سر ورق / افسانہ / لبرل جڑیں ۔۔۔نورالعین ساحرہ

لبرل جڑیں ۔۔۔نورالعین ساحرہ

لبرل جڑیں

نورالعین ساحرہ

” پچھلے ایک ہفتے میں ہر روز پہلے سے زیادہ حیران ہوتا ہوں زیبی ۔ ایسی مہنگی اور خوبصورت ریوالونگ چئیر تو میں نے کبھی امریکہ میں بھی نہیں دیکھی تھی، سارے آفیسرز کی امپورٹیڈ گاڑیاں اور ۔۔۔۔۔۔ اور یہ قیمتی ڈیکوریشینز تو دیکھو ذرا ”  حیرت سے مائک کی آواز جیسے  چٹخنے لگی ۔

”  میری تو عقل دنگ رہ گئی کہ بیرونی قرضوں میں گردن تک ڈوبے تمھارے  اس ملک میں ایسی دلفریب چکا چوند موجود ہے” روایتی تفاخر میں ڈوبا مائک ہر چیز کو دیکھ دیکھ کر عالم استعجاب میں کرسی پر جھولتے اور باآواز بلند بڑبڑاتے ہوئے آفس اور اسٹاف ممبرز کا جائزہ لے رہا تھا ۔

” افغانی مجاہدین کو  سی این این پردیکھ کرمیں تو ہمیشہ سمجھتا رہا کہ یہاں بھی شاید لوگ موم بتیوں کی روشنی جلائے غاروں میں مقیم ہوں گے اور ساری عورتیں خیمے پہن کر جبراً وقت پھلانگتی پھرتی ہوں گی جنہیں کسی کو پسند کرنے کے جرم میں سرعام گولی مار دی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ مگر تمھارا ملک تو۔۔۔۔۔  اوہ مائی گاڈ!! ائیرپورٹ سے لے کرآفس تک، خواتین کے لباس اور ٹیکنالوجی تک بہت ویسٹرنائزڈ دکھائی دیتا ہے "

 اپنا جملہ ادھورا چھوڑ کر شیشے کے پار بیٹھی خوبصورت سی الٹرا ماڈرن سیکرٹری سے نظریں ہٹا کر وہ اپنی بچپن کی دوست زیب کی طرف متوجہ ہوا جو پڑھائی مکمل کرنے کے بعد اتفاق سے اسی کے ساتھ جاب کر رہی تھی اور وہ دونوں اپنی کمپنی کی طرف سے انٹرنشپ کے لئے پاکستان آئے ہوئے تھے۔ زیب تو اکثر چھٹیوں میں اپنے والدین کے ساتھ کئی مہینے کے لئے پہلے بھی آتی رہی تھی اس لئے پاکستانی ماحول اور کلچر سے کافی مانوس تھی۔ اس نے ہاتھ میں پکڑئ فائل میز پر رکھی،نفاست سے کرسی گھسیٹی اور بہت اعتماد سے اسکے سامنے بیٹھتے ہوئے بولی ” میں تو تمھیں ایک مدت سے اپنے آبائی وطن کے بارے میں بتاتی آئی ہوں لیکن تمھیں کبھی غور کرنے کی فرصت ہی نہیں ملی ” ۔

 اسی دوران انکے آفس سے باہر راہداریوں میں اچانک ، مدھم اور کبھی اونچی آوازوں کے شور سے دونوں  تھوڑا حیران تو ہوئے مگر پریشان ہوئے بغیر اپنی بحث میں الجھتے چلے گئے۔ ” اور ہاں! یہاں ایسی کوئی دہشت گردی نہیں ہوتی جیسا ہر وقت مغربی میڈیا ہائی لائٹ کر کے پیش کرتا رہتا ہے۔۔ پاکستانی وسائل میں کسی سے کم نہیں اگر مسئلہ ہے تو محض نا اہل قیادت کا، ویسے بھی ہر معاشرے کی اپنی اقدار ہوتی ہیں اور کسی دوسرے کو۔۔۔۔۔”۔ اسی اثناء میں پھر شور سنائی دیا ۔

 مائک کی طرف دیکھتے ہوئے وہ خود ہی اپنی بات کاٹ کر راہداری میں دوبارہ قدموں کی تیز چاپ سے ٹھٹھکنے لگی، جب یہ آوازیں دوبارہ مدھم پڑ گئیں تو اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بولی،” دوسری اقوام اور مذہب کے بارے میں ریسرچ کیے بنا منفی اندازے لگانا بہت آسان کام ہے۔ ان کے خلاف مضحکہ خیز کارٹونز، نفرت انگیز ویڈیوز اور سٹوپڈ فیس بک پروپگنڈہ کچھ بھی ممکن ہے مگر حقیقت جاننے کی کھوج شاید ہی کوئی کرتا ہے "۔

 یہ سن کر کر مائک تھوڑا جھنجھلاتے ہوئے بولا "اوہ کم آن زیبی! پلیز اب اپنے اباؤ اجداد  کی قدامت پسند روایتوں پر مجھے بورنگ لیکچر دینے مت بیٹھ جانا ۔ تم جیسی خوبصورت لبرل لڑکی کے منہ سے یہ  سب باتیں بالکل اچھی نہیں لگتیں، ہم لوگ تمھاری طرح شدت پسند مذہبی جنونی نہیں ہیں، دیکھا نہیں ہماری ثقافت میں کیری کیچرنگ کتنا اہم  اور مارکیٹ بھی ہوتا ہے۔۔ اس سے کسی کی شان میں کوئی گستاخی نہیں ہوتی بلکہ یہ تو صرف  ایک طرح کا ٹریبوٹ ہوتا ہے بس”

 یہ سن کر ایک لمحے کے لئے زیب کا رنگ متغیر ہوا مگر وہ کمال ضبط سے چھپا گئی اور پرسکون لہجے میں بولی ، ” ہاں میں ہوں لبرل، مگر اس کا یہ مطلب  صرف روشن خیال ہونا ہے ناکہ خود کو ہر قسم کی  معاشرتی اور سماجی حدود قیود سے  مکمل آزاد سمجھنا۔  جسے تم جنون کا نام دیتے ہو وہ میرے خیال میں بہت اہم تمدنی اور انسانی اقدار ہیں بالکل ایسے جیسے کچن میں کوئی نہا نہیں سکتا، باتھ روم میں سو نہیں سکتا اور دو لیٹر پٹرول کو نوری سال کے فاصلے پر ناپ نہیں سکتا ویسے ہی کسی بھی مذہبی شخصیت کے کارٹون بنانا یا کسی قوم کے جذبات سے کھیلنا  قطعاً مناسب نہیں خواہ اسکا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو” ۔

 اب انہیں اپنی پشت پر بے ہنگم آوازیں باقاعدہ شور میں ڈھلتی محسوس ہونے لگیں ۔ جیسے کہیں کوئی جلسہ ہو رہا ہو ۔ وہ دونوں حیرت سے شور کی سمت ادھر دیکھنے لگے۔ شیشے کی دیوار کے پارکچھ عجیب سا منظر دکھائی دے رہا تھا۔

کمپنی کے کچھ لوگ دائرہ نما گھیرا بنائے ہاتھ ہلا ہلا کر چیختے چلاتے اپنی جگہ پر یوں استادہ تھے جیسے بہت گہرائی تک مٹی میں جڑیں گاڑے ہوئے درخت آندھیوں میں ڈولنے کے باوجود اپنی جگہ نہیں چھوڑتے۔ ان کے درمیان ایک نحیف نزار وجود بڑی مشکل سے ایک جگہ جمے رہنے کی کوشش میں مصروف تھا ،جیسے ایک قدم بھی آگے پیچھے بڑھایا تو بارودی سرنگیں پھٹ جائیں گی ۔ زیب نے مائک کو وہیں بیٹھے رہنے کا اشارہ کیا اور خود تیزی سے باہر نکل گئی لیکن وہ بھی اس کے پیچھے ہی چلا آیا۔ وہاں پہنچ کر دیکھا تو ہیڈ کلرک احمد مرزا کو ایک بپھرے ہوئے ہجوم کے نرغے میں گھرے تھر تھر کانپتے پایا۔ وہ دونوں اس بوڑھے کو ابھی تک نام اور جاب ٹائٹل کے علاوہ اچھی طرح نہیں جانتے تھے ماسوائے دن میں اکثر اسے پابندی سے آفس کےکونے میں نماز پڑھتے دیکھنا معمول تھا۔۔ اس ہجوم کا ایک بڑا حصہ اس کو کافر ثابت کرنے پر تلا ہوا تھا۔ مائک اس صورتحال کو سمجھنے سے بالکل قاصر تھا مگر احمد مرزا کی جان کنی والی حالت اور ہجوم کے سروں پہ ناچتی ہوئی وحشت نے زیب کو لرزا کے رکھ دیا۔ کانوں میں پڑتے کچھ جملے سن کر وہ بہت خوفزدہ ہو گئی۔ ہزاروں اخباری خبریں اورمتشدد ویڈیوز اسکی نظروں میں گھوم رہے تھے۔اس کا دل دھڑکنے لگا کہ اب یہاں بھی ایسا ہی کچھ ہو کر رہے گا ۔ اکثریت کا کہنا تھا کہ ” اس ملعون  نے قرآن کی توہین کی ہے اور اسے ہرگز معاف نہیں کیا جا سکتا۔ "

ان کے سامنے ہی حمید اور جمال صاحب ابھی ابھی کسی کلائنٹ میٹنگ کے بعد آفس میں داخل ہوئے تھے اور پورے معاملے سے مکمل بےخبر تھے۔ دو چار جملے ادھر ادھر سے سن کر جمال صاحب آگے بڑھے اور ایک زناٹے دار تھپڑ احمد مرزا کے منہ پر دے مارا اور ساتھ ہی حمید صاحب گندی گالی دے کر بولے۔ "تیری یہ مجال۔۔۔۔۔۔! سالے حرامی، شیطان کے نطفے! میں تو پہلے ہی خلاف تھا کہ کسی  قادیانی  کو آفس میں جگہ نہ دی جائے ۔ یہ ہم میں سے نہیں اور نا کبھی ایسا ہونے دیں گے، قابل نفرت لوگ” آخ تھو۔۔! ان کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں”

یہ سن کر چپڑاسی آگے بڑھا اور پلید کہ کراس نے بھی احمد مرزا کے منہ پر تھوک دیا ۔ اپنی ذلت اور موت کےخوف سے احمد مرزا کی رنگت سپید پڑ چکی تھی۔ الٹے ہاتھ کی پشت سے منہ پر گرے تھوک کو صاف کیا اور پپڑی جمے سفید ہونٹوں کو بار بار زبان سے گیلا کر کے کچھ کہنے کی ناکام کوشش میں ایک اور تھپڑ کھا کر لڑکھڑاتے ہوئے زمین پر گر گیا ۔ خون کے ساتھ ساتھ اس کے منہ سے نکلنے والے بے معنی الفاظ ٹوٹی پھوٹی کرچیوں کی طرح یہاں وہاں گر کر اپنی وقعت کھوتے جا رہے تھے۔ وہ بےبسی کے ساتھ ایک ایک ساتھی کو امید بھری نظروں سے دیکھ کراپنی صفائی دینے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ بھیڑ تھی کہ  لمحہ لمحہ بڑھتی ہی جا رہی تھی اور اسی رفتار سے نفرت کی شدت بھی۔۔۔۔ اچانک ایک کونے سے آواز آئی

 "اس گستاخ کو جلا دو۔ مار دو۔۔۔۔۔۔۔اس نے ہماری مقدس کتاب کی بے حرمتی کی ہے”

اس کے ساتھ ہی اس پر لاتوں اور گھونسوں کی بارش ہونے لگی۔ زیادہ تر لوگ اس کی موت والے حکم نامے پر تیزی سے مہریں لگاتے یوں مختلف فتوے جاری کر نے لگے جیسے دھڑادھڑ اخباری کاپیاں پرنٹ ہو رہی ہوں جبکہ پاس ہی کچھ لوگ دبی دبی زبان سے اس فیصلے کی مذمت کر رہے تھے لیکن انکی آوازیں اتنی پست اور ڈری ہوئی تھیں کہ شاید وہ خود بھی ٹھیک سے اپنا احتجاج سن نہیں سکتے تھے۔
اس سے پہلے کہ یہ مار پیٹ جاری رہتی مائک نے دونوں ہاتھ ہوا میں اٹھا کر زور سے چیختے ہوئے کسی کمانڈر کی طرح ” اسٹاپ دس نان سینس ” کہا تو وہاں ایک دم سب کے جنون کو سانپ سونگھ گیا ۔ نعرے لگاتے ہاتھ ہوا میں اٹھے رہ گئے، زبانیں گنگ ہو گئیں اور نظریں ان دونوں پر آ ٹکیں ۔ چھبیس سالہ مائک سپر پاور کی طرح کمر پر دونوں ہاتھ جمائے اور لب بھینچے ان کو گھور رہا تھا۔ مغلیہ شہزادیوں جیسا حسن اور نزاکت رکھنے والی نرم خو سی زیب کے چہرے پر بھی اس وقت ایک پتھریلی سختی اور قطعیت چھائی ہوئی تھی ۔ اس نے مائک کو صورت حال سمجھاتے ہوئے خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور باقی سب سے پوچھا "اتنا بڑا فیصلہ لینے سے پہلے کسی نے پولیس کو کال کی؟ کوئی  ہمیں بھی بتانا پسند کرے گا کہ ہوا کیا ہے ؟” اس پر آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کا انچارج صمد ذرا آگے بڑھا اور بولا ۔” اس مردود نے ہمارے عقائد  کا مذاق اڑایا ہے ۔ میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا اس نے ہماری  مقدس کتاب کو زمین پر پھینکا ہوا تھا ، جس میں سے کچھ صفحے کاپی کرنے کے لئے بڑے صاحب نے اسے دیے تھے۔ یہ کافر، جہنمی ہے ہم اس کو ہرگز زندہ نہیں چھوڑیں گے۔” اکثریت نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی ۔ یہ سن کر احمد مرزا نے گڑگڑاتے ہوئے ان کو بتانے کی کوشش کی "نہیں نہیں میں نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا۔ مجھے اپنے بیٹے کی قسم ، اچانک ٹھوکر لگی اور میرے ہاتھ سے کتاب چھوٹ گئی۔ میں تو ایسی گستاخی کا سوچ بھی نہیں سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ کتاب میرے لئے بھی اتنی ہی مقدس ہے اور”۔

 "جھوٹا شیطان” صمد اس کی بات کاٹتے ہوئے نفرت سے دھاڑا اور زمین پر گرے ہوئے بوڑھے کمزور وجود پر بھاری بوٹ کی زوردار ضرب لگائی جس کا درد زیب کو اپنی پسلیوں میں بھی شدت سے محسوس ہوا ۔ احمد مرزا کا جسم تکلیف سے بل کھا کر دوہرا ہو گیا ۔ ایڈمن  نوشاد اور کینٹین والا رحمت آہستہ آہستہ سب کی منت سماجت کرتے ہوئے اس معاملے کو سلجھانے کی کوشش میں لگے تھے مگر کفر کے فتوے سے ڈرتے ہوئے سر عام کچھ  بولنے کی جرآت نہ رکھتے تھے۔

زیب بھی جانتی تھی اس وقت مشتعل ہجوم کی ہاں میں ناں ملانا کتنا خطرناک  ہو سکتا تھا ۔ اسی اثناء میں چھٹی کا وقت ہو گیا اور روز کی طرح احمد مرزا کا بیٹا سلمان ان کو آفس سے لینے کے لئے آن پہنچا۔ ہجوم نے اس کو بھی گھیر لیا۔ اب باپ بیٹا دونوں خطرے میں تھے۔ صورت حال گھمبیر ہوتی جا رہی تھی۔ وہ تیزی سے اس مسئلے کا کوئی منطقی حل سوچنے لگی۔ اچانک جیسے اسے کچھ یاد آیا ” اس آفس کے مین ڈور پر کیمرہ لگا ہے اور پرنٹر والی جگہ اس میں نظر آتی ہے۔ کل میں نے آئی ٹی آفس میں وہ منظر دیکھا تھا”۔ بات کرتے کرتے وہ غیرمحسوس طریقے سے احمد مرزا اور ہجوم کے عین درمیان ڈھال بن کر کھڑی ہو گئی۔ "ہمیں  کسی بھی بڑے قدم سے پہلے شہادت اور ثبوت چاہیئے، ویسے بھی کسی نہتے شریف شہری کی بلاوجہ جان لینا انتہائی مکروہ فعل ہے۔ بھلے آپ اسے مسلمان سمجھتے ہوں یا نہیں، وہ بہرحال ایک انسان تو ہے اور انسانیت کی قیمت دنیا میں ہر چیز سے زیادہ ہے”

 سب کو ناچاہتے ہوئے بھی اتفاق کرنا پڑا اور چیک کرنے پر احمد مرزا بے گناہ ثابت ہو گئے ۔ وہ اچانک پرنٹر سے ٹھوکر کھا کر لڑکھڑائے تو اتفاقاً یہ مقدس کتاب انکے ہاتھ سے چھوٹ گئی تھی اور بدقسمتی سے اسی لمحے صمد نے انہیں دیکھا تھا ۔ ان کو بے گناہ ثابت ہوتے دیکھ کر ان لوگوں نے سکون کی سانس لی جو خون خرابے کو پسند نہیں کرتے تھے مگر خود اپنی جان جانے کا خطرہ انہیں چپ رہنے پر مجبور کر رہا تھا۔  کچھ لوگوں کے منہ البتہ  بری طرح لٹک گئے۔ انہیں زیب کی اس  تجویز پر بہت غصہ آیا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ ایک کافر کو جہنم واصل کرکے ستر حوروں والی جنت حاصل کرنے سے محروم رہ گئے تھے اور اسلام کی بہترین خدمت کا موقع بھی ہاتھ سے نکل گیا تھا۔

دن تیزی سے گزرنے لگے۔ زیب اور مائک  تو جیسے سب کی آنکھ کا تارہ بن چکے تھے ۔ کمپنی میں کوئی بھی ان کی کسی بات کو رد کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ سب ہی ان کی نسلی اور مذہبی تعصبات سے یکسر پاک انسان دوستی کے گرویدہ تھے۔ اس کے باوجود ایک دن زیب کی جان ہی تو نکل گئی جب اچانک آئی ٹی والے صمد کو مائک کے کمپیوٹر میں کچھ انسٹال کرنے کے لئے آتے دیکھا۔ جہاں وہ اپنی ازلی لاپرواہی کی وجہ سے مذہبی کارٹون والا صفحہ کھلا چھوڑ کر واش روم چلا گیا تھا۔ زیب کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ اسے لگا ابھی صمد چیخ چیخ کر سب کمپنی والوں کو بلا کر مائک کا قتل کروا دے گا۔ ایسے ہی جیسےاحمد مرزا کے خلاف سب کو اکسا رہا تھا۔ اس نے اپنے دھڑکتے دل پر ہاتھ رکھا مگر یہ دیکھ کر دنگ رہ گئی کہ صمد نے اس پروگرام کو چھیڑے بغیر بڑے آرام سے اپنا سوفٹ وئیر انسٹال کیا اور مائک کو آتے دیکھ کر مسکرانے لگا، اپنی فائل اس کے حوالے کرتے ہوئے بولا ” اس میں میرے سی وی سمیت تمام تفصیل موجود ہے سر، میں آپکا احسان کبھی نہیں بھولوں گا۔ اس کمپنی کو بھی ریفرینس لیٹر بھیج چکا ہوں۔ امید ہے! آپ کی مہربانی سے جلد ہی امریکہ سے جاب کی کال آئے گی”۔ ” شیور شیور وائے ناٹ مائی بوائے۔ ” مائک نے مسکراتے ہوئے اسکا کندھا تھپتھپایا تو صمد اس کی جانب پشت کئے بنا سر جھکائے الٹے قدموں چلتا ہوا آفس سے باہر نکل گیا۔

احمد مرزا پر زیب اور مائک کے خاص التفات کی بارش ہونے لگی اور باقی عملہ حیرت سے دیکھنے لگا۔ وہ دونوں لنچ ٹائم میں ان کی میز پر آ بیٹھنے ۔ ان کے لئے بھی کھانا منگواتے ۔ خود بھی ہنستے اور ان کو بھی چٹکلے سناتے ۔ کچھ دنوں بعد ان کی دیکھا دیکھی باقی سب کا سلوک بھی احمد مرزا کے ساتھ بہتر ہونے لگا۔ لوگوں نے ان سے نفرت کرنی چھوڑ دی بلکہ انکی میز توالٹا ایک میٹنگ پوانٹ بن گئی جہاں اکثر باقی سب بھی لنچ ٹائم میں جمع ہو کر گپ شپ کرنے لگے ۔ احمد مرزا کا بیٹا سلمان جو قریبی آفس میں کام کرتا تھا وہ روزنہ اپنے باپ کو چھوڑنے اور لینے کے لئے اکثرآفس کے اندر تک آ جاتا۔ دنیا میں بس ایک بوڑھا باپ ہی تو اس کا واحد رشتہ بچا تھا ۔ بہن بھائی تھے نہیں اورماں تو بچپن میں ہی مر گئی تھی۔ وہ بھی اب دونوں وقت دس پندرہ منٹ کے لئے آفس کے اندر آنے لگا اور ان دونوں سے خصوصاً سلام دعا ضرور کرتا کیونکہ وہ ان کا  احسان مند ہی نہیں بلکہ ان کے خیالات سے بہت متاثر بھی تھا۔

یہ دونوں بھی اکثر شام میں احمد مرزا کے گھر چلے جاتے اور باپ بیٹے کے ہاتھوں پکے پاکستانی کھانے کھا کر خوش ہوتے۔ بعض اوقات انہیں اپنے ساتھ گاڑی میں بٹھاتے اور کسی ہوٹل یا پارک میں چلے جاتے۔ ایک دن انہیں شاپنگ کروانے کے لئے ایک مشہور مذہبی اسکالر کی بوتیک پر لے گئے ۔ جس کو دیکھتے ہی باپ بیٹے نے یہ کہتے ہوئے اس کے اندر جانے سے صاف انکار کر دیا  ” ارے۔۔۔یہ آپ ہمیں کہاں لے آئے ہیں ۔۔۔۔ آپ کے پاس تو ڈالر ہیں مگرہم سے سفید پوش یہاں شاپنگ کا تصور بھی نہیں  کرسکتے ۔ ایک معمولی لباس خریدنے میں شاید آدھی تنخواہ چلی جائے گی اورہماری اتنی استطاعت کہاں ” یہ سن کر وہ لوگ انہیں زبردستی اندر لے گئے، تحفے کے طور پر اپنی طرف سے ان دونوں کو کچھ کپڑے دلائے اور خود اپنے لئے بھی خریدے ۔ اس دوران سلمان مسلسل زیب کا سایہ بنا بالکل قریب کھڑا اس کے لئے کپڑے پسند کرنے میں اپنی رائے دیتا رہا۔ کچھ دنوں سے مائک بھی محسوس کرنے لگا تھا کہ سلمان ہر وقت بہانے بہانے سے زیبی کے گرد منڈلاتا رہتا ہے ۔ وہ بات بھلے مائک سےکر رہا ہو مگر نظریں ہمیشہ زیبی کے خوبصورت چہرے کا احاطہ کیے رہتی ہیں۔ اس کو یہ بات اچھی نہیں لگی تھی اس لئے وہ اس فیملی سے تھوڑا پیچھے ہٹنے لگا۔ آج بھی احمد مرزا نے انہیں خاص طور پرکھانے کے لئے بلایا تھا مگر مائک جانے سے کترا رہا تھا۔  زیبی کو نہ جانے کی وجہ سمجھانے کی کوشش کی تو پہلے وہ بہت حیران ہوئی پھرسختی سے نفی میں سر ہلاتے ہوئے غصے سے بولی ۔” وٹ ربش۔۔!  آر یو آؤٹ آف یور مائنڈ؟ ہاؤ کڈ یو ایون تھنک دیٹ؟  تم سب مرد ، عورت کے معاملے میں ایک سے شکی اور جھکی ہوتے ہو بھلے خود کو جتنا بھی لبرل ظاہر کرو یا کسی بھی ملک سے تعلق رکھو۔ ایسا کچھ نہیں ہے جیسا تم سوچ رہے ہو۔ وہ اکیلے ہیں اور انہوں نے ہمارے لئے اس بڑھاپے میں اتنی محنت سے کھانا بنایا ہے”  پیر پٹختی ہوئی  باہرنکلی  اور ڈرایئور کے ساتھ اکیلی ہی احمد مرزا کے گھر چلی گئی ۔

ان کے وآپس امریکہ جانے میں چند ہی دن باقی رہ گئے تھے ۔ آج صبح سے مسلسل تیز بارش ہو رہی تھی ۔ زیب اور مائک ایک ہی بلڈنگ کے دو الگ الگ اپارٹمنٹس میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ سلمان کی وجہ سے مائک کی ناراضی کافی بڑھ گئی تھی اسی لئے زیب حقیقت بتانے اس کے اپارٹمنٹ میں چلی آئی ۔ وہ بے رخی سے بیٹھا کتاب پڑھتا رہا جبکہ زیبی اسے منانے کی تمام کوششوں میں ناکام ہونے کے بعد اب دیوار پر لگی ایک پینٹنگ کا جائزہ لینے میں مصروف ہو گئی۔ جہاں ایک صاف شفاف ندی بہ رہی تھی۔ جسکے کناروں پر تاحد نظر خوبصوت رنگ برنگے پھول کھلے ہوئے تھے ۔ تصویر اتنی حقیقی اور جاندار تھی کہ پھولوں کی بھینی بھینی مہک اسکی روح کو سرشار کر گئی اور بہتے پانی کی دل نشیں موسیقی کچھ سوئے ہوئے احساسات کو جگانے لگی ۔ ندی کے اندر کچھ کمزور جڑوں والے پھول دار پودے تیز پانی کے بہاؤ کے ساتھ اپنی جڑوں سمیت بہتے جا رہے تھے ۔ وہ بھی اسی ندی کے ساتھ ساتھ بہتی کچھ سال پیچھے چلی گئی۔ جب ان کے رشتے میں سے بچپن نکل کر جوانی در آئی تھی۔ اس دن اپنی سالگرہ کے موقعے پر اس نے مائک کا دیا لباس زیب تن کیا تھا اور وہ دونوں ایسی ہی ایک ندی کے کنارے اپنی فیملی کے ساتھ پکنک منا رہے تھے ۔ زیب بہتے ہوئے چھوٹے چھوٹے پودوں کو غور سے دیکھنے کے لئے پوری طرح ندی پر جھکی ہوئی تھی جو تیزی سے اس کی نظروں کے سامنے ماضی بنے گزرتے جا رہے تھے ۔ مائک نے سہارا دینے کو اسکا نرم ونازک ہاتھ تھام رکھا تھا اور دوستی کو محبت کے تعلق میں بدلنے پر مصر تھا۔ وہ اسے ہر قسم کا یقین دلا رہا تھا۔ اس نے یہ بھی تو کہا تھا ” پرانی فضول رسموں کو چھوڑ دو ، وقت کے اگر ساتھ انسانی ذہن میں تبدیلی نہ آئے تو کھڑے پانی کی طرح بدبو دار ہو جاتا ہے۔ وہ سب کچھ سمجھ تو رہی تھی لیکن بار بار پچھے مڑ کر دیکھتی جہاں سے پودوں کی پنیریاں اگتی ہیں اور ان کی جڑیں نمو پاتی ہیں۔ یہ جڑیں بڑی مضبوط اور گہری ہوتی ہیں۔ ہوا کتنی بھی تیز ہو جائے ان کو ہلانے سے قاصررہتی ہے۔ اس کی محبت سے واقف ہو کر بھی ہیشہ انجان بنی رہتی اورہمیشہ اسے  لگتا کہ جیسے بہت تیز دوڑ کر بھی مائک کے خیالات تک نہیں   پہنچ  سکے گی۔

 اس وقت بھی وہ ماضی کے خیالوں میں اتنی ڈوبی ہوئی تھی کہ مائک کا ہاتھ اپنے کندھے پر محسوس کر کے خوف سے اچھل پڑی۔ مڑ کر دیکھا تو ایسا لگا وہ آج پھر ایک بار اسی وقت کی ندی کے کنارے آ کھڑی ہوئی ہے اور جڑوں والے لمحوں کوپھر سے ندی میں بہتے دیکھ رہی ہے ۔ وہ مسکرا رہا تھا، اسے الجھن ہونے لگی، پلٹ کر ایک تکیہ اٹھایا اور اس کے سر پر دے مارا۔ پھر وہ دونوں ہی اس تصویر میں کھو گئے اور کمزور جڑوں والے پودوں کی طرح خود بھی ندی میں بہنے لگے مگر ہر بار کی طرح مضبوط جڑوں نے اسے پھر پیچھے کھینچ لیا تھا۔

کافی دیر بعد جب وہ کھوئی کھوئی سی جوتے کے بکل بند کرتے ہوئے جانے لگی تو مائک  پر نظر پڑی ۔ وہ  دور صوفے کے کنارے کچھ الجھا الجھا سر جھکائے بیٹھا تھا۔   زیب نے  دیوار پر آویزاں تصویر اور قدرے مایوسی سے  بیٹھے مائک پرایک اداسی بھری نگاہ ڈالی اور بائےبائے کہتے ہوئے اپارٹمنٹ سے باہر نکل گئی۔

 واپس جانے سے پہلے اسے بہت سے اہم کام نمٹانے تھے اور آج چھٹی کا آخری دن تھا۔ جلدی جلدی  شاور  لینے کے بعد وہی لباس پہنا جو اس دن بوتیک سے خریدا تھا اور ڈرائیور کے ساتھ احمد مرزا کے گھر انہیں الوداع کہنے چلی گئی ۔ وہ باپ بیٹا اسے دیکھتے ہی پھولوں کی طرح کھل اٹھے۔ سلمان کو تو جیسے دو جہاں کی دولت مل گئی۔ زیب کی فرمائش پر وہ سب بارش انجوائے کرنے کے لئے برآمدے ہی میں بیٹھ گئے جس کے سامنے چھوٹے سے لان میں ڈھیروں رنگ برنگے پھول رم جھم برستی بارش میں اٹکھیلیاں کر رہے تھے ۔۔ برآمدے کے کونے میں بہت سے گملے پڑے تھے۔ جہاں زمین پر بہت سے خوبصورت پھول جڑوں سمیت باہر نکلے پڑے تھے۔ شاید ان کو ابھی کیاریوں میں لگایا جانا باقی تھا مگر بارش کی وجہ سے یہ کام ادھورا رہ گیا ۔ ان بھیانک جڑوں کو دیکھ کر زیب کے چہرے پر ناگواری کا سایہ لہرایا اور وہ سوچنے لگی” سارے پھول اوپر سے کتنے حسین، دلکش اور نرم و نازک ہوتے ہیں مگر شاید صرف وہی مضبوطی سے زمین میں گڑے رہ سکتے ہیں  جنکی جڑیں زیادہ سیاہ ، سخت ، بھیانک اور کریہہ صورت ہوتی ہیں ” اسی وقت سلمان چائے بنا کر لے آیا جسے شکریہ کہ کر زیب نے قبول کیا۔

سلمان اس کے حسن اور خوبصورت لباس میں کھویا ہوا تھا جو زیب نے اسی کی پسند سے خریدا تھا۔ بارش کے موسم میں ہزاروں امنگیں اس کے دل میں کروٹیں لینے لگیں۔ وہ خود بھی زیب کے لفظوں کی بارش میں بھیگتا جا رہا تھا ۔ جو اس کے بابا سے کہ رہی تھی ” ہم تو اب جانے والے ہیں۔ آپ اپنا خیال رکھیے گا۔ میں سمجھتی ہوں کہ کسی بھی قسم کا نسلی اور مذہبی تعصب ،انسانیت کی تذلیل ہے اور میں اس غیر انسانی رویہ کی ہمیشہ مذمت کرتی رہی ہوں اور کرتی رہوں گی لیکن ساتھ ساتھ آپ سے بھی ایک گزارش کرنا چاہوں گی ۔ جیسے  آپ کو اچھا نہیں لگتا کہ آپکے ساتھ ناروا سلوک کیا جائے ،ویسے ہی آپ بھی دوسروں کے جذبات اور ان کی شدت سمجھنے کی کوشش کریں ۔ جب ان کے بنیادی عقائد پر چوٹ پڑے گی تو وہ بھی احتجاج  ضرور کریں گے یہ ان کا بھی حق ہے۔ میں سمجھتی ہوں اس مسئلہ کو عوام کی بجائے حکومتی سطح پر حل ہونا چاہیئے اور امید کرتی ہوں جلد ہی آپکے علما اس معاملے میں باقی سب  لوگوں  سے مناضرے اور اجتہاد وغیرہ کر کےکسی ایسے حتمی نتیجے پر ضرور پہنچیں گے جہاں فریقین کو ایک دوسرے سے نفرت محسوس نا ہواور اپنے اپنے عقائد کا پاس بھی رہے۔ امید ہے آپکو آفس میں اب کبھی کوئی  پریشان نہیں کرے گا۔ ہم سب انسان ہیں اور ایک دوسرے کے لئے بہت  قابل احترام ،  اسی لئے میں کسی قسم کی فرقہ واریت پر یقین نہیں رکھتی ۔ ہم سب ایک دوسرے کے ساتھی ہیں اور بس یہی سب سے بڑی حقیقت۔ اس کے علاوہ کچھ بھی سچ نہیں، ہم میں سے کوئی کسی سے کمتر یا برتر نہیں "

یہ سن کر احمد مرزا کی آںکھیں بھر آئیں۔ یہ لڑکی، ان باپ بیٹے کو چند مہینوں میں دل و جان سے زیادہ عزیز ہو چکی تھی ۔ کیسی پھولوں جیسی من موہنی سی گڑیا ،انسانیت کی علم بردار اور فرشتوں جیسا دل رکھنے والی دلربا گڑیا سی، جس نے انکی پوری زندگی کو سکون سے بھر دیا تھا ۔ جو کسی مذہب اور فرقے کو اہمیت نہیں دیتی تھی صرف انسانیت کی علم بردار تھی۔ وہ اسے ہمیشہ کے لئے اپنے گھر لے آنا چاہتے تھے۔ خود زیب کی ان لوگوں سے دلچسسپی کوئی ڈھکی چھپی بات تو نہ تھی ۔ اس کا ان لوگوں کی اتنی مدد کرنا ، اکثر ان کے گھر آجانا۔  کبھی ان کے ساتھ گھر کے کام بھی کروانا اور سلمان کے ساتھ مسکرا  کر باتیں کرنا۔  یہ سب  کچھ یوں ہی تو نہیں ہو سکتا ، کچھ تو مطلب رکھتا  ہو گا۔

” بیٹا ، تم کب ہمیشہ کے لئے ہمارے ساتھ اس گھر میں رہنے آؤ گی؟” احمد مرزا نے اس کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرتے ہو ئے پوچھا۔ ” میں آپ کے گھر میں ہمیشہ رہنے کیسے آ سکتی ہوں ۔ میری تو پرسوں فلائٹ ہے” وہ مسکراتے ہوئے  حیرت سے بولی ۔” تو واپس کب آؤ گی۔ میرے سلمان کی دلہن بن کر ہمیشہ کے لئے یہاں ہمارے ساتھ رہنے؟”
جی۔۔۔۔۔۔۔۔!ارے!۔ یہ کیسا عجیب سا مذاق ہے انکل ؟ وہ کچھ ناسمجھی ، زیادہ حیرت سے ان کو دیکھتے ہوئے کھڑی ہو گئی ۔
” مذاق !” احمد مرزا کے چہرے پر مردنی سی چھا گئی اور آواز کسی گہرے کنوئیں سے آتی محسوس ہوئی ۔ "میں مذاق نہیں کر رہا بلکہ تمھاری اور سلمان کی شادی کی بات کر رہا ہوں ۔ میری اور سلمان کی دلی خواہش ہے کہ تم اس گھر کی بہو بن جاؤ اور جہاں تک میں سمجھا ہوں تمھاری بھی تو یہی مرضی ہے۔”

"میری مرضی ؟  ارے۔۔۔۔۔۔ آپ اپنے حواس میں تو ہیں ۔۔۔! انسانی ہمدردی کا مطلب شادی کرنا کب سے ہو گیا” ہزاروں سلوٹیں اس کے ماتھے کے ساتھ ساتھ لہجے میں بھی اتر آئیں اور وہ خفگی سے جانے کے مڑتے ہوئے بولی۔ "مجھےبہت دکھ ہو رہا ہے کہ آپ نے ایسی ناممکن بات سوچی بھی تو کیونکر ؟ یہ تو  ہو ہی نہیں سکتا، ممکن ہی نہیں "

"یہ ممکن ہی نہیں، مگر آخر کیوں ممکن نہیں؟ اس میں ایسی کیا انہونی ہے؟”  ان کا اس پر کیا گیا سارا مان اور یقین اپنی بے توقیری پر بین کرتا ہوا کراہنے لگا۔

کیونکہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں شادی صرف  کسی مسلمان سے کروں گی”

———————————————————————————————————–

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

دروازہ …محمد جاوید انور

دروازہ محمد جاوید انور "کہہ دیا نا میں نے لکھنا چھوڑ دیا ہے۔” اس کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے