سر ورق / افسانہ / "نا مرد” … عماره کنول

"نا مرد” … عماره کنول

"نا مرد”

عمارہ کنول
”عدنان میں تمھارے بنا زندگی کا تصور بھی نہیں کرتی.بچپن سے تمھارے نام سے منسوب ہوں۔ اب شادی سے محض آٹھ دن پہلے انکار کیوں کر رہے ہو؟ کسی اور کو پسند کرتے ہو سچ بتاو.عدی تمھیں قسم ہے . کچھ تو بولو میرے آنسوووں کی لاج رکھ لو .“
”ھادیہ پلیز ایسا کچھ نہیں ..میں بھی تمھیں بہت پسند کرتا ہوں مگر میں تمھاری زندگی برباد نہیں کر سکتا۔“

”مطلب ؟،ایسا کیا ہے عدی .. بتاو مجھے.میں تمھارا راز رکھوں گی کسی کو کچھ نہیں بتاو¿ں گی ۔ہر بیماری کا علاج ہے ہم بڑے سے بڑے ڈاکٹر کے پاس جائیں گے.میں تمھارا ہر حال میں ساتھ دوں گی .“
”میرا علاج کسی کے پاس نہیں ہے ھادی .. جاوتم .“.عدنان شدت کرب سے جیسے بلبلا اٹھا..

”عدی….“ ھادیہ نے پکارا اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا.
”مجھے بتاو ایسا کیا روگ ہے جو تمہیں اندر ہی اندر کھا رہا ہے ..میں تمھارا ساتھ دوں گی ہمیشہ .. یہ رشتہ ہمارے مقدر میں ہوا تب بھی ،نا ہو سکا تب بھی …“
ھادیہ کے لہجے کی مضبوطی نے عدنان کو حوصلہ سا دیا.اس نے آنسو صاف کیے اور دھیرے سے بولا.
”روح چھلنی ہے میری ۔زخم کوئی بھی نہیں مگر لہو لہان ہوں میں ۔آنکھ خشک مگر اندر اشکوں کا سمندر ہے۔اک درد ہے جو مجھے سونے نہیں دیتا ۔اک ڈر ہے جو مجھے رونے نہیں دیتا.خود میں خود کو چھپا چھپا کے تھک سا گیا ہوں۔ھادیہ تم میری خالہ زاد ہو بچپن سے چاہتا ہوں تم کو۔یاد ہے ہم ساتھ کھیلا کرتے تھے پر ابو کی ڈیتھ ہو گئی وہ آم کے درخت کے پاس بیٹھ کے کتنا رویا تھا میں ..یاد ہے ..
”یاد ہے ابو کی ڈیتھ کے بعد ھمارے پاس کچھ نہیں تھا مما بتاتی ہیں چچا وغیرہ نے ابو کی جائیداد سے کچھ دینے سے انکار کر دیا تھا تو مجبورا انھیں دوسری شادی کرنی پڑی.نئے ابو مجھے ذرا بھی پسند نہیں تھے.میں ان سے ڈرتا تھا جب رات کو مما سو جاتی تھیں تو وہ میرے کمرے میں آتے تھے مجھے بیلٹ سے مارتے تھے..میں تب بہت رویا پر، میں نے مما کو بتا دیا..پھر ان کی اور مما کی خوب لڑائی ہوئی۔ اگلے دس دن سکون سے گزرے ۔وہ مجھے گھورتے رہتے۔ میں دبک کے بیٹھا رہتا .
پھر ایک رات وہ میرے کمرے میں آئے۔ اس رات ان سے بہت بدبو آ رہی تھی ۔انھوں نے مجھے مارا میرے منہ پر کپڑا باندھ دیا .
پھر بولے ..آج میں تجھے ایسی سزا دوں گا جسے تو زندگی بھر نہیں بھولے گا .
میں بے بس تھا میری چیخیں اندر ہی اندر دم توڑتی رہیں۔ میرے جسم میں نشتر چبھتے رہے۔ میری آنکھوں کے سامنے جو اندھیرا چھایا تھا ناں وہی اندھیرا آج بھی ہے۔ درد کا اندھیرا…
یہ کھیل وہ میرے ساتھ پانچ ماہ کھیلتے رہے پھر ایک رات مما کو پتا چل گیا.
پھر کسی نے بتایا وہ بندہ ذہنی و جنسی مریض تھا مما کو یہ بات ایک ہمسائی عورت نے بتائی تھی.
مما نے ان سے طلاق لے لی.
مجھے ڈاکٹرز کے پاس بھی لے کے جاتی رہیں مگر مجھے ان خوف کے بھیانک اندھیروں سے نا نکال سکیں جن میں آج بھی مقید ہوں.
میں خود اپنا قیدی ہوں ۔بے رنگ ہوں تو تمھاری زندگی میں کیا رنگ بھروں گا..
عدی پھر سسکنے لگا..ھادیہ بھی اپنے آنسوو¿ں پر بند نا باندھ سکی..
عدی… زندگی میں رنگ "ساتھ "سے بھرتے ہیں
آج تمھارے ہونٹوں نے چپ کا تالا توڑا ہے ناں..
جب میں تمھارے ساتھ چلوں گی تو تمھارے زخم خود بخود سل جائیں گے.
میرے سچے پیار اور خلوص کی قوس و قزح تمھاری زندگی میں بھی کوئی نا کوئی رنگ تو لائے گی .
میری ہنسی نا سھی ہمارے ننھے منے بچوں کی قلقاری تمھارے لبوں پے پھول ضرور کھلائے گی ..
میں تمھارے ساتھ ہوں کیونکہ حادثہ تو کسی کے ساتھ بھی ہو سکتاہے.
تم مرد ہو اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمہیں درد نہیں ہے یا پھر اگر تمہیں درد ھے تو اکیلے ہر درد سہنا لازم ہے .
تم مظلوم ہو اور میرے ساتھ میرے پیار کی طاقت تمہیں مرد بنا دے گی.
وہ بھی ایک مرد تھاجس نے تم پر ظلم کیا لیکن سچ پوچھو تو وہ "نامرد ” تھا
اپنی مردانگی ایک بچے پر ڈھاتارہا.
میں تمھارے ساتھ ہوں …
عدی نے اپنا ہاتھ بڑھا کر ھادیہ کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا…..
مرد ایک مضبوط چار دیواری ہوتا ہے۔ جس کے سائے میں پورا گھر سکھ کی سانس لیتا ہے مگر کبھی کبھی اسے بھی گھن لگ جاتا ہے
جو دیمک کی طرح اندر سے کھاتا رہتا ہے مرد کی انا اسے لب کھولنے نہیں دیتی
اسے کیا سے کیا بنا دیتی ہے
کبھی پیار سے ہمدردی سے اس کھلی کتاب کے بند پنوں کو بھی پڑھنے کی کوشش کیجئے گا۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

بانو زلیخا ۔۔طلحہ کھرل

                              …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے