سر ورق / افسانہ / چڑیاں ۔۔ الیاس گوندل

چڑیاں ۔۔ الیاس گوندل

چڑیاں ۔۔

افسانہ نگار ۔ الیاس گوندل ۔ (گوجرانولہ ، پاکستان )

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

گھر سے چند فرلانگ کی دوری پرسڑک کے کنارے وہ ایک بڑی سی زیرِ تعمیر عمارت تھی۔ شہری آبادی سے ایک مناسب فاصلے پر یہ شاپنگ پلازہ بنانے والے مالک کا خیال تھا کہ لوگ اب گنجان آباد علاقوں میں ضروریاتِ زندگی کی خریداری کے لیئے جانے سے کتراتے ہیں۔ لہذا یہ علاقہ اس قسم کے خریداری مرکز کے لیئے انتہائی مناسب رہے گا. وہ شروع دن سے ہی اس عمارت کے بنانے والے مزدور عملہ میں شامل ہو گیا تھا۔ اپنی کم گو طبیعت اور کام میں ایمانداری کی وجہ سے وہ مالک اور ٹھیکیدار کی نظروں میں اپنا وقار قائم کرنے میں کامیاب رہا تھا۔ پہلے اسے کام کے سلسلے میں گھر سے دور جانا پڑتا تھا۔ اب اسے کچھ دیر کے لیئے ہی سہی، بہت سہولت تھی۔ وہ وقت سے کام پر پہنچ جایا کرتا تھا۔ اگر کبھی ٹھیکیدار ہنگامی حالات میں اضافی وقت میں اس سے کام کروانا چاہتا تو بخوشی دوبارہ گھر سے آ کر بھی کام پر لگ جایا کرتا تھا۔

اسی عمارت کی تیسری منزل تھی۔ شام ہونے کو تھی اور وہ کام میں جُتا ہوا تھا۔ قدرے اندھیرے میں ڈوبی ہوئی سیڑھیاں

چڑھتے ہوئے اچانک پاؤں پھسلا، وہ ہوا میں قلابازیاں کھاتا نیچے گرتا چلا گیا اور گرتے ہی بیہوش ہو گیا۔۔

لوگوں کے رونے کی آوازیں اس کے کانوں میں پڑیں تو وہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ آہستہ آہستہ چلتا ہوا مختصرسے ہجوم کی طرف بڑھا۔ ایک طرف سے لوگوں کو ہٹا کر ہجوم کے اندر جھانکا تو ایک عجیب منظردیکھا۔ اس کے اپنے بیوی بچوں کی کُرلاٹ سے ایک کہرام بپا تھا۔ اور زمین پر اس کی اپنی لاش ایک چادر سے ڈھکی پڑی تھی۔ زندہ ہوتا تو بیوی اور بچوں کو یوں روتا بلکتا دیکھ کر اس کا کلیجہ کٹ جاتا۔ روتے ہوئے لوگوں اور خاص طور پر بچوں کو دیکھ کر وہ بہت بےچین ہو جایا کرتا تھا۔ کئی بار بیوی سے صرف اس بات پر جھگڑا ہو جاتا کہ بچہ رو کیوں رہا ہے؟

اب ایسا نہیں لگ رہا تھا۔ وہ تو ہر قسم کے احساسات سے جیسے یکسر خالی ہو چُکا تھا۔ اس عجیب کیفیت کو وہ کوئی نام نہیں دے پا رہا تھا۔ ایک لمحے کے لیئے اسے محسوس ہوا کہ وہ بھی ایک تماشائی ہے اور یہ بستی اس کے لیئے اجنبی جگہ ہے۔ ایک شعوری کوشش کے تحت اس نے اپنی بیوی کو دلاسا دینے کے لیئے کہا کہ چُپ ہو جاؤ، قسمت کو یہی منظور تھا۔ بچوں کو سنبھالو اور ان کو گھر لے جاؤ۔ لیکن وہ حیران ہوا کہ وہ لوگ اس کی آواز سُن پا رہے تھے اور نا ہی اسے محسوس کر رہے تھے۔

ایک غیر مرئی شفاف پردہ زمین تا آسمان اس کے اور دنیا کے درمیان حائل تھا جس کے پار وہ دیکھ تو سکتا تھا لیکن کسی کو پکار نہیں سکتا تھا۔

پھر دن چڑھ آیا اور اب اس نے خود کو آبادی کے خارجی راستے پر کھڑا پایا۔ محلے کا ایک خاندان گروہ کی شکل میں گلی سے نمودار ہو رہا تھا۔ اس خاندان کا جواں سال بیٹا ان دیکھےآسمانوں کی تلاش میں گھر سے رخصت ہو رہا تھا۔ وہ ان کے چہروں سے درست اندازہ نہیں کر پا رہا تھا کہ وہ لوگ اس عارضی کامیابی سے خوش ہیں یا متوقع نقصان پر غمگین ہیں۔ وہ لڑکے کے باپ سے کہنا چاہتا تھا کہ جس دست و بازو کی تمنا کر کے حاصل کیا اسے کاٹ کر خود سے الگ کیوں کر رہا ہے؟ لیکن کہہ نا پایا۔ وہ اس لڑکے کو روکنا چاہتا تھا کہ اپنے آسمان بھی بہت وسیع ہیں،لیکن اسے روک نا پایا۔

ایک طویل اور تھکا دینے والے دن کی مسافت کے بعد اب سورج مغرب میں ہانپ رہا تھا، شام ہوئی اور پھر رات کا اندھیرا پھیل گیا۔ آبادی میں داخل ہونے والی بڑی گلی کی اختتامی نُکڑ پر ایک ننھا سا بجلی کا بلب رات کے اندھیرے کو دُور کرنے کی سعی میں مگن تھا۔ وہ اسی ننھے سے بلب کی سمت چل پڑا۔ اس جگہ سے ایک راستہ آگے کو نکلتا تھا اور دائیں بائیں بھی دو گلیاں مُڑتی تھیں، جس کی وجہ سے یہ ایک چھوٹا سا چوراہا بن گیا تھا۔ چوراہے میں ایک دُکان تھی جس کے باہر لکڑی کا بنا ایک پھٹہ پڑا رہتا تھا۔ جاڑا ہو یا گرمی، مینہ ہو یا آندھی، یہ پھٹہ ہمیشہ یہیں رہتا تھا جس پر دن کے وقت دُکاندار سبزیاں اور پھل رکھتا تھا۔ شام کو بچی کُچھی سبزیاں اور گلے سڑے پھل دُکان کے اندر رکھ کر اور تالا لگا کر گھر چلا جاتا تھا۔ اس کے بعد صبح تک پھٹہ مختلف قبیل کے لوگوں کے استعمال میں رہتا تھا۔ کبھی کوئی نشئی اس پر براجمان ہوتا تو کبھی محلے کے چند منچلےجو گھر سے آوارہ گردی کے شوق میں نکلتے اس پر ڈیرے ڈال دیتے۔ کبھی چوکیدار ذرا دیر سستانے کے لیئے اور رات کٹنے کے انتظار میں اس کا سہارا لیتا۔ سردیوں کی طویل راتوں میں یہ پھٹہ اکثر سُنسان رہتا۔ دور سے آج بھی یہ جگہ خالی لگ رہی تھی۔ وہ قریب پہنچا تو ایک دس گیارہ سال کا بچہ گُھٹنوں میں سر دئیے پھٹے کے ایک کونے پر دُبکا ہوا تھا۔ وہ اسے پہچاننے کی کوشش کر رہا تھا کہ دائیں ہاتھ والی گلی سے نُورا ظاہر ہوا۔ وہ بچے کو دیکھ کر ٹھٹھکا اور اس سے پوچھا۔۔۔

کون ہو؟

فلاں کا بیٹا ہوں۔

یہاں اس وقت کیا کر رہے ہو؟

دو دن ہوئے ماں نے گھر سے نکال دیا ہے۔

کیوں؟

وہ کہتی ہے میں کام پر جاؤں۔ ایک دن چھوڑ آئی تھی، استاد مارتا بھی ہے اور گالیاں بھی دیتا ہے۔ میں گھر آیا، ماں کو بتایا اور کہا کہ اب کام پر نہیں جاؤں گا، تو اس نے کہا گھر سے نکل جا، باپ تو تیرا مر گیا، اب کمائے گا نہیں تو تُم ساتوں کو کھلاؤں گی کہاں سے؟

گھر نہیں گئے؟

گیا تھا، ماں نے دروازہ نہیں کھولا۔

کل رات کہاں سوئے تھے؟

یہیں گلیوں میں پھرتا رہا اور پھر اس پھٹے پر۔

کھانا کھایا؟

نہیں۔

چلو آؤ، میرے ساتھ ڈیرے پر سو جانا، کھانا بھی ملے گا۔

وہ نورے کو جانتا تھا اور نہیں چاہتا تھا کہ بچہ اس کے ساتھ چلا جائے۔ نورے نے دوسری بار بچے کو پچکارا تو وہ نورے اور بچے کے درمیان جا کر کھڑا ہو گیا۔ بچہ اٹھا اور نورے کے ساتھ چل دیا۔ دونوں اس کے غیر مرئی جسم کے اندر سے گُزر گئے اور وہ پیچھے سے انہیں بس دور ہوتا دیکھتا رہ گیا۔۔۔

دنوں وہ یونہی بے مقصد کئی جانی پہچانی اور کئی انجانی جگہوں پر گھومتا رہا۔ زمان و مکان جیسے اس کی سوچ کے تابع ہو چُکے تھے۔ اِدھر کسی جگہ کا خیال کیا، اُدھر اس جگہ وارد ہوا۔۔۔۔۔ وہ کچھ تلاش کر رہا تھا شائد، مگر اسے خود سمجھ نہی آ رہی تھی کہ وہ کیا ڈھونڈھ رہا ہے۔

شب و روز گزرنے کا ایک ہلکا سا احساس تھا بس اور ایک دن وہ اپنے گھر پہنچ گیا۔ بیوی کے چہرے پر نظر پڑی تو صاف دکھائی دے رہا تھا کہ اس تلخ حقیقت کو ضبط نہیں کر پا رہی لیکن بچوں کی خاطر بہادر بنی ہوئی ہے۔

دونوں لڑکےاپنے پرانے ٹوٹے ہوئے کھلونوں میں مشغول تھے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اچانک اسے خیال آیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری بچی، وہی پیاری بچی جو اس نے بڑی منتوں اور مرادوں سے اللہ سے مانگ کر لی تھی۔

جب بھی وہ بچی کی آرزو کرتا تو ماں کہتی تھی

‘‘پُتر کُڑیوں کے بوجھ سے ڈر آتا ہے‘‘۔۔۔

‘‘کیوں بےبے کُڑیاں کیا راتوں کو اٹھ اٹھ کر کھاتی ہیں؟‘‘

‘‘نہیں پُتر رزق دینے والی اللہ کی ذات ہے، ان کے کرموں سے خوف آتا ہے، زمانہ بڑا ڈھاڈا ہے۔‘‘

وہ ماں سے کہتا کہ میں ہوں نا بےبے۔ اپنی بچی کو اس قابل کروں گا کہ کوئی اسے بوجھ نہیں سمجھے گا۔

ماں کہتی تھی پُتر چِڑیاں نہیں دیکھیں؟ آشیانے سے باہر نکلتی ہیں تو آسمانوں میں سبھی پرندے ان سے زورآور ہوتے ہیں۔

وہ جواباً کہتا ‘‘بےبے تیری بات ٹھیک ہے لیکن چڑیاں اس کی رحمت ہیں جو سب زور آوروں سے زور آور ہے۔

پھر اس کی طلب یقین میں بدل گئی اورایک چڑیا اس کے آنگن میں چہچہانے لگی۔

وہ انتھک محنت کرتا، اپنے خواب پورے کرنے کے لیئے کبھی دن یا رات کا لحاظ نہیں رکھا۔ جس دن وہ مرا تھا اس دن بھی ٹھیکیدار کے کہنے پر اضافی وقت میں کام پر لگ گیا کہ چلو چار پیسے ہاتھ آ جائیں گے۔ لیکن کسی کو کیا پتا تھا کہ پیسے ہاتھ آنے کی بجائے وہ خود ان کے ہاتھوں سے نکل جائے گا۔ خوابوں کی تعبیر لانے کے لیئے ایک اور چھوٹا سا سفر اس کا آخری سفر ثابت ہوگا۔۔۔۔

وہ اپنی بیٹی کو بہت چاہتا تھا۔ کام سے گھرلوٹتا تو وہ ٹانگوں سے لپٹ جاتی۔ چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے اپنے باپ کے بڑے بڑے جوتے اٹھا کر اس کے پاؤں کے پاس رکھتی۔ رات کو اس کے سینے پہ چڑھ کر سوتی۔ اس وقت وہ دُنیا کے سبھی غم بُھول جاتا اور دن بھر کی تھکاوٹ لمحوں کے اندر راحت میں بدل جاتی۔ ابھی صرف ساڑھے تین سال کی تھی۔

خُدایا! یہ کیا ہو گیا؟

بیتے پل ایک کوندے کی طرح اس کے ذہن کے پردے پر ابھرے اور پھر دُھندلانے لگے۔

اب وہ اپنی بچی کی تلاش میں نکلا۔ چھوٹے سے گھر میں جگہیں ہی کتنی تھیں، پھر بھی ہر وہ جگہ جہاں پر اس کے موجود ہونے کا امکان تھا، دیکھ ڈالی۔۔۔۔۔ وہ اپنے دھیان میں منہمک اچانک اسی عمارت کے سامنے آن کھڑا ہوا۔

وہ اسی جگہ کھڑی تھی جہاں وہ گرا تھا۔ سپاٹ چہرہ لیئے، دونوں ہاتھوں کی بند مٹھیاں اپنے سینے پہ رکھے، نرم مٹی میں بنے اس چھوٹے سے گڑھے کو دیکھے جا رہی تھی جو اس کے باپ کے گرنے کی وجہ سے کچی زمین میں بنا تھا۔ ایک اضطراری اور فوری ردِعمل کے تحت اس نے اپنا ہاتھ بڑھایا، بچی کے سر پر رکھا اور پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔۔۔۔ بچی نے مُڑ کر دیکھا اور اس کی ٹانگوں کے ساتھ لپٹ گئی۔

اس کے کانوں میں آواز پہنچی ‘‘اٹھو بابا! کیا ہوا؟‘‘آنکھ کُھلی تو اس کا چہرہ اور تکیہ آنسوؤں سے تر تھا

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

بانو زلیخا ۔۔طلحہ کھرل

                              …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے