سر ورق / مضامین / امرت کور (ناول)  امجد جاوید خلاصہ: مریم رانا

امرت کور (ناول)  امجد جاوید خلاصہ: مریم رانا

امرت کور (ناول)
مصنف: امجد جاوید
خلاصہ: مریم رانا 
یہ ناول لازوال عشق کی داستان ہے.
بلال اور زویا لاہور پاکستان سے تعلیم حاصل کرنے کے لٸے انگلینڈ جاتے ہیں اور وہاں کلاس فیلو ہونے کے ساتھ ساتھ دوست بھی بن جاتے ہیں ۔وہی دوستی شدید محبت میں بدل جاتی ہے۔زویا کے والدین اس رشتے سے صاف انکار کر دیتے ہیں۔۔ اور زویا تعلیم مکمل کر کےپاکستان چلی جاتی ہے۔۔بلال کا ایک کلاس فیلو بھان سنگھ ہندوستان سے تعلق رکھتاہے۔ جو گہرا دوست اور رازداں بھی ہوتا ہے ۔زویا کے والدین اسکی شادی کسی کزن سے طے کر دیتے ہیں۔زویا کے پاکستان جانے کے بعد بھان سنگھ بلال کی دلجوٸی میں مصروف ہوتا ہے تبھی ایک سنسنی خیز انکشاف کرتا ہے کہ ہندوستان میرے گاٶں جتھیوال میں ایک پاگل عورت رہتی ہے اگر وہ کسی کے سر پہ ہاتھ رکھ دے تو اس کے من کی مراد پوری ہو جاتی ہے۔ اس عورت کی عمر اس وقت اسی سال کے قریب ہوگی لیکن وہ دیکھنے میں پچاس سے اوپر کی لگتی ہے۔ بھان سنگھ بلال کو کہتا ہے کہ اگر وہ عورت جس کا نام امرت کور ہے اگر وہ تمھارے سر پہ ہاتھ رکھ دے تو تمھاری محبت تمھیں مل جاۓ گی۔۔بھان سنگھ امرت کور کے حالات و واقعات سے اگاہ کرتا ہے۔۔تقسیم ہند کے دوران ہی امرت کور کی ایسی حالت ہو گٸی تھی تب اس کی عمر پندرہ سولہ سال ہو گی وہ بہت خوبصورت اور شوخ مزاج کی لڑکی تھی۔ کوٸی ایسا سانحہ اس کی ذات پہ گزرا جس کے نتیجے میں وہ پاگل ہو گٸی۔وہ بالکل خاموش ہو گٸی تھی۔ نہ اسے کھانے پینے کا ہوش تھا اور اپنی ذات سے ہی لا تعلق ہو گٸی تھی۔کٸی کٸی روز کمرے میں بند رہتی بہت علاج معالجے کرواٸے لیکن اس کی حالت میں کوٸی سدھار نہ آیا۔تقریباً پندرہ سال پہلے اچانک اس کے معمولات میں تبدیلی آگٸی اب وہ موسموں کی قید و بند سے بے نیاز ہر صبح نہا دھو کر سج سنور کر مغرب کی سمت جاتی وہاں ایک جگہ رک کر بڑ بڑاتی رہتی ہے جو کسی کی سمجھ میں نہیں آتا اس کے گرودوارے چلی جاتی ہے ۔امرت کور کی اصل کہانی کسی کو بھی معلوم نہیں ہے۔بس سنی سناٸی مشہور ہے۔ اصل میں کا ہوا اس کے ساتھ کوٸی نہیں جانتا خود تو وہ گم صم ہو گٸی اور کٸی سالوں تک گھر تک محدود رہی۔ امرت کور کے بارے بتانے کے ساتھ ساتھ بھان سنگھ نے بلال کو ہندوستان اپنے گاٶں جتھیوال جانے پہ راضی کر لیا۔ بلال نے کہا کہ ریاستی حکومتی پابندیاں اور اجازت نامے کا کیا ہو گا۔۔ بھان سنگھ نے بولا کہ اس کی فکر تم نہ کرو یہ سب ہو جاۓ گا۔بس تم جانے کی تیاری کرو۔ اور بلال غیر ارادی طور پہ امرت کور کو سوچنے لگتا ہے۔ اور ذہن میں ایک ہیولہ سا بنا لیتا ہے۔۔ اب بلال اپنی پڑھاٸی مکمل کر چکا ہے تو تب اسے وہ سارے خیال ذہن کے پردے پر نظر آنے لگتے ہیں جب وہ زویا سے پہلی بار بریڈ فورڈ میں ملتا ہے۔۔ زویا بھان سنگھ اور بلال ایک ہی کلاس میں ہوتے ہیں ان کے اور بھی دوست ہوتے ہیں۔ جب بلال نے زویا کو پہلی بار دیکھا وہ اسکارف اور عبایا میں تھی۔ بلال کو اسکا یہ حلیہ اچھا لگتا ہے۔ انگلینڈ کا آزاد ماحول میں بھی وہ ایسے ہی رہتی ہے بلال کو زویا کے اندر کی مضبوط مشرقی لڑکی بھا جاتی ہے۔۔کچھ دنوں میں زویا اور بلال کی دعا سلام سے بڑھ کر گہری دوستی میں بدل جاتی ہے وہ ایک مضبوط کردار کی لڑکی ہے۔۔ وہ ایک پیر گھرانے سے تعلق رکھتی ہے۔اسکا خاندان پنجاب کے ایک گاٶں میں درگاہ کا متولی ہے سیاسی ساکھ بھی مضبوط ہے۔اور وہ اکلوتی بیٹی ہونے کی وجہ سے اتنی دور پڑھاٸی کرنے آتی ہے تاکہ وہ باقی کزنز سے اپنے آپ کو کم تر نہ سمجھے۔بلال بھی اپنے بارے بتاتا ہے کہ میرے دادا زمیندار تھے لیکن میرے ابو نے بزنس کو ترجیح دی اس طرح میں ایک صنعت کار گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں۔جہاں زویا بلال کی دوستی کا دم بھرتی ہے بلال بھی دوستی سے بڑھ کر اسے چاہنے لگتا ہےلیکن محبت کا اظہار کر کے اس کے اعتبار کو نہیں توڑنا چاہتا دوسرے لفظوں میں وہ اسے کسی امتحان میں نہیں ڈالنا چاہتا۔ انگلینڈ جیسے ملک میں رہتے ہوۓ ایسی دوستی اور محبت دیکھنے سننے والوں کو کچھ عجیب محسوس ہو رہی تھی ۔ جس ملک کی ترجیحات ہی کچھ اور ہوں اور تعلقات کی نوعیت ہی کچھ اور ہوتی ہے۔ اس آزاد ماحول میں بھی دونوں نے اپنی حد قاٸم رکھی تھی۔ لمبی لمبی ملاقاتیں بہت سا وقت ساتھ گزارنا ۔۔ایسی ہی ایک ملاقات دریاۓ ٹیمز کے کنارے ہوٸی جہاں زویا نے بلال کے سامنے اپنی محبت کا اظہار کیا۔۔کیونکہ وہ اندر سے جانتی تھی کہ ہمارا ملن ممکن نہیں ہے۔ زویا بلال سے کہتی ہے کہ محبت ایک ایسا جذبہ ہے جس میں ملن ضروری نہیں میں اپنی آخری سانس تک تمھیں چاہتی رہوں گی۔اس طرح وہ اپنے والدین سے کٸے وعدے کے مطابق پڑھاٸی مکمل کر کے واپس اسی طرح اسکارف اوڑھے اور عبایا پہنے جاتی ہے۔ جب بلال ہندوستاں کے اٸیرپورٹ پر آتا ہے تو اسے وہاں کے پنجاب اور پاکستان کے پنجاب میں کچھ خاص فرق نظر نہیں آتا سواۓ اس کے وہاں گور مکھی اور انگلش میں ساٸن بورڈ لگے ہوتے ہیں۔ اٸیر پورٹ پہ بھان سنگھ کی منگیتر پریت کور انکو لینے آتی ہے۔گھر کے راستے میں بھان سنگھ امرت کور بارے اپنی منگیتر سے پوچھتا ہے اس کے جواب سے بلال چونک جاتا ہے۔بقول اس کے آج کل امرت کور نے ایک نیا ڈرامہ شروع کیا ہوتا ہے۔وہ روز اپنے گھر سے کوٸی میٹھی چیز پکا کر گرودوارے کے باہر بچوں کو باٹتی ہے۔بلال اس بات کو اتفاق نہیں سمجھتا ۔۔بلکہ خاص نہج پہ سوچتا ہے کہ اس بات کا تعلق اس کے یہاں آنے سے ہے۔ پریت کور لا پرواہ انداز میں کہتی ہے بلال آپ جس مقصد کے لٸے یہاں آۓ ہو وہ پورا ہونے والا نہیں ہے کیونکہ امرت کور ایک پاگل عورت ہے۔ بھان سنگھ کے گھر میں بلال کا پرجوش استقبال ہوا تعارف کا مرحلہ طے ہوا ۔ گھر میں اس کے ماں باپ چاچا چاچی جو کہ پریت کور کے ماں باپ ہیں اور دادی پرونت کورسے ملتا ہے اس دوران دادی پرونت کور بلال کو بہت غور سے دیکھتی ہے اس کے چہرے پہ تعجب اور تجسس ہوتا ہے بلال کچھ الجھ سا جاتا ہے۔اس کے ذہن میں یہ سوچ بھی آتی ہے تقسیم ہند کے وقت دادی جوان تھی ت ہندو مسلم فساد کے نقوش ان کے ذہن سے مٹے نہیں ہونگے شاید وہ میرے لۓ اپنے دل میں نفرت محسوس کر رہ ہوں۔اور ایک مسلم کو اپنے گھر میں برداشت نہ کر سکتی ہوں۔ بلال نے بھان سنگھ کو امرت کور سے ملنے بارے پوچھا تو اس نے کہا کہ کل ملیں گے ۔۔ بھان سنگھ کی ماں اس کے آنے کی خوشی میں گرودوارے میں ارداس رکھتی ہے۔ ارداس ایک دعاٸیہ محفل ہوتی ہےجس میں گرو گرنتھ پڑھی جاتی ہے جسے سکھ پاٹھ بھی کہتے ہیں ۔بلا ل اس مذہبی محفل میں جانے سے گھبراتا ہے لیکن بھان سنگھ کے سمجھانے پہ چلا جاتا ہے۔گرودوارے میں جب ارداس اختتام کو پہنچتی ہے اور لنگر تقسیم کرنے کا وقت آتا ہے تو بھان سنگھ ایک سمت اشارہ کر کے بلال کو بتاتا ہے کہ وہ دیکھو امرت کور آرہی ہے۔وہ سب سے بے نیاز چلتی ہوٸی آتی ہے اور گرو گرنتھ کے سامنے ماتھا ٹیکتی ہے ہاتھ جوڑ کر آنکھیںں بند کر کے دعا مانگتی ہے۔ بھان سنگھ اور بلال باہر صحن میں امرت کور کا انتظار کرنے لگتے ہیں۔۔ امرت کور جب باہر آتی ہے بلال کو دیکھ کر اس کا ردعمل بڑا عجیب اور سمجھ میں نہ آنے والا ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ بہت زیادہ خوش ہو گٸی ہے خوشی اسکے چہرے اور آنکھوں سے عیاں ہوتی ہے۔لب بولنے کے لٸے کانپتے ہیں لیکن پول نہیں پاتے۔ وہ بت بنی اسے کو دیکھے جاتی ہے۔ بلال امرت کور کی یہ حالت دیکھ کر کچھ خوف زدہ ہو جاتا ہے۔وہ ٹرانس کی حالت میں وہاں کھڑا رہتا ہے تبھی وہ آگے بڑھ کر آسمان کی طرف دیکھ کر واہ گرو دی جے۔۔۔ تے واہ گر دی فتح ۔۔بلال کی طرف دیکھ کر کہتی ہے کہ تجھے آنا ہی تھا آ گیا نا تو۔۔ میرے بچے رب نے میری سن لی اور سب سچ کر دیا جو میں چاہیتی تھی تو آگیا۔اور اپنا ہاتھ بلال کے سر پہ رکھ دیتی ہے۔پھر اسے بہت پیار اور اپناٸیت سے گلے لگا لیتی ہے۔وہاں سب لوگ اس بات سے حیران کم پریشان زیادہ تھے ۔ پھر وہ اپنے ساتھ جو حلوہ لاٸی تھی وہ بلال کو کھلاتی ہے۔اور بھان سنگھ کو بھی دیتی ہے۔لے پتر کھا اور میٹھی مراد پا۔۔ جب تک میں نہ کہوں تب تک اسے یہا ں سے جانے نہ دینا ۔۔ واہ گرو کی مہر ہو تم پر۔
وہاں پہ موجود ایک بوڑھی عورت شدت جذبات سے بولتی ہے کہ واہ پتر تجھ میں ایسی کیا بات ہے جو اتنے برس کی خاموشی ٹوٹ گٸی امرت کور کو آج پہلی بار بولتے سنا۔ یہ بات بلال کے لٸے بھی حیران کن تھی اور وہاں موجود ہر شخص بھی اپنے اپنے انداز میں تبصرہ کرنے پر مجبور تھا سب کی نگاہیں بلال کی طرف تھیں بھان سنگھ کہتا ہے کہ یہ تو انہونی ہو گٸی تم ان باتوں پہ غور کرو جو امرت کور نے کیں اس کی خاموشی ٹوٹنے کا کوٸی تعلق ضرور ہے۔ بھان سنگھ اور بلال گھر آکر بہت دیر تک امرت کور کے الفاظوں پہ غور کرتے رہے۔اپنے طور پہ اندازے لگا رہے تھے اب یہ حیران کن موضوع زیر بحث آنے والا تھا ہر کوٸی ان دونوں سمیت اس راز کو جاننا چاہتا تھا کہ یہ خاموشی کیوں ٹوٹی وہ بھی بلال کے آنے پر اور جو الفاظ بولے تھے بابا بلھےؒ شاہ کا کلام پڑھا تھا ۔ بھان سنگھ ایک اور الجھن کا شکار تھا کہ امرت کور نے یہ کیوں کہا کہ جب تک میں نہ کہوں اسے یہاں سے جانے مت دینا۔بلال کے ویزے کی مدت کم تھی لیکن بلال نے کسی الجھن میں پڑے بغیر کہا کہ میں تو چکا جاٶں گا تیرے کہے کے مطابق تو امرت کور نے میرے سر پہ ہاتھ رکھ دیا ہے میرا کام تو ہو مکمل ہو گیا ہے۔ لیکن بھان سنگھ نے اسے کہا کہ تم اس وقت تک نہیں جا سکتے جب تک وہ اجازت نہ دے۔بھان سنگھ کی ماں انہیں سمجھاتی ہے کہ تم لوگ امرت کور کی اوٹ پٹانگ باتوں کو دل پ مت لینا۔ وہ تو پاگل ہے۔۔ شام تک امرت کور کا بھا ٸی اور بھابی بلال سے ملنے آتے ہیں تاکہ اس شخص کو دیکھ سکیں جس کی وجہ سے وہ اپنے حواسوں میں لوٹ آٸی ہے۔ اور نارمل انسانوں کا رویہ اختیار کر چکی ہے۔ بلال کو وہ اپنے گھر کھانے کی دعوت دیتے ہیں۔ ساتھ شکریہ ادا کرتے ہیں۔ تب سارے گھر والے بلال کے خاندان بارے پوچھتے ہیں بلال سارا کچھ بتاتا ہے اپنے اور گھر والوں کے بارےاور سب کو پاکستان اپنے گھر آنے کی دعوت بھی دے دیتا ہے۔۔ پھر بلال اپنے گھر والوں سے انٹرنیٹ پہ بات کرنے کا ادرادہ ظاہر کرتا ہے اور کمرے میں آجاتا ہے تب بھان سنگھ کی دادی بھی پیچھے آتی ہے۔بلال سے کہتی ہے تم جاننا چاہتے ہو نا کہ امرت کور کی خاموشی تمھیں دیکھ کر کیوں ٹوٹی ہے۔
تب دادی پرونت کور ایک حیرت انگیز انکشاف کرتی ہے جسے سن کر بلال کا دوران خون بڑھ جاتا ہے۔۔ اور جلد سے جلد جاننا چاہتا ہے ۔دادی سے اپنے دادا کا نامسن کر حیران ہوتا ہے تب اس کا تجسس کٸی گنا اور بڑھ جاتا ہے جب اسے پتہ چلتا ہے کہ تقسیم سے پہلے اسکا دادا نور محمد اسی گاٶں میں رہتا تھا۔پھر یہاں سے ہجرت کر کے لاہور ہاکستان جا بسا۔پھر دادی کی زبانی سار ی روداد بلال سنتا ہے۔۔ دادی بتانا شروع کرتی ہے کہ میں اور امرت کور بچپن کی قریبی سہیلیاں تھیں ۔جب نور محمد تیرا دادا اس سے بچھڑا تب وہ تیری عمر کا تھا اور ہو بہو تیری طرح دِکھتا تھا اس لٸے تجھے دیکھ کر امرت کور کی خاموشی ٹوٹ گٸی۔ نور محمد گورا چٹا تیکھے نقوش والا لمبے قدکا گھبرو جوان تھا ۔ امرت کور اسے دل و جان سے چاہتی تھی جب وہ کھیتوں سے لوٹتا تب امرت کور اسے ایک نظر دیکھنے کے لٸے گھر سے نکلتی تھی ایک دن اس نے نور محمد کو اپنا حالِ دل سنانے کا فیصلہ کرتی ہے۔ میں نے اسے سمجھایا کہ اپنے ارادے سے باز آجاٶ تیرا باپ بہت ظالم ہے یہ پیار محبت تم دونوں کے خاندانوں کو بہت مہنگا پڑے گا۔نور محمد کھیتوں سے واپس آرہا تھا امرت کور نے اسے ہاتھ کے اشارے سے روکا اور ہم اس کی بیل گاڑی پہ سوار ہو گٸیں۔
وہاں امرت کور نور محمد کو بتاتی ہے کہ وہ اسے دل وجان سے چاہتی ہے مگر وہ اسے ڈانٹ ڈپٹ کرتا ہے سمجھاتا ہے کہ یہ سب ٹھیک نہیں ہے تمھیں زیب نہیں ایسے باہر پھرنا اپنے گھر میں رہا کرو۔ لڑکیاں شام کے وقت باہر نہیں پھرتیں اب تم بڑی ہو گٸی ہو بچی نہیں رہی لیکن امرت کور ماننے کو تیار نہیں ہوتی بار بار اپنی محبت کے بارے بتاتی ہے۔ نور محمد اسے بہت سمجھاتا ہے اس پہ کوٸی اثر ہی نہیں ہوتا۔ وہ مجھے بھی کہتا ہے کہ تم اسےسمجھاٶ ۔پھر مجھے ایک دن امرت کور نے بتایا کہ میں نور محمد کو لے کر یہاں سے بھاگ جانا چاہتی ہوں میرے پاس اتنی رقم ہے میں اس زمین سے دوگنی زمین اسے خرید کر دے سکتی ہوں۔ میں نے باتوں باتوں میں نور محمد اور اس کے مذہب کا بھی حوالہ دیا ساتھ یہ بھی کہا کہ اسکی منگنی اپنی پھوپھی زاد سے ہو چکی ہے۔یہاں تک میں اس سے ملنے تک کو منع کردیا کہیں اس کی وجہ سے میرے بھی خاندان کی عزت پہ آنچ نہ آۓ۔ امرت کور کافی عرصہ مجھ سے نہیں ملی ۔گاٶں کی لڑکیاں اس کے بارے بتاتی رہتیں تھیں۔ میں خود بھی اس سے ملنا نہیں چاہتی تھی کیونکہ پھر مجھے نور محمد والے معاملے میں اسکا ساتھ دینا پڑتا۔ نور محمد پہ گاٶں کی بہت سی لڑکیاں مرتی تھیں۔میں بھی دل سے چاہتی تھی کہ امرت کور اسکا پیچھا چھوڑ دے۔ وہ غریب خواہ مخواہ ہی مارا جاتا ۔ اسکے باپ نے اپنی بیٹی ک بدنام نہیں کرنا تھا سارا الزام اس پہ ڈال دینا تھا۔ پھر ایک شادی کی تقریب میں میری ملاقات امرت کور سے ہوٸی وہ میرے گلے لگ کر رونے لگی بہت سے گلے شکوے اور باتیں کیں۔ مجھے کہنے لگی تم سچ کہتی ہو واقعی نور محمد میرا نہیں ہو سکتا وہ سکھ نہیں ہوگا میں بھلے مسلمان ہو جاٶں۔میں نے سمجھایا کہ پیار بے غرض ہوتا ہے اگر نور محمد کے دل میں تیرے لٸے پیار ہوتا تو وہ کسی بھی لالچ کے بغیر اب تک تمھیں یہاں سے لے جاتا۔ پھر وہ بہت دیر تک اپنے جذبات اور خیالات مجھے بتاتی رہی۔ میں اسے سمجھانے کے علاوہ کیا کر سکتی تھی اس کی لگن سچی نہیں تھی وہ بدن کی پکار سن رہی تھی۔ اپنی یا نور محمد کی عزت سے اسے کوٸی سروکار نہیں تھا۔انہی دنوں امرت کور کی منگنی بھی ہو چکی تھی میں نے کہا کہ تیرا منگیتر رگھبیر سنگھ بہت سوہنا ہے تو اس کی طرف اپنا دھیان لگا پھر سب کچھ بھول جاٶ گی۔ کٸی بار میرا دل بھر آیا کہ امرت کوراپنے دل میں کتنی محبت رکھتی ہے۔ اصل میں تو وہ جانتی ہی نہیں تھی کہ محبت کسے کہتے ہیں وہ صرف جسمانی قربت کو ہی محبت سمجھتی تھی۔ اس نے نور محمد کی بہن کو سہیلی بنا لیا اور اس کے گھر آنے جانے لگی اور مختلف بہانوں سے اسے تحائف دیتی رہتی۔اس دوران اس میں ایک تبدیلی آگٸی وہ گاٶں کے ماسٹر صاحب سے کتابیں منگوانے لگی اور گرو گرنتھ کا پاٹھ روزانہ کرنے لگی۔جس سے مجھے خوشی ہوٸی۔ اس تبدیلی کی وجہ نور محمد کی سرد مہری تھی ورنہ اگر یہ آگ دونوں طرف ہوتی تو سب کچھ جل کر بھسم ہو جاتا اور وہ دنوں گناہوں میں ڈوب جاتے۔پھر ہندوستان دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا اسی دوران ہندو مسلم فسادات کا خطرہ بڑھ گیا۔سارا گاٶں سہم گیا اور رگھبیر سنگھ امرت کور کی خفیہ نگرانی کرنے لگا باہر نکلنے سے بھی منع کر دیا۔تب مجھے یہ خیال بھی آیا کہ اب نور محمد مسلمانوں کے دیس چلا جاۓ گا پھر امرت کور کا کیا ہوگا جو اسے دیکھنا ہی اپنی عبادت سمجھتی ہے۔ پھر ایک بھیانک رات آٸی اور گلی میں لوگوں کا شور مچ گیا گاٶں کے ایک طرف سے روشنی ہونے لگی جہاں نور محمدکا گھر جل رہا تھا سارا خاندان جل کر راکھ ہو گیا تھا میں یہ سوچ کر ہی بے ہوش ہو گٸی جب ہوش آیا تو میرے باپو نے سارا ماجرا سنایا۔ مسلمانوں کے گھر جل چکے تھے ملٹری والے گاٶں میں پہنچ گٸے تھے۔ رگھبیر سنگھ کی کٹی ہوٸی لاش ملی تو سب کا شک نور محمد کی طرف گیا کہ اسی نے مارا ہے۔ صبح پتہ چلا کہ امرت کور اپنے حواسوں میں نہیں رہی وہ پاگل ہو چکی تھی۔ سب لوگ سمجھ رہے تھے کہ اس نے رگھبیر سنگھ کی موت کا اثر لیا ہے ایک میں تھی جو یہ مان ہی نہیں سکتی تھی ۔ امرت کور روز صبح گرودوارے جانے سے پہلے جس جگہ جاتی تھی یہ وہ ہی جگہ تھی جہاں رگھبیر کی بے دردی سے قتل کی لاش ملی تھی۔سکھوں کے ہاتھ کیا آیا جلے ہوۓ گھر اپنے جوانوں کی لاشیں اور امرت کور کا پاگل پن ۔۔ بھان سنگھ کی دادی سے بلال نے ساری کہانی سنی ت امرت کور کے لٸے نفرت محسوس کرنے لگا۔ سوچا کہ جس عورت سے ملنے وہ اتنی دور آیا ہے اس کے دل میں اٹھنے والی ہوس کی آگ نے سارے گاٶں کو تباہ کر دیا تھا۔ بلال بات بدلنے کے لٸے دادی سے اس کی شادی اور باقی خاندان بارے پوچھتا ہے دادی ماضی کی یادوں میں جاتی ہے ۔ بلال کو احساس شرمندگی گھیر لیتا ہے کہ میں کس مقصد کے لٸے یہاں آیا ہوں۔ جب بلال امرت کور کے بھاٸی کی دعوت پہ ان کا مہمان بنتا ہے۔ جہاں اس کا شاندار استقبال ہوا۔جب بھان سنگھ،پریت کور اور بلال شاپنگ اور گھومنے پھرنے کا ارادہ ظاہر کرتے ہیں تو امرت کور بھی ان کے ساتھ جانے کو تیار ہو جاتی ہے۔ امرت کور بلال کو وہاں روکنا چاہتی تھی بلال کے ذہن میں آیا شاید یہ نور محمد سے انتقام نہیں لے سکی تو اب مجھ سے انتقام لینا چاہتی ہے۔۔ امرت کور ان کے ساتھ ہی شاپنگ کے لٸے نکلتی ہے اور راستے میں بلال کے ساتھ ہرمندر صاحب رک جاتی ہے بھان سنگھ اور پریت کور کو آگے بھیج دیتی ہے ۔وہاں بلال کو اپنی کہانی سناتی ہے۔کہ میں پاگل کبھی ہوٸی ہی نہیں تھی میرا دل نہیں مانتا تھا لالچ اور تعصب کے مارے لوگوں سے بات کرنے کے لٸے میں تو بس نور محمد کو یہاں لانا چاہتی تھی۔ میرا دھیان تھا وہ اب ٹوٹ گیا ہے۔
میں نےپہلی بار نور محمد کو بیساکھی کے میلے میں دیکھا تھا اور اپنا دل ہار بیٹھی تھی ۔ اپنی اکلوتی سہیلی پرونت کور کے منہ موڑنے کے بعد میں نے نور محمد کی بہن حاجراں سے دوستی کر لی تاکہ نور محمد کو دیکھ سکوں ۔ اس کے گھر آتے جاتے اس سے سامنہ ہوجاتا پھر میں نے ایک دن حاجراں کو بھی اپنا حال دل سنا دیا ۔ تب مجھے اس نے بتایا کہ وہ پروین سے محبت کرتا ہے اسی سے شادی کرے گا۔ ایک دن مجھے موقع مل گیا اور میں نور محمد کے پیچھے کھیتوں میں پہنچ گٸی پھر اپنے لٸے پیار کی بھیک مانگنے لگی وہ ہمیشہ کی طرح ٹال گیا ۔میری حسن جوانی کوٸی بھی چیز اس کے لٸے اہمیت نہیں رکھتی تھی ۔میں نے کہا کہ نہ میں ہیر نہ میں سوہنی میں تو امرت کور ہوں وہ پیار نہیں مانگتی جو روح کو چھو لے ۔میرا جسم حاضر ہے تو میری پیا بجھا دے۔یہ سن کر نور محمد کے غضب میں اضافہ ہوگیا ۔ اس نے کہا کہ تیرا بدن گندی مٹی سے بنا ہوا ہے۔ میرا نہیں ۔۔ہر انسان اپنے عمل سے اپنی مٹی بارے بتا دیتا ہے۔ساتھ مجھے دھمکی دی کے وہ میرے ٹکڑے کر دے گا۔ میں تیری موت کا ذمہ اپنے سر لے سکتا ہوں ۔لیکن ایسا کچھ نہیں کروں گا جو تو چاہتی ہے۔ تب میرے باپو کو بھی پتہ چل گیا اس نے بہت غصہ کیا میری منگنی رگھبیر سنگھ سے کر دی۔۔ رگھبیر سنگھ مسلمانوں کا مخالف تھا اور قتل کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ میرا عشق جنونی کیفیت اختیار کر چکا تھا ۔۔ جس رات رگھبیر سنگھ نے مسلمانوں کے گھر جلاۓ میں اپنے گھر سے پیسے اور زیورات سمیٹ کر گھوڑی پہ سوار ہو کر نکل آٸی جہاں میں نے نور محمد کو دھوکے سے پیغام بھیج کر بلوایا تھا وہ وہاں رگھبیر کا انتظار کر رہا تھا۔ میں نے اسے کہا میرے ساتھ بھاگ چل یا میری پیاس بجھا دے۔یہاں مسلمانوں کے تمام گھر جل چکے ہیں ۔ اتنے میں رگھبیر وہاں پہنچتا ہے اور نور محمد کو مارنے کے لٸے مجھے کرپان دیتا ہے میں نے اسی کرپان سے رگھبیر کی گردن اڑا دی۔تب نور محمد وہاں سے مجھ پہ تھوک کر گھوڑی پہ سوار ہو کر چلا جاتا ہے میں نے خاموشی لی ۔تیرے دادا کی وہ نفرت بھری نگاہیں مجھے آج بھی یاد ہیں۔ اس کے بعد نہ میں کبھی پرونت کور سے ملی اور نہ وہ ساری کہانی جان پاٸی۔ میں نے ساری دنیا تیاگ دی تھی ۔۔ مجھے زندگی سے چھٹکارا نہ ملا ۔۔اب میری ایک ہی بنتی ہے کہ مجھے نور محمد سے ملا دے شاید موت آسان ہو جاۓ پھر وہ زارو قطار رونے لگی۔اگلے دن بلال اپنے دادا کا آبائی گھر اور وہ جگہ جہاں ان کے خاندان کی جلی لاشیں دفن کی تھیں دیکھنے کی خواہش کرتا ہے۔ جہاں انکو دفن کیا گیا تھا اس جگہ اکیاون سال بعد نمازہ جنازہ ادا کرتا ہے۔اور ان سے کہتا ہے کہ یہاں ان کی قبریں بنوانا چاپتا ہوں۔وہاں موجود امرت کور اور پرونت کور سے کہتا ہی آپ لوگوں نے تو ان کے لٸے قبروں کی جگہ بھی نہیں چھوڑی اوپر فصل اگا دی ۔۔ اس کے بعد بلال واپس پاکستان آجاتا ہے تب پریشان ہوتا ہے کہ اب دادا کو کیسے بتاۓ۔۔وہ اپنے دادا کو دکھ نہیں دینا چاہتا تھا ماضی کی باتیں کر کے لیکن امرت کور کا انتظار بھی ختم کرنا چاہتا تھا۔بلال کے واپس آنے کے بعد امرت کور اور پرونت کور دونوں خاندانوں نے مل کر وہ جگہ خریدی جہاں نور محمد کا خاندان دفن تھا وہاں چار دیواری بنا کر گیٹ لگوا کر اوپر” اس گاٶں کے بے گناہ مظلوم مسلمان شہید پاکستان“ لکھوا دیتے ہیں۔یہ تصویر جب بلال کے پاس پہنچتی ہے تو پھر وہ اپنے دادا کو بتاتا ہے کہ میں آپ کا گاٶں جھتیوال دیکھ کر آیا ہوں ساتھ تصویر دکھاتا ہے۔تب امرت کور کے نام پہ ان کی آنکھوں سے نفرت کےشعلے نکلتے محسوس کیے۔دادا نےبولا کہ کاش میں اسے اپنے ہاتھوں سے اسے مار سکتا۔بلال بتاتا ہے کہ یہ سارا کام امرت کور نے کیا ہے تب وہ اسے معاف کر دیتے ہیں۔ بلال وہاں کی تمام روداد کہہ سناتا ہے اور ساتھ ساتھ تصاویر بھی دکھاتا ہے۔۔پھر بھان سنگھ اپنے گھر والوں اور امرت کور کے ساتھ پاکستان آتا ہے۔امرت کور اور بھان سنگھ کی فیملی کو بلال اور اس کے دادا واہگہ باڈر پہ لینے جاتے ہیں ۔۔ سب ایک دوسرے سے جب مل چکے ہوتے ہیں تو امرت کور ہاتھ جوڑے بے جان بت کی طرح نور محمد کے سامنے کھڑی معافی مانگتی ہے اور نور محمد کے یہ الفاظ کی معاف کر دیا ہے سن کر اس کے بت میں جان آتی ہے اور گلے مل کے دونوں خوب روتے ہیں۔۔امرت کور اور بھان سنگھ فیملی ایک ہفتے کے لٸے پاکستان آتے ہیں۔۔ بلال کے گھر میں روایتی استقبال کے بعد بہت سے موضوع زیر بحث رہے جن میں گھر والوں کے حال احوال کے بعد تقسیم ہند ،تقسیم کے بعد کے سکھوں کے حالات، خالصتانی تحریک،بھارتی سیاسی فضا،بلیو سٹار آپریشن،دہلی میں سکھوں کا ہولو کاسٹ، روایات اور پرانے لوگوں کے احوال کے علاوہ بھی بہت کچھ زیر بحث رہا۔ جنم استھان پہ تین دن گزارنے کے بعدحسن ابدال پنجہ صاحب،رنجیت سنگھ کی مڑھی،بابا فرید شکر گنجؒ،میاں میر،بابا بلھے شاہؒ، راجہ صاحب کی مڑھی،شاہی مسجد،شاہی قلعہ کی سیر اور اپنی مذہب کے مطابق عبادات بھی کیں۔۔ پھر زویا بھان سنگھ اور پریت کور سے ملنے کو ملنے کے لٸے بلاتی ہے۔تبھی بلال ایک تجویز ان کے سامنے رکھتا ہے کیوں نا ہم دادا اور امرت کور کی شادی کروا دیں ۔سب بلال کی اس تجویز پہ حیران ہوتے ہیں اور اپنی اپنی مختلف تجاویز اور راٸے دیتے ہیں۔پہلے تو وہ تینوں بلال کی طرف یوں دیکھتے ہیں جیسے انہونی بات کہی ہو ۔پریت کور کہتی ہے کہ اس بارے سوچا جا سکتا ہے۔بھان سنگھ کہ خیال میں مںسلہ ان دونوں کی شادی نہیں بلکہ دونوں کا شادی کے لٸے مان جانا ہے۔زویا کہتی ہے کہ کیا آپ لوگوں کو لگتا ہے وہ دونوں ابھی عمر کے جس حصے میں ہیں اس شادی کے لٸے مان جاٸیں گے۔بلال کی نظرمیں مذہب سب سے بڑا مسلہ ہے۔دادا جی سکھ نہیں ہو سکتے امرت کور مسلمان ہونے کو نہیں مانے گی۔بھان سنگھ جواب دیتا ہے۔دیکھنا یہ ہوگا کہ دونوں میں سے زیادہ شدت کس طرف ہے۔ویسے تو شدت امرت کور کی طرف سے ہے۔اسے مذہب سے کوٸی سروکار نہیں اس کے لٸے سب کچھ نور محمد ہے۔ اب یہ دیکھنا ضروری ہے نور محمد کے لٸے امرت کور کیا ہےزویا اپنا خیال پیش کرتی ہے ان دونوں کو شادی کے لٸے فورس کرنے کی بجاۓ کیوں نہ ہم ان کو کچھ وقت اکیلے میں ایک دوسرے کے ساتھ گزارنے دیں تاکہ اس ماحول کے زیر اثر وہ کوٸی فیصلہ کریں۔۔ تبھی زویا کے والد بلال کے والد کو کال کر کے انڈیا سے آۓ مہمانوں کو اپنے گھر دعوت پہ بلانے کے لٸے کال کرتے ہیں۔۔ ان چاروں کی نشست دعوت پہ ملنے کا کہہ کر ختم ہوتی۔جب سارے مہمان زویا کے گھر دعوت پہ جاتے ہیں تب بھی نوجوان پارٹی امرت کور اور نور محمد کو ڈسکس کرتی ہے اور اگلے دن پلان کے مطابق بلال دادا جی کو مسجد سے پک کر کے سیدھا پارک آتا ہے جہاں بھان سنگھ اور پریت کور پہلے ہی امرت کور کو لے کرپہنچ چکے ہوتے ہیں۔۔ تب بلال،بھان سنگھ اور پریت کور پارک میں دادا اور امرت کو چھوڑ کر ناشتے کے بہانے نکل جاتے ہیں۔مہمانوں کا اپنے وطن لوٹ جانے کا وقت ہو جاتا ہے بلال اور زویا کی فیملیاں ان کو واہگہ باڈر الودع کہنے آتے ہیں۔بلال جانے سے پہلے ا مرت کور سے کہتا ہے کہ جلد دادا کو لے کر جھتوال آٶں گا۔ اسکے جواب میں امرت کور کہتی ہے وعدے پورے ہونے سے پہلے آجانا۔ پھر زندگی معمول پہ آجاتی ہے تو بلال اپنے دادا سے امرت کور کی شادی کی تجویز دادا کے سامنے رکھتا ہے جس پہ نور محمد حیرانگی اور غصے کا ملا جلا اظہار کرتا ہے۔۔ بلال کو سمجھاتا ہے کہ میں اس عمر میں یہ نہیں کرسکتا میری عزت خاندانی وقار اور سب سے بڑی بات میرے مذہب کا مسلہ ہے۔لمبی بحث اور مختلف پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوۓ نور محمد اس شادی سے انکار کر دیتا ہے۔ تب تک زویا کے والدین بھی چھان پھٹک کر کے بلال اور زویا کے رشتے کے لٸے راضی ہو جاتے ہیں۔ لیکن بلال اچانک شادی سے انکار کر دیتا ہے۔۔ جس سے اس کے والدین اور زویا بہت پریشان ہوتے ہیں ۔نور محمد کے پوچھنے پہ بلال کہتا ہے کہ جیسے آپ اور امرت کور مذہب کی وجہ سے ایک نہیں ہو سکتے اسی طرح میں اور زویا بھی شادی نہیں کر سکتے وہ سید گھرانے کی اور میں آراٸیں ذات کا ہوں۔۔ تب دادا جی اسے سمجھاتے ہیں ۔۔ بلال کہتا ہے مجھے پہلے جھتوال جانا ہے واپس آکر شادی کروں گا۔ جب نور محمد اور بلال جھتوال جاتے ہیں سب سے پہلے نور محمد اپنے پیاروں کی قبروں پہ جا تا ہے۔ بھان سنگھ کے گھر سب ان کا پرتپاق استقبال کرتے ہیں ۔ وہاں سب ہوتے ہیں لیکن امرت کورنہیں ہوتی۔ بلال اور بھان سنگھ امرت کور کو لینے اس کے گھر جاتے ہیں انہیں پتہ چلتا ہے وہ گرودوارے گٸی ہے ۔۔جب گرودوارے جاتے ہیں تو امرت کور گھر جا چکی ہوتی ہے۔ جب تک گھر پہنچتے ہیں تب نور محمد پرونت کور اور باقی سب امرت کور کے گھر پہنچتے ہیں ۔ پرونت کور کہتی ہے کہ دیکھ امرت کور تجھے نور محمد خود لینے آیا ہے۔ امرت کور کہتی ہے کہ ہاں وعدے پورے ہوگٸے اور نور محمد کومل کر وہیں واہ گرو کا نام لیتی ہے اور اس کی روح پرواز کر جاتا ہے۔ امرت کور کی چٹھی کے مطابق اس کی چیتا نور محمد کے ہاتھوں جلاٸی جاتی ہے۔۔ بھان سنگھ اور پریت کور کی شادی کی تاریخ آگے کر دی جاتی ہے امرت کور کی وفات کی وجہ سے پھر بلال اور نور محمد واپس آ جاتے ہیں پاکستان واہگہ باڈر پہ بلال کے گھر والوں کے ساتھ ساتھ زویا اور اس کے امی ابو بھی استقبال کے لٸے آۓ ہوتے ہیں۔۔ ایک عشق کی داستان ختم ہوتی ہے اور دوسرے عشق یعنی بلال اور زویا کی کہانی آگے بڑھنے کو تیار ہے۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

پبلیشرز کے جھوٹ اورکچھ سوال … خرم شہزاد

پبلیشرز کے جھوٹ اورکچھ سوال خرم شہزاد                 ’ارے بھائی صاحب اب کون کتابیں پڑھتا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے