سر ورق / مضامین / ھرمن نارتھروپ فرائی ۔۔۔۔ احمد سہیل

ھرمن نارتھروپ فرائی ۔۔۔۔ احمد سہیل

ھرمن نارتھروپ فرائی ۔(Herman Northrop Frye) :::

تحریر ۔۔ احمد سہیل (امریکہ)

کینڈین ادبی نقادو نظریہ دان، معاشرتی مبصر، مسیحی عالم اور استاد۔

ولادت:14 جولائی، 1912 شربروک، کینڈا۔

وفات: 23 جنوری، 1991 ٹورنٹو، کینڈا، ۔۔۔۔ حرکت قلب بند ھونے سے انتقال ھوا۔

تعلیم:ایمونیل کالج، تورنٹو، جامعہ ٹورنٹو، مارٹن کالج ، آکسفورڈ، وکٹریہ کالج ، ٹورنٹو۔

مکتبہ فکر: امہات الصور ادبی تنقید(Archetypal literary criticism)، رومانویت۔

کلیدی ادبی اور علمی دلچسپیاں : پیکریت/ تمثالیت،امہات الصور، اساطیر اور انجیلی مطالعے ۔

معروف تصورات: امہات الصور ادب۔اور کلاسیکی ادب۔

فرائی پر اثرات: کایا موبتا ویکو، اوسوولڈ اسپنگر، ولیم بلیک، ای۔ ایچ رچرڈ، ایف آر لویس،

فرائی کے اثرات: ہیرالڈ بلوم، مارگریٹ ایٹوڈ،اور پی۔ ڈبلیو پاؤ۔

نظامیات: پیکریت/ تمثالیت، انجیل، یونانی اساطیر، زبانی ساختیہ، مغربی توپ (CANON)، موسیقی اور ولیم بلیک۔

نارتھروپ فرائی بنیادی طور پر قدامت پسند تنقیدی اور معاشرتی نطریہ دان ہیں۔ انھوں نے ساختیاتی مباحث کو نظام کی صورت میں پیش کیا اور امریکی ” نئی تنقید ” کو نیا نظامیاتی نقشہ دیا، 1947 میں انھوں نے ولیم بلیک پر اپنی پہلی کتاب لکھی ۔ خاص طور پر انھوں نے ولیم بلیک کی نظم ” سیاہ گلاب” کا عمیق تجزیاتی مطالعہ کرتے ھوئے اس بات کا احاطہ کیا کہ ایک عرصے سے ولیم بلیک کی ” پیغبرانہ” شاعری کو نظر انداز کیا جاتا رہا۔ اور جو کچھ ان کی تفھیم ھوئی وہ غیر تسلی بحش ھے اور انھیں ایک خبطی شاعر سمجھا جاتا رہا۔ فرائی کا کہنا ھے کہ ولیم بلیک کی شاعری ” جنت گم گشتہ” اور انجیل کے کئی استعاروں سے ماخوز ھے۔ جس نے بعد میں ھونے والے ادبی مطالعون پر گہرے اثرات ثبت کئے۔ جس کا اثر ہیرالڈ بلوم، اور آرٹ وڈ کی شعری تنقیدات پر بھی ھوا۔ ولیم بلیک کے ان مظالعوں میں فرائی نے ” ضد ساخت” کی تنقیدی تکنیک کو استعمال کرتے ھوئے انگریزی تنقید کو نظامیانہ کی تنقید کو متعارف کروایا اور منطم طریقے سے منظم طریقے سے تنقید لکھنے کا سلیقہ اجاگر کیا۔ جس مین تنقید نطم و ضبط کے ساتھ لکھی جاتی ھے۔ اپنی کتاب ” اٹانومی آف کرٹیسزم” (Anatomy of Criticism) میں فرائی نے تنقید کا نطامیانہ اسلوب بیان کرتے ھوئے اصولوں اور تکنیک SYNOPTIC کے نقطہ نظر سے بھی پیش کیا اور سوال بھی کیا کی تنقید سائنس کے علاوہ ایک فن بھی ھے؟ جو تنقیدی پیکریت کا دوسرا نام ھے جس طرح سائنس میں "جواز” کو اہمیت حاصل ھے۔

” ہرمن نار تھروپ فرائی نے تنقید کو ایک منفرد روپ اور نئے آہنگ سے آشنا کیا۔ سال 1957میں شائع ہونے والی اپنی معرکہ آرا تصنیف(Anatomy of Criticism) میں ہرمن نارتھروپ فرائی نے نئی تنقید کی تخلیقی بالادستی، اسلوبیاتی غلبے اور فکر ی تسلط کو مدلل انداز میں چیلنج کر کے فکر و نظر کی کایا پلٹ دی۔ اس کتاب میں نئی ارتقائی وسعتوں سے روشناس کروایا اور قوسیاتی قماشات کے خلاقانہ سیاق میں عالمانہ مناظرہ بھی تھا۔ اس کتاب میں انجیل کی آرکی ٹائپ کی تشریح کرتے ہوئے انگریزی ے شاعر اور مصور ولیم بلیک {1751۔ 1827} کی شاعری میں آر کی ٹائپ تصوارات کو دریافت کیا۔ اور کئی ریڈکل نکات کو ابھارہ اس نے نئی تنقید کے علم برداروں کی فکری قیادت اور سرداری کے ادعا کو لائق اعتنا نہ سمجھا اور نئے زمانے نئی صبح و شام کی تخلیق میں گہرے انہماک کا مظاہرہ کرتے ہوئے جمود کے خاتمے کی مقدور بھر سعی کی۔ اس کا خیال تھا کہ جس طرح نئی تنقید نے انفرادی تخلیقی کام میں زبان و بیان کی تفہیم اور تجزیاتی مطالعہ پر توجہ مرکوز رکھی ہے وہ متن کی تفہیم کے سلسلے میں سعیِ لا حاصل ہے۔ اس نے متن کی انواع و اقسام کے عمیق مطالعہ پر اصرار کیا جن کے سیکڑوں مناظر پیہم فکر و خیال کی انجمن میں سج کر اذہان کی تطہیر و تنویر کا وسیلہ ثابت ہوتے ہیں ۔ اس نے تنقید کو جو معیار، وقار، سانچہ، ڈھنگ، پیمانہ، اسلوب، رنگ اور نمونہ عطا کیا وہ اس کی ذات قرار دیا جا سکتا ہے۔ ہرمن نار تھروپ فرائی نے وسیع، بے کراں اور زیادہ گہرے تخیلاتی نمونوں پر زور دیا کیوں کہ یہی وہ اساس ہے جس پر تخلیقی کام کا قصرِ عالی شان استوار ہو تا ہے۔ اس نے تنقید کے لیے جس طرزِ فغاں کی اختراع کی اسی کو مستقبل کے لیے طرزِ ادا کا درجہ ملا۔ تنقید کے اس خاص نمونے کو ہرمن نار تھروپ فرائی کے مجوزہ تنقیدی سانچے (Archetype)سے تعبیر کیا جاتا ہے جس کے آثار ہر عہد کی تنقید میں ملیں گے۔ مختلف اصناف ادب میں خاص طور پر ڈراما اور شاعری میں نئی تنقید نے گہری دلچسپی لی۔ اس کے بعد روسی ہئیت پسندوں نے ان تمام محرکات پر غور کیا جو تخلیق فن اور اس سے وابستہ عوامل کے تجزیاتی مطالعہ کی اساس بنتے ہیں۔ جلد ہی متن کے مشمولات اور ہئیت کی دو الگ الگ اجزا میں تقسیم پر روسی ہئیت پسندوں نے شدید گرفت کی۔” {نئی تنقید :ایک مطالعہ۔ ۔ ۔ غلام شبیر رانا، سہ ماہی ’سمت‘، شمارہ ۳۰ ۔ اپریل تا جون ۲۰۱۶}۔ اس میں دو آرا نہیں کہ فرائی بیسوی صدی کے ادبی اور تنقیدی افق پر ایک زیرک دانشور اور نقاد ہیں۔ انھوں نے ادب کو ھی نہیں فن کو بھی سنجیدگی سے مطالعہ کرتے ھوئے، بالخصوص ” زبانی فن” پر گران قدر تصورات کا اضافہ کیا۔ وہ جتنے اچھے ادیب تھے اتنے اچھے خطیب بھی تھے۔ ان کی فکریات میں شاعرانہ اسلوب ، منطق، قراعد اور بدیعیات/ بلاغت اس طور پر شامل ھوتی تھی جو پرانی زبانی آگاھی کو منقسم کردیتی تھی۔ اور ایسا لگتا تھا کہ یہ، تمام تصوارات ایک جگہ یک جا ھو کر رقص کررھے ھوں۔ فرائی نے فکریات، استعاروں اور ادبیات میں کینڈیں شناخت اور یک جہتی کو کو بھی نئے سرے سے دریافت کرنا چاھا اور ایسی قبر کی صورت میں تبدیل کردیا جو زمین سے اوپر کی جانب دفن ھے۔ یہ ان کا جذباتی اور دانشوانہ ردعمل تھا کیونکہ اس کی آگاہی کی قوت لفظیات کی تراش خراش کے سبب متنازعہ قرائن مین تبدیل ھو جاتے ھے ۔ اور ان کے تعلیمی/ نصابی خیالات ان کے نزدیک ادب کی قوت پر مرکوز ہیں جو بالخصوص ان کا پیکری سرگرمیوں کا میدان ھے جوکہ ان کا نظریہ ” مقناطیست” بھی ھے۔ فرائی نے تنقید کے صیخیے میں کارہائے نمایان سر انجام دیتے ھوئے "آرکی ٹائپ تنقید” مین قاری کو علامتوں کی اہمیت سے آگاہ کیا۔ جس کی تفھیم کے لیے پیکریت کا سہارا لیا جاتا ھے کیونکہ پیکری شبہیات ھی کرداروں کی وضاحت کردیتی ہیں۔ جو کہانی یا بیانیہ کی تشریح و تفھیم ممکن بناتی ھے ۔ آرکی ٹائپ میں نکات نمونوں مین تبدیل ھو جاتے ہیں اور آرکی ٹائپ کہانیاں دوسری کہانیوں سے زیادہ آرکی ٹائپ ھوجاتی ہیں اور وہ ارکی ٹائپ کے تحت ھی ھمارے ادراک میں آتی ہیں۔ اور یہی نمونے (پیٹرن) میں بھی موجود ھوتے ہیں جس میں تسلیماتی تفھیم اور تقابلی ادبیات کا ایک طاقت ور پیمانہ بن جاتا ھے ۔ اس سلسلے مین اپنے اس نطرئیے کو بڑے دلچسپ انداز مین دائرتی شکل میں پیش کیا ھے ۔ جس میں موسموں کے تبدیل ھو جانے سے انسانی زندگی کے المیات اور انبساط سے گہرا تعلق ھوتا ھے۔

موسم گرما = طنز و مزاح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ موسم بہار= طربیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ موسم سرما= رومان ۔۔۔۔۔۔ موسم خزان= المیہ

فرائی نے اپنی کتاب "اٹانومی آف کرٹیسیزم‘ مین ” صنفی تفاعل” کو بیان کیا ھے۔

جس میں ہیرو معاشرے سے کٹا ھوا ھے جو طربیہ کے برعکس (الٹا) تصور ھے۔ جو اسطور کا المیاتی مزاج ھے۔ ان کے خیال میں نقال المیہ اصل میں طربیہ اور حقیقت پسندی ھے ۔ اسی حوالے سے فرائی نے موضوعاتی مزاجوں کی تین (3) اقسام بتائی ہیں۔

1۔ نوح = رہائشی

2۔ خلیقہ= کردار و ترتیب

3۔ مکالماتی = افکار

فرائی نے شعریات کے کلی نظام کو ایک مقدمے کی صورت میں بڑی فطانت اور سنجیدگی سے پیش کیا ان کا خیال ھے کہ وہ چیز جس کی بدولت شاعری کو شاعری سمجھ کر قرات کی جاتی ھے وہ فی نفسہ شاعری نہیں ھوتی ۔ وہ تخلیقی عمل کی جانچ کے لیے موضوع یا انفردی نوعیت کے رائج مزاج کو بہتر تصور کرتے ہیں۔ فرائی فن پارے کو ایک سراپے کی صورت میں تجزیہ کرتے ہیں۔ ان کے خیال ھے کہ فن پارے کی انتقادات کے لیے منطقی اور اصول نظام اس وقت ھی ممکن ھو پاتا ھے۔ جب ھم ادبیات کے متعلق قیاسات پر مبنی منطقی انسلاک خلق کر سکیں ۔ جس میں امہات الصور (آرکی ٹائپ) پیکریت پوشیدہ ھوتی ھے۔ جن کو وہ ہر تمون کو اپنے ماخذات سے ہٹ کر مکمل طور پر ادبی مباحث میں مدغم کرلیتے ہیں۔ فرائی ادبی نقد جزوی طور پر منظم سائنس تسلیم کرتے ہیں۔ کیونکہ تنقید کا تعلق فن سے بھی ھے۔ لہذا فن اس کو فن کا نام دیا جاسکتا ھے۔ ان کا خیال ھے۔ کہ تنقید میں منطق جز سے کل اور کل سے جز دوںوں صورتوں میں سفر کرتی ھے لیکن ان کا جداگانہ طور پر ان کا مطالعہ ممکن نہیں ھے لیکن کھینچ تان کر اس میں ربط کرنا پڑتا ھے۔ فرائی کا کہنا ھے کی تخلیق کار جہاں اپنی تخلیق کا اختتام کرتا ھے۔۔ نقدان فن وہیں سے اپنے کام کی ابتدا کرتے ہیں۔ کیونکہ مصنف اور نقاد کے ساتھ ایک نفسیاتی رشتہ موجود ھوتا ھے اور ہر شاعر کی اپنی اسطور ھوتی ھے ۔ لکھنے والا علامتوں کے خلق کرنے کے نظام سے خود ھی آگاہ نہیں ھوتا۔ اسی طرح ناول اور ڈرامے میں کرداروں کا ربط و تعلق کی نفسیاتی تحلیل ممکن ھے۔ حالانکہ نفسیاتی کرداروں کے رویوں کو ادبی روایت کے حوالے سے پرکھے گی۔ فرائی کے تنقیدی متنی ڈھانچے میں کوئی ایسی متنی یا فکری ساخت نہیں ملتی جسکو ساختیات سے متعلق کہا جائے۔ مگر جب بھی ساختیاتی نطرئیے کا زکر ھوتا ھے تو کہین نہ کہین سے فرائی کا ذکر نکل آتا ھے۔ کہا جاتا ھے فرائی نے "آرکی ٹائپ” کو نئی شعریات کی شکل میں پیش کیاھے۔ جو اساطیری اصولوں پر تشکیل پاتی ھے۔ ان کے یہاں تنقید میں معاشرتی وظائف اھم ھوتے ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ لبرل تعلیم ھی ادبی تنقید کے کیے ضروری ھے۔ کیونکہ اس سے تصورات اور نظریات کا ابلاغ آسانی سے کیا جاسکتا ھے۔ ان کے تنقیدی نطریات میں عیسائیوں کے ایونجییکل میتھڈسٹ فرقے کی مذھبی تعلیمات کےگہرے اثرات تھے اور یہی انسانی ثقافت کا نمونہ یا ماڈل ھے۔ فرائی نے یہ بھی بتایا کہ شعریات کا نظام کا تصور کے بغیر تنقید اس پرسرار مذھب کی طرح ھے جسکا کوئی صحیفہ نہ ھو۔ فرائی کا تنقیدی نظریاتی ماڈل تاریخی اعتبار سے ہیریک قوت کا عمل کا نظریہ ھے جو افسانوی، موضوع، خلیقہ اور مزاج پر محیط ھے۔ فرائی نے اسطور اور طعن رمز سے افسانوی موضوع کی صف بندی پر بھی تفصیل سے بحث کرتے ھوئے۔ اسطور ، رومانیت، اعلی نقالی، کمتر نقالی کو المیاتی اور مزاحیہ ہیت میں تشریح کرنے کے بعد اس کع دو مزید اقسام قاموسی اور صنمنی/فروعی گنوائی ہیں۔ فرائی فکشن کےاطواری نطام سے مشائبہ ۔۔” صنفی نطام”۔۔ کا تصور وضع کیا۔ جیسے وہ ” مسلسل اصناف” کا نام دیتے ہیں۔ ناتھروپ فرائی کا موقف ہے کی ادبی انتقادات منظم اور باضابطہ سائنس ہے۔ اس کا یہ خیال تھا کہ یہ کم اور جزوری طور پر بھی ہوسکتا ہے۔، نقد کا تعلق فن سے ہوتا ہے اس لیے اس کو ” فن” کہا جاسکتا ہے۔ مگر سائینس فن کی طرح غیر منظم نہیں ہوتا ۔ اس کا تعلق سائنس سے جڑا ہوتا ہے۔ ۔ تنقید کے عمل میں شہادتیں، سندیں جمع کرنا متں کی تحلیلی، عروض اور بحو کا تعین اور اس کی پرکھ، اصولت کی تفشیش سب سائینی عمل کا ہی حصہ ہوتی ہیں۔ فرائی کا خیال ہے کی تنقید کا انحصاراستخراجی اور استقرائی ہوتا ہے۔ یہ دونوں طریقے علحیدہ علحیدہ استمال کئے نہیں جاسکتے۔ ان کو ایک دوسرے سے جوڈ کر رکھنا پڑتا ہے۔ فرائی کا کہنا ہے کہ اس کا پہلا اصول یہ ہے کہ کسی فن کے بارے میں ساخت کو تحلیل کیا جائے بڈر وہ مفروضہ تشکیل دیتا ہے کہ تنقید موضوع ہے۔ اورتنقید میں اس کی اپنی ایمیت ہوتی ہے۔ استخراجی ہوتا ہے۔ اور اس کا دوسرا طریقہ استقرائی ہے۔ اس کا مفہوم یہ تھا فن پارے کی ساخت کی تحلیل سے کمیں جو مواد اور معطیات حاصل ہوتی ہیں اس کو وسیع سطحوں میں ڈھونڈنا چاہیے۔ مگر خطرہ یہ ہوتا ہے کہ کہ اگر صرف استقرائی طریقہ استمال کریں تو یہ خیال آرائی ہوکر وہ جاتی ہے۔ اور اگر صرف استخراجی کریں تو ہم غیر مرونت اور سہل فہمی کا شکار ہو جائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کسی فن کی وحدت جو ساخت کے تجزئیے کی اساس ہے۔ صرف فنکار کی غیر مشرط مرضی کے مطابق نہیں، کیونکہ فنکار کسی فن پارے کا فوری سبب ہے چونکہ اس کی ہیت بھی ہوتی ہے۔ اس لیے ہم اسے ” ہیتی سبب” {FORMAL CAUSE} کہ سکتے ہیں۔ فرائی کہتے ہیں جہاں سے تلیق کار اپنے تخلیق کو چھوڑتا ہے وہیں سے ناقد کا کام کی ابتدا ہوتی ہے۔ وہ اس بات کو سلیم کرتے ہیں کی تخلق اور تخلیق کار کے بیچ کی ایک قسم کا ” ادبی نفسیات ” کا تعلق ہوتا ہے۔ ان کے خیال میں ہر شاعر کی اپنی اسطور ہوٹی ہے۔ اس کا اپنا ریڈیائی یا مقناطیسی بینڈ {SPECTROSOPIC BAND] ہوتا ہے۔ جو اصل میں علامت، علائم، اشارے، اور رموز تخلیق کرنے کا ایک خصوصی نظام خلق کرتا ہے۔ جس سے وہ خود بھی واقف نہیں ہوتا۔ اسی طرح ڈرامے اور ناول بھی کرداررں کے تعلقات کی نفسیاتی تحلیل ممکن ہے حالانکہ ادبی نفسیات، کرداروں کے روّیہ کو ادبی روایت کے زریعے پرکھے گی۔

حقیقت اور فن کے سلسلے میں ناتھروپ فرائی کا قول ہے۔

” فن کا تعلق حقیقت سے نہیں ہے بلکہ امکانی حقیقت اور تنقید میں کوئی نہ کوئی امکانی اسول تو ضرور ہوگا لیکن اس میں واقعیت یا اصلیت ACTUALITY کے اصول کا کوئی امکان نہیں ہے”

اردو کے جدید تنقیدی نظرئیے میں حامدی کاشمیری کے یہاں دکھائی دیتی ہے۔ ان کے ادبی انتقادایات کے مختلف الجہت اسالیب میں جب شعریات کی تجزیاتی مناجیات کی بات ہوتی ہے تو اس میں طلسمات، اسطور، اسرار کو متن میں دریافت کیا جاتا ہے۔ اور اسی سیاق مین سوچا جات ہے۔ جو فرائی کے نظریات کی دین ہے

فرائی نے فرئیزر، اور یونگ کے بشریاتی اور تحلیل نفسی کے نظریات سے دور رہ کر ” آرکی ٹائپ” کا مطالعہ اور تجزیہ کیا۔ انھوں نے ۔۔”نئی تنقید” ۔۔ کو خاصی ھد تک تبدیل کردیا اور ادبی متن کے تجزیات کے سلسلے میں ساختیات اور نشانایات سے پہلے شروع ھوتی ھے۔ فرائی کے زیادہ تر مطالعے مسیحی اسطیر اور تعلیمات کے ضمیر سے تشکیل پاتے ہیں۔ دیگر مذاھب پر انھوں نے کم ھی توجہ دی۔ وہ ہر قسم کی تنقیدی "اقدار رائے ادب” کے علمی مطالعہ اور آگاھی کے زیر اثر رکھنا چاہتے تھے۔۔ فرائی کے یہ علمی مطالعے اور آگاہی ہمیشہ وسیع سے وسیع تر ھوتا جاتا ھے۔ اس طرح ادب کا علم بھی انتقادی آرا پر فوقیت کا حامل ھوتا ھے۔

نارتھر فرائی ویت نام کی جنگ کے دوران کینڈا کی ماونٹ پولیس کا شعبہ جاسوسی ان کے نقل و حمل کی نگرانی کرتا رہا ۔ وہ ویٹ نام کی جنگ میں کینڈیں حکومت کی حکمت عملییوں کے سخت مخالف تھے اور احتجاجی، اور جنگ دشمن احتجاجات، جلسے جلوسوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ فرائی نے جنوبی افریقہ کی گوری نسلی کینڈا کی حکومت کی کھل کر مخالفت بھی کی:::

ھرمن نارتھروپ فرائی کی اھم تصانیف یہ ہیں:

The Correspondence of Northrop Frye and Helen Kemp, 1932–1939. Ed. Robert D. Denham. Collected Works (CW), 1–2, 1996.

Northrop Frye’s Student Essays, 1932–1938. Ed. Robert D. Denham. CW, 3, 1997.

Northrop Frye on Religion: Excluding "The Great Code” and "Words with Power.” Ed. Alvin A. Lee and Jean O’Grady. CW, 4, 1999.

Northrop Frye’s Late Notebooks, 1982–1990: Architecture of the Spiritual World. Ed. Robert D. Denham. CW, 5–6, 2002.

Northrop Frye’s Writings on Education. Ed. Jean O’Grady and Goldwin French. CW, 7, 2001.

The Diaries of Northrop Frye, 1942–1955. Ed. Robert D. Denham. CW, 8, 2001.

The "Third Book” Notebooks of Northrop Frye, 1964–1972. Ed. Michael Dolzani. CW, 9, 2002.

Northrop Frye on Literature and Society, 1936–1989. Ed. Robert D. Denham. CW, 10, 2002.

Northrop Frye on Modern Culture. Ed. Jan Gorak. CW, 11, 2003.

Northrop Frye on Canada. Ed. Jean O’Grady and David Staines. CW, 12, 2003.

Northrop Frye’s Notebooks and Lectures on the Bible and Other Religious Texts. Ed. Robert D. Denham. CW, 13, 2003.

Fearful Symmetry: A Study of William Blake. Ed. Nicholas Halmi. CW, 14, 2004.

Northrop Frye’s Notebooks on Romance. Ed. Michael Dolzani. CW, 15, 2004.

Northrop Frye on Milton and Blake. Ed. Angela Esterhammer. CW, 16, 2005.

Northrop Frye’s Writings on the Eighteenth and Nineteenth Centuries. Ed. Imre Salusinskzy. CW, 17, 2005.

"The Secular Scripture” and Other Writings on Critical Theory, 1976–1991. Ed. Joseph Adamson and Jean Wilson. CW, 18, 2006.

The Great Code: The Bible and Literature. Ed. Alvin A. Lee. CW, 19, 2006.

Northrop Frye’s Notebooks on Renaissance Literature. Ed. Michael Dolzani. CW, 20, 2006.

"The Educated Imagination” and Other Writings on Critical Theory, 1933–1963. Ed. Germaine Warkentin. CW, 21, 2006.

Anatomy of Criticism. Ed. Robert D. Denham. CW, 22, 2007.

Northrop Frye’s Notebooks for "Anatomy of Criticism.” Ed. Robert D. Denham. CW, 23, 2007.

Interviews with Northrop Frye. Ed. Jean O’Grady. CW, 24, 2008.

Northrop Frye’s Fiction and Miscellaneous Writings. Ed. Robert D. Denham and Michael Dolzani. CW, 25, 2007.

Words with Power: Being a Second Study of The Bible and Literature. Ed. Michael Dolzani. CW, 26, 2008.

The Critical Path and Other Writings on Critical Theory, 1963–1975. Ed. Eva Kushner and Jean O’Grady. CW, 27, 2009.

Northrop Frye’s Writings on Shakespeare and the Renaissance. Ed. Troni Grande and Garry Sherbert. CW, 28, 2010.

Northrop Frye on Twentieth-Century Literature. Ed. Glen Robert Gill. CW, 29, 2010.

Index to the Collected Works of Northrop Frye. Jean O’Grady. CW, 30, 2012.

********************

{احمد سہیل

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

حامدی کاشمیری کی غزل گوئی (اکیسویں صدی میں) غلام نبی کمار۔

                حامدی کاشمیری کی غزل گوئی                 (اکیسویں صدی میں) غلام نبی کمار۔                 ریاست …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے