سر ورق / شاعری / صفیہ انور صفی ۔۔۔ یاسین صدیق

صفیہ انور صفی ۔۔۔ یاسین صدیق

صفیہ انور صفی

ترتیب وتحریر

یاسین صدیق

 صفیہ انور صفی صاحبہ شاعرہ اور ناول نگار ہیں۔ ان کی ایک کتاب ”مجھے تتلیوں سے پیار ہے “ شائع ہو چکی ہے ۔دادی امی نے ان کا نام رکھا ۔بچپن کی پہلی تلخ یادماں کی وفات ہے۔حاصل زندگی ہیں وہ لمحات جو ماں کے ساتھ گزارے ۔آپ کی تعلیم ایم اے اردو ،بی ایڈہے۔اپنی شاعری کے علاوہ کوشاعرہ پروین شاکر اور شاعر ناصر کاظمی پسند ہیں۔آٹھویں جماعت سے ہی شاعری کی طرف رجحان رہا۔پہلی بار آپ کا کلام کالج کے میگزین میں چھپاتھا۔نثر اور شاعری دونوں میں لکھ رہی ہیں ۔شاعری کی کتاب کے بعد اب ایک ناول زیر طبع ہے ۔

شادی شدہ ہیں ،ان کے خاوند رضوان احمد ربانی نے ان کے شوق کی تکمیل کے لیے ان کا بھر پور ساتھ دیا ہے۔صفیہ انور صفی نے بہت سادہ پیرائیوں میں اپنے دلی احساسات و جذبات کی بھرپور عکاسی کی ہے۔

انہوں نے چھوٹی بحر میں جس خوبصورتی سے ادبی فن پارے تخلیق کیے ہیں۔بڑے بڑوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔

وہ اردو ادب میں سرقہ کو بہت ہی مخالف ہیں اسے بہت بڑا اخلاقی جرم کہتی ہیں۔وہ گم گو ہیں ۔کہتی ہیں لفظوں کا استمعال ایسا ہو کہ بات سمجھ میں آجائے ۔کم سے کم وقت میں لفظوں کا استمعال بہترین ہوتا چاہیے ۔وقت و حالات شاعری کی طرف لائے ۔مقصد اپنا کھتارسس ہے ۔

ان کا پیغام ہے ۔زندگی میں سب مل جاتا ہے بس اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے ۔زندگی بہت پیاری ہے محبت اور امید کا دامن کبھی نہ چھوڑ یں۔

المیہ یہ ہے کہ بہت ہی کم لوگ ہیں جو ذہنی طور پر دوسرے لکھنے والوں کو قبول کرتے ہیںرہنمائی بھی کرتے ہیں حوصلہ افزائی بھی نئے لکھنے والوں کو اگر زہنی طور پر قبول ہی نہیں کیا جائے گا تو انکے لکھنے کے عمل نکھار اور خوبصورتی کیسے پیدا ہوگی۔

ان کو اردو ادب سے لگاو ہے ۔اگر ان کا یہ لگاو اور محنت جاری رہی تو بہت جلد اپنے گرد قارئین کا ایک وسیع حلقہ بنانے میں ضرور کامیاب ہوجائیں گئیں ۔میری د ±عا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے کلام میں مزید نکھار پیدا کرے ۔آمین

 نعت رسول مقبولﷺ

اے رسول خدا!

تیری عظمت پہ لا کھ سجدے کروں

 دونوں جہاں میں بس تجھ پہ ہی مروں

تیرا شکر ادا میں ہر دم کرو

یونہی ہر دم ذکر صلی علی کروں

یہی چاہوں سدا

اے رسوں خدا!

حیات تیری قرآن کی تفسیر

ذات تیری سچائیوں کی سفیر

 بس تو ہی جہاں کا ولی و پیر

 مجھے اپنا بنا دے تُو فقیر

میری یہی ندا

اے رسول خدا!

تیری عظمت ، تیر ی آبرو

آج بھی ہے میرے رو برو

تیری آرزو جہاں کا سرور

 یہی وعدہ ترا

اے رسول خدا!

جھولی پھلاو ¿ں گی تیرے سامنے

بن کے مسلمان آو ¿ں گی تیرے سامنے

جھوٹی قسمیں نہ کھاو ¿ں گی تیرے سامنے

جوہوں بس ہوں میں تیرے سامنے

اے رسول خدا! اے رسول خدا!

صفیہ انور صفی

      غزل

چاہتی ہوں میں ہیربنوں    وارث کے تحریر بنوں

پیار امر کی مالا جپ     میں جوگی فقیر بنوں

 تجھ کو ایسے پاو ¿ں میں     میں تیری جاگیر بنوں

مجھ کو جب بھی چاہے تُو    میں ہمدم ، دل گیر بنوں

تجھ سے ایسا پیار کروں    میں تیری توقیر بنوں

صفیہ انور صفی

        غزل

مجھ کو آنکھیں ہی کیوں رلاتی ہیں   چڑیاں آنگن میں چہچہاتی ہیں

وقت الفت ہے میں بھی خوش ہی رہوں  پر یہ راتیں بھی کیوں ستاتی ہیں

اپنے ہاتھوں پہ اوڑھ کے یوں حنا   لڑکیاں یو نہی غم چھپاتی ہیں

میری تقدیر نے کیا ظلم کیا    اب تو خوشیاں بھی آزماتی ہیں

اداس نہ ہو صفی آج تم کو سہنا ہے   یہ تتلیاں بھی اگر چہ جگر جلاتی ہیں

صفیہ انور صفی

                                                غزل

رکھو روشن سدا اپنے کا دیا     حساب پھر نہ مانگو گے کیا کچھ لیا دیا

زندگی کی خواب راتوں میں گم ہو کر   بھول نہ جانا کہیں وعدہ جو تم نے کیا

عہدہ وفا نبھا کے رسم یہ دنیا میں ڈالنا   دل ایک جو جدا تھا پھر سے مل گیا

گر تم اداس تھی مگر سن تو لو اے دوست!  زہر میں نے بھی تمھاری جدائی کا تھا پیا

تم کیا آباد کرو گے بزم غیر کو صفی   دل میرا جاڑ نے میں تم نے ساتھ غیروں کا دیا

صفیہ انور صفی

                                                                غزل

تمھارے ساتھ نے مجھے دیا کیا ہے جفاو ¿ں کے سوا  زندگی کچھ ایسی ہی گزری ہے سزاو ¿ں کے سوا

تیرے دکھوں کا مرے پاس کوئی مدادا نہیں   میں تم کو دوں اور کیا دعاو ¿ں کے سوا

بدل بدل کے نئے روپ جو اپنانے لگو تم    میرے پاس کیا رہ جائے گا وفاو ¿ں کے سوا

وہ نہیں دے سکتا اپنا آپ مجھے تو کیا ہوا    کچھ اور مجھے نہ چاہیے بس نگاہوں کے سوا

وفا پر اس کی نگاہ کب پڑے گی اے صفی    اے تو کچھ بھی نہ پھائے فقط اداو ¿ں کے سوا

صفیہ انور صفی

                                                                غزل

ویرانگی بڑھ جانے دو غم ہجر میں    کچھ اور ہی مزہ ہے دکھوں لے اجر میں

امید کا سایہ ہے نہ ہے کوئی منزل    ہم کتنے اکیلے ہیں اس غم کے سفر میں

لوٹ ہی تو لیا ہے مجھے میرے اپنوں نے   لے جائے گا یہ دکھ شاید مجھے قبر میں

سراپا دیکھ کراس مہ جبیں کا یو نہی     دل اپنا بھی کب رہا ہے بس صبر میں

صفی سوچ کے پیراو ¿ں کو رکھو یونہی روشن   تم کو رکھنا ہے بس اک زمانہ نظر میں

صفیہ انور صفی

                غزل

ماں تیرے قدموں کے نشان ہم چھوڑ آئے  مت پوچھو کیاستم ہوا، جنت سے منہ موڑ آئے

صبح کے اجالوں اور رتجگوں میں وہ تیرا ذکر   ناتہ تو اس جہا ں سے اب توڑ آئے

وہ ہمارے خواب ہماری آرزوو ¿ں کا ہوا ؟   برباد یوں سے شائد رشتہ جوڑ آئے

جی میں اپنے بھی تھا کہ یہ تعلق رہے باقی   ہاں مگر رسِم دنیا کے لیے آج اصول توڑ آئے

رسمِ زمانہ نبھانے کی خاطر کیوں اے صفی   یادیں تیری سبھی آج بس وہیں چھوڑ آئے

صفیہ انور صفی

         غزل

زندگی کہیں روٹھ نہ جائے     ساتھ اپنا کہیں چھوٹ نہ جائے

وقت نازک کو دیکھ کر دل تھام لیا    دیکھو! غم دل کہیں پھوٹ نہ جائے

نہیں ہے مجھ کو اپنی وفاو ¿ں پہ جبر    بات اتنی سی ہے نصیب کہیں روٹھ نہ جائے

ساتھ اپنا یہ سلامت رہے سدا یونہی    دعاو ¿ں کے در پہ دل کہیں ٹوٹ نہ جائے

صفی دل سے یہی دعا کر لے اب تو   خدا دل سے یہی دعا کر لے اب تو

صفی دل سے یہی دعا کر لے اب تو   خدا را ہاتھ تیرا یو نہی چھوٹ نہ جائے

صفیہ انور صفی

        غزل

یہ جہان فانی ہے     زندگی گزر جاتی ہے

غموں کی اس دنیا میں    ہم نے ہر بات مانی ہے

ماضی، حال اور مستقبل    بس اک کہانی ہے

بے ریا سی دنیا میں     پریت ہمیں نبھانی ہے

ظلم وجبر کتنا بھی ہو     یہ جان تو آہنی ہے

ان کی جفا کے بدلے میں  وفا ہمیں نبھانی ہے

صفی غم کے موسم میں   زندگی بس انجانی ہے

صفیہ انور صفی

 غزل

چرا کے میرے شب و روز ستا گیا ہے کوئی

راہ زندگی پھر مجھے دکھا گیا ہے کوئی

وفا نبھانے کو ترس رہا ہے اپنا دل بھی مگر

قفس کی چابیاں تو چھپا گیا ہے کوئی

اب کے شب ہجراں کب کٹے گی آنکھوں میں

وفا کے پھر نئے خواب سجا گیا ہے کوئی

ویرانہ دل میرا کب اسی سوچ میں تھا

میرے نصیب کو شاید جگا گیا ہے کوئی

ہنسی میں اپنی کچھ نئی صدا پاوں میں اے صفی

وفا کے پھر سے نئے پھول مہکا گیا ہے کوئی

صفیہ انور صفی

        نظم

      یارب میرے نصیب کو

یارب میرے نصیب کو لکھ دے    ادا لکھ دے صدا لکھ دے

راہ وفا میں        آرزووں کے محل میں کچھ جزا لکھ دے

کچھ سزا لکھ دے       میرے خدا! میرے نصیب کو

کچھ ایسا معتبر لکھ دے      وفا کی چادریں ،نگاہ کے انمول موتیوں کو

میرے لیے ثمر لکھ دے     میں چاہتی ہوں یا رب کبھی غم دل بھی پاوں

نہ زمانے سے میں گھبراوں    میرے نصیب کو بس یارب!

       ثمر لکھ دے

       امر لکھ دے

                                                                نظم

       میرے نصیب

      میرے نصیب ! تو مجھ کو

      آزما تو سہی

      خارِ نگاہ مجھ پر چلا تو سہی

      وفا نبھانے کے جرم میں

      ظلم اتنے کچھ ڈھا تو سہی

      اپنی وفا پر گر ناز ہے تجھ کو

      وفا کچھ ایسی نبھا تو سہی

     دستورِ ززمانہ

     ویرانے جنگل میں اک پیڑ کے سائے تلے

     تم نے مجھے کہا تھا کہ

     میں ساتھ کبھی نہ چھوڑوں گی

   تیرا وعدہ وہ کیا ہوا؟

    زمانے کی ریت پر چل کر

    تم نے بھی

    صرف دستورِ زمانہ ہی نبھایا

 حاصل تمنا

    (اپنے بچو ں کے نام )

تمھارے نام اک نظم لکھوں یا پھر پیام

درِ صفی پر ہے یہ قدرت کا انعام

تمہارے نام سے روشن ہیں آنگن کے دروبام

شام سیاہ تو اب بھی نہ لگے شام

کبھی جو چھونے کو آئےں تمہیں گردش ایام

فلک سے اتر یںوفا ئیں دیں تمہیں دوام

جہاں میں تو اپنا سب کا بنائے نام

تھامے ہوئے ہاتھوں میں وقت کی لگام

لاکھ عظمت ، خوشی ، نصیب تم پر تمام

قدم اٹھا و اور منزل کو تم پاو بام بام

مٹاکے دستور ِ زمانہ بڑھاو وفا کے دام

کبھی نہ گزرے تمہارے آنگن سے بادِ شام

قدم اٹھاو اور تھام لو وقت کی لگام

دعائیں یہ ہیں صفی کی بس تمہارے نام

   اعتراف

بار ہا چاہا کہ اے صنم

تجھ سے صرف اتنا کہہ دوں

میری زندگی میں

تیرے سوا

اور

کوئی نہیں

 پکار

تجھ کو کہاں معلوم کہ ان ویران رستوں

میں تمہیں ڈھونڈے تے

کتنی تھک چکی ہوں

لوٹ آکہ تجھ کو پانے کی غرض سے

میں اپنا سب کچھ

    متلاشی

غم کے ریگستان میں

دکھوں کی چادر اوڑھے

ننگے پاوں

بس اک سائے کو ترسی

ہوں میں

     بدلے موسم میں

تتلیاں تو ہوتی ہیں

موسم بہار میں، ہر سو رنگ پھیلاتی ہیں

موسم بہار میں دیس پردیس جاتی ہیں

موسم بہار میں رنگ ِگل چراتی ہیں

دلوںکو لبھاتی ہیں

موسم بہار میں پھر ادائیں دکھائی ہیں

     پیغام

دل کو حوصلہ دو

 بہار

آنے والی ہے

   یہ تتلیاں آزاد ہیں

یہ تتلیاں آزاد ہیں

جہاں اڑی پھریں

موسم گل میں ہزاروں رنگ لیے

وادی وادی گھومیں پھریں

رقص کرتی ہوئی آرزوئیں اپنے ساتھ لیے پھریں

گلشن گلشن پیغام بہار دیتی پھریں

رنگین آنچل اوڑھے صبا کے زورپر

اک نغمہ گاتی پھریں

پھولوں سے وفا نبھاتے ہوئے پھر سے

وادی وادی گلشن گلشن گھومیں بھریں

یہ تتلیاں آزاد ہیں جہاں اڑی پھریں

 التجا

(اپنے شریک سفر رضوان ملک کے نام )

میں جانتی ہوں

کہ میںتیرا جسم

تیری جاں کاحصہ ہوں

مگر یہی التجا ہے صنم!

تم مجھ کو

میری وفا کے ترازو میں تولنا

   دوستی

آج ایک تتلی نے آکر مجھے کچھ یوں کہا

آو کہ میں تم کو اپنی بانہوں میں بھرلوں

آو کہ میں پھولوں کے رس سے

تمہارے دل مضطرب کو معطر کردوں

آو¿ کہ میں اپنے پروں سے کچھ رنگ لے کر

تمہارے آنچل میں رنگ بھر دوں

ٓٓٓآو کہ مجھ سے دوستی کرلو

 ………………………………..

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

طویل نظم۔۔ تراش۔۔ اختر عثمان۔۔۔ انتخاب شین زاد

اختر عثمان کی طویل نظم: ”تراش” تراش سنجوگتا کے لئے O سکوت___فردا و دی کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے