سر ورق / افسانہ / قرن ہا قرن … محمدزبیرمظہرپنوار

قرن ہا قرن … محمدزبیرمظہرپنوار

قرن ہا قرن تحریر

محمدزبیرمظہرپنوار

صور اسرافیل پھونکا جا چکا تھا ۔ خوف ڈر وحشت درندگی کی بھلے اس سے ابتر صورتحال کیا ہو سکتی تھی جو برپا ہو چکی تھی ۔ منٹوں سیکنڈوں میں مٹی سے جڑے انسان نے اپنی اساس کی پرواہ کیے بغیر مٹی کے اوپر لاکھوں فٹ بلندی پہ موجود جسے وہ کل تک دھرتی کی چھت اور نعمت کہا کرتا تھا اسے بھی بیگناہ برباد کر دیا تھا ۔۔ آسمان رو رہا تھا ۔ ہر طرف راکھ اڑ رہی تھی ۔ سورج چاند ستارے چھپ گئے تھے یا پھر کسی اور جگہہ جا کر پناہ گزین ہو گئے تھے کسی کو معلوم نہ تھا ۔ سوائے اسکے کہ یقینا کسی بھی ذی روح یا زرے نے انہیں پھر کبھی نہ دیکھا ۔ انسانی جبلت درندگی اور وحشت نے سمندر کے پانیوں کو اتنا منتشر کر دیا کہ سمندر کا پانی قوم یاجوج وماجوج کی طرح حملہ آور ہوا ۔ غلطی کرنے بعد آخری مہلت کے طور پر انسان نے کم سے کم ایک بار ضرور چاہا تھا کہ کاش کوئی ذوالقرنین آ کر دیوار بنائے یا بند باندھے ۔ مگر کوئی ذوالقرنین نہ آیا ۔ ہر ایک نے اپنے اپنے رب کو بھی پکارا مگر خدا نہ آیا اور آتا بھی کیوں ؟ ۔ وہ کونسا زمین زادہ تھا ۔ویسے بھی آخری نقارہ انسان نے خود بجایا تھا ۔ پہاڑوں کا توازن بھی بغاوت پہ اتر چکا تھا ۔ پہاڑ بولے جنکی وجہ سے ہم تھے جب انکو ہی حوش نہیں حواس نہیں تو ہمارے وجود کا فائدہ کیا ۔ خیر سمندر اور پہاڑوں نے ملکر انسان سے پرانے حساب چکتا کیے ۔ اب آسمان کی باری تھی ۔ سورج چاند ستارے تو پہلے ہی راہ فرار اختیار کر چکے تھے اب ہر طرف تباہی کا منظر تھا ۔ آسمان مطلب انسان کی چھت کا رنگ نیلگوں نہیں تھا اور نہ ہی سفید بادل تھے ۔ اگر وہاں کچھ موجود تھا تو صرف ابابیلیں ۔ جو اپنی چونچوں میں آگ کے سرخ گولے لیے برسا رہی تھیں ۔ چند منٹ پہلے جو آنکھیں خواب بن رہی تھیں ۔ وہ جو بسوں جہازوں پہ اپنی اپنی منزلوں یا گھروں کی طرف نکلے ہوئے تھے ۔ وہ بھی جو نوکریوں کی تلاش میں نکلے تھے۔ وہ جو کھیتوں میں جدید مشینوں سے ہل جوت کر انسان کی خوراک کا بندوبست کر رہے تھے ۔ ہاں ہاں وہ بھی جو سائینسی علوم کی روشنی میں انسانی بیماریوں کا علاج ڈھونڈ کر نام نہاد مسیحائی کے رتبے پہ فائز تھے۔ اور باقی بچے کھچے وہ لوگ جو زمین پہ رہتے ہوئے خسارے والے انسان کی معراج کی تلاش میں مگن تھے ۔ سب کے سب مارے گئے ۔ خواب امیدیں منزلیں حاصل حصول سب کچھ مٹ گیا۔ قیامت کا تو ہر ایک قوم نے سن رکھا تھا اور مختلف نظریات بھی سب کے ہاں پائے جاتے تھے ۔ مگر قیامت کس نے دیکھی ؟ کسی نے نہیں ۔ لیکن مجھے اس وقت یہی لگا کہ شاید یہ بربادی قیامت ہی ہے ۔ چولستانی ریت جس کی چمک سونے کی طرح سنہری ہوا کرتی تھی ۔ اسکی چمک میری آنکھوں کی راحت تھی ۔ مگر آج اسکا بھی کوئی رنگ تھا اور نہ ہی اس میں انسیت باقی رہی تھی ۔ خیر میں چولستان کے ماند پڑے سونے پہ لیٹا ہوا تھا باوجود اسکے کہ دل دہلا دینے والی تاریکی خوف ڈر اور وحشت روئے زمین پہ پھیلی ہوئی تھی ۔ میں سکون سے آنکھیں بند کیے موت کا انتظار کر رہا تھا ۔ جب میری آنکھ کھلی تو مارے حیرت کے میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔ کیا دیکھتا ہوں وہی چولستاتی سنہری ریت حد نگاہ اپنا جوبن لیے ہوئے پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہی تھی ۔ اپنے گردن کو اوپر آسمان کی طرف اٹھایا تو مزید حیرانی نے میرے اندر تجسس اور گمانوں کے کئی زمانے پیدا کیے ۔ ایسے زمانے جو ماضی میں دوران مطالعہ زمین پہ میرے لیے سکون و راحت کا سامان ہوا کرتے تھے ۔ میں نے دیکھا کہ مشرق کی طرف ایک نہیں دو سورج تھے ۔ ایسے سورج جنکی روشنی آنکھوں کو چبھنے کی بجائے سکون و سرور پہنچا رہی تھی۔ وقفے وقفے سے میں سر اٹھاتا اور چمکتے گولوں کو دیکھنے لگتا یونہی ہر بار مجھے پہلے کی نسبت زیادہ لطف اور سرور ملتا ۔ گویا سورج نہ تھے کسی عظیم مصور کا شاہکار تھے ۔ ایسے رومان پرور خالق کا شاہکار جسے تکتے تکتے انسان کا شعور اور لاشعور لطافت کی انتہاؤں کے پار جا کر معراج پا لیتا ہے بلکل ویسا ہی مقام اور احساس تھا ۔ میں نے اٹھنا چاہا تو دیکھا میرا بدن ننگا نہیں تھا ۔ میرے کولہوں سے لیکر بغلوں تک پر لگے ہوئے تھے ۔ پروں کا دیکھنا تھا کہ میں سمجھ گیا کہ یہ دنیا مٹی کی زمین تو ہرگز نہیں۔ ہاں شاید وہی ہے ۔ جس کے متعلق کتابوں اور گمانوں میں؛ میں نے پڑھا سوچا یا سنا ۔ ہاں یہی اگلا جہان ہے ؟ میں بیحد خوش تھا ۔ میں اڑتا رہتا ۔ جہاں دل کرتا پھرتا رہتا ۔ جو دل چاہتا کھاتا پیتا رہتا ۔ میں بادشاہ تھا اور ہر جگہہ میرے محل ہی محل تھے ۔ ان محلات کی دیواروں کو حلال حرام گناہ ثواب نقصان فائدہ بیماری جیسے نظریات وغیرہ ہرگز نہ پھیلانگ سکتے تھے ۔ سب کچھ پرفیکٹ تھا ۔ مگر دور چھپی کوئی خواہش یہاں بھی موجود تھی جو دھیرے دھیرے میرے قریب آتی رہی ۔ تب مجھے احساس ہوا ایک چیز کی یہاں بھی کمی ہے ۔ کمی کیا ؟ یہی کہ مجھے مجھ جیسا اک مدت سے کوئی نظر نہ آیا تھا ۔ ایک دن میں سو کر اٹھا تو میرے سر سے رونے کی آواز آ رہی تھی ۔ حیرت کے مارے اٹھ کر دیکھا تو دیکھتا رہ گیا ۔ مجھ جیسا بلکل ہو بہو میری شکل ۔ گمان ہوا کہ آئینہ ہے ہاتھ آگے بڑھایا اور اسے چھو کر دیکھا ۔ مگر نہیں؛ اب میری شکل دو الگ الگ وجودوں میں تھی ۔ پھر کیا ہماری دوستی ہوئی ہم اکٹھے گھومتے پھرتے چیختے چلاتے اتراتے اور اس دنیا پہ فخر کرتے رہتے ۔ سال ہا سال گزر گئے مگر ہم میں کبھی بھی حسد بغض کینہ جھوٹ جیسی ذلالتوں نے جنم نہ لیا ۔ جب کبھی میں اکیلا ہوتا تو زمینی زندگی کے متعلق سوچتا اور موجودہ جہان کے متعلق سوچتا ۔ پھر موازنہ اور تقابل کرنے لگ جاتا ۔ عجیب سوال ذہن میں آتا کہ پہلی بار مرد کی پسلی سے عورت کا جنم ہوا ۔ مگر اس بار عورت کی بجائے مرد اور وہ بھی میرے دماغ سے مجھ جیسا بلکل میری طرح کا ۔ سوچ بچار غور فکر کا سلسلہ چلتا رہا ۔ حیرت کہ اس جہان میں بھی نئے جہانوں کی دریافت ابھی باقی تھی ۔ مگر میں تھا اسی حال خوش تھا ۔ مزید جہانوں کے حصول کو میری ہمت نہ ہوتی تھی کیونکہ میں ماضی سے بہت کچھ سیکھ کر آیا تھا ۔

ایک دن میں اور میرا ہمشکل اڑتے اڑتے عجیب دنیا میں پہنچے ایسی دنیا جو اس سے پہلے ہم نے کبھی نہ دیکھی تھی ۔ اس جگہہ دو عورتیں موجود تھیں جنکے حسن کے سامنے یہاں کے سورجوں کی کرنیں اور ان سے حاصل ہونے والی راحت و تسکین یا لطافت پھیکی پڑ چکی تھی ۔ جبکہ اس سے پہلے سورجوں کا نور اور کرنیں اس جہان کا سب سے زیادہ حسین دلکشن اور دلفریب سامان تھا ۔ حیرتوں کی دنیا تھی اور ہمیں شعوری و لاشعوری طور پر حیرتوں کو اپنانا ہی تھا ۔ پھر سے سلسے شروع ہوئے وہی کچھ جنسی عمل زچہ بچہ وغیرہ ۔ زندگی چلتی رہی ہم بھی چلتے رہے ۔ ہماری اولادیں جوان ہوئیں مگر ہم بوڑھے نہ ہوئے ۔ اولادوں کے رشتے ہم نے آپس میں طے کیے ۔ اور پھر انکو آزادی دی۔ کیونکہ یہاں محنت مزدوری بھوک پیٹ کامیابی ناکامی گناہ ثواب فائدہ نقصان نظریات خرافات ضروریات وغیرہ جیسے معاملات نہ تھے ۔ ویسے بھی اس جہان ہمیں یہیں کے حالات کے مطابق تیار کر کے بھیجا گیا تھا ۔ ہمیں ایسی تمام تر قوتیں علم شعور دیا گیا تھا جو اس جہان کی فطرت کے عین مطابق تھا ۔ زمانے آتے رہے اور گزرتے رہے مگر کچھ بھی غلط نہ ہوا ۔ ایسے میں میرا یقین مزید کامل ہوتا رہا کہ شاید یہی جنت ہے ۔ جسکا میں نے زمین پہ پڑھا تھا ۔ پھر سوچتا کہ اگر یہی جنت تو باقی لوگ کہاں ؟ ۔ اچانک میرے اندر خوف اٹھتا ڈر لگتا دور کہیں کھڑی وحشت اور تاریکی مجھ پہ ہنستی اور کہتی کہ تم نے ابھی دیکھا ہی کیا ہے ۔ ایک دن میرا بیٹا اور میرے ہمشکل کی بیٹی مطلب میری بہو آئی ۔ آ کر مجھ سے بولے بابا ہم نے سالوں کی پرواز پکڑی تھی ۔ اڑتے اڑتے ہم ایسی جگہہ پہنچے کہ آگے کوئی آگ نما کنواں تھا ۔ ویسا ہی جسے آپ ہمیں زمینی داستانوں کے ضمن میں کئی بار سنا چکے ۔ عجیب کنواں تھا ۔ اس میں آگ ابل رہی تھی ۔ ہم میں تجسس جاگا کہ اس میں کود کر دیکھیں مگر کودا نہ گیا ۔ شاید وہ اس دنیا کی حدود میں نہیں ۔ البتہ اس کنوئیں کی گرمی اور اس سے اٹھنے والی تپش سے ہمیں زرا سی تکلیف ہوئی ۔ تکلیف کے بعد ہمارے جسم سے یہاں موجود پانی سے قدرے مختلف قسم کا پانی نکلا ۔۔ اس پانی کا نکلنا تھا کہ فورا زمین پہ گرا اور بدلے میں اس زمین نے کچھ عجیب سا اگل دیا ۔ اسی طرح دو تین جگہہ وہ چیز ہماری وجہ سے اگی پڑی ہے ۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ وہ چیز اس کنوئیں کی تپش سے حاصل ہونیوالے پانی سے ہی بڑھتی ہے۔ ۔ بابا ہم سارا دن فارغ رہتے تھے ۔ سیر سفاٹے وغیرہ کرتے رہتے تھے نہ کام ہے نا دھندا ہے ۔ بھلا یہ بھی کوئی زندگی ہے ؟ ۔ ہمیں کوئی کام تو ہوتا نہیں سوچا کیوں نہ زرا سی تکلیف سے اس چیز کی پرورش میں مشغول رہیں ۔ ہم آپکو بھی لینے آئے ہیں ۔ آپ بھی ساتھ چلیں ۔ آخر کب تک بنا کسی شغل کے اپنا وقت برباد کریں گے ۔ یہ سننا تھا کہ میرا خوف ڈر گمان خیالی سے حقیقی وجود میں ڈھل گئے ۔ اسی لمحے مجھ پہ سکتہ طاری ہوا ۔ اور میں مبہوت و منجمند ہو کر رہ گیا ۔ منجمند بھی ایسا کہ اس اگلے جہان میں بھی پھر کبھی پگھل نہ سکا ۔۔ اچانک مجھے دور کہیں سے ایک آواز سنائی دی کہ ایک یا دو سورج کی بات نہیں ننگے یا پروں سے چھپے بدن کی بات نہیں ۔ اڑنے یا پیروں سے چلنے کی بات بھی نہیں ۔ تم زمانے دیکھو بس ۔ قرن ہا قرن تم کے بعد ایسی حالت میں پہنچے ہو اور مزید تمہارے سفر ماضی کی طرح باقی ہیں ۔ خود کو کچھ اور مت سمجھنا ۔ یاد رکھنا تم انسان ہو ۔ ہاں ہاں تم انسان ہی ہو ۔ تیار رہو آزمائشوں کے بعد قیامت ہے اور قیامت ظلم نہیں میزان ہے ۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

دروازہ …محمد جاوید انور

دروازہ محمد جاوید انور "کہہ دیا نا میں نے لکھنا چھوڑ دیا ہے۔” اس کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے