سر ورق / مضامین / اقبال تیری یاد ستاتی بہت ہے…یم زیڈ شیخ

اقبال تیری یاد ستاتی بہت ہے…یم زیڈ شیخ

(یومِ اقبال پر خصوصی تحریر )

             اقبال تیری یاد ستاتی بہت ہے

ایم زیڈ شیخ

                                ******

             بتوں سے تجھ کو امیدیں، خدا سے نومیدی

               مجھے بتا تو سہی اور…. کافری کیا ہے؟

آہ! نگاہیں ڈھونڈتی ہیں، دل تڑپتا ہے اور وطن عزیز کی دگرگوں حالات دیکھ کر لبوں پر بے اختیار ایک ہی جملہ  نکلنے کو ملچلتا ہے-” اقبال تیری یاد ستاتی بہت ہے”

علم کی شمع کا اجالا ہر سو بکھر پڑا ہے-ہر مدرسے میں روزانہ جس شخصیت کے اشعار بآواز بلند گونجتے ہیں، افسوس کے ہم اس شخص کے افکار کو سمجھنے سے قاصر ہیں – وہ درد جو اقبال رحمۃ اللہ علیہ اپنے سینے میں لئے ہوئے اس جہان فانی سے کوچ کر گئے، اس کا قلع قمع تو درکنار ہم ان ہی موذی بیماریوں کا شکار ہو کر آج دنیا بھر میں ٹکڑے ٹکڑے ہو کر پھررہے ہیں –

اگر اقبال رحمۃ اللہ علیہ کی شاعری کو قریب سے دیکھا جائے تو اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اس بات کو بخوبی سمجھتے تھے کہ مسلمانان عالم کو اپنے ہی گھر کے بھیدیوں اور غداروں سے زیادہ خطرہ ہے- ان کے اپنے اندر موجود ایسی کالی بھیڑیں ہیں جو مسلک، برادری، قومیت، نسل، رنگ، زبان اور اس جیسی کئی دوکانوں کا کاروبار کریں گی – اس زہر کا تریاق انہوں نے فقط قرآن و سنت اور دین اسلام کی پیروی بتایا مگر ہم بھی عجیب قوم ہیں – جس ملک میں سگریٹ کی ڈبیا کے اوپر لکھا ہو کہ یہ پینے سے کینسر ہوتا ہے اور ہمارا حال یہ ہو کہ کالج اور یونیورسٹیوں کے ٹوائلٹ تک سے روزانہ سگریٹ کے ٹوٹے ملیں، تو شاید اقبال کے اس مصرعے” مرد ناداں پہ کلامِ نرم و نازک بے اثر” کی تفسیر تھوڑی سی عملی تبدیلی کے بعد لاگو کرنا ہی آخری حل رہ جاتا ہے – جس قوم کو محبت کی قدر نہ ہو اور جھنڈے میں امن و امان کا سفید رنگ ڈنڈے کے اوپر ہو اس قوم کو امن کے بجائے ڈنڈے کی ضرورت ہوتی ہے –

تیرا ملک میرا ملک، تیرا صوبہ میرا صوبہ، تیرا شہر میرا شہر، تیرا گاؤں  میرا گاؤں، تیری برادری میری برادری، تیرا فقہ میرا فقہ، تیری زبان میری زبان، تیرا لیڈر میرا لیڈر اور حد تو یہ کہ تیری مسجد میری مسجد تک کا سفر ہماری سوچ کی پستی کا مظہر ہے –

سیاسی پنڈتوں نے ان میں سے اکثر بیماریوں کو معاشرے میں پروان چڑھا کر اپنا الو سیدھا کیا اور سات عشرے گزرنے کے بعد بھی ہم اقبال کے خواب کو شرمندہ تعبیر نہ کرسکے-

حرم کے پاسبانوں کی آوارہ گردیاں دیکھ کر اقبال کی روح کو کتنی تکلیف ہوتی ہوگی – کہاں وہ پہنچانا چاہتے تھے اس قوم کو اور کہاں کی دوڑ شروع ہے-تنزلی سے ترقی کا زینہ طے کرنے کے لئے برصغیر کے مسلمانوں کے لئے کیا کیا نہیں کیا گیا – اب یہ ایک صدی جدو جہد کا تناور درخت چند لوگوں کی بے وقوفیوں کی نظر ہو جائے تو پھر ان قربانیوں کا کیا فائدہ……..

      محلوں میں محمود ٹپکتی چھت تلے ایاز ہے

       آ دیکھ کہ بزم جہاں کا اور ہی، انداز  ہے-

جس مٹی کی نمی سے زرخیز چشموں نے پھوٹنا تھا وہ دھرتی بے گناہوں کے خون سے تر ہے-حیرت تو یہ ہے کہ مارنے والا بھی نعرہ تکبیر اور مرنے والا بھی اسی کا نام لیوا- جہاں محمود و ایاز ایک تھے وہاں اب محمود، ایازوں کی بیٹیاں اٹھوا لیتا ہے – بت شکنوں کے کمرے بازارِ حسن کا سماں پیش کرتے ہیں – عزتوں کے محافظ ہی لٹیرے بن رہے ہیں – کہاں وہ معزز جو مسلمان ہونے پر فخر کرتے تھے اور کفار کو بھی رشک آتا تھا اور کہاں آجکل کے تن آسانی کے مرید-

      جہاں صدائے تلاوت تھی اب بجتا وہاں ساز ہے

    آ دیکھ کہ  بزم جہاں کا….. اور ہی، انداز  ہے

لا الہ الا اللہ پر لئے گئے وطن کا حال یہ ہے کہ یہاں زنا، چند سو روپے جبکہ نکاح کی قیمت لاکھوں میں ہے- جس وطن کی سرحدوں کی حفاظت دنیا کی سب سے بہترین فوج کرتی ہو جبکہ وطن کی بیٹیاں چادر کو بھی سر پر بوجھ سمجھتی ہوں بلکہ چادر تو کیا بالوں کا بوجھ بھی برداشت نہ ہو، جہاں عزت کی حفاظت کے لیے پہرے کی ضرورت پڑتی ہو وہاں اقبال کیسے پیدا ہوگا؟ فرعون کے گھر موسی پلتے تو ہیں پیدا نہیں ہوتے – امِ عمارہ سا جذبہءِ جہاد عورتوں میں تو کیا مردوں میں بھی ناپید نظر آتا ہے – خودی سے سیلفی تک کا یہ سفر ایسا ہے جس کی داستان لکھی جائے تو ہر لفظ نم لگے گا –

کہیں نسلوں کی نسلیں کمی کمین گزر جاتی ہیں تو کہیں کم سن بچیوں کو مغربی آقاؤں کے سامنے یوں پیش کیا جاتا ہے جیسے کوئی لذیذ ڈش، کہیں مدرسے کے مدرسے دھماکے سے اڑا دئیے جاتے ہیں تو کہیں علم کے ننھے ننھے طالبوں کے  سینوں میں گولیاں اتار کر یہ بتاتے ہیں کہ ہم اب بھی ذہنی غلام ہیں-

سیاست کی بساط پر بچھے مہروں میں سے کون سلامت رہے یا کون پٹ جائے، کسے فکر ہے – اپنے فائدے کے لیے بنا پیندے کے برتن کی مانند لڑکھڑاتے جاتے ہیں –

امید کی ایک کرن جو اقبال کو جوانوں سے تھی وہ بھی ماند پڑتی جارہی ہے- پہلے ڈش اور کیبل نے اور اب موبائل فون اور انٹرنیٹ کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا نے نوجوانوں کے اندر سے مردانگی کا یوں خاتمہ کیا ہے جیسے دھیمک لکڑی کا-

نرم و نازک سا  چند انچ کا یہ دجال، اپنے اندر مثبت نتائج کے ساتھ ساتھ اتنے منفی اثرات مرتب کرنے لگا ہے کہ جہاد اور جنگ و جدل کا خیال تک کسی کو نہیں آتا- جنگ آزادی کے بعد کا سا نظارہ اکثر دیکھنے کو ملتا ہے-

جن نوجوانوں نے ملک کی تقدیر بننا تھا وہ اپنی تقدیر کا وار سہنے کی سکت نہیں رکھتے – چہرے مرجھائے ہوئے ہیں – بے روزگاری نے خودکشیاں آسان کردی ہیں – پڑھے لکھے جوان بینکوں کی ڈکیتی میں ملوث پائے جاتے ہیں – چوری جیسے جرائم کی تعداد میں روز افزوں اضافہ ہوتا جا رہا ہے -ایسے میں دل بے اختیار پکار اٹھتا ہے کہ

     میری دھرتی میں بہت نمی ہے

     بس فقط ایک  اقبال کی کمی ہے

ڈھاک کے وہی تین پات کہ اقبال پیدا کون کرے؟ مساج سینٹروں کی پیداوار، یا پائل کی جھنکار پر تھرکنے والیاں؟ چند میٹھے بول سن کر عزت نیلام کرنے والیاں، یا آزادی کے نام پر ماڈلنگ کی شوقین –

کچھ آگے کی جانب دیکھتے ہیں – اقبال کا پیغام خودی اور خودداری تھا – اس خودداری کا یہ ہال ہے کہ بھائی اور بہن گھر سے ویلنٹائن ڈے منانے کے لیے الگ الگ جگہوں کا رخ کرتے ہیں – باپ اپنی بیٹی کو بے ہودہ لباس میں ملبوس دیکھ کر بھی منع نہیں کرتا کہ لوگ کیا کہیں گے – جائیداد کی منتقلی کے ڈر سے بہنوں اور بیٹیوں کو قرآن پاک سے شادی کروا کر چار دیواری میں قید کر دیا جاتا ہے – کہاں کی خودی اور کہاں کی مردانگی……..

 ہماری سوچوں کی عکاسی اس سے ہوتی ہے کہ ہم انگریزی تعلیم کو اعلی تعلیم کا نام دے کر اپنے بچوں کا مستقبل اتنا تباہ کر دیتے ہیں کہ وہ ساری زندگی اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہو سکتا – ہم بھول بیٹھتے ہیں کہ اگر ہم اس ملک کا خواب دیکھنے والے کی زندگی کا مطالعہ کریں تو یہ  پتہ چلتا ہے کہ ایک اتنا عظیم مفکر اپنے لخت جگر کو جب نصیحت کررہا ہوتا ہے تو کتنے سنہرے الفاظ میں اسے ساری زندگی گزارنے کا طریقہ سمجھاتا ہے-

اتنا عظیم مفکر اپنی سب سے پیاری چیز، اپنے بیٹے کو اپنی سب سےآخری نصیحت میں یقیناً زندگی کے تجربات کا نچوڑ ہی بتاکرگیا ہوگا –  انہوں نے اپنے بیٹے خالد، کے نام نظم کے آخری حصے میں جو نصیحت کی وہ غور طلب ہے – بیٹے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ خالد! میرے لخت جگر!

    مرا طریق امیری نہیں  فقیری  ہے

   خودی نہ بیچ، امیری میں نام پیدا کر

مگر افسوس صد افسوس! کہ آج اقبال کے افکار کو بھلا کر فقط سال میں ایک دن نومبر کی نو تاریخ کو ہم انہیں یاد کرلیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے اقبال کی روح پر احسان عظیم کردیا-یہ ہمارا المیہ ہے کہ ہم نصیحتیں بھلانے میں ماہر ہیں – بے عملی کی انتہا ہے کہ قرآن مجید بھی ہم سے پردہ کرنے لگ گیا ہے –

ایسے میں جب ہر طرف مایوسی کا گھپ اندھیرا پھیلا ہوا ہے – وطن عزیز میں کوئی بھی شخص ایسا نظر نہیں آتا جو اونگھتی قوم کو جگائے، تو دل بے اختیار پکار اٹھتا ہے کہ” اے خدا!  اقبال سا کوئی اتار تاکہ اس دھرتی پر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مسلمان عزت و وقار سے جی سکیں – عوام اور محافظ ایک دوسرے سے دست و گریباں نہ ہوں – ذرا ذرا سے اختلاف پر گردن نہ کاٹی جائے – گھر سے رزق کمانے کے لئے نکلنے والے کی لاش واپس نہ آئے -”  میرے پاس الفاظ نہیں ہیں جن سے میں وہ کرب تحریر کروں جو وطن عزیز کے حالات دیکھ کر محسوس ہوتا ہے –

      اس ملک میں جہاں زیادتی بہت ہے

         اقبال تیری یاد، ستاتی بہت ہے

ملکی حالات کی تجھ کو کیا دکھاؤں تصویریں

نگاہِ مرد مومن سے  اب نہیں بدلتی تقدیریں

     بے آسرا پھرتے ہیں ہر سو وطن کی گلیوں میں

     شاہینوں کے چہروں پر ہیں بھوک کی تحریریں

       دعا بن کہ تمنا لبوں پہ آتی بہت ہے

        اقبال  تیری  یاد ستاتی بہت ہے

جس دیس کی بہنیں چادر کو بوجھ سمجھتی ہوں

جس دیس میں بارش سے ذیادہ گولیاں برستی ہوں

    جہاں ایک روٹی کی خاطر عزت کا سودا ہو

    جس دیس کا مرد مومن اپنا ضمیر بیچتا ہو

       وہاں تیری خودی چلاتی بہت ہے

      اقبال تیری یاد ستاتی بہت ہے

ٹیپو سی شجاعت، قاسم سا جلال کہاں سے لاؤں؟

بدر کی وہ تین سو تیرہ سی مثال کہاں سے لاؤں؟

      مل جاتے تو ہیں میر صادق یہاں بے شمار

    تم ہی بتاؤ تم سا، اقبال کہاں سے لاؤں؟

       صدا پاک سر زمیں کی آتی روز ہے

      اس موقع پہ تیری ستاتی بہت ہے

     اس ملک میں جہاں زیادتی بہت ہے

     اقبال….. تیری یاد ستاتی بہت ہے

            ختم شد

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ھرمن نارتھروپ فرائی ۔۔۔۔ احمد سہیل

ھرمن نارتھروپ فرائی ۔(Herman Northrop Frye) ::: تحریر ۔۔ احمد سہیل (امریکہ) کینڈین ادبی نقادو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے