سر ورق / کہانی / خاموشیوں کا نیلا رنگ تسنیم خان/عامر صدیقی

خاموشیوں کا نیلا رنگ تسنیم خان/عامر صدیقی

خاموشیوں کا نیلا رنگ

تسنیم خان/عامر صدیقی

ہندی کہانی

…………….

”لو ساب ، آپکی چاکلیٹ۔“

”ارے کٹیِال صاحب آئیے، کیا لائے ہیں۔ آج بڑی دیر لگا دی۔“

پربھات کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی اس نے دونوں چاکلیٹ اس پر پھینک دیں،”ایک تو آپ یہ مجھے کٹیِال ساب مت کہا کرو۔“ اس نے ہونٹوں کو باہر نکالتے ہوئے منہ بنا لیا۔ پربھات نے اس کا ہاتھ پکڑ کرکھینچتے ہوئے پاس بٹھایا۔ کندھے پر ہاتھ رکھ اپنے سے چپکاتے ہوئے کہا،”تو کیا کہوں کٹیِال صاحب۔ ہاہاہا!“

پربھات کا ہنسنا اس کو اور بھی ناراض کر گیا۔

”اچھا، تو اب نہیں کہوں گا، پکا۔ لیکن پھر تم مجھے صاحب کیوں کہتے ہو؟“

اس کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی، پھر بھی اس نے اپنے آپ کوسوبر دکھانے کے انداز میں کہا،”آپ تو ہو ہی ساب ۔“

”کیوں یہ صاحب کی زندگی تمہیں اتنی اچھی لگتی ہے۔“

اس بار اس نے ہاں میں بس گردن ہلا دی۔

پربھات کا فوجی ہونا اسے خوب پر کشش بناتاتھا۔ ایک تو اس کے چہرے کا رعب، دوسرا اسکی طویل قامت اور گٹھیلے جسم پر فوجی وردی خوب پھبتی۔ چہرہ تھر کے ریگستان سے زیادہ سنہرا اور اس پر سورج سی چمک۔ وہ اسے دیر تک دیکھا کرتا اورکہتا،”آپ ہیرو کیوں نہیں بن جاتے۔“

اس پر پربھات بس ہنس دیتا۔

روشن قریب آٹھ سال کا ہوگا۔ رنگ بھورا اور بال بھی۔ اسکے گالوں پر سرخ نشان ہمیشہ پڑے رہتے۔ کبھی کبھی تو اتنے پھٹ جاتے کہ خون صاف دکھائی دینے لگتا ،لیکن وہ ان سب سے بے فکر، اپنے چھوٹے ریچھ سے ملتے جلتے جھبرے بالوں والے کتے کو چپکائے گھومتا رہتا۔ اسے وہ اپنی زبان میں کُکّر کہتا۔

وہ کہیں بھی رہے، لیکن دن کے گیارہ بجتے بجتے کالی ندی کے کنارے آ جاتا۔

اسے پتہ ہوتا کہ پربھات یہیں اس کا انتظار کر رہا ہو گا۔ ایک اٹھائیس انتیس سال کے جوان اور آٹھ سال کے بچے کی دوستی تھی بھی اتنی گہری کہ وہ سارے کام چھوڑ کراس وقت ایک دوسرے سے باتیں کرنے آتے۔

عمروں کی طرح ہی ان دونوں کی باتیں بھی جدا ہوتیں، لگ بھگ الگ دنیا کی۔

روشن کی باتیں پہاڑ کے نیچے کی زندگی سے اس اونچی برف کی چوٹی تک ہوتیں، تو پربھات کے خیال تھر کے ریگستان سے اس برف کی اونچائی تک کا سفر کیا کرتے۔

پربھات نے ایک چاکلیٹ اس کے ہاتھ میں تھما دی۔ اب دونوں خاموش تھے اور چاکلیٹ کھانے میں مگن۔ بس ندی کی کل کل مسلسل انکی خامو شی کو توڑ رہی تھی۔ پربھات کے دل میں پھر ہوک سی اٹھی۔

 ”یہ ندی نہ ہوتی تو شاید یہ جزیرے سی لگنے والی برف کی چوٹی بھی اکیلی ہی ہوتی۔ کوئی آوازنہیں، بس خاموشی ہی خاموشی بکھری ہوتی،پر قدرت نے اِس کے ساتھ ناانصافی نہیں کی اور اسے آواز سے گلزار رکھا۔ تبھی تو گونجی کے دونوں طرف ندیاں بہہ رہی ہیں۔ کالی اور کُٹی۔“

”یہ بھی تو ریگستان ہی ہے برف کا۔“اس نے دل ہی دل کہا،”دور دور تک کوئی ہریالی نہیں۔ بس برف کے درمیان سے جھانکتی اکا دکا جھاڑیاں۔ ویسے ہی جیسے اَوسیاں کے ریت کے ٹیلے۔ جہاں بمشکل ہی کوئی کٹیلا پودا بھی ملا کرتا۔ ہوتا تو بھی مٹی کے کئی فٹ اونچے ٹیلوں میں سے اس کا اوپری سرا ہی جھانکتا ملتا۔“

”اپنی زندگی بھی تو صحرا ہوتی جا رہی ہے۔ ریت کی طرح تپتا من اور سردبرف کی طرح جمتی رشتوں کی گرماہٹ۔“

پربھات نے ایک طویل سانس لی اور اپنی چاکلیٹ ختم کرتے کرتے کہا،”جانتا ہے آج کس خوشی میں چاکلیٹ کھا رہے ہیں۔“

” ہاں،ہوگا آج بیگم جی کیا جنم دن یا چیلی کا یاایجا کا یا پھر باجیو کا۔“ روشن نے کئی سارے نام گنوا دیے۔

”نہیں، اس سے بھی بڑی بات کہ آج میں چاچو بن گیا۔“

”وہ تو پہلے ہی تھے، چینو کے۔“

” ہاں، یہی تو نا، چینو کا چھوٹا بھائی ہواہے۔ تم کیا کہتے ہو اسے۔۔۔“

” ہاں، داجیو ہوا ہے۔“

”اچھا ۔۔۔“

” ہاں، آج صبح ہی سیٹیلائٹ فون پر کویتاسے بات ہوئی۔ اسی نے بتایا۔ پتہ ہے میں تو خوشی کے مارے اچھل پڑا۔ اس کے بعد سے تو دل ہی نہیں لگا۔ بس سوچ ہی رہا تھا کہ کب تم آﺅ اور تم خوشی بانٹو۔“

”اچھا بس بیگم جی سے بات کی۔ ایجا (ماں) اور باجیو (باپ) سے نہیں۔“

”تجھے بتایا تو تھا نہ کہ وہ بھی امریکہ گئے ہیں۔ بھیا،بھابھی کے پاس۔ اب تو ان سے بھی بات نہیں کر سکتا۔“ اس نے پھر ایک طویل سانس لی۔

گونجی ویسے بھی سطح سمندرسے۰۵۵۰۱ فٹ کی اونچائی پر واقع ہے۔ ہائی اےلٹی ٹیوڈ کی وجہ سے یہاں آکسیجن کم ہوتی ہے، اسی لئے لمبی سانس لینا، یہاں کے لوگوں کی زندگی کے لئے ضروری ہے۔ پربھات اور اس جیسے لوگوں کےلئے بھی، جو یہاں کے ماحول کے عادی نہیں ہوتے۔

”پتہ ہے، یہ برفیلی چوٹیاں جتنی خوبصورت ہیں نا، اس سے کہیں زیادہ مشکل یہاں کی زندگیاں ہیں۔“پربھات نے روشن سے کہا۔

”اچھا، تو آپکے ریگستان میں کیسے گزرتی ہیں زندگیاں؟ پتہ نہیں کس طرح سے رہتے ہیں وہاں لوگ؟ بادھیہ ایک دن بتا رہا تھا کہ کیلاش مان سروور یاترا کےلئے راجستھان سے لوگ آئے تھے، وہ تو جیسے پگلا گئے برف دیکھ کر۔“

پربھات ہنس دیا، کہا، ” کٹیِال صاحب آپ تو برا مان گئے۔ میں گونجی کی برائی نہیں کر رہا۔ بس اتنا جانتا ہوں کہ یہاں کی زندگی مجھ پر بہت بھاری ہے۔“

”ارے، اتنے جوان ہو، اس پر فوج میں ساب ، پھر بھی مشکل کہتے ہو، آپ سے تو اچھا میں ہی ہوں۔ دیکھنا اگلے مہینے جب ہم نیچے جائیں گے، تب میں بادھیہ اور ایجا سے آگے رہوں گا۔ پیدل راستہ میں ہی پہلے پار کرتا ہوں۔پورے ساٹھ کوس پڑتاہوگا کوئی۔ دیکھا ہے نا کتنا مشکل راستہ ہوتا ہے۔ چھوٹی بڑی پہاڑیوں سے راستہ کبھی ایسے جاتا ہے، کبھی ویسے۔“ اس نے ہاتھوں کو لہراتے ہوئے بتایا۔

”اب بتاﺅ مشکل ہے؟“اس نے پھر سوال کیا۔

”مشکل تو ہے۔ یہاں آنے کے بعد میں تو زندگی سے کٹ سا گیا۔ نہ کوئی رشتہ اور نہ کوئی دوست۔ اب دیکھنا، گھر میں نیا مہمان آیا ہے تو بھی میں بھیا،بھابھی، ممی، پاپا کو مبارکباد تک نہیں دے پایا۔“

”ارے ساب ، اِتوکموٹ موٹ فون کلے دھن چھا (پھر اتنا موٹا موٹا فون کیوں رکھتے ہو) بات کرو نا ان سے۔“اس نے پاس پڑے واکی ٹاکی پانچ واٹ کے وی ایچ ایف موٹرولا ڈاو ¿ن سیٹ کی طرف اشارہ کیا۔

” کٹیِال صاحب کتنی بار کہہ چکاہوں کہ اس فون سے آواز میرے اپنوں تک نہیں پہنچ پاتی۔“

”یہاں صرف ایک سیٹیلائٹ فون ہے، جس سے گھر بات ہو جاتی ہے، لیکن باہر بات نہیں ہو سکتی۔ فوج میں نوکری کی اپنی حدود ہیں۔ اس پر گونجی میں موبائل یا دوسری فون سروس بھی تو نہیں ہے۔ انٹرنیٹ کے بارے میں تو یہاں سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ نہیں تو کتنے آپشن ہیں باہر بات کرنے کے۔ سوچ رہا ہوں کہ اپنا یہ بیکار پڑا موبائل برف کے نیچے ہی کہیں دفن کر دوں۔“

روشن بولا،”اتنی بری لگتی ہے یہ جگہ۔“

پربھات نے کہا،”جگہ نہیں، یہاں کی تنہائی بری ہے۔ یہاں آکر ممی پاپا کا پیار، بیوی کی ناز برداری، بٹیا رانی کے نرم ہاتھوں کا لمس، بھائی بھابھی کی محبت، دوستوں کی ٹولی اور ان کی گالیاں،سبھی چھوٹ گیا۔ بہت اکیلا ہوں یہاںمیں۔“

”اکیلے کیسے ہوئے؟ آپ کے پاس تو اتنے سارے فوجی گھومتے رہتے ہیں۔ جی ساب ، جی ساب کرتے ہوئے۔ کوئی پچاس تو ہوں گے ہی نا۔“اس نے انگلیوں پر جیسے گنتے ہوئے کہا۔

”اور دیکھو ہمارے گھر میں تو ہم تین ہی ہیں۔ میں، باجیو اور اِیجا۔ پھر بھی میں کبھی نہیں کہتا کہ میں اکیلا ہوں۔“

”جانتے ہو روشن، جب انسان بھیڑ سے گھیراہو، تو وہ سب سے زیادہ تنہا ہوتا ہے۔رہی فوج کی بات تو آپ صاحب بنو گے تو سمجھو گے کہ فوج میں ڈیکورم برقرار رکھنا بھی اپنے ساتھ ظلم برتنا ہے۔ افسر کو جوانوں سے ایک فاصلہ برقرار رکھنا ہوتا ہے، رعب دکھانا ضروری سا ہوتا ہے۔ چاہ کر بھی ان سے زیادہ گھل مل نہیں سکتا۔ ان سے اپنے دل کی بات نہیں کر سکتا، دوستی نہیں کر سکتا۔ اور ایسے تو بالکل نہیں بات کر سکتا، جیسے میں تم سے بات کرتا ہوں۔ ان سے کبھی نہیں کہہ سکتا کہ مجھے گھروالوں کی یاد آتی ہے۔“

اس بار پربھات کو لگا کہ اس کی آواز کچھ بھرا گئی ہے، لہذا وہ خاموش ہو گیا اور دائیں جانب منہ پھیر لیا۔ سامنے ہی اوم پربت کی اونچی اونچی برفیلی چوٹیاں دکھائی دے رہی تھیں۔ جو نیلے آسمان کو چوم رہی تھیں۔ دھوپ جیسے جیسے ان پر تیز ہوتی جاتی، وہ سفید سے نیلی پڑتی جاتیں۔ مجازی نیلی۔ وہ جتنی چمکتیں، اتنا ہی آسمان کا نیلا رنگ ان میں اترتا جاتا۔ جیسے شِو بھگوان زہر پی کر نیلے پڑ رہے ہوں۔

اس نے سوچا،” شِوبھگوان نے بھی تو یہیں تپسیا کی تھی، تبھی سے شاید یہ سب کےلئے تپسیا استھان ہو گیا ہوگا۔ جو ہمیشہ خاموشیوں سے گھرا رہتا ہے۔“

”اوم پربت آپ روز ہی دیکھتے ہیں، آج ایسا کیا ہے کہ دیکھے جا رہے ہیں۔بھگوان شِو نظر آئے کیا؟“روشن نے ٹھٹھول کیا۔

پربھات بھی ہنس دیا، بھراتا ہوا گلا، اس ہنسی سے کھل گیا۔

”روشن ۔۔۔ اسے دیکھ کرپہلی بار جانا ہے کہ خاموشیاں نیلے رنگ کی ہوتی ہیں۔“

”اچھا۔ ایسا بھی ہوتا ہے کیا؟“

”اب سوچ رہا ہوں کہ اس پر سنیاس کی تیاری کر لوں۔“

روشن نے پربھات کو نیچے سے اوپر تک گھور،”آپ کیسے بنو گے سنیاسی۔ وہ ایسے نہیں ہوتے۔ وہ تو کپڑے بھی اتنے نہیں پہنتے۔ نا ہی جوتے۔“ روشن نے اسکے سنو بوٹ پر نظر ڈالتے ہوئے کہا۔

پربھات کی ہنسی وادیوں میں گونجنے لگی۔ کہا،”یہی تو، میں وردی والا سنیاسی بنوں گا۔ اب دیکھ نہ یہ سنیاس ہی تو ہے۔ اپنی گھریلو زندگی سے تو نکل ہی آیا۔ کوئی ذمہ داری نبھا نہیں سکتا۔ اپنوں کے قریب نہیں رہ سکتا۔ اور تو اور کہیں کسی کو دیکھ کر آہیں بھی نہیں بھر سکتا، تو کیوں نہ دھرم ہی نبھا لوں۔ ہاں، یہ صحیح رہے گا۔ اوم پربت کی طرف چل دیتا ہوں۔“

”ارے نہیں نہیں، وہاں برف پگھلتی ہے۔ باجیو کہتا ہے، وہاں بہت خطرہ ہے۔“ روشن نے ڈرتے ہوئے پربھات کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔

”خطرہ تو یہاں بھی ہے روشن۔ ایس ایس بی کیمپس کے چاروں جانب گھرے برف کے پہاڑوں سے گلیشیر پگھلنے کا خطرہ ہر وقت ہم پر منڈلا رہا ہوتا ہے۔ اس پر بیرک اتنی دور دور ہیں کہ کبھی کسی کو کچھ ہو جائے تو آواز بھی نہیں دی جا سکے۔ اور سب سے بڑی بات کہ یہاں کچھ دیکھنے کو بھی نہیں ملتا۔ یعنی کوئی ہریالی۔“

روشن نے بغل کھجلاتے ہوئے کہا ،”ہریالی؟“

” ہاں ہریالی۔ تم نہیں سمجھو گے۔ لیکن کہیں دیکھنے کو ہی مل جائے، تو ہمارا دل تو لگا رہے نا۔ اور کہیں پوسٹنگ ہوتی تو بازارہی نکل جاتے، وہاں تو اتنی ساری ہریالیاںدیکھتا کہ آنکھیں سیر ہو ہی جاتی۔ زندگی جینے کے لئے امنگیں ضروری ہیں اور امنگوں کے لئے ہریالی۔“

”آپ یہ الجھی الجھی باتیں مجھ سے مت کیا کرو۔“ بال کھجلاتے کھجلاتے پریشان ہو جاتا ہوں۔“روشن نے پریشان ہوتے ہوئے کہا۔

”سچ کہتا ہوں روشن، ہریالی کے بغیر تو ہم بے کار ہیں۔ تجھے معلوم ہے، ہم ریگستان والے تو جوانی میں برف پر پھسلنے کے ہی خواب دیکھا کرتے ہیں۔ میں نے بھی یہی سوچا تھا کہ کبھی برف کی حسیں وادیوں میں گھومنے جاو ¿ں گا اور اپنی گرل فرینڈ یا بیوی کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے کوئی گیت گا رہا ہوں گا۔ ندی کے کلکل کرتے پانی میں دونوں ننگے پاو ¿ں بیٹھے ہوں گے اور وادیوں میں کھو جائیں گے۔اب دیکھ نہ میں ان خوبصورت وادیوں میں بیٹھا بھی ہوں تو اکیلا۔ ایکدم تنہا۔ اور تو اور یہاں آنے کے بعد دوست بھی ایک ہی بچا ہے اور وہ تم ہو۔“

روشن کی خوشی ہونٹوں سے ہوتی ہوئی گالوں کی اونچائی تک جا پہنچی۔ پھٹے گالوں کا کھنچاﺅ بڑھ گیا۔

بولا،”سچی۔“

”سچ روشن۔ یہاں آنے کے بعد تو بچپن کے دوست پیچھے چھوٹ گئے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اسسٹنٹ کمانڈنٹ بن کر میں اپنے آپ کو اونچا سمجھنے لگا ہوں، اسی لیے ان سے بات چیت نہیں رکھتا۔“

”انہیں کون سمجھائے کہ اونچائی پر انسان ہمیشہ اکیلا ہوتا ہے، جیسے میں۔“

”لاکھ کوشش کر بھی انہیں سمجھا نہیں پاتا کہ میری زندگی میں وہ کتنے اہم ہیں۔ ان کی بھی کویتا کی طرح ایک ہی شکایت کہ میں انہیں فون یا میسج نہیں کرتا۔ اسی کا مطلب نکال لیتے ہیں کہ ان سے محبت نہیں کرتا۔“

پربھات کا دل رک سا گیا۔

اس نے گھڑی کی طرف دیکھا، دوپہر کا ایک بجا رہی تھی۔ بیٹ مےن دور سے ہی آواز لگاتا آ رہا تھا۔ پربھات سمجھ گیا کہ دوپہر کے کھانے کا وقت ہو چلا ہے۔

اس نے روشن کی جانب دیکھا۔ وہ تو پہلے ہی اپنی جگہ سے اٹھ چکا تھا۔ پربھات پاس گیا اور اس کے ہاتھ میں بیس روپے رکھ دیئے۔ روشن بیس روپے لیتے ہوئے بولا،”میرا خرچہ کیوں کرتے ہو۔ میں تو ویسے بھی باجیو کو پاگل بنا کر ان کی دکان سے روزانہ دو چاکلیٹ تو کھا ہی لیتا ہوں۔“وہ آنکھ مارتے ہوئے بولا۔

”بس اس بہانے تم سے کچھ دیر باتیں ہو جاتی ہیں۔“

”ارے واہ۔ میرا باجیو دس روپے تو چھوڑو، مجھ پر ایک بھی خرچ نہ کرے۔ دس دس روپے بچا کر وہ جانے کون سا پربت خرید لیں گے۔“

”وہ پربت خرید لیں گے تو بھی دیکھنا، وہاں جینا مشکل ہو جائے گا۔ پاو ¿ں بار بار نیچے کی زمین ہی تلاش کریںگے۔“

یہ کہتے ہوئے پربھات ایس ایس بی کیمپس کی جانب چل دیا۔

رات نو بجتے بجتے سرد ہوائیں اور تیز ہو گئی۔ برسات کے بعد برفباری شروع ہو گئی۔ اپنے اس لکڑی کے بنے آفیسرز میس کے کمرے میں پربھات بستر میں اپنے آپ کو سمیٹے بیٹھا رہا۔ ایک طرف بنی مٹی کے تیل کی سگڑی میں آگ جل رہی تھی۔ یہ سرد علاقوں کے ہر گھر میں ہوا کرتی ہے، جسے مقامی زبان میں تندور یا بھُکھاری کہا جاتا۔ اسی کے سہارے موسم اتنا خراب ہونے کے بعد بھی سردی میں کچھ کمی تھی۔

گونجی، اتراکھنڈ کے کماﺅ علاقے میں پتھورا گڑھ ضلع کے ایک اونچی چوٹی پر واقع گاو ¿ں ہے۔ جو چین کے زیر انتظام تبت، نیپال اور بھارت کی سہ رخی سرحد پر موجود ہے۔ پورے سال یہاں برف رہتی ہے، ایسے میں عام لوگوں کا یہاں رہنا مشکلوں بھرا ہوا ہے۔ تبھی تو سرحد پر چوکسی کے لئے تعینات مسلح سرحدی محافظوں، انڈو تبت بارڈر پولیس کے جوانوں کے علاوہ عام عوام کی زندگی نہ کے برابر ہے۔ ہیں بھی تو بس کیلاش مان سروور یاتراکے دوران یہاں آنے والے یاتری اور ارد گرد سے ذریعہ معاش کمانے کے لئے آنے والے۔ وہ بھی برف گرنے کے وقت اکتوبر کے آخر تک نچلے علاقوں میں لوٹ جاتے۔ ایک اسٹیٹ بینک کا چھوٹا سا آفس اور ایک پولیس چوکی۔ وہ ہر سال یکم نومبر سے یہاں بند ہو جاتی۔ پھر اگلے سال مئی تک یہاں صرف خاموشیاں ہی بستیں۔

پربھات کو گونجی آئے دو ماہ سے زیادہ وقت گزر چکا تھا۔ بڑے دنوں بعد اس نے اپنی ڈائری کھولی اور اس میں اپنے سفر کا احوال درج کرنا شروع کر دیا۔ اپنے دل کی باتیں ڈائری کو بتانے لگا۔

”دھارچولا سے گونجی تک یوں تو دو دنوں میں پچپن کلومیٹر کا سفر ہر کسی کو پیدل ہی پورا کرنا ہوتا، لیکن خوش نصیبی سے چمپاوت سے اکلوتے روٹر ہیلی کاپٹر ایم آئی ۔۶۲ میں آنے کا انتظام ہو گیا۔ یہ حیرت انگیز اور بڑا ساہیلی کاپٹر تھا۔ حیرت انگیز بھی ہے کہ اس کے سہارے ہی ٹرک بھی آسمان کی پرواز بھر رہا تھا۔ اور صرف تیس منٹ میں ہی میں گونجی پہنچ گیا۔ ہیلی پےڈ پر اترتے ہی برف پر پڑتی دھوپ میں آنکھیں چندیانے لگیں۔ پہلی بار برف پر قدم جو رکھا تھا۔ اونچے اونچے برف سے ڈھکے پہاڑ، دو نوںجانب سے بہتی ندیاں جنت کا سا احساس کرانے لگیں۔ لیکن شام تک پتہ چل گیا کہ جنت پا لینا اتنا آسان نہیں۔ تپسیا کرنا ہوتی ہے۔ نہ یہاں موبائل نیٹ ورک، کوئی بجلی، نہ حرورت بھر پانی، اس پر ہائی اےلٹی ٹیوڈ اور شام ہوتے ہی چلنے والی برفانی ہوائیں۔ ایسے میں اپنے آپ کو زندہ رکھ لینا ہی کافی تھا۔“

ڈائری لکھتے لکھتے کب اس کی آنکھ لگی پتہ نہیں چلا۔

صبح کے آٹھ بجے سنتری نے دروازہ کھٹکھٹایا ،تو پربھات کی آنکھ کھلی۔ ابھی اجالا ہونا باقی تھا۔ تیار ہو کر باہر نکلا تو سورج نکل چکا تھا۔گنگنی دھوپ میں برف سے ڈھکیں پہاڑیوں کے بیچ جھانکتے اوم پربت کی طرف کچھ دیر خلا میں تاکتے رہنا، اس کی روٹین کا حصہ بن چکا تھا۔

وہ میدان میں سر سے پاو ¿ں تک خود کو گرم کپڑوں میں ڈھکے کمپنی کے جوانوں کے سامنے کھڑا تھا۔ سب کے ساتھ صبح کی دوڑ اور ورزش کے بعد اس نے ضروری احکامات سنائے یعنی فوجیوں کو دی جانے والی ڈیوٹی۔ اس کے بعد پیدل ہی بارڈر تک چل دیا۔ لوٹا تو ساڑھے گیارہ بج رہے تھے۔ وہ سیدھا کالی ندی پہنچا۔ پھرہاتھ باندھے ندی کے کنارے کچھ دیر کھڑا رہا ،لیکن دور تک نہ روشن تھا اور نہ ہی اس کا کتا۔

واکی ٹاکی بج اٹھا،”مائٹی کالنگ، مائٹی کالنگ ۔۔۔“

”یس کالنگ۔“

” صاحب، دنڈپال صاحب کا ہیلی پہنچنے والا ہی ہے۔ آپ کہاں ہیں؟“

”آئی ول بی دیئر ان دس منٹ۔“

یہ کہتے ہوئے پربھات نے واکی ٹاکی اپنے بیلٹ پر ٹانگ لیا اور دوڑتے ہوئے ایس ایس بی کیمپس کا راستہ پکڑا۔

شام کو کیمپ فائر میں پینے پلانے کا دور چل رہا تھا۔ آگ کے ارد گرد بیٹھے فوجی گیت گا رہے تھے۔ دنڈپال موصوف ،گونجی کے دن بھرکے دورے کی تھکاوٹ کے بعد پیگ لے رہے تھے۔ فوجیوں کے ناچ گانے میں ان کا ساتھ دے رہے تھے، لیکن پربھات کا دل وہاں نہیں تھا۔ اس بھیڑ کے بیچ کی تنہائی اسے کاٹ رہی تھی۔

اس کی آنکھیں اس بھیڑ میں کسی اپنے کو ڈھونڈنے کی ناکام کوشش کرنے لگی۔

”اتنے دن کہاں تھے ساب ۔“ روشن ہاتھ میں چھڑی لئے زمین میں کچھ ٹٹولتے ہوئے بولا۔

”یار، دنڈپال آئے تھے دورہ کرنے۔ ضروری تھا ان کے ساتھ رہنا۔ ناراض ہو کر جاتے تو مصیبت ہو جاتی۔“

”ڈرتے ہو کیا ان سے؟“

”نہیں، ڈرتا تو صرف اپنوں سے ہوں۔“

”آپ اتنا اداس کیوں ہو، وہ دنڈپال ڈانٹا؟“

”نہیں۔“

” پھر بیوی۔“

” ہاں، ہفتے بھر میں کل ہی وقت ملا، تو سیٹیلائٹ فون سے کویتاکے موبائل پر بات کرنے کی کوشش کی۔ اس نے بات نہیں کی۔ فون کاٹ دیا۔ وہ اس بات سے ناراض ہے کہ مجھے اس کی یاد نہیں آتی، اسی لئے فون نہیں کرتا۔ رونے لگی کہ پہلے تو دن میں دو بار اس سے بات کرتا تھا۔ اب میرا پیارکم ہو گیا، تو اس سے فاصلے بنا رہا ہوں۔ تو ہی بتا سرکاری فون سے سارا دن اپنے خاندان سے کس طرح بات کی جا سکتی ہے۔ لیکن وہ میری مجبوریاںنہیں سمجھتی۔ سمجھتی ہے کہ میں بہانے بنا رہا ہوں۔“

روشن نے کسی ہم عمر دوست کی طرح اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔ کہا،”میری بات کرانا میں بتاو ¿ں گا کہ ان کی اور ہرشتا کی، آپ کو کتنی یاد آتی ہے۔ پھر وہ خوش ہو جائیں گی۔“

” ہاں، روشن۔ ہر وقت ہرشتا اور اس کا خیال رہتا ہے۔ ہرشتا اب تین سال کی ہے، لیکن پیدا ہونے سے اب تک اس کے ساتھ کوئی چھ مہینے ہی گزارے ہوں گے۔ اسے بس خیالوں میں ہی بڑے ہوتے دیکھتا ہوں۔ اس کی کھلکھلاتی ہنسی میری برف سی سفید زندگی میں بھی رنگ بھر دیتی ہے۔ اس کے چھوٹے چھوٹے پیروں میں پہننے پائلوں کا چھنکنا اپنے آس پاس سنا کرتا ہوں۔ خیالوں میں ہی سہی، اسکے نرم ہاتھ میرے گالوں کو چھو لیتے ہیں تو ساری تھکن اتر جاتی ہے۔“

پربھات کی آنکھوں میں برف سی جمنے لگی۔

”آپ بھی روتے ہیں، لیکن آنسو تو اندر ہی رہ گئے۔“روشن نے بھانپ لیا شاید۔

اپنے ننھے دوست کی یہ بات پربھات کو اندر تک بھگو گئی۔

روشن کو خود سے لگا لیا۔ اور کہا،”پتہ ہے روشن اتنے سناٹے میں ماں کی یاد آجاتی ہے۔ وہ میرے ہر حال کو بن کہے سمجھ جاتی ہیں۔ انہیں کبھی کہنا نہیں پڑا کہ میں پریشان ہوں۔ بس وہی ہیں جو کبھی ناراض نہیں ہوتیں۔“

”اچھا، مجھے تو اچھا لگے کہ اجیا سے دور رہنا پڑے۔“روشن نے اپنے ہاتھوں کی مٹھی پر گالوں کو ٹکاتے ہوئے کہا۔

”تم ابھی نہیں جانتے روشن، کہ اجیا کے سوا کوئی نہیں ،جس کی زندگی بس تمہارے ارد گرد گھومتی ہے۔ وہ ہی ہے جو تمہارے باہر نکلتے ہی بھگوان سے دعا کرنے میں لگ جاتی ہے۔ اور تب تک کرتی ہے، جب تک تم گھر نہیں پہنچ جاتے۔“

”اچھا، ایسا ہوتا ہے؟“

”چل اب باقی باتیں پھر کبھی۔ پرسوں کچھ مہمان آ رہے ہیں، وہاں سے فری ہو جاو ¿ں تو پھر آتا ہوں۔“

”ٹھیک ہے ساب ۔“

ساتویں کمیشن کے صدر، اس کی بیوی اور ارکان کی خاطر داری میں اس کا پورا دن گزر جاتا اور رات کو بھی آرام نہیں ملتا۔آفیسرز میس میں اس کی جگہ مہمانوں نے لے رکھی تھی اور اب وہ ایک جوان کے کمرے میں اس کے ساتھ تھا۔ اسے تھوڑی سی جگہ میں سونے کی عادت نہیں تھی۔

آفس میں اپنی کرسی سے ٹیک لگائے پربھات کے خیال پھر گونجی سے نیچے دھارچولا جا پہنچے۔

”وہاں تو کتنا اچھا تھا۔ انٹرنیٹ بھی چلتا تھا اور فون بھی۔ دن میں کئی بار کویتا سے واٹس اےپ پر چیٹنگ ہو جاتی ۔ من بھر جاتا تھا۔ ماں صبح شام ٹوہ لے لیتی۔ بھائی بھابھی بھی امریکہ میں ہوکر دور نہیں لگتے تھے۔کویتا،ہرشتا، ماں، بھائی اور میں ۔۔۔ ہم سب بہت خوش تھے۔ ٹیکنالوجی نے دوریاں مٹا دی تھیں۔ اب تو عرصہ گزرا بھائی اور ماں سے بات کیے۔“

یہ سوچتے سوچتے اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑے آفس آرڈر کے صفحات کو مٹھی میں بھینچ لیا۔ چھٹی کی عرضی پھر کمانڈنٹ نے مسترد کر دی تھی۔

پانچ ماہ میں چار بار چھٹی کی عرضی دے چکا تھا، لیکن ایک بھی قبول نہیں ہوئی۔ وہ جانتا تھا کہ اب بھی چھٹی نہیں ملی تو اگلے چار ماہ اور وہ اپنے گھر کی طرف جانے کا نہیں سوچ سکتا۔ نومبر سے فروری تک اس چوٹی پر برفباری اتنی ہوتی ہے کہ یہاں سے نیچے اترنا خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔ نقل و حرکت مکمل طور بند رہتی ہے۔ پھر آنکھ میں پانی کی جگہ برف جم آئی۔

قریب پندرہ دن بعد وہ کالی ندی کے کنارے بیٹھا تھا۔ ندی اپنی لے میں بہہ رہی تھی اور اس کی سوچیں بھی۔ اکتوبر نصف گزر چکا تھا اور سردی بڑھ گئی تھی۔ بہت سارے گرم کپڑے پہننے کے باوجود ، دوپہر کی دھوپ میں بھی جسم کانپنے لگا۔ دوست کا انتظار کرتے کرتے دوپہر کے بارہ بج گئے۔

” ساب ، ساب ۔۔۔“

دور سے ہاتھ ہلاتے، چلاتے ہوئے روشن آ رہا تھا۔ بڑے دنوں بعد پربھات دل سے مسکرایا، جیسے کوئی اپنا اس کے قریب آ رہا ہو۔

”کب سے انتظار کر رہا ہوں، کہاں تھے؟“

”میں تو یہاں روزانہ انتظار کرکے جاتا۔ مجھے تو لگا کہ اب نہیں مل پائیں گے۔“

”کیوں؟“

”پتہ ہے نا کچھ دنوں میں برف آنے والی ہے۔ اسی لیے ہم نے سامان سمیٹ لیا۔ میں، باجیو اور ایجا آج نیچے جا رہے ہیں۔“

پربھات جانتا تھا کہ اکتوبر کے آخر میں روشن کو جانا ہے، پھر بھی نہ جانے کیوں چونک گیا۔ وہ ندی کے کنارے سے اٹھ کر اپنے دوست کے سامنے گھٹنے ٹیک کر بیٹھ گیا۔

”تم بھی چلے جاو ¿ گے۔“

”ہاں ساب ، ابھی ہی جاتے ہیں ہم۔“

”اچھا ۔۔۔، کچھ دیر بات بھی نہیں کرو گے۔“

” ساب ، ایجا نے کچھ دیر کے لیے ہی بھیجا ہے۔ وہ پہاڑی کے سرے پر میرا انتظار کریں گے۔“ یہ کہتے اس نے ایک کپڑے کا چھوٹا سا بیگ پربھات کے آگے کر دیا۔

”اس میں کیا ہے؟“

”بال میٹھی، ایجانے راستے کے لئے بنائی۔ آپ کے لئے دی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ لوٹتے وقت کسی کو مٹھائی دیں تو وہ ہمیشہ یاد رکھتا ہے۔“

”ہاں، دوست۔ لیکن پہلے ہی میرے اپنوں کی یادیں کیا کم تھی کہ تم بھی ان میں شامل ہو گئے۔“

”اچھا، اپنا خیال رکھنا۔“اتنا کہتے ہوئے روشن نے قدم بڑھا دیے۔

کچھ سوچ کر پھر پلٹا،”اور ہاں، سنیاسی بن کر پربت نہیں جانا، باجیو کہتا ہے، وہاں بہت خطرہ ہے۔“

پربھات نے روشن کو گلے لگا لیا۔

پھر اسے دور تک جاتے دیکھتا رہا۔ شاید برف جمنے لگی تھی، اس کے پیروں کو برف نے وہیں جکڑ لیا۔ روشن نظروں سے اوجھل ہوا تو پلٹ کر دیکھا، اوم پربت اس کے ساتھ وہیں کھڑا تھا، اسی کی طرح خاموش اور تنہا۔ دھوپ کے ساتھ ساتھ اس کا رنگ نیلا اور نیلا پڑ گیا۔

پربھات نے جیسے اپنے آپ سے کہا ۔

”خاموشیوں کا رنگ نیلا ہی ہوتا ہے۔“

٭٭٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

کچھ کہنا تھا تم سے ۔۔۔ بِینوبسواس/عامر صدیقی

کچھ کہنا تھا تم سے بِینوبسواس/عامر صدیقی ہندی کہانی …………….  ویدیہی کا من بہت اتھل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے