لاڈ کرتے نہ دیکھا تھا بے شک سکندر کا رویہ اس سے تبدیل ہو چکا تھا مگر دونوں کے درمیان جو تکلف کی دیوار شروع دن سے قائم ہوئی تھی وہ آج بھی برقرار تھی آج بھی سکندر پہلے دن والا وہ ہی مرد تھا جس نے اسے شادی کی رات ہی بتا دیا تھا کہ عورت اس کی کبھی ضرورت نہ تھی اپنی اس بات پر وہ آج بھی قائم تھا نبیرہ بھی شاید اس ماحول اور رویے کی عادی ہو کی تھی نبیرہ کو حیرت تو اس بات پر تھی کہ اس کی واپسی کے بعد سے نور ہلیزا ابھی تک سکندر سے ملنے نہ آئی تھی ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے ان دونوں کے درمیان موجود تعلق ختم ہو چکا ہو مگر یہ اس کی خام خیالی تھی ایسے تعلقات زمانے کی نظروں سے چھپ ضرور جاتے ہیں مگر کبھی ختم نہیں ہوتے جس کا اندازہ گزرتے وقت میں اسے بھی ہو گیا تھا۔

QQQQ

نور ہلیزا ہسپتال میں تھی اپنی جاب سے واپس آتے ہوئے ایک نیگرو نے اسے لوٹنے کی کوشش کی تھی، نور ہلیزا کی طرف سے معمولی مزاحم پر وہ اسے بھرے روڈ پر بے دردی سے پیٹ کر پھینک گیا جب یہ خبر نبیرہ نے سنی تو شاک رہ گئی۔

”ہمارے دیس میں عورتوں کو اس طرح سرعام پیٹنے کی کوئی شخص جرا ¿ت نہیں کر سکتا۔“

”وہ جو تمہارا میڈیا عورت کا استحصال دکھاتا ہے وہ کیا ہے؟“

رفیدا سے کبھی بھی نبیرہ کے منہ سے اپنے دیس کی تعریف سنی نہ جاتی تھی اس لئے برداشت نہ کر سکی اور فوراً بول پڑی۔

”وہ چند ایک واقعات ہوتے ہیں گاﺅں دیہات میں جہاں تعلیم کی کمی ہے اور کچھ ذاتی دشمنی کا شاخسانہ بھی ہوتے ہیں لیکن عام طور پر بڑے شہروں کی چلتی ہوئی شاہراہ پر کوئی لیٹرا ایسی حرکت نہیں کر سکتا۔“ وہ ہر ممکن طور پر اپنے وطن کا دفاع کرتے ہوئے بولی۔ رفیدا بنا جواب دیئے اپنی جگہ سے اٹھ گئی وہ دونوں ماں بیٹیاں سکندر کے ساتھ ہسپتال جا رہی تھیں وہ خود بھی جانا نہ چاہتی تھی اس لئے خاموشی سے اپنے کمرے میں چلی گئی تاکہ کپڑوں والی الماری کی صفائی کر سکے ابھی اس کا کام ادھورا ہی تھا کہ روزینہ آگئی وہ اپنے آفس سے سیدھی یہاں آئی تھی۔

”اچھا ہوا بھابی آپ آگئیں میں اکیلی بور ہو رہی تھی۔“

نبیرہ اسے دیکھ کر خوشی سے کھل اٹھی اس نے جلدی جلدی سارے کپڑے الماری میں ڈالے اور اٹھ کھڑی ہوئی۔

”آنٹی اور رفیدا تو نور ہلیزا کو دیکھنے ہسپتال گئے ہیں۔“

”ہاں مجھے ایدھا نے بتایا میں نے رفیدا سے کہا تھا کہ میرا انتظار کرے میں انہیں اپنے ساتھ ہی لے جاﺅں گی مگر وہ چلی گئیں، بہرحال دونوں اپنی مرضی کی مالک ہیں تم سناﺅ کیسی گزر رہی ہے زندگی، مزے میں تو ہو؟“

وہ اس کے بیڈ پر اطمینان سے بیٹھ گئی۔

”اللہ کا شکر ہے“ نبیرہ نے آہستہ سے مختصر سا جواب دیا۔

”سکندر تمہارے ساتھ ٹھیک ہے؟“

روزینہ اسے ٹٹولتی ہوئی نظروں سے دیکھ کر بولی

”جی۔“

”ایک بات پوچھوں نبیرہ برا تو نہ مانو گی۔“

”نہیں پہلے میں نے آپ کی کسی بات کا برا مانا ہے جواب مانوں گی۔“

وہ روم فریج سے پیپسی کاٹن نکال لائی تھی ساتھ ہی کمرے میں رکھے کو کیز کے ڈبے سے کچھ کو کیز نکال کر اس نے پلیٹ میں رکھ دیئے۔

”تمہارے اور سکندر کے درمیان ازدواجی تعلقات کب سے نہیں ہیں؟“

وہ بنا کسی تمہید کے بولی اس کے سوال نے نبیرہ کو سن کر دیا۔

”یہ مت سمجھنا کہ میں تم سے کچھ اگلوانا چاہتی ہوں حقیقت یہ ہے کہ میں نے جب سے یہ بات سنی میں بہت شاک تھی اور آج جان بوجھ کر اس ٹائم آئی ہوں جب تمہارے پاس کوئی نہیں، میں چاہتی ہوں تم مجھے سب کچھ سچ سچ بتاﺅ۔“

”آپ کو یہ سب کس نے بتایا؟“

اپنی انا کا خول ٹوٹنے پر وہ چٹخ سی گئی جب بولی تو کرچیوں کی چبھن اس کے لہجہ تھی۔

”نور ہلیزا۔“

ان الفاظ نے نبیرہ کو لرزا دیا نور ہلیزا اس کے اور سکندر کے درمیان موجود تمام تعلقات کو جانتی تھی ورنہ کبھی بھی یہ بات اتنے وثوق سے آگے تک نہ پہنچاتی، وہ کیا کہہ سکتی تھی شرمندگی سے گردن جھکالی اس کی آنکھیں لبالب پانی سے بھر گئیں۔

”اس کا مطلب یہ ہوا نور ہلیزا نے جو کچھ مجھ سے کہا سب سچ ہے۔“

”اس نے آپ سے اور کیا کہا؟“

”بس یہ ہی کہ اس نے سکندر کو پابند کر رکھا تھا وہ کبھی بھی تمہیں ہاتھ نہ لگائے گا اور یہ بھی کہ سکندر کوئی ایسا راستہ تلاش کر رہا ہے جس پر چل کر تمہیں واپس بھیجا جا سکے کیونکہ تمہاری یہاں رہائش سکندر کےلئے خطرہ ہے اگر وہ تمہیں طلاق دیتا ہے اور تم ملائیشیا ہی رہ جاتی ہو تو سکندر اپنے بیٹے تمہیں دینے کا پابند ہو گا بصورت دیگر تمہارے وطن واپسی کی صورت میں تم بچے اپنے ساتھ نہیںلے جا سکتیں اور اب یہ دونوں مل کر تمہیں اس طرح یہاں سے نکالنا چاہتے ہیں کہ تمہارے پاس سوائے پاکستان واپسی کے کوئی دوسرا راستہ نہ بچے۔“

روزینہ نے ایک ہی سانس میں ساری تفصیل اسے سنا دی جسے سنتے ہی نبیرہ کو ایسا محسوس ہوا جیسے وہ سر کے بل اونچائی سی نیچے آگری ہو سکندر کے رویے کی تبدیلی کی وجہ وہ اب سمجھ پائی تھی آج بھی روزینہ ہی اس کے کام آئی تھی اگر وہ اسے یہ سب نہ بتاتی تو جانے اس کا کیا حشر سکندر کے ہاتھوں ہونے والا تھا۔

”بھابی میں تو سمجھ ہی نہ پا رہی تھی کہ سکندراور نور ہلیزا کے تعلقات ایک دم ختم کیسے ہو گئے بہر حال آپ کا بہت بہت شکریہ جو آپ نے مجھے بروقت ہی سب کچھ بتا دیا اب میں انشاءاللہ اپنے بچاﺅ کی کوئی نہ کوئی راہ ڈھونڈ کر ہی رکھوں گی۔“

وہ اظہار تشکر میں روزینہ کے دونوں ہاتھ تھام کر بولی۔

”میری اتنی مشکور ہونے کی ضرورت نہیں ہے تم میری بہنوں جیسی ہو بس میں صرف تمہیں خبردار کرنے آئی تھی اپنا خیال رکھنا۔“

وہ اس کے گال تھپتھپا کر اٹھ کھڑی ہوئی کیونکہ رفیدا اور فاطمہ واپس آنے والی تھیں اور روزینہ ان کی واپسی سے قبل ہی وہاں سے نکل جانا چاہتی تھی روزینہ کے انکشاف نے دنیا کے ہر رشتے سے نبیرہ کا اعتماد ختم کر دیا وہ سوچ نہ سکتی تھی لوگ اس طرح بھی دھوکا دیتے ہیں وہ ساری رات اس نے الجھتے ہوئے گزار دی سکندر کی تہہ در تہہ چھپی شخصیت کا جب بھی کوئی نیا پہلو اس کے سامنے آیا تو اسے شاک ہی کر گیا تھا اسے حیرت ہوئی تھی دنیا میں سکندر جیسے مرد بھی موجود ہیں اس نے تو احتشام صاحب، جنید اور امان کے بعد سنان اور حمزہ کو ہی دیکھا تھا مگر ان میں سے کوئی بھی سانپ کی خصلت رکھنے والا مرد نہ تھا مرد کا جو روپ اس نے سکندر کی صورت میں دیکھا تھا اس نے دنیاکے تمام مردوں کو اس کی نظروں سے گرا دیا تھا وقت نے نبیرہ کو بہت کچھ سکھا دیا تھا اب وہ کمزور نہ رہی تھی اپنا دفاع کرنا جان چکی تھی اب وہ خود کو دلی طور پر آمادہ کر چکی تھی کہ اسے وطن واپس جانا ہے مگر اپنے بچوں کے ساتھ کس طرح؟ یہ ایک الگ مسئلہ تھا بہرحال طے تو یہ ہی ہوا تھا کہ وہ جب بھی واپس گئی حماد اور ابوذر کو لے کر ہی جائے گیا اس سلسلے میں اسے کیا حکمت عملی تیار کرنا ہو گی، اب صرف یہ سوچنا باقی تھا ورنہ سکندر کے پلان کے مطابق وہ اس گھر سے خالی ہاتھ ہی واپس بھیجی جا سکتی تھی جو اسے کسی طور قبول نہ تھا جس جنگ کا آغاز سکندر کر چکا تھا اس کا اختتام نبیرہ نے کرنا تھا مگر اپنی پسند کے مطابق، اب یہ سوچنا تھا کہ یہ سب کس طرح ممکن ہو؟ پھر یہ بھی طے تھا اگر سکندر اسے گھر سے نہ نکالے، طلاق نہ دے تو وہ سمجھوتا کی زندگی عمر بھر گزار سکتی بصورت دیگر وہ اپنے بچے سکندر کے حوالے بالکل نہ کرے گی یہ ہی سوچتے سوچتے رات تمام ہو گئی صبح نیند پوری نہ ہونے کے سبب اس کی طبیعت سارا دن بوجھل سی رہی۔

QQQQ

حماد کا سکول میں ایڈیشن ہو گیا تھا واپسی میں وہ سکندر کے ساتھ ڈھیروں شاپنگ کرکے آیا تھا نیا بیگ، جوتے، یونیفارم، لنچ بکس اور جانے کیا کیا اب یہ سارا سامان لاﺅنج میں پھیلائے وہ سب کو دکھا رہا تھا نہ صرف یہ بلکہ سکندر اس کے لنچ کیلئے بھی بہت کچھ لایا تھا جو فاطمہ ریفریجریٹر میں رکھ رہی تھیں وہ بظاہر تو حماد کا وہ سب سامان دیکھ رہی تھی جو وہ اسے لالا کر دکھا رہا تھا مگر ذہنی طور پر وہ اس وقت وہاں نہ تھی روزینہ کی باتوں نے اسے دماغی طور پر ابھی بھی الجھا رکھا تھا حماد کافی پرجوش تھا خوشی اس کے چہرے سے کھلی پڑی تھی نبیرہ حیران ہوتی تھی یہاں کے رہائشی مقامی لوگوں کو تعلیم بالکل مفت دی جاتی تھی یہاں تک کہ ابروڈ جانے والے بچوں کو بھی گورنمنٹ سکالر شپ دیتی جس کی واپسی ان کی ملازمت کے بعد شروع ہوتی ابھی بھی حماد کے ایڈمیشن پر کوئی بھاری رقم خرچ نہ ہوئی تھی اس کا داخلہ شہر کے بہترین سکول میں ہوا تھا، وہ جوسامان خرید کر لایا تھا وہ سب بھی نہایت قیمتی تھا جسے دیکھتے ہوئے نبیرہ کے ذہن میں ایک ہی خیال آرہا تھا کہ اگر میں حماد اور ابوذر کے ساتھ اس گھر سے نکل کر ملائیشیا میں ہی رہائش اختیار کرتی ہوں تو کیا یہ سب سہولیات میں اپنے بچوں کو دے سکوں گی؟ نہایت صاف گوئی سے اس نے خود سے ایک سوال کیا جس کا جواب یقینا انکار میں ہی تھا ظاہر سی بات تھی وہ یہاں کی شہری نہ تھی اس کے بچوں کیلئے تعلیم اور صحت کی سہولیات فری نہ تھیں بلکہ بے حد مہنگی تعلیم اور ہسپتال غیر ملکی لوگوں کیلئے تھے سچ تو یہ تھا کہ یہاں رہائش کی صورت میں وہ کوئی معقول جاب بھی نہ کر سکتی تھی اس کی تعلیم کا معیار اتنا نہ تھا کہ اسے کسی اچھے ادارے میں جاب مل جاتی ویسے بھی وہ نیشلائزڈ نہ تھی زیادہ سے زیادہ کوئی اسے اپنے گھر میں آیا یا میڈ ہی رکھ سکتا تھا اور اس معمولی ملازمت میں وہ دو بچے افورڈ نہ کر سکتی تھی۔

”مجھے حماد کو چھوڑنا ہو گا۔“

بیٹھے بیٹھے ہی اس نے ایک اور نیا فیصلہ کر لیا حماد کو جو لگژری سہولیات یہاں میسر ہیں میں وہ سہولیات اسے پاکستان لے جا کر بھی نہیں دے سکتی میرے بچے کی شخصیت مسخ ہو جائے گی مجھے اس کے اچھے مستقبل کیلئے قربانی دینا ہو گی جب بھی واپس گئی حماد کے بنا ہی جاﺅں گی۔

”تمہارا فون بج رہا ہے؟“

سکندر کے متوجہ کرنے پر اس نے فون اٹھا کر یس کا بٹن دبا دیا دوسری طرف ردا تھیں جن کی آواز میں ناراضی کا عنصر نمایاں تھا جو خیر خیریت دریافت کرتے وقت ہی وہ محسوس کر کی تھی۔

”ایک بات تو بتاﺅ نبیرہ۔“

”جی پوچھیں“ حتی الامکان اس نے اپنا لہجہ دھیما کر لیا حالانکہ جانتی تھی سکندر میں دوسروں کی ٹوہ لینے کی عادت بھی دوسری برائیوں کے ساتھ بدرجہ اتم موجود تھی۔

”تمہیں سکندر نے گھر سے کیوں نکالا تھا؟“

ایک بالکل غیر متوقع سوال، جس کی امید نبیرہ کو کم از کم اس وقت نہ تھی جب اس واقعہ کو بیتے ہوئے بھی کچھ ماہ گزر گئے تھے اسے سمجھ ہی نہ آیا وہ کیا جواب دے۔

”میری بات کا جواب دو نبیرہ تمہیں سکندر نے گھر سے کیوں نکالا تھا اور تم نے یہ سب کچھ ہمیں کیوں نہ بتایا تم کوئی لاوارث تو نہ تھیں جس کے ساتھ کیسا ہی برا سلوک کیا جائے کوئی پوچھنے والا ہی نہ ہو۔“

ردا کی غصہ بھری آواز کافی تیز تھی نبیرہ نے گھبرا کر کچھ فاصلے پر موجود سکندر پر ایک نگاہ ڈالی وہ اسی کی طرف متوجہ تھا۔

”پلیز یہ کافی پرانی بات ہو گئی اب آپ اسے چھوڑ دیں۔“

”کیسے چھوڑ دیں تم فون دو ذرا سکندر اور اس کی ماں کو میں پوچھوں ان سے، پرائی بیٹیوں کے ساتھ یہ سلوک کیا جاتا ہے غضب خدا کا ہم بھی بہوﺅں والے ہیں اس طرح بلا سبب تو انہیں نکال باہر نہیں کرتے، حد ہے میں تو سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ یہ لوگ اس قدر بیک ورڈ ہوں گے ہمیں تو بھائی صالح نے پھنسا ہی دیا۔“

ردا جو بولنا شروع ہوئی تو چپ ہونے میں ہی نہ آئیں۔

”تم دو ذرا سکندر کو فون میں اس سے بات کروں۔“

”کوئی ضرورت نہیں ہے آپ کو کسی سے بات کرنے کی، جو ہونا تھا ہو گیا اب آپ کیا چاہتی ہیں، میں اپنا گھر بار چھوڑ دوں۔“ نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی آواز بلند ہو گئی ردا ایک دم چپ سی ہو گئیں۔

”میں نے یہ کب کہا؟“

”تو پھر اور کس لئے آپ یہ سب کہہ رہی ہیں؟ براہ مہربانی آپ مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں میرے کسی معاملے میں انٹر فیر مت کریں میری زندگی ہے مجھے جینے دیں۔“ وہ پہلے ہی پریشان تھی ردا کی باتوں نے اسے مزید پریشان کر دیا نہ چاہتے ہوئے بھی وہ الٹا سیدھا بول گئی اور پھر بنا ردا کی کوئی بات سنے اس نے فون بند کر دیا۔

”لو بھلا یہ کیسی ماں ہے جو بیٹی کو طلاق دلوانا چاہتی ہے؟“

لاﺅنج میں پھیلے سکوت کو فاطمہ کی آوازنے توڑا، نبیرہ نے جواب دینا مناسب نہ سمجھا کارپٹ پر کھیلتے ہوئے ابوذر کو اٹھایا اور اپنے کمرے میں چلی گئی پھر پہلی ہی فرصت میں اس نے ربیعہ کو کال ملائی۔

”تم نے یہ سب کو مما کو بتایا ہے؟“

ساری بات تفصیل سے اس کے گوش گزار کرنے کے بعد اس نے سوال کیا اس کے خیال میں ربیعہ کے علاوہ یہ خبر پاکستان تک پہنچانے والا اور کوئی نہ تھا لیکن ربیعہ کے جواب نے اسے حیران کر دیا۔

”نہیں میرے پاس تو صرف شفا کا نمبر تھا جو موبائل چینج کرنے کے بعد گم ہو گیا ویسے بھی مجھے کیا ضرورت ہے یہ سب کچھ آنٹی کو بتا کر انہیں پریشان کرنے کی۔“ ربیعہ کی بات کافی حد تک درست تھی۔

”پھر یہ سب کچھ پاکستان میں اس کی ماں تک کیسے پہنچا۔“ وہ سوچ میں پڑ گئی۔

”پتا نہیں کسی انجان نمبر سے مما اور امان کو مسلسل مسیج آرہے تھے جس میں یہ سب کچھ اور بھی بہت کچھ بتایا جا رہا تھا تمہارے بارے میں کافی انفارمیشن اس نمبر کے ذریعے ہمیںدی گئی تھی۔“

شفا سے رابطہ ہوتے ہی اس نے ہر بات بڑی تفصیل سے بتائی ایسا کون ہو سکتا تھا جو اس طرح کے مسیج کرکے اس کی ماں کو بھڑکا رہا تھا۔

”نور ہلیزا…. اوہ میرے خدایا تو کیا نور ہلیزا پاکستان مسیج کر رہی ہے؟ مگر اس کے پاس وہاں کے نمبر کیسے آئے؟ سکندر سے لیا ہو تو پھر سکندر بجائے نور ہلیزا کو نمبر دینے کے خود یہ سب کچھ تو نہیں کر رہا۔“ وہ جتنا سوچتی الجھتی جاتی ڈوری کا کوئی سرا اس کے ہاتھ میں نہ آرہا تھا بظاہر تو لگتا تھا ہر چیز پھیلتی جا رہی ہے۔

QQQQ

”ہم تمہیں یہاں صرف ایک ماہ تک رکھ سکتے ہیں، اس سے زیادہ کی ہمیں بالکل بھی اجازت نہیں ہے، ایک ماہ تک تمہیں اپنی رہائش کا کوئی دوسرا انتظام کرنا ہو گا بغیر اجازت یہاں سے باہر بھی نہ جاﺅ گی۔“

آنٹی نوما نے بات کرتے کرتے رک کر اپنے سامنے بیٹھی لڑکی پر ایک نظر ڈالی جو سر جھکائے مسلسل اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں کچھ تلاش کر رہی تھی انہیں پہلی ہی نظر میں یہ خوبصورت سی لڑکی اچھی لگی تھی۔

”دراصل ہماری مجبوری ہے، یہاں کے قانون کے تحت ہم کسی بھی عورت کو ایک ماہ سے زیادہ نہیں رکھ سکتے مجھے امید ہے تم میری یہ مجبوری سمجھ گئی ہو گی۔“ آنٹی نوما نے پھر سے اس پر ایک نظر ڈالی۔

”جی مجھے منظور ہے۔“ وہ آہستہ سے بولی۔ آنٹی نوما نے دراز کھول کر ایک فارم نکالا۔

”اوکے پھر تم اسے فل کرکے جمع کرا دو۔“ اس نے خاموشی سے فارم تھام لیا اس کے اندر درج تمام ہدایات کو اچھی طرح پڑھنے کے بعد اسے فل کرکے آنٹی نوما کے حوالے کر دیا۔ انہوں نے فارم پر ایک نظر ڈالی اور اپنے سامنے رکھی گھنٹی بجائی اگلے ہی پل ایک ملائی لڑکی اندر داخل ہوئی۔

”سہتی اسے روم نمبر 25 میں چھوڑ آﺅ۔“

آنٹی نوما کی بات سنتے ہی وہ اٹھ کھڑی ہوئی، کوئی سامان اس کے پاس تھا نہیں صرف کندھے پر موجود بڑے سے بیگ میں دو عدد جوڑے اور ضرورت کا کچھ سامان تھا اس کے علاوہ اس کے زیورات اور پیسے اسی ہینڈ بیگ میں تھے جسے سنبھالتے ہوئے وہ سیڑھیاں چڑھ کر روم نمبر 25 کے دروازے کے سامنے آکھڑی ہوئی۔

QQQQ

ابھی صرف چا ہی بجے تھے ابوذر کے رونے سے جو اس کی آنکھ کھلی تو دوبارہ نیند آنی محال ہو گئی کروٹیں بدل بدل کر اس کا جسم دکھ گیا سکندر کمرے میں نہ تھا شاید وہ رات کے کسی پہر اپنی اسٹڈی میں چلا گیا تھا ایسا وہ اکثر و بیشتر ہی کرتا تھا اب نبیرہ اس تمام صورتحال کی عادی ہو چکی تھی۔ نیند خراب ہونے کے سبب اس کا سر دکھنے لگا اور کافی کی طلب شدید ہو گئی وہ خاموشی سے اٹھی پاﺅں میں چپل پہنی کمرے سے باہر آگئی شیشے کی دیوار سے پرے بڑے سے لان میں آم کا درخت جھوم رہا تھا شاید بارش ہو رہی تھی رات کے اس سمے اسے یہ سب بہت ہی ہولناک لگا وہ یک دم ڈر سی گئی لکڑی کی دیوار سے اس پار ایک لمبا سا نیگرو کھڑا تھا رات کے اس پہر جانے وہ کس سے فون پر باتیں کرنے میں مصروف تھا یہاں اکثر چوریاں نیگرو ہی کرتے تھے وہ جلد سے کچن میں داخل ہو گئی کچن کے سامنے اسٹڈی روم مکمل طور پر تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا جبکہ سکندر ہمیشہ نائٹ بلب روشن کرکے سوتا تھا اسے اندھیرے میں نیند ہی نہیں آتی تھی۔

”سکندر کہاں ہے؟“ بے اختیار ہی نبیرہ نے سوچا، ایدھا کا دروازہ بند تھا جانے اس کے من میں کیا آئی کافی کا کپ لے کر لاﺅنج میں رکھے صوفہ پر ہی بیٹھ گئی جو ایدھا کے کمرے کے عین مقابل تھا اسے زیادہ انتظار نہ کرنا پڑا صرف آدھے گھنٹہ میں ہی کمرے کا دروازہ کھلا اور سکندر ایک دم باہر آگیا۔ نبیرہ اپنے اندازے کی درستگی پر حیران رہ گئی سکندر کو امید نہ تھی رات کے اس پہر ایک بار پھر نبیرہ اسے رنگے ہاتھوں پکڑ لے گی۔

”تم یہاں کیا کر رہی ہو؟“ اپنی جھینپ مٹانے کیلئے وہ اس پر چڑھ دوڑا۔

”ویسے ہی طبیعت ٹھیک نہ تھی اس لئے باہر بیٹھ گئی۔“ آواز اس کے گلے میں پھنس سی گئی آنسوﺅں کا پھندا لگ گیا تھا۔

”دراصل میں فزیکلی بیمار ہوں ڈاکٹر سے علاج کروا رہا ہوں۔“

”یہ جملہ ابوذر کی پیدائش کے فوراً بعد سکندر نے اس سے کہا تھا۔ اس کا دل چاہا وہ سکندر کا گریبان پکڑ کر سوال کرے تم اگر فزیکلی ان فٹ ہو تو پھر ایدھا کے کمرے میں آدھی رات کو چھپ کر کیا کرنے جاتے ہو مگر وہ صرف سوچ کر رہ گئی۔

”کیوں جھوٹ بولتی ہو صاف کہو میری جاسوسی کرنے کیلئے تم یہاں بیٹھی ہو۔“ وہ اپنی آواز دباتا ہوا غرایا۔

”اب میری شکل کیا دیکھ رہی ہو اٹھو یہاں سے دفع ہو جاﺅ۔“ اس کی یہ دبی دبی سی آواز بھی ایدھا کے کمرے میں ضرور جا رہی تھی اس بات کا اندازہ نبیرہ کو بخوبی تھا وہ فوراً گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئی شرمندگی سے اس کی ہتھیلیاں بھیگ گئیں۔

”آئندہ کبھی زندگی میں میری اس طرح جاسوسی مت کرنا ورنہ زمین میں زندہ گاڑ دوں گا۔“

کمرے میں جاتے جاتے اسے اپنے پیچھے سکندر کی آواز سنائی دی وہ لڑکھڑاتے قدموں سے اپنے کمرے میں آئی اور بستر پر اوندھے منہ گر کر جو رونا شروع کیا تو چپ ہونے میں ہی نہ آئی ویسے بھی یہاں کون تھا جو اس کا یہ رونا دیکھتا اور اسے چپ کرواتا یہاں تو اپنے آنسو اسے خود ہی پونچھنے تھے اس احساس نے اس میں ہمت پیدا کی وہ خاموشی سے اٹھی باتھ روم جا کر اپنے منہ پر پانی کے چھینٹے مارنے لگی۔

QQQQ

”یہ شیتل ہے اس کا تعلق انڈیا سے ہے، یہ فلمینا فرام انڈونیشیا، حبیبہ بنگلہ دیش کی رہائشی ہے، میری فلپائن کی….“

سہتی ہال میں موجود تمام عورتوں سے فرداً فرداً اس کا تعارف کروا رہی تھی مختلف رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والی مختلف عورتیں، جن کے مذہب بھی ایک دوسرے سے مختلف تھے، مگر دکھ سب کے یکساں تھے اور اسی یکسانیت نے ان سب کو ایک لڑی میں پرو دیا تھا اسے حیرت ہوتی تھی ہر معاشرے کیلئے عورت کی حیثیت ایک ہی جیسی تھی کبھی کبھی تو اسے یقین بھی نہ آتا وہ دنیا کے نقشہ پر تیزی سے ابھرتے ہوئے ایک ترقی یافتہ ملک میں موجود ہے اسے محسوس ہوتا وہ اپنے دیس کے کسی پسماندہ علاقے میں زندگی گزار رہی ہے۔

”ہمارے مذہب نے تو عورت کو وہ بلند مقام عطا کیا جو اس سے قبل کسی مذہب کی عورت کو حاصل نہ تھا پھر کیوں ہمارے معاشرے کا مرد آج بھی عورت کا اسی طرح استحصال کرتا ہے جس طرح دور جاہلیت کا مرد۔“ یہ حبیبہ تھی جو اس کے حالات جان کردکھی تھی۔

”یاد رکھنا مرد جو کچھ بھی کرتا ہے اسے اس ناجائز اور ناپسندیدہ کام پر اکسانے والی بھی عورت ہی ہوتی ہے چاہے وہ اس کی ماں ہو بہن یا محبوبہ۔“ شیتل کے الفاظ نوے فیصد سچائی پر مشتمل تھے اور اس کی اس بات سے وہاں موجود سب ہی عورتیں متفق تھیں۔

”یہ میرے دو سوٹ ہیں تم رکھ لو۔“ سہتی جانتی تھی اس کے پاس پہننے کو صرف دو جوڑے ہیں۔

”اور یہ میری چپل بھی لے لو، میں نے ابھی تک استعمال نہیں کی۔“

یہ فلیزا تھی جو شاید مقامی ہی تھی اور اپنی ساری گفتگو ملائی میں ہی کر رہی تھی انکار کی گنجائش ہی نہ تھی اس نے خاموشی سے سارا سامان اٹھا لیا، ان سب کی اس محبت پر اس کی آنکھیں پانی سے بھر گئیں ان سب کے اظہار محبت نے اس کے دل پر چھائے غبار کو کچھ دیر کیلئے دھو دیاسب کے حالات جان کر اسے احساس ہوا دنیا میں واحد وہ دکھی عورت نہیں ہے جس کے سر سے چھت چھینی ہو بلکہ دنیا تو ایسی عورتوں سے بھری پڑی ہے دنیا میں شاید ہر فرد ہی دکھی ہے ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ان کے دلوں کے اندر جھانک کر دیکھا جائے سچ ہے یہ دکھ ہی ہیں جو انسان کو انسان سے جوڑ دیتے ہیں اپنے زخم لگاتے ہیں اور ان کو بھرنے کیلئے غیروں کے ہاتھ آگے بڑھتے ہیںپچھلی دنیا کو چھوڑ کر وہ ایک نئی دنیا میں قدم رکھ چکی تھی جہاں قدم قدم پر موجود کانٹوں سے اپنا وجود بچاتے ہوئے اسے آگے سفر طے کرنا تھا پھر گزرتے دن نے اسے زندگی گزارنے کا ایک نیا سبق دیا۔

QQQQ

”تمہیں پتا ہے سنان اور مرینہ کا بہت بڑا جھگڑا ہوا ہے۔ جس کے باعث وہ مرینہ کو چھوڑ کر پاکستان واپس آگیا، یقین جانو رحاب بھابی اور ان کی امی تو اتنی پریشان ہیں کہ کیا بتاﺅں۔“ شفا اسے سنان کے بارے میں سب کچھ تفصیل سے بتا رہی تھی جبکہ اسے سنان اور مرینہ کے کسی بھی مسئلے سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔

”اچھا نبیرہ ایک بات پوچھوں سچ سچ بتاﺅ گی؟“ شفا شاید اس کی عدم دلچسپی بھانپ چکی تھی اس لئے ہی بات کا رخ موڑتے ہوئے بولی۔

”ہاں پوچھو۔“ وہ بے دھیانی سے بولی۔

”تمہیں سنان فون کرتا ہے؟“

”تمہیں کس نے کہا؟“ شفا کے سوال نے نبیرہ کو اچھا خاصا پتا ڈالا۔

”اصل میں اس کی اور مرینہ کی….“

”تم سے یہ کس نے کہا کہ وہ مجھے فون کرتا ہے؟“ نبیرہ تیزی سے اس کی بات کاٹ کر بولی سنان اور اس کی بیوی کا قصہ اس کیلئے غیر ضروری تھا اس کے اپنے مسئلے ہی کم تھے جو ان پر دھیا دیتی۔

”رحاب بھابی کا خیال ہے اور شاید مرینہ بھی یہ ہی سمجھتی ہے۔“

”پتا نہیں کیوں لوگ اتنی فضول قیاس آرائیاں کرکے دوسروں کا جینا حرام کرتے ہیں تم اچھی طرح جانتی ہو میں نے سنان کا باب بند کرنے کے بعد کبھی اس سے رابطہ کرنے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی میں اس قسم کی کوئی فضول خواہش اپنے دل میں محسوس کرتی ہوں۔ سنان نے جو میری انا کی توہین کی تھی، میں عمر بھر نہیں بھول سکتی اپنی بہن کا گھر آباد کرنے کیلئے اس نے مجھے برباد کیا میری تو سمجھ میں ہی نہیں آتا رحاب کیوں میرے پیچھے پڑی رہتی ہے کیوں ہر معاملے میں میرا نام لیتی ہے اسے بالکل بھی شرم نہیں آتی۔“ بات کے اختتام کے ساتھ ہی وہ غصہ میں آگئی اس کی آواز غیر ضروری طور پر تیز ہو گئی۔

”کس کا فون ہے؟“ سکندر اس کے کان کے قریب بولا وہ یکدم گھبرا اٹھی اس سے قبل کہ وہ کوئی جواب دیتی سکندر اس کے ہاتھ سے فون لے چکا تھا اس کے ہاتھ پیر بالکل ٹھنڈے پڑ گئے۔

”اصل میں سنان نے مجھے ایک بار فون بھی کیا تھا تمہارے نمبر کےلئے مگر۔“

”گڈ تو تم اپنی بہن کو ان کے یاروں کے مسیج دیتی ہو۔“ سکندر کی دھاڑ سن کر شفا گھبرا گئی اس کی سمجھ میں ہی نہ آیا کیا جواب دے۔

”صبر کرو میں ابھی تمہارے باپ کو فون کرتا ہوں جس نے تم جیسی گندی اولاد پیدا کی جو شادی کے بعد بھی کسی ایک کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔“ اس کے الفاظ شفا کی سماعتوں میں زہر بن کر اتر رہے تھے وہ کبھی امید نہ کر سکتی تھی یہ سکندر جیسا قابل اور پڑھا لکھا شخص بول رہا ہے۔ سکندر کا انداز گفتگو اس قدر گھٹیا بھی ہو سکتا تھا وہ تو سن کر ہی شاکڈ ہو گئی تھی۔

”میں تمہارے میاں کو بھی فون کروں گا تاکہ اسے تمہارے کالے کرتوت بتا سکوں یقینا تم بھی ویسی ہی ہو گی جیسی تمہاری بڑی بہن ہے بدچلن اور آوارہ۔“ اور پھر بنا شفا کی کوئی بات سنے اس نے فون بند کر دیا۔

”تو تم ابھی بھی باز نہ آئیں اس سنان سے بات کرنے سے۔“

اس نے بالوں سے پکڑ کر نبیرہ ہی کو سامنے دیوار پر دے مارا اور پھر اس کے ساتھ ہی لاتوں سے اس پر تابڑ توڑ حملے کئے اس دھان پان سی لڑکی سے اپنا بچاﺅ کرنا مشکل ہو گیا ابوذر با آواز بلند رونے لگا فاطمہ بھاگ کر کمرے میں آگئیں ان کے پیچھے ہی سکینہ اور کبیر بھی تھے۔

”کیا ہوا سکندر پاگل ہو گئے ہو تم چھوڑو اسے۔“ فاطمہ اسے چھڑوانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے بولیں۔

”اماں تم سب گواہ رہنا میں اسے طلاق دے رہا ہوں یہ ایک بدچلن عورت ہے یہ میری وفادار نہیں ہے، میں نے اسے طلاق دی۔“

شاید یہ سب تو اس کے مقدر میں بہت پہلے ہی لکھا جا چکا تھا وہ تو صرف اس کی کوشش تھی جو آج تک وہ اپنا گھر بچانے کے لیے کر رہی تھی وہ گھر جو اس کا کبھی تھا ہی نہیں سکندر کے منہ سے نکلنے والے الفاظ نے کمرے میں مکمل طور پر سکوت طاری کر دیا اسے بڑی مشکل سے فاطمہ نے قابو کیا تھا۔ ”طلاق“ کا لفظ عورت کےلئے کس قدر اذیت ناک ہوتا ہے اس کا احساس آج نبیرہ کو ہوا تھا ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے اس کا دل اندر سے کسی نے چیر ڈالا ہو وہ مار کی اذیت بھول گئی سکندر کے الفاظ نے اس کو جلا کر بھسم کر ڈالا تھا وہ بے اختیار چیخ چیخ کر رونے لگی سکندر کمرے سے نکل گیا فاطمہ بھی اس کے پیچھے ہی چلی گئیں سکینہ کچھ دیر تو دروازے پر کھڑی اسے تکتی رہی پھر جانے کیا دل میں آیا آہستہ آہستہ آگے بڑھی گھنٹوں کے بل زمین پر بیٹھ کر اسے گلے سے لگا لیا وہ بلک بلک کر رو دی شاید اس گھڑی اسے رونے کےلئے ایک کندھا در کار تھا جو سکینہ نے دے دیا۔

QQQQ

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

جنوں ..مہتاب خان ..قسط نمبر 3 آخری

جنوں  مہتاب خان  (قسط نمبر 3) ساحر نے عادل کا چیلنج قبول کر لیا تھا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے