سر ورق / مضامین / اردو غزل میں …اور شعری نمونے از غنی غیور

اردو غزل میں …اور شعری نمونے از غنی غیور

اردو غزل میں نئے ذائقوں کاجدید ترین سفر نامہ اور کچھ شعری نمونے

از غنی غیور ( کشمیر ۔ انڈیا )

جدید تر غزل  بیکراں احساس کی تہوں میں فکر پاروں کی مجاز و متحمل ہے اس میں  میں عمومی طور پر اضافت سے گریز کیا جاتاہے لیکن ایسی کوئی سخت پابندی بھی نہیں کہ اضافت بالکل استعمال نہ کریں . گرائمری گھٹن  اور ملائیت بھی کم ہوگئی ہے اب  اردو کا کوئی ایک دبستان نہیں رہا. بلکہ  اسکا دامن بہت کشادہ ہوچکا ہے اس میں  علاقائی لہجوں کے کھپنے  کی گنجائش نکل آئی ہے . لہذا ہم سکون کی سانس لے سکتے ہیں کسی بھی طرح مقامی الفاظ کو بھی” فٹ”  کر کے شعر کہہ سکتے ہیں. غزل کراچی لاہور بلوچستان کی ہو یا احمد آباد، لکھنو  گورکھپور یا  پٹنہ  کی ہر جگہ اشاریت اور علامت نگاری جدید تر غزل کا طرۂ امتیاز ہے.

محض تخیل اور موضوع کے بل بوتے پر روایتی غزل زیادہ پنپ نہیں سکتی .بعض شعرا اپنے وقت بہت مشہور ہوجاتے ہیں لیکن انکا کلام وقت کی ریت پر زیادہ دیر اپنے نقوش ثابت نہیں رکھ سکتا ہے…

تم تو تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فراز

دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا

ان بارشوں  سے دوستی اچھی نہیں فراز

کچا تِرا مکان ہے کچھ تو خیال کر

احمد فراز

 ہا پھر ندا فاضلی کے اشعار کی مثال لے لیجئے.

بات کم کیجئے ذہانت کو چھپاتے رہئے

 اجنبی شہر ہے یہ دوست بناتے رہئے

دشمنی لاکھ سہی ختم نہ کیجے رشتہ

دل ملے یا نہ ملے ہاتھ ملاتے رہئے

اس قسم کی شاعری وقتی طور پر بہت مشہور ہوجاتی لیکن اس کا شورو شغب وقتی ہی ہوتا ہے.

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ

جدید تر غزل مشکل پسندی کے بجائے سہل ممتنع کی نماییندگی کرتی ہے البتہ  اس میں موضوع کی کوئی قید نہیں استعارہ و علامت اسکی خوبصورتی ہیں جدلیاتی الفاظ کا استعمال اسکی زندگی اور بقا کے ضامن ہوسکتے ہیں .لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے

 ہر عہد میں غزل کاایک شیڈ Shade عشقیہ جزبات و احساسات کی ترجمانی بھی ہے.کئی  روایت پسند شعراء  قدم اس روایت سے  باہر نہیں رکھتے  زندگی بھر ادبی فضا میں چھائے رہتے ہیں مثلا حسرت موہانی ، جگر مرادآبادی ،ریاض خیر آبادی یا خمار بارہ بنکوی،  قمر جلالوی سیف الدین سیف، حبیب جالب ،بشیر بدر  وغیرہ کی قبیل کے شعراء بعض غزل کے قارئین انہیں ہی پسند کرتے ہیں لیکن انکی تعداد  آئے دن کم ہورہی ہے. اس قسم کء کلام کی  عمدہ مثالیں جگر مرادآبادی،  ریاض خیر آبادی جیسے  اور کئی  متقدمین کے ہاں مل جاتی ہیں بقول جگر مرادآبادی

وہ کب کے آئے بھی اور گئے بھی

نظر میں اب تک سما رہے ہیں

یہ چل رہے ہیں، وہ پھر رہے ہیں،

یہ آ رہے ہیں وہ جا رہے ہیں

وہی قیامت ہے قدّ ِ بالا

 وہی ہے صورت، وہی سراپا

لبوں کو جنبش، نگہ کو لرزش،

کھڑے ہیں اور مسکرا رہے

دوسری مثالیں

گل مرقع ہیں ترے چاک گریبانوں کے

شکل معشوق کی انداز ہیں دیوانوں ک

ریاض خیر آبادی

وہی پھر مجھے یاد آنے لگے ہیں

جنہیں بھولنے میں زمانے لگے ہیں

خمار

ڈوبنے والوں میں اک اور اضافہ ہی سہی

ڈوبنے والو نہ گھبراؤ کہ ہم آتے ہیں

شاہ جہاں بیگم …”یادیں”

 اسی طرح روایتی غزل میں شکوہ و شکایت  کی روایت بھی مسلم ہے .

تنقیدِ گلستاں کا حق ہے میرے کانٹوں کو

میں نے ہی قفس میں کھولی تھی زباں پہلے

اظہارِ محبت سےحسن اور نکھر آیا

تھی انکی اداؤں میں یہ بات کہاں پہلے؟

ساحل کے تماشائی ہر ڈوبنے والے پر

افسوس تو کرتے ہیں امداد نہیں کرتے

فنا نظامی

اس کے دروازے پہ جا جا کے پلٹ آتی ہوں

یہ جھجھک ہے کہ حیا کہ انا ہے کیا ہے؟

ممتاز نکہت

کہاں تھے رات ہوا کیا؟ نہ پوچھ اے واعظ

یہ بات رات کی تھی رات ہی کو بھول گئے

غلام مصطفے رشیدی

اوپر دیے گئے  اشعار میں  عشقیہ کے روایتی  موضوعات آجکل  بہت ہی کم   برتے جاتے ہیں..ہمارے شعرا غزل کی  معنویت کو از سر نو دریافت کرنا چاہتے ہیں. غزل میں سطحیت کے بجائے گہرائی آگئی ہے روایت پسندی کے بجائے جدت طرازی آگئی ہے. سلیم احمد ایسی روایتی غزل پر  یوں اعتراض کرتے ہیں

بقول  سلیم احمد

بوسیدہ ہوچکی ہے جزبات کی قبا

حسن غزل کا لاکھ ہوگوٹا لگا ہُوا

اترن پرانی فکر کی بکتی ہے شہر میں

سونی پڑی ہے تازہ خیالات کی دکان

سلیم احمد کے مزید دو اشعار جو کہ انکا اصلی رنگ ہے

یہ چاہا تھا کہ پتھر بن کے جی لوں

سو اندر سے پگھلتا جارہا ہوں

ہم ہیں منشی عدالتِ دل کے

روز لیتے  ہیں عشق کا اظہار

سلیم احمد

یہ بات لطف سے خالی نہیں کہ بعض دفعہ

سلیم احمد جیسے جدیدیت کے علمبردار شعراء بھی میدان غزل میں اپنے جھنڈے پوری طرح گاڑ نہیں سکتے کیونکہ عوام اور انکے درمیان کی خلا انکی غزل کی مقبولیت کی راہ کی بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے  کہیں کہیں ان  جیسے کئی مدعی خود بھی فکری چولہے بدلتے دکھائی دیتے ہیں کیونکہ ممکن ہی نہیں کہ  روایتی موضوعات یا عشقیہ موضوع کو یکسر فراموش کردیا جائے.

ہاں یہ سچ ہے کہ غزل عصری تقاضوں اور ماحولیاتی مسائل  سے بے خبر بھی نہیں بلکہ اسکے دامن میں اتنی وسعت ہے کہ یہ ہر موضوع کو اپنے اندر سما سکتی ہے ترقی پسندؤں نے بھی اچھے اشعار کہہ دیے ہیں مثلاً

 کوہِ غم اور گراں اور گراں اور گراں

غم زدو! تیشہ کو چکماؤ کہ کچھ رات کٹے

اس شہر میں اک آہوئے خوش چشم سے ہم کو

کم کم ہی سہی نسبتِ پیمانہ رہی ہے

مخدوم محی الدین

مانا کہ غزل ریزہ خیالی ہوتی ہے لیکن اسکا ہر شعر ایک مکمل نظم کی حیثت رکھتا ہے بلکہ بعض غزل کا فرد یعنی ایک شعرِ موزوں بڑی سے بڑی  نظم  پر بھاری پڑ جاتا ہے  . مثلاً غالب کے بہت سے اشعار یا جدید غزل کے ذخیرے سے چنندہ موتیوں کے سامنے جدید  نظم کا کارگاہِ شیشہ گری ماند پڑجاتی ہے .

بانی کے تین اشعار دیکھیں :

نکل چلو کہ یہی وقت ہے رہائی کا

ہوا کی لہر بدن کا لہو ہے کتنی دیر

ندائے کوہ بہت کھینچتی ہے اپنی طرف

مرے پی لہجہ میں وہ حیلہ جو پکارتا ہے

کہا دل نے کہ بڑھ کر اسکو چھو لوں

ادا خود ہی اجازت کی طرح تھی

منچندا بانی

دریا کے طلاطم سے تو بچ سکتی ہے کشتی

کشتی میں طلاطم ہو تو ساحل نہ ملے گا

بڑے مکانوں نے کتنے بنادئے سید

اسی لئے کوئی شجرہ کبھی نہیں رکھّا

مت بناؤ یدِ بیضا کو گدا کا کشکول

وقت فرعون  ہو جب،ضربِ عصا سے مانگو

تمازتِ غم دوراں سے وہ بھی  بچ نہ سکے

وہ جنکے شانوں پہ زلفوں کی ایک گھٹا بھی ہے

رئیس زادے جو دولت سنبھال کر رکھتے

حویلیوں کے مقدر کھنڈر نہیں ہوتے

ملک زادہ منظور

گھر سے چلے تھے پوچھنے موسم کا حال چال

جھونکے ہوا کےبالوں میں چاندی پرو گئے

ندا فاضلی

ایک دو زخم نہیں جسم ہے سارا چھلنی

درد بیچارہ پریشاں ہےکہاں سے اٹھے

سید حامد

سالہا سال سے اس وادئِ اقرار میں حرف

لفظ بننے نہیں پاتے کہ بکھر جاتے ہیں

سالہا سال سے وعدوں کے طلسمی سکّے جگمگاتے تو ہیں دامن میں نہیں آتے ہیں

اختر سعید خاں

آغاز کوئی میر کا دیوان اور ہم

انجام لال کوٹھی کا دالان اور ہم

آہن نہیں کہ چاہے جدھر موڑ دیجئے

شیشہ ہوں مُڑ نہیں سکتا توڑ دیجئے

وامق جونپوری

 جنگلوں میں گھومتے پھرتے ہیں شہروں کے فقیہہ

کیا درختوں سے بھی چھن جائیگا عالم وجد کا

وہاب دانش

ایسے ظالم ہیں مرے دوست کہ سُنتے ہی نہیں

جب تلک خون کی خُُو شبو نہ سُخن سے آۓ

رئیس فروغ

دھوپ کھڑکی سے ابھی  آئے گی تھوڑی دیر میں

میرے کمرے کو ہنسی آئے گی تھوڑی دیر میں

تاریک پربتوں پر سورج نے جان دے دی

ٹھنڈا اداس کہرا بستی میں ڈولتا رہا

پرکاش فکری

 رفاقتوں کو ذرا سوچنے کا موقع دو!

کہ اس کے بعد گھنے جنگلوں کا رستہ ہے

عرفان صدیقی

بہت دنوں سے کچھ اپنا پتہ نہیں ملتا

کبھی تو چہرہ کبھی آئینہ نہیں ملتا

یہ سچ تو ہے ترے کوچے میں کیا نہیں ملتا

سوال یہ ہے کہ کوچہ ترا نہیں ملتا

رؤف خیر

دن چیختا ہے جنس زدہ چیل کی طرح

پر مارتی ہے رات ابابیل کی طرح

شمیم حنفی

میں نے چاہا تھا کہ پر کاٹ دوں جن لمحوں کے

اڑگئے وقت کی مٹھی سے کبوتر کی طرح

آسماں دل کا پڑا ہے کب سے خالی

زخمی یادوں کے کبوتر ہی اڑاؤں

مخمور سعیدی

نشیمن پر نشیمن  اس طرح تعمیر کرتا جا

کہ گرتے گرتے بجلی آپ خود بیزار ہوجائے

سعید شہیدی حیدر آبادی

مصلی رکھتے ہیں صہبا و جام رکھتے ہیں

فقیر سب کے لئے انتظام رکھتے ہیں

والی آسی

ایک نقّاد نے پھر مجھ پر کرم فرمایا

پارۂ ابر سمندر پہ برسنے آیا

صہبا اختر

مجھے قبول ہے اجزائے منتشر ہونا

صلیب وقت پہ لٹکا ہوں ایک مدت  سے

 حباب ہاشمی

یہ لفظ ترے جسم کی خوشبو میں ڈھلا ہے

یہ طرز یہ اندازِ سخن ہم سے چلا ہے

جانثار اختر

ہم صوفیوں کا دونوں طرف سے زیاں ہوا

عرفانِ ذات بھی نہ ہُوا،رات بھی گئی

کچھ نہیں بولا تو اندر سے مر جائیگا

اور اگر بولا تو پھر باہر سے مارا جائیگا

 یا تو جو نافہم ہیں وہ بولتے ہیں ان دنوں

یا جنہیں خاموش رہنے کی سزا معلوم ہے

تنہائی  کا اک اور مزہ لوِٹ رہا ہوں

مہمان مرے گھر میں بہت آئے ہوئے ہیں

شجاع خاور

اب لوٹتےہیں معاصرین شعراکے کلام کی طرف دو روشن مستقبل مثالیں :

میں اپنے باپ کی نظروں سے خود کو تکتا رہتا ہوں

مجھے بابا کی نظریں جب کبھی یاد آنے لگتی ہیں

کتنے کاندھے تلاش کرتا ہے

ایک آنسو رکا ہوا مجھ میں

اس جگہ سانپ کا بسیرا ہے

یہ ہرا پیڑ کاٹنا ہے مجھے

تشکیک سے دیکھا کبھی تحقیق سے دیکھا

جو لفظ چنا ہم نے اسے ٹھیک سے دیکھا

صف _ یقین سے آگے تھی روشنی کی لکیر

وہیں گمان جو رکھتے، دماغ کیا کرتے

عاکف محمود

یہ جو مشکیزے بھر رہے ہیں ہم

ہاں میاں کوچ کر رہے ہیں ہم

مجھے تو خاک کی خوشبو نے کر لیا ہے اسیر

تُو کس امید پہ بیٹھا ہوا ہے میرے پاس

تجھے کہا تھا زمانے کے کسی فقیر سے مل

تو پھر بھٹکتا ہوا آگیا ہے میرے پاس

فلک کی سیر میں کیا کیا نہیں دکھائی دیا

مگر ہمیں وہ ستارہ نہیں دکھائی دیا

گئے تھے ہم بھی تماشا گہ _تمنا میں

سو کچھ بھی حسبِ تمنا نہیں دکھائی دیا

برے وقتوں میں کام آئے گی میرے

تری قربت  ذخیرہ کر  رہا ہوں

عبید اللہ نزاکت

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

عنایت اللہ ۔۔ ایک دور

17 نومبر 1999 یوم وفات عنایت اللہ المعروف التمش ایک شخص جو اسلام اور پاکستان …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے