سر ورق / کہانی / سٹی گم نوشاد عادل دوسرا حصۃ

سٹی گم نوشاد عادل دوسرا حصۃ

سٹی گم

                                                                                نوشاد عادل

دوسرا حصۃ

                ”ابے…. ابے…. یہ کہاں آگئے ہم….یونہی ساتھ ساتھ چلتے۔“ چاچا کی آواز ویرانے میں چڑیل کی چیخ کی طرح گونجی۔

                ”پتا نہیں ….یہ سب اس جمال گھوٹے کی وجہ سے ہوا ہے۔“ خالو خلیفہ نے جمال گھوٹے کو کڑی نظروں سے گھورا۔

                اس نے اپنی صفائی میں جھاڑو جیسا بہانہ پیش کیا۔” میری وجہ سے نہیں، بلکہ کولمبس کی وجہ سے ہوا ہے…. میں تو اسے روک رہا تھا ،مگر یہ بھاگتا ہی جارہاتھا۔“

                ”او چھوڑ بھئی دفع کرو…. لعنت بھیجو…. اب یہ سوچو کہ کیا کریں؟ “چودھری صاحب نے اپنا دس کلو کا پگڑ ٹھیک سے جماتے ہوئے کہا،جس کے وزن کی وجہ سے اُن کی گردن اندر دھنسی دھنسی لگ رہی تھی۔اب وہ تقریباً بڑے سے مینڈک لگ رہے تھے۔

                ”اب اس جگہ آہی گئے ہیں تو میرا خیال ہے، ٹائم ضائع نہیں کرناچاہےے۔ ہم ادھر ہی پکنک منالیتے ہیں۔“ انگریز انکل نے رائے دی۔

                اونٹ گاڑی والے نے اپنا اونٹ اور جمال گھوٹے نے اپنا کولمبس کھول دیا تھا ،تاکہ وہ دونوں بھی اِدھر اُدھر منہ مار کر اپنے پیٹ بھرلیں۔ چاچا چراندی نے للو‘ پنجو اور سخن کی مدد سے پلاﺅ کی دیگ اُتروائی تھی۔ معززین چادریں بچھاکر آلتی پالتی مارے بےٹھے ہوئے تھے،جیسے کسی کے چالیسویں میں آئے ہیں ۔ خوارین کھانے کے انتظامات میں لگے ہوئے تھے۔ پلیٹیں نکال کر سب ندیدوں کے آگے رکھ دی گئیں۔ گلابی بھی مٹکا گود میں لےے ایک کونے پر بےٹھ گیا تھا۔

                چاچا چراندی اَنٹی میں سے چابی نکالنے کی کوشش کررہے تھے۔ اُن کے چہرے پر جھنجلاہٹ کے آثار نمایاں ہوگئے تھے۔ وہ چابی کو گالیاں بک رہے تھے۔

                ”کیا ہوگیا چاچا…. جلدی سے دیگ کا ڈھکن کھولو …. بھوک کے مارے پیٹ میں چوہوں کا ملا کھڑا ہورہا ہے۔ “سب سے زیادہ بے تاب سخن تھا۔

                ”صبر کی پونچھ پکڑ…. قبر کے کیکڑے…. اور لوگ بھی تو بیٹھے ہیںخاموشی سے…. ایک صرف تجھے ہی موت آرہی ہے فالتو فنڈ میں…. دیکھ نہیں رہا….چابی ڈھونڈ رہا ہوں ….ایک تو یہ پتا نہیں کہاں دفعان ہو گئی۔“ چاچا اپنی پاجامہ کی تلاشی لینے کے چکر میں کلاسیکل رقص کررہے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ چاچا کے کپڑوں میں ہزاروں لال بیگ گھس گئے ہیں۔

                ”ابے …. وہ …. وہ دیکھو…. اونٹ کے منہ میںکیا ہے؟“ دفعتاً مجو قصائی چلایا۔

                 سب کی نظریںایک ساتھ اونٹ پر جاچپکیں۔ وہ کسی پودے کے پتے کھارہا تھا۔ ایک پودے میں چابی کی سرخ ڈوری پھنسی ہوئی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے اونٹ نے چابی نگل لی۔ یہ منظر دیکھ کر سب کے ہوش اُڑگئے اور وہ چیخ کر اونٹ کی جانب لپکے۔

                ”ابے اب کیا کررہا ہے اونٹ کے بچے….چابی کھا گیا …. ابے نکال چابی…. نکال….“شرفو صاحب کی حالت دیکھنے اور پھرافسوس کرنے کے قابل ہوگئی تھی۔

                اونٹ نے جو اتنے بہت سے لوگوں کو اپنی جانب آتے دیکھا تو وہ گھبراکر ایک طرف بھاگ نکلا۔

                ”الے…. رُتو…. مدے تہاں تھورتے دا لہے او؟“ (ارے رکو…. مجھے کہاں چھوڑ کے جارہے ہو) گلابی مٹکا سمیت اُن کے پیچھے احتیاط سے بھاگا، مگر اس کی رفتار بہت دھیمی تھی۔

                چاچا چراندی کے راستے میں کولمبس آگیا۔ چاچا نے کولمبس کو پکڑا اورعمرو عیار کی طرح اُچک کر اس پر بےٹھ گئے۔ اونٹ کی رفتار بہت زیادہ تھی۔ یہ سب لوگ گرتے پڑتے ،چیختے چلاتے اس کی تعاقب میں چلے آرہے تھے۔

                 پہاڑوں میں سنسنی خیز ایڈونچر شروع ہوگیا۔

                ایک عجیب وغریب اور مضحکہ خیز صورتِ حال پیدا ہوگئی تھی۔ وہ لوگ پکنک کے مزے بھی نہ لے سکے تھے ،حتیٰ کہ کھانا کھانے سے بھی محروم ہورہے تھے۔ سب سے زیادہ فائدے میں چاچا چراندی ہورہے، جو کولمبس پر بےٹھے ہوئے تھے۔بے چارے باقی افراد گرتے پڑتے بھاگ رہے تھے او رسب سے نقصان اور مصیبت میں کولمبس تھا ،کیوں کہ چاچا چراندی جیسے عظمت کے مینار اس پر سوار تھے۔ کولمبس کو اس بات کا تجربہ بھی ہوگیا کہ گناہ کبیرہ کا بوجھ کیسا ہوتا ہے۔ چاچا کولمبس کے پیٹ میں لاتیں مار کر اسے مزید تیز بھاگنے کا کہہ رہے تھے ۔ اونٹ اتنی تیز بھاگا تھا کہ اب وہ ان لوگوں کو دکھائی نہےں دے رہا تھا۔

                اچانک کولمبس نے بریک لگادیئے۔ چاچا اس بریک کے لئے تیار نہیں تھے، لہٰذا وہ جھٹکا لگنے کی وجہ سے کولمبس کے اوپر سے کوے کی طرح پروازکرتے ہوئے آگے جاگرے۔ ان کے حلق سے زور دار چیخ نکلی۔ باقی افراد جب چاچا کے پاس پہنچے تو وہ زمین پر پڑے کراہ رہے تھے۔اُن کی کمر پر خاصی چوٹ آئی تھی۔

                ”کیا ہوا چاچا…. یہاں کیوں لیٹے ہو؟ “سخن نے چاچا کے نزدیک پہنچ کر پوچھا۔

                ”ایسے ہی بس….ٹی وی دیکھ رہا ہوں۔“چاچا کی بدروح بری طرح جھلس اُٹھی ۔ ”ابے بندر کے بیٹے ….میں لیٹا نہیں ہوں …. گرا پڑا ہوں۔“ چاچا نے اُٹھنے کی کوشش کی۔ ”اس خبیث کے بچے کولمبس نے گرادیا تھا۔“

                ”وہ تو ہمیں پتا ہے تم گرے پڑے انسان ہو۔“ سخن نے نوک والا جملہ چبھو دیا،مگر چاچا نے ٹھیک سے سنا نہیں،ورنہ ابھی سخن کی مغفرت کا ذکر چل رہا ہوتا۔

                کولمبس تھوڑی دور کوئی مزے دار اور لذیذ پودا چبارہا تھا۔ اس نے اسی پودے کو دیکھ کر بریک لگائے تھے۔ جمال گھوٹے نے بڑھ کر اسے قابو کیا۔

                ابھی وہ لوگ باتیں ہی کررہے تھے کہ اچانک کسی کے رونے کی آواز سنائی دی۔ سب لوگوں نے بوکھلا کر رونے والے کو دیکھا ۔بابو باﺅلا اکڑوں بےٹھا سر پکڑے رو رہا تھا۔ اس کی شکل روتے ہوئے اتنی مکروہ لگ رہی تھی کہ اُن سب کے دل متلانے لگے ۔ ایسے میں خالو خلیفہ کا دل بھر آیا۔ انہیں اس پر رحم آگیا تھا ۔ دل میں سوچا۔ ابھی بابو باﺅلے کی عمر ہی کیا ہے۔بچہ تو تھا…. گھبرا گیا ہوگاپگلا….بہت نادان ہے۔ خالو آگے بڑھے اور جھک کر بابو باﺅلے کے کندھے پر شفقت سے دونوں ہاتھ رکھ دیئے۔

                 بابو باﺅلے نے منہ پھاڑ کر روتے ہوئے خالو کو دیکھا۔ اسے یقین تھا کہ کوئی نہ کوئی اس کا دکھ بانٹنے ضرور آئے گا۔ خالو نے ایک جھٹکے سے بابو باﺅلے کا رخ بدل دیا۔ اب وہ پہاڑوں کی طرف منہ کرکے بیٹھا رورہاتھا۔

                ”رونے کو منع نہیں ہے ….“ خالو نے لوگوں کو اپنی اس حرکت کی وجہ بتائی۔ ”مگر انسان روئے تو ڈھنگ سے …. کچھ نہیں تو کم از کم اپنا منہ ہی چھپا کررولے…. دل بھی خراب کررہا ہے کم بخت۔ ایسا لگ رہا ہے کہ ہم لوگ پکنک منانے کے بجائے کوئی تازہ مردہ دفنانے آئے ہیں۔“

                بابو باﺅلا اور زور سے رونے لگا۔

                ”ابے کیا ہوا…. کیوں پیر چوڑے کرکے رورہا ہے؟“

یامین نے ہمدردانہ لہجے میں پوچھا۔

                ”میں گھر جاﺅں گا…. گھر کی یاد آرہی ہے….اُوں اُوں اُوں۔“ باﺅلے نے اپنا رخ دوبارہ ان لوگوں کی طرف کرلیا۔ بے چارے کی شکل قابل پھٹکار ہورہی تھی۔

                ”ابے کیا پاگل ہوگیا ہے….تیرا گھر کیا اس پہاڑی کے پیچھے ہے۔“ یامین نے اسے ڈانٹا۔

                ”نہیں میں گھر جاﺅں گا۔“ بابو نے ذبح کےے ہوئے مویشی کی طرح زمین پر ایڑیاں رگڑنا شروع کردیں۔

                ”ابے اوئے …. اب یہ گدھا شور مچائے تو اس کواصلی گدھے پر اُلٹا بٹھادینا …. زیادہ ہی نخرے کررہا ہے فالتو فنڈ میں۔“ چاچا غصے سے بولے۔

                ”یہ تو پرانی بات ہوگئی۔“ سخن آگے آیا۔” نئی بات تو یہ ہوگی کہ گدھے کو بابو پر بٹھا دینا۔“

                ”نہیں….“ بابو زور سے چیخا اور اگلے ہی لمحے وہ بھاگ نکلا ۔ سب دیکھتے کے دیکھتے رہ گئے اور بابو پاکستانی فلموں میں دکھائے جانے والے فارورڈ سین کی طرح گرتا پڑتا بھاگتا ہوا نظروں سے اوجھل ہوگیا۔

                ”اومٹی پاﺅ اس کھوتیا تے….“چودھری بشیر بڑی دیر بعد بولے تھے۔” اب یہ سوچو کہ ہم لوگ کیا کریں…. اونٹ گاڑی اور دیگ تو بہت دور رہ گئی اور چابی اونٹ کھاکر بھاگ گیا…. لگتا ہے اوئے …. اب ہم سب کو گھاس پھونس کھانی پڑے گی۔“

                ”ہمیں اپنا سفر جاری رکھنا چاہےے…. اونٹ آخر کہاں تک بھاگے گا۔ کہیں نہ کہیں تو تھک کر رُکے گا ہی …. تب ہم اسے پکڑلیں گے۔“ انگریز انکل نے سنجیدگی سے کہا۔

                ”مگر انکل …. وہ تو چابی نگل چکا ہے۔“ دنبے نے تشویش زدہ انداز میں کہا۔

                ”احمق انسان …. پہلے تو ہمیں اونٹ پر قابو پانا پڑے گا ۔ پھر اسے زیادہ سے زیادہ ذود ہضم سبزہ چروانا پڑے گا ….چاہے زبردستی ہی کرنا پڑے…. پھر اونٹ خودبخودچابی دے دے گا۔ اوئے …. ابے یہ گلابی کہاں رہ گیا؟“

                سب لوگوں نے گھوم گھوم کر چاروں طرف دیکھا۔ تب یہ انکشاف ہواکہ وہاں گلابی نہیں ہے۔

                ”شاید وہ دیگ کی حفاظت کے لئے رک گیا ہوگا۔ بہت عقل مند ہے گلابی …. کالا اور توتلا ہے تو کیا ہوا۔“ شرفو صاحب نے فخریہ انداز میں گلابی کی تعریف کی، کیوں کہ گلابی اُن کا ملازم تھا۔

                ”چلو ساتھیو…. اونٹ کو تلاش کرنے چلو۔“اچانک استاد دلارے جوش میں اُٹھے اور نعرہ لگاکر اپنے تمام ساتھیوں کو حوصلہ دیا۔

                                                ٭٭٭

                اونٹ کو تلاش کرتے کرتے ان لوگوں کو پورا دن ہوگیا۔ بھوک پیاس کے مارے انہیں ہر شخص دو دو نظر آرہے تھے۔ پانی کا مٹکا تو گلابی کی تحویل میں ہی رہ گیا تھا،جب کہ پلاﺅ کی دیگ اونٹ گاڑی پر ہی رکھی ہوئی تھی ۔ اگر وہ ان کے پاس ہوتی بھی تو وہ دیگ کے ڈھکن پر سے پلاﺅ کی خوشبو سونگھ ہی سکتے تھے۔

                ”چاچا….اس ویرانے میں تو کتے بھی ہوں گے۔ “سخن چاچا کے ساتھ چلتے ہوئے کہہ رہا تھا۔”پھروہ تو ہمیں بھنبھوڑ ڈالیں گے۔“

                ”اگر یہاں کتے ہیں تو کیا ہوا….ہمارے پاس تُو جو ہے فالتو فنڈ میں۔“چاچا نے اسے تسلی دی۔

                ”اس سے تو اچھا تھا کہ ہم واپس ہی چلے جاتے ۔“ شرفو صاحب تھکے تھکے انداز میں چلتے ہوئے خالو خلیفہ اور انگریز انکل سے بولے۔

                ”اور پکنک….؟ “خالو خلیفہ نے انہیں گھورا۔

                ”پکنک گئی بھاڑ میں …. یہ کوئی پکنک ہے…. بھوکے پیاسے ویرانے میں اونٹ کو ڈھونڈ رہے ہیں۔“ شرفو صاحب جھنجلائے۔

                ”آپ ہی کی خواہش تھی پکنک پر جانے کی ….“مجو قصائی نے جو قریب ہی چل رہا تھا، بڑے ادب سے کہا۔

                ”ابے…. وہ جو خواب میں بزرگ آئے تھے ،جن کے مشورے پر میں نے پکنک کا پروگرام بنایا تھا۔ ایمان سے اگر وہ بزرگ مل جائیں تو پھر دیکھنا…. اُن کی کیسی مٹی پید کرتا ہوں…. کیچڑ میں لٹا کر نکسیر پھوڑ دوں گا۔۔ “شرفو صاحب اس حد تک بے زار آگئے تھے۔

                ”ارے …. اوئے…. وہ…. وہ…. دیکھو۔“ اچانک للو کی چیختی ہوئی آواز وہاں گونجی ۔ا س آواز پر ان لوگوں نے سامنے دیکھا تو خوشی کے مارے وہ جوش میں بھرگئے۔

                سامنے کافی فاصلے پر ایک بہت بڑا میدانی علاقہ تھا۔ وہاں چھوٹے بڑے پہاڑی ٹیلے تھے۔ خود رو پودے اور درخت بھی اُگے ہوئے تھے۔ وہاں انہیں بہت سے بڑے بڑے خیمے دکھائی دے رہے تھے۔ کئی جگہ آگ روشن تھی اور بہت سے اونٹوں کے ہیولے نظر آرہے تھے۔

                ”چاچا….میرے اچھے چاچا ….“ سخن خوشی سے بے قابو ہوگیا اور چاچا کا ہاتھ چوم لیا۔

                ”چھی چھی چھی چھی…. کردیا میرا ہاتھ گندا…. سارا تھوک لگادیا….ابے ے ے ے ے کب سدھرے گا تو…. اتنا بڑا گدھا ہوگیا ہے، مگر حرکتیں وہی چماروں والی کرے گا۔“چاچا نے متاثرہ ہاتھ انگریز انکل کے چڈے سے صاف کرلیا۔

                ”آئے ہائے….“یامین ‘انگریز انکل کا مذاق اڑانے لگا۔ ”انکل …. اب یہ چڈا کسی کام کا نہیں رہا…. جلد کوئی فیصلہ کرو انکل …. ورنہ جراثیم سارے کپڑوں میں پھیل جائیں گے۔“

                ”بکواس ہی کرتے رہوگے کہ چلو گے بھی آگے ….“ شرفو صاحب کی آنکھیں چوڑی ہوگئی تھیں۔ ”وہ کدھر ہے اونٹ والا؟“

                ”میں یہ رہا جی….“ سہما ہوا اونٹ والا آگے آیا۔

                ”تو اپنا اونٹ پہچان لے گانا؟ “شرفو صاحب نے محبت اور شفقت سے اس کی گدی پکڑی۔

                ”ہاں جی پہچان لوں گا…. چارٹانگیں ہیں اس کی ۔ “

                ”اچھا تو تیرے اونٹ کی چار ٹانگیں ہیں اور باقی اونٹ کیا ایک ٹانگ کے ہوتے ہیں؟“ شرفو صاحب پہلے ہی زندگی سے بیزار تھے، انہوں نے لنگڑی دے کر اسے زمین پر گرایا اور اس کا گلا گھونٹنے لگے۔

                بڑی مشکل سے چودھری صاحب نے شرفو صاحب کی ٹانگیں زور سے کھینچیں تو غریب اونٹ والے کی جان چھوٹی۔

                ”ہمیں بیکار کی حرکتوں میں ٹائم ضائع نہیں کرنا چاہےے۔ پتا نہیں یہ کون لوگ ہیں….چل کے اُن کو اپنی پریشانی کے بارے میں بتائیں گے…. ہوسکتا ہے کہ وہ ترس کھاکر ہمیں قورمہ، بریانی اور شیر مال دے دیں۔“ دنبے نائی پر رِقت اور ندیدگی کی ملی جلی کیفیت طاری ہو گئی تھی ۔اسے آسمان پر قورمہ، بریانی اور شیر مال ناچتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔

                ’مجھے تو بس ایک ہی فکر کھائے جارہی ہے۔ “دفعتاً استاد دلارے کی فکر انگیز اور پرتجسس آواز نے سب کو چونکا دیا۔

                ”کیا…. کیا….؟ “یہ سخن تھا۔

                ”اونٹ تو جانور ہے ‘ کہیں اس بھوتنی والے نے چابی اِدھر اُدھر ضائع نہ کردی ہو۔“ استاد کا خدشہ غور طلب تھا۔

                اتنے میں معززین خےموں کی طرف چل پڑے تھے۔ خوارین کو اُن کا ساتھ دینا پڑا۔ جمال گھوٹا اپنے گدھے کولمبس کو ساتھ لئے آرہا تھا۔ کولمبس کی آنکھوں پر اب تک چشمہ لگا ہوا تھا۔ آخر وہ لوگ خیموں کے پاس پہنچ گئے۔ وہاں سناٹا چھایا ہوا تھا ۔ لگتا تھا کہ خیمے والے سورہے ہیں۔ شرفو صاحب نے ہاتھ کے اشارے سے سب کو رکنے کا کہا۔

                ”کیا ہوا….آگے کیچڑ ہے کیا؟“ چودھری صاحب آنکھیں پھاڑنے لگے۔

                ”کیوں نا ہم لوگ اپنا اونٹ تلاش کرکے اسے خاموشی سے لے کر چلیں جائیں یا پھر تلاشی لے کر کھانے کی چیزیں نکال لیں۔“ شرفو صاحب نے تجویز بتائی۔

                ”اونٹ کو تلاش کرلیتے ہیں…. سارے مل کر اس شریر اونٹ کی پٹائی لگائیں گے۔ بڑا تنگ کیا ہے اس نے۔“خالو نے کہا اور پھر اونٹ والے کی گدی پر تھپڑ لگایا۔” تونے کیسا بدتمیز اونٹ پال رکھا ہے …. تمیز نہیں سکھائی اسے….؟“

                ”کیا کررہے ہو خالو؟“سخن گھبرا کر بولا۔” کوئی اُٹھ گیا تو پھر ہماری خیر نہیں ہے…. ہوسکتا ہے یہ آدم خور قبیلے والے ہوں۔“

                ”ابے کیوں ڈرائے دے رہا ہے بھوتنی کے ….“ استاد دلارے کی کپکپاتی ہوئی آواز سنائی دی۔” کبھی کوئی اچھی بات بھی منہ سے نکال لیا کر….“

                ”استاد تم انتقال کب فرماﺅگے؟ “سخن نے فوراً اچھی بات منہ سے نکالی۔

                ”جنگلی پن کے علاوہ بھی کچھ کرلیا کرو…. اب خاموش رہو…. ا ب اگر کوئی منہ سے آواز نکالے گا تو وہ گدھا ہوگا….“ شرفو صاحب بھنائے ہوئے لہجے میں بولے۔

                 سب کو چپ لگ گئی، مگر اسی لمحے کولمبس کے اسپیکر کھل گئے ۔ شاید اس نے شرفو صاحب کی بات سن لی تھی۔ اس کی کریہہ اور مکروہ آواز نے پورے علاقے کو ہلاکر رکھ دیا تھا۔ کولمبس کا چلانا تھا کہ دھڑا دھڑ خیموں کے دروازے کھلے اور لوگ گرتے پڑتے اور گھگھیاتے ہوئے باہر نکل آئے۔ کولمبس کے سوال کے جواب مےں اونٹوں نے جوابات دینا شروع کردیئے۔ ایک مضحکہ خیز قیامت برپا ہوگئی تھی۔ ایک آدمی اتنی بدحواسی میں خیمے سے نکلا تھا جیسے کسی نے سوتے میں اس کے کان کے پاس بم پھوڑا ہو۔ وہ گرتے ہی اُٹھا اور ناک کی سیدھ میں بھاگا۔ اس کے سامنے چودھری بشیر آگئے اور وہ چودھری صاحب کی گود میں جا چڑھا۔

                ”انسان دا پتر بن اوئے ….باندردی اولاد…. اُتر نیچے …. فری کی موجی کھارہا ہے۔ “چودھری صاحب غصے سے بولے، مگر وہ آدمی نیچے نہیں اُترا ۔ وہ منحنی سا دبلا پتلا کمزور سا آدمی تھا۔                                چودھری صاحب نے اسے شرفو صاحب کی گود میں دے دیا ،کیوں کہ اُن کی گود فالتو تھی۔

                 شرفو صاحب اس کا چیک اَپ کرتے ہوئے پوچھنے لگے ۔” واٹ اِز دس….ہو اِز شی؟“

                ”پتا نہیں…. کیا ہے۔ خود ہی چیک کرکے دیکھ لیں …. اِدھر ہی زمین پر سے پایا ہے۔ اگرآپ کے کسی کام آسکے توبے شک رکھ لیں ۔ ‘ ‘ چودھری صاحب بولے۔” شاید ناک پونچھنے کے کام آئے۔“

                ”مم…. میں خانہ بدوشوں کا سردار ہوں۔“ وہ آدمی مچلنے لگا۔

                ”تو سردار ہوہی نہیں سکتا…. تیرا سر تو اتناچھوٹا سا ہے۔“ شرفو صاحب نے اس کی کھوپڑی پر ہاتھ مارا تو خانہ بدوشوں کا سردار سر مسلنے لگا ۔

                ”تمہیں یہ حرکت بہت مہنگی پڑے گی۔ “سردار نے غرا کر کہا۔

                ”کتنی بھی مہنگی پڑے…. میں خرید سکتا ہوں …. تو نے مجھے کنگلا سمجھا ہوا ہے کیا؟“ شرفو صاحب نے سائیڈ کی جیب میں ہاتھ ڈالتے ہوئے بھرم کرائے۔

                ”شرفو صاحب …. بچاﺅ …. بچاﺅ۔“ دفعتاً شرفو صاحب نے اپنے ساتھیوں کی آوازیں سنیں۔ انہوں نے گھبراکر آوازوں کی جانب دیکھا۔ ان کے ساتھیوں کو بہت سے خانہ بدوشوں نے گھیر رکھا تھا او ران سب کو اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے نیزوں کی نوکیں چبھو رہے تھے۔ اس عالم میں چاچا چراندی اُن جنگلیوں کو کھری کھری سنا رہے تھے۔

                ”ابے کیا کررہا ہے فالتو فنڈ میں…. ابے زور سے چبھ رہی ہے خبےث۔ ہٹا یہ نیزا…. نہیں سنے گا تو…. سوچ لے پھر ہاں….پہلے ہی بتا ریا ہوں ۔“

                سخن بھی اُچھل کود کررہا تھا ۔ ”یہاں مت چبھو….یہاں درد ہورہا ہے ….میرے بدلے میں اس اونٹ والے کے چبھو دو۔“

                اُدھر سردار‘ شرفو صاحب کی گود میں اُتر کر کھڑا ہوگیا اور انہیں بڑی حقارت سے گھورنے لگا۔” تم لوگ ہمیں لوٹنے آئے تھے؟“

                ”شکل سے ہم کیا کھوتے نظر آرہے ہیں تجھے ؟“چودھری بشیر تپ گئے۔” ہم اُلو کے پٹھے ہیں، جو شہر چھوڑ کر یہاں ویرانے میں تم جیسے کنگلے لوگوں کو لوٹنے آئیں گے۔“

                ”ہم تو اپنا اونٹ تلاش کررہے ہیں ۔ وہ اِدھر ہی آیا تھا۔“ شرفو صاحب نے آنے کی وجہ بتائی۔

                ”ہاہا ہاہاہا….“سردار نے منہ اوپر کرکے قہقہہ لگایا۔

                ”یہ کیا تھا؟ کلی کررہے ہو؟ “چودھری بشیر نے حیرت سے پوچھا۔

                ”بس اب تم لوگ پھنس گئے۔“ سردار نے ان کی بات کا جواب نہیں دیا۔” تم لوگ نہیں جانتے کہ ہم کون ہیں؟“

                ”آ…. ہاں…. اچھا…. میں پہچان گیا تم لوگوں کو۔“ خالو خلیفہ نے ایک انگلی اپنے چہرے کے آگے ہلائی۔” تم لوگ ہڈیاں اور کچرا چننے والے ہو…. ہے نا بچو؟“

                ”پکڑلو ان سب کو بھی۔“ سردار نے چیخ کر اپنے ساتھیوں سے کہا۔ اس کے ساتھیوں نے معززین کو بھی گھیر لیا۔

                ”کیا تم لوگ آدم خور ہو….؟ “شرفو صاحب کے ہاتھ پیر کانپنے لگے۔

                ”نہیں …. ہم لوگ سبزی خور ہیں …. اب ہم تم سب حرام خوروں کو بیچ دیں گے…. ہاہاہاہاہا۔“ سردار نے پھر قہقہہ لگایا۔

                ”اوئے تمہیں بڑا شوق ہے قہقہہ لگانے کا…. بات بات پر منہ پھاڑ دیتے ہو ‘ کوئی ہنسنے کی بیماری ہے تمہیں؟“ چودھری بشیر نے استفسار کیا۔

                ”لے جاﺅ ان کو…. بند کردو بڑے خیمے میں اور چاروں طرف سخت پہرا لگادو…. لے جاﺅ….“ سردار نے ان کی بات نظر انداز کرکے حکم دیا۔

                ان لوگوں کو ایک بڑے سے خیمے میں بند کردیا گیا تھا اور خانہ بدوشوں نے جشن کی تیاریاں شروع کردی تھیں۔خیموں کے درمیان مےں خاصے بڑے رقبے پر پھیلا ہوا میدان سا تھا۔ وہاں لکڑیاں جمع کرکے آگ روشن کرلی گئی اور پھر ان لوگوں کا خاندانی ڈانس شروع ہوگیا۔کئی جنگلی بڑے بڑے ڈھول پیٹ رہے تھے اور ان کے دس پندرہ کزنز نے میدان میں رقصِ ابلیس شروع کردیا تھا ۔ یہ بہت سے شکار ہاتھ آنے کی خوشی میں جشن منایا جارہا تھا۔

                ”چاچا…. یہ لوگ کیا کررہے ہیں؟ “دنبے نائی نے خیمے کے ایک چھوٹے سے سوراخ سے باہر جھانکتے ہوئے چاچا سے سوال کیا۔ ”یہا ں کسی کا ولیمہ ہورہا ہے ؟ “

                ”ابے جنگلیوں کے ہاں ولیمہ کب ہوتا ہے…. فالتو فنڈ میں ؟“ چاچا چنچنائے۔

                ”کیا بات کررہے ہو چاچا ؟“ یامین بولا۔” شرفو صاحب کا تو ولیمہ ہوا تھا۔ میں نے خود ان کے ولیمے میں ہٹ ہٹ کے بریانی کی دس پلیٹےں کھائی تھیں۔“

                ”اور لفافے میں دس روپے رکھ کے دےے تھے۔“ شرفو صاحب کے تن،من، بدن اور گردن میں آگ لگ گئی۔” اور خبےث پن تو دیکھو…. دس کے نوٹ میں جہاں جہاں دس لکھا تھا وہاں پین سے زیرو اور لگادیا ۔ بعد میں لوگوں کو بولتا پھرا کہ میں نے سوروپے دیئے ہیں۔“

                ”یامین میاں…. یہ ولیمہ نہیں ہے ۔“ استاد دلارے نے درمیان میں پڑ کر بحث ختم کرادی۔ ”یہ سب بھوتنی کے جشن منارہے ہیں۔“

                ”مگر آج 14اگست کیا ہے ؟…. وہ تو گزر گئی۔“ مجو نے حیران ہوکر کہا۔” یہ جشن آزادی اب منارہے ہیں۔“

                ” مجوووووو۔“ خالو نے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں زور سے بھینچ کر کہا جیسے وہ مجو قصائی کی گردن دبار ہے ہوں۔ ”یہ ہم لوگوں کو پکڑنے کا جشن منارہے ہیں۔“

                ”ابے مجھے تو پلاﺅ کی فکر ہورہی ہے ایمان سے…. “چاچا ہاتھ ملتے ہوئے بولے۔” خاماخامیں رکھے رکھے بھس جائے گا…. کوئی ان جنگلیوں کے سردار کو بول دے کہ کم بخت وہ دیگ تو منگوا لے…. تھوڑا تھوڑا سارے بھائی چکھ لیں گے…. اتنا پیسہ لگا کے اتنا شان دار پلاﺅ پکوایا تھا…. انگلیاں چاٹتے کے چاٹتے رہ جائیں گے۔“

                ”لو دیکھو…. چاچا چراندی کا چٹور پن ….“ خالو خلیفہ نے سخن کو آنکھوں میں اشارہ کیا تھا تو سخن بول پڑاتھا۔” یہاں جان پر بنی ہوئی ہے اور ان کو پلاﺅ یاد آرہا ہے۔“

                ”ابے جب مرنا ہی ہے تو کم از کم آدمی بھوکا تو نہ مرے ۔ مرنے کے بعد پتا نہیں کب کھانا نصیب ہو…. کیوں بھئی؟“ چاچا نے پاس کھڑے جمال گھوٹے کے کندھے پر ہاتھ مارا۔ وہ اپنے کولمبس کی جدائی میں غم زدہ کھڑا تھا۔ چاچا نے ہاتھ مارا تو وہ نیچے بیٹھ گیا۔

                ”اوئے …. سیدھا ہوجا بھئی جمال۔“ چودھری بشیر کے منہ سے بھی آواز نکلی ۔” ایک ذرا اسے گدھے کے لئے اتنا اداس ہورہا ہے …. سخن تم جمال کے پاس بےٹھ جاﺅ…. شاید اس کے دل کا بوجھ کچھ ہلکا ہوجائے۔“

                سخن ایسا ہمدرد چریا کہ جمال کے پاس آبیٹھا اور اس کا غم دور کرنے کے لئے اس کی گدگدی کرنے لگا۔ اسے دکھ بانٹنے کا بس یہی ایک طریقہ آتا تھا۔ ایک بار سخن اپنے ایک قدیم دوست کی وفات پر اس کے گھر گیا تھا۔ قبرستان میں تدفین کے وقت وہ اپنے مرحوم دوست کے والد کے پاس تعزیت کرنے گیا، لیکن کچھ سمجھ نہیں آیا کہ کیا کہے۔تب اس کے مرحوم دوست کے غم سے نڈھال والد کی بغلوں میں انگلیوں سے گدگدی کرنا شروع کردی تھی اور ساتھ ساتھ منہ سے” گدگدگد گد“ بولے جارہا تھا۔ پھر وہاں موجود لوگوں نے سخن کی وہ رنگائی کی تھی کہ وہ حقیقتاً لب گور ہوگیا تھا۔ اس کی دھنائی دیکھ کر گورکن نے فی الفور نئی قبر کھود کردی تھی۔ وہ تو سخن نے جن جن لوگوں کے پیسے اُدھار لے کر کھائے تھے، ان کی دعاﺅں سے وہ بچ گیا،ورنہ سخن کے ساتھ ان کی رقمیں بھی دفن ہوجاتیں۔

                ”گلابی خوش قسمت ہے کہ وہ بچ گیا ۔ وہ دیگ کا بلا شرکت غیرے مالک بنا بےٹھا ہوگا۔“ شرفو صاحب نے آہ بھری۔

                ”ہمیں یہاں سے نکلنے کی ترکیب سوچنا چاہےے، ورنہ ہوسکتا ہے …. لوگ ہمیں پکاکر کھاجائیں۔“انگریز انکل نے سنجیدگی سے کہا۔

                ”میرا خیال ہے کہ ہمیں سرنگ کھود کر نکل جانا چاہےے۔“ دنبے نائی نے تجویز پیش کی۔

                ”بیلچے اور پھاوڑے تیرے فادر اِن لا لاکردیں گے؟“ خالو نے لگے ہاتھوں اسے لتاڑدیا۔

                ”سردار سے مانگ لیتے ہیں نا…. بول دیں گے کہ شرفو کو پھاﺅڑے اور بیلچے کے بغیر نیند نہیںآ تی ہے۔“ دنبے نے چند سیکنڈ غور کرنے کے بعد کہا تھا۔

                ”ابے تو کیا میں بیلچہ اور پھاوڑا نیند کی گولیوں کے طور پر کھاکر سوتا ہوں ؟ “شرفو صاحب نے اسے بری طرح گھورنا شروع کردیا۔

                ”میں تو سردار کو پٹانے کے لئے بول رہا ہوں۔“ دنبے نے سہم کر کہا۔

                ”سردار الف بے کا قاعدہ نہیں پڑھتا ہے۔ اس نے خباثت مےں ایل ایل بی کیا ہوا ہے …. خباثت کے تمام قانون جانتا ہے وہ ….اور تو اسے پٹانے کا کہہ رہا ہے۔“ انگریز انکل نے بھی شرفو صاحب کا ساتھ دیا۔

                ” شرفو صاحب….میں بتاﺅں ایک ترکیب۔“ سخن نے ہاتھ اٹھایا۔” میںنے ایک انگلش فلم میں دیکھا تھا کہ دشمن لوگ ہیرو پالٹی کو ایک جگہ قید کردیتے ہیں اور پھر ہیرو پالٹی پہرے داروں پر قابو پاکر ان کے بھیس میں وہاں سے فرار ہوجاتے ہیں…. کیوں نا ہم بھی ایسا کریں؟“

                ”پہلے تو یہ بتا کہ انگلش فلم تیری سمجھ میںآ کیسے گئی؟ پارٹی کو پالٹی بول رہا ہے…. تو انگلش فلم دیکھتا ہی کیوں ہے؟ “انگریز انکل انگریزی کی توہین پر بے قابو ہونے لگے۔

                ”ویسے اوئے…. ترکیب تو بڑی اچھی ہے یار…. ایسا تو ہم بھی کرسکتے ہیں۔“ چودھری بشیر نے ہاتھ اٹھاکر کہا۔

                ”توپھر یہ نیک کام پہلے کون کرے گا؟“ شرفو صاحب نے اپنے ساتھیوں پر ایک نگاہ ڈالی۔ سب ایک دوسرے کی شکلیں دیکھنے لگے۔ بہت رسکی اور خطرناک کام تھا۔ پہرے داروں کے پاس نیزے تھے اور ہوسکتا ہے کہ ان کے پاس آتشیں اسلحہ بھی ہو۔

                ”بھئی میں یہ کام پہلے کرلیتا….“ استاد دلارے نے پہلو بدل کر کہا۔” مگر بھوتنی کے ڈاکٹر نے مجھے نیزے سے پرہیز بتایا ہے …. نہیں توکوئی ایسا خاص مسئلہ نہیں ہے۔“

                کسی نے ان کی احمقانہ بات پر ردعمل ظاہر نہیں کیا ‘ بس ایک دوسرے کو اُمید بھری نظروں سے تکتے رہے کہ شاید کوئی انسان بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہل کردے۔

                اچانک چاچا چراندی زور سے گلا کھنکار کر اٹھ گئے۔ ان کے انداز میں ایک جنگجو کا تاثر پایا جاتا تھا۔ ان کی آنکھوں میں عزم و ہمت کی بجلیاں کوند رہی تھیں ۔ لگتا تھا کہ وہ اب پہاڑ بھی اٹھاکر دشمنوں پر پھینک سکتے تھے۔

                پھر اُن کی ولولہ انگیز آواز ابھرنے لگی۔” ابے تم سب کے سب بزدل ہو…. کسی میں ہمت نہیں ہے ۔ فالتو فنڈ میں اپنے آپ کو بہادر کہتے ہو۔ اس معاملے میں بہادری سے زیادہ عقل کی ضرورت ہے….اب دیکھو…. میں کیسے اپنی کھوپڑی استعمال کرتا ہوں۔“

                یہ کہنے کے بعد چاچا نے گردن گھماکر خونخوار نظروں سے خیمے کے دروازے کی طرف دیکھا۔ جہاں سے پہرے داروں کی باتیں کرنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ انہوں نے آستینوں کے ساتھ اپنی شلوار نما چیز کے پائچے بھی چڑھالےے۔ پھر آگے بڑھے اور سخن کو اُٹھاکر خیمے کے دروازے پر دے مارا۔وہ بے چارہ زور دار چیخ کے ساتھ خےمے کے دروازے کو پھاڑتا ہوا باہر جاگرا۔ اول توپہرے دار اس کی مکروہ چیخ سن کر ہی چونک گئے تھے۔ اتنے میں جب سخن باہر آکر گرا تو پہرے دار گھگھیاکر چند قدم دور جا گرے ۔ ایک بے چارہ تو اتنا ڈرا تھا کہ خوف کی شدت نے اس نے”اے وطن، پاک وطن“گانا شروع کردیا ، مگر اس نغمے کے بول تھوڑے سے تبدیل تھے۔ وہ ”اے وطن، پاک پتن“ گارہا تھا۔ غالباً اس کا تعلق پاک پتن سے تھا۔

                گرنے کے بعد بھی سخن چلایا۔ چوٹ زیادہ آئی تھی ۔ پھر پہرے داروں سے پہلے ہی سخن اٹھ کر کھڑا ہوا۔ اس نے اُن کے گرے ہوئے نیزے اُٹھائے اور پہرے داروں کے حوالے کرتے ہوئے بولا۔” لو بھائیو یہ تمہاری امانت ہے …. سنبھالو۔“

                دونوں نے اپنے نیزے لے لےے۔” تم باہر کیسے آئے؟“

                ”آیا کہاں …. پھینکا گیا ہوں…. تم نادان نہیں جانتے، تم لوگوں نے انسانوں کے ساتھ کس بلا کو قید کرلیا ہے۔“ سخن نے ایک پہرے دار کے منہ پر طویل سانس خارج کی۔اُس کا چہرہ گل ِ گلزار ہوگیا۔

                اس سے پہلے کہ سخن کچھ بولتا، ایک طرف شور مچ گیا۔ پھر بھاگتے ہوئے کئی ہیولے دکھائی دیئے ۔ دونوں پہرے داروں نے سخن کو اُٹھاکر دوبارہ اندر پھینک دیا ۔ اندر اس کے ساتھی منتظر کھڑے تھے کہ سخن کوئی کارنامہ انجام دے کر انہیں بھی آزاد کرائے گا، لیکن جب سخن کی اس شاہانہ انداز میں واپسی ہوئی تو انہیں سخت مایوسی ہوئی۔

                ”ابے تو خالی ہاتھ ایسے ہی آگیا؟“ خالو نے جوتے کی نوک سے سخن کو سیدھا کیا۔

                ”تو کیا میں نہاری لینے گیا تھا؟“ سخن احتجاجاً چلایا ۔”اور چاچا…. تمہیں تو میں بعد میں دیکھ لوں گا۔“

                ”ابے بعد میں کیا دیکھ لے گا…. ابھی دیکھ لے…. پورا کا پورا کھڑا ہوں،تیری چیپڑ بھری آنکھوں کے سامنے …. چیپڑے …. دیکھ …. اب دیکھ نا…. دیکھ کر کیوں نہیں رہا ۔“چاچا ایسے پوز بنا بنا کر دکھا رہے تھے ،جیسے کسی لان کے کمرشل کی شوٹ ہو رہی ہے۔

                شرفو صاحب ان لوگوں کی باتیں سن کر اور حرکتیں دیکھ کر دو زانو ہوکر دعائیہ انداز میں بےٹھ گئے ۔” یا اللہ…. ان لوگوں سے میری جان بچالے…. چاہے آدم خور مجھے پکڑ کر کچا کھا جائیں۔“

                ”اب آدم خور بھی چالاک ہوگئے ہیں…. وہ کچا نہیں کھاتے۔ ان کے پاس پیکٹ والے مصالحے ہوتے ہیں…. ہرا دھنیا،پودینہ اورمرچیں، سب کچھ ہوتا ہے ۔ چاچا کی تو وہ چانپیں کھائیں گے۔“ مجو قصائی نے غلط موقع پر اپنی شامت کو سیٹی مار کے بلایا تھا۔

                ”لگتا ہے…. تیری کھال بھی چاٹ مصالحہ مانگ رہی ہے فالتو فنڈ میں۔“ چاچا نے اپنی شکل…. بدشکل کرکے مجو کی طرف گھمالی۔

                ”یہ شو رکیسا تھا باہر؟“شرفو صاحب دعا سے فارغ ہوکر سخن کی طرف متوجہ ہوئے۔

                ”پتا نہیں کیا ہوگیا ہے….شاید کوئی ریلی گزر رہی ہے۔ آپ تو جانتے ہیں ‘ میں ٹھہرا…. ایک ناسمجھ اور نادان بچہ….“ سخن نے مسمی صورت بنائی۔

                ”ایسی شکل مت بنا…. ایسا لگ رہا ہے کسی بندر کے منہ پر فالج کا اثر ہوگیا ہے۔“ خالو نے سخن کو لتاڑنے میں کسی رعایت سے کام نہیں لیا۔

                اسی وقت خیمے کا دروازہ کھلا اور تین چار نیزہ بردار شخص اندر آگئے۔ ایک آدمی نے ان لوگوں کو دائرے میں بےٹھا دیکھ کر حیرت سے کہا۔” ابے…. یہ کیا تم لوگ آپا بوا کھیل رہے ہو…. تم لوگوں کو ڈر نہیں ہے کہ تم لوگ ہم جنگلیوں کی قید میں ہو؟“

                چاچا جذباتی ہوکر اُٹھے اور ایک جوان کا گندہ سا ماتھا چوم کر اُسی کے سامنے ہی آدھا پا ¶ تھوکتے ہوئے بولے۔” آفرین ہے جنگلی کے بچے…. تجھ پر آفرین…. خود کو جنگلی کہہ رہا ہے اور نفرین ہے سخن تجھ پر…. جنگلی ہوتے ہوئے بھی خو دکو پڑھا لکھا کہتا ہے ، مگر تیری حرکتیں جنگلیوں سے کم نہیں ہیں۔“

                ”چاچا…. ہاتھ اُٹھانا ذرا۔“ سخن نے غور سے نیزہ داروں کی طرف دیکھا۔

                ”کیوں بھئی…. چاچا سے ہاتھ کیوں اُٹھوا رہے ہو؟ “ شرفو صاحب نے حیرت کا اظہار کیا۔

                ”تاکہ پتا تو چلے…. اِن میں سے چاچا کون سے ہیں۔“ سخن نے چاچا کا اُدھار چکادیا۔

                ”بکواس بند کرو…. اور ہماری سنو…. کیا ہم پاگل ہیں جو خواروں کی طرح کھڑے ہیں ؟“دوسرا جنگلی غصے میں آگیا اور اس نے سکون سے پہلو کے بل بےٹھے ہوئے اُستاد دُلارے کے اُٹھے ہوئے پہلو میں نیزہ چبھودیا۔

                 استاد دلارے” یاہو ووو ڈوٹ کوم “کا نعرہ لگاکر اسی پوزیشن میں اُچھلے اور خیمے کی چھت چھوکر واپس زمین پر آگئے۔

                ”ہمارے سردار کی حالت خراب ہوگئی ہے۔“اسی نیزہ بردار نے بتایا۔

                ”بیسن کے پکوڑے زیادہ کھالےے ہوں گے بے چارے سردار نے۔“شرفو صاحب نے افسوس کرتے ہوئے خالو خلیفہ سے کہا۔

                ”بس شرفو صاحب …. بداحتیاطی کا یہی نتیجہ نکلتا ہے ۔“ خالو نے سرد آہ بھری۔” بھیا کیا بتائیں…. زمانہ بہت خراب ہے ۔ اب اِن کا سردار اور خراب کردے گا۔“

                ”تم لوگ بھونکتے بہت زیادہ ہو….“ نیزہ داروں نے یہ سن کر نیزے سیدھے کرلےے تھے۔ اُن کے چہرں پر غصے کے آثار تھے۔

                ”اصل میں ہمارے سردار کو عجیب عجیب دورے پڑتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اُن کا بےٹا بچپن میں کہیں کھوگیا تھا…. بس اس کے غم میں اُن کی حالت خراب ہوجاتی ہے اور انہیں دورے پڑتے ہیں۔“ایک نیزہ بردار نے بتایا۔

                ”اور ہم اس لئے آئے ہیں کہ اگر تم میں سے کوئی اس کا علاج کردے گا تو اسے آزاد کردیا جائے گا۔“ دوسرے نے بتایا۔

                ”ابے لے …. اس کاعلاج تو ہے میرے کنے ….“ چاچا اُٹھ کھڑے ہوئے۔

                ”لے بھئی ہوگیا ….اُن کے سردار کا کام ۔“ خالو نے منہ بنایا۔

                ”تم علاج کرسکتے ہو ہمارے سردار کا ؟ “ایک آدمی نے پوچھا۔

                ”تو اور کیا میں سردار کو قوالی سنانے جاﺅں گا؟“ چاچا بپھر گئے، مگر نیزے دیکھ کر سدھر گئے۔

                “چلو ہمارے ساتھ….“ وہ لوگ چاچا کو لے گئے۔

                چاچا چار نیزہ برداروں کے جلوس میں ایویں مغل بادشاہ کے انداز میں چلتے ہوئے سردارکے خیمے میں داخل ہوگئے۔اندر کا منظر ہی عجیب تھا۔ اندر سردار کے خاص آدمی دور دور کھڑے تھے اور سردار اپنے تخت پر مرغا بنا ہوا ”ککڑوں کوں“ کی آوازیں نکال رہا تھا۔

                ”ابے یہ کیا ہے؟ “چاچا نے حیران ہوکر ایک جنگلی سے پوچھا۔

                ”یہی تو دورہ ہے۔“ اس آدمی نے بتایا۔” ابھی تو دیکھنا کیسی کیسی حرکتیں کرتے ہیں۔“

                ”ابے…. اس کا بےٹا گم ہوا تھا یا مرغا ؟“ چاچا نے اپنی زنبیل نما جیب میں ہاتھ ڈالا اور ایک تھیلی نکالی۔ ”بے فکررہو میرے پاس ہر بیماری کی دوا ہے۔“

                 اسی وقت سردار نے کتے کی طرح بھونکنا شروع کردیا اور پھر لمبی چھلانگ لگاکر اپنے ایک ساتھی کی ٹانگ پر کاٹ لیا۔ اُس کا ساتھی منہ پھاڑ کر چلایا۔

                ”دو منٹ…. بس دو منٹ…. ابھی علاج ہوتا ہے ۔ اے یہ لو…. یہ رہی دوا…. پکڑو سردار کو…. اور لٹا دو تخت پر۔“ چاچا نے تھیلی ہاتھ میں میں پکڑا اور گاﺅ تکیے کی طرح تخت پر ڈال دیا۔ چاچا آگے بڑھے اور سردار کے سینے پر گھٹنا رکھ کر دباﺅ دیا۔ اب وہ مچلنے سے بھی معذور ہوگیا تھا۔

                ”منہ کھول…. ابے کھول منہ …. ابھی تو فالتو فنڈ میں کتے کی طرح بھونک رہا تھااور اب منہ کھولنے میں موت آرہی ہے…. ابے تم لوگ آدم خور ہو یا حرام خور؟“ چاچا نے تپ کر سردار کے دو آدمیوں کی کن پٹیاں لال کردیں۔” ایک چوہے جیسے آدمی کا منہ نہیں کھلواسکتے …. چیردو اس کا منہ….“

                تھپڑ کھاکر ان دونوں آدمیوں نے جوش بڑھ گیا۔ ایک نے اپنے سردار کی گردن دبوچ لی۔ سردار کا منہ کھل گیا تو دوسرے نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں منہ میں ڈال دیںاور” ہا آآآآ“کر کے سردارکا منہ زور سے چیرڈالا ۔

                چاچا نے جلدی سے تھیلی میں ہاتھ ڈالا اور مٹھی بھر کے پنجیری نکال کر سردار کے منہ میں ڈال دی۔”کھا…. شابش …. اچھی طرح سے چبا…. لے اوریہ بھی کھا…. چبا کر نگلیو…. ایسے ہی نگلے گا تو دوا اثرنہیں کرے گی …. ابے ذرا زور لگاکر پکڑ حرام خور ….دم نہیں ہے ہاتھوں میں ۔“ چاچا نے سیدھے ہاتھ پر بیٹھے سردار کے آدمی کے الٹے ہاتھ کا طمانچہ مارا۔

                ”سردار…. سردار….“ اچانک ایک جنگلی چیختا چلاتا ہوا خیمے میں داخل ہوا اور زور سے تخت سے ٹکرا گیا۔ وہ بہت بدحواس تھا۔

                ”کیا ہوگیا…. تیرا باپ بندوق لے کر تیرے تعاقب میں آرہا ہے ….؟“ چاچا نے اس کی گدی بھی گرم کردی۔ پٹاخے کی آوا ز پہاڑ کے اُس پار گئی تھی۔

                ”سردار…. سردار…. “وہ جوشیلا چاچا کی طرف توجہ کےے بغیر سردار کو جھنجوڑنے لگا۔

                سردار اب تک پنجیری چباتے ہوئے اپنی بانچھوں کو ہاتھ لگارہاتھا۔” کیا ہوا ؟ “

                ”سردار…. تمہارا بےٹا…. بونگی آگیا ہے….ہاں سردار …. میں سچ کہہ رہا ہوں۔“ آنے والے نے پھولی ہوئی سانسوں کے درمیان کہا۔

                ”کیا….؟ “سردار اچھل کر کھڑا ہوگیا۔” میرا بیٹا ؟“

                ”ہاں سردار…. یقین کرو ….میں سچ کہہ رہا ہوں۔“

                ” اگر جھوٹ ہوا تو میں تیری ٹانگ پر بٹکا بھرلوں گا۔ لاﺅ میرے بیٹے کواندر….“

                اسی لمحے خیمے کا دروازہ کھلا اور دو آدمی اندر داخل ہوئے۔ اُن کے ساتھ ایک لڑکا بھی تھا ۔ لالٹینوں کی روشنی میں چاچا چراندی نے اس لڑکے کو دیکھا تو ان کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ وہ گلابی تھا۔ اس نے اب تک مٹکا گود میں اُٹھایا ہوا تھا او راس کے سوراخ پر انگلی رکھی ہوئی تھی۔

                ”یہ ہے میرا بےٹا…. اتنا کالا بھجنگ؟“ سردار گلابی کو دیکھتے ہی بولا۔

                ”تو کون سا پا ¶ڈر کے کمرشل میں آتا ہے؟ اپنی شکل تو دیکھ لے آئینے میں جاکے کالوچے ….کالا بندر ہورہا ہے…. تیرا بےٹا ایسا نہیں ہوگا تو کیا انگریز جیسا چٹّا ہوگا…. بات کررہا ہے فالتو فنڈ میں ۔“ چاچا بھلا کب چوکنے والے تھے۔ یہ کہہ کر انہو ںنے گلابی کو آنکھ ماردی۔ گلابی اُن کا اشارہ سمجھ گیا۔

                ”مگر میں کیسے مان لوں کہ یہ میرا ہی بیٹا ہے؟ “سردار ٹھٹک کر رک گیا۔

                ”دونوں کے کلر میچ کررہے ہیں….شکلوں پر بھی ایک جیسی نحوست اور پھٹکار ہے…. اور یہ دونوں چیزیں اس بات کی سچی گواہی دے رہی ہیں کہ تم دونوں کاآپس میں کوئی گٹر جتناگہرا رشتہ ہے۔“ چاچا نے بات سنبھالی۔

                ”دے دی…. دے دی۔“گلابی ڈیڈی کہہ کر آگے بڑھا۔ سردار نے اُٹھ کراسے گلے لگانا چاہا ،مگر راستے میں مٹکا حائل ہوگیا۔

                 سردار نے اس کے بجائے مٹکے کو سینے سے لگالیا تھا اور مٹکے کو پیار کرتے ہوئے بولا۔”تو کہاں دفن ہوگیا تھا میرے بچے…. کدھر موت آگئی تھی تجھے…. تجھے میں نے ہر رشتے دار کے گھر دیکھا۔ آس پڑوس میں تلاش کیا ،مگر تونہیں ملا۔ اب پورے پندرہ سال بارہ مہینے اور دو ہفتے کے بعد ملا ہے۔ “سردار مٹکے کو گلے سے لگاکر بولے جارہاتھا۔

                ”اُندلی لتھ لوادھل….ولنا تھارا پانی نتل دائے دا۔“

(انگلی رکھ لواِدھر ورنہ سارا پانی نکل جائے گا۔) گلابی نے اپنے نئے نویلے ڈیڈی سے کہا اور اس احمق نے بھی مٹکے کے سوراخ پر انگلی رکھ لی۔

                ”اب میں تجھے کہیں جانے نہیں دوںگا بےٹا۔“ سردار مٹکے سے مخاطب تھا۔

                ”کہیں جانے نہیں دوگے ؟“چاچا نے اس موقع پربھی مداخلت بے جا کی ۔” اگر باتھ روم جانے کی ضرورت ہوئی کالے بچے کوتو وہاں بھی جانے نہیں دوگے فالتو فنڈ میں؟“

                ”دے دی…. اِن لودوں تو آداد تل دو۔“(ڈیڈی ان لوگوں کو آزاد کردو۔) گلابی نے چاچا کی طرف اشارہ کیا۔

                ”میرا بیٹا کہے اور میں آزادنہ کروں….“ پھر سردار نے اپنے آدمیوں کو حکم دیا۔” اس عجیب سے شخص اور اس کے سارے ساتھیوں کو فوراً آزاد کردو۔ آج میں بہت خوش ہوں۔“

                ”بہت خوش ہو…. مگر تم تو ایسے ہی کھڑے ہو۔ “چاچا بولے۔

                ”کیا مطلب ہے تمہارا چاچا نما آدمی ؟ “سردار نے انہیں گھورا۔

                ”مطلب یہ ہے بھئی کہ خوشی جب ہوتی ہے تو آدمی اس کا اظہار بھی کرتا ہے۔ تم تو صرف منہ سے بولے جارہے ہو فالتو فنڈ میں …. دو ڈھائی ٹھمکے تو لگا دو…. سرپے ہاتھ رکھ کے۔“ چاچا نے شیطان کی طرح اسے ورغلایا اور تھوڑا عملی مظاہرہ کر دیا۔

                ”یہ تو ہم جانتے ہیں ۔“ سردار نے ہنس کر بتایا۔”اسے ہماری زبان میں گھوٹا کہتے ہیں۔“

َ             ”گھوٹا ….“چاچا ہنس پڑے۔”ہم تو حلیم میں گھوٹا لگاتے ہیں اور تم خوشی میں لگاتے ہو۔شابش ہے جوان۔“

                ”بس اب تم جاﺅ…. اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ جلد از جلد یہاں سے دور نکل جاﺅ۔ ایسا نہ ہو کہ اپنا ارادہ بدل لوں۔“ سردار نے تحکمانہ انداز میں کہا اور لاشعوری طور پر ایک چھوٹا سا گھوٹا بھی لگادیا۔

                ”ابے تمہارا ارادہ ہے کہ پاجامہ …. ارادہ بدل لوں گا۔“ چاچا نے اُس کی نقل اتاری۔

                پھر سردار کے آدمی انہیں لے گئے۔ خےمے مےں سب لوگ سوچ وفکر میں ڈوبے ہوئے تھے کہ ناجانے چاچا نے سردار کو کیا حشر کیا ہوگا۔

                ”چلو بھئی نیستیوں…. جلدی سے اُٹھ جاﺅ فالتو فنڈ میں ۔ ہمیں سردار نے آزاد کردیا ہے…. فوراً یہاں سے چلو۔“چاچا نے اونٹ والے اور سخن کے ایک ایک لات جڑتے ہوئے کہا۔

                ”واہ چاچا…. یہ کام کیا ہے نا تم نے۔ “شرفو صاحب نے آگے بڑھ کر چاچا کو گلے لگانا چاہا تو چاچا نے ہاتھ سے انہیں روک دیا۔

                ”اچھا بس بس…. فری مت ہو زیادہ …. استری خراب ہوجائے گی میرے کپڑوں کی۔“ حسب روایت شرفو صاحب کی خواری ہوگئی۔

                ”چلو بھئی جلدی چلو…. چلنے کے لئے تیار ہوجاﺅ ۔“ خالو تالی بجاتے ہوئے بولے۔

                ”خالو…. ایک منٹ میں بال بنالوں۔“ سخن نے ہتھیلی پر تھوک کر بالوں کو سنوارتے ہوئے کہا۔

                چاچا نے طیش میں آکر سخن کی گردن دبوچ لی۔” تو کیا کلفٹن جارہا ہے…. تیرا بردکھوا ہے کوئی؟ …. بتا…. بول …. تصویر کھنچوانے جارہا ہے…. فلم کی شوٹنگ پر جارہا ہے …. کہاں جارہا ہے جو تو ہیر وبن رہا ہے…. بول نا…. یونان سے تیرے پاپا آرہے ہیں جو تواُن کو ایئرپورٹ لینے جارہا ہے …. اب بنائے گا بال…. بول …. توبہ کر…. جلدی سے توبہ کر۔“

                “میرے باپ کی توجہ …. میری گردن چھوڑو۔“ سخن خرخرانے لگا۔ تب کہیں جاکے چاچا کا دورہ ختم ہوا۔

                سردار کے آدمیوں نے خیمے کا دروازہ کھلا چھوڑ دیا تھا اور خود دور جاکر کھڑے ہوئے تھے۔

                چلتے چلتے استاد دلارے نے خالو خلیفہ سے کہا۔” بھئی ان سے ایک نیزہ تو دلادو۔“

                ”کیوں ؟ “خالو نے حیرت سے انہیں دیکھا۔” گھر والی کے لئے نیزہ گفٹ لے کر جاﺅگے؟“

                ”ارے نہیں بھئی …. اصل میں گھر کی نالی میں کبھی کبھی کچرا پھنس جاتا ہے ۔ وہ نکالنے کے لئے کام آجائے گا بھوتنی کا۔“ استاد نے منہ بناکر بتایا۔

                ”باتیں مت کرو…. فوراً ہمیں یہاں سے دور نکلنا ہے۔“ شرفو صاحب جھنجلا کر بولے۔

                وہ لوگ تیزی سے دور ہوتے چلے گئے۔ اس وقت اندھیرا بہت زیادہ تھا۔ بس چاند کی مدہم روشنی تھی۔ ان لوگوں کو ان ویرانوں اور پہاڑی راستوں کا علم نہ تھا۔ اونٹ والا ان کی راہنمائی نہیں کرتا تو یقینا وہ لوگ بھٹک جاتے۔

                دنبہ نائی‘ یامین‘ مجو‘ سخن باری باری ایک دوسرے کو پڈی پر بٹھا رہے تھے۔ آخر وہ لوگ اس جگہ تک آپہنچے، جہاں اونٹ گاڑی کھڑی تھی۔ وہاں قریب میں اب تک دیگ رکھی تھی۔

                ”ابے یہ گلابی کہاں گیا؟ “چودھری بشےر نے حیرت سے اِدھر اُدھر دیکھا۔

                ”وہ تو سردا رکے پاس ہے۔ “چاچا نے بڑے اطمینان سے بتایا۔

                ”سردار کے پاس؟“ سب لوگ چونک گئے۔

                پھر چاچا نے انہیں تمام ماجرا سنایا۔

                 شرفو صاحب نے سر پےٹ لیا۔” یہ کیا کردیا چاچا تم نے؟“

                ”اگر میں گلابی کو یہ ڈراما کرنے کا اشارہ نہیں کرتا تو ہم سب ابھی قید میں ہی ہوتے اور گلابی بھی….“ چاچا نے پہلی بار سنجیدگی سے کہا۔

                ”مگر گلابی جیسا کہاں ملے گا ہمیں۔“ شرفوصاحب نے سرد آہ بھری۔

                ”کوئی بات نہیں …. سخن کا منہ کالا کردیں گے…. بالکل گلابی کا جڑواں بھائی ہی لگے گا…. “خالو نے سخن کے کندھے پر دوستانہ ہاتھ رکھا ۔”ہے نا بھئی؟“

                ”ارے …. ارے یہ کون آرہا ہے…. یہ تو کوئی اونٹ لے کر آرہا ہے، مگر یہ ہے کون بھوتنی کا؟“

                اچانک استاد دلارے ایک جانب انگلی سے اشارہ کرکے چلائے ۔ واقعی دور سے کوئی شخص اونٹ کی رسی پکڑے ان لوگوں کی جانب چلا آرہا تھا۔

                ”یہ تو میرا اونٹ ہے …. میرا اونٹ …. ہاہا۔“ اونٹ والا دفعتاً زور زور سے اُچھلنے لگا۔

                اورچا چا کا کام اِدھر سے ہی تو اسٹارٹ ہوتا تھا۔ ایسے ہی گولڈن موقعوں کے لئے چاچا دنیا میںآ ئے تھے۔ وہ اونٹ والے کو جذباتی ہوکر اُچھلتے ہوئے دیکھ کر آگے بڑھے او ررکھ کے دیا اس کی گدی پرایک جھانپڑ۔ اس کی گردن کا منکا ٹوٹتے ٹوٹتے بچا۔

                ” اپنے جوش اور تہمد پر قابو رکھ…. ایک چڑھ رہا ہے اور دوسرا اُتر رہا ہے فالتو فنڈ میں۔“

                اتنے میں اونٹ اور آدمی نزدیک آگئے۔

                ”ارے یہ تو…. بابو باﺅلا ہے…. مگر یہ بھوتنی کا تو بھاگ گیا تھا۔“استاد دلارے ٹڈے کی طرح اچھلے۔

                ”ہاں…. میں بھاگ گیا تھا ،مگر یہ اونٹ میرے پیچھے پیچھے آرہاتھا۔ میں نے ببون چکمے کی طرح اسے بہت چکمے دیئے ، مگر یہ ہر بار مجھے ڈھونڈ نکالتاتھا۔“بابو کا سانس پھول رہا تھا ۔”جیسے چابی میں نے کھائی ہے۔“

                ”اچھا تو اونٹ کے ساتھ چور سپاہی کھیل رہا تھا تو بھوتنی کے۔“ استا ددلارے تو ویسے ہی بابو کے کٹر دشمن تھے۔

                ”میری خواہش ہے کہ کاش اونٹ جلدی سے کچھ کر دے۔“ سخن نے خواہش ظاہر کی۔

                ”ذرا خواہش پر تو غور کرو اس کی ۔“استاد دلارے ہنسے۔

                ”اڑے بابا…. یہاں سے تو نکلو…. مجھے اونٹ کو گاڑی میں لگانے دو۔“ اونٹ والے نے کہا اور پھر اس نے بابو باﺅلے کے ہاتھ سے اونٹ کی رسی لے لی۔

                 دس منٹ بعد اونٹ گاڑی واپسی کا سفر طے کررہی تھی او روہ سب لوگ اونٹ گاڑی پر سوار تھے۔ صرف جمال گھوٹا اداس تھا۔ وہ اپنے کولمبس کی جدائی میں مچل رہا تھا اور چاچا چراندی دل سے دلاسے کے بہانے اس کی کمر پر مکے ماررہے تھے۔

                ”نا جانے وہ کس حال میں ہوگا…. اس نے کچھ کھایا بھی ہوگا کہ نہیں۔“ جمال گھوٹا رو رہاتھا۔

                ”ابے وہ تیرا شوہر ہے کوئی…. وہ گدھا…. تو تو بیویوں کی طرح اسے یاد کررہا ہے۔“انگریز انکل اس کی آہ وزاری سے عاجز آکر بولے۔

                ”انکل وہ میرے بچپن کا ساتھی تھا…. ہم دونوں ایک ساتھ بڑے ہوئے ہیں۔ “جمال مسلسل ٹسوے بہارہاتھا۔”بچپن کے سہانے دن ہم نے ایک ساتھ گزارے تھے۔“

                ”بڑے نصیبے والا ہے بھئی…. ایک گدھے کے ساتھ تیری نشوونما ہوئی ہے۔“ مجو قصائی نے رشک بھری نظروں سے جمال گھوٹے کو دیکھا ،مگر وہ روتا رہا۔

                                                ٭٭٭

                اگلے روز دوپہر کے وقت وہ لوگ کالونی میں داخل ہوئے تھے۔ بھوک پیاس نے اس سب کے بال بیرنگ ڈھیلے کردیئے تھے۔ سب مریضوں کی طرح لےٹے ہوئے تھے۔چودھری صاحب تھکن کے مارے کوئی سپرہٹ پنجابی سونگ گارہے تھے اور ساتھ ساتھ اُن کا ہاتھ پیٹ کو تسلی دینے کے انداز میں سہلا رہا تھا۔

                صرف سخن کھڑا ہوکر سارے ساتھیوں کو اپنا پیٹ دکھا رہا تھا ۔ اس کا پیٹ پچک کر کمرے سے جالگا تھا۔ ہڈیاں اورچانپیں وحشت ناک انداز میں نمایاں دکھائی دے رہی تھیں۔ اس پر طرہ یہ کہ سخن کا انداز فخریہ تھا۔

                چاچا چراندی دنبے نائی کے عظےم الشان بالوں کے ڈھیر میں سے جوﺅں کا شکار کررہے تھے۔ وہ اتنی زو رسے کھوپڑی پر نوچتے کہ دنبہ نائی بلبلا کر رہ جاتا ،مگر چاچا نے ماہر ریسلر کی طرح اس کا جسم اپنے گھٹنوں میں دبا رکھا تھا،اس لئے وہ اپنے آپ کواُن کی گرفت سے چھڑانے سے قاصر تھا۔

                کالونی والوں نے اُن لوگوں کی شاہانہ واپسی دیکھی تو لوگ گروہ بناکر اونٹ گاڑی کے پیچھے چلنے لگے۔ آخر یہ کارواں کونسلر صاحب کے دفتر کے سامنے جارُکا۔

                اچانک وہ لوگ حیرت زدہ رہ گئے ۔ دفتر کے آگے جمال گھوٹے کی گدھا گاڑی کھڑی تھی اور میاں کولمبس ان لوگوں کو زندہ سلامت دیکھ کر خوشی سے دولتیاں چلاتے ہوئے اپنا بھونپو بجارہا تھا۔

                ”کولمبس….“ جمال گھوٹا کے مردہ تن میں گویا نئی زیرو میٹر روح حلول کرگئی۔

                 وہ جذباتی ہوکر شرفو صاحب کی ٹانگ پر چڑ ھ گیا۔ شرفو صاحب بلک اُٹھے۔ اب وہ اپنی کچلی ہوئی ٹانگ پکڑ کر اونٹ گاڑی پر مٹک مٹک کر خٹک ڈانس کررہے تھے۔ کالونی والے سمجھے کہ شرفو صاحب کامیاب پکنک کی خوشی میں رقص کررہے ہیں۔ جواباًانہوں نے رقص کے حساب کتاب سے تالیاں بجانا شروع کردیں۔ شرفو صاحب“ آئے آئے “کے نعرے مارتے ہوئے اُچھل رہے تھے۔

                جمال گھوٹا‘ کولمبس کے گلے لگ کر خوشی سے رورہاتھا۔ کولمبس کے جذبات بھی قابو میں نہیں تھے۔ اس نے چٹ چٹ جمال گھوٹے کے گال پر کئی پیار کرلےے تھے۔یہ اس کی برادرانہ محبت کا منہ چومتا ثبوت تھا۔ اصل میں وہ دونوں ہی بچپن سے ایک دوسرے کو اپنا گدھا سمجھتے آ رہے تھے۔

                ”یہ کولمبس کیسے آگیا؟“ خالو خلیفہ وہاں کھڑے ایک آدمی سے پوچھا۔

                اس نے حیرت سے خالو کو دیکھا اور اپنے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا۔ ”میں بتاﺅں؟“

                خالو نے بڑی مشکل سے اپنے ہاتھ کو جھانپڑ مارنے سے روکا اور تحمل سے بولے۔” جا…. جاکے اپنے فادر سے پوچھ…. اُن سے پوچھ آ…. اُن کو بڑی معلومات ہیں گدھوں کی۔“

                ”اتھے میں لے تے آیا اُوں۔“ (اسے میں لے کر آیا ہوں۔) یک بیک دفتر کے دروازے پر گلابی نمودار ہوکر بولا۔

                سب اسے دیکھ کر اُچھل پڑے ۔”ابے گلابی…. توتلے تو….؟“

                ”ابے تُوتو ادھر ہی رہ گیا تھا اپنے کے پاس….یہاں کدھر سے ٹپک پڑا فالتو فنڈ میں ؟ “چاچا بھی حیرت زدہ رہ گئے۔

                ”تم لودوں تے دانے تے بعد میں نے سل دال تو تھوتی اُندلی دتھائی ….اول پھل تھاموچھی تھے کولمبس پے بیت تے پولی لفتال سے یاں آدیا۔“ (تم لوگوں کے جانے کے بعد میںنے سردار کو چھوٹی انگلی دکھائی اور پھر خاموشی سے کولمبس پر بےٹھ کر پوری رفتار سے یہاںآ گیا۔) گلابی نے اپنا کارنامہ بیان کیا۔

                ”ابے کھانے کا کچھ کرو…. میں مررہا ہوں…. آئے۔“ شرفو صاحب پیٹ پکڑے ہوئے کراہ رہے تھے۔ انہیں قبر کی یاد ستانے لگی تھی۔

                آخر رات ہوگئی اور سب لوگ اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔ دیگ دفتر مےں رکھ دی گئی تھی۔ بس شرفو صاحب کو یہ اطمینان تھا کہ وہ لوگ پکنک مناکر آگئے ہیں ۔اب زلزلے کا خطرہ کالونی پر سے ٹل گیا ہے۔

                                                ٭٭٭

                چوتھے دن اونٹ گاڑی والا ‘شرفو صاحب کے گھر پہنچا تھا۔

                ”کون ہو بھئی تم؟ “شرفو صاحب نے بے مروت کی طرح اُسے بھلا دیا تھا۔

                ” مجھے ہی بھول گئے سائیں…. میں اونٹ گاڑی والا ہوں۔“

                ”گورنر تو نہیں ہے نا…. جو تو یاد رہتا…. کیا بات ہے؟ زکوة خیرات لینے آئے ہو؟ “شرفو صاحب کی تیوریاں چڑھ گئیں۔

                ”لینے نہیں سائیں…. یہ چابی دینے آیا ہوں۔ آج ہی اونٹ نے دی ہے۔“ اس نے جیب میں سے دیگ کے ڈھکن والی چابی نکال کر شرفو صاحب کے ہاتھ میں زبردستی پکڑادی۔

                اس نے چابی جوں کی توں لاکر دی تھی۔ دھوئی بھی نہیں تھی ۔ وہ تو سلام کرکے چل دیا اور شرفو صاحب اسی وقت دفتر کی جانب گامزن ہوگئے ۔ ابھی وہ تھوڑی دور گئے تھے کہ انہیں کسی نے آواز دی۔ انہوں نے پلٹ کر دیکھا تو للو اورپنجو ان کی طرف چلے آرہے تھے۔

                ”کہاں جارہے ہیں؟ “للو نے نزدیک آکر پوچھا۔

                ”دفتر…. یہ دیکھو دیگ کی چابی۔“ شرفو صاحب نے گندی چابی دکھائی۔

                ”مگر ہم نے تو کل ہی دیگ کا تالا توڑ دیا تھا اوربھسا ہوا پلاﺅ بے چارے کالونی کے غریبوں میں تقسیم کردیا تھا۔ خیر سے کئی افراد پلاﺅ کھا کر حکیم صاحب کے مطب پر بےٹھے دکھائی دیئے تھے ۔ کافی مریض تھے، اس لےے حکیم صاحب کو دوا کی دیگ چڑھانی پڑی۔ “پنجو نے بتایا۔

                اور شرفو صاحب کا چہرہ” ٹیاﺅں“ کرکے اُتر گیا۔ انہو ں نے مردہ سے لہجے میں دریافت کیا۔” توپھر…. اب میں اس چابی کا کیا کروں ؟ ‘ ‘

                ”سنبھال کر رکھ لیں….شلوار میں ناڑا ڈالنے کے کام آئے گی۔“ للو نے کہا اور دونوں آگے بڑھ گئے۔

                شرفو صاحب نے آدھے گھنٹے تک وہیں کھڑے کھڑے سوچا۔ اپنی شلوار کا نیفہ چیک کیا اور پھر مطمئن ہوکر چابی جیب میں ڈالی اورخوش خوش گھر کی راہ لی۔

                                                                                ختم شد

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

خوشی … شیکھا گپتا/عامر صدیقی

خوشی شیکھا گپتا/عامر صدیقی ہندی کہانی ……………. آج جیسے ہی گھر سے آفس کے لئے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے