سر ورق / کہانی / خود کش بمبار۔۔۔ سید بدر سعید

خود کش بمبار۔۔۔ سید بدر سعید

خودکش بمبار

                                2008 پاکستان کے لئے خوفناک سال تھا ۔ اس سال ملک میں سب سے زیادہ خودکش دھماکے ہوئے ۔ ان دنوں میں کرائم رپورٹر کے طور پر کام کر رہا تھا ۔ ہر روز دفتری میٹنگ کے بعد سیدھا ہسپتالوں کے مردہ خانوں میں جانا اور وہاں موجود لاشوں کو دیکھنا اب اتنا مشکل نہ لگتا تھا جتناکرائم رپورٹنگ کے آغاز میں لگتا تھا ۔ شروع شروع میں تو مجھ سے کھانا تک نہ کھایا جاتا تھا ۔ ہسپتالوں میں آنے والی اکثر لاشیں ویسی نہیں ہوتیں جیسی طبعی موت مرنے والوں کی ہوتی ہیں ۔ اکثر لاشیں انتہائی بھیانک ہو چکی ہوتی تھیں ۔ حادثات میں پچکی ہوئی کھوپڑیوں سے لے کر تیزاب پھینک کر مسخ کئے گئے چہروں کے ساتھ ساتھ گولیوں کا نشانہ بننے والے افراد کے بھیانک شکلیں دیکھنا دل گردے کا کام ہے ۔ ان دنوں میں سوچا کرتا تھا کہ ڈاکٹر اور گورکن شاید سب سے زیادہ سنگ دل ہوتے ہیں ۔ آہستہ آہستہ میں بھی ان روٹین کا عادی ہوتا چلا گیا ۔ صورت حال یہاں تک پہنچ گئی کہ میں ہر روز کسی ربورٹ کی طرح ان لاشوں کا دیدار کرتا اور ان کی تصاویر بنوانے کے بعد پریس کلب چلا جاتا جہاں چند بوڑھے صحافی شطرنج کی بساط سجائے بیٹھے ہوتے تھے ۔ شاید روزانہ ایک ہی طرح کی لاشیں دیکھ دیکھ کر میں بھی ڈاکٹروں اور گورکن کی طرح سخت دل ہو چکا تھا ۔

                                انہی دنوں شہر میں ایک خودکش دھماکہ ہوا ۔ اتفاق سے میں جائے حادثہ کے قریب ہی تھا لہذا میں ان چند رپورٹرز میں سے تھا جو سب سے پہلے وہاں پہنچے تھے۔ زخمیوں کی چیخ و پکار جاری تھی اور گوشت کے لوتھڑے دیواروں سے چپکے ہوئے تھے ۔ میں خاموشی سے صورت حال کا جائزہ لینے لگا ۔ اسی دوران میری نظر ان اہلکاروں پر پڑی جو خودکش بمبار کے اعضا اکٹھے کر رہے تھے ۔ یہ اہلکار مجھے جانتے تھے لہذا میں تھوڑا قریب ہو کر یہ منظر دیکھنے لگا۔ ا چانک کسی نے ایک کٹے ہوئے سر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ خودکش بمبار کا سر ہے ۔ میں نے خون آلود اس سر کی جانب دیکھا تو میری ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ دوڑ گئی ۔ مجھ پر جیسے سکتہ طاری ہو گیا تھا ۔ یہ بلال احمد تھا ۔

                                بلال احمد اور میرا بہت پرانا ساتھ تھا ۔ ہم نے ایک مدرسہ میں قرآن حفظ کیا تھا ۔ ہمارے استاد حقانی سلسلہ سے تھے ۔ حقانی سلسلہ نسل کی بجائے استادی شاگردی کا سلسلہ ہے ۔ہم براہ راست حقانی سلسلہ میں نہیں آتے تھے لیکن حقانی استاد کی نسبت سے اپنے نام کے ساتھ حقانی لکھنے لگے تھے ۔ اس وقت تک ہمیں صرف اتنا ہی معلوم تھا کہ مولانا حقانی نام کے کوئی استاد بہت بڑے عالم اور اللہ والے ہیں لہذ اپنے نام کے ساتھ حقانی لکھنا ہمارے لئے باعث فخر تھا ۔ بلال اور میں مدرسہ میں اکٹھے بیٹھتے تھے۔ہمارا تین طلبہ کا گروپ تھا جس میں بلال اور میرے علاوہ احسان شامل تھا۔

                                تین سال تک ہم اکٹھے کھیلتے اور شرارتیں کرتے رہے ۔ہمیں قرآن پاک حفظ کرنے کی سند بھی ایک ہی سال ملی ۔ حفظ کے بعد احسان اور میں نے آٹھویں کلاس میں داخلہ لے لیا جبکہ بلال درس نظامی کی جانب چلا گیا ۔ اس کے بعد ہمارا رابطہ قائم تو رہا لیکن پہلے کی طرح مضبوط نہ تھا ۔ ہمیں اپنے اپنے اداروں میں نئے دوست مل گئے اور ہماری ملاقاتیں اب عید شب برات تک محدود ہو گئیں ۔ بلال بہت بڑا عالم دین بننا چاہتا تھا۔ اس کا ارادہ تھا کہ یہاں سے درس نظامی کی ڈگری لینے کے بعد وہ مصر یا سعودی عرب چلا جائے گا اور وہاں سے مزید تعلیم حاصل کرے گا ۔اسی طرح اس نے” سبا عشرہ“ کا کورس بھی شروع کر رکھا تھا ۔” سبا عشرہ “ قرآت کا کورس ہے جس میں دنیا بھر میں رائج تلاوت قرآن کے اصول و قوانین سکھائے جاتے ہیں ۔ خوش الحان وہ پہلے ہی تھا ۔ مدرسہ میں نماز کے وقت اسی کو اذان کے لئے کہا جاتا تھا ۔ اسی طرح وہ تلاوت کے مقابلوں میں بھی شرکت کرتا تھا

                                سچ پوچھیں تو میرا خیال تھا اب تک وہ مصر یا سعودی عرب روانہ ہو چکا ہو گا ۔ وہ ہمارے مدرسہ کا بہترین دماغ تھا ۔ اللہ نے اسے کمال کا حافظہ عطا کیا تھا ۔ اسے دین کی خدمت کا جنون کی حد تک شوق تھا لیکن وہ شدت پسندانہ خیالات کا مالک ہرگز نہ تھا۔ ہماری آخری ملاقات چند سال قبل ہی تو ہوئی تھی ۔ تب اس نے بتایا تھا کہ اس کے گاﺅں کے کچھ لوگ جہاد کے لئے گئے ہیں ۔ چند ماہ بعد ان میں سے بیشتر شہید ہو گئے اور باقی گاﺅں لوٹ آئے ۔ انہی میں سے ایک شخص اکثر پاکستانی حکومت کو برا بھلا کہتا تھا ۔ اسے نہ صرف پاکستانی حکومت بلکہ سکیورٹی اداروں پر بھی اعتراض تھا ۔ بلال کا کہنا تھا کہ اس کا بس چلتا تو وہ ابھی گاﺅں کو اکٹھا کر کے ان پر ٹوٹ پڑتا ۔اسی شخص نے بلال سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اسے چند چیزیں دکھائے گا جنہیں دیکھنے کے بعد بلال اس کا حامی ہو جائے گا ۔ ان اہم چیزوں میں لٹریچر اور ویڈیوز شامل تھیں ۔ اس وقت میں نے بلال سے کہا تھا کہ جب اس تک یہ چیزیں پہنچیں تو مجھے بھی دکھا دے لیکن پھر میری بلال سے ملاقات ہی نہ ہو سکی ۔

اس روزخودکش بمبار کا چہرہ دیکھنے کے بعد مجھ سے وہاں رکا نہ گیا اور میں بھاری دل کے ساتھ لوٹ آیا ۔ بار بار خیال آتا تھا کہ یہ بلال ہرگز نہیں ہو سکتا ، ضرور مجھے کوئی غلط فہمی ہوئی ہے ۔ وہ کٹا ہوا سر خون آلود تھا اور کسی قدر ٹوٹ پھوٹ کا شکار بھی ہو چکا تھا ۔ اسی طرح بعض جگہوں سے جل بھی چکا تھا لہذا آہستہ آہستہ مجھے یقین ہونے لگا کہ وہ بلال نہیں کوئی اور تھا ۔ میں نے بلال کے نمبر پر فون کیا لیکن اس نے موبائل بند کر رکھا تھا ۔ اپنی تسلی کے لئے میں نے اس کے گھر فون کر دیا ۔ اس کے والد سے سلام دعا کے بعد بلال کا پوچھا تو انہوں نے بتایا وہ چھ ماہ سے لاپتہ ہے اور اس سے کسی کا رابطہ نہیں ہو پا رہا ۔ یہ سنتے ہی میرے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی ۔ میں نے انہیں اٹکتے ہوئے کہا کہ وہ لاہور آ جائیں ، شاید یہاں ان کی بلال سے ملاقات ہو سکے ۔

                                اگلے روز بلال کے بوڑھے والدین لاہور پہنچے تو میں انہیں لے کر متعلقہ افسر کے دفتر چلا گیا اور اسے بتایا کہ خودکش بمبار کی شناخت کرنی ہے ۔ بلال کے بوڑھے والد کسی حد تک معاملہ کی تہہ تک پہنچ چکے تھے ۔ ان کی بوڑھی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ۔ ایک قیامت خیز لمحے سے گزرنے کے بعد یہ تصدیق ہو گئی کہ خودکش حملہ آوار میرا پرانا دوست بلال ہی ہے ۔ بلال کی کٹی پھٹی لاش اس کے والد کے حوالے نہ کی گئی الٹا انہیں بھی تفتیش کی چکی میں ڈال دیا گیا ۔ کافی مشکل سے میں نے اہم لوگوں کو درمیان میں ڈال کر ان کی جان چھڑوائی ۔ اس کے والد کے بقول وہ جنرل پرویز مشرف کی پالیسیوں کے سخت خلاف تھا اور خصوصا لال مسجد پر حملے کے بعد بہت جذباتی ہو گیا تھا ۔ اکثر راتوں کو اٹھ کر روتا رہتا اور کہتا جس حکمران نے علما کرام اور معصوم بچیوں پر رحم نہیں کیا ،اس پر کون رحم کرے گا ؟ بلال کا نظریہ درست تھا یا غلط یہ ایک الگ بحث ہے لیکن اس کے والد کے بقول اس نے کبھی بھی خودکش حملوں کی حمایت نہیں کی تھی اور نہ ہی اس نے ایسے کسی ارادے کا اظہار کیا تھا ۔ چھ ماہ قبل وہ اچانک کہیں چلا گیا اور اس کے بعد اب اس کے جلے اور کٹے ہوئے سر سے ہی ملاقات ہو سکی تھی ۔

                                اس داستان کا المیہ پہلو یہ ہے کہ اگلے روز خودکش حملے میں جاں بحق ہونے والوں کی فہرست جاری ہوئی تو اس میں احسان کا نام بھی شامل تھا ۔ وہی احسان جو مدرسہ میں ہمارے تین رکنی گروپ کا حصہ تھا ۔ بلال اکثر کہتا تھا کہ وہ احسان اور میرے لئے جان بھی دے سکتا ہے لیکن انجانے میں اسی نے احسان کی بھی جان لے لی تھی ۔قدرتی طور پر اس خودکش حملے کی تحقیقات میں میری دلچسپی کافی حد تک بڑھ گئی تھی ۔ میں جذباتی طور پر اس سے جڑ چکا تھا اور حقائق جاننا چاہتا تھا۔ ایک دن ایک اہم سکیورٹی ادارے کے افسر نے بتایا کہ یہ حملہ خودکش ضرور تھا لیکن دھماکہ ریمورٹ کنٹرول کے ذریعے کیا گیا تھا ۔ خودکش حملہ آور کو جیکٹ پہنائی گئی تھی لیکن بم پھوڑنے والا کوئی اور تھا ۔

 میں آج تک نہیں جان پایا کہ بلال اس حملے میں کس حد تک ملوث تھا ۔ اسے ٹریپ کیا گیا تھا یا وہ خود یہ حملہ کرنا چاہتا تھا ۔ اگر وہ خود اس حملے میں ملوث تھا تو پھر اسے ریمورٹ کنٹرول کی مدد سے کیوں اڑایا گیا ۔ اس نے خود دھماکہ کیوں نہیں کیا۔ ایسے لاتعداد سوالات کے جوابات بلال کے ساتھ ہی اس دنیا سے چلے گئے ۔ اس جذباتی جھٹکے کے بعد میں نے خودکش بمبارز کے حوالے سے تحقیقات کر کے اس موضوع پر ایک کتاب بھی لکھی ۔ اس دوران مجھ پر مزید کئی انکشافات بھی ہوئے لیکن بلال کے ساتھ کیا ہوا یہ میں کبھی نہ جان پایا ۔

                                یہ ایک ایسا دھماکہ تھا جس میں قاتل اور مقتول دونوں ہی میرے بچپن کے دوست تھے ۔ میں احسان کا ماتم بھی کر رہا تھا اور بلال کی تعزیت بھی ۔ شاید قاتل کو بھی معلوم نہ تھا کہ وہ کسے مار رہا ہے ورنہ وہ ایسا نہ کرتا ۔ کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ شاید بلال نے وہیں کہیں احسان کو دیکھ لیا ہو اور پھر دھماکہ کرنے کی بجائے واپس جانے لگا ہو ۔ لہذا اس مشن کے ماسٹر مائنڈ نے ریمورٹ کنٹرول کا بٹن دبا کر اسے بھی ہوا میں بکھیر دیا ۔شاید اسے خیال نہ رہا کہ وہ جن راستوں کا مسافر بن چکا ہے اس پر واپسی کی اجازت نہیں ملتی ۔ خودکش بمبار اپنی خوشی سے دھماکہ نہ کرے تو اسے بھی سفاکی کے ساتھ اڑا دیا جاتا ہے۔

کالا جادو

شہر کی پولیس ہی نہیں بلکہ کالا جادو کرنے والے عامل بھی کافی عرصہ تک بلا کو نہیں بھول پائیں گے ۔ جرائم کی دنیا میں وہ سیریل کلر کے طور پر جانا جاتا ہے ۔ میری اس سے پہلی ملاقات کافی عرصہ قبل جیل کی دنیا میں ہی ہوئی تھی ۔ اس نے دن دیہاڑے ایک شخص کے سر میں گولی ماری اورموقع واردات سے فرار ہو گیا ۔ عینی شاہدین اسے جانتے تھے اس لئے جلد ہی اسے گرفتار کر لیا گیا ۔اس وقت وہ بڑے مجرم یا قاتل کے طور پر نہیں جانا جاتا تھا ۔ان دنوں لاہور انڈر ورلڈ میں ٹاپ ٹین اشتہاریوں کی حکومت تھی ۔ ہمیں اصل صحافتی کرائم سٹوریز اور خبریں انہی سے ملتی تھیں ۔ان ٹاپ ٹین میں کچھ ڈیرے دار پہلوان کہلاتے تھے جن کے ڈیروں پر جرائم کی دنیا کے معاملات طے پاتے تھے ۔ یہ ڈیرے اشتہاری مجرموں کی پناہ گاہیں بھی تھیں ۔ دوسری جانب طلبہ تنظیموں کا سہارا لے کر جرائم کی دنیا میں قدم رکھنے والے نوجوانوں کا بھی طوطی بولتا تھا۔ ڈیرے دار پہلوانوں کی شہرت قبضے ، اسلحہ اور منشیات کے حوالے سے تھی جبکہ طلبا لیڈر کے طور پر سامنے آنے والے نوجوان ٹارگٹ کلنگ ، لڑائی جھگڑوں اور کالجز پر قبضوں کے حوالے سے جانے جاتے تھے ۔ دراصل یہ ڈیرے دار پہلوانوں کے ہی ذیلی گروپ تھے جو زیر زمین دنیا پر حکومت کا خواب لئے اسلحہ اٹھاتے اور پھر کسی دن پولیس یا مخالفین کی گولیوں کا نشانہ بن جاتے ۔لاہور انڈر ورلڈ پر اصل حکومت انہی ڈیرہ دار پہلوانوں کی تھی جو سیاست سے لے کر کاروبار تک ہر جگہ اپنی جڑیں مضبوط کر چکے تھے ۔ان میں سے کئی لوگ اب بھی زمینوں اور پلازوں کے قبضے چھڑانے اور کاروباری افراد کے لین دین کے جھگڑے نمٹانے کے حوالے سے متحرک ہیں۔ کچھ افراد مارے جا چکے ہیں جبکہ چند ایک گمنامی کی زندگی بسر کر رہے ہیں ۔

اس سارے منظر نامے کو دیکھیں تو ان حالات میں سہیل عرف بلا کی کہانی کوئی اہمیت نہیں رکھتی تھی ۔ اس نے صرف ایک قتل کیا تھا جو کرائم رپورٹرز کی زبان میں ” ٹھنڈا قتل “ تھا ۔ قتل کی اس خبر میں کوئی سنسنی نہ تھی ۔ اس کے باوجود میں اس سے ملنے جیل چلا گیاکیونکہ میرے چیف رپورٹر کو ”کرائم سٹوری “ درکار تھی ۔ ایک ہفتے سے جرائم کی کوئی بڑی کہانی منظر عام پر نہیں آئی تھی لہذا وہ کافی بھڑکا ہوا تھا ۔ اس کا بس چلتا تو خود کوئی واردات کر کے مجھے اس کی کوریج پر بھیج دیتا ۔ اس روز بھی صبح گیارہ بجے رپورٹرز کی میٹنگ ختم ہوتے ہی اس نے مجھے خاص طور پر وارننگ دیتے ہوئے کہا تھا : شاہ ! اگر آج کوئی خبر نہ لائے تو خودکشی کر لینا ، تمہاری خودکشی کی خبر میں خود بنا لوں گا ۔ مجھے ہرصورت آج مکمل کرائم سٹوری چاہئے۔ چوری چکاری کی خبر سے کام نہیں چلے گا ۔

اخبار کے دفتر سے پریس کلب آنے تک میں سارے راستے خود کو کوستا رہا ۔ پریس کلب پہنچا تو خبر ملی کہ پولیس نے ایک قاتل کو گرفتار کر لیا ہے ۔ میں بھی ایک دو رپورٹرز کے ساتھ اس قاتل کا دیدار کرنے چلا گیا۔ یہ ”ٹھنڈا قتل “ تھا ۔ قاتل کو نہ صرف عینی شاہدین نے پہچان لیا تھا بلکہ وہ خود بھی قتل کا اعتراف کر چکا تھا ۔ بہرحال بھاگتے چور کی لنگوٹی ہی سہی ، میں نے اس پر ایک رپورٹ تیار کر لی جس میں قتل سے زیادہ بلے کو گرفتار کرنے والے پولیس اہلکاروں کی ”بہادری “ کی داستان شامل کر کے اخبار کا پیٹ بھرا گیا تھا ۔

یہ سہیل عرف بلے سے میری پہلی ملاقات تھی ۔ اس کا ایک بھائی دولت کمانے کی غرض سے پاکستان سے باہر گیا ہوا تھا ۔ اسی نے مقتول کے خاندان کو دیت دے کر بلے کو رہائی دلوا دی ۔ سہیل کبھی بھی جرائم کی دنیا کا ہیرو نہیں بنا۔ بظاہر وہ بے ضرر اور لاپروا لگتا تھا لیکن 2013 میں پولیس نے اسے گرفتار کیا تو اسے سیریل کلر کے طور پر متعارف کرایا گیا ۔

سہیل کی کہانی کچھ عجیب و غریب سی ہے ۔ اسے نہ تو کسی نے جرائم کی دلدل میں دھکیلا اور نہ ہی کسی نے اس پر کوئی ایسا ظلم کیا کہ جس کا بدلہ لینے کے لئے وہ قتل کرتا ۔ اس نے عام نوجوانوں کی طرح تعلیم حاصل کی اور پھر پولیس میں بھرتی ہو گیا ۔ اپنی سرکاری ملازمت وہ مجبوراً کر رہا تھا کیونکہ اس کا اصل مقصد انگلینڈ جانا تھا ۔ انگلینڈ کا خواب اس پر اس قدر حاوی ہو گیا تھا کہ اسی کوشش میں وہ طویل عرصہ دفتر سے غیر حاضر رہنے لگا۔ اسے محکمانہ نوٹس جاری کئے گئے اور پھر معطل کر دیا گیا ۔ اس نے معافی تلافی کے بعد ملازمت بحال کروا لی لیکن اپنی پرانی روش نہ چھوڑ سکا ۔ ایک سال بعد اسے پھر معطل کر دیا گیا اور پھر باقاعدہ طور پر محکمہ پولیس سے برطرف کر دیا گیا۔ سہیل نے بھی پولیس کی نوکری پر تین حروف بھیجے اور آوارہ گردی کرنے لگا ۔ کچھ عرصہ بعد اس کا رحجان مزارات کی جانب ہو گیا ۔ اس کی کئی ملنگوں سے دوستی ہوئی اور پھر وہ اسی دنیا کا ہو کر رہ گیا ۔ اس نے ملنگوں کے ساتھ بیٹھ کر بھنگ پینی شروع کر دی اور مختلف آستانوں کے چکر کاٹنے لگا۔ یہیں جانے کس نے اس کی ملاقات کالے جادو کے ایک عامل سے کروا دی ۔ یہ مسیحی عامل تھا۔ سہیل نے اس کے ساتھ دوستی کر لی اورپھر اس سے کالا جادو سیکھنے کی خواہش کا اظہار کر دیا ۔اسے لگتا تھا کہ کالا جادو سیکھنے کے بعد وہ انگلینڈ جانے میں کامیاب ہو جائے گا۔

سہیل کالے جادو کے ماہر عامل کے آستانے پر اٹھنے بیٹھنے لگا تو اسے معلوم ہوا کہ کالا جادو کرنے والوں کے پاس زیادہ تر خواتین آتی ہیں اور یہ شیطان ان کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نہ صرف انہیں بلیک میل کرتے ہیں بلکہ ان کے ذریعے مزید کئی لڑکیوں کو بھی اپنے چنگل میں پھنساتے ہیں ۔ ان کا شکار بننے والوں میں کم عمر لڑکیوں سے لے کر شادی شدہ خواتین تک سبھی شامل ہیں ۔ ابھی وہ اس پہلے جھٹکے سے ہی نہ سنبھلا تھا کہ ایک دن اس پر انکشاف ہوا کہ کالا جادو سیکھنے والے پر لازم ہوتا ہے کہ وہ شیطان کو خوش کرے ۔ کالا جادو کرنے والے عامل نہ صرف خود اسلامی شعائر اور الہامی کتب کی بے حرمتی کرتے ہیں بلکہ اپنے پاس آنے والے سائلین کو بھی ان حرکات پر مجبور کرتے ہیں

کالے جادو کے عاملین کی زیر زمین دنیا کا نظارہ کرتے ہی سہیل کا دماغ الٹ گیا ۔ اس نے اپنے استاد کو گولیاں مار دیں ۔ وہ زخمی ہو کر ہسپتال پہنچ گیا لیکن بعد میں کچھ لوگوں نے ان میں صلح کروا دی کیونکہ ڈر تھا کہ سہیل کی گرفتاری اور مقدمہ کے دوران ایسی باتیں بھی سامنے آ سکتی ہیں جو کالا جادو کرنے والوں کی اصلیت عام لوگوں کے سامنے لا سکتی ہیں ۔ انہیں عام لوگوں سے تو کوئی خوف نہ تھا لیکن میڈیا پر اگر یہ سب اچھلتا تو کئی دکانیں بند ہو سکتی تھیں ۔ سہیل کا استاد ٹھیک ہو کر واپس آستانے پر پہنچا تو ایک دن سہیل نے پھر اسے گولی مار دی ۔ اس مرتبہ اس کا استاد جان کی بازی ہار گیا اور سہیل کو گرفتار کر لیا گیا ۔ اس کی قسمت اچھی تھی کہ اس کے بھائی نے دیت کی رقم ادا کر کے مقتول کے لواحقین کے ساتھ راضی نامہ کر لیا ۔

سہیل عرف بلا کی اصل کہانی یہیں سے شروع ہوتی ہے ۔ جیل سے رہا ہوتے ہی اس نے کالے جادو کے عاملین کو تلاش کرنا شروع کر دیا ۔ یہ وہ عامل تھے جو نہ تو کبھی اس سے ملے تھے اور نہ ہی اسے جانتے تھے ۔جانے اس نے ایسا کیا دیکھ لیا تھا کہ وہ کالے جادو کا سنتے ہی دیوانہ ہو جاتا تھا۔ اس نے نوجوانوں سے لے کر اسی برس کے بوڑھے جادوگروں تک کو قتل کیا ۔ ہر بار قتل کے بعد وہ موقع واردات سے فرار ہو جاتا تھا ۔ اس نے کبھی اپنے پیچھے کوئی ثبوت نہ چھوڑا جس کی وجہ سے پولیس اس کا سراغ لگانے میں ناکام رہی ۔ اس نے جن لوگوں کو قتل کیا وہ سب کالے جادو کے ماہر تھے ۔ ان میں دوسری مشترک بات یہ تھی کہ ان سب کا تعلق مسیحی برادری سے تھا ۔ پولیس اندھے قتل کے ان واقعات کو مذہب کا رنگ دیتی رہی اور کسی مذہبی جنونی کو تلاش کرتی رہی ۔ پولیس پر اوپر سے کافی دباﺅ آ رہا تھا ۔ سوال اٹھائے جا رہے تھے کہ یہ کون ہے جو شہر بھر میں مسیحی افراد کو قتل کرتا چلا جا رہا ہے اور کوئی اسے گرفتار ہی نہیں کر رہا ۔

ایک دن بلے نے بھرے بازار میں کالے جادو کے ماہر ایک عامل کو قتل کر دیا اور ہمیشہ کی طرح موقع واردات سے فرار ہو گیا ۔ عینی شاہدین اسے پہچانتے تھے اس لئے جلد ہی اسے گرفتار کر لیا گیا ۔ پولیس نے ابھی تفتیش کا آغاز ہی کیا تھا کہ اس نے خود ہی اپنی پچھلی وارداتوں کا اعتراف کر لیا ۔ وہ تمام اندھے قتل جنہوں نے شہر بھر کی پولیس کو چکرایا ہوا تھا ، اب ایک ایک کر کے تفصیلات سمیت سامنے آ گئے تھے ۔ محض ایک قتل کے جرم میں پکڑا جانے والا بلا ایک ہی دن میں ہائی پروفائل سیریل کلر کے طور پر سامنے آ گیا تھا

ان انکشافات نے جہاں پولیس اور عام شہریوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا وہیں کالا جادو کرنے والے بھی لرز اٹھے تھے ۔ جب میں پولیس اسٹیشن میں سہیل عرف بلا سے ملا تو وہ پرسکون نظر آ رہا تھا ۔ اس کے چہرے اور گفتگو سے ایسا نہیں لگتا تھا کہ اسے ان وارداتوں پر کوئی ندامت ہو ۔ مجھے آج بھی اس کے الفاظ یاد ہیں ۔ اس نے کہا تھا: اگر آپ کو معلوم ہو جائے کہ یہ کالا جادو کرنے والے کیسے کیسے گندے کام کرتے ہیں تو آپ بھی انہیں قتل کر دیں گے ۔ میں نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جس پر مجھے شرمندگی ہو۔ بلے کو شاید پھانسی ہو جائے لیکن مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کہ وہ انگلینڈ جانے کی خواہش رکھنے والا غیر ذمہ دار لڑکا تھا یا غیرت مند مسلمان جو مذہبی شعائر کی بے حرمتی برداشت نہ کر سکا ۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

کچھ کہنا تھا تم سے ۔۔۔ بِینوبسواس/عامر صدیقی

کچھ کہنا تھا تم سے بِینوبسواس/عامر صدیقی ہندی کہانی …………….  ویدیہی کا من بہت اتھل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے