سر ورق / افسانہ /   نسیم بانو،دو بج کر انتالیس منٹ۔۔۔ ناصر صدیقی

  نسیم بانو،دو بج کر انتالیس منٹ۔۔۔ ناصر صدیقی

      نسیم بانو_____دو بج کر انتالیس منٹ

ناصر صدیقی

                ہر کلی کے کھلنے کا ایک موسم ہوتا ہے۔اسی طرح ہر عورت کا بھی ایک موسم ہوتا ہے۔

                نسیم بانو کا موسم کب آتا ہے؟اس کے پھول کب اور کس کے لئے کھلتے ہیں؟کس کو مہکاتے ہیں؟یہ کسی کو بھی معلوم نہیں تھا۔ صرف اندازے اور مفروضے محلہ میں پھیلے ہوئے تھے۔سب مانتے تھے کہ نسیم بانو کے موسم کا مزا،جو بھی لیتا ہوگا وہ بہت ہی خوش قسمت ہے کہ اس پری پیکر کی ایک مسکراہٹ کی سوغات ہی غنیمت ہے۔اور میں،ایک حاسد اور خود ساختہ رقیب،بھلا ایک مسکراہٹ سے آگے کی بات کیسے کر سکتا تھا؟

                کل یہی نسیم بانو اغواءہوگئی اور وہ بھی اس وقت جب اسکی بارات آنے والی تھی۔

                لوگوں کا خیال تھا کہ:کسی یکطرفہ اور جنونی عاشق نے چک لیا ہوگا ورنہ نسیم بانو کے عشق،بے باکی اور جوانی کی اپنی ہلچل کی ایک بھی کہانی اب تک کسی نے نہیں سنی ہے۔پھر ایسی باتیں محلہ میں چھپ بھی نہیں سکتیںکہ ایک ہی نسیم بانو تو ہے جو خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ۔یہ الگ بات کہ اسکا دولہا کافی بدصورت،لیکن محلہ کا پہلا اعلیٰ تعلیمیافتہ شخص ۔یہ سچ ہے کہ”کہاں نسیم بانو اور کہاں اسکا یہ دولہا؟“ کا سوچ سوچ کر سب ”مرد حضرات“ جلن کے مارے جل جل کر کباب ہو ئے تھے۔اور ان جلنے والوں میں یقیناً میں بھی شامل تھا۔

                اغواءکے ساتویںدن،رات کے کسی پہرمحلہ میں ایک درد ناک نسوانی چیخ سنی گئی۔پھر کیا تھا؟صبح سب لوگ اسی چیخ کا تذکرہ کرنے لگے جس طرح زلزلہ،سیلاب،یا کسی چوری ڈکیتی کی بات لوگ کرتے ہیں۔

                ”میںنے اپنی پوری زندگی میں اتنی المناک ،پرسوزاوردل ھلا دینے والی چیخ نہیں سنی ہے____ یہ بھی دیکھئے گاکہ یہ چیخ صرف اس محلہ میں نہیں بلکہ سمجھ لو سارے شہر میں سنی گئی ہے۔ہر گلی،محلہ میں اسی کا چرچا ہے___ اس میں اتنی طاقت کہاں سے آگئی کہ ہر جگہ چیر کر آگے گئی؟___!___!“لو گ بات پہ بات کرنے اور اندازوں پہ اندازے لگانے میں مصروف ہو گئے۔تحقیق و تفتیش جیسی کوئی بھی چیزیہاں نہیں تھی کہ پولیس والے بھی عام جیسے لوگ تھے۔

                جب دن کچھ اور چڑھاتو یہی چیخ پھر سنائی دی۔لوگوں کا ردعمل پھر وہی تھا البتہ شور اور رش کی وجہ سے کچھ لوگ یہ چیخ سن نہیں سکے تھے۔

رات کو جب پھر یہی چیخ سنائی دی تو اس بار ایک ڈر سا جا گ گیا۔شہر کی پرانی تاریخ،قصے کہانیاں اور ڈراﺅنی باتیں لوگوں کو یاد آنے لگیں۔اب گویا پوری آبادی اس کے زیر اثر آگئی تھی،ہر طرف اسی کا ذکر ہونے لگا تھا۔

                پھر تو ہر دن یہی ہوتا رہا۔یہ سلسلہ جاری تھا کہ:

                ”تم لوگوں نے غور کیا ہے کہ جب چیخ سنائی دیتی ہے تو گھڑی کیا وقت بتاتی ہے؟“ایک دن کسی نے پوچھا توسب اپنی گردنیں پیچھے گھما گئے۔دیکھا،محلہ کا ”پاگل“ ہے۔چونکہ وہ سب ایک حد تک خوفزدہ بھی تھے،اپنی اپنی انا اور شخصیت بھول کو پاگل کو اہمیت دے گئے کہ وہ بتادے ورنہ انھیں صحیح وقت کا کیا پتہ ہونا،چیخ تو کچھ ساعتوں کے لئے ہر ایک کو خوفزدہ کر کے سب کی ہوش اڑا دیتی ہے۔

                ”دو بج کر انتالیس منٹ پر ہی یہ چیخ سنائی دیتی ہے،چاھے رات ہو یا دن۔“

                ”کیا!!؟“سب چونکنے کی حد میں حیران رہ گئے۔

                ”ابھی دو بج کر تیس منٹ ہیں۔تو کیا نو منٹ کے بعد یہ چیخ سنائی دے گی؟“کسی نے پوچھا تو سب اپنی اپنی گھڑیوں کی طرف دیکھنے لگے جو یکساں ٹائم بتا نہیں رہی تھیں۔ایک صاحب کی گھڑی تو پورے آٹھ منٹ پیچھے تھی۔

                ”کیا پتہ کہ پاگل کی اپنی گھڑی آگے پیچھے ہے؟“ایک اختلافی بات اٹھی۔

                ”چلو دیکھتے ہیں ۔جونہی چیخ سنائی دے سب اپنی گھڑیاں دیکھیں۔جتنی گھڑیوں کا”ٹائم“ اس چیخ کے وقت یکساں ہوگا وہی گھڑیاں صحیح مان کر چیخ کے اصل وقت کا تعین کیا جائے گا۔“

                اس بات پر سب متفق ہوگئے اور سارے کام اور باتیں چھوڑ کر ”چیخ“ کا انتظار کرنے لگے۔۔۔۔

                عین اس وقت جب ”پاگل“ کی گھڑی میں ۲ بج کر ۹۳ منٹ تھے،ایک چیخ شہر کے اس سرے سے لے کر دوسرے سرے تک سنائی دی ۔ پہلے ایک لمحہ کے لئے تو سب دھل کے خوفزدہ رہ گئے،ایک دوسرے کو دیکھنے لگے اور پھر اپنی اپنی گھڑیوں پر نظر ڈال گئے۔جی ہاں! ۲ بج کر۹۳ منٹ اکثر گھڑیوں میں دکھائی دے رہا تھا۔چیخ کا اصل وقت یہی مانا گیا۔”پاگل“ اب خوش تھا کہ اسکی گھڑی صحیح ہے جب کہ سیٹھ نرمل اور نظام صاحب خوش نہیں تھے جن کی گھڑیاں پیچھے تھیں۔

                اس کے بعد لوگ اپنے اپنے کاموں میں لگ گئے کہ یہ ساتواں دن ہوا ہے صرف چیخ کی آواز آتی ہے نہ کوئی آفت ٹوٹی اور نہ کوئی اور انہونی بات ہوئی کہ لوگ ہر دم خوفزدہ رہیں۔

                پھر تو شہر نے یہ بھی دیکھا کہ اب چیخ ایک دن کے ناغے پر سنائی دیتی ہے لیکن وقت ۲ بج کر انتالیس منٹ ہی ہے۔پھر کافی دنوں کا ناغہ ہونے لگا۔کچھ عرصہ بعد دن کو یہ چیخ بند ہوئی صرف راتوں کو سنائی دینے لگی۔اور پھر یہ چیخ ہر مہینے، رات کے ۹۳:۲ پر سنائی دینے لگی۔۔۔۔

                اب اس سلسلے کو ایک سال ساگزر چکا تھا:

                ”پتہ ہے یہ چیخ مہینے کی کس تاریخ کو سنائی دیتی ہے؟“یہ سوال آج پھر وہی ”پاگل”محلہ کے ایک مجمع میں کر گیا۔

                ”ہمیں اچھی طرح پتہ ہے۔کھبی یکساںتاریخ نہیں ہوتی ہے۔”سب پراعتماد اور مغرور لہجہ میں بول پڑے۔

                ”تاریخ یکساں ہے۔لیکن آپ لوگ صرف انگریزی تاریخ کو دیکھتے ہیں۔قمری مہینے کی ہر چودہویں رات کو ہی یہ چیخ سنائی دیتی ہے ۔پتہ ہے کیوں؟“

                ”کیوں؟؟؟“لوگ پوری طرح ”پاگل“کی طرف متوجہ ہو گئے۔

                ”قمری مہینے کے ابتدائی دنوں میں نسیم بانو اغواءہو ئی تھی۔کیا یہ نہیں ہوسکتا کہ یہ نسیم بانو کی چیخ ہے جس کو چاند کی چودہویں رات،۲ بج کر انتالیس منٹ میں قتل کیا گیا یا اسکی عصمت دری کی گئی ہو؟؟یہ سب کرنے والا یقینا کوئی جنونی شخص ہوگا جو اس شدت یا اس انداز سے یہ گھٹیاکام کر گیا کہ چیخ میں وہ طاقت آگئی کہ سب کو سنائی دے۔یا پھر کیا پتہ کہ چیخ نسیم بانو کی ”روح“ کی ہو کہ اس بار ”جسم“ کو قتل یا ”ریپ“ کر نے کے بعد روح پر بھی ”ظلم“ ڈھایا گیاہو۔“یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گیا۔

                اس پر سب حیران رہ گئے کہ یہ پا گل شخص تو جیسے آج ایک دانا،فلسفی،تفتیش کار اور نہ جانے کیا کیا بن گیا ہے!

                                                                                                ٭٭٭٭٭

                قارئین! حال تو میرا(افسانہ نگار کا)کا برا تھا کہ درج بالا صفحے میرے کسی نامکمل افسانے کے تھے جنھیں لکھتے لکھتے سچ میں صرف مجھے کسی کی چیخ سنائی دینے لگا تھا۔پہلے ہر روز، اب چاند کی چودہویں راتوں کو سنائی دیتی تھی۔وقت وہی ۲ بج کر انتالیس منٹ ۔ اورمیں اب اس چیخ کے منبع کی تلاش میں بھی رہتا تھا ۔

                آج رات پھر چودہویں کا چاند تھا۔پچھلی چودھویں کو میں محلہ،بلکہ شہر کی مشرق طرف نکلا تھا لیکن کچھ بھی نہ ملا تھا،صر ف وقت مقرر پر جب چیخ نے سناٹے کا سینہ چیرا تھا تو اسی وقت چاند کے سامنے ایک تاب گزار بادل کا ٹکڑا گزرا تھا بس۔کھانا کھا کے آج میں مغرب کی سمت نکلا تو چاند اپنے شباب کی روشنی پھیلا کر محلہ اور شہر کوجیسے آسیب زدہ کر گیا تھا اور کتے تھے کہ دور ،مسلسل بھونک رہے تھے۔

                ”مغرب میں کتنے کتے ہیں! مشرق میں تو ایک بھی کتا ایسا نہ تھا جو خوف دلا سکے۔“میں نے دل میں سوچا اور آگے چلنے لگا۔

                میرا گھر شہر کے عین درمیان میں تھا۔کچھ دیر بعد قبرستان آگیا،خاموشی کا گھر،صرف جھونپڑی میں گورکن سو رہا تھا۔ابھی ۲ بجکر تیس منٹ تھے۔ گھڑی دیکھ کر میری سوچ پھر اس گمان میں پڑ گئی کہ یہ اسی افسانے کے پاگل کی ہے۔ یہ گھڑی، عرصہ ہوا،میں نے بازار سے اس شخص سے خریدی تھی جو یہاںکا باشندہ نہیں لگتا تھا۔لیکن اسکا لباس پاگلوں والا نہیں شریفانہ تھا۔شای¿د کوئی مسافر تھا ،پیسے ختم ہو گئے تھے تو گھڑی بیچ دی۔کیا پتہ وہ وہی تھا جسے بعد میں میرے افسانے کا

 پاگل بننا تھا____اور میری سوچ چیخ نے دھرم بھرم کر دی۔میں نے گھڑی دیکھی۔۹۳:۲ منٹ تھے۔ پھر افسوس ہوا کہ میں نے گھڑی کیوں دیکھی؟یہ چیخ تو وقت کی پابند ہے، چاھے میرے افسانے میں شامل تھی یا آج کل مجھے سنائی دیتی ہے۔

                صبح ہوئی تو میں محلہ بلکہ شہر کے سب سے پرانے اور عمر رسید ڈاکٹر”وچن داس“ کے پاس ان کے کلینک میں گیا جن کے ہاتھ میں ہر روز کوئی نہ کوئی کتاب ضرور دیکھئے۔اسی وجہ سے دنیا جہاں کی ہر چیز انھیں معلوم تھی۔وہ مجھے دوست بھی رکھتے تھے۔

                ”آیئے جناب!“مجھے دیکھ کر وہ مسکرائے،”آج ایک عرصہ کے بعد یہاں؟‘’ جب میں نے یہاںآنے کی وجہ بتائی تو پہلے وہ کچھ سوچنے لگے اور پھر بولے:”خیر !اوروں کی طرح مجھے بھی یہ چیخ سنائی نہیں دیتی ہے۔لیکن یہ ممکن ہے کہ چیخ صرف تم سنتے رہتے ہو۔ کیوں کہ کچھ آوازوں کی فریکوئنسی ایسی ہوتی ہے کہ ہر کوئی سن نہیں سکتا۔ممکن ہے تمہارے کان بہت حساس ہیں”اور پھر الگ انداز میں مسکراتے ہوئے کہنے لگے:”ویسے بھی ادیب لوگ حسا س ہوتے ہیں©۔“پھر سنجیدہ ہو کر انھوں نے کہا،”تم یقینا ٹیلی پیتھی سے واقف ہو۔کیاخبر کوئی تمہیں ”مدد“ کے لئے پکار رہا ہے ۔‘ ‘

                ”کیا یہ ممکن ہے؟پھر کیا وہ میری کوئی جاننے والی ہوگی؟؟“

                ” یہاں ہر چیز ممکن ہے۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ مدد مانگنے والی تمہیںجانتی بھی ہو۔سمجھ لو کوئی”SOS“کا پیغام دے رہا ہے جو تمہیں مل رہا ہے یا مل گیا ہے۔“

                ”تو پھر مجھے کیا کرنا چاہےے؟“

                ”کھوج! اس آواز یا چیخ کی کھوج ہی اب تمہارا”مشغلہ” ہونا چاہےے۔“اور ہنستے ہوئے انھوں نے ٹیبل پر رکھی کتاب اٹھائی جس کا ٹائٹل دیکھ کر میں حیران رہ گیا”Mystery of some screams“۔ مجھے یہ سب پراسرار لگا،جیسے میں کوئی خواب دیکھ رہا۔

                                                                                  ٭٭٭٭٭

                اب کی بار چاند کی چودھویں رات آئی تو میں نے جنوب کی طرف چلنے کا فیصلہ کیا۔۔شہر کا کم آباد اور پرانا حصہ جہاں کے اکثر گھر کھنڈرات بن چکے تھے ۔میں ابھی چند ہی دور چلا تھا کہ گھنے درختوں کاایک جنگل سا آگیا۔یہاں سے گزرتے ہوئے تھورا بہت خوف ضرور محسوس ہوا لیکن میری کھوج اور تجسس اس سے بڑھ کر تھا۔رات کو پرندے بالکل چپ رہتے ہیں، یہ تجربہ بھی ہوا۔کچھ اور آگے بڑھا تو آخری کونے کی آبادی کے بچھے کچھے اور خاموش گھر سامنے آگئے جن کے روشندان قندیلوں کی ہلکی روشنیاںدکھا رہے تھے۔۔بجلی کے کھمبے اب تک یہاں نہیں آئے تھے۔میں اور آگے بڑھنے لگا۔کچھ دیر بعد میرے سامنے اس علاقے بلکہ شہر کا آٹا پیسنے کا سب سے پرانا اور بند پڑا کارخانہ’ ’ موہن لعل فلور ملز“ آ گیا جس کی مضبوط چار دیواری ابھی تک کھنڈر بننے سے بچی ہوئی تھی۔البتہ کارخانہ پورا کا پورا کھنڈر بن چکا۔کبھی موہن لعل اپنے خاندان کے ساتھ اس کے اندر بنی اپنی رہائش گاہ میں رہتے تھے ۔کچھ عرصے پہلے دن کو جب میں یہاں سے گزرا تھا تو گیٹ کا تالا دیکھ کر میں حیرا ن رہ گیا تھا کہ،اتنا بڑا تالا!اور زنگ آلود بھی ایسا جیسے صدیوں سے بنا کھلے یونہی لگا ہوا ہے۔

                ”اب تو زنگ سے تالا اور بھی بڑا دکھائے دے گا۔“ یہ سوچ کر میں گیٹ کے پاس آگیا۔”ارے!“ میں چونک گیا۔گیٹ پر بالکل نیا تالا لگا ہوا تھا جو چاندنی میں چمک رہا تھا۔”تو اس کا مطلب ہے کہ یہاں کوئی آتا جاتا ہے۔یہ کون ہو سکتا ہے؟اس خاندان کا تو غالباً کوئی بھی فرد اب یہاں تو کیا پورے شہر میں کہیں بھی نہیں رہتا ہے۔ضرور دال میں کچھ کالا ہے۔“یہ سوچ کر میں نے ادھر ادھر دیکھا، پھر گیٹ سے پرے کسی دیوار کے نیچے بہت سارے بڑے بڑے پتھر رکھ کر،میں اس کے اوپر چڑھا اور چار دیواری کے اندر کو گیا۔چاروں اور خاموشی تھی لیکن میں پھونک پھونک کر آگے قدم بڑھا نے لگا کہ کہیں کسی کونے،کمرے میں کوئی خطرہ میرا انتظار تو نہیں کر رہا؟

                میں پہلے آفس کی طرف گیا۔ اندھیرے میں میری ٹارچ کی تیز اور نوکیلی روشنی نے میری نگاہ بن کر دکھایا کہ اس کے سارے کمرے بند پڑے ہیںاور جو کھلے ہیں وہ بھیانک حد تک کھنڈر بنے ہوئے ہیں۔پھرمیں رہاش گاہ کی طرف آیا۔ ھال کا کھلا دروازہ ایک سوال بن گیا تو کمر پہ بندھا خنجر بھی میں نے ہاتھ میں لے لیا۔تین کمرے ،اسٹور ،کچن اور دو غسل خانے توخالی نکلے اب صرف ایک بڑا کمرا رہ گیا تھاجس کے دروازے پر بھی سب کی طرح تالا نہیں لگا تھا۔ میں نے دروازہ دکھیلا تو پٹ کھل گئے۔بیڈ روم تھا لیکن کاٹ کھباٹ سے پر۔اس کے اندر ایک چھوٹا دروازہ بھی کھلتا تھا۔عجیب بات!ہر کمرے میں ایک وال کلاک تھا لیکن یہاں غائب ۔ایک الماری نے میرا توجہ پکڑ لیا تو میں اس کے پاس گیا۔کھلی ہوئی ملی لیکن اندر ایک بھوسہ بھی نہیں تھا۔ البتہ اس کے قریب ہی ایک وال کلاک پڑا ہوا تھا جس کا شیشہ ٹوٹا ہوا تھا ۔

                اب میری ساری توجہ اندر کے بند دروازے کی طرف تھی ۔اچانک مجھے کچھ یاد آیا ، میں نے ٹارچ کی روشنی دوبارہ وال کلاک پہ پھینکی تو میں حیرت زدہ رہ گیا۔گھڑی پورے ۹۳:۲ منٹ پر بند تھی۔

                ”اس میں ضرور کوئی راز ہے۔“ چل کر میں نے بند دروازے کو دھکیلا تو کھلا تھا۔خنجر پہ گرفت مضبوط کر کے میں اندر گیا۔ٹارچ کی روشنی جس چیز پہ پڑی اس سے مجھ پر حیر ت، خوف اور نہ جانے کن کن خیالوں کایلغار ہوا۔فرش پر ایک جوان اور خوبصورت عورت بندھی ہوئی تھی جس کے منہ پر کپڑا ٹھونسا گیا تھا۔اب مجھے رہ رہ کر صرف ایک ہی سوال پوچھنے کی ضرورت محسوس ہونے لگی تھی۔میں آگے بڑھا، عورت کے منہ سے کپڑا نکالا اور پوچھا:

                ”کیا تم نسیم بانو ہو؟؟“

                ”نہیں!“اس نے سپاٹ لہجہ میں جواب دیا،”لیکن نسیم بانو میری بڑی بہن تھیں جنھیں اس وقت اغواءکیا گیا جب ان کی برات آنے والی تھی۔“

                اس پر میں گنگ سا ہوگیا۔ مجھے لگا میں خود ایک افسانے کاکردار ہوں اور یہ سب ایک ایسا خواب ہے جس کی تعبیر کے لئے مجھے جاگنا ہوگا۔ا ور میں اب شاید جاگ بھی نہ سکوں۔(ختم شد)

                                                                                                                                                                                 (۱۱۰۲ءتا ۹۲ مارچ۸۱۰۲ئ)

 ایک اور خاتمہ:

                َ۔۔۔۔۔میں آگے بڑھا، عورت کے منہ سے کپڑا نکالا اور پوچھا:

                ”کون ہو تم؟اس علاقے کی تو نہیں لگتی ہو۔“

                اس پر وہ عجیب سے انداز میں مسکرائی اور بولی،”نام پوچھتے ہو؟ تمہیں تو معلوم ہے۔پھر بھی بتاتی ہوں۔نسیم بانو ہوں۔وہی بد قسمت جو اپنے برات والے دن اغوا ہوئی۔اور ہاں! میں اس علاقے کی نہیں تو کیا ہوا؟”عورت“ کے لئے علاقے کی کوئی پابندی نہیں۔“

                میںحیرانی سے جنگ کرنے لگا۔”نسیم بانو!!؟؟تمہیں یہاں کس نے باندھی بنا لیا ہے؟“

                ”کیا تم نے پی ہے؟تم ہی نے تو مجھے یہاں قید کر رکھا ہے۔“

                ”میں نے؟؟!!“

                ”اگر تم نے نہیں تو تمہاری ہی ذات کے مردوں نے یہ ظلم کیا ہوگا۔فرق کیا ہے؟ہم پر ہر زمانے میںظلم ڈھایا گیا۔صدیوں سے ہمیں نئی امیدوں کی شراب پلا کر مدہوش کر کے تم لوگ اپنا کام نکالتے رہے۔مطلب نکل گیا تو پوچھا بھی نہیں ۔ آفرین ہے تم مردوں پر۔بد قسمتی یہ ہے کہ یہی مرد ”چھٹکارہ بھی دلاتے ہیں۔آو! مجھے ہمیشہ کے لئے چھٹکارہ دلا دو!“یہ کہہ کو وہ مدہوش سا ہنسنے لگی مجھے اس کی سانسوں سے شراب کی بو آنے لگی جو مجھے بھی مدہوش سا کرنے لگی۔

                چھٹکارہ! مجھے یہ لفظ اپنے مطلب کا لگا۔میں گرمی سے پھٹنے لگا،روح کو نہیںجسم کو لیئے میں ”عورت“ کے طرف بڑھنے لگا تو وہ تحلیل ہونے لگی۔ جب دھواں ہو کر غائب ہوگئی تو حیرت سے میں ساکت ہو گیا۔مجھے لگا میں خود ایک افسانے کاکردار ہوں اور یہ سب ایک ایسا خواب ہے جس کی تعبیر کے لئے مجھے جاگنا ہوگا۔ا ور میں اب شاید جاگ بھی نہ سکوں۔(ختم شد)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

دروازہ …محمد جاوید انور

دروازہ محمد جاوید انور "کہہ دیا نا میں نے لکھنا چھوڑ دیا ہے۔” اس کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے