سر ورق / یاداشتیں / ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 33  سید انور فراز

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 33  سید انور فراز

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول
عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو!
ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 33
سید انور فراز

سرکش جولائی 1990 ء میں شروع ہوئی اور تقریباً 9 سال قارئین کی پسندیدہ کہانی کے طور پر مقبول رہی، آتش فشاں جون 99 ء میں پہلی قسط شائع ہوئی، اقبال کاظمی بہت تیز لکھتے تھے ، اسی لیے بہت زیادہ لکھتے تھے، ہمارے پاس جب پانچ، چھ اقساط ایڈوانس ہوچکی تھیں جب جاسوسی میں کہانی کا آغاز ہوا، جیسا کہ پہلے بھی ہم لکھ چکے ہیں کہ معراج صاحب کے دل میں ایک پرانی پھانس ایسی تھی جو نکلتی نہ تھی، اقبال کاظمی نے ادارے سے علیحدگی ہی اختیار نہیں کی تھی بلکہ ایک نئے پرچے سمندر کے لیے ادارے کے بعض اہم رائٹرز کو توڑنے کی کوشش بھی کی تھی اور ان کی یہ غلطی معراج صاحب کے نزدیک ناقابل معافی تھی لہٰذا کاظمی صاحب کا رابطہ لکھنے لکھانے کے معاملے میں ہم تک محدود تھا، معراج صاحب ان سے ملنا بھی پسند نہیں کرتے تھے اور یہ بات دفتر کے تقریباً ہر فرد کو معلوم تھی، چناں چہ آفس بیوروکریسی بھی ان سے خوش نہیں تھی۔
اس سانحہ ء وقت کو کیا نام دیا جائے؟ ایک روز ہماری طبیعت بہت خراب ہوئی، شدید بخار کے باعث ہم آفس نہ جاسکے، دوسرے روز طبیعت سنبھلی اور آفس پہنچے، تو دفتر میں اقبال کاظمی اور اقلیم علیم صاحب کے درمیان کسی تلخی کی باتیں ہورہی تھیں اور سنا یہ کہ بات بہت بڑھ گئی اور اقبال کاظمی سخت ناراض ہوکر دفتر سے گئے ہیں۔
کاظمی صاحب ویسے ہی سدا کے بیمار تھے ، شوگر ، بلڈ پریشر، السر اور نامعلوم کتنی موذی بیماریاں اپنی جان سے لگائے پھرتے تھے، کئی سالوں سے گھر سے اکیلے باہر جانے کی انھیں اجازت نہیں تھی، بڑا بیٹا ہمیشہ ساتھ ہوتا تھا، پانی کی ایک بوتل بھی بیٹے کے ہاتھ میں نظر آتی تھی، اچانک ہی عارضہ ء قلب نے بھی ان کا پتا ڈھونڈ لیا، معلوم ہوا کہ دل کا کوئی وال یا شریان بند ہے ، اس کے لیے فوری طور پر اینجیو پلاسٹی ہونا تھی اور 20 ہزار روپے کی اشد ضرورت آن پڑی تھی، کرائے کے مکان میں رہنے والا قلم کا مزدور، کئی بچوں کا باپ ، کچھ پس انداز نہیں کرسکتا، اس روز وہ دفتر میں 20 ہزار روپے ایڈوانس مانگنے آئے تھے اور معمول کے خلاف جب ہمیں موجود نہ پایا تو سیدھے اقلیم صاحب کے پاس چلے گئے، انھوں نے انکار کردیا، اقبال کاظمی نے معراج صاحب سے ملنے کی فرمائش کی تو جواب یہ ملا کہ وہ آپ سے نہیں مل سکتے، اس پر بات بڑھ گئی، کاظمی صاحب غصے کے ہمیشہ سے تیز تھے، ان کا مؤقف یہ تھا کہ آتش فشاں کی تقریباً 15,16 اقساط میں ایڈوانس لکھ کر دے چکا ہوں جب کہ مجھے ہر قسط کی ادائیگی اس وقت ہوتی ہے جب قسط پرچے میں شائع ہوتی ہے،اس اعتبار سے 20 ہزار روپے سے زیادہ کی رقم تو میری دفتر میں جمع ہے،بہر حال دونوں کے درمیان خاصی تلخ کلامی ہوئی،ہم نے جب یہ سب سنا تو بہت افسوس ہوا ، خیال تھا کہ فون پر بات کریں گے اور انھیں ٹھنڈا کرنے کی کوشش کریں گے لیکن پھر فون پر بھی رابطہ نہ ہوسکا، دو تین ہی روز گزرے تھے کہ ایک روز اقبال کاظمی کے انتقال کی خبر دفتر آگئی، ہمیں جیسے سینے پر ایک گھونسا سا لگا، ابھی ہم اس کیفیت سے نکلے بھی نہ تھے کہ انٹرکام پر معراج صاحب نے بلالیا۔
ہم معراج صاحب کے کمرے میں پہنچے تو ان کا چہرا بھی اُداس تھا، ہم نے اس دن کی روداد چھیڑنے کی کوشش کی تو انھوں نے ہاتھ اٹھاکر صرف اتنا کہا ’’وہ(اقلیم علیم) گلٹی ہیں اور خبر سن کر ان کی بھی طبیعت خراب ہوگئی ہے، علیحدہ کمرے میں لیٹ گئے ہیں‘‘
معلوم ہوا کہ معراج صاحب اس روز ہونے والا ناخوش گوار واقعہ پہلے ہی کسی سے سن چکے تھے، انھوں نے مزید بتایا کہ اگر میرے علم میں ہوتا کہ کاظمی کی حالت ایسی ہے تو بیس ہزار روپے کی معمولی رقم کی کوئی اہمیت نہیں ہے،ہم نے صرف اتنا کہا کہ ہونی ہوکر رہتی ہے،ہماری طبیعت بھی اسی روز خراب ہونا تھی اگر کاظمی ہمارے پاس آتے تو ہم یقیناً آپ سے بات کرتے اور ہمیں یقین ہے کہ آپ اپنی ناراضگی کے باوجود ان کی ضرورت پوری کردیتے۔
شاید بعض عہدہ و منصب اکثر اداروں میں یا شاید تمام اداروں میں ایسے ہوتے ہیں جو انسان کو سخت گیری پر مجبور کردیتے ہیں، حالاں کہ ذاتی طور پر ہم نے اقلیم صاحب کو بے حد نرم دل، انسان دوست پایا، وہ ہر مرحلے پر اپنے ساتھ کام کرنے والے افراد کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں، ہماری پہلی بیگم کا جب اچانک انتقال ہوا اور ہم شدید گھبراہٹ کے عالم میں اقلیم صاحب کے پاس پہنچے ، انھوں نے فوری طور پر اپنی گاڑی نکالی اور نہایت تیز رفتاری سے ہمیں آئی آئی چندریگر روڈ سے نیو کراچی پہنچایا، ایسے بے شمار واقعات ہماری یاد داشت میں ہیں جب ہم نے انھیں لوگوں کے ساتھ احسن سلوک کرتے ہوئے دیکھا لیکن جنرل منیجر کی کرسی پر بیٹھ کر ان کے تیور اور رویہ کچھ اور ہی ہوتا تھا اور اصول و قواعد کی سخت پابندی کو وہ فرض شناسی کی انتہا خیال کرتے تھے،ہمیں اس انتظامی طرز سے کبھی اتفاق نہیں رہا ؂

اے مہرِ تابناک تِری روشنی کی خیر
کچھ لوگ زیرِ سایہ ء دیوار جل گئے
معراج صاحب بھی انتظامی امور میں سختی کے ساتھ اصول و قواعد کی پابندی کیا کرتے تھے لیکن موقع و محل کے اعتبار سے ان کی سختی ہم نے اکثر موم ہوتے دیکھی،شاید 1985 ء یا 86 ء کی بات ہے، ہم دفتر میں تھے کہ گھر سے فون آیا ، ہم اسپتال جارہے ہیں اور آپ بھی پیسوں کا بندوبست کرکے اسپتال آجائیں، دراصل ایک ڈلیوری متوقع تھی۔
مہینے کا آخر تھا ، ہماری جیب میں اتنے ہی پیسے تھے جتنے ہم آنے جانے کا کرایہ دینے کے لیے رکھتے تھے، اس خبر نے بوکھلا دیا، ہم فوری طور پر اوپر کی منزل میں معراج صاحب کے کمرے تک پہنچ گئے اور ان کے پی اے اختر بیگ کو ساری صورت حال بتاکر کہا کہ معراج صاحب سے بات کرادیں، شام کے تقریباً سات بجے تھے اور اکثر معراج صاحب کے دوست احباب اگر آجاتے تھے تو ان کی شام کی محفل گرم ہوجاتی تھی، اختر نے صاف انکار کردیا کہ اس وقت صاحب سے ملاقات نہیں ہوسکتی،ہمیں ساری صورت حال سے آگاہ کیا، خدا معلوم ہمارے دل میں کیا آیا کہ ہم نے اختر کی ٹیبل پر پڑے ایک پیڈ پر مندرجہ بالا شعر لکھا اور نیچے اپنا نام لکھ دیا ، اختر سے کہا ’’یہ چٹ تو کم از کم تم ان کے سامنے رکھ سکتے ہو‘‘
اختر سوچ میں پڑ گئے اور پھر دروازہ کھول کر معراج صاحب کے کمرے میں داخل ہوگئے،چند لمحوں میں ہی ان کی واپسی ہوئی اور ہم سے کہنے لگے’’گیلری میں آجاؤ‘‘
ہم گیلری میں پہنچے تو معراج صاحب دوسرے دروازے سے نکل کر گیلری میں کھڑے تھے،فوراً پوچھا ’’کیا بات ہے فراز؟‘‘
ہم نے مختصراً کہا ’’وائف اسپتال میں ہیں اور ایڈوانس چاہیے‘‘
ہم سے یہ بھی نہیں پوچھا کہ کتنے؟ اختر کی طرف دیکھا اور کہا’’ نفیس سے کہو، دے دے‘‘ اور فوری پلٹ کر اپنے کمرے میں داخل ہوگئے۔ نفیس احمد خاں اس زمانے میں جنرل منیجر تھے، اللہ انھیں غریق رحمت کرے،زبان کے بہت کڑوے لیکن دل کے بڑے میٹھے انسان تھے، ہماری چھوٹی موٹی ضرورت ویسے ہی پوری کردیا کرتے تھے،زیادہ بڑی رقم کا مطالبہ ہو تو انگلی سے اوپر کی طرف اشارہ کرکے سرجھکا لیتے تھے، ایک ناگہانی کار ایکسیڈنٹ میں ان کا انتقال ہوا، وہ بھی معراج صاحب کے ابتدائی دور کے ساتھیوں میں تھے۔
خدا معلوم اس روز کیا ہوا کہ بات اتنی بڑھ گئی، اقلیم صاحب نے صورت حال کی نزاکت پر توجہ نہیں دی یا اس بات کو اہمیت دی کہ وہ معراج صاحب کی ناپسندیدہ شخصیت ہیں ، بہر حال اقبال کاظمی کا انتقال جناح اسپتال میں ہوا تھا، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کہیں سے بھی پیسوں کا بندوبست نہ کرسکے اور بالآخر سرکاری اسپتال میں جاکر جان دی،انا للہ وانا الیہ راجعون۔
ایچ اقبال اور اقبال کاظمی کے قصے ہمیں کھینچ کر اکیسویں صدی میں لے آئے حالاں کہ یہ الف لیلہ ابھی بیسویں صدی کے واقعات پر رواں دواں ہے۔

ایک دلچسپ شادی خانہ آبادی
حسام بٹ سرگزشت میں ہمارے معاون کے طور پر کام کر رہے تھے، ان کی پراسراریت میں کوئی کمی نہیں تھی، ایک ہمی سے زیادہ بے تکلف تھے یا یوں کہہ لیں کہ دل کی کوئی بات کھل کر کرلیا کرتے تھے لیکن بعض معاملات میں ہم بھی لاعلم رہتے تھے،کئی بار ہم نے نوٹ کیا کہ یہ سُرخ و سفید بندہ روز بہ روز کالا ہوتا جارہا ہے، کبھی کبھی ساتھ کھانا کھانے جاتے تو وہ مرغ وغیرہ پر زور دیتے اور کہتے ’’میرا تو آج مرغی کھانے کا موڈ ہے، کبھی کبھی اچھی خوراک بھی لینا چاہیے‘‘ مگر یہ نہیں بتاتے کہ اتنی زیادہ اچھی خوراک لینے کی ضرورت کیا پیش آگئی ہے؟کیا کسی بڑے پہلوان سے کشتی طے ہوگئی ہے؟اپنی معمولی تنخواہ میں اتنی عیاشی کیوں کر رہے ہیں؟
اگر کوئی شخص خود سے کھل کر بات کرنا نہ چاہے تو ہماری بھی عادت نہیں ہے کہ اس سے مزید سوال و جواب اور بحث مباحثہ کریں، شاید 9,10 مہینے بٹ صاحب نے یہ راز ہم سے چھپائے رکھا کہ انھیں ٹی بی ہوگئی ہے ، وہ خاموشی سے اپنا علاج کرتے رہے،آدھے سے زیادہ ڈاکٹر وہ خود ہیں، اچانک ایک ایسا واقعہ ہوا ، جس کے نتیجے میں انھیں اس راز میں ہمیں اپنا شریک بنانا پڑا ۔
ایک روز دوپہر سے ہی وہ شدید تکلیف سے بے حال تھے،شاید کچھ پین کلر وغیرہ لے کر تکلیف کو برداشت کر رہے تھے،اتفاق سے اس روز ہفتے کا دن تھا، ہماری رہائش دفتر ہی میں تھی اور بٹ صاحب کی بھی،ہفتے کی شام ہم اپنے گھر نیو کراچی چلے جاتے تھے اور پھر پیر کے روز واپسی ہوتی تھی، بٹ صاحب کی حالت ہمیں ٹھیک نظر نہیں آئی، حالاں کہ وہ یہ کہہ رہے تھے کہ میں ٹھیک ہوں اور ہمارے منع کرنے کے باوجود وہ ہمیں بس اسٹاپ تک چھوڑنے آگئے، راستے بھر ہم یہی سوچتے رہے کہ اگلے 36 گھنٹے یہ شخص اس دفتر میں اکیلا گزار بھی سکے گا یا نہیں؟
ہم نے ان سے کہا ’’آج آپ ہمارے ساتھ ہمارے گھر چلیں‘‘ تھوڑی سی ہچکچاہٹ کے بعد وہ ہمارے ساتھ چلنے پر آمادہ ہوگئے، گھر پہنچ کر ہم نے وہاں موجود اپنے ایک دوست ہومیو پیتھ ڈاکٹر سے مشورہ کیا اور پھر ان کو ناظم آباد جناب حنیف اسعدی صاحب کے کلینک لے گئے، اصل ماجرا یہ تھا کہ انھیں ہرنیا کی شکایت ہوگئی تھی ، اگرچہ یہ ایک بہت ہی معمولی بیماری ہے ، ایک چھوٹا سا آپریشن اسے ہمیشہ کے لیے ختم کردیتا ہے، ہومیو پیتھی میں بھی اس کا علاج موجود ہے لیکن وہ خاصا طویل ہے،مزید یہ کہ جب تک علاج جاری رہے، ہرنیا کو سختی سے باندھ کر رکھنا پڑتا ہے،چلنے پھرنے ، وزن اٹھانے میں احتیاط کرنا پڑتی ہے،بہر حال اسعدی صاحب کے علاج سے فوری طور پر معاملہ کنٹرول ہوگیا، یہی وہ مرحلہ تھا جب ہم نے ان سے کچھ زیادہ ہی سوال و جواب کیے کہ جناب یہ سب کیسے ہوا اور آپ نے اپنی کیا حالت بنا رکھی ہے؟
ہمارے استفسار پر انھوں نے بتایا کہ وہ گزشتہ ایک سال سے ٹی بی کے علاج کے لیے انتہائی ہیوی اینٹی بائیوٹک استعمال کر رہے ہیں اور ان کے سائیڈ افیکٹس کو کنٹرول کرنے کے لیے ہی عمدہ خوراک کھانے پر مجبور ہوئے تھے، وغیرہ وغیرہ۔
ہومیو پیتھک علاج سے ان کی صحت میں کافی بہتری آئی لیکن وہ ہرنیا کے معاملے میں زیادہ صبر نہ کرسکے،ایک روز صبح سے غائب تھے تقریباً دو ڈھائی بجے واپس آئے اور ہمیں اطلاع دی کہ ہرنیا کا آپریشن کرالیا ہے،ہم نے حیرانی سے انھیں دیکھا، یہ بات انھوں نے بالکل اس طرح کہی تھی جیسے ہمیں اطلاع دے رہے ہوں کہ کھانا کھالیا ہے،ان کے چہرے اور حلیے سے کسی نقاہت یا کمزوری کا اظہار نہیں ہورہا تھا، بالکل بھلے چنگے لگ رہے تھے۔
اسی دوران میں ہم نے ایک روز ان سے کہاکہ آپ شادی کرلیں ورنہ زندگی مزید نقصانات سے دوچار ہوسکتی ہے،شاید یہ بات ہم نے پہلے بھی کبھی کہی ہوگی جسے انھوں نے اپنے روایتی گھماؤ پھراؤ کی گفتگو میں کسی نئی سمت موڑ دیا ہوگا لیکن اس بار وہ سنجیدہ نظر آئے، جواباً انھوں نے کہا ’’کوئی لڑکی مجھ سے شادی کیوں کرے گی؟ میرے پاس اپنے رہنے کے لیے گھر نہیں، میری تنخواہ میں میرا اپنا گزارا بہتر طور پر نہیں ہورہا‘‘
بٹ صاحب کی بات میں سچائی تھی اور بڑی ہی تلخ سچائی لیکن ہم ہمیشہ سے ہی قدرت خداوندی کے رنگ برنگے تماشے دیکھتے آئے ہیں، وہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کرے، فقیر کو بادشاہ بنادے اور بادشاہ کو فقیر، جس امر کو لوگ ناممکن سمجھتے ہوں وہ اسے ممکن بنادے، یقیناً میرا رب بڑی شان والا ہے۔
ہم نے بٹ صاحب سے کہا کہ آپ اس کام کی نیت تو کریں، ہمیں اپنی رضا مندی دیں اور وعدہ کریں کہ جب بھی ایسے اسباب پیدا ہوں گے تو آپ انکار نہیں کریں گے۔
بٹ صاحب نے ہم سے وعدہ کرلیا اور اپنی رضا مندی ظاہر کردی، ہمارے ذہن میں یہ خیال تھا کہ بٹ صاحب کے لیے کوئی ایسی لڑکی ڈھونڈی جائے جو خود بھی جاب کرتی ہو، تعلیم یافتہ ہو، اس طرح دونوں مل کر اپنا گھر بنائیں، واضح رہے کہ ہمارے پاس اس زمانے میں بھی لڑکے لڑکیاں یا اور دیگر لوگ ایسٹرولوجیکل رہنمائی کے لیے آتے رہتے تھے اور اکثر لوگوں کے مسائل میں غم روزگار کے علاوہ غم جاناں بھی نمایاں ہوتا ہے،شادی کی فکر کسے نہیں ہوتی، انھیں بھی ہوتی ہے جو کہتے پھرتے ہیں کہ ہمیں شادی سے کوئی دلچسپی نہیں، کچھ لوگ عجیب طرح کا جھوٹ بولتے، انھیں جو چاہیے ہوتا ہے اسی کا انکار کر رہے ہوتے ہیں، آپ نے اکثر لوگوں سے سنا ہوگا ’’مجھے دولت سے کوئی دلچسپی نہیں‘‘ درحقیقت ایسے لوگوں کو دولت ہی سے سب سے زیادہ دلچسپی ہوتی ہے۔
ہم نے اپنے ارد گرد نظریں دوڑانا شروع کیں لیکن فوری طور پر کوئی ایسی لڑکی نظر میں نہیں آئی، ایک روز خدا معلوم معراج صاحب سے کس موضوع پر بات ہورہی تھی اور کس وجہ سے بٹ صاحب کا تذکرہ چھڑ گیا، شاید انھوں نے حسب معمول ان کے حال اور چال کے بارے میں پوچھا ہوگا تو ہم نے ان کی طویل بیماری کا تذکرہ کیا اور اس خواہش کا اظہار بھی کیا کہ ہم چاہتے ہیں ان کی شادی ہوجائے اور وہ ایک معقول زندگی گزاریں۔
معراج صاحب نے ہماری بات سے اتفاق کیا اور اچانک انھیں کچھ یاد آیا، کہنے لگے ’’ایک لڑکی میری نظر میں ہے،تعلیم یافتہ ہے، اسکول میں جاب کرتی ہے، شریف لوگ ہیں، اگر وہ تیار ہیں تو دونوں کی ملاقات یہیں میرے کمرے میں کرادی جائے گی،دونوں ایک دوسرے کو دیکھ لیں اور اپنی پسند ناپسند کا اظہار کردیں، باقی باتیں بعد میں طے ہوتی رہیں گی۔
ہم نے ان کی بات سے اتفاق کیا اور کہا ’’آپ پہلے لڑکی والوں سے بات کرلیں اور ہم لڑکے سے‘‘معراج صاحب مسکرائے۔
بٹ صاحب سے ذکر کیا انھوں نے آمادگی ظاہر کردی، ان دنوں ویسے بھی وہ ہماری ہر بات پر آمنّا و صدقناً کہا کرتے تھے۔
بالآخر دونوں کی ون ٹو ون ملاقات معراج صاحب ہی کے کمرے میں خاموشی سے ہوئی اور دونوں ہی نے رضا مندی و پسندیدگی ظاہر کردی، ہمارے حساب سے تو اسی دن یہ رشتہ طے ہوگیا تھا کیوں کہ لڑکا راضی اور لڑکے کے واحد ولی و وارث ہم تھے، ہم بھی راضی، دوسری طرف معراج صاحب درمیان میں تھے اور لڑکی کی فیملی سے ان کے دیرینہ مراسم تھے، معراج صاحب سے انکار ممکن نظر نہیں آتا تھا، پھر بھی ایک بار معراج صاحب ہمیں ساتھ لے کر ان کے گھر گئے اور لڑکی کی والدہ سے ملاقات کی، وہ روایتی ماں تھیں، روایتی قسم کی باتیں کر رہی تھیں، ایک موقع پر انھوں نے کہا ’’معراج صاحب آپ لڑکے کی گارنٹی لیں کہ بعد میں کوئی اونچ نیچ نہ ہو‘‘
معراج صاحب بولے ’’گارنٹی تو میں اپنے بیٹے کی بھی نہیں لے سکتا، بعد میں کیا ہوگا اور کیا نہیں ہوگا اس بارے میں پہلے سے کچھ نہیں کہا جاسکتا‘‘
ہم نے اپنے طور پر ان کی تسلی و تشفی کے لیے صرف اتنا کہا کہ پندرہ سولہ سال سے ہم انھیں قریب سے جانتے ہیں ، وہ کسی عیب فعل میں نظر نہیں آئے، معاملات کے کھرے ہیں، محنتی ہیں اور محنت سے رزق حلال کمارہے ہیں اور رزق حلال بہر حال قلیل ہوتا ہے۔
قصہ مختصر یہ رشتہ طے ہوگیا ، شاید تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ایسی شادی کی تیاریاں شروع ہوگئیں جس میں دولہا کی جیب میں پھوٹی کوڑی بھی نہیں تھی، دلہن کی رہائش کے لیے اپنا تو کیا کرائے کا بھی کوئی مکان نہ تھا، دفتر میں بٹ صاحب کی شادی سے تمام ہی لوگ خوش تھے اور ایک جشن کا سماں تھا، شاید شاہد حسین کو کچھ اعتراضات تھے جن کا اظہار وہ کھل کر نہیں کرتے تھے،صرف اتنا ہی کہا ’’اوئے یار! مجھے نہیں لگتا، یہ شادی چلے گی‘‘
ایسی باتیں بعض لوگ اکثر کرتے ہیں اور بہر حال سب کو اظہار رائے کی آزادی حاصل ہے، ہماری وائف کے انتقال کے بعد ہماری دوسری شادی پر بھی قریبی دوستوں تک نے ایسی ہی باتیں کی تھیں، بہر حال تیاریاں زور و شور سے جاری تھیں، نکاح و رخصتی کی تاریخ بھی مقرر ہوچکی تھی، ڈائجسٹ میں کام کرنے والے ہمیشہ ایسی تاریخیں مقرر کرتے ہیں جو پرچوں کے مارکیٹ میں آنے کے بعد کی ہوں، رخصتی و نکاح کے لیے طارق روڈ کے ایک ہوٹل کا ہال بک ہوا اور اسی ہوٹل میں معراج صاحب نے سہاگ رات کے لیے ایک کمرہ بک کرادیا، پروگرام کے مطابق دوسرے روز صبح ہم دولہا دلہن کو اپنے گھر نیو کراچی لے جاتے اور دو ماہ تک ان کا قیام ہمارے گھر میں رہتا، اس کے بعد کسی کرائے کے مکان کا بندوبست کیا جاتا۔
رسم مہندی دفتر میں ادا ہوئی، یہ بھی جاسوسی ڈائجسٹ پبلی کیشنز کی تاریخ کا انوکھا واقعہ تھا، دفتر میں کام کرنے والی لڑکیوں نے اور دیگر افراد نے اس تقریب کا اہتمام کیا،اس تاریخی واقع کی دو تصاویر بھی ہم شیئر کر رہے ہیں، رسم مہندی کے بعد ہم انھیں اپنے گھر لے گئے اور دوسرے روز ہم اپنی فیملی کے ساتھ دولہا کو لے کر ہال میں پہنچ گئے، خاصی بڑی محفل سجی ہوئی تھی، آفس میں کام کرنے والے اور اکثر مصنفین بھی اس شادی میں شامل تھے، بٹ صاحب کا نکاح ان کے اور ہمارے مشترکہ دوست جناب مختار شاہ نے پڑھایا جو بہر حال سکہ بند قاضی نہیں تھے، ان کا بھی بنیادی شعبہ لکھنا پڑھنا ہی رہا اور آج کل کسی چینل پر پروگرام پروڈیوسر ہیں۔
الحمد اللہ سب کچھ پروگرام کے مطابق نہایت احسن طریقے پر ہوگیا، دولہا دلہن ہمارے گھر آگئے، نیو کراچی میں ہمارا مکان بڑا تھا، اس کا ایک کمرہ انھیں دے دیا گیا، اب دلچسپ صورت حال یہ تھی کہ ہم تو حسب سابق پورا ہفتہ دفتر ہی میں گزارتے تھے اور بٹ صاحب جو ہمارے ’’روم میٹ‘‘ تھے، ہمیں چھوڑ گئے، ہم تو دفتر ہی میں رہے اور وہ روزانہ ہمارے گھر جانے لگے،اس طرح ہماری فیملی سے ان کی قربت بھی بڑھی۔
دو ماہ خیرخیریت سے گزر گئے لیکن اس عرصے میں خود بٹ صاحب کو کراچی کے ایک سِرے سے دوسرے سِرے تک روزانہ صبح و شام بسوں میں سفر کا تلخ تجربہ خوب ہوا اور انھیں اندازہ ہوگیا کہ ہم جوپورا ہفتہ دفتر میں گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں تو ہماری مجبوری کیا ہے؟
ایک نیا فساد
اس دو ماہ کے عرصے میں کرائے کے مکان کی تلاش جاری رہی اور کوشش یہ تھی کہ ایسی جگہ مکان ملے جو ہمارے دفتر سے بھی زیادہ دور نہ ہو اور بٹ صاحب کی بیگم کا اسکول بھی وہاں سے بہت زیادہ فاصلے پر نہ ہو، ہمارا تجربہ ہے کہ جب ہم اس طرح کی شرائط کے ساتھ مکان ڈھونڈتے ہیں تو آسانی سے نہیں ملتا، قسمت ہی ساتھ دے رہی ہو تو اور بات ہے، بہر حال مکان نہیں مل سکا، آخر معراج صاحب نے اپنے ایک ذاتی فلیٹ کی پیشکش کردی کہ جب تک مطلب کا مکان نہیں ملتا، آپ وہاں شفٹ ہوجائیں، نیو کراچی بٹ صاحب کو بھی اور ان کی بیگم کو بھی بہت دور پڑ رہا تھا، معراج صاحب کا فلیٹ کلفٹن کے ساحل پر ایک شاندار پلازہ میں تھا، ہمیں یاد نہیں کس فلور پر تھا لیکن شاید آٹھویں یا نویں یا دسویں گیارھویں منزل تھی، اس فلیٹ سے ساحل سمندر کا نظارہ بڑا ہی روح پرور تھا، آخر کار ایک روز ہم اپنی فیملی کے ساتھ بٹ صاحب کو اس فلیٹ تک پہنچانے گئے ، اس روز ساحل کلفٹن پر بچوں کے ساتھ ہی ہم سب نے مل کر اچھا وقت گزارا،اس وقت تک ہمارے علم میں نہیں تھا کہ اس فلیٹ سے علیم الحق حقی کا بھی کوئی تعلق ہے۔
علیم الحق حقی کے ساتھ بھی ہمیشہ رہائش کے مسائل رہے،بلّی کی طرح وہ ہمیں اکثر گھر بدلتے نظر آئے، گھر کے معاملے میں ان کا سب سے بڑا مسئلہ ان کی کتابیں تھیں، ایک طویل عرصے سے وہ دفتر نہیں آئے تھے اور ایبٹ آباد شفٹ ہوگئے تھے،بقول ان کے صحت کے مسائل ایبٹ آباد جانے سے بہت بہتر ہوئے اور اس دوران میں انھوں نے بہت لکھا مگر اچانک انھوں نے کراچی واپس آنے کا فیصلہ کرلیا، ہمارے علم میں نہیں کہ یہ فیصلہ کیوں کیا؟ البتہ یہ ضرور علم میں ہے کہ وہ ایبٹ آباد میں بہت خوش تھے، اکثر فون پر بات ہوتی تو وہاں کے موسم کی تعریف کرتے، کراچی میں رہائش کا مسئلہ درپیش ہوا اور اس سلسلے میں معراج صاحب سے بات ہوئی تو انھوں نے عارضی طور پر وہی کلفٹن والا فلیٹ ان کے حوالے کردیا، وہ کراچی آئے اور سب سے پہلے اپنی کتابیں اس فلیٹ میں شفٹ کیں ، الماریوں کو لاک کیا اور واپس چلے گئے کیوں کہ کافی عرصے سے ایبٹ آباد میں تھے تو بچے بھی وہیں پڑھ رہے تھے، شاید کچھ اس قسم کا پروگرام بنا ہوگا کہ بچوں کے اسکول کے معاملات اختتام پذیر ہوں تو ہو کراچی شفٹ ہوں، انھوں نے شاید معراج صاحب کو یہی بتادیا ہوگا کہ میں دو تین ماہ میں شفٹنگ مکمل کرلوں گا لہٰذا معراج صاحب نے اسی دو تین ماہ کے لیے یہ فلیٹ بٹ صاحب کو دے دیا تھا، اس دوران میں بٹ کو کوئی دوسرا مکان مل گیا اور انھوں نے فلیٹ خالی کردیا، اس کی چابی حقی صاحب کو دے دی گئی، جب انھوں نے فلیٹ کا قبضہ لیا تو ایک نیا فساد شروع ہوا۔
حقی صاحب نہایت ماتم کناں دفتر پہنچے اور بتایا کہ بٹ صاحب نے وہاں رہائش کے دوران میں میری تمام کتابیں تباہ کردیں، یہ بات بڑی حیران کن تھی ، معراج صاحب بھی حیران تھے، حقی صاحب کا کہنا تھا کہ فلیٹ خالی کرتے ہوئے ، بٹ صاحب نے پانی کے نکلے کھلے چھوڑ دیے جس کی وجہ سے فلیٹ میں پانی بھر گیا اور تمام کتابیں بھیک گئیں، کتابوں سے انھیں عشق تھا اور جس طرح وہ ہمارے سامنے ان کتابوں کا ذکر کر رہے تھے اس سے ان کی ذہنی و دلی اذیت کا اندازہ ہورہا تھا، اس کے برخلاف بٹ صاحب کا مؤقف یہ تھا کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا، ہم نے ایسی کوئی بے احتیاطی نہیں کی کہ پانی کے نلکے کھلے رہ گئے ہوں، وغیرہ وغیرہ اور دوسری بات یہ کہ یہ سب کرکے ہمیں کیا حاصل ہونا تھا، بات ان کی بھی معقول تھی مگر حقی صاحب کا مؤقف یہ تھا کہ یہ واردات جان بوجھ کر دشمنی میں کی گئی ہے، ہم نے انھیں سمجھایا کہ بھائی! آپ کی اور بٹ کی دشمنی کس بنیاد پر ہوسکتی ہے؟ وہ رائٹر بھی نہیں جو آپ سے جیلس ہوں ؟(اس وقت تک بٹ سرگزشت کے پروف ریڈر کی حیثیت سے کام کر رہے تھے، تحریر کے میدان میں قدم نہیں رکھا تھا)
مگر انھیں قائل کرنا آسان نہ تھا، وہ شاید پہلے ہی سے بٹ صاحب کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے تھے، اسی وجہ سے ان کے تعلقات کبھی بھی بٹ سے زیادہ نہیں بڑھے، راہ چلتے کی سلام دعا کے سوا دونوں میں کوئی بات چیت نہیں ہوتی تھی، البتہ حقی کے جگری دوست عزیز الحسن قدسی سے بٹ کے تعلقات بہت اچھے تھے ، دونوں میں خوب گپ شپ ہوا کرتی تھی ، ہمارا اور حقی کا ایک مشترکہ شوق ایسٹرولوجی بھی تھا لہٰذا قدسی اور بٹ صاحب کا بھی یہ ذیلی شوق تھا یعنی ایسی گفتگو میں وہ بھی شریک رہا کرتے تھے،ہمیں کبھی معلوم نہ ہوسکا کہ حقی اور بٹ صاحب کے درمیان ایسی کون سی خلش تھی جو انھیں ایک دوسرے سے دور رکھتی تھی۔
بہر حال یہ مسئلہ معراج صاحب کی عدالت میں تھا، انھوں نے کس طرح اسے حل کیا، ہم نے اس میں دلچسپی نہیں لی لیکن حقی اور بٹ کے درمیان ہمیشہ کے لیے تعلقات کا باب بند ہوگیا (جاری ہے)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : سید انور فراز قسط نمبر 29

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول عبرت سرائے دہر ہے اور ہم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے