سر ورق / مضامین / "امرت کور“  …خلاصہ۔۔۔ حمید اختر

"امرت کور“  …خلاصہ۔۔۔ حمید اختر

"امرت کور“
تحریر۔۔۔ امجد جاوید
خلاصہ۔۔۔ حمید اختر
بلال احمد انگلینڈ کی بریڈفورڈ یونیورسٹی ہاسٹل کے ایک کمرے میں پڑا اپنی ناکام محبت کو کوس رہا تھا ۔ اس کی محبت زویا علی تعلیم مکمل کر کے واپس پاکستان جا چکی تھی۔ بلال اس کی جدائی سے بہت زیادہ دلبرداشتہ ہو چکا تھا۔ زویا اس کی کلاس فیلو تھی ۔ زویا اور بلال کی ملاقات اس وقت ہوئی جب وہ دونوں پاکستان سے نئے نئے آئے تھے۔ ان کی پہلی ملاقات یونیورسٹی کی ایک کنٹین پر ہوئی جہاں ایک برٹش لڑکے نے زویا کے عبایہ اور سکارف پر تنقید کی تو بلال نے اپنا رد عمل ظاہر کیا۔ یہیں سے دونوں غیر محسوس انداز میں ایک دوسرے کے قریب ہوتے گئے اور ملاقاتوں کا سلسلہ دراز ہوتے ہی دونوں ایک دوسرے سے محبت کرنے لگے ۔ تعلیم مکمل ہونے پر دونوں نے محبت کی اس حقیقت کو تسلیم کیا اور اس وعدے پر جدا ہوگئے کہ زویاکے والدین کی رضا مندی کے مطابق ہی فیصلہ کریں گے ۔
بھان سنگھ جوکہ بلال اور زویا کا مشترکہ دوست تھا ان دونوں کی پریم کہانی سے واقف تھا اس لئے وہ اسے تسلی اور دلاسا دینے کے لئے اس کے پاس آیا ۔ بھان سنگھ چونکہ بھارتی پنجاب سے تھا اور اسے اس بات کا ادراک تھا کہ دونوں کی شادی میں کیا رکاوٹ ہو سکتی تھی۔زویا سید فیملی سے تھی اور بلال ارائیں فیملی سے۔ دوسرا زویا نہیں چاہتی تھی کہ وہ اپنے والدین کی مرضی کے بغیر کوئی ایسا قدم اٹھائے جس سے ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچے اور انہیں خاندان کی باتیں سننا پڑیں۔ آخری ملاقات میں زویا اور بلال نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ اپنوں کا مان رکھیں گے ۔کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائیں گے جس سے زویا کے والدین کی عزت پرحرف نہ آئے۔ دونوں نے اپنی پاکیزہ محبت کو آزمائش کی کسوٹی پر پرکھنے کا فیصلہ کیااور ایک دوسرے سے جدا ہو گئے۔
بھان سنگھ نے مایوسی اور دکھ کی اس گھڑی میں بلال کی بھرپور دل جوئی کی اور اسے اس کیفیت سے نکالنے کی کوشش کی۔ بھان سنگھ نے بلال کو مشورہ دیا کہ وہ اس کے ساتھ گاؤں ( انڈین پنجاب) چلا جائے تو وہاں اس کی بات بن سکتی ہے۔ ایک تو ماحول کی تبدیلی سے خاطر خواہ فائدہ ہو گا اور دوسرا ان کے گاؤں میں ایک گیانی عورت رہتی ہے ،میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ جس کے سر پر ہاتھ رکھتی ہے ، اس کی ناؤ پار ہو جاتی ہے۔ بلال نے اپنے آ پ کو بہلانے کی خاطر بھان سنگھ کا مان رکھتے ہوئے پاکستان جانے سے پہلے اس کے ساتھ ، اس کے گاؤں جتھوال (بھارت) جانے کی حامی بھر لی ۔

جتھوال پہنچتے ہی ان کا استقبال پریت کور نے کیا جو بھان سنگھ کی منگیتر تھی ۔ وہیں امرت کور کا غائبانہ تعارف ہواکہ اس کے معمولاتِ زندگی کیا ہیں؟۔ دستیاب معلومات کی بناء پر بلال کوئی فیصلہ کرنے سے قاصر تھا کہ امرت کور کیا ہے ؟ سادھو ، سنت ، گیانی یا پاگل۔ بھان سنگھ کے گھر میں بلال سر آنکھوں پر بٹھایا گیا ماسوائے بھان سنگھ کے دادی پرونت کور کے۔ وہ اسے دیکھتے ہی چونک گئی تھی۔ بلال نے پرونت کور کے چہرے پر حیرت ، تجسس اور تعجب دیکھا تھا۔بلال نے اپنی دانست میں یہی اندازہ لگایا کہ بوڑھی پرونت کور کے دل میں مسلمانوں کے بارے شدیدنفرت ہے اسی لیے وہ ایسا رویہ رکھے ہوئے ہے ۔ بھان سنگھ کا والد پردیپ سنگھ ، چاچا امریک سنگھ ، ماں انیت کور اور چاچی جسمیت کور نے خوش آ مدید کہا۔بھان سنگھ کے والد کے گاؤں میں اثر رسوخ بارے اس وقت پتہ چلا جب مقامی تھانے کا تھانیدار خود ان کی حویلی تک آیا اور بلال کے بارے اطلاع کی تصدیق چاہی۔
پاکستان میں بلال کے والدین اس سے رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے پریشان ہوتے ہیں اور بلال کے دادا نور محمد سے بلال کے بارے دریافت کرتے ہیں تو نور محمد انہیں تسلی دیتا ہے کہ آ جائے گا ۔ انگلینڈ میں کہیں اپنے دوستوں کے ساتھ ہوگا ۔ ادھر زویا علی پاکستان واپسی پر اپنی ماں صورت حال سے آگاہ کرتی ہے کہ میں لڑکے کو پسند کرتی ہوں ۔ جس پر والدہ اور والد صاف انکار کر دیتے ہیں ۔
اگلے دن بھان سنگھ بلال کو لے کر گرودوارے چلاگیا۔ وہاں ان کے لئے ارداس تھی ۔ بھان سنگھ کو یقین تھا کہ امر کور گرودوارے ضرور آئے گی اگر وہ نہ آئی تو دونوں اس کے گھر چلے جائیں گے ۔خوش قسمتی سے امرت کور وہیں آ گئی۔ وہیں گرودوارے میں بلال اور امرت کور کا آمنا سامنا ہوا ۔ بلال سر پر ہاتھ پھروانے کی خاطر آگے بڑھا توامرت کور اسے دیکھ کر وہ چونک سی گئی ۔ اس نے نہ صرف اس کے سر پر ہاتھ رکھا بلکہ اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔امرت کور نے بھان سنگھ کو کہا کہ اس کی اجازت کے بغیر بلال واپس نہ جائے ۔ وہیں بلال پر انکشاف ہوا کہ کہ گاؤں میں انہونی ہو گئی ہے کیونکہ امرت کور نے برسوں کی خاموشی کوتوڑ دیا تھا۔ پورے گاؤں کو معلوم نہیں تھا کہ امرت کور برسوں سے چپ کیوں ہے۔ جب امر کور کے گھر والوں معلوم ہوا کہ بھان سنگھ کے پاکستانی مہمان بلال کو دیکھتے ہی امرت کور بول اٹھی تو وہ بلال سے ملنے بھان سنگھ کی حویلی پہنچے اور بلال کا شکریہ ادا کیا اور اسرار کیا کہ وہ بلال کو اپنے ہاں مہمان رکھنا چاہتے ہیں۔
بھان کی دادی پرونت کورنے جب سے بلال کو دیکھا وہ اس کے خاندان کے بارے میں ڈیٹیل جاننا چاہ رہی تھی۔لہذا بلال نے اپنے لیپ ٹاپ میں موجود تصویروں کی مددسے اپنے خاندان کا تعارف کرایا۔ اس کا باپ ، ماں، بہن اور دادا نور محمد ۔ اسی وقت دادی پرونت کور کی یادوں کے گھوڑے ایک مقام پر پہنچ کر رکے جاتے ہیں اور وہ بلال کو نور محمد کا ہم شکل ہونے کی وجہ سےپہچان جاتی ہے کہ بلال دراصل نور محمد کا پوتا ہے۔ اسی رات پرونت کور نے امرت کور کی خاموشی اور اس کی خاموشی دور ہونے کا راز کھولا۔

یہاں سے ایک نئی کہانی جنم لیتی ہے۔امرت کور اور پرونت کور دونوں گہری سہلیاں تھیں۔ امرت کور کو نور محمد پسند آ گیا تھا۔ لیکن نور محمد اس سے دور ہی رہا۔ امرت کور نورر محمد کی محبت میں پاگل سی ہو گئی اور ہر قیمت پر نور محمد کو پانے کی کوشش میں لگ گئی۔ اس نے نور محمد کی بہن حاجراں کو سہیلی بنایا ۔ نورر محمد کو گاؤں سے بھاگنے کے ساتھ ساتھ دولت کا لالچ بھی دیا مگر نور محمد ٹس سے مس نہ ہوا۔اس نے نور محمد کو پانے کا ہر جتن کر ڈالا مگر بے سود۔ ۔ بلاآخر امرت کور مایوس ہو گئی ۔ دادی پرونت کور نے بھی امرت کور کو سمجھایا مگر وہ اس کی بات نہیں سنتی تھی۔ پرونت کور نے بھی چھوڑ دیا ۔
یہ تقسیم ہند کا زمانہ تھا۔دنگے فساد عروج پر تھے۔رگھبیر سنگھ شہر کے کالج میں پڑھتا تھا ۔ وہ شدت پسند تھا ۔ اس نے گاؤں میں آتے ہی مسلمانوں کے خلاف نفرت بھر دی ۔ یہاں تک کہ قیام پاکستان کا اعلان ہو گیا۔ گاؤں میں فساد ہوا ۔ نور محمد کا سارا گھر اور افراد جل گئے ۔ رگھبیر مارا گیا۔ لوگوں کا خیال تھا کہ نور محمد نے اسے مارا ہے اور خود غائب ہو گیاہے۔امرت کور پاگل ہوگئی اور خاموشی کی چادر اوڑھ لی۔ 1947 سے خاموش ہوئی امرت کور بلال کو دیکھتے ہی بول اٹھی۔
بلال نے جب امرت کور اور دادا نور محمد کی کہانی سنی تو اس کے دل میں امرت کور کے لئے نفرت ابل پڑی۔ اسی صبح سریندر سنگھ اسے اپنامہمان بنانے آ گیا۔بلال جانا نہیں چاہتا تھا لیکن دادی پرونت کور نے اسے جانے کاکہہ دیا۔ وہ انکے ساتھ چلاگیا۔ امرت کور کے گھر جا کر اس کے نرم رویے کی وجہ سے اس کی نفرت کم ہو گئی۔امرت کور اسے جانے نہیں دینا چاہ رہی تھی ۔ جبکہ وہ شاپنگ کے لئے امرتسرجانا چاہتے تھے ۔ بلال یہی سمجھا کہ امرت کور اب نور محمد کاا نتقام اس سے لے گی کیونکہ اس کے دادا نور محمد نے امرت کور کے ارمانوں خون کر دیا تھا۔ وہ خوف زدہ ہوگیا۔ امرت کور نے بھی ان کے ساتھ ہی امرتسر جانے کا فیصلہ کیا۔ اس نے پریت کور اور بھان سنگھ کو شاپنگ کے لیے بھیج دیا اور خود بلال کو لے کر ہر مندر صاحب کے اندر چلی گئی ۔ وہیں بیٹھ کر اس نے بلال کواپنی کہانی سنائی کہ اس مقدس جگہ پر بیٹھ کر وہ جھوٹ نہیں بول سکتی۔

امرت کور نے بلا کو سنانا شروع کیا ۔۔۔اس نے تسلیم کیا کہ جب اس نے پہلی بار نور محمد کو میلےمیں دیکھا جہاں نور محمد نے وزن اٹھانے کا مقابلہ جیتا تھا۔ تبھی سے وہ اس پر دل ہار بیٹھی تھی۔ اس نے نور محمد سے راہ ورسم بڑھانے کی ہر ممکن کوشش کی لین نور محمد نہ مانا۔ نور محمد کے انکار کو اس نے اپنی توہین سمجھا ۔ یہاں نورر محمد یہ سمجھتا رہا کہ امرت کور اپنی ہوس کی تسکین کی خاطر اس کا قرب چاہتی ہے جبکہ امرت کور سچے دل سے اسے محبت کرتی تھی۔ دونوں کے درمیان غلط فہمی دور نہ ہو سکی اور نہ دونوں کو سمجھ آ سکی۔ امرت کور کا باپ بلوندر سنگھ کو ان دونوں کی ملاقات کا پتہ چل گیا۔ بلوندر سنگھ ،نورمحمد کی شرافت کا قائل تھا اس لئے اس نے امرت کور سے ہی پوچھا۔اس نے مان لیا کہ وہ خود اسے چاہتی ہے ، نور محمد کاکوئی قصور نہیں ہے ۔ بلوندر سنگھ نے فی الفور اپنی ذات کے لڑکے رگھبیر سنگھ سے اس کی منگنی کر دی۔ امرت کور کی زندگی بدل گئی ۔ اس نے اپنے آپ کوصوفیانہ کلام ،بابا بلھے شاہؒ کے کلام اور گرنتھ صاحب غرق کر لیا۔ انہی دونوں دونوں ملکوں کی تقسیم ہو چکی تھی اور مسلمانوں کا قتل عام شروع ہو چکا تھا۔ایک رات اسے رگھبیر سنگھ کے مسلمانوں کو ختم کرنے کے خوف ناک منصوبے کا علم ہوا ۔ امرت کور نے دھوکے سے نور محمد کو بلایا اور اسے بھاگ جانے کا مشورہ دیا لیکن اس نے امرت کور پر تھوک دیا۔ اس نے نورمحمد کو دھوکے سے مارا اور بے ہوش کر دیا۔ نورمحمد کی بے ہوشی میں پورا گاؤں جل گیا ۔ اس کا گھر بار جل گیا۔ وہ اس کے سرہانے بیٹھی تھی کہ رگھبیر سنگھ آ گیا ۔ اس نے نور محمد کو قتل کرنا تو امرت کور نے کرپان سے رگھبیر سنگھ کو قتل کر دیا ۔ نور محمد جیسا ہی ہوش میں اسے دیکھا اور چھوڑ کر چلا گیا۔ امرت کور ہارے ہوئے جواری کی طرح رہ گئی۔ یہیں سے امرت کور نے چپ کا روزہ رکھ لیا

بلال ،پرونت کور اور امرت کور کے ساتھ اس جگہ بھی گیا جہاں انکے آ بائی گھر تھے ۔ پھر وہاں بھی گیا جہاں اس کے آباؤ اجداد مدفن تھے۔ وہاں قبروں کا نام نشان نہیں تھا۔ فصلیں اُگی ہو ئیں تھیں۔ بلال نے امرت کور کو احساس دلایا کہ یہ ہے آپ کا پیار، ان کی قبروں کا نشان تک نہیں ہے۔ اس نے جذباتی انداز میں جتایا کہ جس سے محبت ہوتی ہے ، اس کی نسبت سے بھی محبت کی جاتی ہے ۔ بلال نے وہاں خود اکیلے وہاں نماز جنازہ ادا کی۔ اسی دوران امرت کور کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور وہ روتی رہی۔ بلال نے واپسی پر بھان سنگھ کو جتھوال سے امرتسر تک اسے ساری کہانی سنا دی۔

بلال جب واہگہ کے راستے پاکستان آیا تو زویا نے اسے ریسیو کیا جس کی اطلاع بلال پہلے ہی دے چکا تھا۔زویا نے خوش خبری دی کہ اس کے والدین کافی حد تک مان گئے ہیں۔ وہ اسے خود اسے گھر چھوڑے آئی تو اس کی ملاقات دادا نور محمد سے ہو گئی ۔ بلال نے دو چار اسی کشمکش میں گذار دیئے کہ دادا سے کیسے بات کی جائے۔اسی دوران بلال، زویا اور بھان نیٹ پر ایک دوسرے سے رابطے میں رہے۔امرت کور، پرونت کور اور بھان سنگھ نے بلا کے گھر والوں کی قبریں بنوا دی تھی۔بھان نے قبروں کی تصویریں بلال کو بھجوا دیں۔ تبھی بلال نے اپنے دادا کو بتایاکہ وہ جتھوال سے ہو آیاہے اور امرت کور سے مل کر آیا ہے۔بلال نے قبروں کی تصاویر بھی دادا کو دکھائیں جس پر شہید پاکستان لکھا تھا۔

اچانک بھان سنگھ نے اپنے خاندان کے چند افراد کے ساتھ پاکستان آنے کی اطلاع دی۔ اس کے ساتھ امرت کور بھی پاکستان آ گئی ۔ نور محمد اور امرت کور کا آمنا سامنا ہو گیا۔ دونوں کی ملاقات کا منظر دیدنی تھا۔ امرت کور نے نور محمد سے معافی مانگی نور محمد نے معاف کر دیا ۔امرت کور دادا نورر محمد کے گلے لگ گئی۔
امرت کور کا حضرت میاںمیرؒ ، جنم استھان ننکانہ ، پنجہ صاحب حسن ابدال ، رنجیت سنگھ مڑھی لاہور ، بابا فرید گنج شکر ؒ پاک پتن اور بلھے شاہ ؒ قصور گئی ۔ نور محمد کے دل میں جو نفرت تھی وہ احترام میں بدل گئی ۔

زویا نےاپنے گھر میں ان سب کو اپنے گھر میں دعوت دی تو بلال کی وجہ سے دادا بڑے طمطراق کے ساتھ وہاں گیا۔ وہ بہت متاثر ہوئے۔ دادا اور امرت کور کی ملاقات ہوئی اور وہ چلے گئے۔
نیٹ پر نوجوانوں میں یہ بحث چل پڑی کہ امرت کور اور دادا نور محمد کی شادی ہو جانی چاہئے۔ یہاں دو طرف سے کوشش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ بلال اور زویا دادا کو منائیں گے اور بھان سنگھ اور پریت امرت کور کو سے بات کریں گے ۔ یہ بحث چل پڑی تو سبھی حیران رہ گئے ۔ نوجوانوں کا موقف یہ تھا کہ جب دونوں نے ایک دوسرے سے گلے شکوے ختم کر لئے ہیں تو اب ان کاملن بنتاہے ۔ اس دوران زویا اور بلال کی ملاقاتیں چلتی ر ہیں۔ یہاں تک کہ بلال نے دادا سے بات کی ۔ دادا نے حیرت سے اس بات کو سنا اور انکار کر دیا۔ اس پر بلال نے بھی احتجاجاً زویا سے شادی کرنے سے انکار کر دیا ۔ زویا بھی اس سے متنفر ہو گئی کہ یہ کیا شرط ہوئی ۔ اس نے خود شادی سے انکار کر دیا ۔ دادا نے شرط عائد کردی کہ اگر امرت کور مسلمان ہو جاتی ہے تو میں شاد ی کرلوں گا۔ بلال اس پر بھی اڑ گیا ۔ یہاں تک کہ بھان سنگھ اور پریت کور کی شادی ہونے کی اطلاع آ گئی ۔ انہیں دعوت دی گئی ۔

وہ دونوں دادا پوتا جھتوال چلے گئے ، جہاں ان کا استقبال بڑا جذباتی ہوا ۔ وہ بھان سنگھ کے گھر گئے ۔ وہیں امرت کور کے علاوہ سبھی موجود تھے ۔ بلال سمجھا کہ وہ ناراض ہے ۔ وہ اور بھان اسے تلاش کرتے ہوئے واپس گھر آ گئے ۔ امرت کور گھر تھی ۔ وہیں دونوں خاندانوں کے لوگ آتے ہیں۔ وہیں امرت کور سے جب نور محمد کا سامناہواتو وہ اس کی بانہوں میں دم توڑ گئی ۔ نور محمد اور بلال اس کی آخری رسومات میں شامل ہوئے تو امرت کور کی وصیت کے مطابق نور محمد نےاس کی چتا کو آگ لگائی ۔ واپسی پر زویانے ان کا استقبال واہگہ پر کیا۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

عنایت اللہ ۔۔ ایک دور

17 نومبر 1999 یوم وفات عنایت اللہ المعروف التمش ایک شخص جو اسلام اور پاکستان …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے