سر ورق / یاداشتیں / ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 32  سید انور فراز

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 32  سید انور فراز

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول
عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو!
ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 32
سید انور فراز

ماہنامہ سرگزشت کے اجرا سے پہلے نئے لکھنے والوں کی تعلیم و تربیت اور حوصلہ افزائی کا کام نہ ہونے کے برابر تھا، مالکان و مدیران خود کو اس الجھن میں نہیں ڈالنا چاہتے تھے کہ وہ نئے لکھاریوں پر محنت کریں اور ان کی کہانیاں چھاپ کر ایک سخت مقابلہ آرائی کی فضا میں کوئی نقصان اٹھائیں، البتہ اظہر کلیم، ش، م جمیل ، اقبال پاریکھ چوں کہ کہانیوں کے کارخانے چلارہے تھے، وہ نئے مترجمین کو موقع دیتے تھے، اس طرح کم خرچ بالا نشین کے مصداق زیادہ منافع کمانے کا موقع ملتا تھا، نیا مترجم کمزور ترجمہ بھی کرکے لاتا تو اسے ایڈیٹ کرکے یا ری رائٹ کرکے استعمال میں لے لیا جاتا، سینئر مترجمین میں اثر نعمانی، ش م جمیل ، اظہر کلیم، عبدالقیوم شاد، اسلام حسین، سردار سلیم، عشرت انجم، احمد صغیر صدیقی، اقبال پاریکھ،احمد اقبال، محمود احمد مودی، شکیل صدیقی، سلیم انور وغیرہ شامل تھے، بعد ازاں علیم الحق حقی، ابو ضیا اقبال، عزیز الحسن قدسی، شکیل عدنان، کاشف زبیر، سید احتشام، ناصر چغتائی،افسر آذر اور بہت سے نام ہیں جن کا اضافہ ہوتا رہا، یہ تمام لوگ مضبوط ادبی بنیادوں کے حامل زبان و بیان پر بھرپور دسترس رکھنے والے اور اردو کی کلاسیکل افسانوی و شعری روایات کا شعور رکھنے والے تھے، چناں چہ جب انھیں اپنی مالی ضروریات کے پیش نظر کمرشل رائٹنگ کی ضرورت پیش آئی تو انھیں قطعاً کوئی پریشانی نہیں ہوئی،ادب کے سکہ بند نقادوں سے بے نیاز ہوکر انھوں نے لکھنا شروع کیا اور اپنی تحریری و تخلیقی صلاحیتوں کے جھنڈے گاڑ دیے۔
ڈائجسٹوں کے مالکان کی ترجیح ایسے ہی لوگ تھے،نئے لکھنے والے اپنی کہانیاں بذریعہ ڈاک بھیجتے یا دفتر آکر دے جاتے تو اکثر وہ ہفتوں بلکہ مہینوں ٹیبل پر پڑی رہتیں اور پھر کسی وقت ردی کی ٹوکری میں ڈال دی جاتیں، انھیں پڑھنے اور پھر ان کی خامیوں اور خوبیوں پر غور کرنے کا وقت ہی کس کے پاس تھا، البتہ یہ کام لاہور میں اردو ڈائجسٹ اور سیارہ ڈائجسٹ کے علاوہ آداب عرض یا سلام عرض ٹائپ پرچوں میں جاری رہا، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اچھے لکھنے والوں کو بھرپور معاوضہ نہیں دے سکتے تھے جیسا کہ کراچی میں شکیل عادل زادہ اور معراج رسول یہ روایت ڈال چکے تھے اور ان کا مؤقف یہ تھا کہ نئے لکھنے والوں میں سے جب کوئی ابھر کر سامنے آئے گا تو دیکھا جائے گا، فی الحال کہنہ مشق لکھاریوں سے فائدہ اٹھایا جائے اور انھیں بھی مالی پریشانیوں سے نجات دی جائے،اس خلا کو ماہنامہ سرگزشت نے پورا کیا، نئے لکھنے والوں کی کہانیوں پر توجہ دی گئی، ان کی معقول تربیت ہوئی اور اس طرح بہت سے نئے نام سامنے آئے مگر ہمیں افسوس کے ساتھ یہ لکھنا پڑ رہا ہے کہ یہ سلسلہ ہمارے بعد اس طرح جاری نہ رہ سکا جیسا کہ پہلے تھا۔
رفیع احمد فدائی
مندرجہ بالا ناموں میں اور بھی نام ایسے ہیں جو اس وقت ہمارے ذہن میں نہیں آرہے، ہماری کوشش ہوگی کہ آئندہ بھی ان کا تذکرہ وقتاً فوقتاً ہوتا رہے، بعض تو ایسے لوگ ہیں جن کے نام سے بھی ڈائجسٹوں کا قاری واقف نہیں جیسے اسلام حسین، وہ خود بھی نام و نمود کی خواہش سے آزاد رہنے والوں میں سے ہیں، ایسا ہی ایک اور نام رفیع احمد فدائی صاحب کا ہے،ہمارے بزرگوں میں تھے، روزنامہ جنگ سے مستقل وابستگی تھی، اپنی آمدن میں جائز اضافے کے لیے ڈائجسٹوں کے لیے بھی لکھا کرتے تھے اور بالکل ابتدائی زمانے سے لکھ رہے تھے، ہم نے جب ادارے میں قدم رکھا تو ان سے واقف نہیں تھے لیکن جب احمد سعید صاحب کی رخصتی کے بعد جاسوسی ڈائجسٹ کی ذمے داریاں پوری طرح سنبھالیں تو فدائی صاحب سے واقفیت ہوئی ، کیا باکمال انسان تھے ، ابتدا میں ہمارا خیال یہ تھا کہ وہ ایک عام سے لکھاری ہیں، ادارے کے لیے لطائف ، کارٹون، اقتباسات فراہم کرتے تھے،ان کے بعد ہی یہ ذمے داری عقیل عباس جعفری نے سنبھالی۔
رفیع احمد فدائی کہنہ مشق صحافی، ادیب، شاعر، مترجم، افسانہ نگار،نامعلوم کیا کیا تھے، وہ 1925 ء میں کلکتہ میں پیدا ہوئے، 1944 ء میں کلکتہ سے میٹرک کا امتحان فرسٹ ڈویژن سے پاس کیا اور تقسیم برصغیر کے بعد ہجرت کرکے مشرقی پاکستان پہنچ گئے جہاں ڈھاکا یونیورسٹی سے بی اے کا امتحان پاس کیا، انھیں بنگلہ زبان میں بھی مہارت حاصل تھی لہٰذا بنگال کے باغی شاعر قاضی نظرالاسلام کے ایک بنگلہ ناول کو اردو کا جامہ پہنایا، ناول کا اصل نام ’’مرتیو کھودھا‘‘ تھا، اس کے معنی موت لانے والی بھوک ہیں، رفیع صاحب نے اس کا نام ’’جوع العجل‘‘رکھا، یہ ناول 1960 ء میں شائع ہوا، اسی طرح انھوں نے بنگلہ افسانوں کا بھی اردو ترجمہ کیا، یہ مجموعہ ’’جھمکاتا‘‘ کے نام سے 1963 ء میں چھپا، قسمت نے ہجرت در ہجرت لکھی تھی، ایک بار تقسیم ہند نے ہجرت پر مجبور کیا اور دوسری بار سقوط ڈھاکا نے، چناں چہ 1973 ء میں کراچی آگئے اور جنگ اخبار سے وابستگی اختیار کی لیکن کراچی آنا خاصا تکلیف دہ یوں رہا کہ 71 ء کی جنگ میں بھارتی قیدی بناکر انھیں میرٹھ بھیج دیا گیا تھا،وہ میرٹھ سے کراچی آئے تھے۔
مشرقی پاکستان میں انھوں نے ’’پاسبان‘‘ کے علاوہ ڈھاکا کے دوسرے روزناموں میں بھی صحافتی خدمات انجام دیں، کراچی میں قدم جمانے کے بعد انھوں سے سب سے پہلے عالمی ڈائجسٹ کے لیے کام کیا، کہانیاں بھی لکھیں اور وقتاً فوقتاً کراچی کے دیگر اخباروں سے بھی وابستہ رہے لیکن ایک طویل وابستگی روزنامہ جنگ سے رہی،فدائی صاحب انٹرنیشنل اسلامک پبلی کیشنز سے بھی وابستہ رہے اور یورپ میں اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے لیے متعدد اردو عربی اور دیگر اسلامی کتب کا انگریزی زبان میں ترجمہ کیا، اس ادارے کے تحت اسلام کی مختصر تاریخ اور صحابہ ء کرام کی زندگی پر کتابیں لکھیں،13 مئی 1988 ء کو قلم کا یہ مزدور اس جہان فانی سے رخصت ہوا ؂ خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را۔
آج کتنے لوگ رفیع احمد فدائی اور ان کے کام سے واقف ہوں گے؟ ہمارے ساتھ نہایت شفقت کا سلوک کرتے تھے،آخری دنوں میں زیادہ بیمار رہنے لگے تھے تو ان کا بیٹا ساتھ آیا کرتا تھا ، ہمیں ان کے انتقال کی خبر بہت بعد میں اس وقت ملی جب ان کے صاحب زادے محمد ہمایوں ظفر ایک بار تلاش روزگار میں ہمارے پاس آئے، انھوں نے کمپوزنگ سیکھ لی تھی لہٰذا ادارے کے کمپیوٹر سیکشن میں انھیں جاب مل گئی،انھوں نے فطری شرافت اور وضع داری اپنے باپ سے ورثے میں پائی ہے،وہ بھی ایک طویل عرصے سے اب روزنامہ جنگ سے وابستہ ہیں، اب برسوں سے ملاقات نہیں ہوئی، جس زمانے میں ہم اخبار جہاں کے لیے لکھ رہے تھے تو اکثر روزنامہ جنگ کے دفاتر کا چکر لگتا رہتا تھا، سرِ راہِ ہمایوں ظفر سے بھی ملاقات ہوجاتی تھی، زندگی اتنی مصروف ہوکر رہ گئی ہے کہ اب کسی سے یہ شکایت مناسب نہیں لگتی کہ آپ آتے نہیں، ملتے نہیں ، ہمارا ہی زمانہ ء جاہلیت کا ایک شعر سن لیجیے؂
جائے کسی کے پاس سنانے کو حال دل
اتنی کہاں کسی کو بھی فرصت ہے شہر میں
ایچ اقبال کی واپسی
1994 ء میں پیپلز پارٹی برسراقتدار تھی اور دلچسپ بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے جیالے ورکر غلام قادر اور شہلا رضا راندۂ درگاہ تھے، محترمہ شہید نے شاید انھیں فراموش کردیا تھا، کہانیاں لکھ کر گزارا کر رہے تھے، دوسری طرف سندھ کی دوسری سب سے بڑی جماعت ایم کیو ایم زیر عتاب تھی، ان کے اکثر ورکر اور رہنما انڈر گراؤنڈ تھے، ایچ اقبال ایم کیو ایم سے وابستہ تھے اور وہ بھی انڈر گراؤنڈ تھے، روزنامہ پرچم سے علیحدگی کے بعد اچانک غائب ہوگئے تھے، ایک روز اعجاز رسول صاحب نے ہمیں بتایا کہ اقبال صاحب سخت پریشانیوں سے دوچار ہیں جن میں سرفہرست مسئلہ ء روزگار ہے، بہتر ہوگا کہ ان سے کہانیاں لکھوائی جائیں تاکہ گھر کا چولہا جل سکے۔
ہم نے ایک معنی خیز نظر سے انھیں دیکھتے ہوئے صرف اتنا کہا ’’معراج صاحب!‘‘
اعجاز صاحب بولے ’’میں نے بھائی سے بات کرلی ہے‘‘
ہم کھل اٹھے اور کہا ’’پھر کیا مسئلہ ہے؟ آپ ان سے کہیں کہ سب سے پہلے ہر مہینے دو کہانیاں سرگزشت کے آخری حصے کے لیے لکھ دیا کریں، اس کے بعد آنے والے مہینے کا جاسوسی کا سرورق بھی انھیں بھجوادیا جائے گا، اس طرح یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا، جاسوسی ڈائجسٹ اور سرگزشت میں ایچ اقبال نے ایک طویل عرصے بعد اپنی قلم کاری کا آغاز کیا، مہینے میں ایک چکر وہ دفتر کا لگالیا کرتے تھے تو ہماری بھی ملاقات ہوجاتی، معراج صاحب سے ان کے تعلقات میں جو سرد مہری برسوں پہلے آئی تھی، وہ بدستور قائم تھی، دفتر آکر وہ ہمارے کمرے میں آتے یا اوپر اعجاز رسول صاحب سے ملاقات کرتے، خیال رہے کہ ان دنوں اعجاز رسول ادارہ جاسوسی ڈائجسٹ پبلی کیشنز میں بہ حیثیت جنرل منیجر خدمات انجام دے رہے تھے ، شاید اسی سال 1994 ء کے آخر میں ان کی جگہ جناب اقلیم علیم نے سنبھالی ۔
یہ سال معراج صاحب کے لیے نجی نوعیت کے مسائل سے بھرپور سال تھا، ساتھ ہی ساتھ کاغذ کی فراہمی کے مسائل بھی خاصی سنگین نوعیت اختیار کر رہے تھے،کاغذ کے جس ڈیلر سے کاغذ لیا جاتا تھا، وہ الگ پریشان کر رہا تھا، چناں چہ نئے جنرل منیجر اقلیم علیم کو پہلی ذمے داری یہ دی گئی کہ وہ براہ راست باہر سے کاغذ امپورٹ کرنے کے لیے راستہ ہموار کریں، وہ اس میں کامیاب رہے لیکن اس کے باوجود کاغذ کی مہنگائی اس حد تک بڑھ گئی کہ جنوری یا شاید فروری 1995 ء کا جاسوسی، سسپنس، سرگزشت اور پاکیزہ شائع نہیں ہوا، معراج صاحب کا زیادہ وقت ملک سے باہر گزرتا لیکن وہ ٹیلی فون پر دفتر سے روزانہ رابطے میں رہا کرتے تھے اور فرداً فرداً ان کی کال آنے کے وقت تمام پرچوں کے ذمے داران کو لائن حاضر ہونا پڑتا تھا، وہ سب سے تازہ حال احوال، رائٹرز کی کارکردگی وغیرہ کے بارے میں معلوم کرتے۔
ایچ اقبال اور ہم
ادارہ جاسوسی ڈائجسٹ کے لیے ایچ اقبال صاحب کی قلم کاری کا سفر اس بار خاصا طویل رہا، اس طوالت کی وجہ اعجاز رسول اور ہم تھے، معراج صاحب انھیں پسند نہیں کرتے تھے، جہاں تک اقبال صاحب کا تعلق ہے ، ہم نے ان کی زبان سے کبھی معراج صاحب کے خلاف کوئی بات نہیں سنی، دونوں افراد کے درمیان ایسی کیا بات تھی کہ ایک دوسرے سے ملاقات تو درکنار بات چیت کرنا بھی پسند نہیں کرتے تھے، خاص طور سے معراج صاحب ، ہم نے دیکھا کہ ایچ اقبال کا نام آتے ہی ان کے چہرے کا زاویہ تبدیل ہوجاتا تھا، پیشانی پر سلوٹیں نمودار ہوجاتیں، شاید اس کی وجہ ابتدائی دور کی کوئی ناگوار بات ہوسکتی تھی، اس حوالے سے ہم نے ایک بار ایچ اقبال صاحب کو ٹٹولنے کی کوشش کی، ان کا کہنا یہ تھا کہ کچھ لوگ نہیں چاہتے تھے کہ میں معراج صاحب کے زیادہ قریب رہوں،میں نے یہ بات محسوس کی تو خود ہی علیحدگی اختیار کرلی اور پھر اپنا ڈائجسٹ نکال لیا۔
معراج صاحب اس موضوع پر کبھی بات نہیں کرتے تھے، حیرت انگیز طور پر دونوں افراد کے درمیان جس قدر دوری تھی، معراج صاحب کے چھوٹے بھائی اعجاز رسول سے اسی قدر قربت تھی، اکثر اعجاز صاحب اتوار کا دن ان کے گھر پر گزارتے۔
اس دوبارہ واپسی کے بعد ہمارے تعلقات میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا، ہمارے اور ان کے درمیان ایک مشترکہ شوق موسیقی تھا، وہ تو باقاعدہ علم موسیقی کے اُستادوں میں شامل ہیں اور ہم صرف اچھا گانا سننے کے رسیا، ہمارا مزید شوق یہ تھا کہ بے شمار گانوں کی راگ راگنیوں سے واقفیت حاصل کی جائے، ہمارے احباب میں ماضی میں بھی ایسے لوگ رہے ہیں جن سے ہم اپنی معلومات میں اضافہ کرتے رہے اور ایچ اقبال صاحب سے مراسم بڑھے تو یہ کام بہت آسان ہوگیا، جب بھی کوئی اچھا گیت سنا، فوراً انھیں فون کرلیا کہ جناب ذرا بتائیے کہ اس گیت کی بنیاد میں کس راگ یا راگنی سے مدد لی گئی ہے؟
ان دنوں اقبال صاحب معراج صاحب کے گھر سے مختصر سے فاصلے پر ڈیفنس ہی میں رہائش پذیر تھے، ہم اپنے شوق کے ہاتھوں مجبور ہوکر مہینے میں ایک رات ان کے فلیٹ ہی پر گزارتے،بھابھی کے ہاتھ کی دال ماش اور کتری ہوئی بھنڈیاں ہمیں بہت پسند تھیں اور پھر موسیقی کے علاوہ دیگر موضوعات پر بھی بات چیت ہوتی رہتی، اقبال صاحب خود بھی اچھا گاتے تھے اور ان کی بیگم بھی ذاتی شغل کے طور پر اقبال صاحب ہی کی سنگت میں گایا کرتی تھیں، محمد رفیع اور ملکہ ء ترنم نور جہاں کا ایک مشہور گیت ’’یہاں بدلا وفا کا بے وفائی کے سوا کیا ہے‘‘ ہم نے دونوں میاں بیوی کی آواز میں سنا تو حیران رہ گئے، محسوس ہی نہیں ہورہا تھا کہ یہ رفیع اور لتا نہیں ہیں۔
ایچ اقبال صاحب نے فن موسیقی کے حصول میں کراچی کے ایک مشہور استاد کی شاگردی کی جن کا نام اس وقت ذہن میں نہیں آرہا، اس کے علاوہ غزل گائیکی کے بے تاج بادشاہ جناب مہدی حسن ان کے ذاتی دوستوں میں تھے، الف لیلہ ڈائجسٹ کے زمانے میں انھوں نے الف لیلہ کا مہدی حسن نمبر بھی شائع کیا تھا۔
اسی دور میں ہم نے اعجاز رسول صاحب سے کہا کہ جناب ان سے موسیقی کے موضوع پر کچھ لکھوالیں ورنہ وقت گزر جائے گا، اقبال صاحب سے بھی اکثر کہتے رہتے تھے کہ آپ نے اس فن پر بڑی تحقیق کی ہے اور کمال حاصل کیا ہے،اب اپنی تحقیق سے دوسروں کو بھی فیضیاب کریں، اس طرح موسیقی پر ان کی پہلی کتاب ’’ابجد موسیقی‘‘ شائع ہوسکی لیکن اس کتاب نے اعجاز رسول صاحب کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا، اس کی اشاعت نہایت محدود رہی، ایک پبلشر نقصان برداشت نہیں کرسکتا چناں چہ کوئی دوسری کتاب مزید لکھوانے کی ہمت اعجاز صاحب کو نہیں ہوئی،البتہ ہماری فرمائش پر ایک کتاب اقبال صاحب نے مزید لکھی، یہ سپر ہٹ مشہور گانوں کی نوٹیشن سے متعلق تھی، اعجاز صاحب نے اسے شائع کردیا لیکن وہ بھی زیادہ مقبول نہیں ہوئی۔
سرگزشت کی سچ بیانیوں میں اقبال صاحب نے اپنی روایت سے ہٹ کر معاشرتی اور رومانی موضوعات پر بے شمار کہانیاں لکھیں جن میں بعض حقیقی کرداروں پر مشتمل ہیں،صرف اصل نام تبدیل کردیے گئے ہیں، مثلاً ایک کہانی اُستاد مہدی حسن کے ایک زبردست معاشقے کی ہے،بمبئی کی ایک ہندو عورت ان پر فدا تھی، کسی بھگوان کی طرح ان کی پوجا کرتی تھی،یہ کہانی اقبال صاحب نے لکھی اور سرگزشت میں شائع ہوئی،ہمیں نہ کہانی کا نام یاد رہا اور نہ وہ شمارہ، اگر کسی قاری کو یہ کہانی یاد ہو تو ضرور آگاہ کریں۔
اعجاز صاحب کا انتقال شاید 2002 ء میں ہوا، ادارہ جاسوسی کے دفاتر آئی آئی چندریگر روڈ سے ڈیفنس فیز ٹو منتقل ہوچکے تھے،اب ادارے میں ہمارے علاوہ اقبال صاحب کا ہم نوا کوئی نہ تھا، وہ بے حد خودار اور انا پرست شخصیت کے مالک ہیں، ہر کسی سے اپنے دکھ درد شیئر بھی نہیں کرتے، ڈیفنس کے ایک مہنگے فلیٹ میں رہائش ان کی مجبوری تھی، ساتھ ہی جس انداز کی شاہانہ زندگی گزاری تھی ، اس میں فرق لانا بھی آسان نہیں تھا، اے سی انھیں مستقل چاہیے تھا جس کی وجہ سے بجلی کا بل بھی ٹھیک ٹھاک آتا تھا، ادارے سے معقول آمدنی کے باوجود ان کے اخراجات پورے نہیں ہوپاتے تھے اور نوبت بجلی کٹنے تک جاپہنچتی ،اعجاز صاحب کی سپورٹ ختم ہوچکی تھی ، معراج صاحب سے وہ براہ راست کوئی بات نہیں کرسکتے تھے،ایسے ہی ایک نازک وقت میں ایک روز ان کا فون آیا، ہم نے ہیلو کہا تو دوسری طرف سے نہایت سنجیدہ اور گمبھیر لہجے میں اقبال صاحب کی آواز ابھری ’’آپ سے ایک آخری اور انتہائی ضروری کام آ پڑا ہے، امید ہے کہ آپ میرا یہ کام ضرور کردیں گے‘‘۔
ہم چوکنا ہوگئے کیوں کہ اقبال صاحب کا لب و لہجہ اور بات چیت کا انداز عام نہیں تھا، جواباً عرض کیا ’’فرمائیے؟‘‘
’’آپ میرا ایک پیغام معراج رسول تک پہنچادیں‘‘
’’ضرور‘‘ ہم نے کہا۔
’’ان سے کہیں کہ اگر آج میں مر جاؤں تو مجھے یقین ہے کہ میرے سوئم پر تم لاکھ دو لاکھ روپے خرچ کردوگے لیکن آج اگر مجھے کوئی ضرورت پیش آگئی ہے تو وہ پوری نہیں کرسکتے اور فراز صاحب میں نہایت سنجیدگی سے آپ کو بتارہا ہوں کہ میں نے خود کشی کرنے کا پختہ ارادہ کرلیا ہے،برائے مہربانی میرا یہ پیغام پہنچا دیجیے گا اور اب شاید ہماری ملاقات نہیں ہوگی، خدا حافظ‘‘یہ کہہ کر فون بند کردیا اور ہمارے پیروں تلے سے گویا زمین نکل گئی ۔
ہم نے فوراً رنگ بیک کیا ، گھنٹی بجتی رہی اور کافی انتظار کے بعد ان کی بیگم نے فون اٹھایا، ہم نے ان سے کہا کہ بھابھی انھیں روکیں ، کم از کم میرے آنے تک انھیں روک کر رکھیں، میں فوراً آرہا ہوں۔
ہم فوراً معراج صاحب کے پاس پہنچے، بڑے اچھے موڈ میں نظر آئے ، ہاتھ میں ایک گلاب کا پھول تھا، اسے بار بار سونگھتے، ہمارے خیال سے وقت انتہائی مناسب تھا ، اگر بات سلیقے سے کی جاتی ، کوئی بات کرنے کا بھی ایک مناسب ڈھنگ ہوتا ہے ، اگر بے ڈھنگے انداز میں یا کسی منفی رنگ میں بات کی جائے تو بنا بنایا کام بگڑ جاتا ہے،ہم نے انھیں بتایا کہ ابھی ایچ اقبال صاحب کا فون آیا تھا ، حسب معمول انھوں نے کوئی بھی رد عمل ظاہر نہیں کیا اور نہ ہی ان کے چہرے سے کسی ناگواری کا احساس ہوا، جب ہم نے یہ کہا کہ وہ خود کشی کا پروگرام بناچکے ہیں اور اپنا ایک آخری پیغام ہمارے ذریعے آپ تک پہنچانا چاہتے ہیں تو معراج صاحب ذرا سیدھے ہوکر بیٹھ گئے، ہم نے لفظ بہ لفظ پیغام پہنچادیا، پیغام سن کر مسکرائے اور پوچھا ’’مسئلہ کیا ہے؟‘‘
ہم نے انھیں بتایا کہ بجلی کا بل بہت زیادہ آیا تھا جو وہ بھر نہ سکے اور اب لائن کٹ گئی ہے،انھوں نے دفتر کے کیشئر سے رابطہ کیا تھا ، اس نے صاف انکار کردیا ‘‘
شاید کوئی گھڑی مبارک ہوتی ہے، انھوں نے ہاتھ آگے بڑھاکر گلاب کا پھول ہمیں دیا اور فرمایا کہ کیشئر سے دس ہزار روپے لے لو اور دفتر کے ڈرائیور کے ساتھ فوراً ان کے گھر جاؤ اور سب سے پہلے ان کے پیغام کے جواب میں یہ گلاب کا پھول میری طرف سے پیش کردینا ۔
ہم خوشی خوشی حضرت کے گھر پہنچ گئے ، بیگم نے دروازہ کھولا ، وہ اپنے کمرے میں بند تھے، بہر حال باہر آئے تو ہم نے پہلے گلاب کا پھول پیش کیا اور پھر دس ہزار روپے، وہ ایک سکتے کی کیفیت میں بیٹھے تھے ، اچانک آنکھوں میں آنسو بھر لائے اور بولے ’’معراج دل کا برا نہیں ہے، لوگ اسے برا بناتے ہیں‘‘
ایچ اقبال صاحب کی یہ بات سو فیصد درست تھی، ہمیں اس کا بارہا تجربہ ہوا، اگر ہم ان کے پاس جاکر کچھ اس انداز میں گفتگو کرتے کہ جناب ایچ اقبال صاحب کا فون آیا تھا اور وہ اپنی ضرورت کے لیے پیسے مانگ رہے ہیں اور یہ بھی کہہ رہے ہیں اگر مجھے یہ رقم نہ ملی تو میں خود کشی کرلوں گا، ہمیں یقین ہے کہ معراج صاحب بھڑک اٹھتے اور کوئی مطالبہ نہ مانتے،اس سے ملتے جلتے کئی واقعات ہمیں یاد ہیں جو صرف اس وجہ سے منفی رُخ اختیار کرگئے کہ انھیں درست انداز میں پیش نہیں کیا گیا، ایم اے راحت ، علیم الحق حقی اور اقبال کاظمی کے معاملات میں بھی یہی کچھ ہوا تھا۔
اقبال کاظمی جاسوسی ڈائجسٹ میں آتش فشاں لکھ رہے تھے یہ کہانی انھوں نے ہماری ہی فرمائش پر شروع کی تھی، اس کے مرکزی خیال پر بھی ہم نے ہی ان کی توجہ دلائی تھی کیوں کہ موصوف کو مارشل آرٹس کے بارے میں بھی اچھی خاصی معلومات تھیں، مارشل آرٹس کا ایک پرچا بھی ایک زمانے میں نکالا کرتے تھے ، کاظمی صاحب سے غلطی یہ ہوئی کہ کہانی کو فرسٹ پرسن بیانیے کے بجائے تھرڈ پرسن میں لکھ لیا ، ان کا خیال تھا کہ یہ کہانی دو تین اقساط سے زیادہ کی نہیں ہے، ہم نے کہانی پڑھی تو سخت اعتراض کیا کہ یہ آپ نے کیا کردیا ، ہمارا خیال تو اسے قسط وار کہانی کے طور پر شائع کرنے کا ہے، یہ شاید 1998 ء کی بات ہے ، ان دنوں اقبال کاظمی ادارے کے لیے بہت کم لکھ رہے تھے کیوں کہ ان کا دوسرا کاروبار اچھا خاصا چل رہا تھا ، بہر حال ہم نے کہانی لے لی اور ان سے کہا کہ اگر کہانی معراج صاحب کو بھی پسند آتی ہے تو اسے دوبارہ ایک آپ بیتی کے انداز میں لکھنا ہوگا، وہ اس کے لیے راضی ہوگئے لیکن معراج صاحب بھی اقبال کاظمی سے خصوصی بغض رکھتے تھے ، انھوں نے شاید دو ماہ تک کہانی کو ہاتھ بھی نہیں لگایا اور ہماری یہ ہمت نہیں تھی کہ ان پر زور ڈالتے کہ جناب رائٹر نے زندگی خراب کر رکھی ہے ، آپ جلد از جلد کہانی پڑھ لیں، کاظمی صاحب کے اصرار پر آخر ہم نے کہانی واپس مانگ لی جو معراج صاحب نے شاید پڑھے بغیر ہی واپس کردی ، کاظمی صاحب نے اخبار جہاں میں انوار علیگی صاحب کو دے دی لیکن وہاں بھی فوری طور پر اس کی اشاعت ممکن نہ ہوسکی۔
انہی دنوں مودی صاحب سرکش سے بے زار ہورہے تھے اور اس کہانی کو ختم کرنے کا پروگرام بنالیا تھا ،معراج صاحب نے ہم سے کہا کہ کوئی دوسری قسط وار کہانی کیا ہوسکتی ہے اور کس سے لکھوائی جائے؟ ہمارے ذہن میں تو وہی آتش فشاں تھی ، موضوعاتی اعتبار سے اس میں ایک نیا پن تھا ، معراج صاحب نے کہا کہ اس وقت مصروفیت کے باعث میں اسے پڑھ نہیں سکا لہٰذا دوبارہ منگوائیں، ہم نے اقبال کاظمی سے رابطہ کیا تو انھوں نے نہایت اطمینان سے جواب دیا کہ وہ تو میں نے اخبار جہاں میں دے دی،ہم نے درخواست کی کہ بھائی ، واپس لے لو ، جاسوسی میں قسط وار چھپے گی تو آپ کے لیے زیادہ بہتر بات ہوگی، بہر حال کاظمی صاحب کسی نہ کسی طرح کہانی واپس لے آئے اور پھر معراج صاحب نے پڑھی اور مطمئن ہوگئے، دوبارہ کاظمی صاحب کو دی گئی کہ وہ اسے آپ بیتی کے انداز میں لکھیں ، اس طرح ’’آتش فشاں‘‘ کا آغاز ممکن ہوسکا لیکن شاید اقبال کاظمی کا انجام قریب آچکا تھا

(جاری ہے)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : سید انور فراز قسط نمبر 29

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول عبرت سرائے دہر ہے اور ہم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے