سر ورق / کہانی / سٹی گم …نوشاد عادل

سٹی گم …نوشاد عادل

                                                سٹی گم

                                                                                نوشاد عادل

پہلا حصۃ

                شرفو صاحب نے ایک کھلاڑی کو ڈاج دیا تو دوسرا اُن کے سامنے آگیا۔ انہوں نے اسے ڈاج دینے کے بجائے اس کے منہ پر پان کی پچکاری ماری۔ ڈبل پتی مراد آبادی اور ہرن چھاپ کے مکسچر نے مخالف ٹیم کے کھلاڑی کے منہ پر مرچیں لگادیں۔ وہ” امی امی“ کرکے چیختا ہوا دور چلا گیا۔ اس سے پہلے کہ شرفو صاحب فٹ بال گول میں پھینکتے، اچانک ریفری نے سیٹی ماری۔

                ”کیا ہوگیا بے ؟“ شرفو صاحب ریفری پر چلائے ۔

                ”تم نے فاﺅل کیا ہے…. جلے ہوئے توس کی شکل کے انسان۔“ ریفری نے وجہ سیٹی بتائی۔

                ”اس نے بے مانٹی کی ہے۔“ مخالف ٹیم کے کھلاڑی احتجاج کرنے لگے۔ جس کھلاڑی کے منہ پر انہوں نے پان کی پچکاری ماری تھی۔ اسے زبردست چکر آرہے تھے اور اب وہ گراﺅنڈ میں جہاز بن کر چکر لگارہا تھا۔

                ”کوئی بے مانٹی نہیں کی ہے میں نے ۔ “شرفو صاحب مسکرانے لگے۔

                ”تم نے ہمارے کھلاڑی کے منہ پر پان کی پچکاری نہیں ماری؟“ مخالف ٹیم کے کپتان نے پوچھا۔

                ”تو کون ہے ….؟ “شرفو صاحب نے اسے گھورا ۔

                ”میں کپتان ہوں۔“اس نے اکڑ کر بتایا۔

                ”نیکر تو ٹھیک سے پہن لے ،کپتان کے بچے…. اوپر کراِسے…. میں نے پان کی پچکاری اس لےے ماری تھی کہ میں سمجھا شاید کوئی اُگل دان لے کر میرے سامنے آگیا ہے۔“ شرفو صاحب نے عذرلنگ پیش کیا۔

                ”وہ اُگل دان نہیں، اس کا منہ تھا۔“ کپتا ن نے پیر پٹخا۔

                ”منہ بھی تو اُگل دان جیسا ہی تھا…. کھلا ہوا…. اس کو بولو اپنا منہ بند رکھا کرے۔“

                ایک دم ریفری درمیان میں آکر چیخا۔” اور میں کیا پاگل کا بچہ ہوں، جو ایسے ہی کھڑا ہے…. تم آپس میں ہی لڑے جارہے ہو۔“

                ”توپھر تو کیا چاہتا ہے۔ہم سب مل کر تجھے ماریں…. کھال کھجا رہی ہے تیری …. بول…. لگاﺅں ایک کک؟“ شرفو صاحب نے پیر اُٹھایا۔

                ”بکواس بند کر بچہ…. “ریفری نے تیور بدل کر کہا اور پھر اچانک سارا منظر بدل گیا۔ اب شرفو صاحب اور وہ ریفری کمزور سے پُل پر کھڑے ہوئے تھے۔

                ”ابے…. ابلے …. یہ میں کہاں آگیا….؟“شرفو صاحب پُل سے نیچے جھانکنے لگے، نیچے نہر تھی۔

                ”یہ نہر والا پل ہے بچہ…. جس کا ذکر ایک گانے میں بھی ہے۔“ ریفری نے کہا۔

                ”آپ کون ہیں جناب…. اپنا انٹروڈکشن تو کرائیں؟“ شرفوصاحب کو اب اس سے خوف آنے لگا۔

                ”میں ایک بزرگ ہوں….تم نے بہت سی کہانیاں میں میرا ذکر پڑھا ہوگا۔“

                ”مگر…. مگر ابھی تو آپ چڈی پہن کر فٹ بال میچ کے ریفری بنے ہوئے تھے۔“شرفو صاحب نے تھوک اگل کر کہا ۔ ”بزرگ چڈی کب پہنتے ہیں؟“

                ”وہ تو میرا ذریعہ معاش ہے۔ “بزرگ برا مان گئے اورمنہ چڑا کر بولے۔ ”زیادہ تھوتھنی مت چلاﺅ…. میں تمہیں یہاں اس لئے لایا ہوں کہ تمہیں ایک خطرے سے آگاہ کردوں…. تمہاری کالونی پر نحوست کے سائے منڈ لارہے ہیں۔“

                ”مگر وہ تو آج کل بیمار ہے ۔“ شرفو صاحب نے بتایا۔

                ”کون بیمار ہے؟“

                ”نحوست…. یعنی سخن …. کئی دنوں سے بستر پر پڑا ہوا ہے۔ پتا نہیں اسے کیا ہوگیا ہے …. بس اسپغول کا بھوسہ اور دہی میں زیرہ ڈال کر کھارہا ہے صبح شام۔“ شرفو صاحب نے سوچنے کے انداز میں ہونٹوں پر انگلی ماری۔

                ”تمہاری کالونی میں زلزلہ آنے والا ہے بچہ…. “بزرگ نے دل دہلانے والی خبر سنادی۔ ساتھ ہی انہو ں نے اپنے جسم پر زلزلے کے آثار بھی طاری کرکے دکھائے۔

                ”زل…. زلہ….؟ “شرفو صاحب کا منہ آم کی چوسی ہوئی جوسی گٹھلی جیسا ہوگیا۔

                ”ہاں بچہ زلزلہ…. اور پھر تمہاری کالونی تباہ و برباد ہو جائے گی ہا ہا ہا۔“بزرگ نے قہقہہ لگایا۔ اُن کا چھچھوراپن عروج پر تھا۔

                ” باباجی…. تم بزرگ ہو یا دیو کے بچے…. یہ ہنسنے والی بات ہے کیا؟ میرا نازک سا دل دھک دھک کر رہا ہے اور تمہیں ہے ہے ہا ہا کی سوجھ رہی ہے ۔“شرفو صاحب خفا ہوگئے۔

                ”مگر…. مگر ایک راستہ ہے ابھی زلزلے کو ٹالنے کا ۔ ‘ ‘ بزرگ نے بتایا۔

                ” کون سا راستہ…. وہ راستہ تو نہیں، جو بکرا منڈی کو جاتا ہے؟ “شرفو صاحب چونکے۔

                ”میں اس راستے کی بات نہیں کررہا ہوں۔ “بزرگ کے نتھنے پھول گئے۔ ہاں نہیں تو…. بیچ میں بولے جارہا ہے…. اب بولا توپھر نہیں بتاﺅں گا…. ہاں….“

                ”بزرگ میں آپ سے معافی مانگتا ہوں۔ “شرفو صاحب نے فوراً معذرت کرلی۔”معافی نہ ہو تو کوئی ٹافی دے دیں۔“

                ”چل بے ….میرے پاس کہاں سے آئی ٹافی؟“

                اب شرفو صاحب نے جھک کر اُن کی سوکھی سوکھی ٹانگیں پکڑ لیں۔” آپ کے ٹڈے جیسے پیر پکڑتا ہوں…. میں نا سمجھ ہوں …. مجھے معاف کردیں۔ آپ کا یہ احسان میں دو مہینے تک نہیں بھولوں گا۔“

                ”اچھا…. اچھا ٹانگیں چھوڑ میری…. گدگدی ہورہی ہے ۔“ بزرگ مچلتے ہوئے بولے۔” میں بتاتا ہوں۔“

                شرفو صاحب نے اُن کی ٹانگیں چھوڑدیں۔

                بزرگ نے جیب سے کنگھا نکال کر بالوں میں پھیرتے ہوئے کہا اور پھر پف بھی نکال لیا۔

                ”بزرگ…. کیا آپ کسی کے ولیمے میں جارہے ہیں جو کنگھا کرکے ہیرو بن رہے ہیں؟ “شرفو صاحب نے درمیان میں ہی سوال کیا۔

                ”اب کہاں کا ہیرو یار۔“ غیر متوقع طور پر بزرگ نے نیم گرم سانس خارج کی۔” اب وہ زمانے لد گئے۔“

                ”وہ زمانے کیا گدھے پر لدگئے۔ “شرفو صاحب بھی ایک لیچڑ انسان تھے۔

                ”میں جار ہا ہوں….“ بزرگ روٹھ کر جانے لگے۔

                ”دل توڑ کے نہ جا ….مکھ موڑ کے نہ جا….اچھا اچھا اب نہیں کروں گا…. میں تو ایسے ہی کہہ رہا تھا۔“ شرفو صاحب نے آگے بڑھ کر بڑی محبت اور عقیدت مندی سے بزرگ کی گدی پکڑ لی۔” اتنی سی بات پر آپ نے توبن مانس کی طرح اپنی تھوتھنی پھلالی ہے۔“

                ”آئے…. آئے گدی چھوڑ…. میں بتارہا ہوں۔“ بزرگ مچلنے لگے۔ گدی آزاد ہونے پر انہوں نے بڑا سا تھوک لہر میں تھوکتے ہوئے کہنا شروع کیا۔” بس زلزلے سے بچنے ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ کہ تم سب لوگ، یعنی دڑبہ کالونی کے معززین اور خوارین کسی اچھے مقام پر پکنک منانے جاﺅ…. وہاں خوب ہلہ گلہ مستی کرو تو زلزلے کی مصیبت تم پر سے ٹل جائے گی۔“

                ”ہائیں…. “شرفو صاحب چونکے۔” ابے یہ کیسی ترکیب ہے بچاﺅ کی…. یعنی ہم لوگ پکنک منائیں گے تو زلزلہ ٹل جائے گا کالونی پر سے؟“

                ”ہاں….“ بزرگ نے زور سے پیر پٹخ کر کہا اور کم زور پل کا تختہ” تڑاخ“ کی زور دار آواز کے ساتھ ٹوٹ گیا اور بزرگ اپنی چڈی سمیت نہر میں جاگرے ۔شرفو صاحب کے منہ سے چیخ نکل گئی اور انہوں نے ٹوٹی ہوئی جگہ سے اپنا ہاتھ بزرگ کی طرف بڑھایا، جواب پانی میں قلابازیاں کھارہے تھے۔ پھر جیسے ہی ان کے ہاتھ میں بزرگ کا ہاتھ آیا ۔انہوں نے زور سے انہیں کھینچ لیا۔ اوپر آتے ہی بزرگ نے شرفو صاحب کا کان گرم کر دیا۔

                ایک زبردست دھماکا ہوا اور شرفو صاحب ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھے۔ دیکھا تو وہ اپنے کمرے میں بستر پر پڑے ہوئے تھے۔ ان کے نزدیک ہی فرش پر ٹی وی گرکر پرزہ پرزہ ہوگیا تھا۔

                انہوں نے خواب میں بزرگ کا ہاتھ اور حقیقت میں ٹی وی کا تار پکڑ کر کھینچ لیا تھا۔ ابھی مہینے پہلے ہی انہوں نے ایک سودے میں ہیرا پھیری سے کمائے ہوئے پیسوں سے یہ نیا ٹی وی خریدا تھا۔ حرام کا مال…. حرام موت گیا۔

                اتنے میں ان کی تشویش ناک حد تک موٹی بیگم صاحبہ کمرے میں داخل ہوئیں ۔ انہیں دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ دنیا کے سب سے بڑے تربوز کے ہاتھ پیر اور چہرہ نکل آیا ہے۔ انہوں نے آدم خور نظروں سے شرفو صاحب اور ٹوٹے ہوئے ٹی وی کو دیکھا۔

                ”یہ تو کچھ بھی نہیں…. “شرفو صاحب نے اُٹھ کر ٹوٹے ہوئے ٹی وی پر لات ماردی۔” میرا ایک دوست ہے، ٹی وی کا کام کرتا ہے، اس نے تو اس سے بھی زیادہ ٹوٹے ہوئے ٹی ویوں کو جوڑ جاڑ کر چالو کردیا ہے۔ یہ تو دو منٹ میں ٹھیک کردے گا۔“

                ”کوئی جادوگر ہے تمہارا دوست…. یا سائنس داں ہے …. مجھے تو لگتا ہے، تمہارا ٹائم پورا ہوگیا ہے۔ بس اب بلاوہ آنے ہی والا ہے اوپر سے…. کیوں پاگل ہوجاتے ہو تم سوتے میں…. پہلے بھی کتنی چیزیں توڑی ہیں…. آئندہ تم گراﺅنڈ میں جاکر سونا …. اگر گھر میں سوﺅگے تو میں تمہارا ہاتھ پیر باندھ کر سلاﺅں گی…. سمجھے؟“

                ”سمجھ گیا…. کم بخت….“ شرفو صاحب کے منہ سے نکل گیا۔

                ”کیا….؟ “بیگم صاحبہ جاتے جاتیں پلٹیں۔

                ”میں تو تمہیںخوش بخت کہہ رہا ہوں…. بلاوجہ برا مان جاتی ہو تم۔ “شرفو صاحب ڈرے انداز میں مسکراتے ہوئے بندر لگ رہے تھے۔

                جیسے ہی بیگم صاحبہ پلٹیں۔ شرفو صاحب نے دونوں کانوں پر انگوٹھے رکھ کر انگلیاں ہلاتے ہوئے انہیں منہ چڑایا،لیکن بزرگ والے خواب نے انہیں تشویش کی پیچش میں مبتلا کردیاتھا۔

                                                ٭٭٭

                ”اورپھر ٹی وی ٹوٹ کر گرگیا….“ شرفو صاحب نے اپنی داستان خواب مکمل کی۔

                ”ٹی وی ٹوٹ گیا؟ “چودھری بشیر چونکے۔” اوئے یہ ٹی وی کدھر سے آگیا؟“

                ”میرا مطلب ہے کہ میری آنکھ کھل گئی۔ “شرفو صاحب نے جلدی سے تصحیح کی ۔

                ” آپ کے بھونکنے….میرا مطلب ہے کہ آپ کے فرمانے کا مطلب یہ ہے کہ ہماری کالونی میں کسی بھی وقت زلزلہ آسکتا ہے؟ “یا مین نے ہاتھ اُٹھاکر پوچھا۔

                ”یس…. آف کورس….“ شرفو صاحب نے چابی والے گڈے کی طرح کھوپڑی ہلادی۔

                ”اوہو…. انگلش ، انگریزوں کا کوٹ پہننے والے شرفو ۔“ انگریز انکل کا تن اور من جھلس گیا تھا۔” وہ بزرگ انگریز تو نہیں تھے؟“

                ”وہ انگریز تھے یامکرانی تھے،ہمیں اس سے کیا لینا دینا ۔ ہمیں تواپنی کالونی کی فکر کرنی چاہےے۔“ شرفو صاحب نے ان کی بات کا برا مانے بغیر کہا۔

                ”تو پھر ہمیں کیا کرنا ہوگا ؟“خالو خلیفہ نے گلابی کی کالی گردن غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔انہیں ایسے لگ رہا تھا کہ گلابی نے گردن پر چیری بلاسم لگائی ہوئی ہے۔

                ” ہمیں اپنی کالونی کو اس آفت سے بچانے کے لےے پکنک پر جانا ہوگا۔ اگرچہ بہت کٹھن مرحل ہے، لیکن میں نے ساری رات خوب سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کیا ہے۔ ہمیں پکنک پر جانا ہوگا۔ اس کے علاوہ اورکوئی لوسن اور چارا نہیں ہے۔“ شرفو صاحب نے قریب بیٹھے ہوئے چودھری صاحب کے منہ پر گرم سانس چھوڑی۔

                ”اڑے واہ…. خوب مزہ آجائے گا…. میرے پاس ٹیپ ریکارڈر ہے…. وہاں چل کے خوب گانے سنیں گے۔“دنبے نائی نے خوشی سے تالی بجائی۔

                ”مگر چلیں گے کہاں…. سارے بھوتنی کے ؟“ استاد دلارے بھی شروع ہوگئے۔

                ”ظاہری بات ہے کسی پہاڑی مقام پر یا سمندر دریا کے کنارے جائیں گے۔“خالو نے منہ بناکر کہا۔

                ”ابے سب کو چھوڑو….بم پھوڑو….“ بابو باﺅلے نے کھڑے ہوکر شور مچادیا ۔استاد دلارے نے حسبِ روایت اس کی شلوار کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا کہ بابو اُچھل کر دو رہوگیا اور استاد دلارے کی کچی ہوگئی۔

                 بابو باﺅلے نے آگے فرمایا۔” میرے ایک دوست کا فارم ہے…. وہاں چلیں گے۔“

                ”واہ یار بابو…. توتو بڑا آدمی ہوگیا ہے ۔ تیرے تعلقات تو بڑے بڑے لوگوں سے ہیں۔ کدھر ہے تیرے دوست کا فارم ہاﺅس؟“ خالو خلیفہ نے اس کی تعریف کی۔

                ”اس کالونی میں ہی ہے، کونے پر…. پولٹری فارم۔“ بابو نے سینہ پھلا کر بتایا۔” وہاں بہت سارے انڈے ہیں۔“

                ”تو ہم انڈوں پر بیٹھ کر پکنک منائیں گے…. “غصے کے مارے شرفوصاحب کی ناک بہنے لگی۔”پھر ان میں سے ہماری شکلوں کے چوزے نکلیں گے۔“

                ”بابو بیٹھ کر صرف سناکر…. اب اگر بولا تو تیرا منہ توڑ دوں گا بھوتنی کے۔“استاد دلارے نے اپنی کچی کا بدلہ اُتارا ۔

                ”تھر کے ریگستان مےں چلتے ہیں۔وہاں پکنک منانے کا مزہ ہی کچھ اور ہوگا۔“ مجو قصائی نے اپنی رائے اَڑائی۔

                ”بزرگ نے کہا تھا کسی پرفضا مقام پر جانا…. اور تو ہمیں ریگستان جانے کا مشورہ دے رہا ہے۔“

                شرفو صاحب نے قمیص کے دامن سے اپنی ناک اچھی طرح صاف کی۔ بعد میں غور سے دیکھا تو معلوم ہوا وہ برابر بیٹھے خالو خلیفہ کی قمیص کا دامن تھا۔ اور وہ خالو خلیفہ…. وہ غافل اور بے خبر انسان اِدھر اُدھر دیکھ رہا تھا ۔ اسے علم ہی نہیں تھا کہ اس کے پاک دامن پر بدنامی کا بڑا سا سبز داغ لگ چکا ہے۔

                ”سب سے اچھی جگہ بس ایک ہی ہے۔ “چپٹے نے گلا کھنکھار کر سب لوگوں پر ایک نظرِ بد ڈالی۔”اس جگہ پکنک منانے سے تو روح بھی خوش ہوجائے گی۔ رشتے داروں سے بھی ملاقاتیں ہوجائیں گی اور ایمان بھی بیکری کی ڈبل روٹی کی طرح تازہ ہو جائے گا۔“

                ”اچھا…. ایسی بات ہے…. تو جلدی سے بتا…. وہ کون سی جگہ ہے؟“ شرفو صاحب نے بے چینی سے اتنی تیزی سے پہلو بدلہ کہ اُن کے پہلو سے ٹکرا کر برابر والی میز پر رکھا پانی کا جگ گر گیا۔

                ”قبرستان….“چپٹے نے داد طلب نظروں سے انہیں دیکھا۔” وہاں بڑا سکون ہوتا ہے۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چلتی ہے اور کوئی ڈسٹرب بھی نہیں کرتا۔“

                ”کتنا اچھا لگے گا ….ہم لوگ قبروں کے پاس چادریں بچھاکر بےٹھے ہوں گے اور گانے چل رہے ہوں گے۔ ڈانس ہورہا ہوگا۔ ابے گدھے ‘ بے عقل…. دوزخ میں ہم سب کی اتنی چھترول ہوگی…. جہنم کا دروغہ ہم سب کو مرغا بناکر ٹھڈے مارے گا۔“

                ”بس اوئے ہوگئی…. ہوگئی ۔“ اچانک چودھری بشیر صاحب ہڑبڑا کر اٹھ کھڑے ہوئے ۔ کئی افراد اس انداز پر گھبرا گئے۔

                ”کیا ہوگئی چودھری صاحب خیر تو ہے…. یہ اچانک بےٹھے بیٹھائے آپ کو کیا ہوجاتا ہے…. دوا پی کر تو نہیں آئے آج؟“ دنبے نائی نے منہ بناکر کہا۔

                ”اوئے میں بات طے ہونے کی بات کررہا ہوں۔“ چودھر ی بشیر نے اپنے ہاتھی کے سائز جیسے پیٹ پر ہاتھ پھیرا۔ ”بات اب میں طے کررہا ہوں…. ہم لوگ پکنک پر ضرور جائیں گے …. اس کے لےے ہمیں کھانے پینے اور گاڑیوں کا بندوبست بھی کرنا ہوگا ۔پیسوں کی کوئی بھی پروا نہ کرے…. میں خود چندہ کروں گا۔“

                ”یہ ٹھیک رہے گا۔“ شرفو صاحب نے ان کی بھیں بھیں میں اپنی ٹیں ٹیں ملائی۔” اب ہمیں پکنک کے انتظامات کے لےے ذمے داریاں آپس میں تقسیم کرلینی چاہئیں۔دوسمجھ دار اور چالاک آدمی گاڑی کا بندوبست کریں گے۔“

                ”چالاک اور سمجھ دار تو یہاں کوئی نہیں ہے ۔ “جمال گھوٹے نے سرکھجاکر سب کو دیکھا۔ اس لمحے باہر سے اس کے گدھے کولمبس کے باجے کی آواز ابھری۔

                ”جا بھئی جمال گھوٹے…. تیرا بھائی تجھے بلارہا ہے۔“ خالو خلیفہ نے یہ کہہ کر اس سے بدلہ لیا۔

                ”وہ بلا نہیں رہا، بلکہ یہ کہہ رہا ہے کہ سب سے چالاک اور سمجھ دار میں ہوں۔ “جمال گھوٹا بھی اپنی نسل کا ایک ڈیڑھ ہوشیار تھا۔

                ”اور اچھی طرح کان کھول کے سن لو سب….“ انگریز انکل نے غصیلے انداز میں کہا۔

                ”اچھی طرح کیسے ؟ پلاس سے کھول لیں کیا ؟“ ایک آواز آئی۔

                شرفو صاحب کی بات جاری تھی۔ ”جس کے ذمے جو کام لگایا جائے ‘وہ اسے ہرحال میں پور اکرنے کا پابند ہوگا….اگر کسی نے انکار کیا تو پھر اسے ایک کمرے میں بند کرکے سب لوگ ماریں گے اور یہ اس پر فرض ہوگا کہ وہ تحمل اور پوری عزت کے ساتھ پٹائی کھائے ۔“

                ”وہ پٹائی کیا ہوٹل سے منگواکر کھلائیں گے؟ “چپٹے نے چونک کر پوچھا۔

                ” بس اب ہم معززین آپس میں ایک خفیہ میٹنگ کرلیتے ہیں کہ کس شخص کے ذمے کیا کام لگایا جائے گا۔“شرفو صاحب کپڑے جھاڑتے ہوئے کھڑے ہوگئے ، کیوں کہ برابر میں بیٹھے چاچا چراندی اپنی آٹے کی بوری جتنی بڑی جیب میں سے چنے نکال نکال کر کھارہے تھے اور سارے چھلکے شرفو صاحب کی پھیلی ہوئی جھولی میں ڈال رہے تھے۔

                پھر سارے معززین دفتر کی ٹوٹی پھوٹی میز کے پیچھے چھپ کر اکڑوں بےٹھ گئے اور میٹنگ ہونے لگی۔ چاچا چراندی بھی دھونس دھاندلی کا بدترین مظاہرہ کرتے ہوئے ان میں زبردستی شامل ہو گئے تھے۔ خوارین اس خفیہ میٹنگ سے اُبھرنے والی آوازیں بالکل کلیئر سن رہے تھے۔

                ”ابے اُدھر ہونا تھوڑا…. دونوں پیر چوڑے کرکے نواب کی طرح بیٹھا ہوا ہے فالتو فنڈ میں۔ “چاچا کی مدھر آواز کانوں میں رس گھول رہی تھی۔” اور کوئی بیٹھا نظر نہیں آرہا ہے تجھے ۔“وہ استاد دلارے سے اندھا دھند جا بھڑے تھے۔

                استاد دلارے کا تعلق بھی کسی پڑھے لکھے اور معزز خاندان سے نہیں تھا۔ ”چاچا ….اگر منہ دکھانے کے قابل نہ ہوتو بات تو اچھی کرلیا کرو…. ہر جگہ اپنا جنگلی پن دکھانا ضروری تونہیں ہوتا ۔ “ استاد دلارے مزید چوڑے ہوکر خو خیائے۔

                ”ارے بھئی لڑو مت…. ہمیں پلاننگ کرنی ہے …. اس کے بارے میں سوچو….“اس سے پہلے کہ مزید کوئی بات ہوتی، شرفو صاحب نے درمیان میں مداخلت کی جوتی اَڑا دی۔

                ”میرا خیال ہے ہم لوگوں کو بڑی گاڑی کی ضرورت پڑے گی….لہٰذا بڑی گاڑی کرائے پر حاصل کرنی ہوگی۔ “خالو خلیفہ نے سرگوشیانہ لہجے میں کہا۔

                ”اونٹ گاڑی کرلیتے ہیں …. سب آرام سے بیٹھ جائیں گے کھلے کھلے ہوکر۔“چاچا چراندی نے اپنی رائے کے دو پائے پیش کےے اور کھلے بیٹھنے کا مظاہرہ کیا۔

                ”چاچا….ذرا کبھی اپنی عقل کو بھی ہلا جلا لیا کرو ۔ہم پکنک پر جارہے ہیں ۔کسی بابا کے مزارپر ان کے عرس میں نہیں جا رہے ہیں ۔ اونٹ گاڑی میں تو ایک مہینہ جانے کا رکھ لو اور ایک مہینہ آنے کا ۔واپس آئیں گے تو کپڑے پھٹ چکے ہوں گے …. بال حبشیوں کی طرح بڑھ گئے ہوں گے۔“ انگریز انکل اپنی ناک حد سے زیادہ سکیڑتے ہوئے کہا۔

                ”چار پانچ گدھا گاڑیاں کرلیتے ہیں۔ “جمال گھوٹے نے اپنی جگہ سے بیٹھے بیٹھے بلند آواز میں کہا ۔” ایک تو میرا کولمبس ہو جائے گا….باقی کرائے پر لینی ہوں گی۔“

                ”ایسا کر….ہم سب گاڑی پر چلے جاتے ہیں اور تو آرام سے گدھے پرلیٹ کر پکنک منانے چلا جا۔“ شرفوصاحب بھڑک کر بولے ۔ ” یہ بطخ جیسی چونچ بند رکھا کر اپنی…. جب معززین بات کررہے ہیں…. تو خوارین میں سے کسی کو بولنے کی اجازت نہیں ہے۔“

                اور….جمال گھوٹا بڑی بے غیرتی سے مسکراتا ہوا مغرورانہ انداز میں بےٹھ گیا، جیسے شرفو صاحب نے اسے سال گرہ کا قیمتی تحفہ دے دیا ہے۔

                معززین دوبارہ سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔ اُن لوگوں کے درمیان سرگوشیاں جاری رہیں ‘البتہ خوارین سرکھجاتے ہوئے اُن کے فیصلے کے منتظر بےٹھے تھے۔ گلابی اُٹھ کر سب لوگوں کو سلور کے مڑے تڑے گلاس میں پانی پلارہا تھا۔ ہر کسی کو یہ کوشش تھی کہ سب سے پہلے اسے پانی ملے۔ اس چکر میں گلابی گالیاں سن رہا تھا۔ کوئی اسے اپنی طرف بے دردی سے گھسیٹ رہا تھا اور کوئی نوچ رہا تھا،لیکن اس کے باوجود وہ بڑی فرض شناسی کے ساتھ اپنا فرض پورا کررہا تھا، جیسے محاذ جنگ پر زخمیوں کو پانی پلارہا ہو۔

                ساڑھے تین گھنٹے کی مختصر خفیہ میٹنگ کے بعد اچانک چودھری بشیر میز کے پیچھے سے نکلے اور دونوں ہاتھ اٹھاکر زور سے نعرہ لگایا۔

                ” ہوگیا بھئی ہوگیا،فیصلہ ہوگیا….سب کچھ طے ہوگیا۔“

                مگر اُن کی کچی ہوگئی ۔اتنی دیر میں تمام خوارین سوچکے تھے اور اس وقت وہ سب بڑے بے ڈھنگے انداز میں ایک دوسرے پر گر کر سورہے تھے۔ کسی کا پیر کسی کے منہ پر‘ کسی کا ہاتھ کسی کے پیٹ پر تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ کسی نے انہیں گولیاں مار کر ہلاک کردیا ہے۔

                ”اوئے …. اوئے یہ تو سب سوگئے….اب یہ کیسے اُٹھیں گے ؟ “چودھری صاحب پریشان ہوگئے۔

                ”ابے میں اُٹھاتا ہوں انہیں بھوتنی والوں کو ۔“استاد دلارے بھنا کر بولے اور کھڑے ہوکر زور سے چلائے۔” پلاﺅ کون کھائے گا؟“

                اچانک ہی تمام سوئے ہوئے ‘ انسان جاگ گئے اور فوراً ہاتھ اُٹھا اُٹھا کر بولے۔” میں…. میں….میں….“

                حالاں کہ چاچا چراندی معززین کے ساتھ شامل تھے ‘ وہ بھی چونک کر بولے۔” میں کھاﺅں گا…. کہاں ہے ؟کدھر ہے یہ پلاﺅ کا بچہ ….سامنے تو آئے میرے۔“

                ”اُٹھ جاﺅ…. کتے کی نیند سونے والوں….اٹھ جاﺅ۔“ شرفو صاحب نے اپنی احمق قوم کے نمائندوں کو مخاطب کیا۔” اور غور سے سنو….ہم لوگ دو دن بعد پکنک پر جارہے ہیں ….سب لوگ تیاریاں کرلیں اور ہم نے آپ لوگوں کے ذمے کام ڈالے ہیں۔ ان کاموں کو سب میں تقسیم کردیا ہے۔اس میں پیسوں کی ضرورت بھی ہوگی….معززین پانچ پانچ سو روپے دیں گے اور خوارین ڈھائی ڈھائی سوروپے دیں گے۔ کل صبح ہی صبح مرغوں کے اُٹھنے سے پہلے سب لوگ یہ رقم دفتر مےں جمع کروادیں گے۔“

                اب چودھری بشیر صاحب بولے۔ ’گاڑیوں کا انتظام دنبہ نائی اور یامین کریں گے اوربریانی کی دیگ پکوانے کی ذمہ داری ہم نے ….“

                ”میں میں میں …. میں …. “سب خوارین ان کی بات کاٹ کر ہاتھ اٹھاکر بول پڑے۔

                ”بریانی چاچا بنوائیں گے۔ “چودھری بشیر نے جملہ مکمل کیا اور سب کے اٹھے ہوئے ہاتھ مردہ سانپوں کی طرح گرپڑے ،جب کہ چاچا کی رال برابر بےٹھے ہوئے مجو قصائی کے ہاتھ پر گرگئی۔ مجو کا منہ کراہیت سے ابلیس جیسا ہوگیا۔

                ”چاچا یہ کیا کردیا؟“ وہ چلایا۔

                ”ابے مصالحے والی بریانی کی خوشی میں تھوڑی سی رال تیرے پلید ہاتھ پر گر گئی تو تجھے موت تو نہیں آگئی نا؟ کوئی گوبر تو نہیں لگادیا تیرے ہاتھ پر …. ویسے ہی اتنا کالا بھیل ہاتھ ہے ۔ اچھا ہے، اس پر رال گر گئی۔ “چاچا اُلٹا اس پر ناراض ہونے لگے۔

                ”اب تو تمہیں ہاتھ کٹوانا پڑے گا یا پھر تیزاب سے دھونا پڑے گا۔“ یامین نے یہ منظر دیکھ لیا تھا، اسی لےے مشورے سے نوازا تھا۔

                ”اس لےے ہماری کالونی ترقی نہیں کرتی۔“ شرفو صاحب نے بھی یہ تماشا دیکھ لیا تھا اور ان لوگوں کے مکالمے سن لےے تھے۔ ”ہم پکنک کا پروگرام ترتیب دے رہے ہیں اور یہ لوگ جنگلی پن کا مظاہرہ کررہے ہیں۔“

                ”ابے یہ سخن کدھر چلا گیا ہے؟…. نظر نہیں آرہا۔“ خالو خلیفہ نے خوارین کے پھٹکار زدہ چہروں کے درمیان سخن کا مکروہ چہرہ تلاش کرتے ہوئے کہا۔

                ”خالو….اسے ہے نا….ہی ہی۔“ دنبہ نائی ہنسنے لگا۔

                ”کیا ہوگیا اسے…. کہیں اللہ کرے، کینسر تو نہیں ہوگیا؟“

خالوخلیفہ نے تجسس اور اشتیاق سے اسے دیکھا۔

                ”نہےں اصل میں اسے….“ یہ کہہ کر دنبہ نائی ‘گلابی کا منہ پھلانگ کر آگے بڑھا۔ گلابی کے حواس اُڑگئے۔ دنبے نائی نے خالو کو کان آکے کرنے کے لےے کہا۔خالو خلیفہ نے کان آگے کیا اور پوچھا۔”اسے کوئی خفیہ بیماری ہوگئی ہے کیا؟ “

                مگردنبہ نائی کان میں بات کہنے کے بجائے اس میں جھانک کر دیکھنے لگا۔

                ”ابے اب بول بھی چک….“خالو کان جھکاتے ہوئے ٹیڑھے کھڑے عجیب سے لگ رہے تھے۔” بول دے…. دیکھ…. میرا کان تھک گیا ہے۔“

                ”ابے…. اُبلے ….خالو…. مجھے آپ کے کان سے دوسری طرف کا نظر آرہا ہے۔واہ یار…. یہ تو کمال ہوگیا….بیچ میں کچھ بھی نہیں ہے۔“دنبہ نائی پوری پبلک کو سنارہا تھا۔

                ”بول دے میرے باپ….بول….اب میں تین تک گنوں گا اور اپنا کان واپس لے لوں گا۔“ خالو اب تک اسی ایکشن سے کھڑے تھے۔

                دنبے نائی نے آہستہ آواز میں ان کے کان میں کچھ بتا د یا ۔ ساتھ ساتھ ایکشن بھی دیئے،جن سے لوگوں نے اندازہ لگالیا کہ اس نے کیا کہا ہے اور سخن کو کون سی بیماری لاحق ہو گئی ہے۔

                ”اچھا اچھا…. تو سخن کو موشن ہورہے ہیں…. کیا اس نے کوئی اُلٹی سیدھی چیز کھالی تھی؟ “خالو نے زور سے کہا اور لوگوں کے اندازے دنبے نائی کے ایکشن کے بارے میں درست نکلے۔ اس نے بڑے واضح اور وضاحت سے ایکشن دیئے تھے۔

                ”اچھا…. اب کل ہم سب دوبارہ یہاں جمع ہوں گے اور تیاریاں مکمل کریں گے۔“ شرفو صاحب نے میٹنگ ختم کرنے کی غرض سے اختتامی جملہ کہا اور تماشائی باہر جانے لگے۔

                                                ٭٭٭

                اگلے روز صبح ہی سے شرفو صاحب کے دفتر میں رونق دکھائی دے رہی تھی ۔ پوری کالونی کو خبر ہوچکی تھی کہ کالونی کے سرکردہ اور چیدہ چیدہ …. پیچیدہ معززین اور خوارین پکنک منانے جارہے ہیں ۔کالونی کے کالے کلوٹے اور آدھی آدھی چڈیاں پہنے ہوئے بچے دفتر کے آگے جمع ہوگئے تھے اور بڑی دل چسپی سے آنے جانے والوں کو دیکھ رہے تھے۔

                سخن کو اس پروگرام کی بھنک پڑی تو وہ چھٹے دن” بسترِ موشن“ سے سلو موشن میں اُٹھا اورا علان کردیا کہ آج وہ چھٹی نہائے گا ،یعنی غسلِ صحت کرے گا ۔ اس کی والدہ تو کسی رشتے دار کے گھر گئی ہوئی تھیں ۔ وہاں کسی کا انتقال ہونے والا تھا ۔گھر میں خالہ جان آئی ہوئی تھیں۔

                خالہ اس کا اعلان سن کر سخت تعجب میں پڑگئیں۔” تو نہائے گا؟؟…. یہ کیا سن رہی ہوں…. میں نے تو سنا ہے کہ تو آخری بار جب نہایا تھا جب تو پیدا ہوا تھا اور اب شاید تب تجھے نہلایا جائے گا جب تو مرے گا۔“

                ”خالہ ،یہ کس جنگلی کے بچے نے کہا ہے خالہ ؟“ سخن سخت مشتعل ہوگیا۔اس نے اپنا تکیہ نوچ لیا۔

                ”اے لے ….تونے ہی تو بتایا تھا….بھول گیا؟ “خالہ نے اسے یاد دلاتے ہوئے کہا۔

                ” اوہ خالہ…. آئی سی خالہ….“ سخن کا غصہ آئس کریم کی طرح ٹھنڈا ہوگیا۔” خالہ ،اصل میں کبھی کبھی میں شوقیہ بکواس کرلیتا ہوں …. خالہ میں تو ہر چھے مہینے بعد نہاتا ہوں بڑی پابندی سے اور میری پابندی بڑی سخت ہوتی ہے، جس دن نہاتا ہوں نا خالہ، کلینڈر پر کوئلے سے نشان لگادیتا ہوں، تاکہ چھے مہینے بعد ایک دن بھی آگے نہ ہو جائے۔“

                ”پر آج نہاکر کیا کرے گا…. ابھی میل تو ٹھیک سے چڑھنے دے…. اور یہ کھرپی لے کر کہاں جارہا ہے؟ “خالہ نے سخن کے ہاتھ میں کھرپی دیکھ کر پوچھا۔

                ”خالہ جب میں نہاتا ہوں تو اس کھرپی سے میل کھرچ کھرچ کراُتارتا ہوں …. صابن تو گندہ ہوجاتا ہے نا خالہ۔ “یہ کہہ کر سخن غسل خانے میں جاگھسا ۔

                دس سیکنڈز میں اچھی طرح نہانے کے بعد وہ باہر نکلا۔ پھر اس نے وہ پتلون پہنی، جو اس کے پردادا نے لنڈا بازار سے نیلامی میں خریدی تھی اور نسل در نسل منتقل ہوتی ہوئی سخن کے پاس آگئی تھی ۔ وہ یہ پینٹ عید کے عید پہن کر کالونی میں شومارتا پھرتا تھا ۔آ ج اس نے وہی پینٹ پہن لی اور اس پر مرحوم خالو کے پھول دار تہمد سے بنی ہوئی شرٹ پہن لی ۔اس نے تیار ہونے کے بعد خود کو آئینے میں دیکھا۔ آئینے کو تو گویا اُبکائی آگئی تھی۔ سخن پر کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔ وہی ملیچھ کا ملیچھ لگ رہا تھا۔

                سخن نے صدقے واری جانے والی نظروں سے خود کو آئینے میں دیکھ کر بلائےں لیں اور کن پٹیوں پر بند مٹھیوں کی انگلیاں زور سے چٹخائےں ۔جھوٹ بول کر خالہ سے کچھ پیسے اُدھار پکڑے اور خباثت سے مسکراتا ہوا باہر نکل آیا۔ سخن کے مینڈھے نے اسے بڑی حیرت سے دیکھا تھا۔ سخن جب دفتر پہنچا تو وہاں پہنچتے ہی اس کی شہرت ہوگئی۔

                ”ابے آگیا…. سخن آگیا۔“ ہر طرف سخن سخن ہونے لگی۔

                سخن کا سینہ چوڑا ہوگیا۔ وہ اکڑ کر دفتر مےں داخل ہوگیا۔ چاچا چراندی سامنے ہی کھڑے تھے۔ وہ سخن کو دیکھتے ہی بولے۔               ”ابے تو آگیا…. ایمان سے بڑی کمی محسوس ہورہی تھی تیری، فالتو فنڈ میں….“

                ”کیا ہوا چاچا…. کیا کمی محسوس ہورہی تھی میری؟“ سخن نے جنٹل مین کی طرح جیبوں میں ہاتھ ڈالتے ہوئے کہا۔

                ”ابے بھیا وہ گلی کا گٹر بھرگیا تھا…. مائیکل چھٹیوںپر گیا ہوا ہے نا…. اس لےے سب تجھے ہی یاد کررہے تھے…. تو بڑی مہارت اور دل سے اور بہت اچھاسا گٹر صاف کرتا ہے نا….“ چاچا نے آگے بڑھ کر اس کے بالوں میں محبت سے ہاتھ پھیرا ۔” چل اب دیر مت کر ….جا…. شاباش …. بانس اُٹھا….سر کو جھکا اور شروع ہوجا۔“

                سخن کا منہ کھوتے جیسا ہوگیا۔ ”چاچا…. دیکھ نہیں رہے میں پینٹ شرٹ پہن کر آیا ہوں اور تم مجھے کہہ رہے ہوں کہ میں گٹر صاف کروں۔“

                ”ابے تو پینٹ شرٹ پہن کر کون سا تیرے میں کوئی کوے کا پر لگ گیا ہے؟ کون سا کسی نے تجھے کوئی ٹرافی دے دی؟ کون سا کسی نے تجھے کندھے پر بٹھالیا ؟ تو پینٹ شرٹ پہن لے یا اس پر کوٹ ٹائی بھی چڑھالے…. رہے گا وہی ہُوش کا ہُوش…. بات کررہا ہے فالتو فنڈ میں۔“ چاچا کے اندر کا بے باک ، بے دھڑک اور منہ پھٹ چاچا پن باہر آگیا تھا۔

                دفتر میں جھانکنے والے کالے پیلے بچے سخن کی شان میں تعریفی کلمات سن رہے تھے ۔ چاچا کی بات پر بچے ہنسنے لگے۔ سخن غصے میں بچوں کو ڈانٹنے لگا۔

                ”ابے دفع ہوجاﺅ ادھر سے …. اپنے حلیے دیکھ کر نہیں رہے ننگے پتنگے…. اور دوسروں پر ہنس رہے ہیں…. بھاگو ادھر سے….“

                بچے دور ہٹ گئے اور تالیاں بجاتے ہوئے شور مچانے لگے۔” ہُوش کا ہُوش…. ہُوش کا ہُوش۔ “ساتھ میں بچوں کا ٹھمکوں والا ڈانس بھی چل رہا تھا۔

                اسی وقت مزید شور بلند ہوا اور معززین کا گندہ ریلا دفتر مےں گھس آیا ۔آگے آگے شرفو کونسلر صاحب مٹکتے ہوئے چلے آئے تھے۔

                 انہوں نے سخن کو دیکھتے ہی کہا۔” ابے آگیاتو…. پیٹ کا معاملہ سیٹ ہوگیا؟“

                ”ہاں ہاں ،شرفو صاحب …. میں بھی پکنک پہ چلوں گا۔“ سخن نے دانت نکالتے ہوئے کہا۔

                ”او چلیو بھئی چلیو….“ شرفو صاحب کے عقب سے چودھری بشیر نکلے اور سخن کے کندھے پر ہاتھ مار کر بولے۔” تیرے بغیر تو پکنک کا مزہ ہی نہیں آئے گا۔“ پھر وہ چاچا کی طرف مڑ کر بولے۔” چاچا…. پلاﺅ کی دیگ کا آرڈر تو دے دیانا….؟“

                ”ہاں دے آیا تھا۔“چاچا نے مستعدی سے کہا۔” اور دیگ بھی ایسی چنی ہے میں نے ‘ جس پر لوہے کا مضبوط ڈھکن لگا ہوا ہے اور ڈھکن پر تالا بھی لگاہوا ہے۔پکنک پر دیگ لے کر جائیں گے تو تالا لگادیں گے، تاکہ کوئی حرام خور راستے میں دیگ کھول کر پلاﺅ نہ کھالے فالتو فنڈ میں۔“

                ”گاڑیوں کا کیا ہوا شرفو صاحب؟ “انگریزا نکل نے سوال کیا۔

                ”پتا نہیں کیا ہوا؟ “شرفو صاحب خو دلاعلم تھے۔

                ”وہ دنبہ نائی بتالاتاتے تل تھبا تت دالیوں تا انتدام ہودائے دا۔“(وہ دنبہ نائی بتارہا تھا کہ کل صبح تک گاڑیوں کا انتظام ہوجائے گا) گلابی بول پڑا۔

                ”چلو تو پھر ٹھیک ہے …. اب باقی کام جو جو رہ گئے ہیں ‘ وہ نمٹالو جلدی جلدی ۔“ خالو خلیفہ تالی بجاکر بولے۔

                                                ٭٭٭

                اگلے روز تو کالونی کا نقشہ ہی تبدیل نظر آرہا تھا۔ جس گلی میں کونسلر صاحب کا دفتر تھا، وہ انسانوں اور جانوروں سے بھری ہوئی تھی۔ گھروں کی چھتوں پر بھی بہت سے لوگ چڑھے ہوئے تھے ۔ تمام لوگوں کی نگاہیں معززین پر جمی ہوئی تھی۔ اُن میں شرفو صاحب سب سے زیادہ نمایاں دکھائی دے رہے تھے۔ انہوں نے اپنی شادی کا گولڈن شلوار قمیص کا جوڑا پہن رکھا تھا اور وہ اتنا کڑک ہورہا تھا جیسے گوند یا لئی کا کلف دیا ہو۔کپڑوں سے زیادہ خود شرفو صاحب اکڑے ہوئے تھے۔ کالر تک کا بٹن لگا رکھا تھا۔ خون رکنے کی وجہ سے اُن کا چہرہ خونی ہوگیا تھا اور گردن کی رگیں پھول کر نمایاں ہوگئی تھیں۔ اُن کے حلق سے پھنسی پھنسی آواز نکل رہی تھی، مگر مجال ہے جو اوپر کا بٹن کھولنے کا خیال یاخیالچہ بھی آیا ہو۔ وہ اپنی” پس نالتی“ خراب کرنا نہیں چاہتے تھے۔ آج صحیح معنوں میں وہ کونسلر بن گئے تھے۔ انہوں نے گھر سے آکر یہاں بھی کسی کی سلام کا جواب دیا، نہ کسی سے سیدھے منہ بات کی اور نہ ہی ہاتھ ملانا گوارا کیا۔

                کم وبیش یہی حال دیگر معززین کا تھا۔ چودھری بشیر نے دس کلو وزنی پگڑی باندھ رکھی تھی۔ کڑھائی والا کالا کرتا اور سفید تہمد زیب تن کیا ہوا تھا۔ ہاتھ میں ایک لمبا اور موٹا سا ڈنڈا بھی گنڈا سے کی طرح پکڑا ہوا تھا۔ مونچھوں کو مکھن لگاکر مڑی ہوئی تلوار کی طرح اوپر اُٹھارکھا تھا۔اُن کے مزاج بھی نہیںمل رہے تھے۔

                 انگریز انکل اپنے ڈھائی پیس سوٹ میں ملبوس تھے۔ ڈھائی پیس اس لےے کہ انہوں نے ہاف پینٹ پہن رکھی تھی ‘یعنی گھٹنوں تک چڈا ۔ اس پر وہ ایسے پرغرور انداز میں اکڑے کھڑے تھے، جیسے انہوںنے کسی آدم خور شیر کو ہلاک کرکے مظلوم قبیلے والوں کی جان چھڑادی ہو۔ خالو خلیفہ نے” کھوتئی کلر“ کا بڑے گھیر والا شلوار سوٹ پہنا ہوا تھا اور پورے کے پورے کھوتے لگ رہے تھے۔

                 سب سے پہلے عجیب وغریب لباس چاچا چراندی کا تھا۔ کسی کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا ہے۔ پینٹ شرٹ ،کرتا پاجامہ ، جینز ٹی شرٹ ،تہمد کرتا ہے یا کچھ اور ہے۔ چاچا سے یہ معمہ دریافت کرنے کی کسی میں ہمت نہ ہوئی۔

                گلی میں ایک اونٹ گاڑی کھڑی تھی۔ اونٹ گاڑی والا حیرت سے معززین کو دیکھ رہا تھا ۔ اونٹ بھی کچھ کم حیران نہیں تھا۔ اونٹ گاڑی کا بندوبست یامین اور دنبے نائی نے کیا تھا۔برابر میں جمال گھوٹا اپنی گدھا گاڑی کے ساتھ کھڑا تھا۔ اس نے اپنے گدھے کولمبس کو بھی پکنک کی خوشیاں اور مسرتوں سے محروم نہیں کیا تھا اور اسے پیٹ بھر کے چارا دیا تھا۔ ساتھ ہی اس کے پیٹ پر مہندی سے ”پکنک مبارک“ لکھ دیا تھا۔ دو غبارے گدھے کی کمر پر باندھ دیئے تھے اور ایک بڑا سا رنگین چشمہ اس کی آنکھوں پر لگادیا تھا۔ اب سب سے زیادہ معزز اور پڑھا لکھا کولمبس ہی لگ رہا تھا۔ باقی نام نہاد معززین کی عزت اور خوب صورتی کے بلب اس کے آگے فیوز ہوکر رہ گئے تھے۔

                شرفو صاحب اونٹ گاڑی کا بندوبست کرنے پر یامین اوردنبے نائی پر برہم ہورہے تھے۔”ابے یہ اونٹ گاڑی پر ہم پکنک منانے جائیں گے ؟ “شرفو صاحب پھنسی پھنسی آواز میں بول رہے تھے۔” کبھی ایساسنا ہے؟“

                ”ہاںایسی پھنسی پھنسی آواز میں نے ایک دفعہ پہلے بھی کہیں سنی ہے۔“ یامین یاد کرتے ہوئے بولا۔” ہاں…. یاد آیا ایک بار میرے کتے کی حلق میں ہڈی پھنس گئی تھی، اس کے منہ سے ایسی ہی آواز نکل رہی تھی۔“

                ”ابے میں اپنی آواز کی بات نہیں کررہا ہوں ۔“ شرفو صاحب مچل مچل گئے۔

                ”توپھر….؟ “نادان یامین چونکا۔

                ”میں اونٹ گاڑی کے بارے میں پوچھ رہا ہوں …. ہم اونٹ گاڑی پر پکنک منانے جائیں گے؟“

                ”ارے نہیں شرفو صاحب….“ دنبے نائی نے مودبانہ لہجے میں کہا۔” آپ اتنی معززشخصیت ہیں کالونی کے …. کونسلر ہیں ، کوئی بھنگی چمار تو نہیں ہےں۔ اونٹ کی گاڑی پر ہم سب بےٹھ جائیں گے۔ آپ اونٹ پر بےٹھ جانا۔“

                ”اورپھر ہم سب گانا گائیں گے…. اونٹ پے بیٹھا میرا شرفو…. اونٹ کے پیچھے مخنچو….“ مجو قصائی نے تالی بجاتے ہوئے لہک کر گانا گایا۔

                شرفو صاحب کو خطرہ لگا کہ اُن کی بے عزتی کا پر جوش آغاز ہوگیا ہے اور اب یقینا ہر کوئی اپنی اپنی رائے کا اظہار فرمائے گا، لہٰذا انہوں نے پھنسی ہوئی آواز میں کہا۔” چلو اب دیر نہیں کرو۔ سامان اونٹ گاڑی پر رکھ کر بےٹھ جاﺅ….“

                اُن کا کہنا تھا کہ ہر طرف ایک ہلڑ مچ گیا۔ پکنک کا سامان اونٹ گاڑی پر رکھا جانے لگا۔ خوارین اُچک کر اونٹ گاڑی پر بےٹھ گئے۔ بابو باﺅلا اور چپٹا ڈھول بجارہے تھے۔ استاد دلارے نے شہنائی کو رُلانا شروع کردیا تھا۔ چاچا نے اپنی کسٹڈی میں پلاﺅ کی دیگ چڑھوائی۔ سخن‘ للو‘ پنجو اور گلابی نے دیگ ایک بوری پر رکھ کر چڑھوائی تھی۔ چاچا نے پبلک کو اپنا رعب اور دبدبہ دکھانے کے لئے فضول میںسخن کی گدی پر ایک ٹائٹ قسم کا جھانپڑ دے مارا تھا۔ سخن کی گدی سے دھواں نکلنے لگا تھا۔ وہ دو منٹ تک گم صم کھڑا گٹر کے ڈھکن کو تکتا رہا۔ اس کی یادداشت کی نشریات بحال ہوئی تو وہ” یا ہو“ کا نعرہ لگاکر اونٹ گاڑی پر سوار ہوگیا۔

                معززین کو یہ گوارا نہ تھا کہ وہ بھی خوارین کے ساتھ اونٹ گاڑی پر بےٹھ کر پکنک پر جائیں۔ آخر ان کے اسٹیٹس میں اور خوارین کی حےثیت میں فرق تھا، لہٰذا وہ جمال گھوٹے کی سجی سجائی گدھا گاڑی پر سوار ہوگئے۔ کولمبس نے اپنا ڈھینچو والا باجابجاکر معززین کو خوش آمدید کہا تھا۔آخر یہ قافلہ پکنک کے لئے روانہ ہوگیا۔ اس جلوس کی قیادت کولمبس کررہا تھا ،کیوں کہ سب سے آگے وہی تھا۔ چاچا چراندی دیگ پر بےٹھ گئے تھے۔ دیگ کے ڈھکن پر تالا لگا ہوا تھا۔ چابی چاچا کی اَنٹی میں تھی۔ وہ انٹر نیشنل جاسوس کے انداز میں ایک ایک کی شکل دیکھ رہے تھے کہ کون دیگ کو ندیدے پن سے دیکھ رہا ہے ۔ دیگ گرم ہورہی تھی، مگر آفرین ہے چاچا پر کہ جنہوں نے اپنی ذمے داری بہ احسن خوبی سنبھال رکھی تھی اور اپنا مورچہ نہیں چھوڑا تھا۔

                سب سے زیادہ مصیبت میں گلابی تھا۔ کولر کا انتظام تو نہیں ہوسکا تھا، لہٰذا مٹکے میں پانی بھر لیا گیا تھا۔ بس تھوڑا سا مسئلہ یہ تھا کہ مٹکے کے پیندے میں ایک چھوٹا سا سوراخ تھا۔ یہ مٹکا للو نے اسے مہیا کیا تھا۔ گلابی نے مٹکے کے سوراخ دیکھا نہیں اور پانی بھرنا شروع کردیا تھا۔ دو گھنٹے تک وہ مٹکے میں پانی پھرتا رہا تھا ،مگر تب بھی مٹکا نہیں بھرا تھا۔پھر اس نے بوکھلا کر مٹکے کا مکمل چیک اپ اور الٹرا ساﺅنڈ وغیرہ کیا تو پتالگا کہ اس کے پیندے میں سوراخ ہے۔ اس جگہ انگلی رکھ کر اس نے نل سے پانی بھرا۔ بس تب سے اس کی انگلی مٹکے کے سوراخ سے اب تک نہیں ہٹی تھی۔ وہ اونٹ گاڑی پر مٹکے کو گود میں لئے بیٹھا تھا جیسے کوئی دیہاتی عورت اپنے بچے کو گود میں لئے بیٹھی ہو۔

                ”ابے گانا لگا گانا…. ریڈیو چالو کر….“ یامین نے للو سے کہا،جس کے پاس دادا کے زمانے کا صندوق جیسا ریڈیو تھا۔ یہ ریڈیو للو کے دادا کا لارڈ ماﺅنٹ بیٹن کی چچی نے کسی کی چغلی کرنے پر انعام میں دیا تھا۔

                ”چل بھئی سخن…. اب کھڑا ہوجا جلدی سے …. نخرے کرے گا تو پڑے گا منہ پے ایک چمپٹ۔“ استاد دلارے اونٹ گاڑی پر ہی اکڑے ہوئے اکڑوںبیٹھے تھے۔ انہوں نے دو لاکھ کوشش کی تھی کہ وہ معززین کے ساتھ گدھا گاڑی پر سوار ہوجائیں، مگر وہاں جگہ نہیں تھی، اس لئے وہ بہت تپے ہوئے بیٹھے تھے۔

                ”میں…. میں اکیلا کیسے ناچوں؟ “سخن توپہلے ہی تیار بیٹھا تھا۔

                ”تو دوسرا جنگلی کہاں سے لائیں؟“مجو قصائی نے چوٹ کی۔

                ”تم میں سے کوئی بھی آجائے۔ “سخن بھی ہوشیارہوگیا تھا۔

                ”اس طرح دو جنگلی ہوجائیں گے، یعنی جنگلی جمع جنگلی۔“ یامین نے قہقہہ لگایا۔

                ”میں گانا لگارہا ہوں…. ایکشن لے لو….“ للو نے ریڈیو کے بٹن پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔

                سخن کراٹے کا پوز بناکر کھڑا ہوگیا۔

                ”ابے یہ کیا کررہا ہے؟ “دنبہ نائی حیرت سے اسے دیکھنے لگا۔

                ”ڈانس کا اسٹارٹ لے رہا ہوں۔“ سخن کے ایکشن میں تبدیلی نہیں ہوئی تھی۔

                ”تونے کیا جیکی چن سے ڈانس سیکھا ہے؟“ استاد دلارے کا موڈ بدستور آف تھا۔

                اتنے میں للو نے زور سے کہا۔” ایک…. دو…. تین ۔“                         اور سخن نے ڈانس شروع کردیا۔ ریڈیو سے بڑا زور دار میوزک اُبھر رہا تھا اور پھر میوزک کے بعد خبریں شروع ہوگئیں۔

                ”یہ ریڈیو پاکستان ہے۔ اب آپ خبریں سنئے۔“

                ”ابے یہ کیا چھچورا پن ہے ۔ “سخن ٹیڑھا کھڑاتھا۔ایکشن ڈانس کا تھا۔” اب میں خبروں پر ڈانس کروں ؟ جلدی سے کوئی گانا لگاﺅ…. کب تک ایسا ٹیڑھا کھڑا رہوں گا۔“

                ”ایسے ہی کھڑا رہ…. ایمان سے بہت اچھا اور خوب صورت لگ رہا ہے ۔ “ چاچا نے دیگ پر بیٹھے بےٹھے تعریف کا غبارہ پھلایا۔

                ” بس کر بس…. بیٹھ جا…. خواہ مخواہ پیٹ پہ زور پڑے گا…. ویسے ہی تیری بیماری کون سی پوری طرح ختم ہوگئی ہے۔ “پنجو نے سخن کی بیماری یاد کرتے ہوئے کہا۔

                ”بھائی اونٹ گاڑی والے…. ہم کس جگہ جارہے ہیں ؟“ اُستاد دلارے نے اونٹ گاڑی کے ڈرائیور کا کندھا پوری قوت سے جھنجوڑ کر پوچھا۔ وہ غریب اونٹ میں گھستے گھستے بچا۔

                ”پپ…. پتا نہیں۔“ وہ حواس بحال کرتے ہوئے بولا ۔ ”چودھری صاحب اور شرفو صاحب سے پوچھا تھاتو انہوں نے کہا تھا کہ پکنک جانا ہے۔“

                ”پکنک جانا ہے…. پکنک کیا کوئی گوٹھ ہے؟“ استاد دلارے چونک پڑے ۔

                ”ارے رو کو گدھا گاڑی کو…. شرفو صاحب سے معلوم کرو کہاں جانا ہے۔ “

                 اونٹ گاڑی کے ڈرائیور نے رفتار ہلکی کردی۔

                ”تیز چلا اسے ۔“ استاد نے اونٹ گاڑی والے کی کمر پر زور سے بکوٹابھرا۔

                 اونٹ والا اونٹ کی طرح بلبلا کر رہ گیا اوراس نے اونٹ کی رفتار بڑھادی۔ اچانک جھٹکا لگنے سے چپٹے کے ہاتھ سے لوٹا چھوٹ گیا۔ وہ نا جانے کس پراسرار مقصد سے خالی لوٹا لے کر پکنک پر جارہا تھا۔ لوٹا گرتے ہی چپٹے کے حلق سے دل خراش چیخ نکلی، جیسے کسی عورت سے اس کا لخت جگر جدا ہوگیا ہو۔

                ”اوئے …. ابے میرا…. میرا لوٹا…. روکو اونٹ کو…. روکو….“ اس نے واویلا شروع کردیا۔

                ”لوٹے میں تیری اماں کا جھمکا تھا سونے کا؟ ہیں….تیرا ڈومیسائل رکھا تھا اس میں…. کیا رکھا تھا چپٹی ناک والے؟“ چاچا چراندی گرم گرم دیگ کے ڈھکن پر بیٹھے بیٹھے خطرناک بڑھیا کے انداز میں ہاتھ نچاتے ہوئے کل کلائے۔ صاف ظاہر تھا کہ اب تپش رفتہ رفتہ سفر کرتی ہوئی اُن کی دماغ تک پہنچ گئی تھی۔

                مگر کسی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ چپٹا،بابو باﺅلے کی شلوار پکڑ کر بیٹھ گیاتھا۔کالونی اب بہت پیچھے رہ گئی تھی۔ گدھا گاڑی آگے آگے کچے راستے پر آندھی طوفان کی طرح بھاگے جارہی تھی۔ معززین گدھا گاڑی پرکالے بینگنوں کی طرح لڑھکتے ہوئے آپس میں گڈمڈ ہورہے تھے۔ ایک موقع پرشرفو صاحب گدھا گاڑی سے غائب ہوگئے۔ انگریزا نکل نے انہیں زور سے آواز دی تو وہ چودھری بشیر کے تہمد میں سے لڑھک کر باہر آگئے ۔جمال گھوٹا پاگل ہوگیا تھا ۔ وہ کولمبس پر مسلسل ڈنڈا برسا رہا تھا اور کولمبس اسے اپنی مادری زبان میں گالیاں دیتا ہوا بھاگا جا رہاتھا۔ اب پہاڑی علاقہ شروع ہوگیا تھا۔

                پیچھے اونٹ گاڑی دوڑی چلی آرہی تھی۔ اونٹ گاڑی پر تمام خوارین تھالی کے سیاست دانوں کی طرح لڑھک رہے تھے۔ انہوں نے گرنے سے بچنے کے لئے ایک دوسرے کی قمیص اور شلواریں پکڑ رکھی تھیں۔ چاچا عزم واستقلال اور مستقل مزاجی کے ساتھ دیگ کے ڈھکن پر جمے بیٹھے تھے۔ دیگ جھٹکے لگنے کی وجہ سے لٹو کی طرح گھوم رہی تھی۔ گلابی اب بھی مٹکے کے سوراخ پر انگلی رکھے ہوئے تھا۔ وہ خود بھی اِدھر اُدھر لڑھک رہا تھا ،مگر اس نے کسی ہیرو کی طرح مٹکے کو چوٹ لگنے سے بچایا ہوا تھا ۔سخن بابو باﺅلے کی پڈی پر چڑھ کر پیر تسمہ پا کی طرح چپک گیا تھا۔ بابو کی جان عذاب میں آگئی تھی۔

                نا جانے یہ طوفانی بھاگ دوڑ کتنی دیر تک جاری رہتی۔ آخر ایک جگہ کولمبس رک گیا۔ اس کے پیچھے اونٹ گاڑی نے بھی آکر بریک لگادیئے۔ تمام لوگوں کے کل پرزے،ہڈیاں گڈیاں اور نٹ بولٹ ڈھیلے پڑچکے تھے۔ سب اپنی اپنی جگہ پڑے لمبی لمبی سانسیں لے رہے تھے۔استاد دلارے کو پوری دنیا میں سب سے زیادہ چڑ بابو باﺅلے سے تھی، لیکن حالات نے استاد کو بابو باﺅلے کے میلے چیکٹ پیروں پر پہنچا دیا تھا۔ سخن جھٹکا لگنے کے وجہ سے بابو باﺅلے کی پڈی سے توتے کی طرح اُڑ کر اونٹ کی ڈرائیور سے جاٹکرایا تھا۔ اس نے مہارت سے اونٹ کی پونچھ نہ پکڑی ہوتی تو دونوں نا جانے کہاں ہوتے۔

                اُدھر گدھا گاڑی پر معززین کا حال بھی برا تھا۔جب حواس بحال ہوئے تو وہ تمام افراد گاڑیوں سے نیچے اُتر آئے۔اب ان لوگوں نے ٹھیک طرح سے وہ علاقہ دیکھا۔ دور دور تک ویرانہ پھیلا ہوا تھا۔ قرب و جوار میں اونچے نیچے پہاڑ چھوٹے بڑے ٹیلے ‘ پتھر‘ سفوف جیسی پیلی مٹی‘ جنگلی درخت اور پودے تھے۔ وہاں ہوا خاصی تیز چل رہی تھی۔ سڑک کا دور دور تک نام ونشان نہ تھا

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

کچھ کہنا تھا تم سے ۔۔۔ بِینوبسواس/عامر صدیقی

کچھ کہنا تھا تم سے بِینوبسواس/عامر صدیقی ہندی کہانی …………….  ویدیہی کا من بہت اتھل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے