سر ورق / افسانہ / "خاک” .. نیر عابد کاظمی

"خاک” .. نیر عابد کاظمی

"خاک”

نیر عابد کاظمی

اعجاز دو ہفتے کے لیے شہر سے باہر گیا تھا لیکن آج پورا ایک ماہ ہونے کو آیا تھا، اس کا کچھ پتہ نہیں تھا۔ گھر کا راشن الگ ختم ہو رہا تھا اور راتوں کو تنہائیوں کے ناگ الگ پھن پھیلائے اسے ڈسنے کو تیار رہتے۔۔۔ آٹے کے خالی ہوتے کنستر کو رکھتے ہوئے اس نے سوچا گلی کے کسی مرد یا بچے سے گزارے کے لیے تھوڑا بہت آٹا اور سودا سلف منگوا لیتی ہوں باقی اعجاز آیا تو خود دیکھ لے گا۔ عام طور پر اس وقت کوچنگ آنے جانے والے بچوں اور دفتر سے لوٹ کر آنے والے مردوں کا گلی سے گزر رہتا تھا، آج نہ جانے کیوں اتنی دیر کھڑے رہنے کے باوجود کوئی نہیں آیا۔ وہ مایوس ہو کر دروازہ بند ہی کرنے لگی تھی کہ اسے دور سے کاندھے پر اسکول بیگ لٹکائے ایک لڑکا آتا دکھائی دیا۔ بظاہر وہ کسی کوچنگ سینٹر کا راہی لگ رہا تھا۔ سولہ سترہ سال کا خوبصورت تندرست و توانا، لڑکپن سے جوانی کی طرف قدم بڑھاتا نوجوان کسی اچھے گھرانے کا لگتا تھا۔ معصومیت اور ذہانت اس کے چہرے سے ٹپک رہی تھی۔ آنکھوں میں بہت سے خوابوں کی چمک اور ولولہ تھا۔ وہ قریب سے گزرنے لگا تو ثمینہ نے ہاتھ کے اشارے سے اسے اپنی طرف بلایا، "سنو! ادھر آؤ!” اس نے ادھر ادھر دیکھ کر یقین دہانی کی کہ اسے ہی بلایا جا رہا ہے۔ "جی بولیں۔” وہ گویا ہوا۔ "بات سنو، مجھے پتہ ہے کہ تم پڑھنے جا رہے ہو لیکن میرے گھر میں کوئی بھی نہیں ہے۔ یہ تھوڑا بہت ضروری سامان ہے تم لا دو پلیز۔۔۔” ثمینہ نے سامان کی لسٹ اور پیسے اس کی طرف بڑھاتے ہوئے لجاجت سے کہا تو وہ چاہتے ہوئے بھی انکار نہ کر سکا۔ "لاؤ جب تک تمھارا بیگ میں اندر رکھ لیتی ہوں۔۔۔” یہ کہتے ہوئے اس نے خود ہی اس کے کاندھے سے بیگ کھینچ لیا۔ طاہر سامان لے کر آیا تو ثمینہ نے اسے اندر بلا لیا۔ دو کمرے کا چھوٹا سا مکان جس کے صحن کے ایک کونے میں سیمنٹ کی چادریں ڈال کر کچن بنایا گیا تھا۔ وہیں ایک طرف تھوڑی خالی جگہ دیکھ کر اشارہ کرتے ہوئے وہ بولی، "لے آؤ، یہاں رکھ دو” اس نے سامان رکھا اور اپنا بیگ تلاش کرتے ہوئے صحن میں نظریں دوڑانے لگا۔ "تمھارا بیگ اندر کمرے میں ہے جاکر لے لو۔” ثمینہ نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ اس کمرے کی طرف چل پڑا جس طرف اس نے اشارہ کیا تھا۔ دوسرے کمرے میں اس کا پانچ سالہ بیٹا سعد سو رہا تھا۔

ثمینہ بھی طاہر کے پیچھے کمرے میں آگئی۔ اب جو اس نے پلٹ کر ثمینہ کی طرف دیکھا تو اس کے چہرے کے رنگ ہی کچھ اور تھے۔ اس نے اندر آتے ہی کمرے کا دروازہ بند کر لیا تھا۔۔۔

—————————————————-

ثمینہ کا بیٹا سعد ابھی ایک سال کا ہی تھا کہ ساس نے اسے مار پیٹ کر گھر سے نکال دیا اور وہ پھر سے باپ کی دہلیز پر آ کر بیٹھ گئی تھی۔ شوہر اسے چھوڑنا نہیں چاہتا تھا لیکن ماں کی حکم عدولی نہیں کر سکتا تھا لہٰذا فوراً ہی طلاق نامہ بھی بھیج دیا۔ اس وقت ثمینہ کی عمر بمشکل پچیس برس تھی اور اب اس بات کو پورے چار سال بیت چکے تھے۔ شروع شروع میں وہ ابا کی خدمت اور بیٹے کی دیکھ بھال میں لگی رہتی تو کچھ سوچنے کا ہوش نہ رہتا تھا۔ مگر آہستہ آہستہ کسی ساتھی کی کمی، اس کی تنہائیوں کو وحشت میں بدلنے لگی۔ ابا کے انتقال کے بعد تو اس وحشت میں اور بھی شدت آ گئی تھی۔ اعجاز چالیس، پینتالیس کے پیٹھے میں ہو گا۔ وہ اس کے ابا کے دفتر کے ساتھیوں میں سے اور اسی علاقے کے دوسرے بلاک کا رہائشی تھا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ اکثر اسے اپنے کاموں کے لیے بلا لیا کرتے تھے۔ زیادہ تر یہ کام ان کی پینشن اور دفتری امور سے متعلق ہوا کرتے تھے مگر جیسے جیسے ان کی صحت گرتی جا رہی تھی ان کے گھریلو معاملات میں اعجاز کا عمل دخل بڑھتا جا رہا تھا۔ اس آنے جانے کے دوران ثمینہ کی آنکھوں میں مچلتی بے لگام خواہشوں کو اعجاز نے بھی بھانپ لیا تھا۔  پھر ایک شام ایسی آئی جب ابا کے بلاوے پر اعجاز کو آنے میں کچھ دیر ہوگئی اور وہ دوا کے زیر اثر غنودگی محسوس کرنے لگے تو انھوں نے سب کام سمجھا کر کاغذات ثمینہ کے حوالے کیے اور خود سونے چلے گئے۔ بات کے دوران اعجاز نے اس کا ہاتھ پکڑا تو ثمینہ نے بھی خود کو اس کے سپرد کر دیا۔ انسان ایک بار اپنی حدود سے باہر نکل آئے تو اس کے حوصلے بڑھ جاتے ہیں اور وہ انجام کی پرواہ کیے بغیر گناہ کے راستے پر بڑھتا چلا جاتا ہے۔ یہاں بھی یہی ہوا انسانی ہمدردی کی آڑ میں ہوس پرستی کا ایک سلسلہ چل نکلا۔۔۔

—————————————————-

طاہر جب سونے کے لیے بستر پر لیثا تو اس کے تصور میں شام والے واقعے کا منظر گھوم گیا۔ آج کی کوچنگ کی کلاس بھی مس ہو گئی تھی۔ وہ تو خدا کا شکر ہوا کہ جب وہ گھر آیا تو امی گھر پر نہیں تھیں ورنہ وہ اس کی بدلی ہوئی حالت دیکھ کر ضرور سوال کرتیں۔ وہ اندر سے اب بھی کانپ رہا تھا۔ ایک عجیب سے احساس نے اس کے دل و دماغ کو جکڑا ہوا تھا۔ جیسے اس کے ساتھ کوئی بہت بڑا حادثہ گزر گیا ہو، اس کی کوئی بہت قیمتی شے اس سے جدا کر دی گئی ہو۔ اپنی بے بسی اور عزت نفس کے کچلے جانے کی خجالت کسی طور نہیں جا رہی تھی۔ یہی سوچ کر وہ اس بات کا ذکر کسی دوست سے بھی نہیں کرنا چاہتا تھا۔ البتہ ثمینہ کی قربت نے اس کے لڑکپن کو یکایک مردانگی کے احساس میں بھی بدل دیا تھا۔۔۔ اسے یاد آیا کہ وہاں سے رخصت ہوتے وقت ثمینہ نے اس کا گال تھپتھپاتے ہوئے کہا تھا، "جب کبھی پڑھائی سے تھکنے لگو یا گھر کی ٹینشن ہو تو میرے پاس آ جایا کرو۔۔۔ تمھیں اچھا لگے گا۔۔۔” اور معنی خیز انداز میں مسکرا دی۔ اس خیال کے آتے ہی طاہر نے جھرجھری لی اور کروٹ بدل کر پھر سے سونے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔

اس کے اندر ایک عجیب سی تبدیلی آنے لگی تھی۔ اس نے کبھی اپنے ہم جماعت لڑکے اور لڑکیوں میں کوئی فرق نہیں کیا تھا۔ وہ سبھی اس کے لیے صرف تعلیمی مسابقت کے شریک کی حیثیت رکھتے تھے مگر اب اس کی نظریں کسی لڑکی پر پڑتیں تو وہیں جم کر رہ جاتیں اور اس کے اندر پیدا ہونے والی ہلچل اسے بری طرح بے چین کر کے رکھ دیتی۔ نہ پڑھائی میں دل لگتا تھا اور نہ ہی کھیل کود اچھا لگتا تھا۔۔۔ وہ اتنا بچہ نہیں تھا کہ یہ نہ سمجھ سکے، جو کچھ ثمینہ نے کیا وہ غلط تھا لیکن اس کی بے چینی کا مداوا بھی اب وہی کر سکتی تھی۔ بالآخر وہ بھی اسی راہ پر چل پڑا جس پر ہاتھ پکڑ کر ثمینہ اسے لے آئی تھی۔۔۔

—————————————————-

طاہر کے واقعے کے بعد اعجاز بھی جلد ہی لوٹ آیا تھا۔ اس نے سعد کو گود سے اتارتے ہوئے ثمینہ سے استفسار کیا، "یہ آٹا کون لے کر آیا ہے؟” "گلی کے ایک لڑکے سے گزارے کے لیے تھوڑا بہت سامان منگوایا تھا، کیا کرتی آپ تو میرے گھر کا رستہ ہی بھول گئے تھے۔۔۔” ثمینہ نے الٹا اسی سے شکایت کر ڈالی۔ "اچھا یہ بتاؤ، صرف سودا ہی منگوایا تھا یا میری ساری کمی اسی سے پوری کرلی؟” اعجاز نے اسے ٹہوکا دیتے ہوئے کہا۔ "کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ۔۔۔ بھلا آپ کی جگہ کون لے سکتا ہے؟ آپ کمرے میں چلیں میں سعد کو سلا کر آتی ہوں۔”

کچھ دنوں سے سعد کی طبیعت خراب سی رہنے لگی۔ وہ ہر وقت بخار میں مبتلا رہتا۔ ثمینہ اسے گھر میں ہی پیناڈول سیرپ پلا کر سلا دیتی۔ سو کر اٹھنے کے بعد وقتی طور پر بخار اتر جاتا لیکن دو ایک دن بعد پھر سے ہو جاتا۔ ایک تو وہ زیادہ پڑھی لکھی نہیں تھی دوسرے اب اس کی زندگی میں دو دو مردوں کا آنا جانا تھا ایسے میں سعد کی بیماری کو زیادہ سے زیادہ کتنا سنجیدگی سے سوچ سکتی تھی۔ دو ایک بار محلے کے کلینک پر لے گئی تو ڈاکٹر نے کوئی ٹیسٹ کروائے بغیر دوا اور انجکشن دے دیا۔ دن گزرنے کے ساتھ ساتھ سعد کی بیماری شدت پکڑتی جا رہی تھی۔ اعجاز کو اس کے بچے کی کیا پرواہ ہوتی، اس جانب بھی طاہر نے اس کی توجہ دلائی، "دیکھیں آپ محلے کے ڈاکٹر کو چھوڑیں سعد کو کسی بڑے ہسپتال کے اسپیشلسٹ ڈاکٹر کو دکھائیں۔ چاہے سرکاری ہسپتال چلی جائیں وہ ٹیسٹ لیں گے تو بیماری کی وجہ سامنے آ جائے گی۔۔۔ وہ جو۔۔۔ آپ کے۔۔۔ دوست۔۔۔ آتے ہیں (اس کا اشارہ اعجاز کی طرف تھا) ان کے ساتھ چلی جائیں۔۔۔” اس نے جھجکتے ہوئے بات مکمل کی۔ "تم ٹھیک کہہ رہے ہو میں کل ہی اس کو لے کر جاتی ہوں۔” ثمینہ اس کی بات کو سمجھتے ہوئے بولی۔

—————————————————-

بڑے ہسپتال کے ڈاکٹر نے سعد کا ہسپتال میں داخلہ لکھ کر اس کے بہت سے ٹیسٹ لکھ دیئے جو مہنگے بھی تھے۔ ساتھ ہی تاکید کی تھی کہ کسی اچھی لیبارٹری سے کروائے جائیں تاکہ صحیح نتیجے تک پہنچا جا سکے۔ ٹیسٹ کی رپورٹ آئی تو ثمینہ کے تو جیسے سر پر آسمان ہی ٹوٹ گرا۔۔۔ وہ بوجھل سے قدموں کے ساتھ ڈاکٹر کے کمرے سے نکلی تو ڈاکٹر کے الفاظ ہتھوڑے بن کر اس کے دماغ پر برس رہے تھے۔۔۔ "بی بی ہم آپ کو کوئی جھوٹی آس نہیں دلانا چاہتے۔ کینسر سعد کے جسم میں پھیل چکا ہے۔ اب آپ کی دعائیں یا پھر کوئی معجزہ ہی اس کے کام آ سکتا ہے۔ البتہ دواؤں کے ذریعے عارضی طور پر اس کی تکلیف کو کچھ کم کیا جا سکتا ہے۔ ہم نے اس کی چھٹی لکھ دی ہے۔ آپ ہر تین ہفتے بعد اسے باقاعدگی سے معائنے کے لیے لاتی رہیئے گا۔۔۔”

آج اماں ابا کی کمی اسے شدت سے محسوس ہوئی تھی۔ جی کرتا تھا ان کی گود میں سر رکھ کر جی بھر کے روئے۔ سعد کی بیماری کے دنوں ویسے ہی اعجاز نے آنا جانا کم کر رکھا تھا، اسے ڈھارس دینے کون آتا۔۔۔ کافی دن بعد طاہر سعد کا حال، احوال پوچھنے آیا تو وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکی اور اس کے سامنے اپنا دل کھول کر رکھ دیا۔ وہ بچوں کی طرح بلک بلک کر رو رہی تھی۔  طاہر کا شانہ اس کے آنسوؤں سے تر ہو گیا تھا۔ ذرا ہوش آیا تو اس نے جھٹکے سے سر اٹھا لیا۔ طاہر پریشان سا سوالیہ نظروں سے اس کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔

آنسو پونچھتے ہوئے اس نے ساری روداد کہہ ڈالی۔ طاہر کو بھی اس سے ہمدردی سی محسوس ہونے لگی۔ وہ جیسی بھی عورت تھی مگر اس وقت ایک بے بس ماں کی صورت اس کے سامنے بیٹھی تھی۔ اس کی آنکھوں میں نہ وہ شوخی تھی، نہ وہ مچلتے جذبات کی حدت۔۔۔ اگر کچھ تھا تو فقط یاس و حسرت۔۔۔ وہ اس کے قدموں میں بیٹھ گئی اور دونوں ہاتھوں کو جوڑ کر بولی، "مجھے معاف کر دو طاہر! میں نے تم سے تمھاری معصومیت، تمھارا لڑکپن چھین لیا۔۔۔ تمھاری پاکیزہ سوچوں کو اپنی ہوس کی آلودگی سے لتھڑ دیا۔۔۔ مجھے معاف کر دو پلیز۔۔۔ مجھے معاف کر دو۔۔۔” طاہر نے سینے کے اندر ہی گھٹی گھٹی سی ایک آہ کھینچی۔۔۔ اور خود کو سنبھال کر اس کے آنسو پونچھتے ہوئے بولا، "آپ اتنا مت سوچیں۔۔۔ سعد کو آپ کی توجہ کی ضرورت ہے، آپ سب کچھ بھول کر بس اس کی طرف دھیان دیں اور اللہ سے دعا کریں۔ میں بھی اس کے لیے دعا کروں گا، میری امی کہتی ہیں دعاؤں میں بہت طاقت ہوتی ہے۔ ان سے تقدیر بدل جاتی ہے۔۔۔” "مگر جب تک تم مجھے معاف نہیں کرو گے، خدا بھی شاید معاف نہ کرے۔۔۔ جو کچھ ہو چکا میں اسے تو ٹھیک نہیں کر سکتی لیکن میرا تم سے وعدہ ہے اب اس کے بعد میں تمھیں کبھی گناہ پر مجبور نہیں کروں گی۔۔۔ تمھارے اندر میری وجہ سے جذبات کے جس طوفان نے سر ابھارا ہے اگر وہ کبھی تمھارے اختیار میں نہ رہے تو تم وہ غلطی مت دہرانا جو میں نے تمھارے ساتھ کی ہے۔۔۔ یاد رکھو! انسان کا گناہ مجسم ہو کر، کبھی نہ کبھی اس کے سامنے ضرور آتا ہے۔۔۔ تم کسی اور کو اس راہ پر کبھی مت لانا۔۔۔ تم اپنی طلب پوری کرنے میرے پاس چلے آنا۔۔۔ جب تک تم اپنے قدموں پر کھڑے ہو کر اس قابل نہیں ہو جاتے کہ کسی نیک سیرت لڑکی کے ساتھ عزت دار، پاکیزہ رشتہ شروع کر سکو۔۔۔ اب اپنی پوری توجہ پڑھائی پر لگاؤ اور شدید مجبوری کے علاوہ یہاں آنا چھوڑ دو۔۔۔” وہ حتمی انداز میں بولی۔۔۔

—————————————————-

اعجاز آج خاصے خوشگوار موڈ میں تھا۔ وہ سعد کے ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد پہلی مرتبہ اس کے گھر آیا تھا اور ساتھ میں بہت سے پھل، جوس کے ڈبے اور کھانے پینے کا کافی سامان بھی لے آیا تھا۔ "اس سب کی کیا ضرورت تھی، گھر میں ضرورت کی سب چیزیں موجود ہیں۔۔۔” ثمینہ کا انداز بدلا بدلا سا تھا۔ "یہ تم کب سے اتنے تکلفات میں پڑنے لگیں۔۔۔؟” اعجاز نے اس کے گریز کو محسوس کرتے ہوئے کہا۔ "ایسی کوئی بات نہیں ہے، بس مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی تھی میرا دھیان اسی طرف لگا ہوا تھا۔” اس نے صفائی دی۔ اعجاز کا موڈ خراب ہو چکا تھا۔ اس نے روکھے لہجے میں کہا، "کون سی بات؟” "آپ جانتے ہیں کہ ڈاکٹرز نے سعد کو جواب دے دیا ہے۔۔۔ وہ کہتے ہیں کہ صرف دعا ہی اس کے کام آ سکتی ہے۔ آپ بتائیں میں گناہگار کس منہ سے خدا کے حضور دست سوال بلند کروں۔۔۔؟ مجھے اس سے مانگتے ہوئے بہت شرم آتی ہے۔۔۔ اسی لیے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اپنے آپ کو اس غلاظت سے نکال کر سب سے پہلے اپنے گناہوں سے توبہ کروں۔.. آپ شادی شدہ ہیں۔ بیوی، بچے، گھر بار اللہ نے آپ کو سب کچھ دیا ہے۔۔۔ آپ بھی اپنے گھر، اپنی دنیا میں لوٹ جائیے۔۔۔ ہمارے درمیان جو یہ گناہ کا تعلق ہے، آئیں اسے توڑ کر ایک نئی، ایک صاف ستھری زندگی شروع کریں۔۔۔ شاید اللّٰہ ہمیں معاف کر دے۔۔۔؟” اس کی بات سن کر وہ فوراً کھژا ہو گیا اور طنزیہ ہنس کر بولا، "سو چوہے کھا کر بی بلی حج کو چلیں۔۔۔ بات سنو میرے سامنے یہ پارسائی کا ڈرامہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ سعد کی بیماری تو ایک بہانہ ہے۔۔۔ کیا مجھے نہیں معلوم کہ میرے پیچھے یہاں کون آتا ہے؟ صاف صاف کیوں نہیں کہتی کہ جس لونڈے کو تو سودے کے بہانے بلا لیتی ہے، اس پر دل آ گیا ہے تیرا۔۔۔ ایک بات بتا دوں میں تجھے ثمینہ، تو نے مجھے ڈبل کراس کرنے کی کوشش کی ناں تو تیرا جینا حرام کر دوں گا۔۔۔” "آپ بلاوجہ اس کو کیوں بیچ میں لا رہے ہیں؟ وہ بچہ ہے، معصوم ہے۔۔۔ اس کا اس سب سے کیا تعلق۔۔۔ میں نے واقعی سچے دل سے اللہ سے عہد کیا ہے کہ کبھی گناہ کے راستے پر نہیں چلوں گی۔۔۔ آپ میری مدد کر سکتے ہیں تو یہ آپ کی مہربانی اور بہت بڑی نیکی ہو گی، جس کا اجر آپ کو خدا دے گا اور اگر آپ نہیں کر سکتے تب بھی کوئی بات نہیں میں اللّٰہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہوں وہ مجھے ہمت دے گا تنہا اپنے مسائل کا سامنا کرنے کی۔۔۔” ثمینہ کا لہجہ اٹل تھا۔ اعجاز کچھ بھی کہے بغیر باہر نکل گیا۔

—————————————————-

مہینے کی آخری تاریخیں چل رہی تھیں اور اسے جلد از جلد ابا کی پینشن بک پر معمول کی دفتری کارروائی مکمل کروانی تھی۔ اعجاز یہ کام کرواتا تھا تو اسے دفتروں کے دھکے کھانے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ مگر اب جبکہ اسے اعجاز کی مدد کی سب سے زیادہ ضرورت تھی تو وہ ٹکا سا جواب دے کر چلا گیا تھا۔۔۔ پڑوسن اچھی تھی، زیادہ سوال جواب کیے بغیر اس کے آنے تک سعد کے پاس ٹھہرنے کے لیے آمادہ ہو گئی۔ دفتر والوں نے اسے بتایا کہ اس کے ابا کے کاغذات میں کچھ پیچیدگیاں ہیں لہذا وہ ایک دو دن بعد دوبارہ چکر لگائے۔ اگلی بار پھر بات دو دن بعد پر ٹال دی گئی۔۔۔ اسی طرح پہلی تو کیا پانچ تاریخ گزر گئی لیکن کاغذات کا مسئلہ حل ہو کے نہیں دے رہا تھا۔ ایک ایک لمحہ اس پر قیامت بن کر گزر رہا تھا۔ گھر کا راشن، سعد کی دوا۔۔۔ سب ختم ہو گیا تھا اس پر سعد کے معائنے کی تاریخ بھی سر پہ آگئی تھی۔ اس کی مامتا سسک کر رہ گئی۔..

اب کی بار جب وہ دفتر گئی تو اکاؤنٹس کلرک کے لہجے میں ضرورت سے کچھ زیادہ ہی چاشنی گھلی ہوئی تھی۔ گزشتہ دو چار ملاقاتوں میں اسے علم ہو چکا تھا کہ ثمینہ بالکل اکیلی اور مجبور عورت ہے۔۔۔ وہ میز پر سامنے بیٹھی ثمینہ کی جانب جھکتے ہوئے ایک آنکھ دبا کر بولا، "آپ چاہیں تو آپ کا کام جلدی بھی ہو سکتا ہے۔۔۔” ثمینہ اس کے مدعا کو سمجھتے ہوئے بولی، "کیا مطلب ہے آپ کا۔۔۔؟” "میرا مطلب اگر آپ ہماری خوشی کا خیال رکھیں تو ہم بھی آپ کی خوشی کا سامان کر سکتے ہیں…” اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر دباتے ہوئے کہا تو ثمینہ فورا کھڑی ہو گئی اور کچھ کہے بغیر تیزی سے دفتر کے دروازے کو عبور کرتی ہوئی باہر نکل گئی۔۔۔

وہ جانتی تھی کہ کاغذی معاملات میں یہ الجھاؤ اعجاز کا ہی پیدا کردہ ہے لیکن باہر کی دنیا میں نجانے کتنے اعجاز اس کو بھنبھوڑنے کے لیے تیار بیٹھے تھے۔ ان حالات میں اسے اعجاز سے شکست تسلیم کرنے کے علاوہ اور کوئی راہ سجھائی نہیں دی۔۔۔

—————————————————-

کئی کوششوں کے بعد بالآخر اعجاز نے اس کا فون اٹھا لیا، "جلدی بولو کیا بات ہے؟ میرے پاس ٹائم نہیں ہے۔” اس نے تیور دکھائے تو ایک لمحے کو ثمینہ کا دل چاہا فون بند کر دے مگر وہ مجبور تھی، اپنے لیے نہیں اپنے مرتے ہوئے بیٹے کے لیے۔۔۔ اس نے پنشن کے سلسلے میں درپیش مشکل اس سے کہہ ڈالی۔ اعجاز پھر سے جتانے والے انداز میں گویا ہوا، "میں نے تو پہلے ہی تم سے کہا تھا کہ میرے بغیر تم مشکل میں پڑ جاؤ گی، دیکھا ناں اب۔۔۔” ثمینہ نے اس کی بات کو قطع کرتے ہو کہا، "آپ نے ٹھیک کہا تھا، مجھے احساس ہو گیا ہے کہ یہ دنیا اکیلی عورت کا جینا محال کر دیتی ہے۔۔۔ آپ کے ساتھ میرا جیسا بھی تعلق تھا، ایک فرضی سا سہارا تو تھا۔۔۔” "مطلب…؟! اب تم اس تعلق پر راضی ہو۔۔۔؟” اس نے معنی خیز انداز میں پوچھا۔ "آپ آج گھر آ جائیں آپ کو پنشن کے کاغذات تیار ملیں گے۔۔۔ (ذرا توقف کے بعد) اور میں بھی۔۔۔” ثمینہ نے یہ کہہ کر بے بسی سے فون بند کردیا۔ یوں پھر سے ثمینہ کے گھر اعجاز کا آنا جانا شروع ہو گیا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ پہلے وہ ہوس پرستی کے اس کھیل کی شریک تھی اور اب شکار۔۔۔ اب اسے”لقمۂ حلال” اور حرام کا فرق دکھائی دینے لگا تھا۔ کبھی کبھی اسے شدت سے طاہر کا خیال آ جاتا تھا کہ جس کی معصومیت کو خود اس کی ہوس کے جبر نے نگل لیا تھا۔ اس وقت اسے خود سے نفرت سی ہونے لگتی، اپنے وجود سے گھن محسوس ہوتی۔۔۔ اور وہ سوچتی شاید اس کے گناہ کی یہی سزا ہے کہ اعجاز جیسا درندہ ہر روز اس کی بوٹیاں نوچتا رہے۔۔۔

—————————————————-

اس دن سعد کی طبیعت بہت بہتر معلوم ہو رہی تھی۔ اس نے ثمینہ سے ڈھیر ساری باتیں بھی کیں اور نوڈلز بنانے کی فرمائش بھی کی۔ اسے نوڈلز کھلا کر وہ خود بھی اس کے ساتھ ہی لیث گئی۔ سعد تھک کر سو چکا تھا۔ اسے بھی تھوڑی دیر کو اونگھ آ گئی۔۔۔ اچانک اسے لگا جیسے کسی نے اسے جھٹکے سے، گہری نیند سے جگا دیا ہو۔ وقت دیکھا تو شام کے ساڑھے پانچ بج رہے تھے۔ پتہ نہیں کیسے وہ اتنی دیر سوتی رہ گئی تھی۔ سعد کو ہاتھ لگایا تو وہ بخار میں پھنک رہا تھا۔ سوچا آج اعجاز کا ہاف ڈے ہو گا، جلدی سے اسے فون کرکے بلایا اور بچے کو ہسپتال لے گئے۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ اس کی حالت سیریس ہے، ہم اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں آپ دعا کریں۔۔۔ اعجاز رات آٹھ بجے تک اس کے پاس ٹھہرا لیکن اسے گھر بھی جانا تھا۔ وہ صبح آنے کا کہہ کر تو چلا گیا مگر صبح سے پہلے ہی سعد کی زندگی کی شام ہو گئی۔۔۔ رات تین بجے ثمینہ نے اسے فون کرکے اطلاع دی کہ وہ اپنا آخری سرمایہ بھی کھو چکی ہے۔۔۔ بیوی سے دوست کے بیٹے کے انتقال کا بہانہ کرکے اعجاز وہاں پہنچا۔ یوں اعجاز اور چند محلے داروں نے مل کر اس کے بیٹے کو سپرد خاک کیا۔۔۔ کچھ دن تک محلے کی ایک دو عورتیں ہمدردی کرنے آ جاتی تھیں مگر آہستہ آہستہ سب اپنی زندگیوں میں مصروف ہو گئے۔۔۔ رہ گیا تھا، بس اس کا دکھ۔۔۔ اور ایک چھلنی سا وجود۔۔۔

—————————————————-

طاہر ظہر کی نماز ادا کر کے دسترخوان پر آ گیا۔ آج کل دوپہر کے کھانے پر بھی دسترخوان پررونق ہوا کرتا تھا۔ اس کی پھپھو ملتان سے آئی ہوئی تھیں۔ بچوں کی چھٹیاں تھیں لہٰذا انھوں نے کراچی آنے کا پروگرام بنا لیا۔ ان کی بیٹی فاریہ دس سال کی تھی اور بیٹا تابش چھ سال کا۔ دونوں سارا دن ادھم مچائے رکھتے۔ فاریہ میں چلبلا پن کچھ زیادہ ہی تھا۔ دس سال کی ہو گئی تھی مگر اچھل پھاند چار سال کی بچیوں والی تھی۔۔۔

کھانا کھانے کے بعد اس کی پھپھو اور امی بچوں کو لے کر قیلولہ لینے چلی گئیں۔ طاہر بھی بچوں سے نظر بچا کر اپنے کمرے میں آیا اور دروازہ بھیڑنے کے بعد اپنا لیپ ٹاپ لے کر بیڈ پر آ کر بیٹھ گیا۔ اس کا کوئی خوفناک اور سنسنی خیز فلم دیکھنے کا موڈ ہو رہا تھا۔ ابھی فلم کا سسپنس عین عروج پر پہنچا ہی تھا کہ کوئی دھاڑ سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔ اس نے پلٹ کر دیکھا تو فاریہ صاحبہ وارد ہو چکی تھیں۔ فلم روک کر اس نے پوچھا، "تم کیوں آئی ہو یہاں؟ جاؤ جا کے پھپھو کے پاس سو جاؤ۔” مگر وہ کہاں سننے والی تھی، بیڈ پر چڑھ کر اس کے برابر میں بیٹھ گئی، "طاہر بھائی میں نہیں جاؤں گی، میں نے بھی مووی دیکھنی ہے آپ کے ساتھ۔۔۔” طاہر نے منع کیا، "نہیں بالکل نہیں۔۔۔ رات کو تمھیں ڈر لگے گا تو امی اور پھپھو سے میری شکایت کرو گی کہ طاہر بھائی نے مجھے ڈراؤنی فلم دکھائی تھی۔۔۔ چلو بھاگو۔۔۔!” "نہیں ناں نہیں کروں گی آپ کی شکایت۔۔۔ اور ویسے بھی اب مجھے ڈر نہیں لگتا، میں بڑی ہو گئی ہوں۔۔۔” وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر ضد کرنے لگی۔ طاہر نے اس کا ہاتھ جھٹک کر کہا، "چلو اگر مووی دیکھنی ہے تو دور ہٹ کے خاموشی سے دیکھو، مجھے ڈسٹرب کیا تو تمھیں باہر نکال کر اور خود روم لاک کر کے دیکھوں گا۔” اس نے اثبات میں سر ہلایا اور فلم دیکھنے لگی۔۔۔ فلم کے منظر میں نہایت حسین لڑکی نظر آ رہی تھی۔ فاریہ محویت سے اسے دیکھ رہی تھی کہ اچانک وہ حسین چہرہ نہایت بھیانک چہرے میں بدل کر کیمرے کی جانب جھپٹ پڑتا ہے۔۔۔ اسے ایسا لگا جیسے یہ بھیانک چڑیل اس پر حملہ آور ہو گئی ہو۔ وہ سٹپٹا کر طاہر سے جا لپٹی۔ طاہر کے پورے بدن میں بجلی سی دوڑ گئی۔۔۔ اسے ایسا لگا جیسے کسی ہائی ٹینشن تار نے اسے جکڑ لیا ہو۔۔۔ وہ خوف سے بری طرح کانپ رہی تھی۔ طاہر اپنی جگہ ساکت کا ساکت رہ گیا۔۔۔ اندر سے وہ بھی لرز رہا تھا مگر فلم کے منظر کی وجہ سے نہیں بلکہ یکایک اپنے اندر اٹھنے  والے طوفان کے سبب۔۔۔ جیسے شیطان اپنے پنجے اس کے نفس میں پیوست کیے بیٹھا ہو اور اس کے ارادے کی مضبوطی اپنی پوری شدت سے اسے آزاد کرانے پر ڈٹی ہوئی ہو۔۔۔ اچانک اس کے دل میں ایک خیال کوندا اور اس نے جھٹکے سے فاریہ کو خود سے الگ کیا۔ اس کا دھکا اتنا شدید تھا کہ فاریہ نے بمشکل خود کو بیڈ سے نیچے گرنے سے بچایا۔۔۔ اسے پرے دھکیل کر طاہر اس تیزی سے دوڑتا ہوا گھر سے نکلا کہ اسے یہ بھی ہوش نہ رہا کہ اس کے پیر میں چپل نہیں ہے۔۔۔

—————————————————-

اس نے دستک دینے کے لیے دروازے پر ہاتھ مارا ہی تھا کہ وہ کھلتا چلا گیا۔ شاید جلدبازی میں دروازے کی کنڈی ٹھیک سے نہیں لگائی جا سکی تھی۔ وہ اندر داخل ہوا تو کمرے کا دروازہ بھی نیم وا ملا۔ اندر سے کسی کی سسکیوں کے درمیان گفتگو کی آواز آ رہی تھی۔ وہ کان لگا کر پوری توجہ سے اس کی بات سمجھنے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔ "ثمینہ جی میری مدد کریں پلیز۔۔۔ آج اگر مجھے آپ کی کہی ہوئی بات یاد نہ آتی تو شیطان مجھ پر حاوی ہو جاتا۔۔۔ اور۔۔۔ فاریہ کے ساتھ ساتھ میں خود بھی تباہی کے اس گڑھے میں گر جاتا جس میں سے شاید پوری زندگی باہر نہیں نکل پاتا۔۔۔” وہ نجانے کیا کیا کہتا چلا جا رہا تھا اور اس کا ایک ایک لفظ اس کے کانوں میں سیسہ انڈیل رہا تھا۔۔۔ اس آواز اور اس کی بیان کردہ تلخ حقیقت نے اسے بری طرح جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔۔۔ یہ طاہر تھا۔۔۔؟؟؟!! اس کا اپنا بیٹا۔۔۔! اس عورت کی آغوش میں سر رکھے اپنی بے بسی کی داستان کہہ رہا تھا جو خود اس کی "غیر شرعی بیوی” کی، جبری زندگی گزار رہی تھی۔۔۔ اعجاز کے قدم زمین میں جم کر رہ گئے۔۔۔ ایک ایک قدم منوں بھاری لگ رہا تھا۔۔۔ اس کی ہمت جواب دے چکی تھی کہ وہ دروازہ کھول کر ان دونوں کا سامنا ہی کر سکے۔۔۔۔ ہر طرف طاہر کی زبانی، ثمینہ کے کہے ہوئے الفاظ گونج رہے تھے، "یاد رکھو! انسان کا گناہ مجسم ہو کر، کبھی نہ کبھی اس کے سامنے ضرور آتا ہے۔۔۔”

ختم شد

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

بانو زلیخا ۔۔طلحہ کھرل

                              …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے