سر ورق / کہانی / پینو بے وفا…کے ایم خالد

پینو بے وفا…کے ایم خالد

پینو بے وفا

کے ایم خالد

چک گٹھڑی تے ہو جا تیا کڑے
ترا ٹاہلی ہیٹھ قرار کڑے
مولوی عاشق کی یہ دردناک آواز نعتیہ طرز میں پورے گاﺅں میں گونج رہی تھی۔رات کے دوسرے پہر کا وقت تھا۔کچھ لوگ مولوی کی آواز سے وقت کا اندازہ لگا کر سونے کی کوشش کر رہے تھے ۔ایسے میں مولوی صاحب گاتے ،گاتے گاﺅں سے کافی دور نکل گئے اور ایک ٹاہلی کے درخت کے نیچے کھڑے ہوگئے ۔پھر انہوں نے دوبارہ گانا شروع کر دیا ۔ان کی آواز ایسے پیارے موسم میں دور دور تک سنائی دے رہی تھی ۔انہوں نے دیکھا چاند کی زرد روشنی میں دور کہیں ہیولہ سا ابھرا ۔ان کے دل سے صدا نکلی تو کیا پینو آگئی ؟ان کی آواز ذادہ بلند ہوگئی ۔
چک گٹھڑی تے ہو جا تیار کڑے ۔۔۔ترا ٹاہلی ہیٹھ قرار کڑے
وہ ہیولا اب واضح ہوتا جا رہا تھاپھر اس ہیولے نے ایک عورت کی شکل اختیار کر لی اور قریب آنے پر وہ پینو کی شکل میں آچکا تھا۔
”پینو ! تم آ گئیں ،سچ یقین جانو مجھے یقین نہیں تھا کہ تم آ جاﺅ گی “۔
”وہ تو تمہاری آواز نے جگا دیا ورنہ میں نے کہاں اٹھنا تھا “۔
”اچھا ،اس گٹھڑی میں کیا ہے ۔۔۔؟“
”اس میں میرے کپڑے اور زیور ہیں “۔
”زیور کونسا ہے ۔۔۔؟“
” میری ایک مندری ہے چاندی کی،ایک اماں کا چاندی کا ٹکہ ہے اور ایک دادی اماں کا جھمکا اٹھا لائی ہوں “۔
” بس کام بن جائے گا“۔مولوی عاشق کے چہرے پر اطمینان نمایاں تھا۔”چلو اب چلیں “۔مولوی نے آگے بڑھنے ہوئے کہا
”جانا کہاں ہے۔۔۔؟ “
” اس دنیا سے دور ،بادلوں کے اس پار ،چاند پر رہنے کے لئے “۔مولوی عاشق کے لہجہ رومانوی تھا۔
”اوئے ،کہیں تو مجھے مار کر میرا سامان تو نہیں لے جائے گا“۔
”تم یہ کیسی بات کر رہی ہو پینو،تمہیں پتہ ہے میں تم سے کتنا پیار کرتا ہوں “۔
”مجھے سب پتہ ہے بادلوں کے پار تو انسان مر کر ہی جاتا ہے “
”اری بےوقوف ،وہ تو میں محبت میں کہہ گیا اگر میری طرح پڑھی ہوتی تو سمجھ جاتی “۔
” تو نے کونسا ایویں (ایم اے )کیا ہو اہے “۔
”پتہ ہے میں نے پانچ جماعتوں کے بعد مسجد سے کورس کیا ہے “۔
”تبھی ایسے کام کر رہا ہے “۔
”اچھا ذیادہ ٹر ٹر مت کر چلنا ہے تو چل ورنہ میں چلا “۔
”اچھا ذیادہ رعب نہ جما ورنہ سارے گاﺅں میں جا کر بتا دوں گی “۔
”سارے عشقیہ موڈ کا ستیاناس کر دیا “۔مولوی عاشق نے غصے سے کہا اور اٹھ کھڑا ہوا ۔پینو بھی اس کے ساتھ اٹھ کھڑی ہوئی اور دونوں آگے پیچگے چلتے ایک انجانی منزل کی طرف رواں دواں ہو گئے۔
٭٭٭
مولوی عاشق چک نمبر ک م 302 میں بطور مولوی مقر ر تھے ۔اس کے علاوہ لوگوں کے نکاح اور اموات کے بعد کی رسومات کا ذمہ بھی انہی کے سر تھا ۔اس کام کا نہیں کچھ معاوضہ اور کھانا مل جاتا تھا ۔مولوی صاحب بتیس ،تینتیس کے پیٹے میں تھے مگر بہت صحت مند اور چاق و چوبند تھے ،خضاب لگاتے ،سرمہ ڈالتے اور کیکر کی مسواک کرتے تھے ۔گاﺅں کے ہر گھر کے ذمے روٹی کے دن مخصوص تھے ۔جمعرات کے روز تین وقت پینو کے گھر سے روٹی جاتی تھی ۔پینو کونسا بچی تھی طلاق یافتہ تھی خاوند سے نبھ نہ سکی ،اس نے طلاق دے دی ۔پہلے پہل تو مولوی اور پینو کی ملاقاتیں روٹی والے دن جمعرات کے روز ہوئیں ۔بعد میں پینو نے اپنے ابا سے کہہ کر سارے دنوں کی روٹی کے خود کو مخصوص کر لیا ۔اسے خضاب ذدہ مولوی نہ جانے کیوں اچھا لگتا تھا اور جیسا کہ کہا جاتا ہے ،ابلیس کا کام ہی بھڑکانا ہے ،سو اس نے یہاں بھی اپنا کام دکھایا اور مولوی صاحب اپنے دین سے پھر کر دنیا کے ہو گئے اب تو کسی کا جنازہ بھی ان کے لئے وبال جان ہوتا ،اب نہ تو انہیں نکاح اچھا لگتا اور نہ کسی کے گھر ختم پر جانا ۔لوگوں میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں کہ مولوی بدل لیں ،کوئی دوسرا مولوی رکھ لیں ۔اس نے پتہ نہیں اپنے آپ کو کیا سمجھ لیا ہے ۔پھر عشق و مضبت کے قصے بڑھے پہلے بات گھر تک محدود تھی پھر آم کے باغوں تک جا پہنچی ۔کبھی مالٹے کے باغ میں ملاقات ہو رہی تھی کبھی نہر کے کنارے ایک دوسرے سے عہد وپیمان لئے جا رہے تھے ۔پھر یہ بات پورے گاﺅں میں پھیل گئی کہ مولوی اب پینو کے نام کی مالا جپتا ہے بلکہ ایک دفعہ کسی کے گھر میں ختم شریف کی دعا میں مولوی یہ بھی کہہ گیا ” یا اللہ ،پینو سے میری شادی کرا ۔۔۔آمین “۔
پھر یہ بات ڈھکی چھپی کیسے رہ سکتی تھی ،گاﺅں میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی ۔لوگوں نے اپنی بچیوں کو مسجد بھیجنا بند کر دیا ،بہت سے لوگوں نے مولوی عاشق کے پیچھے نماز پڑھنا چھوڑ دی ،اپنے گھروں میں پڑھنے لگے مسجد ویران رہنے لگی۔
پھر ایک روز مولوی صاحب خود پینو کے والد سے ملے ان سے شادی کے معاملے پر بات کی مگر انہوں نے انکار کر دیا ۔دوپہر کو جب سب لوگ سو رہے تھے تو پینو گھر سے نکلی اور پانی بھرنے کے بہانے مولوی عاشق سے ملی ،مولوی عاشق نے کہا ”پینو ! تیری خاطر میں نے دنیا ہی نہیں دین بھی چھوڑا ہے “۔
” مولوی صاحب ! میں بھی تمہاری خاطر ہر چیز چھوڑ سکتی ہو ں ،جو تم کہو “۔
” پینو ! میں لوگوں کوں کو اس راہ سے بچنے کی تلقین کرتا تھا لیکن اب میں اس عشق کی دلدل میں پھنس چکا ہوں ۔جن نوجوانوں کو میں رنگے ہاتھ پکڑ کر لعنت ملامت کرتا تھا اب وہ مجھے رنگے ہاتھوں پکڑ کر لعنت ملامت کرتے ہیں ۔اب یوں لگتا ہے کہ میرا اس گاﺅں میں رہنا ٹھیک نہیں “۔
”اچھا ٹھیک ہے تم جیسا کہو میں کرنے کے لئے تیار ہوں “۔
”تم رات کے آخری پہر تہجد سے پہلے گاﺅںسے باہر دو کوس کے فاصلے پر جو ٹاہلی ہے اس کے نیچے آ جانا ۔وہاں سے ہم اس نگری کو چھوڑ دیں گے جو ہمیں جدا کرنے پر تلی ہوئی ہے “۔
”اچھا پھر میں چلتی ہوں “۔پینو گھڑا اٹھاتے ہوئے بولی ۔
”اچھا رب راکھا ،اور ٹھیک ٹائم پر پہنچ جانا “ ۔مولوی عاشق نے بھی اپنی راہ لیتے ہوئے کہا۔
٭٭٭
گا رے سارے گا ما پا
دانی سا گا ما پا سارے گاماپا
گاﺅں کے ایک گھر سے رات کے آخری پہر میں آوازیں نکل رہی تھیں ،یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے کوئی نزع میں ہو اور اسکی روح ابھی نکلی کہ ابھی نکلی اس کے بعد باقاعدہ گانا شروع ہوا©”تینوں بھل گئے نیں یار پرانے ©©“ اس آواز میں اتنا درد تھا اتنی لڑکھڑاہٹ تھی کہ پتے بھی کانپ رہے تھے اور درخت ہل ہل کر دعا کر رہے تھے یا اللہ اس آواز کو اٹھا لے ۔
یہ استاد ملٹھی کی آواز تھی جو اس وقت ریاض میں مصروف تھا گاﺅں کے لوگ چونکہ اس آواز کے عادی ہو چکے تھے اس لئے وہ اس آواز کو لوری سمجھ کر میٹھی نیند سو رہے تھے ۔استاد ملٹھی کی آواز میں بہت ذیادہ درد آ گیا ،آواز کانپنے لگی یوں لگتا تھا کہ آج ان کا چڑی جتنا دل پھڑک کر باہر آ جائے گا ۔پھر انہوں نے تان لگائی
پیار دا بھلیکھا پا کے دل ساڈا توڑیا
کیڑی گلے سجنا وے مکھ ساتھوں موڑیا
اس کے بعد ان کی ہمت جواب دے گئی اور پھر وہ رونے لگے ۔انہوں نے ساتوں سروں کا ریاض کرتے ہوئے کہا ”پینو ،میں نے پہلی محبت تم سے کی تھی جیسی لیلی نے رانجھا سے ،مہنوال نے شیریں سے اور فرہاد نے سوہنی سے کی تھی “۔
”ماما،تو غلط کہہ رہا ہے ،ہیر نے رانجھے سے ،لیلی نے مجنوں سے ،سہنی نے مہینوال سے اور شیریں نے فرہاد سے محبت کی تھی ،تو نے تو ان کے عاشق ہی بدل دیئے “ استاد ملٹھی کے پندرہ سالہ بھتیجے نے کروٹ لیتے ہوئے کہا۔
”اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا مقصد تو عشق کا اظہار ہے “۔ملٹھی نے ڈانٹا
”پینو ، میں نے تیری خاطر گلوکاری شروع کی ۔تو ہی تو کہتی تھی ملٹھی تجھ سے تو مولوی عاشق کی آواز اچھی ہے ۔اگر تو بھی ریاض کرئے تو تیری آواز میں بھی وہی درد آ سکتا ہے ۔پینو،میری آواز میں درد تو نہیں آ سکا مگر میرا گلہ ضرور درد کرنے لگا ہے ۔مجھے اپنا لو پینو،اس سے پہلے کہ میں فوت ہو جاﺅں میں نہیں چاہتا کہ لوگ میری قبر پر سرخ دوپٹہ چڑھائیں اور کہیں استاد ملٹھی کنوارہ ہی مر گیا ۔میں آ رہا ہوں پینو ،میں آ رہا ہوں “۔یہ کہہ کر استاد ملٹھی نے تان پورہ اٹھایا اور باہر نکل گئے ۔
دراصل پینو نے تین چار جگہ عشق کی پینگ بڑھا رکھی تھی کہ جہاں بات بن جائے وہیں ٹھیک ہے استاد ملٹھی کا رخ پینو کے گھر کی طرف تھا اس نے دور سے دیکھا ایک ہیولے نے دیوار پھاندی وہ یقینا عورت تھی استاد ملٹھی نے پہچان لیا کہ وہ پینو ہے ۔اس وقت وہ کہاں جا رہی ہے ؟رفع حاجت کے لئے مگر انہوں نے سر جھٹکایا کہ رفع حاجت کے لئے ایسے دیوار نہیں پھاندنی تھی ۔انہوں نے اس کا پیچھا کرنے کا فیصلہ کیا اور چپکے چپکے اس کے پیچھے چلنے لگے ان کے کانوں میں مولوی عاشق کی نعتیہ طرز میں گانے کی آواز آ رہی تھی
چک گٹھڑی تے ہو جا تیار کڑے
ترا ٹاہلی ہیٹھ قرار کڑے
جواب میں استاد ملٹھی کا دل تو بہت چاہا کہ وہ بھی مولوی کے اس ماہیے کا جواب اپنی گلوکاری میں دے مگر پھر گاﺅں کے کتوں کا خیال آ گیا کہ وہ راگوں کی پہچان رکھتے ہیں کہیں رات کے اس پہر جان سے ہی نہ ہاتھ دھونے پڑ جائیں ۔پینو مولوی سے ملی وہیں ان کے درمیان گل بات ہوئی اور پھر دونوں آگے کی جانب چل پڑے ان کے پیچھے استاد ملٹھی تھا۔
٭٭٭
پینو کی عشق بازی گاﺅں کے ایک نائی سے بھی چل رہی تھی ۔اس نے نائی سے کئی بار شکایت کی کہ مولوی مجھے جان بوجھ کر چھیڑتا ہے اور مجھ سے کہتا ہے مجھ سے شادی کر لو سکھی رہو گیمگر میں اسے کورا جواب دیتی ہوں اور جب اس نے جیرے بلڈ سے یہ کہا مولوی نے مجھ سے کہا ہے” کل ہم گاﺅں سے بھاگ چلیں گے“۔
”پھر تم نے کیا جواب دیا ۔۔۔؟“
”میں نے کیا جواب دینا تھا عورت تھی شرما کر چپ ہوگئی وہ بے غیرت کہنے لگا گاﺅں سے باہر ایک ٹاہلی ہے میں اس کے نیچے آخری پہر تمہارا انتظار کروں گامیں نے سوچا چلو جیرے کے ساتھ یہاں نکل جاﺅں اس لئے تم جلدی پہنچ جانا ہم کسی طرح مولوی کو دغا دے کر نکل جائیں گے اور پیار کی ایک نئی دنیا بسائیں گے “۔
اس کے جواب میں جیرے نے اپنی لشکتی ہوئی ٹنڈ ہلا دی۔اس رات جیرا وقت سے پہلے ہی ٹاہلی کے اوپر جا بیٹھا حالنکہ عام حالات میں وہ رفع حاجت کے لئے بھی اکیلا نہیں جاتا تھا کیونکہ اس کو جنوں اور بھوتوں سے بہت خوف آتا تھا مگر عشق کے اس میدان میں وہ ٹاہلی کے اوپربیٹھا انتظار کی گھڑیوں کو آگے سرکا رہا تھا۔پھر اس نے دیکھا مولوی عاشق نعتیہ طرز میںکچھ گا رہا ہے اس سے تھوڑی دیر بعد پینو بھی آگئی ۔پینو نے شائد سمجھا ہو گا کہ جیرا نہیں آیا اس لئے وہ مولوی کے ساتھ خاموشی سے چل پڑی ۔جیرے کا دل تو بہت چاہا کہ وہ جیب سے استرا نکال کر مولوی کا گلا کاٹ دے مگر وہ اپنے ارادے سے باز رہا اور خاموشی سے اوپر بیٹھا دیکھتا رہا ۔جب وہ کافی آگے نکل گئے تو اس نے خاموشی سے نیچے اترنا شروع کیا ابھی وہ اوپر ہی تھا اس نے ایک اور سایہ دیکھا جو کافی تیزی سے آگے نکل گیا اس نے پہچان لیا وہ استاد ملٹھی تھا۔جیرے نے سوچا یہ یہاں کیا لینے آیا ہے ۔کہیں پینو نے اس کو بھی تو وقت نہیں دے رکھا تھا مگر اس نے اس خیال کو جھٹکا اور اپنے آپ سے کہا پینو میری ہے اور میری ہی رہے گی ۔پھر وہ نیچے اترا اور اسی طرف چل پڑا جس طرف پینو،مولوی ،اور استاد ملٹھی گئے تھے۔
٭٭٭
مجھے دل سے نہ بھلانا ،چاہے روکے یہ زمانہ
تیرے بن میرا جیون کچھ نہیں ،کچھ نہیں
پینو جب بھی پیر ڈنڈل سائیں سے ملتی تو پیر ڈنڈل سائیں کے پوپلے منہ سے یہی گانا بر آمد ہوتا ۔گانا بھی یوں بر و¿مد ہوتا تھا جیسے کوئی ریل گاڑی کسی سرنگ سے کوکیں مارتی ہوئی گزر رہی ہواور پیر ڈنڈل سائیںؓ اپنی چندھیائی ہوئی آنکھوں سے اس کو دیکھتے اور کبھی اپنے فاقہ ذدہ منہ کو ۔پیر ڈنڈل سائیں کا منہ پونے چار انچ مربع تھا ۔حالنکہ کھاتے ،پیتے اچھے خاصے تھے گاﺅں کے بہت سے بکروں کی بیویوں کو انہوں نے انڈوا کر دیا تھا اور کئی مر غیوں کے مرغے ان کو بانگوں میں گالیاں دیتے ہوئے ان کی چوکھٹ پر قربان ہو گئے تھے۔شائد انہی بے زبانوں کی بددعاﺅں کی وجہ سے ان کا یہ حال تھا پیر ڈنڈل سائیں ویسے تو چھ فٹے جوان تھے مگر جوانی خم کھا کر دائیں طرف ہو گئی تھی۔ذات کے موچی تھے مگر پیر تھے لوگ ان کے پاس تعویذ اور جادو ٹونہ کے لئے آتے تھے اور کچھ کی مرادیں نہ جانے کیسے پوری ہو گئیں کہ وہ گاﺅں میں پیر کرامت شاہ کے نام سے مشہور ہو گئے لیکن لوگ ان کے پرانے نام ڈنڈل سائیں کو نہیں بھولے تھے دراصل نام تو ان کا کرامت ہی تھا مگر ان کو گوبھی کے کچے ڈنڈل کھانے کا شوق تھا اس وجہ سے ان کا نام پیر ڈنڈل سائیں مشہور ہو گیا ۔
ایک دن پینو ان سے تعویذ لینے آئی اور کہنے لگی
”پیر ڈنڈل دائیں ! میری شادی نہیں ہوتی ،کوئی اچھا رشتہ ہی نہیں آتا“۔
”تو پھر مجھ سے کر لے “۔پیر ڈنڈل سائیں نے بے دھڑک کہہ دیا۔
پینو غصے میں آگئی اس نے دو چار طمانچے بھی ان کے منہ پر چھوڑ دیئے ۔پیر سائیں غصے سے کانپ رہے تھے انہوں نے کہا ”پینو! تو نے پیر ڈنڈل سائیں کی بے عزتی کی ہے اب تو سکھ ،چین سے نہیں رہ سکے گی ،میں تجھ پر جن بھوت چھوڑ دوں گا “۔
جن بھوت کا نام سن کر پینو ڈر گئی ،کانپنے لگی ۔اس کا سرخی مائل رنگ زردی میں تبدیل ہونے لگا ۔کیالوں ہی خیالوں میں چڑیلیں لمبے لمبے دانت نکالے اس کو ڈرانے لگیں اس نے چیخ ماری اور پیر ڈنڈل سائیں کے قدموں میں گر پڑی۔
”مجھے ان چڑیلوں سے بچا لو میں تمہارا کہنا مانوں گی “۔
”اچھا بچا لیااب اٹھ ان آنسووﺅں کو پونچھ یہ تیرے مکھڑے پر اچھے نہیں لگتے “۔
پینو نے اپنی آنکھوں میں آئے ہوئے آنسووﺅں کو صاف کرتے ہوئے کہا ”پیر جی ! مجھے گاﺅں میں تین آدمی تنگ کرتے ہیں “۔
”اچھا وہ کون ہیں ؟نام تو بتاذرا“۔
”ایک تو مولوی عاشق ہے دوسرا استاد ملٹھی اور تیسرا جیرا نائی “۔
”اچھا تو مت گھبرا میں ان پر بھوت چھوڑ دوں گا وہ خود ہی قابو کر لیں گے ان مردودوں کو ،تو اب گھر جا کل گاﺅں سے باہر جو ٹاہلی ہے اس سے کچھ ہٹ کر ایک برگد کا درخت ہے وہاں میں تیرا رات کے آخری پہرانتظار کروں گا یہاں میں کافی پیسے کما لئے ہیں اب میر ایہاں دل نہیں لگتا ہم دونوں یہاں سے نکل چلیں گے “۔
”ٹھیک ہے “۔پینو نے کہا اور اٹھ کر چل دی
رات کے آخری پہر پیر ڈنڈل سائیں اٹھے چرس کا سوٹا لگایا اپنے دو چار کپڑے اٹھائے اور پیسے وغیرہ سلوکے کی جیب میں رکھے اور گاﺅں سے باہر برگد کے درخت کے اوپر چڑھ کر بیٹھ گئے ان کو سو فی صد امید تھی کہ پینو ضرور آئے گی کیوں کہ گاﺅں کے لوگ جنوں ،بھوتوں سے بہت ڈرتے ہیں انہوں نے سنا ٹاہلی کے نیچے سے مولوی عاشق کی نعتیہ طرز میں گانے کی آوازیں آ رہی تھیں ۔
یہ مولوی ادھر کیا کر رہا ہے؟پیر ڈنڈل سائیں نے دل میں سوچا ۔پھر انہوں نے چاند کی روشنی میں دیکھا وہ پینو مولوی عاشق سے مل دو چار باتیں ہوئیں اور پھر وہ آگے چل پڑے ۔پینو نے برگد کے درخت کی طرف دیکھا ضرور مگر صرف ایک نظر۔پیر ڈنڈل سائیں اترنے کی کوشش کر رہے تھے کہ انہوں نے دیکھا ایک اور آدمی ان کے پیچھے دبے پاﺅں جا رہا ہے وہ استاد ملٹھی اسکے ہاتھ میں اس کا تانپورہ تھا ابھی پیر ڈنڈل سائیں درخت سے اترے ہی تھے کہانہوں نے ٹاہلی سے ایک اور آدمی کو اترتے دیکھا وہ اس کی لشکتی ٹنڈ دیکھ کر سمجھ گئے کہ وہ جیرا نائی ہے۔وہ بھی اسی طرف چل پڑا جس طرف پینو ،مولوی اور استاد ملٹھی گئے تھے پیر ڈنڈل سائیں غصے میں آ گئے انہوں نے اپنے آپ سے کہا ۔تو اس کا مطلب ہے پینو نے سب کو ٹائم دے رکھا تھا کہ کوئی نہ کوئی تو آئے گااپنا مجھے بنائے گا ۔پھر پیر ڈنڈل سائیں نے بھی چرس کا سوٹا لگایا اور اسی طرف چل پڑے جس عاشقوں کی فوج ظفر موج گئی تھی ۔
٭٭٭
پینو اور مولوی عاشق نعتیہ طرز میں گانا گاتے ہوئے خراماں ،خراماں چلے جا رہے تھے
دو ساتھی جیون کے ،اک دوجے کا ساتھ نبھائیں گے
جس دن بچھڑے مر جائیں گے دو ساتھی جیوں کے
مولوی عاشق خوش تھا کہ اس نے پینو کو حاصل کر لیا ہے اور دوسری طرف پینو اپنے دوسرے عاشقوں پیر ڈنڈل سائیں ،جیرے اور استاد ملٹھی کے بارے میں سوچ رہی تھی ۔جیرے اور پیر ڈنڈل سائیں کو تو اسنے بلایا تھا نہ جانے وہ کیوں نہیں آئے شائد وہ مجھ سے سچی محبت نہیں کرتے تھے ۔گاﺅں میں صرف مولوی ہی ایسا تھا جو اس کو دل کی گہرائیوں سے چاہتا تھا ،اب اس نے بھی مولوی کا ساتھ دینے کا وعدہ کر لیا ہے ۔پینو نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
ان سے تھوڑا پیچھے استاد ملٹھی ہاتھ میں تانپورہ اور منہ میں گالیوں کا طوفان لئے ان کا پیچھا کر رہا تھاوہ سوچ رہا تھا کہ کوئی ایسا راگ گاﺅں کہ ساری دنیا میں زلزلہ آجائے ۔توبہ توبہ پینو نے مجھ سے ایسی بے وفائی کی ،میں تو یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔ایک دفعہ تو اس کا دل چاہا کہ تانپورہ مار کر مولوی کو فنا کر دے اور پینو کو لے کر بھاگ جائے مگر نہ جانے کیوں وہ اپنے ارادے سے باز رہا ۔بس وہ ان کا پیچھا کرتا جا رہا تھا۔
استاد ملٹھی سے تھوڑا پیچھے جیرا بلیڈ اپنی لشکتی ٹنڈ کے ساتھ ان کا پیچھا کر رہا تھا ۔وہ پینو کی بے وفائی پر ٹھنڈی آہیں بھر رہا تھا وہ سوچ رہا تھا پینو میں نے تمہیں تجھے دیگوں کے چاول کھلائے جب بھی کسی شادی سے دیگیں واپس آتی تھیں میں تمہیں ان میں بچے ہوئے چاول ضرور بھیجتا تھا لیکن تو نے کھا کر حرام کر دیئے ۔پینو تم نے بلایا مجھے تھا بھاگ مولوی کے ساتھ گئی۔پھر اس کا دل چاہا کہ وہ استاد ملٹھی اور مولوی کو استرے مار مار کر ہلاک کر دے اور خود پینو کو لے کر یہاں سے دور کہیں وادیوں میں نکل جائے ،وہ سارا دن لوگوں کی حجامتیں کرئے ،دیگیں پکائے اور پینو گھر کے کام کرئے ۔اچھا پینو چھوڑوں گا تو میں تجھے بھی نہیں ،حاصل تو ضرور کر لوں گا ۔انہی سوچوں میں وہ پیچھے رہ گیا تھا اس نے اپنی رفتار تیز کر دی ۔
جیرے کے پیچھے پیر ڈنڈل سائیں منہ میں چرس کا سگریٹ دبائے چلا آ رہا تھا اس کا دل چاہ رہا تھا کوئی عمل پڑھ کر ان سب کو فنا و برباد کر دے اور پینو کو لے کر نکل جائے مگر عملی طور پر اسے کوئی عمل آتا ہی نہین تھا اس لئے وہ سوائے دل میں کڑھنے کے اور کیا کر سکتا تھا ۔پینو ،یہ تم نے اچھا نہیں کیا اور بھاگ مولوی کے ساتھ گئی اس کا دل چاہا کہ جیرے ،ملٹھی اور مولوی کو مار دے مگر ان کو مارنے کے لئے اس کے پاس کوئی سامان نہیں تھا اس لئے وہ کاموشی سے ان کے پیچھے رہا۔
٭٭٭
فجر کی اذان کی تھوڑی دیر پہلے مولوی عاشق اور پینو چک نمبر ع غ 420میں داخل ہوئے کافی چلنے کی وجہ سے ان کے چہروں پر تھکاوٹ نمایاں تھی اسی لمحے درختوں کے جھنڈ سے چار آدمی نکلے اور ان کے آگے پیچھے پھیل گئے ۔
”رک جاﺅ“۔ان میں سے ایک کرخت آواز میں بولا
پینو اور مولوی رک گئے مولوی کے جسم کی ہر شے رقص میں مصروف تھی جبکہ پینو نارمل تھی ۔
”اوئے یہ لڑکی کون ہے “۔یہ دوسرے آدمی کی آواز تھی لہجہ درشت تھا
”جی میری بیوی ہے “۔مولوی نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا
”نکاح نامہ ہے تمہارے پاس۔۔۔؟“
”جی وہ تو گھر میں ہے “۔
”تو بیوی کو اس وقت کہاں سیر کروا رہے ہو۔۔۔؟“
”اس گاﺅں میں شادی پر آئے ہیں “۔مولوی نے جھوٹ بول کر جان چھڑوانے کی کوشش کی۔
”گھر والے کا نام بتاﺅ جہاں شادی پر جانا ہے “۔
اور پھر مولوی الجھ کر رہ گیا وہ اس جال میں اس ظرح پھنس گیا کہ نکلنے کا چارہ نہیں تھا۔
”ان دونوں کے ہاتھ پیچھے باھند دو اور لے چلو “۔
ایک نے کہا اور پھر ان کے ہاتھ پیچھے باھند دیئے گئے اتنے میں استاد ملٹھی تان پورہ سنبھالے آگیا اس نے صورتحال کو دیکھ کر واپس بھاگنے کی کوشش کی مگر ان آدمیوں نے اس کو بھی پکڑ لیا ایک نے پوچھا ”ہاں تم اس وقت تانپورہ لے کر کہاں جا رہے ہو ۔۔۔؟“
”جی یہ میری بیوی وہ بھگا لایا تھا میں ان کے پیچھے آیا ہوں “۔
”کیا۔۔۔؟ “وہ حیرت سے چلائے۔”اچھا تمہارے پاس نکاح نامہ ہے “۔
”جی وہ تو گھر پر پڑا ہے ،آپ میرے ساتھ چلیں آپ کو دکھا دوں گا “۔
”اچھا یہ تو بعد کا معاملہ ہے اس کو بھی باھند دو“۔
انہوں نے استاد ملٹھی کو بھی باھند دیا ۔اتنے میں جیرا وہاں آپہنچاموجودہ صورتحال کو سمجھ کر اس نے واپس بھاگنے کو کوشش کی مگر آدمیوں نے اسے بھی پکڑ لیا ایک آدمی نے اس سے پوچھا ”ہاں تم اس وقت کیا کر رہے ہو ۔۔۔؟“
”جی یہ مولوی میری بیوی کو بھگا لایا ہے میں ان کا پیچھا کر رہا تھا “۔
”کیا۔۔۔؟“وہ حیرت سے چلائے ۔
انہوں نے بغیر کچھ کہے اس بھی پکڑ کر باھند دیا ابھی وہ چلنے کو تھے کی پیر ڈنڈل سائیں درختوں کے جھنڈ سے نمودار ہوئے سب کچھ دیکھ کر کچھ نہ سمجھتے ہوئے اس نے بھی پیچھے کو بھاگنے کی کوشش کی مگر ایک آدمی نے دو تین جمپ لے کر اسے بھی جا پکڑا اس سے پوچھا گیا کہ تم اس وقت یہاں کر رہے تھے ۔پیر دنڈل سائیں نے کہا
”یہ مولوی میری بیوی کو بھگا لایا تھا میں ان کے پیچھے آیا تھا “۔
”کیا۔۔۔؟“ وہ سبھی حیرت سے چلائے پھر انہوں نے پیر دنڈل سائیں کو بھی باندھا اور ان سب کو ساتھ لے کر گاﺅں کی طرف چل پڑے ۔
٭٭٭
ایک حویلی کے تہہ خانے میں مولوی ۔جیرے ،ملٹھی ،پیر ڈنڈل سائیں اور پینو کو رسوں کے ساتھ دیوار سے باندھ دیا گیا تھا ۔ایک آدمی اندر داخل ہوا اس کی بڑی بڑی مونچھیں تھیں اس نے کہا
”ایک ووہٹی تن لاڑے تو فلم میں نے بھی دیکھی تھی مگر یہ ایک ووہٹی اور چار لاڑے کہاں سے آگئی ۔سچ سچ بتادو یہ لڑکی کون ہے تو چھوڑ دوں گا ورنہ تمام کی کھالیں اتار کر بھس بھروا کر حویلی میں ٹانگ لوں گا“۔
یکدم پینو بولی”میں آپ کو پوری بات بتاتی ہوں ،میں کسی کی بیوی نہیں ،یہ سارے میرے عاشق ہیں “۔
”اچھا ،تو تم چاروںاس کے سچے عاشق ہو ۔۔۔؟“ آدمی نے پوچھا
”جی ہاں “۔چاروں یک زبان ہو کر بولے
”اگر پینو تم سے کوئی چیز مانگے تو دینے کو تیار ہو “۔
”پینو ،ہم سے جو مانگے کی دینے کے لئے تیار ہیں “۔چاروں کی زبان سے نکلا تھا
”پینو ! تم میرے ساتھ آﺅ“۔
اس آدمی نے پینو کو رسیوں سے آزاد کیا اور پینو کو لے کر ایک کمرے میں گیا ۔اس نے پینو کو ایک تیز دھار خنجر دیا اور کہا ”تم نے ہر ایک سے دل مانگنا ہے ،بس پھر تماشا دیکھنا “۔
”لیکن وہ مجھے چھوڑ جائیں گے “۔پینو نے کسی خدشے سے کہا
’}اگر وہ تمہیں چھوڑ جائیں گے تو میں تمہیں اپنا لوں گا میں اس گاﺅں کا چوہدری ہوں پہلے ہی میری تین بیویاں ہیں ایک تم بھی سہی “۔
”اچھا ٹھیک ہے “۔پینو نے خیالوں ہی خیالوں میں اپنے آپ کو چوہدرائن بنے پایا۔
پینو اور چوہدری واپس تہہ خانے مین آئے پینو کے ہاتھ میں خنجر تھا اس نے کہا ”اگر تم سب میرے سچے عاشق ہو تو مجھے تمہارے دل چاہئیں۔میں دیکھنا چاہتی ہوں کہ اس پر صرف میہرا ہی نام لکھا ہے یا کسی اور کا بھی ہے “۔
چاروں نے خوف ذدہ ںظروں سے پینو کی طرف دیکھا اور اپنے دل پر ہاتھ رکھ لئے ۔
”ہاں تو استاد ملٹھی ،لاﺅ دو دل “۔پینو نے ادتاد ملٹھی سے سٹارٹ لیا
”مجھے معاف کر دو پینو ،میں تمہارا سچا عاشق نہیں ،تمہیں پتہ ہے دل نکل جائے تو بندہ مر جاتا ہے ۔پینو میرا دل نکل گیا تو میرے سارے راگ نکل جائیں گے اور راگ نکل گئے تو یہ دنیا ایک عظیم کلاسیکل استاد سے کالی ہو جائے گی “۔ملٹھی نے روتے ہوئے کہا ۔
”ہاں،تم بتاﺅ مولوی عاشق ۔۔۔؟“پینو مولوی کے نزدیک کھسک آئی
”پینو ،ابلیس ہر آدمی کو بھڑکاتا ہے ،میں بھی بہک گیا مجھے معاف کر دینا اب میں اپنی زندگی مسجد میں اللہ ہو ،اللہ ہو کرتے گزار دوں گا میرے دل میں نمازیں ہیں ،روزے ہیں ۔اگر تم نے میرے دل کو نکال دیا تو دنیا ایک اچھے مولوی سے خالی ہو جائے “۔مولوی عاشق نے خنجر کی تیز دھار کو دیک کر لرزتے ہوئے کہا
”اچھا تم بتاﺅ پیر دنڈل سائیں ۔۔۔؟“
”پینو ،اس دل میں تعویز بند ہیں ۔اس دل میں بہت بڑا علم ہے اگر تم نے میرا دل نکال دیا تو یہ دریا ادھر ادھر بہہ کر ختم ہو جائے گا ۔یہ دنیا ایک بہت بڑے عامل ،پیر سے کالی ہو جائے پھر عورتوں کی چڑیلیں کون بھگائے گا ،لوگوں کو بیماریوں سے نجات کون دلوائے گا ۔مجھے معاف کر دو اب میں سچے دل سے پیری فقیری کروں گا “۔پیر ڈنڈل سائیں کے جسم پر بھی لرزہ طاری تھا۔
”جیرے ،تم بھی اپنا اظہار خیال فرماﺅ “۔
” میرے دل میں تمہارے لئے کوئی جگہ نہیں میرے دل میں دیکگیں بند ہیں ،ان کی خوشبو بند ہے اگر تم نے میرا دل نکال دیا تو یہ ادھر ادھر لڑھک جائیں گی ۔دنیا ایک عظیم نائی سے محروم ہو جائے گی پھر عورتیں بچوں کی جھنڈ کس سے اتروائیں گی لوگ حجامت کہاں سے بنوائیں گے ۔میرے دل کو نکال کر میرے آنے والےبچوں کو یتیم نہ کرو اور مجھے جانے دو“۔
”تم سب جھوٹے ہو “۔پینو نے خنجر لہراتے ہوئے کہا
”بے وفا تم بھی ہو پینو “۔سب مل کر بولے
”ہاں ،میں بے وفا ہوں میں نے ایک وقت میں کئی لوگوں سے محبت کی پینگیں بڑھائیں ۔آج کے دور میں محبت کسی چیز کا نام نہیں نہ جانے سچے عاشق کہاں جا سوئے ہیں“۔
پھر پینو نے ان سب کی رسیاں کاٹ ڈالیں اور کہا
”تم لوگ جا سکتے ہو“۔
”تم نہیں جاﺅ گی پینو “۔مولوی نے ڈرتے ڈرتے پوچھا
”نہیں ،میں چوہدری سے شادی کر رہی ہوں “۔
”کیا ۔۔۔؟ “وہ چاروں حیرت سے چلائے
”ہاں ۔عورت کو اس دنیا میں مضبوط بازوﺅں کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ مضبوط بازو چوہدری کے ہیں ۔آپ لوگوں کا شکریہ کہ آپ نے مجھے اس مقام تک پہنچایا “۔
چوہدری نے پینو کا ہاتھ تھام لیا
” اب تم لوگ یہاں سے جاتے ہو یا پھر تم سے دل مانگنا شروع کر دوں “۔پینو نے خنجر لہراتے ہوئے کہا ۔
اور پھر چاروں پینو بے وفا کا نعرہ لگاتے ہوئے حویلی سے باہر نکل گئے۔
٭٭٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

کچھ کہنا تھا تم سے ۔۔۔ بِینوبسواس/عامر صدیقی

کچھ کہنا تھا تم سے بِینوبسواس/عامر صدیقی ہندی کہانی …………….  ویدیہی کا من بہت اتھل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے