سر ورق / کہانی / کچھ کہنا تھا تم سے ۔۔۔ بِینوبسواس/عامر صدیقی

کچھ کہنا تھا تم سے ۔۔۔ بِینوبسواس/عامر صدیقی

کچھ کہنا تھا تم سے

بِینوبسواس/عامر صدیقی

ہندی کہانی

…………….

 ویدیہی کا من بہت اتھل پتھل ہو اٹھا تھا۔ اچانک یوں دس سال بعد سورَو کا ای میل پڑھ بہت بے چےنی محسوس کر رہی تھی۔ گویا دس سال پہلے ہوا واقعہ آنکھوں کے سامنے تیرنے لگا ہو۔ ٹھنڈک بھری دوپہر میں ہاتھ پاو ¿ں سن پڑتے جا رہے تھے ۔

 ویدیہی نہ چاہتے ہوئے بھی سورَو کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہو گئی تھی ۔ کیوں مجھے بغیر کچھ کہے چھوڑ گیا تھا وہ؟

وہ تو کہتا تھا،” تمہارے لئے چاند ستارے تو نہیں لا سکتا۔ اپنی جان دے سکتا ہوں پر وہ بھی نہیں دے سکتا ۔کیونکہ میری جان تو تم میں بسی ہے ۔“

اور ویدیہی ہنس کے کہا کرتی تھی، ”کتنے جھوٹے ہو نا تم ۔۔۔ڈرپوک کہیں کے ۔“

آج بھی اس بات کو سوچ کر ویدیہی کے چہرے پہ ایک ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی تھی ۔ پر دوسرے ہی لمحے غصے کے جذبات سے پورا چہرہ سرخ ہو گیا تھا ۔ پھر وہی سوال کہ کیوں وہ مجھے چھوڑ گیا تھا؟ اور پھر آج کیوں یاد آنے پر مجھے ای میل کیا ہے؟ سامنے آئے تو دو تھپڑ رسید کردوں ۔ ذہن میں بے چےنی اور سوالات کا تانتا سا لگا تھا ۔

 ویدیہی نے دوبارہ میل کھولی اور پڑھنا شروع کیا۔ سورَو نے صرف دو لائنیں ہی لکھی تھی۔

 ”آئی اےم کمنگ ٹو سنگاپورٹومارو، پلیز کم اینڈ سی می۔ ول اپڈیٹ یو دی ٹائم۔ گو می یور نمبر ول کال یو ۔“

یہی پڑھ بے چین تھی اور سوچ رہی تھی کہ نمبر دے یا نہیں ۔ کیا اتنے سالوں بعد ملنا ٹھیک رہے گا؟ ان دس سالوں میں کیوں کبھی اس نے مجھ سے ملنے یا بات کرنے کی کوشش نہیں کی؟ کبھی میرا حال چال تک نہیں پوچھا، میں مر گئی ہوں یا زندہ ہوں یا کس حال میں ہوں ۔ کبھی کچھ بھی تو جاننے کی کوشش نہیں کی، پھر کیوں واپس آیا ہے؟ سوالات تو بہت سے تھے ،پر جواب ایک کا بھی نہیں تھا ۔

جانے کیا سوچ کے اپنانمبر لکھ بھیجا ۔ اور آرام کرسی پر بیٹھ کر سورَو سے ہوئی پہلی ملاقات کے بارے میں سوچنے لگی ۔ دس سال پہلے ”فورم دی شاپنگ مال“ کے سامنے رچرڈ روڈ پہ ایک ایکسیڈنٹ کے نتیجے میں ویدیہی سڑک پہ پڑی تھی ۔ کوئی اجنبی کار سے ٹکر مار گیا تھا ۔سڑک پہ ٹریفک جام ہو گیا تھا ۔ ایک تو مصروف سڑک اور اوپر سے کوئی مدد کےلئے سامنے نہیں آ رہا تھا ۔ کسی تماش بین نے ہیلپ لائن میں فون کر انفارمےشن دی تھی کہ فلاں سڑک پہ ایکسیڈنٹ ہوا ہے ایمبولینس نیڈڈ ۔

ایمبولینس آنے میں ابھی وقت تھا اور ویدیہی کے پیروں سے خون تیزی سے بہہ رہا تھا ۔ سڑک پر پڑی وہ ہیلپ ہیلپ چلا رہی تھی۔ پر مدد کے لئے کوئی آگے نہیں آ رہا تھا ۔ اسی ٹریفک جام میں سورَو بھی پھنسا ہوا تھا ۔ جانے کیا سوچ کر وہ مدد کے لئے آگے آیاتھا اور ویدیہی کو اپنی برانڈ نیو اسپورٹس کار میں ہاسپٹل پہنچا یا تھا ۔

 ویدیہی نیم بے ہوشی میں تھی ،پرسورَو کا اسے اپنی گود میں اٹھا کر کار تک لے جانا۔ وہ منظر آج بھی کتنے اچھی طرح محسوس کر رہی تھی ۔اس کے بعد تو وہ پوری بیہوش ہو گئی تھی ۔ پر آج بھی اس کی وہ لیمن یلو ٹی شرٹ اسے اچھے سے یاد تھی ۔ ویدیہی کی مدد کرنے کے کوشش میں اسے کتنے ہی چکر کاٹنے پڑے تھے پولیس کے ۔ ملک کے اپنے ہی لفڑے ہیں، کوئی کسی کی مدد نہیں کرتا خاص کر تارکینِ وطن کی ۔ پھر بھی ایک ہندوستانی ہونے کا فرض ادا کیا تھا۔اسکی یہی بات تو دل کو چھید گئی تھی ۔ کچھ عجیب اور پاگل سا تھا ۔ کبھی بھی کچھ بھی کر لیا کرتا تھا۔ جب جو اس کے دل میں آتا تھا ۔ چار گھنٹے بعد جب ویدیہی ہوش میں آئی تھی، تب بھی وہ اس کے سرہانے ہی بیٹھا تھا ۔ ایکسیڈنٹ میں ویدیہی کو زیادہ چوٹیں تو نہیں آئی تھیں، لیکن پھر بھی کہا جائے تو بال بال بچ گئی تھی ۔ ایک ٹانگ میں فریکچر، کچھ کھروچیں اور موبائیل بھی تو ٹوٹ گیا تھا ۔ یہی وجہ تھی سورَو اس کے ہوش میں آنے کا انتظار کر رہا تھا ۔ تاکہ اس سے کسی اپنے کا نمبر لے اور پھر انہیںانفارم کر سکے ۔

ہوش میں آنے پر ویدیہی نے اسے صحیح طریقے سے پہلی بار دیکھا تھا ۔ دیکھنے میں کچھ خاص تو نہیں تھا ،پر پھر بھی ایک اسٹائل اینڈ مےنورزم تھا ۔ کچھ تو الگ ہی بات تھی ۔

وہ کچھ سوال کرتی، اس سے پہلے ہی اس نے کتنا احسان جتاتے ہوئے کہا تھا،”اوہ گاڈ! اچھا ہوا تم ہوش میں آگئیں۔ نہیں تو تمہارے ساتھ مجھے بھی ہاسپٹل میں رات کاٹنی پڑتی ۔ا ینی ویز آئی ایم سورَو ۔“ اسکے تیور دیکھ کر،جانتے ہوئے بھی اسے تھینک یو نہیں کہا تھا ۔

 ویدیہی سے اس نے خاندان کے کسی ممبر کا نمبر مانگا، ماں کے فون کا نمبر دیا تھا ۔ اس نے اپنے فون سے ان کا نمبر ملایا اور انہیں اسکے بارے میں ساری انفارمےشن دے دیں ۔ ڈاکٹر سے کنفرمےشن لے کراچانک ہی وہ ہاسپٹل سے چلا گیا تھا ۔ نہ بائے بولا نہ اور کچھ۔ دل ہی دل میں اس کا نام کھڑوس رکھ دیا تھا ۔

اس ملاقات کے بعد تو ملنے کی امید بھی نہیں تھی ۔ نہ اس نے ویدیہی کا نمبر لیا تھا نہ ہی ویدیہی نے اس کا ۔ اسکے جاتے ہی ویدیہی کی ماں اور بابا بھی ہاسپٹل آ پہنچے تھے ۔ ویدیہی نے ماں اور بابا کو ایکسیڈنٹ کی ساری تفصیلات دیں اور بتایا کس طرح سورَو نے اس کی مدد کی ۔ دو دن اسپتال میں ہی گزارے پھر گھروہ واپس آ گئی تھی ۔ ایسی تو پہلی ملاقات تھی ویدیہی اور سوربھ کی۔۔۔ کتنی عجیب سی۔۔۔

 ویدیہی سوچ سوچ مسکرا رہی تھی ۔ سوچ تو جیسے رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ۔ سورَو کی ای میل نے ویدیہی کے سارے پرانے میٹھے اور درد بھرے پلوںکو ہرا کر دیا تھا ۔ایکسیڈنٹ کے بعد پندرہ دن کابیڈ ریسٹ لینے کو کہا گیا تھا ۔ ویدیہی نے تبھی نئی نئی نوکری بھی جوائن کی تھی ۔ گھر پہنچ کر ویدیہی نے سوچاکہ ذراآفس میں انفارم کردوں ۔ موبائل ڈھونڈ رہی تھی، یاد آیا موبائل تو ہاسپٹل میں سورَو کے ہاتھ میں تھا اور شاید افراتفری میں اس نے اسے لوٹایا ہی نہیں تھا، پر انفارم تو کر ہی سکتا تھا ۔ اوہو، شٹ سارے کانٹیکٹ نمبرز بھی گئے ، ویدیہی چلا اٹھی تھی ۔ اچانک تبھی یاد آیا کہ اس نے اپنے فون سے ماں کو فون کیا تھا ۔ ماں کے موبائل میں کال لاگ چیک کیا تو نمبر مل گیا تھا اس کا ۔

فوری طورپر نمبر ملایا، اپنا انٹروڈکشن کراتے ہوئے اس نے سورَو سے موبائل واپس کرنے کا مطالبہ کیا ۔ وہ اپنائیت سے بولا، ”مفت میں نہیں واپس کروں گا۔ کھانا کھلانا ہوگا۔ کل شام تمہارے گھر آو ¿ں گا۔ ایڈریس بتاﺅ۔“

ویدیہی کے تو ہوش ہی اڑ گئے تھے۔ دل میں سوچ رہی تھی،” کیسی عجیب مخلوق ہے یہ ۔“موبائل تو چاہئے تھا سو ایڈریس دے دیا ۔

اگلے دن شام کو جناب حاضر بھی ہو گئے تھے ۔ سارے گھر والوں کو خود اپنا انٹروڈکشن بھی دے دیا اور ایسے گھل مل گیا جیسے سالوں سے ہم سب سے جان پہچان ہو ۔ ویدیہی یہ سب دیکھ حیران بھی تھی اور کہیں نہ کہیں ایک عجیب سی فیلنگ بھی ہو رہی تھی ۔ بہت ملنسار سا تھا ۔ ماں، بابا اور ویدیہی کی چھوٹی بہن تو اس کی تعریف کرتے نہیں تھک رہے تھے ۔ سچ تو تھا اس کا مزاج،انداز، بول چال سبھی کتنا الگ اور مو ¿ثر تھا ۔ ویدیہی اس کے ساتھ بہتی چلی جا رہی تھی ۔

وہ سنگاپور میں اکیلے ہی رہتا تھا اور بینٹلے کار ڈسٹری بیوشن کمپنی میں منیجر کے طور پر کام کر رہا تھا ۔ تبھی آئے دن اس کو نئی نئی گاڑیوںکی ٹیسٹ ڈرائیو کرنے کا موقع ملتا رہتا تھا ۔ جس دن اس نے ویدیہی کی مدد تھی، اس دن بھی نیو اسپورٹ کار کی ٹیسٹ ڈرائیو پر تھا ۔ اس کے پےرنٹس انڈیا میں رہتے تھے ۔

اچھی دوستی ہو گئی تھی روز آنا جانا ہونے لگا تھا ۔ ویدیہی کے گھرکے سبھی لوگ اسے پسند کرتے تھے ۔ اور شاید آہستہ آہستہ اس نے ویدیہی کے دل میں بھی خاص جگہ بنا لی تھی ۔ اس کے ساتھ جب ہوتی تھی، تو لگتا تھا یہ لمحے یہیں تھم جائیں ۔ ہرپندرہ دن بعد وہ شام میں ویدیہی سے ملنے آتا ۔ اس کے ساتھ گزارے لمحات میں وہ کھوئی سی ہی رہتی تھی ۔ ویدیہی کو یہ احساس ہو چلا تھاکہ سورَو کے دل میں بھی ویدیہی لئے کوئی خاص فیلنگس تھیں ۔ لیکن اب تک اس نے ویدیہی سے اپنی فیلنگس کہی نہیں تھیں ۔

پندرہ دن بعد ویدیہی نے آفس جوائن کر لیا تھا ۔ سورَو اور ویدیہی دونوں کے آفس رچرڈ روڈ پر ہی پڑتے تھے ۔ سورَو اکثر ویدیہی کو آفس سے گھر چھوڑنے آیا کرتا تھا، فریکچر ہونے کہ وجہ سے چھ ماہ تو کیئر کرنی ہی تھی ۔ اور تو اور ویدیہی کو اس کا لفٹ دینا اچھا بھی لگتا تھا ۔ راستے بھر وہ بات کیا کرتے اس کی باتیں اور ویدیہی کا اس کی باتوں پہ ہنسنا کبھی ختم ہی نہیں ہوتا تھا ۔ وہ اکثر کہا کرتا تھا،” ویدیہی کی مسکراہٹ اس دیوانہ بنا دیتی ہے۔“ اس بات پر ویدیہی اور کھلکھلا کے ہنس پڑتی تھی ۔

آج بھی ویدیہی کو یاد ہے سورَو نے اسے دو مہینے بعداس کی بائیسویں برتھ ڈے پر پروپوز کیا تھا ۔ زیادہ ترلوگ اپنی محبوبہ کو گلدستے یا چاکلےٹ یا انگوٹھی کے ساتھ پروپوز کرتے ہیں ۔پر اس نے ویدیہی کے ہاتھوں میں ایک کار کا چھوٹا سا ماڈل رکھتے ہوئے کہا تھا،”کیا تم اپنی پوری زندگی کا سفر میرے ساتھ کرنا چاہوگی؟“ کتنا پاگل پن اور دیوانگی تھی اس کی باتوں میں ۔ ویدیہی اسے سمجھنے سے قاصر تھی ۔ یہ کہتے کہتے ہوئے سورَو اسکے بالکل نزدیک آ گیا تھااور ویدیہی کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھامتے ہوئے اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے چھوتے ہوئے، دونوں کی سانسیں ایک ہو چلی تھیں ۔ ویدیہی کا دل زوروں سے دھڑک رہا تھا ۔ خود کو سنبھالتے ہوئے وہ سورَو سے الگ ہوئی ۔ دونوں کے درمیان ایک عجیب میٹھی سی مسکراہٹ نے اپنی جگہ بنا لی تھی ۔ اور دونوں کی دھڑکنیں آپس میں رومانی رقص کر رہی تھیں ۔

کچھ دیر تو ویدیہی وہیں کسی بت کی طرح کھڑی رہی تھی ۔ جب اُس نے ویدیہی کا جواب جاننے کے لئے اپنی بے چینی کا اظہار کیا تو ویدیہی نے کہا تھا کہ اگلے دن ”گارڈن بائی دی بے“ میں ملیں گے اور وہیں ویدیہی اپنا جواب اسے دے گی ۔

 اس رات ویدیہی ایک لمحے کے لئے بھی نہیں سوئی تھی ۔ بہت سے باتوں پہ وہ سوچ رہی تھی جیسے کیریئر ۔۔۔مزید پڑھائی۔۔۔اور نہ جانے کتنے خیالات ۔ نیند آتی بھی کیسے، ذہن میںتو طوفان مچاہوا تھا ۔ تب ویدیہی محض بائیس سال ہی تو تھی اور اتنی جلدی شادی نہیں کرنا چاہتی تھی ۔ اور سورَو بھی صرف پچیس سال کا ہی تھا ۔ پر ویدیہی اسے یہ بتانا بھی چاہتی تھی کی اسے بے انتہا محبت ہو گئی تھی اور ہاں زندگی کا پورا سفر اس کے ساتھ ہی خرچ چاہتی تھی ۔ بس کچھ وقت چاہئے تھا اسے ۔ پر یہ بات ویدیہی کے ذہن میں ہی رہ گئی تھی کبھی اسے بول ہی نہیں پائی ۔

جیسا کہ دونوں نے طے کیا تھا اگلے دن ویدیہی ٹھیک شام کے پانچ بجے ”گارڈن بائی دی بے“ میں پہنچ گئی تھی ۔

 اس نے وہاں پہنچ کر سورَو کو فون ملایا تو فون آف آ رہا تھا، وہ وہیں اس کا انتظار کرنے بیٹھ گئی تھی ۔ آدھے گھنٹے بعد پھر فون ملایا ،تب بھی فون آف ہی رہا تھا ،ویدیہی بہت پریشان اور حیران تھی، پر اس نے سوچا کہ شاید آفس میں کسی ضروری میٹنگ میں پھنسا ہوگا ۔وہ وہیں اس کا انتظار کرتی رہی ۔ انتظار کرتے کرتے رات کے دس بج گئے، پر وہ نہیں آیا اور اس کے بعد اس کا فون بھی کبھی آن نہیں ملا ۔

دو سالوں تک ویدیہی اس انتظار کرتی رہی ،پر کبھی اس نے اسے ایک بھی کال نہیں کی ۔ دو سال بعد ماں بابا کی مرضی سے آدتیہ سے ویدیہی کی شادی کروا دی گئی ۔ آدتیہ ایک آڈٹینگ کمپنی چلاتاتھا ۔ اس کے والدین سنگاپور میں اس کے ساتھ ہی رہتے تھے ۔شادی کے بعد کتنے سال لگے تھے ویدیہی کو اسے بھولنے میں ، لیکن مناسب طریقے سے بھول بھی تو نہیں پائی تھی ۔ کہیں نہ کہیں کسی موڑ پر ہمیشہ اسے سورَو کی یاد آ ہی جایا کرتی تھی ۔ آج اچانک کیوں آیا ہے؟ اور کیا چاہتا ہے؟

 ویدیہی کی سوچ کی لڑی کو توڑتے ہوئے ،تبھی اچانک فون کی گھنٹی بجی۔ ایک انجانا سا نمبر تھا ۔ دل کی دھڑکنےں تیز ہو چلی تھیں ۔ ویدیہی کو لگ رہا تھا ہو نہ ہو یہ سورَو کی کال ہی ہے ۔ ایک سکون سا محسوس کر رہی تھی۔ کال ریسیو کرتے ہوئے ہیلو کہا ،تو دوسری طرف سورَو ہی تھا ۔ سورَو نے اپنی بھاری آواز میں ”ہیلو از دیٹ وےدیہی۔“ اتنے سالوں کے بعد بھی سورَوکی آواز ویدیہی کے کانوں سے ہوتے ہوئے پورے جسم کو جھنجھوڑ رہی تھی ۔

خود کو سنبھالتے ہوئے ویدیہی نے کہا،” یس دس از ویدیہی۔“ پھر انجان بننے کا ڈرامہ کرتے ہوئے کہا،”مے آئی نو ہو از ٹاکنگ۔“

سورَو نے اپنے انداز میں کہا،”یار تم مجھے کیسے بھول سکتی ہو میں سورَو۔“

”اوہ یا!“ ویدیہی نے کہا ۔

”کیا کل تم مجھ سے مرینا بے سےنڈس ہوٹل کے چھت کے اوپر بنے ریستوران میںملنے آ سکتی ہو۔۔ شام پانچ بجے ۔“ سورَو نے کہا ۔

کچھ سوچتے ہوئے ویدیہی نے کہا،”ہاں تم سے ملنا تو ہے ہی ۔ وِل سی یو ٹو مو رو ۔“ کہتے ہوئے فون ڈس کنیکٹ کر دیا ۔

شاید زیادہ بات کرتی تو اس کا غصہ فون پر ہی سورَو کو برداشت کرنا پڑتا ۔ ویدیہی کے اندر کتنی ہلچل ہو رکھی تھی، اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل تھا ۔ یہ سورَو کے لئے اس کا پیار تھا یا نفرت تھی ۔ ملنے کا جوش و خروش تھا یا بدلا لینے کا خیال تھا ۔ ایک ملا جلا مجموعہ تھا جذبات کا، جسکی شدت صرف ویدیہی ہی محسوس کر سکتی تھی ۔

اگلے دن جب ویدیہی تیار ہو رہی تھی، سورَو سے ملنے جانے کے لئے ، تبھی آدتیہ کمرے میں آیااور ویدیہی سے پوچھا،”کہاں جا رہی ہو؟“

ویدیہی نے کہا،” سورَو سنگاپور سے آیا ہوا ہے، وہ مجھ سے ملنا چاہتا ہے ۔“اتنا کہہ کر ویدیہی رک گئی ۔ پھرکچھ سوچ کر ویدیہی نے آدتیہ سے پوچھا،” جاو ¿ں یا نہیں ۔“

 آدتیہ نے جواب میں کہا۔” ہاں جاﺅمل آﺅ، ڈنرپر میں تمہارا انتظار کروں گا ۔“ آدتیہ نے اپنا موقف بہت بہترانداز میں ویدیہی کے سامنے رکھ دیا تھا ۔ اتنا کہہ آدتیہ کمرے سے باہر چلا گیا ۔

آدتیہ، نام سے تو سورَو کو جانتا ہی تھا ۔ سورَو کے بارے میں کافی کچھ سن رکھا تھا ۔ وہ یہ جانتا تھا کہ سورَو کو ویدیہی کے خاندان والے بہت پسند کرتے تھے اور کس طرح اس نے ویدیہی کی مدد کی تھی ۔ آدتیہ ایک کھلے خیالات والا انسان تھا ۔

ہلکے جامنی رنگ کے کپڑے میں ویدیہی خوبصورت لگ رہی تھی ۔ بالوں کو بلو ڈرائی کرکے بالکل سیدھا کیا تھا ۔ سورَو کو ویدیہی کے سیدھے بال بہت بھاتے تھے ۔ ویدیہی ہوبہوویسے ہی تیار ہوئی تھی جیسے سورَو پسند تھا ۔ ویدیہی یہ سمجھنے سے قاصر تھی کہ آخر وہ سورَو کی پسند کے مطابق کیوں تیار ہوئی تھی؟ (کبھی کبھی یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کی آخر کسی کے ہونے کا ہماری زندگی میں اتنا اثر کیوں ہو جاتا ہے) ۔ ویدیہی بھی ایک دو راہے سے گزر رہی تھی ۔ خود کو روکنا چاہتی تھی پر قدم تھے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے ۔

 ویدیہی ٹھیک پانچ بجے مرینا بائی سےنڈس کے چھت کے اوپر بنے ریستوران میں پہنچی ۔ سورَو وہاں پہلے سے انتظار کر رہا تھا ۔ ویدیہی کو دیکھتے ہی وہ کرسی سے اٹھ کھڑا ہو ا اور ویدیہی کی طرف بڑھا ،پھر اسے گلے لگاتے ہوئے بولا،” سو نائس ٹو سی یو آفٹر آ ڈکیڈ ۔ یو آر لکنگ گورجس ۔“

 ویدیہی اب بھی اک گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی اور ایک ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ اس نے کہا،” تھینکس فار دی کمپلی منٹ، آئی ایم سرپرائز ٹو سی یو ایکچیولی ؟ ۔“

سورو بھانپ گیا تھا ویدیہی کے کہنے کا مطلب ۔ اس نے کہا،”کیا تم نے اب تک مجھے معاف نہیں کیا ۔ میں جانتا ہوں تم سے وعدہ کر کے میں آنہیں سکا ۔ تم نہیں جانتی میرے ساتھ کیا ہوا تھا ۔“

 ویدیہی نے کہا ،”دس سال کوئی کم تو نہیں ہوتے معاف کیسے کروں تمہیں ۔ آج میں جاننا چاہتی ہوں کیا ہوا تھا تمہارے ساتھ؟ “

سورو نے کہا،” تمہیں یاد ہی ہوگا، تم نے مجھے پارک میں ملنے بلایا تھا ۔اسی دن ہماری کمپنی کے مالک کو پولیس پکڑ کے لے گئی تھی ۔کچھ اسمگلنگ کے سلسلے میں ۔ ٹاپ لیول مینیجر کو بھی ریمانڈ میں رکھا گیا تھا ۔ ہمارے فون، اکاو ¿نٹ سبھی سیز کر دیئے گئے تھے۔ لگاتار دو دن مسلسل پوچھ گچھ کے بعد، چھ مہینوں تک ہمیں جیل میں بند کر دیا تھا ۔ اور دو سالوں تک کیس چلتا رہا ۔ جب تک کیس چلا ،بے گناہوں کو بھی جیل کی روٹیاں توڑنی پڑیں ۔ آخر وہ لوگ جو بے گناہ تھے، انہیں فوری طور ڈی پورٹ کر دیا گیا تھا ۔ اور جنہیں ڈی پورٹ کیا گیا، ان میں میں بھی تھا ۔ پولیس کے ریمانڈ میں وہ دن کس طرح بتائے، کیا بتاو ¿ں تمہیں ۔ آج بھی سوچتا ہوں تو روح کانپ جاتی ہے ۔ کس منہ سے تمہارے سامنے آتا ۔“

 ”تو جب میں انڈیا (ممبئی) پہنچا، تو نہ میرے پاس کوئی موبائل تھا، نہ ہی کانٹیکٹ نمبرز تھے اور ممبئی پہنچنے پر پتہ چلا کہ ماں کی حالت بہت سیریس تھی اور ہاسپٹلائیز تھی ۔ میرے موبائل آف ہونے کی وجہ سے مجھ تک خبر بھی پہنچنا مشکل تھی۔ یہ ساری چیزیں آپس میں اتنی الجھی ہوئی تھی کی انہیں سلجھانے کا وقت ہی نہیں ملا ۔ اور تو اور ماں نے میری شادی بھی طے کر رکھی تھی۔ انہیں اس وقت کس طرح بتاتاکہ میں اپنی زندگی سنگاپور ہی چھوڑ آیا ہوں ۔ اس وقت میں نے خاموش رہنا ہی ٹھیک سمجھا تھا یا یہ کہہ لو میں ڈر گیا تھا، ماں کو یوں اسپتال میں دیکھ کے ۔اور پھر زندگی کی بھاگ دوڑ میں الجھتا ہی چلا گیا ۔ پر تم ہمیشہ یاد آتی رہیں ۔ ہمیشہ سوچتا تھاکہ تم کیا سوچتی ہو گی میرے بارے میں ،اس لیے تم سے مل کر تمہیں سب بتانا چاہتا تھا ۔ کاش !! میں اتنی ہمت پہلے دیکھا پاتا ۔ اس دن جب ہم ملنے والے تھے، تب تم مجھ سے کچھ کہنا چاہتی تھی نا۔ آج بول دو کیا بتانا تھا ۔“

 ویدیہی کو یہ سب جان کر اس بات کی تسلی ہوئی تھی کہ سورَو نے اسے دھوکہ نہیں دیا تھا اور شاید قسمت بھی ایک اہم کردار ادا کرتی ہے ہمارے راستے طے کرنے میں ۔

ویدیہی نے کہا۔ ”وہ جو میں تم سے کہنا چاہتی تھی، ان باتوں کا اب کوئی مول نہیں ۔“ ویدیہی نے اپنے جذبات کو اپنے اندر ہی دفنانے کا فیصلہ کیا تھا ۔

ایک مسکراہٹ کے ساتھ ویدیہی نے کہا۔“لیٹس آرڈر سم کافی ۔“

٭٭٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

پینو بے وفا…کے ایم خالد

پینو بے وفا کے ایم خالد چک گٹھڑی تے ہو جا تیا کڑے ترا ٹاہلی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے