سر ورق / کہانی / اسی گردش ماہ و سال میں۔۔۔ عشناء کوثر سردار ۔۔۔ پہلا حصہ

اسی گردش ماہ و سال میں۔۔۔ عشناء کوثر سردار ۔۔۔ پہلا حصہ

اسی گردش ماہ و سال میں

عشناء کوثر سردار

پہلا حصہ

تحلیل کر کے شدت احساس رنگ میں

بن جائے گر تو ایک ہی تصویر ہے بہت

بیٹھا رہا وہ پاس تو میں سوچتی رہی

خاموشیوں کی اپنی بھی تاثیر ہے بہت

”گزرے ہوئے لمحوں کو مضبوطی سے مٹھی میں تھام کر دبائے رکھنا اور نئے آنے والے لمحوںکے لیے ہاتھ میں جگہ نہ رکھنا کہاں کی دانشمندی ہے؟“ تانیہ نے اس کے سر پر کھڑے ہو کرکہا تھا، مگر اس نے سنی اَن سنی کرتے اپنا وائلن سنبھال لیا تھا۔

”آنیہ مرتضیٰ! نئے رنگوں کو زندگی میں جگہ نہیں دو گی تو زندگی بہت بے رنگ ہو جائے گی۔ پرانے رنگ اپنی تازگی زیادہ دنوں تک برقرار نہیں رکھتے۔“ وہ جتا رہی تھی، آنیہ مرتضیٰ نے اس کی سمت ایک تھکی ہوئی نگاہ ڈالی تھی۔

”تم چاہتی کیا ہو تانیہ؟“ اس کے اندازمیں تھکن تھی اور لہجہ بجھا ہوا۔

”میں چاہتی ہوں تم نئے لمحوں کو قید کرنے کے لیے اپنی ہتھیلیوں کو ان پرانے لمحوں کی قید سے آزادکرو۔ تم جب تک ایسا نہیں کرو گی کبھی بھی خوش نہیں رہ پاﺅ گی۔“ تانیہ بہت وثوق سے بولی اور آنیہ مرتضیٰ مسکرا دی تھی۔

”تانیہ! تم بڈھی روح ہو،تمہیں تو دادی اماں ہونا چاہیے تھا۔ اتنی بڑی بڑی باتیں میں نہیں کر سکتی۔ میں تو بقول ایاز بھائی کے ٹیوب لائٹ ہوں نا؟ بات بھی دیر سے سمجھتی ہوں۔“ وہ مسکراتے ہوئے وائلن کے تار چھیڑنے لگی۔

”دراصل میرا مطلب تمہیں یہی جتانا تھا آنیہ مرتضیٰ! ایاز بھائی غلط نہیں کہتے، تم یوں تو ذہین ہو مگر کچھ معاملات میں دھیان بالکل نہیں دیتیں جوکہ کسی طرح بھی ٹھیک نہیں۔ تم خود پر سے دھیان ہٹا لو گی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا تمہیں دیکھ نہیں سکتی یا باقی دنیا کے لیے تم پوشیدہ ہو گئی ہو۔“ تانیہ نے جتاتے ہوئے کہا تھا، وہ اطمینان سے دیکھنے لگی تھی مگر آنکھوں میں گہرا سکوت تھا۔

”تانیہ! جس زاوئیے سے تم زندگی کو دیکھتی ہو وہ الگ ہے اور میں جس زندگی کا تجربہ رکھتی ہوں وہ اس سے بہت لگ ہے۔“ لہجہ بجھا بجھا سا تھا۔

”تم سمجھتی ہوتمہیں ہم نہیں جانتے، اگر اس گھر میں تمہارے ساتھ کچھ غلط ہو رہا ہے تم اس کے لیے احتجاج نہیں کرتی تو کیوں؟“ ثانیہ نے جتایا تھا۔

”مگر میں اس موضوع پر بات کرنا نہیں چاہتی تانیہ!“

”تمہیں بات کرنا چاہیے آنیہ مرتضیٰ! کیونکہ اگر تم اس طرح چپ رہو گی تو زندگی بہت مشکل ہو جائے گی۔“ تانیہ نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا تھا۔

”تمہیں کیسا لگے گا آنیہ مرتضیٰ! جب تمہیں اپنے سے دس سال بڑے شخص کے ساتھ زندگی گزارنا پڑے گی جس سے تمہاری کوئی انڈرسٹینڈنگ نہیں، کوئی جذباتی وابستگی نہیں؟ تم اس پر اب بھی احتجاج نہیں کرو گی یا تمہیں ان تجربات سے گزرکر زندگی کو سمجھنا ہے؟ سوچو آنیہ مرتضیٰ! اس زندگی میں تمہیں کتنا کچھ تمہاری توقعات کے برخلاف ملے گا اور اتنا کچھ تم جبراً کرو گی اور سہو گی؟ تمہیں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے آنیہ! لیکن تم جانتی ہو ہمیں عمربھائی سے محبت ہے اور عمر بھائی، انہیں تو تم سے کوئی سروکار ہے ہی نہیں۔ تمہیں نہیںلگتا یہ شادی نہیں ایک بہت بڑا سمجھوتہ ہو گا؟“ تانیہ نے اسے سمجھانے کی کوشش کی تھی۔

”تانیہ! میں ایسا نہیں کر سکتی، میرے لیے ایسا کرنا ممکن نہیں ہے۔“

”آنیہ! تمہیں دادا ابا نے بلایاہے۔“ حمزہ نے دروازے میںکھڑے ہو کر کہا تھا۔ آنیہ مرتضیٰ نے سر ہلا دیا، حمزہ واپس پلٹ گیا، تانیہ اسے الزام دیتی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔

”دادا ابا جو کر رہے ہیں وہ اَن فیئر ہے آنیہ! صرف اس لیے کہ چاچا نے ایک فرانسیسی لڑکی سے شادی کی اور تم اس فرانسیسی خاتون کی اولاد ہو۔ تم سے ایسی نفرت اور روئیے میں کھنچاپن رکھنا اور ناانصافی کرنا جائز ہے؟ یہ دقیانوسیت ہے، تم اس گھر کی بیٹی ہو۔ میری طرح جیا آپی کی طرح اور فائزہ کی طرح، تم ہم سے مختلف نہیں ہو، نہ تمہارے رائٹس ہم سے کم ہیں۔ مرتضیٰ چاچا نہیں رہے، آج تمہارے لیے اسٹینڈ لینے کے لیے تمہاری فرانسیسی ماں بھی نہیں ہے تو کیا تم خود اپنے لیے اسٹینڈ لینا نہیں چاہو گی؟“ تانیہ بضد تھی، جبکہ آنیہ مرتضیٰ نے اسے بہت پُرسکون انداز میں دیکھا تھا۔

”تانیہ! بابا نے ممی سے شادی کی کیونکہ انہیں ان سے محبت تھی، دادا کو لگتا ہے ممی نے بابا کو خاندان سے دور کیا۔ وہ کچھ پرانی سوچ کے ہیں، ان کو یہ سمجھانا آسان نہیں ہے کہ بابا صحیح تھے۔ داداکی نگاہ میں وہ ہمیشہ غلط ہی رہیں گے۔ بابا نے دادا کی روایات کے خلاف جا کر شادی کی پھر جب ممی کو اس گھر میں کسی نے قبول نہیں کیا تو انہوں نے اس گھر سے ناطہ توڑ لیا۔ یہ بات اس نفرت کو بڑھانے کے لیے بہت زیادہ تھی، میں اس گھرمیں تب آئی جب ممی اور بابا ایک حادثے میں نہیں رہے، میں اس وقت دس برس کی تھی، مجھے دادا ابا کی نفرت سمجھ نہیں آئی تھی۔ میں ان کے بیٹے کی اولاد تھی، اس خاندان کی بیٹی تھی مگر انہوں نے کبھی اس طرح میرے سر پر ہاتھ نہیں رکھا۔ میری منگنی محض دس برس کی عمر میں تب ہوئی جب میں اس رشتے کے معنی بھی نہیں جانتی تھی۔ میں اس وقت بھی احتجاج نہیں کر پائی تھی جب مجھے بتایا جا رہا تھا کہ اب تم عمر بھائی سے منسوب ہو جو اس وقت اکیس برس کے تھے۔ وہ رشتہ بندھ گیا تھا اور کسی نے اس کے خلاف آوازنہیں اٹھائی تھی، بڑے تایا بھی نہیں، چھوٹے چاچا بھی نہیں۔ کسی نے دادا ابا کے فیصلے کے سامنے ایک لفظ نہیں کہا تھا تو پھر میں کیسے بات کرتی اپنے حق کی؟ ایک دس برس کی لڑکی اپنے حق کے لیے کیسے لڑ سکتی ہے؟ صحیح غلط کی بات کیسے کر سکتی ہے؟“ وہ بہت مدھم لہجے میں کہہ رہی تھی، تانیہ اسے مایوسی سے دیکھ رہی تھی۔

”آنیہ مرتضیٰ! تم خود کو اپنے لیے اسٹینڈ لینے کے لیے کبھی نہیں کھڑا کر سکو گی کیونکہ تم ایسا کرنا چاہتی ہی نہیں۔ اس کے لیے تم بولنا چاہتی ہی نہیں، تم دراصل مصلحت پسندی کو ترجیح دے رہی ہو، تم دادا ابا کی غلطی کو صحیح ثابت کرنا چاہتی ہو کیونکہ تم سمجھتی ہو تمہارے بابا نے ایک غلطی کی تھی، جسے تمہیں بھگتنا چاہیے۔“ تانیہ اس کی ہمدرد تھی۔

”میرے ایسا نہ سوچنے سے کچھ بدل نہیں جائے گا تانیہ! دادا کی اس نفرت کو میں ختم نہیں کر پاﺅں گی شاید، ان کو مجھ میں وہ فرانسیسی لڑکی دکھائی دیتی ہے جس نے ان سے ان کے بیٹے کو جدا کر دیا تھا۔ پرانی سوچ کو نئی سوچ میں بدلنے میں عمریں لگتی ہیں تانیہ! اگر دادا ابا کی اَنا کو مجھے یہ سزا دے کر تسکین ہوتی ہے تو میں اس سزا کو جھیلنے میں کوئی حیل و حجت نہیں کروں گی مگر میں ان کے منہ پر کھڑے ہو کر ان سے گستاخی نہیں کر سکتی۔ انہیںنہیں کہہ سکتی کہ وہ کتنے غلط ہیں۔ میں دادا ابو کو ہرٹ کرنا نہیں چاہتی۔“ وہ وائلن ایک طرف رکھتے ہوئے بولی اور پھر اٹھ کھڑی ہوئی۔

”میں دادا ابا سے مل کر آتی ہوں۔“ کہتے ہی وہ کمرے سے نکل گئی اور تانیہ اسے دیکھتی رہ گئی تھی۔

٭….٭….٭

دادا ابا نے اسے سر اٹھا کر دیکھا پھر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔

”پڑھائی کیسی چل رہی ہے تمہاری؟“ دادا ابا نے مخصوص بارعب لہجے میں پوچھا تو آنیہ مرتضیٰ نے سر ہلایا۔

”ہم نے تمہیں یہ بتانے کے لیے بلایا تھا کہ عمر کسی کام کے لیے بیرون ملک جا رہا ہے، ہم نے سوچا ہے کہ اس سے قبل نکاح ہو جائے۔“ وہ سکون سے بولے تھے۔

”جی….؟“ وہ ان کی بات پر چونکی تھی۔

”مرتضیٰ کے نقش قدم پر چلنے کا شوق ہو گیا ہے خاندان کے لڑکوں کو، باہر جا کر پڑھائی کرنا چاہتے ہیں۔ مرتضیٰ نے جو کیا ہم نہیں چاہتے وہ خاندان کے باقی لڑکے بھی کریں، قدموں میں بیڑی ہو گی تو یاد رہے گا کہ اپنی زمین کی طرف واپس لوٹنا ہے۔ ہم سے غلطی ہوئی تھی جو مرتضیٰ کا نکاح نہیں کیا تبھی وہ فرنگی لڑکی کو بیاہ لایا۔ ایک غیرخون کو رنگ و نسل کو گھر میں، خاندان میں جگہ دینا پڑی۔“ داداابا کی بات اسے اندر تک کاٹ گئی تھی، وہ سر اٹھا کر خاموشی سے دادا ابا کی طرف دیکھنے لگی، پھر نرمی سے بولی۔

”دادا ابا! میں مرتضیٰ کمال کا خون ہوں، میں اس خاندن کا حصہ ہوں، میں آپ سب سے الگ نہیں ہوں۔“ دادا ابا نے اس کے کہنے پر خاموشی سے اسے دیکھا، تبھی وہ پھر سے بولی۔

”مجھے آپ سے کچھ کہنا تھا دادا ابا!“

”بولو۔“

”میں فی الحال یہ نکاح نہیں کر سکتی دادا ابا!“

”کیا….؟“ دادا ابا چونکے تھے۔ ”تم جانتی ہو لڑکی تم کس سے یہ بات کہہ رہی ہو؟“

”جی دادا ابا! میں یہ بات جتانا ضروری سمجھتی ہوں کہ اپنی پوتی کی زندگی کو اس طرح رسک پر نہیں رکھ سکتے۔ اگر…. اگر عمر بھائی….میرا مطلب ہے عمر واپس نہیں لوٹتے ہیں تو …. یا اگر وہ وہی غلطی دہراتے ہیں جو بابا نے کی تھی تو اس میں نقصان کس کا ہوگا؟ آپ چاہیں گے ایک اور فاطمہ خان اس خاندان کا حصہ بنے یا پھر کوئی آنیہ مرتضیٰ ایک دوہری پہچان لے کر اس خاندان میں پناہ لینے چلی آئے؟“

”لڑکی…. خاموش…. تمہیں علم ہے کس سے گستاخی کر رہی ہو تم؟“ دادا ابا اسے غصے سے دیکھ رہے تھے، آنیہ نے ہمت کڑی کر کے دادا ابا کی طرف دیکھا۔

”دادا ابا! یہ بات ایک زندگی سے نہیں جڑی، کئی زندگیاں شامل ہوں گی اس میں۔ فاطمہ خان کی سزا میں نہیں بھگت سکتی، کیا گارنٹی ہے کل عمر بھائی کسی اور جانب راغب نہیں ہوں گے؟ کسی اور سے شادی نہیں کریں گے؟ اگر یہ نکاح ہو بھی گیا تب بھی اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو….؟“ آنیہ مرتضیٰ نے اپنی بات سہولت سے ان کے سامنے رکھی۔

”دادا ابا سب جانتے ہیں یہ رشتہ بے جوڑ ہے۔“

”گستاخ…. تم ہماری مخالفت کر رہی ہو؟ دکھا دیا نا خون کا رنگ۔ اس خاندان کے فیصلوں کو جھٹلا رہی ہو تم اور خود کو اس خاندان کا حصہ سمجھتی ہو؟“

”دادا ابا! میں غلط روایات کی نذر نہیں ہو سکتی، میرے لیے جبر کو سہنا بھی اتنا ہی بڑا گناہ ہے جتنا گناہ کرنا۔“ وہ بہت سکون سے کہہ رہی تھی۔

”ہم اور نہیں سن سکتے، ہم آج ہی تمہیں اس گھر سے نکل جانے کا حکم دیتے ہیں۔“ دادا ابا کا فیصلہ حیران کن نہیں تھا، مگر آنیہ مرتضیٰ اپنی جگہ ساکت رہ گئی تھی۔ اس نے سر اٹھا کر دادا ابا کی طرف دیکھا مگر ان نظروں میں رحم نہیں تھا، سو وہ کوئی درخواست کیے بنا کمرے سے باہر نکل آئی۔ سامنے عمر بھائی کھڑے تھے، کسی قدر مجرم بنے اسے دیکھ رہے تھے۔

”آئی ایم سوری آنیہ! میری وجہ سے تمہیں….“

”اٹس او کے عمر بھائی! کسی ایک کو تو کھڑے ہو کر ان روایات کے خلاف آواز اٹھانا تھی نا۔ میں نہیں چاہتی تھی جہاں کل فاطمہ خان کھڑی تھی وہاں آج میں کھڑی ہوں اور کل کوئی اور…. یہ بے جوڑ رشتے،یہ بے جوڑ شادیاں، جبر کرتی ہوئی روایات انہیں کہیں تو آخر ہونا تھا۔ میںنے مخالفت اپنے لیے نہیں کی، میں ان روایات کا حصہ بن بھی جاتی مگر پھر یہ سلسلہ رکتا نہیں۔ دادا ابا کو اس بات کا احساس دلانا ضروری تھا کہ وہ غلط تھے۔“ وہ بھیگی پلکوں کے ساتھ مضبوط لہجے میں بول رہی تھی۔

”اگر میں تمہیں نہیں کہتا تو شاید آج صورتحال مختلف ہوتی نا؟ میں بزدل ہوں، میں تمہاری جگہ کھڑا نہیں ہو سکا۔ میں نے تمہیں اپنی ڈھال بنایا، مجھے اپنے لیے خود اسٹینڈ لینا چاہیے تھا، مجھ میں دادا کی مخالفت کرنے کی ہمت نہیں تھی؟ یہ بات سچ ہے آنیہ!“ عمر بھائی اعتراف کر رہے تھے، آنیہ نے سر نفی میں ہلا دیا۔

”جو بھی ہے اگر آپ دادا ابا سے مخالفت کرتے تو شاید وہ آپ کو شوٹ کر دیتے۔میرا نقصان آپ سے کم ہے، مجھے صرف اس گھر سے نکل جانے کا حکم ملا ہے۔“ وہ مضبوط لہجے میں بولی۔

”لیکن اگر مجھے کسی اور سے محبت تھی، کسی اور سے شادی کرنا تھی تو مجھے تمہیں اپنی ڈھال نہیں بنانا چاہیے تھا آنیہ! سوری میں نے تمہارا ساتھ نہیں دیا۔“ وہ شرمندہ دکھائی دے رہے تھے، کچھ فاصلے پر کھڑی تانیہ اسے حیرت سے دیکھ رہی تھی، آنیہ نے اس کی طرف دیکھا تو وہ قریب آ گئی۔

”عمر بھائی! آپ نے اچھا نہیں کیا، آپ نے اسے کہا دادا کی مخالفت مول لینے کو؟ آپ کو نکاح نہیں کرنا تھا تو آپ خود دادا سے کہتے۔ آپ کو کسی اور سے محبت تھی تو اس کے لیے آنیہ کو آگے کرنے کی کیا ضرورت تھی؟“ عمربھائی کچھ نہیں بولے، آنیہ اپنے کمرے میں آ کر سامان سمیٹنے لگی تبھی عمر بھائی کی آواز کان میں پڑی۔

”چلو تمہیں چھوڑ دوں؟“ آنیہ نے سر اٹھا کر دیکھا۔

”مجھے نہیں پتا عمر بھائی! مجھے کہاں جانا ہے، میرے پاس کوئی جگہ نہیں ہے۔“ اسے پہلی بار اندازہ ہوا تھا دادا اباکی مخالفت مول لے کر اس نے کتنی بڑی غلطی کی مگر عمربھائی نے اس کا سامان اٹھا لیا اور اس کا ہاتھ تھام کر گاڑی کی اگلی سیٹ پر بٹھا لیا۔ وہ نہیں جانتی تھی عمر بھائی اسے کہاں لے جا رہے تھے، وہ سیٹ کی پشت گاہ سے سر ٹکا کر آنکھیں موند گئی تھی۔ جانے کتنا سفر طے ہوا تھا اور کتنی دیر سوئی تھی وہ، عمربھائی نے گاڑی روکی تھی تبھی اس کی آنکھ کھلی تھی۔ بہت بڑا سا گھر تھا، وہ گاڑی کا دروازہ کھول کر اُتری، اس کے سامنے ایک نائس سی خاتون کھڑی مسکرا رہی تھیں۔

”فاطمہ پھوپو! یہ آنیہ ہے، یہ اب سے آپ کے پاس رہے گی۔“ عمر بھائی کے کہنے پر اس نے چونک کر دیکھا تھا، وہ بمشکل تیس بتیس کی تھیں اور اتنی خوبصورت…. آنیہ حیران رہ گئی تھی۔ فاطمہ نے ہاتھ بڑھا کر اس کے چہرے کو نرمی سے چھوا تھا اور مسکرائی۔

”کیسی ہو تم؟“ فاطمہ خان وہ تھی جس کا اتنا بڑا نقصان اس کے بابا کے باعث ہوا تھا۔ اس نے سنا تھا فاطمہ خان نے شادی نہیں کی تھی، وہ سمجھتی تھی کہ وہ اپنے اندر بہت نفرت رکھتی ہو گی مگر اس چہرے پر کوئی شکن تھی نہ کوئی نفرت۔

عمر بھائی اسے چھوڑ کر واپس لوٹ گئے تھے، ایک محفوظ پناہ گاہ اسے سونپ کر وہ شاید کسی قدر ازالہ کرنے کی کوشش کر پائے تھے۔ اپنے طور پر انہیں جو پچھتاوا تھا شاید اسے گلٹ سے وہ کسی قدر نکل پائے تھے یا نہیں، وہ نہیں جانتی تھی مگر اسے نہیں لگتا تھا اس نے کچھ غلط کیا تھا۔ وہ کسی پچھتاوے میں مبتلا نہیں تھی، ہاں وہ بہت خاموش ہو گئی تھی۔ فاطمہ خان اس کے لیے کھانا نکال رہی تھی تبھی وہ بولی۔

”آپ جانتی ہیں میں کون ہوں؟“ فاطمہ خان کا ہاتھ ایک پل کو رُکا اور پھر اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ آنیہ مرتضیٰ حیران رہ گئی تبھی بولی۔

”اور آپ کو مجھ سے نفرت نہیں؟“ بہت پُرملال لہجے میں پوچھا مگر فاطمہ خان مسکرا دی، پھر ملائمت سے اسے دیکھتے ہوئے بولی۔

”مجھے تم سے نفرت کیوں کرنا چاہیے؟“

”کیونکہ میں مرتضیٰ کمال خان کی بیٹی ہوں؟“ آنیہ نے جتایا تو فاطمہ خان پُرسکون نظروں سے اسے دیکھنے لگی پھر بولی۔

”آنیہ! مجھے مرتضیٰ کمال خان سے کوئی شکوہ نہیں، تم جانتی ہو میںبھی مرتضیٰ کمال سے نو برس چھوٹی تھی اور اس نے جان بوجھ کر مجھ سے نکاح نہیں کیا تھا، وہ باہر چلے گئے تھے اور وہاں انہوں نے تمہاری امی سے شادی کر لی تھی۔ مرتضیٰ کمال بھی کسی طرح ان روایات کو ختم کرنا چاہتے تھے مگر شاید یہ اتنا آسان نہیں۔ مجھے اس شادی کے نہ ہونے کا کوئی افسوس نہیں کیونکہ آج جو میں ہوں وہ مرتضیٰ کمال کی وجہ سے ہوں، میں آج ہارٹ اسپیشلسٹ ہوں۔ اپنے قدموں پر کھڑی ہوں۔ کیا یہ تب ممکن ہو پاتا اگر میری شادی اس کم عمری میں ہو جاتی؟“ فاطمہ خان بتا رہی تھیں اور وہ خاموشی سے انہیں دیکھ رہی تھی۔

”آنیہ! فرسودہ روایات کو ختم کرنا بہت ضروری ہے، ورنہ یہ آپ کو ختم کر دیتی ہیں۔ روایات، رسومات، ہم انسان بناتے ہیں، زندگی کو صراط مستقیم پر چلانے کے لیے، لیکن اگر وہی روایات گلے کا پھندا بننے لگیں تو….؟ خیر تم کھانا کھاﺅ، مجھے ایک کیس اسٹڈی کرنا ہے، بعد میں ملتی ہوں۔“ فاطمہ خان کہہ کر باہر نکل گئی تو آنیہ مرتضیٰ انہیں دیکھتی رہ گئی تھی۔

٭….٭….٭

ایک راہ ختم ہو تو دوسری راہ کیسے اس کی جگہ لے لیتی ہے اس کا اندازہ اسے نہیں تھا، مگر فاطمہ خان سے مل کر اس کی ہمت کچھ بندھی تھی۔ وہ اعتماد اور یقین لمحہ لمحہ گزرتی زندگی سے سیکھ رہی تھی۔ فاطمہ خان نے اس کا ایڈمیشن یونیورسٹی میں کرا دیا اور وہ پھر سے یونیورسٹی جانے لگی تھی۔ فاطمہ اسے بڑی بہنوں کی طرح ٹریٹ کرتی تھی اور وہ ہمیشہ ہچکچاٹ کا شکار رہتی۔ وہ اسے کیا کہہ کر مخاطب کرے؟

”تم ابھی تک اس گھر میں کمفرٹیبل نہیں ہوئیں؟“ شام کی چائے پر فاطمہ پوچھ رہی تھی، اس نے سر انکار میں ہلایا۔

”ایسا نہیں ہے، میں دادا کے بارے میں سوچ رہی تھی، مجھے ان سے معافی مانگنا چاہیے، میں نے ان کے حکم کو نہ مان کر ان کا دل دکھایا۔ کسی حد تک بے عزت کیا، یہ ٹھیک نہیں۔“ وہ پچھتاوے میں مبتلا تھی۔

”ایسا نہیں ہے آنیہ! غلطی صرف چھوٹے نہیں کرتے، غلطیاںبڑوں سے بھی ہوتی ہیں۔مگر کبھی کبھی چھوٹوں کو بڑوں کی غلطیوں پر نشاندہی کرنا پڑتی ہے۔ اس سے بڑوں کی عزت کم نہیں ہوتی، دادا ابا کو اپنی غلطی کااحساس ضرور ہو گا اور وہ ایک دن خود آ کر تمہارے سر پر دست شفقت رکھیں گے تب تم ان سے معافی مانگ سکتی ہو۔ جس طرح چھوٹوں پر بڑوں کا احترام فرض ہے اس طرح بڑوں پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ چھوٹوں کو سمجھیں اور زبردستی کے فیصلے ان پر مسلط نہ کریں۔“ فاطمہ خان نے اسے سمجھایا تھا۔ پتا نہیں یہ کتنا صحیح تھا یا غلط، مگر اس گھر کے لوگوں میں سے کسی کی ہمت دادا ابا کے فیصلے کے خلاف جانے کی نہیں تھی۔ تبھی اسے اب تک کسی نے کال بھی نہیں کی تھی۔ اس روز وہ گھر لوٹی تو گھر میں چہل پہل دکھائی دی، وہ وہاں سے گزر کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ جانا چاہتی تھی مگر فاطمہ نے آواز دے کر بلا لیا۔

”آنیہ! ان سے ملو یہ میکال شاہ ہیں، ہماری بوا کے بھانجے۔ بوا نے ان کے لیے کھانے پر خوب اہتمام کیا تھا۔ صبح سے انتظار کر رہی تھیں اس کا، یہ جب بھی یہاں آتا ہے تو گھر کی خاموش فضا میں ایک رونق سی آ جاتی ہے۔ موصوف کا سینس آف ہیومر کمال کا ہے۔“ فاطمہ خان مسکراتے ہوئے بتا رہی تھیں۔ وہ میکال شاہ کی طرف دیکھنے لگی تھی۔ میکال شاہ اس کی طرف دیکھ کر مسکرایا تھا، اس نے اخلاقاً رسمی مسکراہٹ کے ساتھ سلام کیا تھا۔

”کیسی ہیں آپ؟ بوا آپ کے بارے میں بتا رہی تھیں اس روز فون پر کہ گھر کے ایک فرد میں اضافہ ہوا ہے، مجھے لگا کوئی میرا حریف آ گیا ہے۔“ وہ مسکرایا۔

”بیٹھو نا آنیہ! کھڑی کیوں ہو؟ میکال کو اس گھر کا ایک فرد سمجھو۔“ مسکراتے ہوئے فاطمہ نے جتایا مگر وہ زیادہ دیر بیٹھ نہیں سکی اور اٹھ کر وہاں سے نکل آئی۔ پھرجب وہ ٹیرس پر بیٹھ کر اپنے وائلن کو دھیمے سروں میں بجا رہی تھی تبھی میکال شاہ وہاں آ گیا تھا۔ بنا اسے ڈسٹرب کیے وہ خاموش کھڑا اسے وائلن کے تارو ںسے کھیلتے دیکھتا رہا۔ آنکھیں بند کیے مگن سی وائلن کے تاروں سے کھیل رہی تھی۔اچانک اس کے ہاتھ رکے،آنکھیں کھول کر دیکھا تو وہ اس کے قریب کھڑا تھا، اسے دیکھ کر وہ مسکرایا۔

”آپ نے ہاتھ کیوں روک لیا، بہت اچھا بجاتی ہیں آپ۔ کہاں سے سیکھا ہے آپ نے؟ آپ کو پتا ہے آپ وائلن Niccolo Pagganni کی طرح مہارت سے بجاتی ہیں، کہیں کہیں آپ کی مہارت Anlonio Vivaoli سے میل کھاتی ہے، آپ کو معلوم ہے اس نے امیجز کو میوزک سے پینٹ کرنے کی راہ دکھائی جیسے فورسیزن یا پھر ٹن پیسٹنگ، آپ نے سنا ہے ان کے بارے میں، ضرور سنا ہو گا نا؟“ وہ مسکرایاتھا مگر اس نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا پھر نفی میں سر ہلا دیا۔

”میں نے ان کے بارے میں کبھی نہیں سنا، مگر میں ایک بات جانتی ہوں کہ میں اتنی مہارت نہیں رکھتی۔“ وہ صاف گوئی سے بولی، میکال شاہ مسکرا دیا۔ وہ وائلن کو اٹھا کر وہاں سے نکل جانے کے لیے پَر تول رہی تھی جب میکال بول اٹھا۔

”کب سے بجا رہی ہیں آپ؟“

”بچپن سے، میری ممی وائلن بجاتی تھی، میں ان کے پاس بیٹھ کر ان کو سنتی تھی۔ مجھے اچھا لگتا تھا۔ میرے بابا جانتے تھے مجھے وائلن بجانے کا شوق ہے سو انہوں نے مجھے یہ وائلن لا دیا تھا۔ یہ تب کا ہے جب میں نور برس کی تھی۔ یہ صرف وائلن نہیں ہے، میرے لیے میرے بابا سے جڑی ایک یاد ہے۔“ وہ اس کے ہاتھ سے وائلن لے کر دیکھنے لگا تھا، اس نے واقعی اسے بہت سنبھال کر رکھا تھا۔

”آپ چیزوں کو بہت سنبھالنے کی عادی معلوم ہوتی ہیں، اس وائلن کو دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ دس بارہ سال پرانا ہے۔“ وہ مسکرا رہا تھا۔

”بہت سی چیزوں کو ہم صرف اس لیے سنبھال کر رکھتے ہیں کیونکہ ان چیزوں کی اہمیت ہم سے جڑے اہم لوگوں سے جڑی ہوتی ہے۔“ وہ مدھم لہجے میں بولی، وہ اسے بغور دیکھنے لگا تھا۔

”آپ کی آنکھیں بہت خاص ہیں، صرف اس لیے نہیں کہ یہ رنگت میں نیلی ہیں بلکہ اس لیے کہ ان میں عجیب سا سکوت اسراریت اور گہرائی ہے۔ آپ کی باتیں آپ کی آنکھوں سے زیادہ گہری ہیں، میں آپ کو فارنر سمجھا تھا، مگر آپ کی زبان اور لہجہ بہت صاف ہے، بالکل مقامی لوگوں کی طرح۔“ وہ مسکراتے ہوئے بولا۔

”بابا نے مجھے اپنے ملک، کلچر، مذہب سے بہت قریب رکھا۔ میں بچپن سے ہی اردو بولتی تھی، میری ممی نے چیزوں کو کبھی مجھ پر امپوز نہیں کیا۔ میں بابا کے زیادہ قریب تھی شاید اسی لیے میں بابا جیسی ہوں۔ میں فارنر نہیں ہوں، مقامی ہوں۔“ وہ جتاتے ہوئے بولی، وہ اس کے اعتماد اور پُروقار انداز پر بغور اسے دیکھنے لگا تھا، جیسے وہ متاثر ہو رہا تھا۔ اس رات میں کوئی اسرار تھا یا وہ اسرار آنیہ مرتضیٰ کی شخصیت میں تھا، وہ جیسے بندھ رہا تھا۔ وہ اسے بات کرنے پر اکسا رہا تھا، جیسے وہ اس کے ساتھ مزید وقت گزارنا چاہ رہا تھا مگر آنیہ نے اپنا وائلن اٹھایا اور سہولت سے بولی۔

” مجھے صبح یونیورسٹی جانا ہے، اب سونا چاہیے، شب بخیر۔“ وہ کہہ کر فوراً ہی اٹھی اور چلتی وہاں سے نکل گئی۔

٭….٭….٭

اس نے کچن میں جھانکا تو فاطمہ ملازم کے ساتھ مل کر کھانا پکا رہی تھیں اور خاصی بزی دکھائی دے رہی تھیں۔ اس پر نگاہ پڑی تو وہ پلٹنے والی تھی جب فاطمہ نے پوچھا۔

”آنیہ! تمہیں کوئی کام تھا، واپس کیوں جا رہی ہو؟“

”نہیں وہ…. میں یونہی آئی تھی فاطمہ! مگر آپ بزی تھیں تو….“ وہ مروت سے مسکرائی تھی۔

”میں میکال کے لیے چکن کریلے بنا رہی تھی، اسے یہ سب وہاں انگلینڈمیں تو ملتا نہیں سو جب بھی یہاں آتا ہے اس کی فرمائش ہوتی ہے اسے ایسے سب کھانے ملیں۔“ وہ مسکرائی اور سلادکاٹنے میں فاطمہ کی مدد کرنے لگی۔

”فاطمہ! ایک بات پوچھوں؟ آپ نے شادی کیوں نہیں کی؟ میرا مطلب ہے آپ ملک کی اتنی بڑی ہارٹ سرجن ہیں، خوبصورت ہیں، قابل ہیں۔ بابا کے بعد آپ کو اس طرح خود کو اپنے تک محدود نہیں رکھنا چاہیے تھا، آپ تمام خوشیوں پر اتنا ہی حق رکھتی ہیں جتنا کہ کوئی اور۔ آپ کو تنہانہیں رہنا چاہیے۔“ وہ بولی تو فاطمہ اسے دیکھنے لگی، پھر مسکرا دی۔

”ہمارا رشتہ عجیب ہے کچھ آنیہ! میں نے کبھی زندگی میں نہیں سوچا تھا۔ میں مرتضیٰ کے بچوں کو دیکھوں گی یا پھر مرتضیٰ کی اولاد کے ساتھ رہوںگی،یہ ناممکن ہی تو تھا جیسے وہ بے جوڑ رشتہ تھا یا پھر جس طرح وہ ختم ہوا اس کو دیکھ کر کون کہہ سکتا تھا کہ ایسا کچھ ہو گا۔“ آنیہ مسکرا دی۔

”زندگی بہت ہی اَن سوچی باتوں سے عبارت ہے فاطمہ! ہم جو سوچتے نہیں وہی ہوتا ہے، جب میں فرانس میں تھی ممی بابا کے ساتھ تو میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میری زندگی کبھی کسی مشکل سے دوچار ہو گی یا پھر کسی مقام پر آ کر ایک سوالیہ نشان بن جائے گی، مگر اپنی مشکلات کا حل ڈھونڈنا اور الجھن کو سلجھانا ہی زندگی ہے نا؟“ وہ بولی تو فاطمہ مسکرا دی۔

”مجھے شادی کے لیے وقت نہیں ملا آنیہ! پہلے کچھ برس سنبھلنے میں لگے اور اس کے بعد کے برس اتنا بزی رہی کہ اپنے لیے بھی وقت نہیں نکال پائی۔“

”آپ کو پاپا سے کچھ انسیت تھی؟ میرا مطلب ہے کہ….“ وہ بولتے بولتے رک گئی تو فاطمہ مسکرا دی۔

”تمہارے بابا کی پرسنالٹی بہت متاثر کن تھی آنیہ! مگر میں نہیں جانتی کہ وہ محبت تھی یا کچھ اور، میں نے کچھ سوچ کر خود کو محبت کے اس تجربے سے بچا کر رکھا، میں قصداً محتاط رہی۔“

”یہ دو خوبصورت لڑکیاں کچن میں کھڑی ہو کر کیا راز و نیاز کررہی ہیں؟“ میکال شاہ کب وہاں آیا تھا ان دونوں کو خبر نہیں ہوئی تھی۔ فاطمہ، میکال کی طرف دیکھ کر مسکرا دی۔

”ہم مل کر ڈنر تیار کر رہے ہیں، تم تو میٹنگ کے لیے گئے تھے، جلدی کیوں لوٹ آئے؟“

”میں نکل گیا تھا مگر پھر راستے میں تھا تو کلائنٹ کی طرف سے کال آ گئی میٹنگ کینسل ہو گئی، سو میں واپس گھر آ گیا۔“ وہ پلیٹ سے کھیرے اٹھا کر کھانے لگا۔

”تم بوا جی کے ساتھ جا کر بیٹھو، میں کھانا لگواتی ہوں۔“ فاطمہ خان نے کہا۔

”میری کچھ مدد کی ضرورت ہو تو بتا دیں فاطمہ!“ وہ مسکرایا۔

”نہیں، تم جاﺅں یہاں سے۔“ فاطمہ نے مسکراتے ہوئے ڈپٹا آنیہ سر جھکائے کھیرے کاٹ رہی تھی، میکال شاہ نے اسے بغور دیکھا، آنیہ نے بھی نگاہ اٹھا کر دیکھا، مگر دوسرے ہی پل نگاہ ہٹا گئی، وہ پلٹ کر باہر نکل گیا تھا۔

ڈنر کے بعد جب وہ کافی بنا رہی تھی تبھی وائلن کے سُر اس کے کانوں میں پڑے، وہ حیران ہوئی تھی۔ کافی لے کر آئی تو میکال شاہ اس کے وائلن کے تاروں سے عجیب سازچھیڑ رہا تھا، بوا اور فاطمہ اسے بیٹھے محویت سے سن رہے تھے، وہ حیران تھی۔ وہ وائلن بجانا جانتا تھا، وہ کافی کی ٹرے ٹیبل پر رکھ کر اس کے سامنے بیٹھی تو وہ اسے دیکھ کر مسکرایا اور وائلن کے سُر تبھی دم توڑ گئے۔ بوا اور فاطمہ نے اس کے لیے تالیاں بجائی تھیں۔

”مجھے نہیں معلوم تھا کہ تم وائلن بجانا جانتے ہو!“ فاطمہ نے مسکراتے ہوئے کافی کا سپ لیا۔ وہ آنیہ مرتضیٰ کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرا دیا۔

”میری استاد محترم آپ کے سامنے بیٹھی ہیں، جو بھی سیکھا ان سے سیکھا۔“ میکال شاہ نے اس کی طرف اشارہ کر دیا، وہ حیران ہی رہ گئی۔

”میں…. میں نے آپ کو کب سکھایا؟“ وہ حیرت سے بولی۔

”اس روز رات میں جب ہم ٹیرس پر بیٹھے تھے تو آپ بتا رہی تھیں نا میں اچھا سیکھنے والا ہوں، مجھے چیزیں جلد ازبر ہو جاتی ہیں۔“ وہ بغور دیکھتے ہوئے مسکرایا۔

”آنیہ بہت اچھا وائلن بجاتی ہے میکال! یہ بات مذاق نہیں ہے، مگر یہ بات طے ہے کہ تم پہلے سے وائلن بجانا جانتے ہو نا؟ آنیہ پریشان مت ہو، میکال کی عادت ہے مذاق کرنے کی۔“ اسے تذبذب کا شکار ہوتی دیکھ کر فاطمہ نے اسے مشکل سے نکالا۔میکال اسے مسکراتے ہوئے دیکھ رہا تھا اور ان نظروں میں کچھ تو خاص تھا، وہ جسے سمجھنے سے قاصر تھی یا پھر وہ اس بارے میں سوچنا نہیں چاہتی تھی۔

وہ ٹیرس پر تھی جب وہ ا س کے پاس آن کھڑا ہوا۔ وہ فوراً وہاں سے چلے جانا چاہتی تھی، تبھی میکال شاہ کے ہاتھ میں اس کا ہاتھ آ گیا۔ آنیہ مرتضیٰ نے پلٹ کر دیکھا تو وہ اسے بغوردیکھ رہا تھا۔ اس کی نظریں جیسے اس کے چہرے کا طواف کر رہی تھیں اور آنیہ الجھن سے اسے دیکھ رہی تھی۔

”یہ کیا ہے؟“

”مجھے خود اندازہ نہیں۔“ وہ مدھم لہجے میں بولا اور اس کی نظریں اس کے چہرے پر گڑی تھیں۔ ان نظروں میں تپش تھی، ایک الاﺅ تھا، وہ زیادہ دیر دیکھ نہیں پائی اور نظریں جھکتی چلی گئیں۔

”میں نہیں جانتا مگر کچھ ہے جو مجھے تم سے باندھ رہا ہے، تم مجھے پہلے دن سے ہی اپنے اختیار میں لیتے ہوئے لگ رہی ہو اور میں جیسے تمہارا معمول بن رہا ہوں۔ میں تم سے پوچھنا چاہتا تھا ایسا کیوں کر رہی ہو؟ میں اپنے بچاﺅ کی سعی کرتے تھکنے کیوں لگا ہوں اور تم مجھے زبانی ازبر ہوتی کیوں جا رہی ہو؟“ اس مدھم لہجے کی سرگوشی پر وہ حیران رہ گئی تھی۔

”میکال شاہ! آپ….“ وہ بولنے لگی تب ہی میکال شاہ نے اس کے لبوں پر ہاتھ رکھ کر اسے خاموش کر دیا اور اسے بغور دیکھتے ہوئے بولا۔

”مجھے گمان ہے یہ محبت کی ابتداءہے۔ اگر یہ ابتداءہے تو مجھے اس انتہا سے ڈر لگتا ہے۔ اس ابتداءمیں یہ حال ہے کہ وجود مشکلوں میں گھرا لگتا ہے، جیسے تم نے جنگل میں آگ لگا کر میرے سامنے سارے راستے بند کر دئیے ہوں۔ اس محبت کے آغاز میں یہ حال ہے تو کیا ہو گا جب اس محبت کا اقرار آپ کے لبوں سے سنوں گا؟“ وہ حیران رہ گئی تھی، میکال شاہ کی گرم سانسوں کی تپش اس کی انگلیوں کے الاﺅ، وہ کسی پتے کی طرح کانپنے لگی تھی۔ اپنا ہاتھ اس کی گرفت سے چھڑایا اور بھاگتی ہوئی وہاں سے نکل آئی مگر اس کے ہاتھ پر اس کا لمس جیسے جل رہا تھا۔

یہ محبت تھی؟ وہ شب بھر سو نہیں پائی۔ سانسوں میں ارتعاش رہا، دل کتنی زور سے دھڑکتا رہا، وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی ایسا کیوں ہو رہا تھا۔ وہ شب بھر کیوں سو نہیں پائی، جان مشکل میں کیوں ہو رہی تھی۔ صبح وہ جاگی تو راہداری میں میکال شاہ سے سامنا ہو گیا۔ وہ جیسے نظر بچا کر گزر جانا چاہتی تھی مگر وہ سینے پر ہاتھ باندھ کر اس کے سامنے آ رکا۔ لمبا چوڑا شخص، وہ چاہتی بھی تو شاید نظرانداز نہ کر پاتی۔

”یہ بے خبر نینا، انجان دکھائی دینا، نظر چرانا کہیں آپ کو پیار تو نہیں ہو گیا؟ یہ گریز، یہ بے نیازی کے سلےقے سیکھنے میں کچھ وقت لگے گا شاید آپ کو۔ موسم نئے ہوں تو عادی ہونے میں وقت لگتا ہے نا؟“ وہ جیسے اس کی کیفیت سے محظوظ ہو رہا تھا۔

”کیوں کر رہے ہیں آپ ایسا؟“ وہ اطمینان اور مکمل اعتماد سے بولی۔

”کیا…. آپ کیا کہنا چاہتی ہیں؟“ وہ بے نیاز لگ رہا تھا۔

”آپ کچھ نہیں جانتے میرے بارے میں، نہ میں آپ کے بارے میں۔ مجھے آپ کی باتیں عجیب لگ رہی ہیں، کسی غلط فہمی کا شکار ہو رہے ہیں آپ یا پھر خوش فہمی کا؟“

”یہ غلط فہمی نہیں ہے اور خوش فہمیوں کے لیے کہیں گنجائش نہیں ہے، رہی بات آپ کے بارے میں جاننے کی تو میں تم سے پیار کرتا ہوں، یہ میں جانتا ہوں۔ میں نے جتنا جانا ہے مجھے وہ اچھا لگتا ہے، اس تھوڑے جاننے سے مجھے شدید پیار ہوا ہے۔ اس کم جاننے کی محبت کا عالم یہ ہے کہ میں شب بھر سو نہیں پایا۔ آپ شناسائیوں کو سمیٹ کر ایک طرف رکھنے کے درپے ہیں، مجھے ڈر ہے یہ محبت خواب نہ بن جائے۔“ وہ خدشے بیان کر رہا تھا۔

”محبت ایسے نہیں ہوتی میکال شاہ!“ وہ جتاتے ہوئے بولی۔

”پھر کیسے ہوتی ہے، آپ کو اس کا تجربہ ہے؟“ وہ پوچھنے لگا، آنیہ نے فوراً سر نفی میں ہلا دیا۔

”محبت ہونے کے کلیے ہوتے ہیں یا اعداد و شمار، محبت واقع ہونے کے اسباب تلاشنا چاہتی ہیں یا آپ واقعات کے تسلسل کو جوڑ کر خدشوں کی کوئی بات کرنا چاہتی ہیں؟ جب آپ نے محبت کی نہیں تو آپ کو ا س کا علم کیسے ہو گیا کہ محبت کیوں ہوتی ہے اور کیسے ہوتی ہے؟ تجربات سے خود کو گزرنے دیں گی تو ان حدتوں کی خبر ہو گی نا، اور کلیوں اور مفروضوں کو محبت کا جواز بتانا چاہتی ہیں تو بخوشی ایسا کر سکتی ہیں، مگر محبت کے ہونے اور نہ ہونے کی وجوہات تلاشنا بے وقوفی ہو سکتی ہے۔ کیونکہ محبت کے شواہد بڑے واضح اور گہرے ہوتے ہیں آنیہ مرتضیٰ! وہ شواہد اس گھڑی میری نظر آپ کی نظروں میں دیکھ رہی ہے، کیا آپ دیکھ کر بھی انجان بننا چاہتی ہیں؟“ وہ بہت مدلل لہجے میںبولا۔

آنیہ الٹے قدموں پلٹی اور وہاں سے نکل آئی۔ اس شخص نے کیا کر دیا تھا، وہ لمحوں اپنی دھڑکن کو معمول پر نہیں لا پا رہی تھی۔ شام میں جب وہ اپنے وائلن کے تاروں سے کھیل رہی تھی تو وہ آ گیا، ٹیرس کے دوسرے کنارے پر کھڑا اسے دیر تک تکتا رہا۔ آنیہ مرتضیٰ کے وائلن کے تاروں سے کھیلتے ہاتھ رک گئے تھے، اس نے مقابل بیٹھ کر اس کے ہاتھ سے وائلن لے کر ایک طرف رکھا اور اس کے ہاتھ کو ہاتھوں میں لے لیا۔

”محبت کھیل نہیں ہے کہ آغاز کرو اور انجام کی فکر کیے بنا اسے ختم کر دو۔ محبت ان خدشات سے بہت دور کی چیز ہے۔ میں تمہیں اپنے سارے یقین سونپنا چاہتا ہوں مگر اس سے قبل مجھے اتنا یقین چاہیے کہ تم یقین رکھتی ہو۔ محبت یقین کے بنا ادھوری ہے اور میں مفروضوں کی بنیاد رکھنے نہیں آیا، تمہیں وہ یقین سونپنے آیا ہوں جو محبت کو کم ہونے نہیں دے گا۔ کیا تم میرا اعتبار کرنا چاہتی ہو آنیہ مرتضیٰ خان! کیا تم مجھے وہ اجازت دیتی ہو کہ میں تمہیں محبت کا یقین سونپ دوں اور تمہیں اپنے ساتھ باندھ لوں؟“ وہ بہت یقین سے کہہ رہا تھا اور آنیہ مرتضیٰ حیرت سے اس کی سمت دیکھ رہی تھی۔ وہ گنگ تھی، کوئی لفظ آج اس کی دسترس میں نہ تھا اور تبھی بارش ہونے لگی تھی۔ وہ دونوں بھیگنے لگے تھے مگر دونوں کو اس کی پروا نہیں تھی۔

”اگر میں کہہ دوں کہ تم تمام دروازوں پر قفل لگا کر ساری چابیاںاپنے پاس رکھ لو تو کیا یہ یقین کرنے کو کافی ہو گا؟ کیا یہ یقین کافی نہیں کہ میں تمہیں اختتام تک اختیار کُل دے رہا ہوں، کیا یہ یقین کافی نہیں؟“ میکال شاہ اس تاریکی میںاس کے سامنے بیٹھا کہہ رہا تھا اور اسے لگا اس یقین کے آگے جیسے کل کائنات ہیچ ہے۔ اس لہجے سے آگے اسے کوئی لہجہ سنائی نہیں دے رہا تھااور حیران تھی کہ وہ کچھ اور سن کیوں نہیں پا رہی۔ اس لہجے میںایسا کیا تھا یا پھر کیسا فسوں تھا اس بارش میں؟ یہ موسم اپنے ساتھ کوئی نیا بھید لایا تھا، وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی مگر وہ اس شخص کے سامنے سے اٹھ نہیں سکی تھی، جیسے محبت نے اس کے پاﺅں باندھ لیے ہوں اور وہ اسباب تلاش کرنے کی خواہش میںبے بس ہو گئی تھی۔

”کیوں کر رہے ہو یہ سب، کس لیے؟“ اس نے پوچھا تو اس کی آواز و لہجہ بہت بے ہمت لگ رہا تھا۔

”تمہیں ڈر کیوں لگتا ہے اور کس بات سے؟“

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

کچھ کہنا تھا تم سے ۔۔۔ بِینوبسواس/عامر صدیقی

کچھ کہنا تھا تم سے بِینوبسواس/عامر صدیقی ہندی کہانی …………….  ویدیہی کا من بہت اتھل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے